Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282 Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 12)
No Download Link
Rate this Novel
Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 12)
Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan
صارم آپ کے گھر والے۔۔۔۔ ادینہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اپنے دل میں پلتے ہوئے خدشے کو زبان دے دی ۔۔۔۔
تم ایکسیپٹ کر لو گی نہ میرے بچوں کو۔۔۔صارم اس کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر پیار سے پوچھنے لگا ۔۔۔
مجھے تم سے وابستہ ہر انسان سے محبت ہے صارم ۔۔ مگر کیا وہ لوگ مجھے قبول کرلیں گے۔۔۔ ادینہ کو ایک انجانہ خوف لاحق تھا ۔۔۔
ادینہ میرے بچے اپنی نئی چھوٹی مما کو دیکھ کر بہت خوش ہوں گے ۔۔۔ تم بے فکر ہو جاؤ۔۔ وہ تمہارا گرینڈ ویلکم کرنے کی لئے بے تاب ہیں ۔۔۔
بس اب تم گھر جاو ۔۔ اپنی بھابھی کو اعتماد میں لے کر سب بتاو ۔۔ میں بہت جلد عزت اور دھوم دھام سے تمہیں رخصت کر کے اپنے ساتھ لےجاوں گا ۔۔
ادینہ اسے یک ٹھک دیکھ رہی تھی ۔۔ پھر جلدی نظریں جھکا لی۔۔۔ وہ ذیادہ دیر تک اس کی آنکھوں میں نہیں دیکھ سکتی تھی ۔۔۔۔یہی آنکھیں اس کی کمزوری تھی ۔۔۔۔
اب دل کھول کر دیکھ سکتی ہو ۔۔ اب تو پورے جملہ حقوق تمھارے نام مخفوظ کر چکا ہوں۔۔صارم شرارت سے بولا تو ادینہ جھینپ گئی۔۔۔
ملیحہ ارسلان اور اسفند اندر آگئے۔۔۔
ملیحہ ادینہ کے گلے لگی ۔۔۔ وہ بہت اکسائیڈ تھی اپنی فرینڈ کے لئے ۔۔۔ اسفند او ارسلان نے بھی ادینہ کو خود سے لگایا ۔۔ اور بیسٹ ویشز دی۔۔۔۔
اسفند تم ادینہ کو گھر چھوڑ آؤ ۔۔ صارم نے اسفند کو کہا۔۔۔۔
اوکے سرکار۔۔۔ چلو ادینہ اور اپنی فرینڈ کو بھی بول دو ۔۔۔
ارسلان اسفند ملیحہ سب سے پہلے باہر نکلے۔۔۔
اب روم میں صارم اور ادینہ رہ گئے ۔۔۔
صارم کے قدم ادینہ کی طرف بڑھنے لگے ۔۔۔ ادینہ کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔۔۔ صارم نے ادینہ کو ایک بار پھر گلے لگایا۔۔۔
اپنا خیال رکھنا ۔۔ اب تم میری امانت ہو۔۔ کوئی کوتاہی برداشت نہیں کروں گا ۔۔۔
ادینہ نے سر ہلا کر جواب دیا ۔۔۔وہ بلکل صارم کے قریب کھڑی تھی ۔۔ ویسے بھی اس کے سامنے ادینہ کی چلتی زبان کو تالا لگ جاتا۔۔۔
باہر اسفند گاڑی سٹارٹ کئے ویٹ کر رہا تھا۔۔ اور ملیحہ باہر گاڑی کے ساتھ کھڑی ارسلان سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی ۔۔ ارسلان کو تو اسفند سے پرانے حساب کتاب چکتا کرنے تھے ۔۔۔اب اس کی کمزوری ہاتھ لگی تھی ملیحہ کی صورت میں ۔۔ اور وہ اسفند کو خوب جلا جلا کر اسکا پورا فائدہ بھی اٹھا رہا تھا ۔۔۔۔ جبکہ اسفند ارسلان کو گھوریوں سے نواز رہا تھا۔۔۔
