Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282 Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 2)

68.3K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 2)

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan

ہاں اسفند بولو۔۔۔۔ روم میں آ کر کال پک کرکے صارم نے موبائل کان سے لگایا ۔۔۔۔جہاں اس کا چہرہ اب پر سکون تھا ۔۔۔۔ دوسری طرف اسفند جو کہ اسکے بچپن کا دوست تھا۔۔۔۔ بلکہ دوست کم بھائی زیادہ تھا۔۔۔۔اس کی آواز سن کر نان سٹاپ بولنے لگا۔۔۔اسفند ایک بہت قابل سیکرٹ ایجنٹ تھا۔۔۔۔۔

کہاں تھا تو ہاں۔۔۔ کب سے کال کر رہا ہوں۔۔۔۔ اٹھا کیوں نہیں رہا۔۔ بس ایک تم ہی ہو زمانے بھر کے بزی انسان۔۔۔۔ باقی ہم تو فارغ بیٹھ کر چنے کھاتے ہیں نہ۔۔۔

ایک خوشگوار قہقہہ کے ساتھ ہی صارم فاروقی بولا۔۔۔ یار بچوں والا ہوں نہ۔۔۔ تمہاری طرح کوئی شدید سنگل تھوڑی نہ ہوں۔۔ م۔۔غصہ تھوڑا کم کیا کرو اپنے غصے میں جل جل کر کالے ہو جاؤگے ۔۔۔۔پھر ہر لڑکی ریجیکٹ کرے گی۔۔۔بولو کس لئے کال کی ہے۔۔۔۔

اتنے دن ہوگئے لیکن تمھیں فرصت ہی نہیں ۔۔ کہ ہم سے ملو۔۔۔ گپ شپ لگاؤ ۔۔ اب پرائم منسٹر تو بننے سے رہےکہ غریب دوستوں کو بھول گئے۔۔۔۔دس منٹ کے اندر یہاں پہنچو اور بھابھی کو مطلع کردو۔۔۔۔ کہ ڈنر پر تمہارا ویٹ نہ کرے۔ ہم نے باہر ڈنر پلان کیا ہے۔۔۔ ارسلان کا بھی نائٹ کو آف ہے۔ وہ بھی آرہا ہے ۔۔۔ارسلان بھی انکا دوست تھا ۔ جو ائیر فورس میں تھا۔۔۔۔اسفند نے اسے ایک ہی سانس میں پورے پروگرام سے آگاہ کیا۔۔۔۔

اچھا جی ۔۔۔ اور کوئی حکم ! صارم نے بڑے پیار سے پوچھا ۔۔۔۔ ان کا یہ سوفٹ انداز صرف فیملی اور فرینڈز کے لئے تھا۔۔۔ باقی سب کے لئے وہ ایک سنجیدہ اور سٹرکٹ آفیسر تھا۔۔۔

نہیں ۔ بس ٹائم پر پہنچ جانا۔۔۔۔ اللّٰہ حافظ ۔۔۔۔اسفند نے کہہ کر کال کاٹ دی۔۔۔۔

********

ڈرائیور نے اس کو گھر کے سامنے اتار دیا۔۔۔۔ وہ لاک کھول کر اندر داخل ہوئی۔۔۔۔ اور ماں کو بے چینی سے انتظار کرتے پایا۔۔۔ وہ خوشی سے ماں سے لپٹ گئی اور جاب پکی ہونے کی خوشخبری دی ۔۔۔ ماں نے اللّٰہ کا شکر ادا کیا۔۔۔ باتیں کرتے کرتے دونوں ماں بیٹی اندر کی جانب بڑھنے لگے۔۔۔

وہ وہاں کی پوری روداد اپنی امی کو بتانے لگی۔۔۔ عبایہ اتار کر فریش ہونے کے لئے چلی گئی ۔۔۔۔وضو کیا۔ نماز پڑھی تو نیچے سے باتوں کی آوازیں آنے لگی ۔۔۔۔ اسی طرح نماز کے اسٹائل میں دوپٹہ اوڑھے باہر آئی۔۔۔ تو اس کی خالہ کا بیٹھا سفیان جو کہ اس کا منگیتر بھی تھا امی کے ساتھ بیٹھا بہت اونچا بول رہا تھا۔۔۔۔ اس نے سلام کیا اور سامنے کرسی پر بیٹھ گئی۔ ۔۔۔۔

