Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid NovelR50745 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode23
No Download Link
184.6K
24
Rate this Novel
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode01 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode02 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode03 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode04 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode05 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode06 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode07 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode08 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode09 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode10 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode11 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode12 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode13 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode14 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode15 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode16 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode17 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode18 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode19 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode20 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode21 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode22 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode23 (Watching)Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Last Episode
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode23
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode23
’’ساری مبارکبادیں اکیلے ہی وصولتا رہے گا یا مجھے بھی تو مبارکباد دے گا۔‘‘ سرشار خوشی سے جگمگاتے فیصل کے چہرے کو دیکھ کر اس نے متبسم لہجے میں شکوہ کیا تھا۔
’’تجھے کس بات کی مبارکباد دوں؟‘‘ وہ مسکراتے ہوئے انجان بنا تھا۔
’’آفٹر آل میں چاچو بن گیا ہوں۔‘‘ اس کے کاندھے پر ہاتھ مار کر شوخی سے اسے چھیڑا تھا۔
’’بیٹا چاچو ٗ نہیں تایا، بھول گیا یونیورسٹی میں مجھ سے دو سال سینئر تھا۔‘‘ فیصل نے بشاشت سے اس کی بات کاٹی تھی اور وہ بے ساختہ ہی قہقہہ لگا بیٹھا تھا۔
’’اوہوں! مگر میری جان تو نے اپنا گریڈ خود ہی کم کر لیا ہے۔‘‘ وہ متبسم سے کہہ گیا تھا اور جبھی پرائیویٹ روم سے نکل کر سچی خوشی کا احساس چہرے پر سجائے مہوش بیٹے تک آئی تھیں مگر فیصل سے پہلے ہی ماہ کنعان گلابی کمبل میں لپٹی بے تحاشہ پیاری سی بچی کو ہاتھ بڑھا کر بازوئوں میں لے گیا تھا اور اس نے پیشانی چوم کر اسے دیکھا تھا۔
’’یہ ہم سب کی مصفرہ ہے اور جو تجھے پاپا اور مجھے بڑے پاپا کہے گی۔‘‘ وہ بہت خوش و مسرور تھا اور وہ اس بچی کو خود ہی اپنی پسند کا نام دے گیا تھا اور ایک بار پھر اس کی پیشانی چوم کر بچی اس کی طرف بڑھائی تھی جو مسرور سا کھڑا اپنے آپ کو بہت معتبر سا محسوس کر رہا تھا۔
’’کنعان! یہ کتنی پیاری سی ہے۔‘‘ وہ اپنی ننھی سی پری کو دیکھتا بھیگتے لہجے میں بولا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ مہوش نے بھی ماشاء اللہ کہا تھا۔
’’اللہ اس کے نصیب اچھے کرے ٗ دنیا کی ہر راحت عطا فرمائے۔‘‘ انہوں نے پوتی کو پہلی دعا دی تھی۔ ان سب نے دل سے آمین کہا تھا۔
٭٭٭
’’فیصل! ہم نے جو نام سوچا تھا اس کا کیا؟‘‘ کسی کو بھی ماہ کنعان کے رکھے نام پر کوئی اعتراض نہ تھا یہاں تک کہ فیصل کو بھی نہیں مگر سمیرا کو یہ سب جان کر صدمہ سا پہنچا تھا کیونکہ وہ مشترکہ طور پر پہلے ہی اپنے بچے کا نام سوچ چکے تھے۔
’’یار! جانتی ہو ناں میں کنعان کی کسی بات سے انکار نہیں کر پاتا اور اس نے اتنے مان سے اپنی بھتیجی کا نام رکھا ہے اعتراض کی گنجائش ہی نہیں ہے اور ویسے بھی مصفرہ نام تو کتنا خوب صورت، پیارا سا ہے۔‘‘ وہ اس کے خوبصورت روشنی بکھیرتے چہرے پر خفگی کا تاثر دیکھ کر نرمی سے بولا تھا۔
’’ہم نے جو نام سوچا تھا وہ بھی خوبصورت اور پیارا ہے فیصل۔‘‘ وہ منہ بنا کر بولی تھی اور وہ مسکرا دیا۔
