Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282 Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 24) 2nd Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 24) 2nd Last Episode
Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan
موبائل الارم سے صارم کی آنکھ کھلی ۔۔۔ آج اسے ڈیوٹی پر جانا تھا ۔۔۔
الارم آف کرکے پہلو میں لیٹی اپنی شریک حیات پر ایک الفت بھری نظر ڈالی ۔۔۔۔ جو چہرے پر زمانے بھر کی معصومیت سموئے سکون کی نیند سو رہی تھی ۔۔۔۔۔
کل رات وہ اس کے ذات کی بکھری کرچیاں بہت چاہت اور مان سے سمیٹ کر کتنی دفعہ خود بھی ٹوٹی تھی ۔۔۔۔ اور اس کے برسوں پرانے زخموں کی مرہم بنی تھی ۔۔۔۔ ادینہ کی بے پناہ چاہت نے اس کے دل میں مزید پنجے گاڑ دیے تھے ۔۔۔
گڈ مارننگ ۔۔۔۔۔ نئی ذندگی کی نئی صبح مبارک ۔۔۔۔ اینڈ تھینکس میری لائف میں آنے کے لئے ۔۔۔۔ اس کے کان کے قریب جھک کر سرگوشی کی ۔۔۔۔ اور اس کے بالوں کو نرمی سے چھوا ۔۔۔
ادینہ ٹس سے مس نہیں ہوئی ۔۔۔
ادینہ اٹھو یار ۔۔۔۔ اب کے بار اس کا چہرہ نرمی سے تھپتھپا کر اسے اٹھانے لگا ۔۔۔
کیا ہے صارم ۔۔۔ آپ کو یہ بھی نہیں پتہ سوئی ہوئی بیوی کو پیار سے اٹھاتے ہیں ۔۔۔ کوئی بہت ان رومینٹک ہسبنڈ ہے آپ ۔۔۔۔ اسکا نرم لمس محسوس کرکے ادینہ نے آنکھیں کھولی ۔۔۔
ویسے میں نے سنا ہے شوہر کو صبح پیار سے جگانے والا کام بیویوں کا ہوتا ہے ۔۔۔ صارم کا خاصا متبسم لہجہ تھا اور آنکھوں میں دلفریب رنگ لئے اسے تک رہا ہے ۔۔۔
ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں آپ مجھے ۔۔۔۔ ادینہ اس کے خوبصورت لب ولہجہ اور پرسحر آنکھوں سے چھلکتا پیار دیکھ کرحجل ہوئی ۔۔۔
تمہارے چہرے پر بکھرے اپنے پیار اور قربت کے دلکش رنگوں کو دیکھ رہا ہوں ۔۔۔
مجھے پٹانے کی ضرورت نہیں ہے اپکو ایس پی صاحب ۔۔۔ بندی الریڈی آپکی عشق میں گوڈے گوڈے ڈوب چکی ہے ۔۔۔۔ اور جھک کر صارم کی آنکھوں کو چوما ۔۔۔۔ پھر اپنے دل کی خواہش پر لبیک کہہ کر نچلے لب کے نیچے تل پر لب رکھ دئے ۔۔۔
تم مجھے بہکا رہی ہو پھر سے ۔۔ ایک اہم کیس میرے ذمے ہے ۔۔۔ اس پر کام کرنا ہے ۔۔۔ادینہ کو اپنے چہرے کے اوپر جھکا کر اس کی ناک کو چھوا ۔۔۔۔ اور آج میں نے ڈیوٹی پر جانا ہے ۔۔۔۔
ایویں بہکا رہی ہوں اپنا حق لے رہی ہوں ۔۔۔ چلیں اٹھیں آپ ۔۔۔۔ اور ہاں مجھے آپ کو پٹانے کے لئے ابھی سخت جدوجہد کرنی پڑے گی ۔۔۔ مسکرا کر کہتی واش روم میں بند ہوگئی ۔۔۔۔۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••
ادینہ صارم سے پہلے نیچے چلی آئی ۔۔۔۔ کچن میں آگئی تو حنا فاروقی اپنی نگرانی میں ملازمہ سے ناشتہ تیار کروا رہی تھی ۔۔۔
گڈ مارننگ بھابھی ۔۔۔ پیچھے سے حنا کو ہگ کرکے ادینہ نے پیار سے وش کیا ۔۔۔۔
گڈ مارننگ میری جان ۔۔۔۔ حنا نے اس کی طرف رخ موڑ کر کہا ۔۔۔ تو ادینہ کے چہرے پر حیا اور قوس قزح کے ساتھ صارم کے پیار بھرے قربت کے دلکش رنگ نمایاں تھے ۔۔۔۔ اس کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں لے کر بے ساختہ دعا دی ۔۔۔ سدا خوش رہو ۔۔۔ صارم کے ساتھ لمبی زندگی جیو ۔۔۔۔
