Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282 Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 9)
No Download Link
Rate this Novel
Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 9)
Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan
اسفند جو پیمنٹ کرکے واپس آرہا تھا ادینہ کی چیخیں سن کر بھاگ کر آیا تو اس کو زمین پر دھاڑے مار مار کر روتے دیکھا۔۔۔۔۔۔
وہ دوڑتا ہوا آیا اور ادینہ کے پاس زمین پر بیٹھ گیا۔۔۔ اس کو گلے لگا کر صارم کی طرف دیکھا ۔۔۔۔ صارم نے اشارے سے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔ اور آنکھیں بند کرکے کچھ آنسو اس کے صبیح چہرے پر گرے۔۔۔۔۔۔
ادھر اسفند ادینہ کو چپ کروانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔ جس میں وہ ناکام تھا۔۔۔۔ کہ اچانک ایمرجنسی کا دروازہ کھلا ۔۔۔۔ اور کچھ لوگ سٹریچر باہر لے آئے ۔۔۔ ادینہ پاگلوں کی طرح بھاگتے ہوئے گئی۔۔۔ اور ماں کے چہرے سے چادر ہٹائی اور ماں کو اٹھانے لگی۔۔۔۔۔اسفند اور صارم بدحواس ہو کر اس کے پیچھے بھاگے۔۔۔۔۔
امی امی آنکھیں کھولیں پلیز ۔۔۔۔امی اٹھیں ۔۔۔۔ وہ اپنی ماں کو بار بار چوم رہی تھی ۔۔۔آپ اس طرح کیسے مجھے چھوڑ کر جا سکتی ہے۔۔۔۔اسفند بھائی آپ بولے نا امی کو کہ وہ اٹھے۔۔۔۔ مجھے کس کے پاس چھوڑ کر جا رہی ہے ۔۔۔۔۔
اب وہ صارم کی طرف مڑی۔۔۔۔ پلیز آپ بولے نا ان کو ۔۔۔۔ میں کیا کروں گی ان کے بغیر۔۔۔۔آپ کو پتہ ہے میرا اور کوئی نہیں تھا ۔۔۔ میں مر جاؤں گی ۔۔۔وہ زخمی پرندے کی طرح پھڑ پھڑا رہی تھی ۔۔۔۔ صارم نے روتی تڑپتی ادینہ کو بہت زور سے خود میں بھینچ لیا ۔۔۔۔ قیامت کا منظر تھا۔۔۔۔اس کے ساتھ ساتھ اسفند اور صارم کے آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔۔۔۔بہت گہرا صدمہ تھا۔۔۔۔وہ بکھرنے لگی۔۔ آنکھیں بند ہوگئی ۔۔۔۔ لڑ کھڑا کر گرنے والی تھی کہ اسفند نے اس کو گود میں اٹھایا۔۔۔۔ اور باہر گاڑی کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔۔۔ صارم خود باقی کی فارمیلیٹیز پوری کرنے لگا۔۔۔۔۔۔
میت کو ایمبولینس میں ڈالا گیا۔۔۔۔تو صارم نے اسفند کو ایمبولینس میں آنے کو کہا۔۔۔۔ اور خود ادینہ کو اپنی گاڑی میں لے کر جانے لگا۔۔۔
اسفند ایمبولینس میں بیٹھ کر چلا گیا اور پیچھے صارم اپنی گاڑی میں بے ہوش ادینہ کو لے کر جا رہا تھا ۔۔۔۔وہ ایک ہاتھ سے ڈرائیونگ کر رہا تھا ۔۔۔۔دوسرے ہاتھ سے اسکو ہوش میں لانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔۔
ادینہ اٹھو پلیز ۔۔آنکھیں کھولو۔۔۔۔
صارم تو آنے والے وقت کا سوچ کر پریشان تھا۔۔۔۔ قیامت کی رات تھی۔۔۔۔۔