ادینہ صارم کے ساتھ اگئی ۔۔۔ صارم نے پیچھے کا دروازہ کھول کر ادینہ کو بیٹھنے کا کہا۔۔ وہ بیٹھ گئی ۔۔۔ تو ملیحہ سدا کی بے وقوف لڑکی صارم کے گلے لگی۔۔۔ ادینہ اسکی حرکت پر مسکرا دی۔۔۔۔
تھینکس صارم بھائی میری فرینڈ کو اس کی لائف کی سب سے بڑی خوشی دینے کے لئے ۔۔۔اس نے بہت ٹف لائف گزاری ہے ۔۔۔ بہت سے خواہشوں کا گلہ گھونٹا ہے۔۔۔ بہت سے رشتوں کو کھویا ہے ۔۔ ایک ہی سانس میں ملیحہ بول گئی۔۔۔
صارم نے ملیحہ کو خود سے الگ کیا تو جذبات کی شدت سے ملیحہ کے آنسو گر رہے تھے ۔۔۔ صارم نے اس کے آنسو انگلی کے پوروں سے صاف کئے ۔۔ میں دنیا کا سب سے خوش قسمت ہسبنڈ ہوں کہ مجھے تمہاری دوست جیسی پاکباز اور پیار کرنے والی بیوی ملی ۔۔۔ اور میں ساری زندگی اس کا یہ احسان نہیں چکا پاؤں گا۔۔۔ کہ اس نے مجھے میری تمام مجبوریوں سمیت قبول کیا ہے ۔۔۔۔۔
اور ساتھ میں اس نے مجھے اتنی پیاری بہن بھی دی نہ تو ایک اور احسان ۔۔۔ صارم نے ملیحہ کی ناک کو ہلکا سا دبایا ۔۔۔ اور اس کے لئے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا۔۔۔ تو وہ بیٹھ گئی ۔۔۔ اس سے پہلے اسفند نے اس کو فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے کی آفر کی تھی لیکن وہ جھٹ سے منع کر گئ ۔۔۔ صارم کو اپنے دوست کا پتہ تھا کہ وہ کیا چاہتا ہے ۔۔۔ اور پھر اسفند کو مخاطب کرکے کہا ۔۔۔اانوکھی محبت
از رمشا خان
قسط # 12
صارم آپ کے گھر والے۔۔۔۔ ادینہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔۔
تم ایکسیپٹ کر لو گی نہ میرے بچوں کو۔۔۔صارم اس کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر پیار سے پوچھنے لگا ۔۔۔
مجھے تم سے وابستہ ہر انسان سے محبت ہے صارم ۔۔ مگر کیا وہ لوگ مجھے قبول کرلیں گے۔۔۔ ادینہ کو ایک انجانہ خوف لاحق تھا۔۔
ادینہ میرے بچے اپنی نئی چھوٹی مما کو دیکھ کر بہت خوش ہوں گے۔۔۔ تم بے فکر ہو جاؤ۔۔ وہ تمہارا گرینڈ ویلکم کرنے کی لئے بے تاب ہیں۔۔۔
۔۔۔ بس اب تم گھر جاو۔۔ اپنی بھابھی کو اعتماد میں لے کر سب بتاو۔۔ میں بہت جلد عزت اور دھوم دھام سے تمہیں رخصت کر کے اپنے ساتھ لےجاوں گا۔۔
ادینہ اسے یک ٹھک دیکھ رہی تھی ۔۔ پھر جلدی نظریں جھکا لی۔۔۔وہ ذیادہ دیر تک اس کی آنکھوں میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔۔
اب دل کھول کر دیکھ سکتی ہو۔۔ اب تو پورے جملہ حقوق تمھارے نام مخفوظ کر چکا ہوں۔۔صارم شرارت سے بولا۔۔ادینہ جھینپ گئی۔۔۔
ملیحہ ارسلان اور اسفند اندر آگئے۔۔
ملیحہ ادینہ کے گلے لگی۔ ۔۔۔وہ بہت ایسکائیڈ تھی۔ اپنی فرینڈ کے لئے۔۔اسفند او ارسلان نے بھی ادینہ کو خود سے لگایا۔۔اور بیسٹ ویشز دی۔۔