آمین ۔۔۔۔ بچے اٹھ گئے۔۔۔۔؟؟؟
ہاں اٹھ گئے ۔۔۔۔ تیار بھی ہوگئے ۔۔۔۔ ابھی آجائیں گے ۔۔۔۔ صارم کو اٹھا دیا ۔۔۔ حنا جلدی جلدی ہاتھ چلانے لگی ۔۔۔۔
اٹھ گئے ہیں آپکے پنکچول دیور ۔۔۔ میں آپ کی ہلف کرو کچھ ۔۔۔۔
تم جاکر اپنے ہسبنڈ کی ہلف کرواکے لے نیچے لے آو ۔۔ اسے تو لانے کے لئے تینوں بچوں کی ہمت جواب دے جاتی تھی ۔۔۔۔
خود آجائیں گے ۔۔۔۔ بچے تھوڑی ہے جو گود میں اٹھا کر لے آوں ۔۔۔۔ ادینہ اس کا سامنا کرنے سے کترا رہی تھی ۔۔۔
ناشتہ لگ چکا تھا ۔۔۔ بچے بھی آگئے تھے ۔۔۔ حورم حسب معمول ادینہ کی گود میں چڑھ کر بیٹھی تھی۔۔۔ سب صارم کا ویٹ کر رہے تھے ۔۔۔
ادینہ ۔۔۔ دیکھ لیا ۔۔۔ بولا بھی تھا تمہیں بلا کر لے آؤ صارم کو ۔۔۔
ابھی تو شادی بھی ہوگئی ان کی ۔۔۔۔ بھلا اتنا بن ٹھن کے تیار ہوکر ڈیوٹی پر جانے کی کیا ضرورت ہے ان کو ۔۔۔ ادینہ منہ بسور کر بادل ناخواستہ کھڑی ہوگئی ۔۔۔۔
چلو حورم بیٹا دلہن کو لے آئے ۔۔۔
بھابھی اس طرح تو دلہنوں کو لایا جاتا ہے ۔۔۔ میں تو آگئی ہوں اور موصوف کو باقاعدہ رسم کے ساتھ لانا پڑے گا ۔۔۔۔ حد ہوگئی ۔۔۔۔
ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔ ادینہ تم بھی نا ۔۔۔۔ ایک جاندار قہقہ گھونجا کا ۔۔۔
بھابھی ۔۔۔ آپ کو پہلی بار اس طرح ہستے دیکھا ہے ۔۔ بہت پیاری لگ رہی ہیں ۔۔۔ آپ ہنسا کرے ۔۔۔
چلو جاؤ اب ۔۔۔ بچوں کو دیر ہورہی ہے ۔۔ اور صارم کو بھی ہوجایے گی ۔۔۔
اسلام وعلیکم اینڈ گڈ مارننگ ایوری ون ۔۔۔ خوشبو میں رچا بسا یونیفارم میں ملبوس وجاہت سے بھرپور پرسنالٹی لئے صارم ڈائننگ ہال میں انٹر ہوا ۔۔۔
گڈ مارننگ پاپا ۔۔۔ دونوں بچے اٹھ کر صارم کے سینے سے لگے ۔۔۔ اور حورم کے قریب آکر اسے پیار کیا ۔۔۔
پاپا آپ دلہن ہو ؟؟؟؟ حورم آنکھیں چھوٹی کرکے صارم سے پوچھ بیٹھی ۔۔۔
واٹ ۔۔۔ صارم کو زور کا جھٹکا لگا اپنی چھوٹی سی بیٹی کے منہ سے دلہن لفظ سن کر ۔۔۔
حورم بیٹا ناشتہ کرو ۔۔۔ حنا فاروقی نے حورم کو گھورا ۔۔۔
پاپا آپ بتائیں نا ۔۔ حورم بات کے پیچھے پڑھ گئی ۔۔۔
یہ کس نے کہا تم سے؟؟؟ صارم کے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔
مما نے ۔۔۔ جب آپ روم میں تھے تو مما نے بولا کہ آو دلہن کو لے آتے ہیں ۔۔۔۔ حورم نے معصومیت کی انتہا کردی ۔۔۔
وہ افسوس سے سر ہلاتا ہوا پھولے نتھنوں کے ساتھ ادینہ کو دیکھنے لگا۔۔۔ جو انجان بننے کا ناٹک کرکے ادھر ادھر جھانک رہی تھی ۔۔۔ صارم کے غصے کو ہوا دے رہی تھی ۔۔۔ اس لڑکی کا کچھ نہیں ہوسکتا ۔۔۔ ایک اسفند کم تھا جو منہ میں آیا بول دیتا ہے ۔۔۔
ناشتہ شروع کرو سب ۔۔۔ حنا فاروقی سب کو سرو کرنے لگی ۔۔۔ تو صارم نے ادینہ کو مخاطب کیا ۔۔۔
تم سرو کروگی آج کے بعد ۔۔۔
میں کیوں کروں ۔۔۔ بھابھی ہے نا ۔۔
وہ کیا ہے میں تو نئی نویلی دلہن ہو ۔۔۔ ابھی ہاتھوں کی مہندی بھی نہیں اتری کام کرتے تھوڑی اچھی لگوں گی ۔۔۔ ہیں نا بھابھی ۔۔۔۔
وہ صارم کی بات کا مفہوم اچھے سے سمجھ گئی تھی ۔۔۔ وہ حنا فاروقی اور صارم کے درمیان حائل بدگمانی کی وہ دیوار گرانا چاہتی تھی جس کی بنیاد سالوں پہلے رکھی گئی تھی ۔۔۔۔