’’تمہیں مصفرہ نہیں پسند ٗ تم وہ کہہ لینا جو ہم نے سوچا تھا جو تمہیں پسند ہے۔‘‘ اس نے دلکشی سے کہہ کر تمام توجہ بیٹی کی جانب مبذول کر دی تھی جو سوتے ہوئے بہت ہی پیاری لگ رہی تھی۔
’’اور آپ؟‘‘ اس نے خفگی سے اسے دیکھا تھا۔ اس نے ذرا کی ذرا پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا اور مسکرا کر بیٹی کو دیکھنے لگا۔
’’آپ میرے خلاف تو جا سکتے ہیں ٗ اپنے دوست کے نہیں ٗ اس لئے آپ مصفرہ ہی کہیں گے۔‘‘ اس نے ناراضی سے کہہ کر تکیہ اس کے کاندھے پر مارا تھا۔ تب وہ اس کی جانب متوجہ ہوا تھا۔
’’ہاں مجبوری ہے ناں یار! تم سے تو چند سالہ محبت ہے اور کنعان سے پورے گیارہ سال کا یارانہ ہے اب سینارٹی کا بھی تو خیال رکھنا پڑتا ہے۔‘‘ وہ اس کو مسرور سا چھیڑ رہا تھا اور وہ خفگی سے دیکھتی اس کے مسکرانے پر مسکرا دی تھی۔
’’ناراض تو نہیں ہو؟‘‘ نرمی سے استفسار کیا تھا۔
’’نہیں میں آپ کی خوشی میں خوش ہوں۔‘‘ وہ سادگی سے سچائی سے پر لہجے میں بولی تھی اور وہ مطمئن سا مسکرا دیا تھا۔
٭٭٭
اسجد! میں نے آپ کو معاف کیا۔‘‘ اسجد عالم نے آواز پر اسے دیکھا جو لان میں اس سے قدرے فاصلے پر ٹھہری تھی۔ وہ اسے دیکھے گیا۔ گلابی کاٹن کے ڈھیلے ڈھالے سوٹ میں بڑی سی کشمیری چادر میں اپنے پھیلے وجود کو چھپائے اپنی تمام تر سادگی اور چہرے پر نرمی و ملائمت لئے اس کے سامنے تھی اور اسے اب تک اس کے کہے پر یقین نہیں آیا تھا۔
’’تم… تم نے مجھے معاف…‘‘ وہ بے ربط ہوا تھا۔ وہ اپنی ازلی سادگی سے مسکرا دی تھی۔
’’میں آپ کو بہ حیثیت عورت تو کبھی معاف نہیں کر سکتی اسجد! کہ میں اپنی نسوانیت کی تذلیل تو مر کر بھی نہیں بھول سکتی۔‘‘ اس کی مسکراتی آنکھوں میں نمی اترنے لگی تھی اور وہ نظر چرانے پر مجبور ہو گیا تھا۔
’’میں نے اسجد عالم! آپ سے بے پناہ ٗ بے انتہا محبت کی ہے۔‘‘ اس نے یکدم اس پر نظر اٹھائی تھی اور وہ اس کے دیکھنے پر بھیگی پلکوں سے مسکرا دی تھی۔
’’میں اپنی تذلیل نہیں بھولتی اور میری محبت کسی تذلیل کسی دکھ کو نہیں مانتی ٗ اس لئے میں نے آج آپ کو اپنی محبت کیلئے اپنی آنے والی اولاد کیلئے معاف کر دیا ہے کہ میرے دل پر محبت کے بوجھ ہی کچھ کم نہیں ہیں ٗ کہ میں اپنی محبت کو پریشان ٗ ملال میں ڈوبا چھوڑ کر اس دنیا سے چلی جائوں ٗ اس لئے میں نے آپ کو اپنی محبت ٗ اپنی ممتا کیلئے معاف کر دیا ہے۔ میرے بعد میرے موحد کا خیال رکھئے گا۔‘‘ وہ رو رہی تھی۔ اس کے چہرے پر مگر بلا کا سکون تھا جب کہ وہ بے سکون ہو گیا تھا۔
’’یہ کیسی فضول باتیں کر رہی ہو ٗ مائدہ؟‘‘ اس نے اسے نہایت ناپسندیدگی و ناگواری سے ڈپٹا تھا۔
’’کچھ فضول نہیں کہا میں نے اسجد! میں موت کی آہٹیں بہت قریب سے سن رہی ہوں۔‘‘ اس کے اطمینان میں فرق نہ آیا تھا مگر اس کے اطمینان میں ضربیں سی پڑ گئی تھیں۔
’’مائدہ؟‘‘ اس نے اسے ٹوکنا چاہا تھا۔
’’جینے کی خواہش تو کب کی دم توڑ چکی ہے اسجد! اب بس رسم پوری ہونے کو ہے مگر میں اپنے بیٹے کی طرف سے اطمینان کئے بغیر نہیں مرنا چاہتی ٗ نہ آپ نے مجھے کچھ دیا نہ میں نے آپ سے کچھ طلب کیا مگر میں آج آپ کو معاف کرکے اپنے بیٹے کیلئے توجہ ٗ محبت اور شفقت مانگتی ہوں۔ میرے بعد میرے موحد کا بہت خیال رکھئے گا اسجد!‘‘ وہ سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ درد و تکلیف پر ضبط کرتی کہہ رہی تھی اس پر ثابت کر رہی تھی وہ اپنے بیٹے کیلئے سارے فیصلے پہلے ہی لے چکی ہے۔
’’مائدہ! اس ساری بکواس…‘‘
’’میں کچھ بکواس نہیں کر رہی اسجد! میں جانتی ہوں میرے پاس بہت زیادہ وقت نہیں بچا اور میں اس گھر میں اپنوں کے مجبور کرنے پر لوٹی تو صرف اپنے آنے والے بچے کیلئے کہ میں نہیں چاہتی تھی ٗ میرا بیٹا اپنے باپ کے سائے سے محروم رہے۔ میں تو جب کہ اس بچے کو چاہتی بھی نہیں تھی مگر میں نے اسے اللہ کی رضا جانا اور جس دن میں نے اپنے بچے کو اللہ کی رضا سمجھا ٗ اس دن ہی اللہ نے میرے دل میں میرے بچے کیلئے محبت اور ممتا ڈال دی اور میری ممتا ٗ اپنی اولاد کو بے آسرا چھوڑ کر جانے کو نہیں راضی اگر آپ نے مجھے محبت نہ سہی ٗ عزت ہی دی ہوتی تو میں سکون سے مر جاتی لیکن آپ کا رویہ میرے مرنے کی راہ میں جیسے رکاوٹ ہے اس لئے آج اس ماں کو ایک وعدہ سونپ دیں کہ اس کی اولاد کو آپ محبت اور عزت دیں گے ٗ اس کی ماں کو تو آپ نے محروم رکھا ٗ اسے اپنی شفقت سے محروم نہیں رکھیں گے پلیز اسجد! صرف ایک وعدہ سونپ دیں آپ میرے موحد کا خیال رکھیں گے۔‘‘ وہ اب شدتوں سے رو رہی تھی۔ تکلیف اس سے برداشت نہیں ہو رہی تھی ٗ اس سے کھڑا بھی نہیں ہوا جا رہا تھا اور وہ جو اس کی ہر بات پر زمین میں خود کو گڑھتا محسوس کر رہا تھا اس کے مرنے مرنے کی گردان پر اپنے اندر تکلیف اترتی محسوس کر رہا تھا اس کی بدلتی رنگت اور ڈولتے وجود کو دیکھ کر وہ اس کی طرف بڑھا اور اسے کاندھوں سے تھام گیا تھا۔