اسفند ادینہ کو گھر چھوڑ آؤ ۔۔ صارم نے اسفند کو کہا۔۔
اوکے سرکار۔۔۔ چلو ادینہ اور اپنی فرینڈ کو بھی بول دو ۔۔
۔ارسلان اسفند ملیحہ سب سے پہلے باہر نکلے۔۔
اب روم میں صارم اور ادینہ رہ گئے ۔۔۔
صارم کے قدم ادینہ کی طرف بڑھنے لگی۔۔ادینہ کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔۔ صارم نے ادینہ کو ایک بار پھر گلے لگایا۔۔۔
اپنا خیال رکھنا ۔۔ اب تم میری امانت ہو۔۔ کوئی کوتاہی برداشت نہیں کروں گا ۔۔۔
ادینہ نے سر ہلا کر جواب دیا ۔۔۔وہ بلکل صارم کے قریب کھڑی تھی ۔۔ ویسے بھی اس کے سامنے ادینہ کی چلتی زبان کو تالا لگ جاتا۔
باہر اسفند گاڑی سٹارٹ کئے ویٹ کر رہا تھا۔۔ اور ملیحہ باہر گاڑی کے ساتھ کھڑی ارسلان سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی ۔۔ ارسلان کو تو اسفند سے پرانے حساب کتاب چکتا کرنے تھے ۔۔۔اس کی کمزوری ہاتھ لگی تھی ملیحہ کی صورت میں ۔۔ اور وہ اسکا پورا فائدہ بھی اٹھا رہا تھا اسفند کو خوب جلا جلا کر۔۔۔۔ اسفند ارسلان کو گھوریوں سے نواز رہا تھا۔۔
ادینہ صارم کے ساتھ اگئی۔۔صارم نے پیچھے کا دروازہ کھول کر ادینہ کو بیھٹنے کا کہا۔۔ وہ بیٹھ گئی۔۔تو ملیحہ سدا کی بے وقوف لڑکی صارم کے گلے لگی۔۔سب ہینگ ہوگئے اس کی اس حرکت پر۔۔ مگر ادینہ ہنس رہی تھی ۔۔۔
تھینکس صارم بھائی میری فرینڈ کو اس کی لائف کی سب سے بڑی خوشی دینے کے لئے ۔۔اس نے بہت ٹف لائف گزاری ہے۔ بہت سے خواہشوں کا گلہ گھونٹا ہے۔۔ بہت سے رشتوں کو کھویا ہے ۔۔ ایک ہی سانس میں ملیحہ بول گئی۔۔۔
صارم نے ملیحہ کو خود سے الگ کیا تو جذبات کی شدت سے ملیحہ کے آنسو گر رہے تھے ۔۔ صارم نے اس کے آنسو انگلی کے پوروں سے صاف کئے۔۔میں دنیا کا سب سے خوش قسمت ہسبنڈ ہوں کہ مجھے تمہاری دوست جیسی پاکباز اور پیار کرنے والی بیوی ملی۔۔ اور میں ساری زندگی اس کا یہ احسان نہیں چکا پاؤں گا۔ کہ اس نے مجھے میرے تمام مجبوریوں سمت قبول کیا ہے۔۔۔
اور ساتھ میں اس نے مجھے اتنی پیاری بہن بھی دی نہ تو ایک اور احسان۔۔۔صارم نے ملیحہ کی ناک کو ہلکا سا دبایا۔۔اور اس کے لئے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا۔۔۔تو وہ بیٹھ گئی ۔۔۔ اس سے پہلے اسفند نے اس کو فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے کی آفر کی تھی لیکن وہ جھٹ سے منع کر گئی۔۔ صارم کو اپنے دوست کا پتہ تھا کہ وہ کیا چاہتا ہے۔۔ اور پھر اسفند کو مخاطب کرکے کہا۔۔۔احتیاط سے چلانا۔۔
گاڑی گیٹ سے باہر نکلی تو ادینہ نے بے اختیار پیچھے مڑ کر صارم کو دیکھا ۔۔۔صارم بھی اسی کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رقص کرنے لگی۔۔۔ اور ہاتھ ہلایا۔۔۔