ہاں صارم ابھی اس کے دن ہیں ۔۔۔ اپنا گھر ہے وقت آنے پر اپنی ذمہ داری خود اٹھا لے گی ۔۔۔ حنا نے اسکی ہاں میں ہاں ملائی ۔۔۔۔
سب نے ناشتہ شروع کیا ۔۔۔
ہیلو گائز ۔۔۔۔ شکر ہے ۔۔۔ ٹائم پر انٹری ماری ہے ورنہ بھابھی کے ہاتھ کے مزیدار ناشتے سے اسکا معصوم دیور محروم ہو جاتا ۔۔۔ جو کہ قسمت والوں کو نصیب ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ لیکن کچھ لوگ تو ازل سے ہی ناقدرے ہیں ۔۔۔۔ اسفند نے کہہ کر ادینہ کی ساتھ والی کرسی کھینچی ۔۔۔۔اور بیٹھ گیا ۔۔۔۔
آگئے بن بلائے مہمان بن کر ۔۔۔۔ صارم آنکھیں سکوڑے اسے گھورنے لگا ۔۔۔۔
حنا فاروقی نے اس کو بھی ناشتہ سرو کیا ۔۔۔ وہ حنا کے ہاتھ کے کھانوں کا دیوانہ تھا ۔۔۔ پھر خود بھی بیٹھ گئی ۔۔۔
اب چپ چاپ منہ بند کرکے ناشتہ ٹھونسو ۔۔۔۔ اگر منہ کھولا تو توڑ دوں گا ۔۔۔ صارم نے مصنوعی غصے سے وارن کیا ۔۔۔۔ کیونکہ صارم کو ناشتہ یا کھانے کے وقت بات کرنے سے سخت کوفت ہوتی تھی ۔۔۔۔
کوئی زبردستی ہے کیا ۔۔۔ اور منہ بند رکھوں گا تو ناک سے ٹھونسوں گا ۔۔۔ اسفند تو گویا تلملا اٹھا ۔۔۔۔
ناشتے کے لئے کھول سکتے ہو ۔۔۔۔
اب تمہاری دادا گیری نہیں چلے گی ۔۔۔ میری بہن آگئی ہے سارے کس نکال دے گی ۔۔۔۔ میں اب تم سے نہیں ڈرتا ۔۔۔ اسفند نے کہہ ناشتہ شروع کیا ۔۔۔
اوکے میں نکلتا ہوں ۔۔۔ سب نے ناشتہ ختم کیا تو صارم آٹھ گیا ۔۔۔۔
ادینہ گود میں حورم کو اٹھائے گاڑی تک آئی ۔۔۔ صارم نےہاتھ بڑھا کر حورم کو اس کی گود سے لیا اور گاڑی میں بٹھایا ۔۔۔ روز کی طرح صابر چاچا کو ہدایات دیکر گاڑی روانہ ہوگئی ۔۔۔ تو خود بھی اسفند کے ساتھ اپنی گاڑی کی طرف قدم بڑھائے ۔۔۔۔
صارم نے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔۔۔۔
جا یار ۔۔۔ میں نہیں دیکھ رہا ۔۔۔۔ پیار ویار کر لے تو ۔۔۔۔ اسفند عادت سے مجبور بول اٹھا ۔۔۔
یو چیف ۔۔۔ تمہیں بڑا شوق تھا نا سویرے آکر کباب میں ہڈی بننے کا ۔۔۔
اسفند کان کھجا کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا تو صارم الٹے پیر واپس ایا ۔۔۔ ادینہ کو ہگ کرکے سر پر بوسا دیا اور جانے لگا ۔۔۔
صارم ۔۔۔ م مم۔میں ۔۔۔۔ وہ ہچکچائیں ۔۔۔۔
ہاں کیا ۔۔۔۔ صارم نے ناسمجھی سے دیکھا ۔۔۔
وہ صارم کے قریب آکر پنجوں کے بل کھڑی ہوگئی اور اس کے پیشانی پر ہونٹ ثبت کر دیے ۔۔۔
بس اب جائیں ۔۔۔۔ اللہ خافظ ۔۔۔۔
صارم نے مسکرا کر ہلایا ۔۔۔۔
گاڑی گیٹ سے باہر نکلی تو ادینہ بھی واپس چلی آئی ۔۔۔۔
••••••••••••••••••••••••••••••
صارم وہ احمد کو پولیس ریمانڈ پر جیل بھجوایا گیا ہے۔۔۔ اسفند نے راستے میں اسے مطلع کیا ۔۔۔۔
تو کچھ اگلوایا کہ نہیں ۔۔۔۔ صارم نے سنجیدگی سے پوچھا ۔۔۔ احمد کا کیس صارم کو دیا گیا تھا ۔۔۔ اب باقاعدہ قانونی کاروائی شروع ہونی تھی ۔۔۔
اتنا آسان ہے کیا ۔۔۔ اتنی جلدی ہتھیار ڈالنے والوں میں سے نہیں ہے وہ ۔۔۔
چلو دیکھتے ہیں ۔۔۔ مجھے بھی زور آزمانے دے ۔۔ کچھ اپنے حساب کتاب بھی چکتا کرنے ہیں۔۔۔ کافی تڑپایا ہے مجھے اور میری بیوی کو ۔۔۔۔