یہ تمہاری کہاں پہ اتنی جلدی اچھی جاب لگ گئی کہ گاڑی بھی بمعہ ڈرائیور ملی۔ سفیان نے اپنی ازلی شکی لہجے میں پوچھا ۔۔۔

اللّٰہ کا شکر ہے کہ ایک اچھے گھرانے میں جاب لگ گئی۔ بے فکر ہوجاؤ تم۔۔

ادینہ نے اطمینان سے جواب دیا۔۔۔۔

خالا کیسے بے فکر ہو جاؤں۔۔ بتا رہا ہوں آپ کو اگلے ہفتے امی کو بھیجتی ہوں۔۔۔۔ شادی کی ڈیٹ فائنل کروانے ۔۔ مجھے نہیں پسند اس طرح ایرے غیرے لوگوں کے ہاں اس کا جاب کرنا۔ پتہ نہیں کیسے لوگ ہونگے ۔۔۔ شادی ہو جائے تو آرام سے گھر میں بیٹھ جائیں گی۔۔۔۔ سفیان یہ بول کر رکا نہیں چلا گیا۔۔۔۔

ادھر ادینہ کی حالت ایسی تھی جیسے زہریلے سانپ نے ڈسا ہوں۔۔۔ اڑھی ہوئی زرد رنگت ، کپکپاتے سفید لب ۔۔۔۔کافی دیر بعد بولی تو آواز ایسی تھی جیسے گہرے کھائی سے آرہی ہو۔۔۔۔ امی میں پہلے ہی آپ کو بتا چکی ہوں ۔۔میں سفیان سے ہر گز شادی نہیں کروں گی ۔۔۔۔ آوارہ لڑکوں کے ساتھ اس کا اٹھنا بیٹھنا ہے ۔۔۔ کافی اللیگل کاموں میں بھی ملوث ہے ۔۔۔ آتے جاتے ہر لڑکی پر غلیظ نگاہ ڈالتا ہے ۔۔۔۔ اور آج کل تو ہر جگہ یہ افواہیں گردش کر رہی ہے۔۔۔کہ لڑکیوں کو سمگلنگ کرنے والے گروہ کے ساتھ بھی ان کا نام لیا جاتا ہے ۔۔

پتہ ہے بیٹا مگر بچپن سے نسبت طے ہے تم دونوں کا۔۔۔۔ اب انکار کرینگے تو خاندان اور محلے والے ہزار باتیں بنائیں گے ۔۔اس کی امی نے آرزدگی سے کہا۔۔۔۔

بنانے دے باتیں امی۔۔۔۔ لوگوں کی باتوں کے خوف سے میں ایک ایسے انسان سے شادی تو نہیں کر سکتی۔۔۔ جو عورت ذات کی رسپکٹ کرنا ہی نہ جانتا ہو۔۔۔۔ ساری زندگی گھٹ گھٹ کر جینے سے بہتر ہے کہ میں سفیان سے ہی کیا بلکہ کسی سے بھی شادی نہ کرو۔۔۔ادینہ شکست خوردہ لہجے میں کہہ کر سکینہ بیگم کو سکتے میں چھوڑ کر اندر کمرے میں چلی گئی

•••••••••••••••••

وہ تینوں اس وقت اسلام آباد کے ایک بڑے ہوٹل سرینہ میں دوستانہ ماحول میں ڈنر کر رہے تھے۔ اور ساتھ ساتھ مختلف امور پر بھی تبادلہ خیال کر رہے تھے ۔۔۔۔۔

اسفند سنگل لائف بہت انجوئے کر لیا۔۔۔ اب تمہارے اوپر ذمہ داریوں کا بوجھ ڈالنے کا وقت آچکا ہے۔۔۔اب ارسلان کے ساتھ ساتھ تمہارے ہاتھ بھی پیلے کرنے کا ٹائم ہے۔۔۔ کوئی لڑکی دیکھ رکھی ہے کہ نہیں یہ شب کام بھی ہم اپنے بابرکت ہاتھوں سے سر انجام دے ۔۔۔ ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے صارم نے سنجیدگی سے پوچھا ۔۔۔۔۔