’’اسجد پلیز! بتایئے نا آپ رکھیں گے ناں میرے موحدکا خیال؟‘‘ وہ درد سے بے حال ہو رہی تھی مگر اس کی سوئی جیسے اٹک گئی تھی۔
’’میں تمہارا شکر گزار اور احسان مند ہوں کہ تم نے کسی بھی سوچ ٗ کسی بھی سبب مجھے معاف کر دیا ہے اور میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں ہمارے بیٹے کا بہت خیال رکھوں گا ٗ ہم دونوں مل کر اس کا خیال رکھیں گے ٗ اس کی اچھی تربیت کریں گے۔‘‘ وہ اس کو شانوں سے تھامے کہہ رہا تھا اور وہ بے بس سی محض مسکرا دی تھی۔ اس نے اس کی آنکھوں میںدیکھا جہاں موت کی آہٹیں ٗ کچھ کھونے کا احساس اور تشنگی سی سمٹی تھی ٗ اس نے نہ جانے کس احساس و جذبے کے تحت اسے خود سے لگا لیا۔
’’مائدہ! میں نے تم سے محبت نہیں کی ٗ تمہیں عزت بھی نہیں دی مگر میرا یقین کرو کہ میں نے چاہے کیسے ہی لفظوں کا استعمال کرکے تمہیں زخمی کیا ہو مگر میری نیت خراب نہ تھی ٗ اس شب میں نے تمہیں مردانگی کے زعم میں یا ہوس کیلئے نہیں چھوا تھا۔‘‘ وہ اس کی حرکت پر ساکت تھی۔ اس کے لفظ اسے بے یقین کرنے لگے تھے مگر اس کی آنکھوں میں جو اس نے دیکھا تھا اس کے بعد اس نے سوچا اگر آج بھی کچھ نہ کہا تو بہت دیر ہو جائے گی کہ وقت ابھی اس کے ہاتھ میں تھا اور وہ وقت کی لگام ہاتھ میں تھامے اظہار کی منزل طے کرتا جا رہا تھا۔
’’تم میری بیوی تھیں۔ تمہاری موجودگی فطری جذبوں کو جگا دیتی تھی مگر میں تمہیں دھتکار چکا تھا۔ تم پہل کر نہیں سکتی تھیں اور میں نے صرف خود کو برتر ثابت کرنے کیلئے تم پر زبردستی حق جتایا ٗ میں تمہیں اہمیت نہیں دینا چاہتا تھا۔ میں بہت کم ظرف ہوں۔ میں نے صرف اپنے بارے میں سوچا ٗ تمہارے بارے میں نہیں سوچا۔ تمہارے جذبات کا خیال نہیں کیا مگر آج تمہارے ظرف کے آگے ہار گیا ہوں۔ اس لئے اعتراف کرتا ہوں کہ غلط تم نہیں میں تھا۔ غلطی میری سوچ ٗ میری نیت کی نہیں میری انا میرے عمل کی تھی۔ میں زیر بار ہو کر نہیں زیر بار کرکے جینا چاہتا تھا مگر احساس ہو گیا ہے کہ رشتوں میں ٗ محبت میں ہار تو ہوتی ہی نہیں کمتر ٗ برتر نہیں ہوتا ٗ اس لئے آج میں اپنی شکست قبول کرتا ہوں۔ تم اپنے ذہن و دل سے یہ بات نکال دو کہ میں نے اس شب تمہیں بیوی نہیں سمجھا تھا ٗ میں اتنا نہیں گر سکتا مائدہ! تمہارے ساتھ اتنا کچھ غلط کرنے کے باوجود بھی میں اس حدتک برا اور نفس پرست نہیں ہوں۔‘‘ وہ اس کو خود سے لگائے رو رہا تھا اور اس کی سسکیاں اسے بے چین کرنے لگی تھیں۔ وہ بھی تو زیر بار ہو کر نہیں زیر بار کرکے جینا چاہتی تھی۔ اس کے دھتکارنے کو اس نے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا تھا ٗ اس کی نگاہ کا ٹھٹکنا ٹھہرنا تو محسوس کرتی رہی تھی مگر انجان نبی رہی اس سوچ کے ساتھ کہ آج بے قرار ہے تو خود چل کر آئے گا مگر آدم کا بیٹا حوا کی بیٹی تک آیا ضرور مگر اپنے ہی انداز میں مرد عورت کے سامنے خود کو نہیں جھکاتا خاص کر اس عورت کے سامنے جسے ایک بار نہیں کئی بار ٹھکرایا ہو۔
’’آئی لو یو اسجد!‘‘ وہ شدتوں سے روتی کہہ اٹھی تھی اور وہ کچھ مزید کہنا چاہتا تھا مگر اس کی بگڑتی حالت نے اسے موقع نہ دیا اور وہ اسے لئے ہسپتال دوڑ گیا۔ سب ہی اس کیلئے اس کے بچے کی زندگی کیلئے دعا گو تھے۔ وہ ارحم کی شادی سے ایک ماہ پہلے سے الحسن ہائوس میں تھی۔ فریدہ نے کہہ دیا تھا کہ وہ ڈلیوری تک وہیں رہے گی۔ وہ اس سے اکثر ملنے آ جاتا تھا اور آج جب وہ واپس جا رہا تھا تو اس کی آنکھوں میںبے بسی اور شرمندگی مائدہ سے برداشت نہ ہوئی اور اس نے جاتے ہوئے اسجد کو روک کر اسے معافی نامہ سونپ دیا۔ اسجد نے بھی غنیمت جانا اس سے ذہن و دل کی ہر بات انا کو بالائے طاق رکھ کر کہہ دی ٗ جتنی اذیت میں تھا اسے یہی مناسب لگا تھا کہ وہ خالی خولی انا کو چاٹنے کے بجائے اس کے حصار سے نکل کر بات کلیئر کرے اور اذیت سے باہر نکل آئے۔ وہ خود کو بہت پرسکون محسوس کر رہا تھا مگر اندر ہی اندر ایک بے چینی سی سر اٹھا رہی تھی اور اس کی بے چینی اور مائدہ کا یقین رنگ لے آیا تھا۔ نرس نے بہت خوبصورت گول مٹول بچہ اسے لا کر دیا تھا اور وہ یہ کہہ کر آگے بڑھ گئی تھی۔