•••••••••••••••••
خبردار ۔۔۔۔ اگر مجھے ہاتھ بھی لگایا تو میں ہاتھ توڑ دوں گی سب کے ۔۔۔ سمجھ کیا رکھا ہے مجھے ۔۔۔ کوئی مرڈر کیا ہے جو کبھی ایک تو کھبی دوسرا مجھے گھسیٹ کر ادھر ادھر فٹبال کی طرح پھینک رہا ہے ۔۔۔ تمیز نہیں ہے ۔۔۔۔ صنف نازک کو اس طرح ٹریٹ کرتے ہیں ۔۔۔ ہائے کمر توڑ دی میری ۔۔۔۔
ارے باجی ۔۔۔۔ ابھی کانسٹیبل کچھ بول رہا تھاکہ بات منہ میں ہی دب گئی ۔۔۔
واٹ باجی ۔۔۔ میں تمہیں باجی دیکھ رہی ہوں ۔۔۔
تم سے تو بیس پچس سال چھوٹی ہی ہونگی ۔۔۔ پولیس کانسٹیبل نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔۔۔ابھی تو وہ خود تئیس سال کا تھا ۔۔۔۔ تو مطلب یہ لڑکی ابھی پیدا ہوئی ہے ۔۔۔
آپ سب کو دیکھ لوں گی میں ۔۔۔ ایس پی کی بہن ہوں ۔۔۔ ملیحہ نے فرضی کالر جھاڑے ۔۔۔۔۔
وہ دونوں جیسے ہی پولیس سٹیشن پہنچے ایک جانی پہچانی آواز سماعتوں سے ٹھکرائی ۔۔۔۔
ملیحہ۔۔۔۔ آن فائر ۔۔۔ صارم نے اسفند کی طرف دیکھ کر مسکراہٹ اچھالی ۔۔۔۔
نووووو۔۔۔ ناٹ اگین ۔۔۔ اسفند سرپٹ دوڑا ۔۔۔۔۔
دونوں جیسے ہی اندر آگئے تو سب کے ہاتھ سیلوٹ کے لیے اوپر اٹھے ۔۔۔
وہ جو ہاتھ ہلا ہلا کر سب پر دباؤ ڈالنے میں مصروف تھی ۔۔۔ ایک دم پیچھے مڑی ۔۔۔
اور بھاگ کر صارم کے گلے لگی ۔۔۔۔۔
سب لوگوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا ۔۔۔۔
صارم بھائی ان سب نے مجھے ادھر ادھر گھسیٹ گھسیٹ کر آدھ موھ کردیا ہے ۔۔۔ پوری باڈی میں پین ہورہا ہے ۔۔۔
سر ہم نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔ اس نے ایک ریڑھی والے کو بہت زور سے ہٹ گیا ہے اپنی گاڑی سے۔ ۔۔۔ بیچارے آدمی کو چوٹ بھی لگی ہے اور کافی نقصان بھی ہوا ہے ۔۔۔ پوری ریڑھی آدمی سمیت روڈ پر الٹ پلٹ پڑھی تھی۔۔۔ اور یہ بجائے اپنی غلطی ماننے کے سب پر چلا رہی ہے۔۔۔۔
ایک لیڈی کانسٹیبل نے ہمت کرکے اصلی صارم کے گوش گزار کردی ۔۔۔۔
ہاں تو اس نے کیوں فٹ پاتھ پر ریڑھی کھڑی کی تھی ۔۔۔ ملیحہ نے ایک کمزور سی بے تکی دلیل پیش کی ۔۔۔
بالکل صارم ۔۔۔۔ وہ کیوں فٹ پاتھ پر کھڑا تھا غلطی تو اس کی تھی ۔۔۔۔ اسے تو مین روڈ پر کھڑے ہوکر چیزیں بھیجنی چاہیے تھی ۔۔۔۔ اسفند کا صدمے سے برا حال تھا اس لئے طیش میں بولا ۔۔۔
اسفند کا طنز سمجھ کو سب دبی آواز میں ہنسنے لگے ۔۔۔
تم آؤ بیٹھو ادھر ۔۔۔ صارم نے اسے خود سے الگ کرکے چئیر پر بٹھایا ۔۔
جب ڈرائیونگ نہیں آتی تمہیں تو دادی اماں کیوں بنتی ہو ۔۔۔ مذاق ہے کیا۔۔۔ کسی پر بھی گاڑی چڑھا دو گی ۔۔۔ اگر کسی دن سچ میں کسی کو گاڑی تلے کچل دیا تو پڑی رہنا ساری عمر لاک اپ میں ۔۔۔۔ ایک آتش فشاں ابل رہا تھا اسفند کے اندر ۔۔۔
بے دردی سے ملیحہ کا بازوجھکڑا تھا اور ملیحہ خود کو چھڑوانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی تھی ۔۔۔
چھوڑو میرا ہاتھ ۔۔۔۔ صارم بھائی بولے اس کو ہرٹ ہورہا ہے ۔۔۔۔ ملیحہ نے مدد طلب نظروں سے صارم کو دیکھا ۔۔۔
اسفند چھوڑو اسکا ہاتھ ۔۔۔ صارم نے رغب سے کہا ۔۔۔۔
اسفند نے بہت زور سے اس کا ہاتھ جھٹک دیا کہ وہ گرتے گرتے سنبھلی ۔۔۔