**********
اسفند آہستہ ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔ادینہ مائنڈ سیٹ کر رہی تھی کہ بھابھی کو اتنی بڑی بات کیسے بتائے گی۔۔ ابھی تھوڑی دور گئے کہ ملیحہ کو گول گپے نظر آئیں وہ جلدی میں اسفند کے ڈرائیونگ کرتے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر ایک دم چلائی ۔۔۔ گاڑی روک لو پلیز ۔۔۔ اس نے ایک دم بریک لگایا ۔۔۔ کیا ہوا۔۔
ہمیں گول گپے کھانے ہیں ۔۔۔ ملیحہ کہہ کر رکی نہیں تھی ۔۔ جلدی سے دروازہ کھول کر نکل گئی ۔۔۔ اور پیچھے سے ادینہ کو بھی سرعت میں باہر نکالا۔۔۔
اسفند نے افسوس سے سر ہلایا ۔۔۔ ان لڑکیوں کا کچھ نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔
وہ دونوں پلیٹس بھر بھر کہا رہی تھی ۔۔۔ بہت تیز مرچوں والی تیکھی ۔۔۔صارم میرے بھائی اللّٰہ ہمیں صبر دے ۔۔۔ اسفند دونوں کو دیکھ منہ بھر بھر کھاتے دیکھ کر دل میں صارم کو مخاطب کیا۔۔۔
وہ واپس گاڑی میں بیٹھ کر ان کا ویٹ کرنے لگا۔۔
کہ اچانک دو آوارہ ٹائپ لڑکے ان کے پاس کھڑے ہو کر شوخیاں مارنے لگے۔۔ ہائے اتنی حسین چڑیا ۔۔۔ ہمیں بھی تو کھلاؤ نا ۔۔ وہ بھی اپنے ان خوبصورت ہاتھوں سے ۔۔۔
ملیحہ نے دور کھڑی اسفند کی گاڑی کی طرف دیکھا ۔۔۔ تو اس نے سیٹ کی پشت پر سر رکھ کر آنکھیں موندے لی تھی ۔۔۔ اس کو صارم بھائی نے بولا بھی تھا ہمارا خیال رکھنے کو۔۔مگر یہ تو رات کو چلا کاٹ کر اب اپنی نیند پوری کر رہا ہے۔۔۔
ہاں جی ۔۔۔ کیوں نہیں اپنے انہی پیارے پیارے ہاتھوں سے تو کھلاؤں گی لیکن گول گپے نہیں سینڈل ۔۔۔ اور جلدی سے نیچے جھکی تھی سینڈل نکالنے کیلئے کہ ادینہ نے روک دیا۔۔
جاؤ تم لوگ ۔۔ ورنہ خیر نہیں ہے تم لوگوں کی۔۔ ادینہ نے آرام سے وارن کیا ۔۔۔۔
کیوں خیر نہیں ۔۔ پولیس والے کی بیٹیاں ہو کیا۔۔ ایک لڑکے نے مذاق اڑا کر کہا۔۔۔۔
بیٹیاں نہیں بہنیں ہیں۔۔۔ ملیحہ چہک کر
بولی۔۔۔
اوہہہہ ہم تو ڈر گئے ۔۔۔ لڑکے ابھی تک کھڑے چھیڑ رہے تھے ۔۔۔۔
ارے تمہارے انہی ہاتھوں سے مار بھی پیار سے کھا لیں گے ۔۔ دوسرے لڑکے نے جیسے ہی ملیحہ کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی۔۔ ملیحہ نے ایک زوردار چھانٹا اس کے منہ پر مارا۔۔
سوچنا بھی مت ۔۔۔ ہاتھ لگانا تو دور کی بات ہے۔۔۔
لڑکے کا میٹر گھوم گیا ۔۔۔ تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا ۔۔۔ بد تمیز ۔۔ جیسے ہی وہ ملیحہ کی طرف لپکے پیچھے سے کسی نے دونوں کو ایک ساتھ پکڑ کر زمین پر ٹپکا دیا۔۔۔
ملیحہ اور ادینہ ہنسنے لگے۔۔۔۔