’’ہم آپ کی مسز مائدہ عالم کو نہیں بچا سکے۔‘‘ وہ سب ساکت رہ گئے تھے۔ قیامت سے پہلے ان پر قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔
٭٭٭
’’ارحم!‘‘ کمرہ مکمل تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس نے کمرے میں داخل ہو کر لائٹس آن کی تھیں اور اس کو صوفے پر ساکت بیٹھے دیکھ کر اس کا دل کٹ کر رہ گیا تھا اور وہ نم ہوتی پلکوں کے ساتھ سست روی سے چلتی اس کے برابر ٹکتی گلوگیر لہجے میں اسے پکار گئی تھی مگر اس کی پوزیشن میں ذرا برابر فرق نہ آیا تو اس نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا ٗ اس نے چونک کر خالی خالی نظروں سے اسے دیکھا اور نگاہ جھکا دی۔
’’ارحم! سنبھالیں خود کو یہی مشیت ایز دی تھی ٗ زندگی اور موت تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ مائدہ آپی کی زندگی ہی اتنی تھی۔‘‘ وہ اس کی سرخ نگاہوں پر تڑپتی روتے ہوئے دکھی لہجے میں بولی تھی۔
’’مجھے انکار نہیں ہے کسی بھی بات سے ماہ لاج! لیکن مائدہ کی موت کا ذمہ دار صرف میں ہوں۔ وہ بہت تکلیف میں تھی کسی بھی صورت میں اسجد کی زندگی میں واپس نہیں جانا چاہتی تھی لیکن میں نے اس کی بھلائی کے خیال سے اس کو لوٹ جانے پر مجبور کر دیا۔ میں یہ اس کی کیسی بھلائی چاہتا تھا ماہ لاج کہ اس کی خوشیاں ڈھونڈتے ڈھونڈتے اسے ہی کھو دیا۔ اس کی تکلیف اس کے چہرے سے عیاں ہو رہی تھی۔‘‘
’’ہم نے اس کی خوشیوں کی چابی ایک غلط انسان کو سونپ دی تھی اور اس نے ہماری مائدہ کی خوشیوں کو ہی مقفل کرکے چابی کہیں دفنا دی اور اسی چابی کی تلاش میں آج میں خود اپنی نازوں پلی بہت پیاری بہت معصوم بہن کو منوں مٹی تلے دفنا آیا ہوں۔‘‘ وہ کہتے کہتے پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا۔ وہ تڑپتی بلکتی ماں اور ضبط سے گزرتے باپ کو دیکھ کر خود ایک چٹان بن گیا تھا۔ جو ذرا سے سہارے پر چٹخ گئی تھی۔ مائدہ مر تو پہلے ہی گئی تھی بس وہ لوگ اسے دفنا کر آج آئے تھے۔ اسے زندگی سے کوئی محبت نہ رہی تھی اور وہ اس سنگدل ٗ بے مہر شخص کی اولاد کو دنیا میں لانے کے عمل سے گزرتی جان سے ہی گزر گئی تھی۔ اس کی زندگی ہی اتنی تھی لیکن ایک احساس زیاں اور ایک احساس جرم ان سب سے آن چمٹا تھا جس سے رہائی ممکن نہ تھی کہ وہ محبت کے سفر سے گزرتی موت کا سفر طے کر گئی تھی۔
جو رُکے تو کوہ گراں تھے ہم
جو چلے تو جاں سے گزر گئے
اسجد عالم جو پشیمان تھا اس کی پشیمانی تا قیامت قائم رہنی تھی اور اس کو اس کے کئے کا احساس دلانے کو تو موحد عالم کا بھی وجود کافی تھا۔ اس نے بیٹے کو دیکھ دیکھ کر اپنے عمل پر پچھتانا تھا۔ جانے والے کو آواز دینی تھی لیکن سب بے سود ثابت ہونا تھا۔ انہی تکلیف دہ دن و رات میں مائدہ کے فیصلے کے سبب نوید عالم نے نہ چاہتے ہوئے بھی یسریٰ کو کاشانہ عالم آنے کی اجازت دے دی تھی۔ سب اپنی اپنی زندگی میں سیٹ ہوتے جا رہے تھے کہ جانے والے تو چلے گئے تھے اور کسی کے چلے جانے سے خلا ضرور آتا ہے مگر زندگی نہیں رکتی۔
٭٭٭
’’فیصل! ڈیڈ کی موت کا ذمہ دار صرف میں ہوں۔‘‘ اس کی آنکھیں شدت گریہ سے لہو رنگ ہو رہی تھیں۔
’’انکل کی موت کے ذمہ دار تم نہیں ہو ٗ ان پر کرپشن کے بہت سے چارجز تھے۔ انہیں تو سزا ملنی ہی تھی تم نے قانون کی مدد کرکے ایک برائی کو ختم کیا ہے۔‘‘ فیصل کی جگہ جواب اندر داخل ہوتے ہوئے ارحم الحسن نے دیا تھا وہ اس وقت ڈی ایس پی لگ رہا تھا کہ اس کا انداز خالصتاً پیشہ وارانہ تھا وہ پولیس یونیفارم میں بہت دلکش لگ رہا تھا۔
’’جس طرح تم نے قانون کی مدد کی۔ انہیں سمجھا کر ان کو قانونی گواہ بنا کر ان کی سزا کم کروائی جا سکتی تھی مگر انہوں نے ہمت ہی ہار دی۔‘‘ وہ کیپ ٹیبل پر رکھتا صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔ فیصل کے کہنے پر اس نے سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا اور نامحسوس طریقے سے خفیہ انداز میں ساری معلومات اکٹھی کی تھیں اور اس سب میں ڈی ایس پی ارحم الحسن نے اس کی مدد کی تھی۔ اس کی دی معلومات پر کام کرتے ہوئے ڈی ایس پی ارحم الحسن نے ذوالفقار عابدی اور ان کی پارٹی کے لوگوں کو گرفتار کر لیا تھا۔ ان پر کرپشن کے چارجز تھے۔ ان کی کتنی ہی جائیداد بحق سرکار ضبط ہو جانے کا امکان تھا۔ کتنی ہی پراپرٹی تو سیل کر دی گئی تھی مگر انہوں نے کیس چلنے کی نوبت ہی نہ آنے دی اور مر گئے تھے۔ آج ان کا سوئم تھا ماہ لقا ایک دم ہی سب کچھ بکھر جانے پر ٹوٹ گئی تھیں۔ ذوالفقار عابدی سے انہیں محبت تھی مگر وہ بیٹے سے ناراض نہ تھیں۔ انہیں احساس ہو گیا تھا برائی کا انجام برا ہی ہوتا ہے۔ ماہ لاج مگر ارحم سے ہی نہیں ماہ کنعان سے بھی ناراض تھی۔