جنگلی انسان ۔۔۔ ملیحہ غصے سے پھنکاری ۔۔۔
برو کنٹرول تو ابھی اس پر غصہ کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتا ۔۔۔ سو کام ڈاؤن ۔۔۔۔ وہ میں بول رہا تھا کہ ابھی بھی وقت ہے تو ایک بار پھر سوچ لے ۔۔۔ خود سانپ کے منہ میں ہاتھ ڈال رہا ہے ۔۔۔ یہ تو ابھی سے وبال جان بنی ہوئی ہے ۔۔۔صارم نے اسکی حالت کا مزہ لیتے ہوئے ایڈوائس بھی کی ۔۔۔۔
مشورہ مانگا ہے تم سے ۔۔۔ نہیں نہ ۔۔ تو پرے ہٹ ۔۔۔۔ اس کو میں اچھے سے سیدھا کرلوں گا ۔۔۔ ہاتھ آنے دو صرف ۔۔۔۔
مجھے کیا۔۔۔ بھگتو ۔۔۔ صارم نے کندھے اچکائے۔۔۔۔
زخمی شخص کواندر لایا گیا جس کو فرسٹ ایڈ دیا گیا تھا سر پر پٹی باندھی گئی تھی ۔۔۔انتہائی ضعیف لحال تھا۔۔۔ اسفند کے ساتھ ساتھ صارم کو بھی ڈھیروں شرمندگی نے آگھیرا ۔۔۔۔
اسفند نے اسکو بٹھایا ۔۔۔ اور چوٹ والی جگہ چیک کی ۔۔۔ زیادہ گہری چوٹ نہیں تھی لیکن پھر بھی اس کے عمر کے لحاظ سے اس کو تکلیف زیادہ دی گئی تھی ۔۔۔
میں نقصان پے کردوں گی ۔۔۔ ملیحہ خود بھی گلٹی فیل کر رہی تھی ۔۔۔
صارم بتا رہا ہوں اسکا گھر سے نکلنا بند کردے ۔۔۔۔ جب بھی نکلتی ہے کسی نہ کسی کی شامت آ ہی جاتی ہے ۔۔شکر ہے بچ گیا ہے ۔۔۔۔ آفت کہی کی ۔۔۔ اسفند کا غصہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ۔۔۔
صارم نے مصلحت سے معاملہ سلجھا کر رفع دفع کردیا اور آدمی کو اسکے تاوان کے حساب سے دوگنی پیمنٹ کرکے رخصت کردیا۔۔۔
اب ٹسوے کیوں بہا رہی ہے ۔۔۔ اسفند نے ملیحہ کو روتے دیکھ کر طنز یہ کہا ۔۔ رونے کی وجہ سے اسکی چھوٹی سی ناک سرخ ہوگئی تھی۔۔۔۔
میرے منہ مت لگنا تم ۔۔۔ زہر لگتے ہو مجھے ۔۔۔ اور اتنا رعب کس حق سے جھاڑ رہے ہو مجھ پر ۔۔۔ بھائی نہیں ہو میرے ۔۔۔ ملیحہ بپھر گئی ۔۔۔
اوووہ ہیلو ۔۔ بھائی بننا بھی نہیں ہے مجھے ۔۔۔ دونوں کے درمیان پھر سے چوہے بلی کا کھیل شروع ہو گیا ۔۔۔
اسفند اس کو گھر چھوڑ آو ۔۔۔ حکم ملا ۔۔۔۔
اس کے ساتھ جائے میری جوتی ۔۔۔ آپ مجھے چھوڑ آئے ۔۔۔ ملیحہ نے صاف انکار کردیا ۔۔۔
میری جان میں آن ڈیوٹی ہوں نہ ۔۔۔ نہیں جا سکتا ۔۔۔ صارم نے اس کے کندھے کے گرد بازو حمائل کرکے غذر پیش کیا ۔۔۔ اور پرامس کرو تم آج کے بعد گاڑی نہیں چلاوگی ۔۔۔ اور بڑوں کیساتھ تمیز سے بات کرتے ہیں ۔۔۔ اسفند تم سے عمر میں بڑا ہے تو عزت سے محاطب کرو اسے۔۔۔
اوکے ۔۔۔۔ ملیحہ روہانسی ہوگئی ۔۔۔۔ یہ بھی تو بے عزت کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتا ۔۔۔
چلو اب ۔۔۔ اسفند خون آشام نظروں سے گھور کر بولا ۔۔۔۔
ویسے اچھا ہے تم جیسے سرپھرے لڑکے کو ایسی لڑکی ہی قابو کر سکتی ہے ۔۔۔ دن میں تارے دکھا دیا کرے گی ۔۔۔۔ دونوں کو ساتھ جاتے دیکھ کر صارم نے سوچا ۔۔۔
••••••♪•••••••••••••••••
ایم سوری ۔۔۔۔ میں کچھ زیادہ روڈ ہوگیا تھا۔۔۔ وہ منہ پھیر کو اسفند کو اگنور کرکے باہر دیکھ رہی تھی تبھی اسفند سے رہا نہیں گیا ۔۔۔۔
ملیحہ نے سلگتی نگاہوں سے اسے دیکھا ۔۔۔۔ تو اس پر نظر پڑتے ہی وہ ٹھٹھک گیا ۔۔۔