اس کو تو وہ رات ابھی تک بھولی نہیں تھی۔۔جب اس کی موم کی ڈیتھ ہو گئی تھی ۔۔۔ اور کئی کئی دن تک وہ بے ہوش رہتا تھا ۔۔۔ بے خودی کے عالم میں اپنی موم کو پکارتا ۔۔۔۔ چیختا۔۔۔۔ چلاتا۔۔۔۔اور پھر اس کو سنبھالنا مشکل ہوتا۔۔۔۔۔
پھر تو ڈیڈ کی ڈیتھ اور بھائی کا جانا ۔۔۔۔۔۔
اس کو اندازہ تھا ادینہ کی تکلیف کا۔۔۔ وہ مرد تھا۔۔سمبھل گیا۔۔۔ لیکن ادینہ ٹہری ایک معصوم سی لڑکی ۔۔۔۔جو الریڈی اپنے باپ کو کھو چکی تھی ۔۔۔۔ سہارے کے نام پر ایک بھائی تھا جو نہ ہونے کے برابر تھا ۔۔۔۔۔
وہ لوگ ادینہ کے گھر پہنچے تو محلے والے سارے ایمبولینس کی آواز سن کر گھروں سے باہر نکل آئے تھے۔۔۔۔ اور میت کو اندر لے کر گئے تھے ۔۔۔ اس نے ادینہ کو زبردستی اٹھایا ۔۔۔۔ اور دو تین عورتوں کو اندر جاتے دیکھ کر روکا
تو وہ ادینہ کو سہارا دے کر اندر لے کر جانے لگے ۔۔۔۔ اس نے سائیڈ پر گاڑی پارک کی اور باہر نکل آیا۔۔۔۔
اسفند اس کے ساتھ کھڑا تھا۔۔۔
یار اس کو سنبھالنا مشکل ہو گا۔۔۔۔ صارم متفکر تھا۔۔۔۔
وہی میں سوچ رہا ہوں ۔۔۔ اسفند بھی پریشان تھا ۔۔۔۔۔۔
یہ لو موبائل ۔۔۔۔ اپنی بھابھی کو کال کر کے بلا لو وہ سمبھال لے گی۔۔۔صارم نے اسفند کو اپنا موبائل دے کر کہا۔۔۔۔ وہ خود بات کرنے کی کنڈیشن میں نہیں تھا ۔۔۔۔۔
اسفند نے کال کی۔۔۔۔۔ بھابھی کو جلدی آنے کا کہہ کر کال بند کیا۔۔۔۔۔
موبائل اس نے صارم کو دینے کے بجائے اپنے پاس رکھا۔۔۔ وہاں کچھ لوگوں نے صارم کو پہچانا۔۔۔۔ اس لئے گھر سے چارپائی لےآئیں۔۔۔۔
سب ان کو وہاں دیکھ کر حیران تھے۔۔۔۔کہ اتنا بڑا آدمی یہاں ایسے بکھرے حلیے میں کیا کر رہا ہے ۔۔۔ لیکن کسی کی ہمت نہیں تھی پوچھنے کی۔۔۔۔۔
وہ میری وجہ سے الریڈی اتنی سٹریس تھی۔۔۔۔ اوپر سے اتنا بڑا صدمہ ۔۔ ۔۔وہ ٹوٹ جائے گی اسفند ۔۔۔۔۔ کاش میں اس کے پاس جا سکتا۔۔۔۔ کاش اس کو اپنا کندھا رونے کے لئے دے سکتا تھا۔۔۔ اس کا دکھ بانٹ سکتا تھا۔۔۔۔ اسفند تمہیں پتہ ہے جب میں پہلی دفعہ ادینہ کی امی سے ملا تھا۔۔۔۔ مجھے اس کے وجود سے موم جیسی خوشبو آتی تھی۔۔۔۔ اس کا لمس مجھے سکون دیتا تھا۔۔۔۔ میں نے آج پھر سے ایک مہربان اور شفیق ماں کو کھو دیا۔۔۔۔
پہلے موم پھر ڈیڈ پھر بھائی اب ادینہ کی موم۔۔۔۔ جو بھی انسان میرے دل میں بس جائے میں اسے کھو دیتا ہوں۔۔۔۔ اس لئے میں ادینہ سے فاصلے بڑھاتا چلا گیا ۔۔۔۔ میں اسے بھی کھونے سے ڈرتا تھا ۔۔۔۔ صرف میرے ساتھ یہ کیوں ہوتا ہے۔۔۔۔صارم کھوئے کھوئے انداز میں بولا جا رہا تھا غم کی شدت سے اس کی آنکھیں سرخ تھی۔۔۔۔۔
اسفند نے کچھ نہیں بولا۔۔۔۔ اس نے صارم کو بولنے دیا۔۔۔۔ درد کا غبارہ جو اسکے اندر پھول رہا تھا پٹ گیا تھا۔۔۔۔