’’ارحم بھائی ٹھیک کہہ رہے ہیں کنعان! جو ہو گیا ہے ویسے بھی لوٹایا نہیں جا سکتا۔ تم نے تو ویسے بھی ملک و قوم کی بہت بڑی خدمت کی ہے۔ برائی ختم نہیں ہوئی مگر چند لوگ تو حوالات تک گئے ہیں۔ سزا کاٹ رہے ہیں اور بہت ممکن ہے کہ ان کا انجام کسی کیلئے مشعل راہ بن جائے۔‘‘ فیصل نہایت سنجیدگی سے بولا تھا۔
’’تم سب کا کہنا درست ہے میں اپنے کئے پر نادم نہیں ہوں ٗ اپنے عمل سے مطمئن ہوں مگر ذوالفقار عابدی جیسے بھی تھے میرے باپ تھے اور باپ کو کھونے کا غم تو ایسا ہے کہ پوری زندگی پر محیط رہے گا۔ خیر آپ لوگ بیٹھئے میں فریش ہو کر آتا ہوں۔‘‘ سنجیدگی سے کہہ کر وہ کھڑا ہو گیا تھا۔
’’میں بیٹھوں گا نہیں پولیس اسٹیشن سے آ رہا ہوں گھر جا کر آرام کروں گا۔ ملازمہ سے کہہ کر لاج کو بلوا دو تاکہ ہم جائیں۔‘‘ وہ اس کے ساتھ ہی کھڑا ہو گیا تھا۔
’’لاج! مجھ سے ہی نہیں تم سے بھی ناراض ہو گئی ہے ٗ ڈیڈ کی اچانک موت نے تو ہم سب کو ہی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ وہ اسے ایکسپٹ کر ہی نہیں پا رہی۔ نرمی سے اسے منا لینا کہ تم نے تو محض اپنا فرض ادا کیا ہے اور یہ وہ کچھ دیر سے ہی سمجھ ضرور لے گی۔‘‘ وہ افسردگی سے کہتا نکلتا کہ لاج حنین و سمیرا وغیرہ کے ساتھ وہیں آ گئی تھی۔
’’ارحم! تمہیں لینے آیا ہے۔‘‘ اس نے زرمین کے ساتھ کھڑی بہن سے کہا تھا۔
’’مگر مجھے ان کے ساتھ نہیں جانا ہے۔‘‘ اس کے آنسو گرنے لگے تھے۔
’’ڈیڈی کے جانے کا مجھے بھی دکھ ہے لاج! مگر ڈیڈ کو ہم سے ایسے ہی بچھڑنا تھا اس کیلئے تم ارحم سے ناراض نہ ہو ٗ تمہیں تو اپنے شوہر پر فخر ہونا چاہئے کہ وہ ایک ایماندار آفیسر ہے جس نے رشتوں پر فرض کو وطن کی محبت کو اولیت دی۔‘‘ اس نے بہن کو کاندھے سے لگا کر اس کا سر تھپکا تھا۔ وہ بری طرح رونے لگی تھی۔
’’میں آپ سے اور ارحم سے ناراض نہیں ہوں۔ لیکن آپ لوگوں نے بہت اچھا کرکے بھی بہت برا کیا ہے۔ ڈیڈی اچھے انسان نہیں تھے۔ وہ بہت اچھے پکے سیاستدان تھے۔ انہوں نے ملک و قوم کی جڑیں کمزور کرنے والوں کا ساتھ دیا۔ وہ بہت برے تھے۔ لالہ جان مگر وہ ہمارے ڈیڈ تھے۔ ان کی موت کو میں قبول نہیں کر پا رہی۔ آپ نے اور ارحم نے فرض نبھا کر بہت اچھا کیا لیکن ڈیڈی نہیں رہے کیوں ڈیڈ ملک دشمن عناصر کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ کیوں انہوں نے برائی کو اپنایا۔ آپ کے ٗ میرے ٗ مام کے بارے میں نہیں سوچا ان کے بعد ہمارا کیا ہوگا۔‘‘ وہ اس کے کاندھے سے لگی بری طرح بلک رہی تھی۔ اس کا رونا ان سب کی آنکھیں نم کر گیا تھا۔ ماہ کنعان میں تو اسے دلاسے دینے کی ہمت ہی نہیں رہی تھی۔ فیصل نے ہی اسے آگے بڑھ کر اس سے الگ کرکے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے دلاسہ دیا تھا۔کمرے کی فضا بوجھل ہو گئی تھی وہ روتے ہوئے افسردہ ہو جانے والے ارحم کے ساتھ نکلی تھی۔ ان دونوں کے پیچھے ہی وہ چاروں بھی نکل گئے تھے۔ ڈرائیونگ کرتے ہوئے اس نے اچٹتی ہوئی نگاہ اس پر ڈالی تھی جو اب تک رو رہی تھی مگر اس نے راستے میں اسے چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا تھا اور گیراج میں گاڑی رکتے ہی وہ یوں اتر کر بھاگی تھی۔ جیسے جیل سے قیدی بھاگتا ہے۔ وہ ایک گہری سانس کھینچتا جس وقت کمرے تک پہنچا روم لاکڈ تھا اس نے لب بھینچ کر دستک دی تھی مگر دروازہ ہنوز بند رہا تھا۔ اس نے غصے سے ملازمہ کو آواز دی ٗ تب ہی فریدہ بھی وہیں چلی آئیں اور ان کے استفسار پر وہ کچھ ان سے چھپا نہیں سکا تھا۔
’’جب ہم لوگ ماہ ولاز سے واپس آ رہے تھے ہم نے لاج کو ساتھ آنے کا کہا تھا مگر اس نے منع کر دیا تھا۔ اس لئے میں نے تم سے کہا تھا کہ تم پولیس اسٹیشن سے واپسی میں اسے لیتے آنا۔‘‘ وہ ساری بات سن کر بولی تھی۔ سوئم میں وہ سب ہی گئے تھے مگر کال آ جانے کے سبب وہ فاتحہ کے بعد وہاں سے چلا گیا تھا۔
’’مما! میں نے غلط تو کچھ نہیں کیا ہے۔ پھر لاج میرے فرض کی راہ میں کیوں آ رہی ہیں؟‘‘ انہوں نے بیٹے کے انداز میں دبا دبا غصہ محسوس کیا تھا۔