جاؤ تم دونوں گاڑی میں بیٹھو ۔۔ اسفند نے دونوں لڑکوں کو خونخوار نظروں سے دیکھ کر ادینہ او ملیحہ کو حکم صادر کیا۔۔۔
ملیحہ نے جاتے جاتے اس لڑکے کو آنکھ ونک کر کے کہا ۔۔ ارے تم تو ڈر گئے ۔۔۔
اسفند نے اس کو گھور کر دیکھا تو وہ منہ بنا کر جانے لگی۔۔۔
ادینہ کے بھائی صاحب پیمنٹ بھی کردے گول گپوں کی ۔۔۔ میرا تو اب بھی پیٹ نہیں بھرا تھا بیڑا غرق ہو ان دونوں کا سارا مزا خراب کردیا ۔۔۔۔۔ ملیحہ نے دانت دکھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
دونوں کی خوب دھلائی کرنے کے بعد اسفند انگلی اٹھا کر گویا ہوا ۔۔۔۔ اگر اس کے بعد کسی لڑکی کو چھیڑنے کی کوشش کی تو ہڈی پسلی ایک کردوں گا۔۔۔ اور پیمنٹ کرکے واپس جانے لگا۔۔۔
گاڑی میں بیٹھ کر اسفند غصے سے پھنکارتے ہوئے بولا۔۔ ہاتھ کیوں لگایا اسے تو ملیحہ دہل گئی۔۔
اتنی بڑی ہوگئی ہو اب تک بچوں والی حرکتیں کر رہی ہو ۔۔ خود کو تیس مار خان سمجھ کر رکھا ہے ۔۔۔ اسفند نے آواز تھوڑی مدہم رکھی۔۔۔
سوری۔۔ ملیحہ نے جان چھڑائی ۔۔۔
دونوں کو گھر ڈراپ کرنے کے بعد وہ سیدھا سفیان کے پاس گیا ۔۔۔ مگر وہ ابھی تک بے ہوش تھا ۔۔۔ تو گارڈ کچھ ہدایات دے کر گھر چلا گیا۔۔ مجرموں کو وہ الگ ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رکھ کر اس کی خوب مہمان نوازی کرتا تھا۔۔۔
گھر آگیا تو صارم اور ارسلان رخصت ہو گئے تھے ۔۔وہ بھی ریسٹ کرنے کے لیے تھوڑا لیٹ گیا ۔۔۔
**********
ادینہ گھر پہنچ گئی تو فریش ہونے کے بعد بھابھی کے روم میں چلی گئی ۔۔۔۔
بھابھی آپ سے ضروری بات کرنی تھی ۔۔۔۔
ہاں بولو ۔۔۔ وہ دونوں ایک ساتھ بیڈ پر بیٹھ گئے ۔۔۔۔
بھابھی م م م میں ۔۔۔۔ ادینہ کے پاس الفاظ نہیں تھے کہ کس طرح بھابھی کو سب بتا دے۔۔۔
کیا ہوا ادینہ ۔۔۔ بھابھی متفکرانہ انداز میں بولی۔۔۔
میں صارم سے پیار کرتی ہوں ۔۔۔ ایک سانس میں بول کر زور سے آنکھیں میچی ۔۔۔
کئی لمحوں بعد جب بھابھی کی طرف سے کوئی ریسپانس نہیں ایا۔۔۔۔ تو آنکھیں ہلکی سی واہ کرکے دیکھا تو بھابھی اس کو گھور رہی تھی ۔۔۔
بھابھی سوری ۔۔۔ ادینہ کی شکل رونے والی ہوگئی ۔۔۔
اتنی دیر کردی بتانے میں ۔۔۔ اچانک بھابھی بولی تو ادینہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
تمہاری آنکھوں میں صارم کے لئے چھپے جذبوں سے میں پہلے دن سے واقف تھی ۔۔ اس کا تمہاری قدر کرنا ۔۔۔ اس کے دوست کا تمہاری فکر کرنا ۔۔۔ گھر کی پوری زمہ داریاں اٹھانا۔۔۔ سب کچھ میرے سامنے ہی تو ہے۔۔۔ میں نے دنیا دیکھی ہے ادینہ ۔۔۔ اور میں دعا کرونگی تمہاری اچھی قسمت کے لئے ۔۔۔ اس نے دل سے دعا دی ۔۔۔۔ تو ادینہ اس کے گلے لگی۔۔۔
بھابھی ۔۔۔ صارم آج بہت ڈر گیا تھا ۔۔ اور ۔۔۔۔ادینہ اب نکاح والی بات بتانے سے کترا رہی تھی۔۔