اگر تمہاری یہی کنڈیشن ہوگی تو ادینہ کو ہم کبھی بھی نارمل زندگی کی طرف نہیں لا سکتے۔۔۔ جس ٹرامہ سے وہ گزر رہی ہے ۔۔۔۔ اس سے تم گزرے ہو۔۔۔۔ تمہیں خود کو سنبھالنا ہوگا تبھی ادینہ کا حوصلہ بنو گے۔۔۔۔ اسفند اس کی ہمت باندھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
اس نے ارسلان کو بھی کال کیا تھا ۔۔۔ وہ آن ڈیوٹی تھا۔۔۔۔ آف کر کے ڈائریکٹ یہاں آگیا۔۔۔
یونیفارم میں تھا۔۔۔۔۔
وہ بھی صارم کے ساتھ ہی چارپائی پر بیٹھ گیا گھر کے سامنے ۔۔۔۔ اسفند یہ سب کیسے ہوگیا۔۔ اسفند نے پوری بات بتا دی۔۔۔۔ ارسلان کو بھی کافی افسوس ہوا۔۔۔۔
اس نے صارم کی طرف دیکھا ۔۔۔۔ بکھرا حلیہ۔۔سرخ آنکھیں۔۔۔ نائٹ ڈریس میں ملبوس۔۔۔ چپل پہنے ۔۔۔۔ وہ کہی سے بھی اس کا دوست نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔ایک نڈر اور جانباز پولیس آفیسر۔۔۔ وہ کیوں اتنا بے حال ہورہا ہے۔۔؟؟
ایک دم اسے کچھ گڑ بڑ محسوس ہوئی۔۔۔۔ وہ اسفند کی طرف دیکھ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ سچ جاننے کے لیے ۔۔۔۔ تو اسفند نے اس کے آنکھوں میں کئی سوال پڑھے۔۔۔ اوراس کے جواب دینے کے لیے اس نے صرف ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔۔
افسسسسسس۔۔۔ارسلان کو جواب مل گیا تھا۔۔۔۔ وہ نڈھال سا واپس صارم کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
اپنے باپ اور بھائی کو کھونے کے بعد صارم نے جینا چھوڑ دیا تھا ۔۔۔ اسفند اور ارسلان نے اپنے دوست کو واپس نارمل زندگی کی طرف لانے کے لیے کتنے جتن کئے تھے ۔۔۔۔ کتنی دعائیں کی تھی۔۔۔۔ تبھی سالوں بعد وہ نارمل انسان بن گیا تھا ۔۔ اور اب اسکی یہ بکھری حالت ارسلان کو تشویش میں مبتلا کر گئی ۔۔۔۔ وہ اپنے دوست کو دربارہ کھونا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔۔
مسز فاروقی آگئیں تھیں ۔۔۔بھابھی ۔۔ ادینہ کافی شاکڈ ہے۔۔۔ بار بار بے ہوش ہو رہی ہے ۔۔۔۔ آپ پلیز سمبھال لیجئے گا۔۔۔۔ اسفند نے ہارے ہوئے لہجے میں کہا ۔۔۔۔۔
میں سمبھال لوں گی۔۔۔ مسز فاروقی نے کہا اور اندر کی طرف قدم بڑھا دیئے ۔۔۔ سامنے ہی ادینہ بے سدھ بیٹھی تھی ۔۔۔ آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے ۔۔۔ ملیحہ اس کے پاس بیٹھی تھی ۔۔۔۔ اپنی دوست کی یہ خالت دیکھ کر اس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔۔مسز فاروقی اس کے پاس جاکر بیٹھ گئی ۔۔۔۔اور اسے خود سے لگایا ۔۔۔۔
سہارا ملنے پر ادینہ اس سے لپٹ کر اور زیادہ رونے لگی۔۔ ۔۔
اس کی ماں کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ وہ سکون کی نیند سو رہی ہے ۔۔ روشن چہرہ ۔۔ مسز فاروقی کے آنکھوں سے خود بخود آنسو گرنے لگے۔۔۔۔اس احساس کے ساتھ کہ ادینہ نے آج کچھ بہت خاص بہت قیمتی کھویا تھا۔۔۔۔