ارے یار کہاں۔۔۔ ابھی تک کوئی ایسی لڑکی ہی نہیں ملی جو سیدھا آنکھوں کے راستے دل میں سما جائے۔۔۔۔پھر چٹ منگنی پٹ بیاہ۔۔۔ اسفند نے آنکھ دبا کر شرارت سے گویا ہوئے۔۔۔۔۔

ارسلان جو کافی دیر سے دونوں کی نوک جھوک خاموشی سے سن رہا تھا۔ دونوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ۔۔۔

لسن گائز۔۔ایک گڈ نیوز ہے۔۔۔۔اسفند کا تو نہیں پتہ کب کسی حسینہ کے چنگل میں پھنس جائیں ۔۔۔البتہ گھر والوں نے مجھ معصوم کو ساری عمر قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔۔آئی مین میری شادی کی ڈیٹ فائنل ہو گئی ہےن۔۔ان شاءاللہ نیکسٹ منتھ کی 20 تاریخ کو آپ کے بھائی کے سر پر بھی سہرا سجے گا۔۔ارسلان نے مصنوعی آہ بھر کر کہا۔۔

کمینے یہ آہیں کیوں بھر رہے ہو۔۔۔۔ہم جانتے ہیں تمہیں دل میں لڈو پھوٹ رہے ہیں ۔۔تمہیں بہت جلدی تھی نہ بیوی کے ہاتھوں خوار ہونے کی۔۔ اب بھگتو ۔۔۔۔اسفند نے زور کا مکہ اسے رسید کیا۔۔۔

یار لگ گئی ۔۔۔۔ ہاتھ ہے یا ہتھوڑا ۔۔۔۔ ارسلان نے کندے کو سہلاتے ہوئے خفگی سے کہا۔۔۔۔

ابے یاررررر۔۔۔۔ اوپر آسمانوں میں اڑان بھرتے ہو تم ۔۔۔ اتنے سے مکے پر پھیل گئے ہو۔۔۔اسفند اس بار بھی باز نہ آیا ۔۔۔

تم اپنی بک بک بند کرو تھوڑی دیر کے لئے ۔صارم نے اسفند کو ٹھوکا ۔۔ جو برے برے منہ بناتا ہوا چپ ہوگیا۔۔

ان تینوں میں صارم حد سے زیادہ سنجیدہ سا انسان تھا۔۔۔سلجھا ہوا۔۔۔ کم گو۔۔۔۔

اور ارسلان سے مخاطب ہوکر کہا تم چھٹی کے لئے پہلے سے ایپلیکیشن لکھ کر دو ۔۔۔۔ایکسیپٹ ہو نے میں پھر ٹائم لگتا ہے ۔۔لاسٹ ٹائم کوئی ایشو کرییٹ نہ ہو۔۔۔۔

ہاں بس اب یہی کرنے والا تھا۔۔۔اور تم لوگوں کے ساتھ مل کر شادی کی شاپنگ وغیرہ کرنے کا بھی ارادہ ہے ۔۔۔۔ تم لوگ ٹائم نکالو کسی دن چلتے ہیں۔۔۔۔ارسلان نے دونوں کو دیکھ کر کہا۔۔

بھئی ہمارے پاس تو فرصت ہی فرصت ہے۔۔۔۔

میرے یار کی شادی ہے۔۔۔ اسفند کنگنانے لگا۔۔۔

اپنی زہریلی آواز کا جادو یہاں نہ چلاؤ۔ ارسلان نے اسے ٹھوکا۔۔

اسے زہریلا نہیں سریلا آواز کہتے ہیں ۔۔اسنفند نے ڈھٹائی کی انتہا کردی ۔۔۔اور ہاں ہم نے

اپنے لیے بھی کافی شاپنگ واپنگ کرنی ہے۔۔۔

ہمیں بھی خوبصورت دکھنا ہے۔۔۔ شائد کسی حسینہ کا دل آجائیں ہم غریبوں پر بھی ۔۔

۔ کن آکھیوں سے صارم کی طرف دیکھ کر کہا ۔۔۔

صارم کو اسفند کی ذومعنی بات کی سمجھ آگئی ۔ع۔۔مصنوعی غصے سے اس کی طرف دیکھ کر کندھے اچکائے۔۔۔مطلب کچھ بھی ۔۔۔۔ اور بات کا رخ دوسری طرف موڑا اور ارسلان کے ساتھ محو گفتگو ہوگیا۔۔ اسفند نے اپنی بات کے اگنور ہونے پر دانت پیسے ۔۔۔۔ کہ اس بندے کا کچھ نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔

•••••••••••••••••••••••••••

وہ رات کو دیر سے گھر پہنچا۔۔۔۔تو پورا گھر تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ اپنے لئے کافی بنانے کے لیے کچن کا رخ کیا۔۔۔۔کافی بناتے ہوئے اچانک اس کا ذہن ادینہ کی طرف چلا گیا ۔۔۔۔کچھ تو خاص تھا اس لڑکی میں جو وہ پورا دن اسے ہی سوچے جارہا تھا ۔۔۔ وہ اسے اتنا زیادہ کیوں سوچنے لگا۔ کیوں۔۔ یہ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔

کافی بنا کر اپنے روم میں جانے سے پہلے ایک نظر بچوں کے روم میں جاکر چیک کیا تو سب سو رہے تھے ۔۔۔۔اور مسز فاروقی حورم کو اپنے ساتھ لپٹ کر سو رہی تھی ۔۔۔۔ اس نے آہستہ سے دروازہ بند کیا۔ اور اپنے روم میں آ گئے ۔۔۔۔

فلحال وہ ٹینشن فری ہو کر سونا چاھتا تھا۔۔۔۔ اس لیے نائٹ ڈریس پہن کر بیڈ پر آکر سونے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔۔

*********

گاڑی کا ہارن سنتے ہی اس نے جلدی سے گھڑی کی طرف دیکھا تو دو بجکر بیس منٹ کا وقت تھا۔۔۔۔ اس کو تین بجے تک پہنچنا تھا ۔۔۔ مطلب گاڑی اب روزانہ اسی ٹائم پر پک کرے گی۔۔۔۔

پرس اٹھا کر امی کو خداخافظ کہہ کر گھر سے نکل گئی۔۔۔ گاڑی میں بیٹھ گئی تو کل سفیان کی کہی گئی کھڑوی باتیں پھر سے اسے یاد آگئی۔۔۔۔۔ دل میں عجیب سے وسوسے آرہے تھے۔۔۔۔ اور یہی سوچ سوچ کر دماغ ماؤف ہو رہا تھا کہ اگر وہ انکار کر بھی دے تب بھی سفیان خاموش رہنے والوں میں سے نہیں تھا۔۔۔۔ طوفان کھڑا کر دیتا۔۔۔مگر اس کا فیصلہ اٹل اور مستحکم تھا۔۔۔۔چاہے کچھ بھی ہو جائیں وہ سفیان سے شادی کسی قیمت پر نہیں کرےگی۔۔۔۔

فاروقی مینشن میں پہنچ کر اس نے دیکھا کہ بچے اپنے بیگ سمیت پہلے سے موجود تھے۔۔۔۔ سلام بچوں نے کیا۔۔۔۔بچوں کی ہوم ورک کی ڈائری چیک کرکے بچوں کو پڑھانا شروع کیا۔۔۔۔ ارمغان بہت زیادہ ذہین بچہ تھا۔۔۔۔ کچھ ٹائم کے بعد ہی اسکو رئیلائز ہوگیا تھا۔۔۔۔