اور اس نے تم سے ایمرجنسی میں نکاح کر لیا۔۔ اس کا فون آیا تھا ۔۔۔ میری امی اور بھابھی لوگ آئے ہوئے تھے تو اس نے مجھ سے اجازت لے کر اور میری رضامندی سے ہی تم سے رشتہ بنایا ہے۔۔۔ وہ ایک سمجھدار اور سلجھا ہو انسان ہے ۔۔۔۔ سوچ سمجھ کر قدم اٹھاتا ہے ۔۔۔
ادینہ خوش تھی ۔۔ کیا صارم بھی اس سے پیار کرتا ہے۔؟؟؟ یا پھر کسی کے اور وجہ سے میرا ہاتھ تھام لیا ہے ۔۔۔ کیونکہ آج سے پہلے تو اس نے نہ کبھی پیار کا برملا اظہار کیا ہے نہ کوئی امید دلائی تھی ۔۔۔ وہ بس اس میں بہت خوش تھی کہ صارم اب اس کا ہے۔۔۔ اور یہی کافی تھا ۔۔۔۔ بھابھی نے اسے گلے لگایا ۔۔۔ اور ڈھیر ساری دعائیں دی۔۔۔۔
***********
وہ گہری نیند میں تھی کہ اسکا موبائل وائبریٹ ہوا ۔۔۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر فون اٹھایا۔۔ تو نمبر دیکھ کر جھٹ سے بیٹھ گئی ۔۔ صارم اس وقت کال کیوں کر رہا ہے ۔۔۔۔
ہیلو ۔۔۔ صارم کیا ہوا ہے۔۔۔ آپ ٹھیک تو ہے نہ۔۔۔اتنی رات کو ۔۔۔ ادینہ نے کال پک کرکے بےصبری سے پوچھا۔۔۔۔۔
ریلیکس یار۔۔۔۔۔۔ گیٹ کھولو۔۔۔ جلدی۔۔۔ صارم نے عجلت میں کہا۔۔اور کال کاٹ دی۔۔
وہ بغیر دوپٹہ اور چپل پہنے باہر دوڑی او گیٹ کھول کر اسے ہاتھ سے پکڑ کر اندر لے آئی اور دروازہ بند کردیا۔۔۔
آپ اس وقت ۔۔۔ صارم اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
بغیر چپل اور دوپٹہ پہنے ۔۔۔ ادینہ نے خود پر نظر ڈالی ڈھیروں شرمندگی نے آگھیرا بیڈ پر سے دوپٹہ اٹھا کر سر پر اوڑھ لیا۔۔۔
سوری وہ ٹینشن میں تھی نہ ۔۔۔ اس نے وضاحت کی۔۔۔۔
صارم اس کو ہاتھ سے پکڑ کر بیڈ تک لے ایا۔۔۔ اور اپنے ہاتھوں میں اس کے ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے سامنے بٹھا لیا ۔۔۔۔ ادینہ اب بھی اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
وہ تمہاری یاد آرہی تھی ۔۔۔۔ صارم نے بہت معصومیت سے کہا۔۔۔ تو ادینہ جو حیران و پریشان اس کو دیکھ رہی تھی اس کی ہنسی چھوٹ گئی ۔۔
ابھی شام کو تو ملے تھے نا۔۔۔ اور رات کو کیوں تکلیف کی ۔۔۔ صبح آجاتے ۔۔۔۔ ادینہ نے اسے دیکھا تو وہ اسے گھور رہا تھا ۔۔۔ وہ سمٹ گئی۔۔۔۔
آج ہمارا نکاح ہوگیا ہے ۔۔۔ اور میں رات تمہارے ساتھ یہاں گزارنا چاہتا ہوں ۔۔۔ صارم نے دھماکا کیا۔۔
واٹ۔۔۔ ایسے کیسے۔۔۔ اب ب بھی ی ی ی۔۔ ادینہ کو کرنٹ لگا۔۔۔۔
ابھی کیا۔۔ یار بیوی ہو میری ۔۔۔ ایسے کیسے کا کیا مطلب۔۔۔ صارم کو برا لگا ۔۔۔
ن ن نہیں ۔۔۔ میرا مطلب وہ نہیں تھا۔۔۔ بھابھی کیا سوچے گی ۔۔۔ اسنے بہانہ گھڑا۔۔۔
اس کا بھی ایک عدد ہسبنڈ ہے۔۔۔۔ وہ کچھ نہیں سوچے گی ۔۔۔۔
رخصتی ہوجائے پھر ۔۔۔۔ ادینہ اب بھی نروس تھی۔۔۔