اس کی بھابھی بھی واپس آگئی تھی اور ایک کھونے میں بیٹھی رو رہی تھی ۔۔ دوسری طرف اس کی خالا رو رہی تھی ۔۔۔۔
مرد حضرات میت لے کر جانے لگے تو ادینہ کی دلخراش چیخیں سب کا دل چیر رہی تھی ۔۔۔۔ مسز فاروقی نے اسے خود سے لگایا تھا ۔۔ اس نے محسوس کیا کہ وہ بے ہوش ہو گئی ہے۔۔۔۔
تو اس نے ادینہ کو چارپائی پر لٹایا۔۔ اس کی پوری کائنات اس کی ماں، اس کی دوست ،اس کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلی گئی تھی ۔۔۔۔۔
ادینہ کی ماں منوں مٹی تلے دفنا دیا گیا تھا۔۔۔۔
صارم نے اسفند سے کہہ کر ڈاکٹر کو کال کی۔۔۔ کہ ادینہ کو نیند کا انجکشن لگا دے۔۔ تا کہ کچھ دیر تو آرام سے سو سکے۔۔۔۔
ادینہ کو انجکشن لگا دیا گیا تھا ۔۔ وہ سو رہی تھی ۔ملیحہ اس کے پاس تھی اسکا خیال رکھ رہی تھی اور اس کی بھابھی بھی اس کے لیے کافی فکر مند تھی۔۔۔۔تو مسز فاروقی نے صارم سے گھر جانے کی پرمیشن لے لی۔۔۔ بچے رات سے اکیلے تھے۔۔۔ مسز فاروقی نے ملازمہ کو اس کے ساتھ بٹھایا تھا۔۔۔۔۔
وہ چلی گئی ۔۔۔۔ اسفند نے صارم کو بھی زبردستی گھر بھیج دیا۔۔۔۔
***********
مرنے والوں کے ساتھ کوئی مرتا نہیں ہے ۔۔۔
ادینہ کو بھی صبر آنے لگا تھا۔۔۔۔ آج پندرھواں دن تھا اس کی ماں کو گئے ہوئے۔۔۔۔ مسز فاروقی آتی تھی ملنے۔۔۔۔ صارم، ارسلان اور اسفند کال کرکے خیریت پوچھ لیتے تھے ۔۔۔۔۔
اس کی بھابھی بھی اس کا خیال رکھنے لگی تھی ۔۔۔۔ وہ آہستہ آہستہ نارمل روٹین کی طرف آنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔
صارم ڈیوٹی پر ہوتا تھا۔۔۔لیکن ڈیلی کال کرتا۔۔۔
صارم نے اسے جاب پہ آنے سے منع کیا تھا ۔۔۔ انہوں نے دوسری ٹیوٹر رکھ لی تھی ۔۔۔۔
ادینہ کا بھائی بھی نہیں آیا تھا ۔۔۔۔ اس کا پاسپورٹ ایکسپائر ہو گیا تھا ۔۔۔۔ اگر اس پاسپورٹ کے ساتھ آتا تو پکڑا جاتا ۔۔ اس لئے نہیں آیا۔۔۔۔اب وہ کوشش کر رہا تھا آنے کے لیے ۔۔۔۔ لیکن ادینہ کو اب کسی کے آنے یا جانے سے کوئی فرق نہیں پڑ رہاتھا۔۔۔۔
اسفند نےاس کی پوری زمہ داری اپنے سر لی تھی۔۔۔ وہ آتا جاتا تھا اس سے ملنے۔۔۔۔اس کی بھابھی کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔۔۔۔ اگر ہوتا بھی تو اسفند کون سا کسی کا سننے یا لحاظ کرنے والا تھا ۔۔۔ اس نے ایک بھائی کا فرض بخوبی نبھایا تھا ۔۔۔۔
************
وقت اپنی رفتار سے تیز گزرنے لگا۔۔۔ساتھ ساتھ ادینہ بھی سمبھل گئی۔۔۔ صبح فجر کی نماز پڑھ کر وہ باہر رکھی گئی لکڑی کے تخت پر آکر بیٹھ گئی ۔۔۔۔ اب یہ اس کے روزمرہ کا معمول تھا ۔۔اس کی امی کی فیورٹ جگہ تھی ۔۔۔۔