بس ایک دفعہ سمجھانے پر سمجھ لیتا تھا۔۔۔ زارش کو تھوڑی سی زیادہ توجہ کی ضرورت تھی۔۔۔۔ڈھائی گھنٹے کا وقت تھا ٹیوشن کا۔۔۔۔ اس نے ٹائم کو بہت اچھے سے مینیج کرکے تینوں بچوں کو پورا ہوم ورک کروایا۔۔۔۔درمیان میں دو دفعہ ملازمہ چائے کے ساتھ دوسری لوازمات لے کر آئی لیکن اس نے منع کردیا۔۔۔ کہ وہ صرف ایک کپ چائے ہی پیتی ہے اس وقت۔۔۔ ساڑھے پانچ بجے تک سارا ہوم ورک کمپلیٹ ہوچکا تھا۔۔۔ مسسز فاروقی سے اجازت لے کر جانے لگی۔۔۔۔ پورچ میں گاڑی کے ساتھ ڈرائیور اس کا ویٹ کر رہا تھا۔۔۔ وہ گاڑی میں بیٹھنے ہی والی تھی کہ گارڈ نے جلدی سے مین گیٹ کھولا اور صارم کی سپورٹس بائیک اندر داخل ہوئی۔۔اور اس کے قریب آکر ہی اس نے جھٹکے سے بریک لگائی ۔۔۔ بائیک سے اتر کر چابی گارڈ کی طرف پھینک دی اور خود آگے بڑھنے لگا کہ اچانک ادینہ کے پاس رک گیا جو کب سے اس پر نگاہیں جمائے ساکت کھڑی تھی ۔۔۔آگے کے بال بائیک چلانے کی وجہ سے ماتھےپر بکھرے اسے پرکشش بنا رہے تھے ۔۔۔اسے اپنی طرف اس طرح سٹیٹیو بن کر دیکھنے پر صارم نے ہلکا سا گلہ کھنکھارا تو ادینہ نے جلدی سے نظروں کا زاویہ تبدیل کرکے سلام کیا اور گاڑی میں بیٹھ گئی ۔۔۔ ڈرائیور نے دروازہ بند کر دیا اور گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کی۔۔۔

گاڑی گیٹ سے باہر نکلی۔۔۔ تو صارم نے کندھے اچکا کر اندر کی طرف قدم بڑھا دیئے ۔۔۔۔ ہال میں انٹر ہوئے تو بچے بیگز بند کرکے بیٹھے تھے ۔۔۔۔سلام کے بعد بچوں کے پاس بیٹھ گئے۔۔۔ عادت کے مطابق حورم اس کی گود میں چڑھ کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔ اسکو ماتھے پر کس کرکے بچوں سے ہوم ورک اور نیو ٹیچر کے بارے میں پوچا۔۔۔۔تو ارمغان نے اپنی نوٹ بکس بھی دکھا دی ساتھ میں جو کچھ یاد کیا تھا وہ زبانی سنا دیا۔۔۔۔اور اسی طرح زارش نے بھی ۔۔۔۔اور ٹیچر کی تعریف کے پل باندھنے شروع کر دیئے ۔۔۔۔کہ بہت ہارڈ ورکنگ ہے۔۔۔۔ پولائٹلی ایک ایک چیز بار بار ایکسپلین کر رہی تھی ۔۔ ویری گڈ ۔۔۔ بس ٹیچر کو زیادہ تنگ نہیں کرنا صارم نے سب کو باری باری ہگ کرے پیارسے ایڈوائس کی۔۔۔۔

ہم کسی کو بھی تنگ نہیں کرتے کیونکہ ہم اپنے دیڈا کے اچھے بچے ہیں ۔۔۔تینوں بچوں نے یک زبان ہو کر بتایا۔ تو صارم کے اندر چھناک سے کچھ ٹوٹا۔۔۔۔چہرے پر کرب کے کیفیت چھانے لگی۔۔۔اذیت سے آنکھیں میچی ۔۔اس نے بچوں کو مزید خود میں بھینچا اور جلدی اٹھ کر اپنے روم میں آ کر لمبے لمبے سانس لے کر خود کو ریلیکس کرنے کی کوشش کی ۔۔سائیڈ ٹیبل پر رکھے گئے فوٹو فریم کو اٹھایا ۔ ہاتھ پھیرا اور اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔۔ ایک آنسو آنکھ سے چھلک کر قالین میں جذب ہوگیا۔۔۔۔

میں صارم فاروقی ہوں بقول ڈیڈ کی ایک آئرن مین ۔۔۔ میں کمزور نہیں پڑ سکتا۔۔۔ میرے اوپر بہت ساری ذمہ داریاں ہیں ۔۔اس کو پورا کرنا ہے۔۔۔۔اگر ہمت ہارتا گیا تو ہمارے گھر اور بچوں کا کیا ہوگا۔۔۔ میں نے بچوں کے لیے خود کو مضبوط بنانا ہے ۔۔فریم کو واپس اپنی جگہ رکھ کر وہ فریش ہونے چلا گیا۔۔۔

************