یار مت رو ۔۔۔۔ اگر اس شخص کو کچھ ہو جاتا تو 302 بن جاتا ۔۔۔۔ کتنا ضعیف تھا وہ بے چارہ۔۔۔ اور ساتھ تمہیں بھی چوٹ لگتی تو۔۔۔۔
لگی ہے مجھے بھی چوٹ ۔۔۔ یہ دیکھیں ۔۔۔ اس نے اپنے ماتھے سے بال ہٹائیں تو نیلا گھومڑ سا بن گیا تھا ۔۔۔
اسفند نے ایک جھٹکے سے گاڑی روکی ۔۔۔
او گاڈ ۔۔۔ اسفند نے اسے نرمی سے چھوا ۔۔۔ یہ کیسے ۔۔۔
بریک لیتے وقت سر اسٹیئرنگ سے ٹھکرایا تھا ۔۔۔۔
مگر مجھے ڈاکٹر کے پاس نہیں جانا ۔۔۔ مجھے گھر ڈراپ کردو ۔۔۔ زیادہ رونے کی وجہ سے آواز خلق میں دب گئی ۔۔۔
اس کو ڈراپ کرکے چابی اسکو تھمائی ۔۔۔ صارم کی وارننگ یاد ہے نا ۔۔۔۔
آللہ خافظ ۔۔ کوئی بھی جواب دئیے بنا ملیحہ جانے لگی تو اسفند نے آواز دی ۔۔۔
گھر آنے کے لیے نہیں بولوگی ۔۔۔۔
بالکل نہیں ۔۔۔ مجھے پاگل کتے نے کاٹا ہے کیا ۔۔۔ آپ کا کیا بھروسہ اب میری امی بھائی کو الٹی سیدھی پٹیاں پڑھا دی تو ۔۔۔کہ میں تھانے کی ہوا کھا کر آئی ہوں ۔۔۔ میرا تو بھوسہ نکال دیں گے۔۔۔ آپ شرافت سے رفو چکر ہوجائے ۔۔۔۔
بھلائی کا تو جیسے زمانہ ہی نہیں رہا۔۔ اسفند نے آہ بھری پیچھے صارم کی گاڑی ایک آرہی تھی ڈرائیور نے اسکو پک کیا ۔۔۔۔
•••••••••••••••••••♪•••••••••••••
بھابھی آپ کی شادی کی پکچرز ہیں ؟؟؟ ادینہ بور ہو رہی تھی تو حنا فاروقی کے روم میں آگئی ۔۔۔
ہاں بہت سارے البمز ہے ۔۔۔ تم بیٹھو میں نکال رہی ہوں ۔۔۔
اور پھر ایک ساتھ چھ سات البم اس کے سامنے رکھ دئے تو ادینہ بچوں کی طرح نیچے کارپٹ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔ حنا فاروقی بھی ساتھ میں بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔
یہ پہلے چیک کرلو ۔۔۔ آریز اور صارم کی بچپن کی تصاویر ہیں ۔۔۔
ہائے اللّٰہ یہ صارم بچپن میں بھی اتنے کیوٹ تھے ۔۔ ایک تصویر پر ہاتھ رکھ کر حنا نے اسے بتایا کہ یہ صارم ہے ۔۔۔ گول مٹول سا بچہ آریز کی گود میں تھا ۔۔۔۔ سلکی بال ماتھے پر بکھرے ہوئے ۔۔۔
بھابھی مجھے صارم کے بال بہت پسند ہے ۔۔۔ لا شعوری طور پر وہ صارم کے فوٹو پر ہاتھ پھیر کر بول بیٹھی ۔۔۔۔
حنا نے بمشکل مسکراہٹ روکی ۔۔۔
حنا نے ایک تصویر دکھائی جس میں اظہر فاروقی کے ایک سائیڈ آریز اور دوسری طرف صارم بیٹھے تھے ۔۔ بلاشبہ آریز اور صارم کو خوبصورتی باپ سے ورثے میں ملی تھی ۔۔۔ تینوں اپنے حسین سراپوں کے ساتھ ایک دوسرے سے جڑھ کر بیٹھے تھے ۔۔۔
کاش میں ان سب سے مل پاتی ۔۔۔ ادینہ کے دل میں ایک حسرت جاگی ۔۔۔
بھابھی یہ آریز بھائی تو صارم سے بھی ڈیشنگ لگ رہے ہیں ۔۔۔ یہ آرمی والے سب اتنے پیارے کیوں ہوتے ہیں ۔۔۔۔
صارم اور آریز ایک دوسرے کی پرچھائی ہوا کرتے تھے ۔۔۔ صارم کا درد ہم سے بڑھ کر ہے ۔۔۔ اگر میں نے شوہر کھویا ہے تو صارم کو آریز بیک وقت ایک باپ، ماں ,بھائی دوست کے روپ میں ہتھیلی کا چھالہ بنا کر رکھتا تھا ۔۔۔۔ اس نے بہت کچھ خاموش رہ کر سہا ہے ۔۔۔ ہمارے سامنے اسٹرونگ بنتا تھا لیکن میں نے رات کی تاریکی میں صارم کی دبی دبی سسکیاں سنی ہے ۔۔۔ پے در پے ہونے والے حادثات نے ہماری زندگیوں کو جلا کر بھسم کردیا تھا ۔۔۔۔