ہاں تو ہو جائے گی ۔۔۔ اسی ویک میں ۔۔۔۔ تمہاری بھابھی سے بات ہوئی ہے۔۔۔ تمہارے بھائی سے پرمیشن لے لیا ہے۔۔۔۔
تو پھر اب اتنی جلدی یہ سب کیوں۔۔ بس ایک ویک کی تو بات ہے نہ ۔۔۔ ادینہ اسے دیکھنے سے گریز کر رہی تھی۔۔۔۔
یار اتنی دور سے تمہارے لئے آیا ہوں ۔۔۔ ایسے ہی بھیج دوگی ۔۔۔ تو دل ٹوٹے گا نہ۔۔۔۔
اور آرام سے بیڈ پر لیٹ گیا جہاں تھوڑی دیر پہلے ادینہ لیٹی تھی ۔۔۔۔
ادینہ متحیر تھی ۔۔۔ وہ اتنی جلدی یہ سب ایکسپکٹ نہیں کر پا رہی تھی ۔۔ مگر وہ صارم کی بیوی تھی ۔۔۔ اس طرح اس کی خواہش رد نہیں کر سکتی تھیں ۔۔ وہ اٹھنے لگی تو صارم نے پوچھا کہاں ؟؟؟
وہ لائٹ آف کرنے۔۔۔
اوکے۔۔۔ بند کردو ۔۔۔
لائٹ آف کرکے وہ صارم کے پاس آگئ ۔۔۔ عجیب سی الجھن کا شکار تھی۔۔۔۔
یار آ بھی جاؤ۔۔۔ اسے ہنوز کھڑے دیکھ کر صارم نے ناگواری سے کہا۔۔۔۔۔
وہ صارم کے پاس بیٹھ گئی ۔۔۔
صارم نے ہاتھ بڑھا کر اس کا سر اپنے سینے پر رکھا۔۔ اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا ۔۔
تھوڑی دیر کے بعد اس نے ادینہ کا رخ اپنی طرف کیا۔۔ اور اس کی آنکھوں کو نرمی سے چھوا۔۔۔ تمہاری آنکھیں کس پر گئی ہے؟؟؟ تمہاری امی کی آنکھوں جیسی تو نہیں ہے۔۔۔
سب لوگ بولتے ہیں کہ میں اپنے بابا سے کافی مشابہت رکھتی تھی ۔۔۔ ادینہ آنکھیں بند کر کے گہرا سانس لے کر بولی ۔۔۔
ہممممم پھر اس کے گلے سے دوپٹہ اتار کر سائیڈ پر رکھ دیا ۔۔۔۔۔
مجھے سکون چاہیے ادینہ ۔۔۔ کافی عرصہ سے تلاش تھی ۔۔۔ صارم کی آنکھیں بند تھی ۔۔۔
ادینہ نے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے ۔۔۔
ادینہ کی آنکھ سے آنسُو اس کے چہرے پر گرا۔۔ تو اس نے آنکھیں کھولی۔۔۔
تم رو کیوں رہی ہوں ۔۔۔ مجھے پتہ ہے ۔۔۔ سب کچھ اتنی جلدی میں ہوا ہے کہ ابھی تم مینٹلی اور فزیکلی اس رشتے کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہو۔۔۔۔ میں ایسا کچھ نہیں کرنے والا۔۔۔ اس نے بہت نرمی سے اس کا سر دوبارہ اپنے سینے پر رکھا ۔۔۔۔۔
صارم گھر والوں سے چھپ کر آئے ہیں آپ؟؟؟
کیا مطلب چھپ کر۔۔۔ اس نے ادینہ کا سر تکیے پر رکھا اور خود اس کی طرف رخ موڑ کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔ وہ اپنی برسوں کی تشنگی مٹانے لگا۔۔۔۔۔
میں کوئی دس پندرہ سال کا جوان لڑکا ہوں کیا۔۔۔ جو چھپ چھپ کر گھر سے نکلوں گا اپنی کسی گرل فرینڈ سے ملنے۔۔۔۔ حد ہے بھئی ۔۔۔۔ صارم نے مصنوعی غصے سے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہا ۔۔ آپ کی کوئی گرل فرینڈ ہے کیا۔۔۔۔
ہاں میری تو چار چار ہے ۔۔۔۔ صارم نے کہا۔۔۔تو ادینہ نے آنکھیں گھمائیں ۔۔۔ مطلب اس کو برا لگا۔۔۔