تمہارے لئے ناشتہ بنا دوں۔۔۔بھابھی نے اس کو خیالوں میں گم دیکھ کر پوچھا۔۔۔ اب وہ اپنے گھر میں ہی ہوتی تھی۔۔۔۔
ہاں بھابھی۔۔۔ میں ہیلف کرتی ہوں آپ کی ۔۔وہ اٹھ کر اس کے ساتھ جانے لگی۔ کہ موبائل رنگ ہوا۔۔۔
چلو تم جاؤ دیکھو کون ہے۔۔۔ میں ناشتہ تیار کر لوں گی۔۔۔۔
وہ اندر آگئی۔۔۔تو موبائل پر سفیان کالنگ جگمگا رہا تھا ۔۔۔۔یہ تو امی کی ڈیتھ پر بھی نہیں تھا۔۔ پہلے تو ارادہ کال ڈسکنکٹ کرنے کا تھا۔۔۔لیکن پھر کچھ سوچ کر کال پک کر لی۔۔۔۔
سلام دعا کے بعد ادینہ نے کال کرنے کی وجہ پوچھی۔۔۔۔ تو وہ اصلی مدعے پر ایا۔۔۔۔۔
خالا کی ڈیتھ کا پتہ چلا بہت دکھ ہوا۔۔۔میں کسی کام سے دوسرے شہر گیا تھا ۔۔کل ہی واپس آیا ہوں ۔۔۔۔ سوچا تعزیت کردوں۔۔۔
اللّٰہ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔۔۔۔
آمین ۔۔۔ ادینہ نے آنسو پیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
وہ میں نے سوچا تمہیں باہر لنچ کروانے لے چلو۔۔۔ اور کچھ ضروری باتیں بھی ڈسکس کرنی ہے تم سے۔۔۔ تھوڑی آؤٹنگ بھی ہوجائے گی۔۔۔۔
ادینہ انکار کرنے والی تھی مگر اسے بھی تو سفیان سے شادی والی بات کلیر کرنی تھی۔ ۔۔۔
اس نے ہامی بھرلی۔۔۔ آپ ایڈریس سینڈ کر دے میں پہنچ جاؤںگی۔۔۔
سفیان نے ایک ریسٹورنٹ کا لوکیشن اسے سینڈ کردیا۔۔۔۔
وہ نیچے آئی تو بھابھی ناشتے پر اس کا ویٹ کر رہی تھی ۔۔۔۔ اس کے ساتھ بیٹھ کر ادینہ نے اس کو سفیان کے پلاننگ کے بارے میں بتایا کہ وہ ملنا چاہتا ہے۔۔۔۔
تم پاگل ہو کیا ادینہ۔۔۔تم اس سے کیسے اکیلے میں مل سکتی ہو۔۔۔ وہ آوارہ لفنگا۔۔ اور تم خود بھی تو اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی نہ۔۔۔۔ مجھے اس انسان پر رتی برابر بھروسہ بھی نہیں ہے۔۔۔۔ اس کی بھابھی نے بپھرے لہجے میں کہا ۔۔۔۔
بھابھی وہی بات کرنے کے لیے تو میں ملنا چاہتی ہوں۔۔۔۔ گر اس نے کوئی خوش فہمی پال رکھی ہوں تو اس کو ختم کرے ۔۔۔ اور اس نے کسی ہوٹل میں نہیں بلایا ورنہ میں نہیں جاتی۔۔۔ ایک اوپن ریسٹورنٹ ہے۔۔ ادینہ نے وضاحت کی ۔۔۔۔۔
ہاں ٹھیک ہے ۔۔۔ مگر اپنے اس بھائی کو ساتھ لے جانا۔۔۔وہ پولیس والا۔۔۔ بھابھی نے رضامندی ظاہر کی ۔۔۔ لیکن پھر بھی مطمئن نہیں تھی۔۔۔۔
بھابھی اسفند بھائی پولیس والا نہیں ہے ۔۔۔۔ ایک سیکرٹ ایجنٹ ہے ۔۔۔۔ ادینہ نے تصحیح کی ۔۔۔۔
ہاں جو بھی ہو۔۔۔۔
نہیں بھابھی اگر ان کو سفیان کے کالے کرتوتوں کی بھنک بھی لگ گئی تو وہ اس کو چھوڑے گا نہیں ۔۔۔ اور پھر خالا کا کیا ہوگا۔۔۔
ادینہ نے اسفند کو انولو کرنے سے انکار کردیا ۔۔۔
ٹھیک ہے لیکن احتیاط سے جانا۔۔۔۔
اوکے بھابھی ڈونٹ وری ۔۔۔ادینہ نے اس کو مطمئن کردی۔۔۔۔۔
**”””””””””””””””********”””””””””””