حنا فاروقی کی آنکھوں سے اشکوں کی برسات رواں دواں تھی۔۔۔ آریز کی تصویر ہاتھ میں پکڑے وہ رو رہی تھی ۔۔۔۔
پھر اپنی شادی کی البم دکھائی ۔۔۔ بہت پیاری جوڑی ہے ۔۔۔۔ بھابھی ان پکچرز میں آریز بھائی ہوبہو صارم کی کاپی ہے ۔۔۔ شادی کے دن والی تصویر میں آریز پر ادینہ کو بلکل صارم کا گمان ہوا ۔۔۔۔
ہاں ۔۔ جب ہم بارات لے کر تمہارے گھر جارہے تھے ۔۔۔ اور صارم تیار ہوکر نیچے آرہا تھا اسی ٹائم مجھے بھی بالکل آریز جیسا لگا تھا ۔۔۔ دونوں کی آئیز سیم کلر کی ہے ۔۔۔ گرین ۔۔۔۔ باقی صارم کے بال اپنی موم جیسے ہیں بلکل بلیک سلکی ۔۔۔ یہ دیکھیں موم کی مرنے سے کچھ دن پہلے کی تصویر ۔۔۔۔ حنا نے ایک پکچر پر انگلی رکھ کر کہا ۔۔ تو ادینہ کو سانس لینا محال لگا ۔۔۔ صارم کا دکھ درد تکلیف بجا تھی ۔۔۔۔ اتنی بھری جوانی میں اس کی موم کی ڈیتھ ہوگئی تھی۔۔۔ ادینہ کے چہرے پر کرب کی کیفیت چھا گئی۔۔۔
بھابھی یہ اتنی ینگ ۔۔۔۔
صرف تینتیس سال کی عمر میں ان کی ڈیتھ ہوگئی تھی۔۔۔
ادینہ نے جلدی سے البم بند کردی۔۔۔
کچھ تکالیف اور دردوں کا ازالہ ناممکن ہوتا ہے۔۔۔۔اور صارم کے غموں کا پلڑا کافی بھاری تھا۔۔۔۔
لیکن ماتھے پر کسی قسم کا شکن لائے بغیر وہ تمام رشتوں کو خوش اسلوبی سے نبھا رہا تھا ۔۔۔
بھابھی میں صارم سے بات کرکے آتی ہوں ۔۔۔ ادینہ کو صارم کی یاد ستانے لگی ۔۔۔
جاؤ کرلو ۔۔۔۔
•••••••••••••••••••••••••••
وہ جو ریمانڈ سیل میں کھڑا احمد کی خاطر مدارت میں مصروف تھا ۔۔۔ ایک کانسٹیبل نے اسے فون پکڑوایا ۔۔۔
سر میڈم کی کال آرہی ہے ۔۔۔۔ ادینہ کا نمبر اس نے “مائی لائف ” سے سیو کیا تھا ۔۔۔۔
موبائل ہاتھ میں لے کر نمبر دیکھا تو اس کے چہرے پر چھائی سختی اور سنجیدگی پل بھر میں ہوا ہوگئی ۔۔۔ احمد نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا تو دونوں کے درمیان نظروں کا تصادم ہوا ۔۔۔ احمد نے تنفر سے نظریں چرائی ۔۔۔۔
کیوں سالے صاحب بہن سے بات کرنی ہے؟؟؟؟
ہیلو ۔۔۔ صارم نے کال پک کر کے سپیکر ان کر دیا۔۔۔ اتنی جلدی یاد آگئی ۔۔۔۔
بھولی کب تھی اپکو ۔۔۔ آپ تو رگوں میں خون کی مانند گردش کرنے لگے ہیں ۔۔۔ صارم کی روح تک سرشار ہوگئی سن کر ۔۔۔۔
یو پیپل کیری آن ۔۔۔ صارم نے سپیکر آف کرکے دوسرے آفیسر کو حکم دیا ۔۔ جو اب احمد کی چمڑی ادھیڑ رہے تھے ۔۔۔۔ اس کی گلا پھاڑ چیخیں کال کی دوسری طرف ادینہ کے کانوں کو چیر رہی تھی ۔۔۔
صارم یہ کون چلا رہا ہے ۔۔۔
ادینہ یہ پولیس اسٹیشن ہے ۔۔۔ یہاں 24 گھنٹے اس طرح آوازیں سننے کو ملے گی سچ اگلوانے کا ایک کارآمد طریقہ ۔۔۔۔ تم چھوڑو یہ بتاؤ کیا کر رہی تھی ۔۔۔
آپکی یاد آرہی تھی ۔۔۔ تو سوچا آپکی آواز سنو ۔۔۔۔
پھر ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد ادینہ نے پرسکون ہوکر فون بند کردیا ۔۔۔
••••••••••••••••••••••••
اسفند کے پیرنٹس واپس آگئے تھے ۔۔۔ اور اس کی اصرار پر آج ادینہ اور صارم سمیت سب ملیحہ کے گھر اسکا ہاتھ مانگنے جا رہے تھے۔۔۔
اسفند کے گھر والے ادینہ کو ایسے ٹریٹ کر رہے تھے جیسے برسوں پرانی شناسائی ہو ۔۔۔