’’وہ تمہارے فرض کی راہ میں نہیں آ رہی بیٹا! بس اپنے دل سے مجبور ہے۔ ایسا ہوتا تو وہ ایکسپٹ نہ کرتی کہ جو ہوا صحیح تھا۔ اس کا غم بہت بڑا ہے۔ اسے سہارے کی ضرورت ہے۔ نرمی سے اسے اس فیز سے نکال لو کہ یہ بھی تمہارا فرض ہے۔ نوکری کے فرائض تو تم نے پورے کر لئے ۔اب گھریلو فرائض کی باری ہے۔ وہ تم سے ناراض ہے یا بدگمان ہو رہی ہے تو اسے منا لو کہ وہ اپنے شوہر سے نہیں ایک ایماندار آفیسر سے ناراض ہے۔ ہوتا ہے ناں کہ جب ہمارے کسی پیارے کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں سب کچھ برا لگنے لگتا ہے۔ ہم اللہ سے بھی شکوہ کر جاتے ہیں تو پھر تم تو ایک انسان ہو لاج کے شکوے دور کر دو ٗ اسے ڈھارس دو ٗ اس کا سہارا بن جائو۔‘‘ انہوں نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے نہایت نرمی سے سمجھایا تھا۔
’’موقع دے آپ کی بہو تب ہی تو کچھ کروں گا ناں ٗ محترمہ روم لاکڈ کرکے بیٹھ گئی ہیں۔‘‘ وہ بیٹے کے منہ بنانے پر ہنس دی تھیں۔
’’میں تمہارے کمرے کی ڈبلیکیٹ چابی لا دیتی ہوں۔‘‘ ان کے چھیڑنے والے انداز پر وہ جھینپ گیا تھا اور جس وقت وہ کمرے میں آیا وہ نماز پڑھ رہی تھی۔ اس لئے وہ فریش ہونے چلا گیا تھا۔
’’اپنے مجازی خدا کو کمرے سے نکال کر خدا سے لو لگا رہی تھیں مگر یہ بھول گئی تھیں کیا مسز کے اللہ حقوق اللہ معاف کر دے گا مگر حقوق العباد نہیں اور بدتمیز ٗ نافرمان بیوی تو سب سے پہلے جہنم میں جائے گی۔‘‘ وہ جائے نماز رکھ کر مڑی تو وہ اس کے سامنے رکتے ہوئے اس کے سرخ متورم چہرے کو دیکھ کر بولا تھا۔
’’آئی ایم سوری ارحم! بٹ میں آپ سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔‘‘ اس کے آنسو گرنے لگے تھے۔ اس نے نگاہ اٹھا کر نکھرے نکھرے ارحم الحسن کو نہیں دیکھا تھا۔
’’سوری ٗ تو آپ سے میں نے کرنی تھی کہ نہ چاہتے ہوئے بھی آپ کو تکلیف دی مگر یقین کریں لاج! کہ میں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا انکل اس طرح کر گزریں گے کہ وہ آپ کے ہی نہیں میرے بھی فادر تھے۔ آپ جتنی نہیں مگر کچھ تو ان کی پرواہ مجھے بھی تھی۔‘‘ وہ اس کا گرم ہاتھ تھام گیا تھا۔ کل سے اسے بخار تھا۔
’’جانتی ہوں سب کچھ مانتی بھی ہوں مگر جس ہستی کو کھویا ہے اس کو کھونے کا احساس دست شفقت سے دوور ہوجانے کا صدمہ مجھے کچھ بھی ماننے نہیں دے رہا۔ میں قائل نہیں ہو سکتی اس لئے مجھے کچھ وقت دیں۔ آپ سے ناراض نہیں ہوں۔ بس حقیقت کو پوری سچائی سے تسلیم کرنے کا وقت مانگ رہی ہوں۔‘‘ وہ ہاتھ چھڑا کر دور ہوتی بلکنے لگی تھی۔
’’آپ کو جتنا وقت لینا ہے لیں مگر اتنا یاد رکھیں کہ آپ کی آنکھوں میں آنسو مجھ سے برداشت نہیں ہوتے۔ آپ کی خاموشی بری لگتی ہے کہ مجھے تو اپنی وہی لاج اچھی لگتی ہے جو رو رو کر مجھ سے اپنی محبت کا اظہار کرتی اپنے حق کیلئے لڑ رہی تھی۔‘‘ وہ چند قدم چل کر اس بلکتی ہوئی لڑکی تک پہنچا تھا۔ جس نے اسے محبت کرنا سکھایا تھا۔ جس کو سوچنا جس کے ساتھ وقت گزارنا اسے اچھا لگتا تھا جو کام کے دوران خود کو فراموش کر دیتا تھا مگر وہ اسے یاد رہتی تھی اس کا دل گھر جانے کو کرنے لگا تھا اور اسے دیکھ کراس کی ساری تھکن اتر جاتی تھی اس لئے اس کا رونا اس کا تکلیف میں ہونا اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔
’’میں آپ سے بہت سارا لڑنا چاہتی ہوں مگر کیسے لڑوں کہ پہلے میں حق پر تھی مگر اب حق پر نہیں ہوں ڈیڈ…‘‘ وہ اور شدتوں سے رونے لگی تھی اس نے اسے آگے بڑھ کر خود سے لگا لیا۔
’’بھول جائیں سب کچھ لاج! اور انکل کی مغفرت کی دعا کریں۔‘‘ وہ اس کا رونا برداشت نہ کر پاتے ہوئے نرمی سے بولا تھا اس کی بات کاٹ دی تھی کہ وہ اسے تکلیف دہ موضوع سے ہٹا دینا چاہتا تھا۔
’’اور آپ حق پر نہ ہوتے ہوئے بھی مجھ سے لڑ سکتی ہیں ٗ آپ مجھ پر سارے حق رکھتی ہیں اور بہت رو چکیں۔ طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں ٗ جا کر فریش ہو کر آئیں ورنہ اب میں آپ سے ناراض ہو جائوں گا۔‘‘ وہ اس کا مان بڑھا گیا تھا اور نرمی سے کہتے یکدم اس نے مصنوعی انداز میں دھمکی دی تھی۔
’’آپ ناراض ہو جائیں گے تو میں آپ کو منالوں گی۔‘‘ وہ روتے روتے بولی تھی۔
’’اوہو! آپ کو کیا لگتا ہے کہ میں روٹھا اگر تو آپ آسانی سے منا لو گی؟‘‘ وہ اس کے افسردہ متورم چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
’’جی! مجھے یقین ہے کہ میری محبت کبھی آپ کو روٹھنے نہیں دے گی اگر آپ روٹھے تو میری محبت آپ کو منا لے گی۔‘‘ وہ یقین سے کہتی اسے بہت اپنی اور پیاری لگی تھی۔ وہ دلکشی سے مسکرا دیا تھا۔ اس کے ساتھ میں وہ مطمئن اور خوش تھا اسے اپنی ماں کا فیصلہ درست لگتا تھا کہ انہوں نے اس کیلئے ایک اچھی لڑکی کا انتخاب کیا تھا۔ وہ اس کو مسکراتے دیکھ کر بھیگی آنکھوں سے آسودگی کے مکمل احساس کے ساتھ مسکرا دی تھی ٗ ارحم کو اس نے بہت چاہا تھا اور وہ اپنی چاہت کو اپنی سوچ سے بڑھ کر اچھا پا کر بہت خوش و مطمئن تھی۔