یار مذاق کر رہا تھا ۔۔۔ میں ایسے شوق نہیں پالتا۔۔۔
ادینہ نے رکا ہوا سانس بحال کیا۔۔۔۔
باہر تو آپ کی گاڑی نہیں تھی۔۔آپ کیسے آئے تھے۔۔ادینہ نے یاد آنے پر پوچھا۔۔
اسفند کے گھر تھا آج رات ۔۔۔ اس نے پارٹی ارینج کی تھی۔۔۔ ہمارے نکاح کی خوشی میں۔۔۔وہ چھوڑ کر گیا۔۔۔
کیا ؟؟؟ وہ کیا سوچے گا میرے بارے میں ۔۔ آپ بھی نہ ۔۔۔۔۔
مطلب کچھ بھی ۔۔۔ اس کے سامنے ہی بیوی بنایا تھا تمہیں ادینہ ۔۔۔ اور لینے بھی وہی آئے گا۔۔۔ ڈونٹ وری ۔۔۔
اس نے اچانک ادینہ کے دل کے مقام پر اپنا سر رکھا تو ادینہ کو کرنٹ لگ گیا۔۔۔
صارم ۔۔۔۔ منہ سے بس یہی نکلا ۔۔۔۔
صارم نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے بالوں پر رکھا۔۔۔ تو وہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی۔۔۔
تھوڑی دیر کے بعد صارم کی تیز سانسوں کی ردھم روم میں گھونجنے لگی ۔۔۔۔ وہ سو گیا تھا ۔۔۔
ادینہ کو بھی نیند آرہی تھی ۔۔۔ اس نے خود بھی آنکھیں بند کردی ۔۔۔
فجر سے تھوڑی دیر پہلے صارم کا فون رنگ ہوا۔۔ تو ادینہ کی آنکھ کھل گئی ۔۔۔نمبر دیکھا۔۔۔ اسفند کالنگ ۔۔۔
صارم اٹھو۔۔ اسفند بھائی کی کال ہے۔۔۔
صارم جو خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا ۔۔۔۔ تھوڑا سا کسمسایا۔۔
صارم۔۔۔۔ ادینہ نے پھر سے اسکو آواز دی ۔۔ اس کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر اسے دیکھنے لگی ۔۔ نائٹ بلب کی روشنی میں بس تھوڑا سا دکھ رہا تھا ۔۔۔
اس شخص سے اس نے عشق کیا تھا ۔۔۔ عشق اگر جرم ہے تو اس نے یہ جرم کیا ہے ۔۔ وہ اقرار کر رہی تھی اپنے مجرم ہونے کا۔۔۔۔
وہ اس کے چہرے پر ہاتھ پھیر رہی تھی ۔۔۔ اس کی آنکھیں بند تھی ۔۔۔ مگر چہرہ پر سکون تھا۔۔۔
یار اس طرح اٹھاوگی تو سو سال بعد بھی نہیں اٹھوں گا ۔۔
وہ جاگ رہا تھا۔۔
کال پک کی تو اسفند غصے سے پھٹ پڑا۔۔۔
جلدی نکلو ۔۔۔ ابھی فجر کی اذان ہو جائے گی ۔۔ ساری رات تمہاری وجہ سے ایک سیکنڈ بھی نہیں سویا ہوں ۔۔ کہ اگر خود سو گیا تو مجھے کون جگائے گا۔۔۔۔ اور پھر تمہارے غصے سے کون بچائے گا۔۔۔۔۔
آرہا ہوں یار ۔۔ صارم نے بے زاری سے کہا۔۔۔
دل تو نہیں چاہ رہا جانے کو ۔۔۔ بٹ مجبوری ہے۔۔۔ وہ اٹھا ۔۔۔ تو ادینہ نے اس کے بکھرے بالوں میں انگلیاں پھیر کر اسے سنوارا ۔۔۔
موبائل اٹھا کر روم کا لاک آہستہ سے کھولا ۔۔۔ ادینہ اس کے پیچھے آرہی تھی دروازہ بند کرنے ۔۔۔
وہ اچانک مڑا اور ادینہ کو ہگ کرکے ماتھے پر کس کیا ۔۔۔ پھر دونوں گالوں پر شدت بھرا بوسہ دیکر چلا گیا ۔۔۔ ادینہ نے بکھری سانسوں کو ہموار کرکے دروازہ بند کیا ۔۔۔ ادھر ادھر دیکھا۔۔۔ پھر اپنے روم میں چلی گئی ۔۔
*****””””””””******