٭٭٭
’’آپ گھر آیا ہی نہ کیا کریں۔ اپنے دوست کے پاس ہی رہ جائیں۔‘‘ مصفرہ کو سلا رہی تھی جب وہ آہستگی سے دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوا تھا۔ وہ اس پر نظر پڑتے ہی ناگواری سے بولی تھی ٗ وہ تقریباً سات بجے کنعان کے ساتھ جانے کا بتا کر گھر سے نکلا تھا اور اب ڈیڑھ بج رہا تھا وہ اس کا انتظار کرتے سو گئی تھی۔ مصفرہ کے جاگنے پر کچھ دیر قبل ہی اسے بھی لامحالہ اٹھنا پڑا تھا۔
’’اب تک تو تمہیں عادی ہو جانا چاہئے تھا۔‘‘ وہ خفگی سے بولا تھا۔ اسے سمیرا کی یہ عادت پسند نہ تھی کہ وہ جاہل عورتوں کی طرح اس کے گھر میں آتے ہی شکوے لے بیٹھتی تھی۔
’’اوہوں… ہو جانا چاہئے تھا مگر میں ہی بے وقوف ہوں جو آپ کا انتظار کرتی رہتی ہوں۔‘‘ اس کے آنسو گرنے لگے تھے۔
’’سوری ٗ یار! بس کنعان کے ساتھ وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا مگر آئندہ خیال رکھوں گا۔ یہ بتائو کھانا کھا لیا؟‘‘ یکدم اسے اپنے لہجے کی بدصورتی کا احساس ہوا تھا وہ معذرت کرتا سوال نہیں کر گیا تھا بلکہ اسے مزید بھڑکا گیا تھا۔
’’پہلے کبھی آپ کے بغیر کھانا کھایا ہوگا ناں ٗ جو آج کھا لیتی۔‘‘ غصے سے کہتی تکیہ برابر کرکے لیٹ گئی تھی اور وہ جو لیٹ چکا تھا اٹھ کر بیٹھ گیا۔
’’مجھے بھوک نہیں ہے۔ کھانے کا بھی کوئی وقت ہوتا ہے اور بہتر ہوگا اب سو جائیں۔ پہلے آپ کی بیٹی نے نیند خراب کی‘ آپ مزید نہ کریں۔‘‘ وہ دھیمی نہیں پڑی تھی۔ اس کا غصہ دیکھ کر وہ اٹھ کر کمرے سے نکل آیا تھا اور اس کی قسمت اچھی تھی کہ سحرش جاگ رہی تھی اور کچن میں کھڑی پانی پی رہی تھی۔ اس سے کھانا گرم کروایا تھا۔ اس نے اس کو شادی کی سالگرہ کی مبارکباد دی تو اسے اس کا ری ایکشن یاد آیا کہ اس طرح ری ایکٹ وہ نہیں کرتی تھی اور آج بے سبب نہیں کیا تھا کہ وہ اپنی شادی کی سالگرہ ہی فراموش کر گیا تھا۔ اسے کنعان پر غصہ آنے لگا تھا۔ اس نے اسے فون کرکے بے نقط سنائی تھیں اور اس نے خاموشی سے سن کر اسے وش کر ڈالا تھا اور اس نے غصے سے لائن کاٹ دی تھی۔ اس سے بات کرکے اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ اس نے جو کیا اسے ستانے کو جان کر کیا تھا۔ تب ہی تو جیسے ہی وہ گھر جانے کی بات کرتا تو وہ کوئی نیا موضوع چھیڑ دیتا تھا۔ اس سے بعد میں بدلہ لینے کا سوچتا وہ ٹرے اٹھائے کمرے میں آ گیا۔ اس کو غصہ تو بہت تھا مگر وہ کھانا لایا تو وہ شرمندگی سی محسوس کرتی خاموشی سے اٹھ کر کھانا کھانے لگی تھی۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد وہ جب کافی کے مگ لے کر لوٹی تو حیران رہ گئی تھی کہ وہ بیڈ پر کیک رکھے ٗ موم بتیاں جلائے اس کا منتظر تھا۔
’’شادی کی دوسری سالگرہ مبارک۔‘‘ اس نے حیران کھڑی سمیرا کے کان میں سرگوشی کی تھی۔
’’آپ کو یاد تھا؟‘‘ وہ اب تک بے یقین تھی۔
’’دوپہر تک یاد تھا مگر کعنان نے باتو ںمیں ایسا الجھایا کہ بھول گیا۔ ابھی سحرش نے یاد دلایا ہے۔‘‘ اس نے نرمی سے اعتراف کیا تھا وہ اتنا ہی سچا تھا مذاق میں بھی جھوٹ نہیں بولتا تھا۔
’’اوہو! تو پھر یہ کیک؟‘‘ وہ اس کے سچائی سے کہنے پر مسکرائی تھی۔
’’کنعان سے منگوایا ہے۔‘‘ اس نے مزے سے اپنا کارنامہ سنانا شروع کیا تھا ٗ اس نے کنعان کو بے نقط سنائی تھیں اور اسے کیک لانے کا حکم جاری کر دیا تھا اور وہ بڑی فرمانبرداری سے محض 30 منٹ میں اسے کیک کینڈلز‘ اور بوکے دے گیا تھا۔
’’آپ نے خواہ مخواہ میں کنعان بھائی کو پریشان کیا۔‘‘ اس نے شرمندہ کرنا چاہا تھا۔
’’اپنا بندہ ہے وہ اس کی رہنے دو اپنی بات کرو ٗ تیار تو بڑے دل سے ہوئی ہو کیا کوئی خاص بات ہے؟‘‘ اس پر غور اب ہی کیا تھا۔ اس نے اسٹائلش سوٹ پہنا تھا اور میک اپ بھی کیا ہوا تھا وہ اس کے کہنے پر جھینپ گئی تھی اور پھر ان دونوں نے مسرور سے انداز میں کیک کاٹا تھا۔ وہ گزرے حسین لمحات کو یاد کرتے آنے والے ماہ وسال خوبصورت بنانے کی پلاننگ کرنے لگے تھے۔
٭٭٭
’’فضیل آپ بہت اچھے ہیں۔ آپ نے میری خامیوں ٗ میری کمزوریوں کو کبھی نشانہ نہیں بنایا ٗ ہمیشہ مجھے عزت و مان دیا۔‘‘ وہ اس کے خوبرو نرم نقوش والے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولی تھی۔
’’تم میری محبت ہو زرمین! اور جس سے محبت ہو ٗ اس کی خامی ٗ کمزوری دکھائی نہیں دیتی۔ میرے نزدیک تم اس دنیا کی سب سے اچھی عورت ہو ٗ تمہارا ساتھ میرے سکون اور خوشی کا باعث ہے اور میں تم سے وعدہ کرتا ہوں ہر سکھ ٗ ہر دکھ میں تمہارا ساتھ دوں گا۔ اپنی زرمین کو اکیلا نہیں چھوڑوں گا ٗ زندگی کے کسی بھی موڑ پر تم خود کو اکیلا نہیں پائو گی۔‘‘ وہ محبت لٹاتے لہجے میں بولا تھا۔
’’آئی لو یو فضیل!‘‘ وہ اس کے سینے پر سر رکھتے ہوئے خوشی و اطمینان سے بھیگتے لہجے میں بولی تھی۔
اسے یقین ہو گیا تھا کہ زندگی کتنے ہی رنگ بدلے یہ شخص جو اس کا شریک حیات تھا اس پر مہربان ہی رہے گا۔ زندگی تو رنگ بدلتی ہی ہے کبھی خوشی کبھی غم ٗ بس آپ کا ہمسفر آپ کو سنبھالنے والا آپ کا ساتھ نبھانے والا ہونا چاہئے اور اس کا ہمسفر ایسا تھا اس لئے وہ مطمئن سی مسکرا دی تھی ٗ اسے اب کسی غم کی پرواہ نہ تھی اور فضیل فیاض اپنے سینے سے لگی اس پیاری سی لڑکی کو اپنے قریب پا کر مطمئن سا مسکرا دیا تھا کہ اس نے جو چاہا تھا وہ صبر اور حوصلے سے پا لیا تھا اس نے بہت دکھ دیکھے تھے ٗ ہجر کاٹا تھا مگر اس کی سچی محبت اپنے نصیب میں وصل لکھوا کر لائی تھی ٗ وہ اس کی چمکتی پیشانی پر لب رکھتا آسودگی سے رب کے آگے اپنا دل پورے سکون سے جھکتا محسوس کرنے لگا تھا کہ اسے اب کوئی غم نہ تھا۔
٭٭٭
’’مام! آپ کو حنین سے کوئی شکایت ہے؟‘‘ شادی کے اتنے عرصے میں آج پہلی دفعہ انہوں نے اس کو کہا تھا۔ وہ حنین سے اپنا رویہ کچھ بدلے اور یہی بات اسے پریشان کر گئی تھی۔
’’تم جانتے ہو کنعان! فضول میں عداوت پالنا ٗ کدورت رکھنا میری فطرت نہیں۔ جب تم نے شادی کیلئے حنین کا نام لیا تھا تمہارے ڈیڈ سے زیادہ میں نے مخالفت کی تھی مگر اب سچائی سے کہوں تو بات اتنی سی ہے کہ تمہارا انتخاب بہت اچھا ہے۔‘‘ ماہ لقا کا سنجیدہ لہجہ اسے خوشگوار حیرت میں ڈال گیا تھا۔
’’اس کی پرورش اچھے ہاتھوں میں ہوئی ہے میرے ناروا سلوک کے باوجود اس نے آج تک مجھ سے بدتمیزی نہیں کی ٗ مجھے اس سے کوئی شکایت نہیں ہے ویسے بھی میرے لئے تمہاری خوشی زیادہ معنی رکھتی ہے۔‘‘ ذوالفقار عابدی کی موت کے بعد وہ کافی بدل گئی تھیں۔
’’اور میں تمہاری خوشی کے ہی خیال سے چاہتی ہوں کہ تم اپنے رویے میں تبدیلی لائو ٗ بیوی کی مانو مگر اپنی بھی منوائو حد ہو گئی کہ میرا ویل ایجوکیٹڈ بیٹا صرف ایک بے چارہ سا شوہر بن کر رہ گیا ہے۔‘‘ ان کا لہجہ آخر تک تلخ ہو گیا تھا۔ اس نے خفت زدہ ہو کر نگاہ چرا لی تھی۔ اس کی محبت میں شدت اور سب کچھ وارنے کا جذبہ صاف عیاں ہوتا تھا اور وہ تو ایک ہی گھر میں رہتی تھیں ٗ خوب جانتی تھیں کہ ان کا بیٹا کیسے بہو کے آگے پیچھے پروانہ بن کر ڈولتا ہے۔ اس نے خاموشی سے ماں کی ہدایات سنی تھیں اور ان کے جاتے ہی آنکھیں موندھ لیں تھیں۔
’’میری خوشی حنین کی خوشی سے وابستہ ہے۔ میں اس انداز میں خوش رہتا ہوں ٗ جس حال میں وہ خوش ہوتی ہے میں نہیں چاہتا کہ اسے کبھی کسی قسم کا احساس زیاں ہو ٗ اسی لئے اس کی ’’میں‘‘ کیلئے اپنی ’’میں‘‘ کو گزند پہنچا دیتا ہوں کہ عشق بھی تو اس سے میں نے کیا ہے تو عشق کے آداب بھی مجھے ہی بجا لانے ہوں گے۔‘‘ یہ سب سوچتے ہوئے اس کے لبوں پر بڑی ہی گہری دلکش مسکان سجی تھی۔ اپنی ہی جونک میں آتی حنین اسے دیکھ کر بری طرح ٹھٹک گئی تھی اس کے دل نے ہارٹ بیٹ مس کی تھی۔ وہ بے خود سی اس سراپائے عشق کو دیکھ رہی تھی۔ اس کی آہٹ وہ محسوس کر چکا تھا۔ اسے خود کو تکتا پا کر وہ مسکراتا ہوا اس کے سامنے آن ٹھہرا۔
’’جان کنعان! ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟ کیا مجھ سے محبت ہو گئی ہے؟‘‘ اس کی آنکھوں پر لب رکھتے ہوئے دل سے مسکرایا تھا۔ وہ چھوئی موئی سی ہوتی نظر چراتی بھاگنے لگی تھی۔
’’نگاہ چرا کر جاتی کہاں ہو جاناں! تمہارا ہی ہوں ٗ حق ہے تمہیں مجھے دیکھنے کا دل کھول کر نظر بھر کر دیکھو۔‘‘ اس کی مر مریں کلائی تھامے کان کی لو چومتا بے باکی سے کہہ گیا تھا۔
’’پلیز ماہ کنعان!‘‘ اس نے خود کو چھڑانا چاہا تھا۔
’’تمہیں بے خودی سے خود کو تکتا پا کر مجھے بے حد اچھا لگا تھا مگر تمہیں اس بے اختیاری سے صرف اس لئے آزاد کر گیا کہ تمہاری نگاہ میں رہنے سے زیادہ تمہیں کسی صحیفے کی طرح اپنی آنکھوں میں سمائے رکھنا مجھے زیادہ اچھا لگتا ہے۔‘‘ وہ اس پر جھکا اپنے عشق کی عجب منطق بیان کر رہا تھا۔ اسے چاہے جانے کی تمنا نہ تھی۔ اس کا عشق تو لٹانے پر ایمان رکھتا تھا اور بس وہ اس پر چاہتیں ٗ شدتیں نچھاور کئے جا رہا تھا بغیر کسی صلے و تمنا کے اور وہ اس سے بچنے کی چاہ میں اس سے ہی لگی اس کی شدتوں سے گھبراتی روہانسی ہو گئی تھی اور وہ استحقاق کی نئی داستانیں رقم کرتا چلا گیا تھا۔
٭٭٭