اسفند کے پیرنٹس اس کی بہن ،، صارم ادینہ حورم اور ارسلان مہک اتنے زیادہ لوگوں کا قافلہ ملیحہ کے گھر کی جانب رواں دواں تھا ۔۔۔۔
اسفند کے ساتھ گاڑی میں اس کے پیرنٹس اور بہن بیٹھی تھی اور صارم کے ساتھ ادینہ اور حورم۔۔۔۔۔ارسلان مہک اپنی گاڑی میں۔۔۔
••••••••••••••••••••••••••••
ملیحہ کی امی کے پیر تو زمین پر نہیں ٹک رہے تھے ۔۔۔ اتنے اونچے اور معزز خاندان سے رشتہ آیا تھا انکی بیٹی کےلئے ۔۔۔۔ صارم کو تو وہ سب جانتے تھے ۔۔۔ ادینہ کی شادی میں ملے تھے ۔۔۔
آسفند خلاف توقع چپ تھا۔۔۔
کیوں بڈی ۔۔۔ اچھا ایمپریشن ڈالنے کی کوشش کر رہے ہو ۔۔۔ صارم سے اس کا یہ نیا روپ ایک آنکھ نہیں بھایا ۔۔۔۔
تو چپ کر ۔۔۔ میرے تو ہاتھ پیر پھول گئے ۔۔۔ کتنا مشکل کام ہے یہ ۔۔۔ تمہیں تو بغیر مشقت کے مل گئی تھی ۔۔۔ ملیحہ انکار ہی نا کردے ۔۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔ ارسلان اور صارم دونوں خاصے لطف اندوز ہورہے تھے ۔۔۔ چوبیس گھنٹے ٹٹر پٹر کرنے والے اسفند کی آج بولتی بند تھی ۔۔۔
تم دونوں کو دیکھ لوں گا ۔۔۔ میرا مذاق اڑانا مہنگا پڑ سکتا ہے تم دونوں کو ۔۔۔ گھر سے زرا باہر نکلنے دو ۔۔۔ بجائے مجھے حوصلہ دینے کے بتیسی نکال رہے ہو ۔۔۔ اسفند کو غصہ آنے لگا ۔۔۔
اور تم دیکھنا آج موم کو کہہ کر ادینہ کو اپنے گھر رات گزارنے کو روک نہیں لیا تو میرا نام بدل لینا ۔۔۔ صارم کی دکھتی رگ پکڑ لی ۔۔۔
خبردار ۔۔۔۔ اگر ایسا ویسا کچھ کیا تو ۔۔۔ ارسلان تم کیوں اس کو چھیڑ رہو ہو ۔۔۔ تیر نشانے پر لگا تھا ۔۔ صارم نے ارسلان کو آنکھوں ہی آنکھوں میں التجاء کی ۔۔۔۔ اسفند سے کیا بعید سچ میں ادینہ کو روک دیا تو ۔۔۔ اور صارم ٹھہرا سدا کا کم گو اور شائے بندہ ۔۔۔ منع بھی نہیں کر پائے گا اسفند کے پیرنٹس کو ۔۔۔۔
مہک اور ادینہ ملیحہ کو تیار کر رہی تھی ۔۔۔ آج تو ملیحہ کو بھی ٹھنڈے پسینے آرہے تھے۔۔۔چلتی زبان کو تالے لگ گئے تھے ۔۔۔
ملیحہ کو ہال میں لایا گیا اور اسفند کے گھر والوں کے ساتھ بٹھا دیا۔۔۔
ما شاءاللہ ماشاء اللہ میں صدقے جاؤں ۔۔۔کتنی پیاری بچی ہے۔۔اسفند کی موم نے بے ساختہ ملیحہ کو گلے لگایا ۔۔۔۔ ملیحہ سب کو بہت پسند اگئی ۔۔۔
ساری زندگی تو کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کیا تو نے ۔۔۔ شکر ہے بہو اتنی حسین ڈھونڈی ۔۔۔۔ اسفند کے ڈیڈ نے اسفند کی طرف جھک کر آہستہ سے کان میں سرگوشی کی ۔۔۔ ویسے میڈ ان چائنہ ہے کیا ۔۔۔
ڈیڈ ۔۔۔۔ اسفند نے خفگی سے منہ بنایا ۔۔۔۔
بس آج سے یہ ہماری بیٹی ہوئی ۔۔۔ آپ لوگ بے شک ہمارے بارے میں پوری چھان بین کرکے تسلی کرلے ۔۔۔ ادینہ وہ کنگن دے دو بیٹا ۔۔۔ اسفند کی امی کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ملیحہ کی ہاتھوں ہاتھ رخصتی کرواکر اپنے گھر لے جائے ۔۔۔ ایک ہی بیٹا تھا اس کا اب تک شادی سے انکاری ۔۔۔ کہ جب تک صارم کی نہیں ہوجاتی وہ بھی نہیں کرے گا ۔۔۔
یہ لیں ۔۔۔ ادینہ نے سونے کے دو نفیس سے کنگن اسفند کی موم کو پکڑوادیے جس نے ملیحہ کے ہاتھوں کی زینت بنا دئے ۔۔۔۔
ایسی کوئی بات نہیں ۔۔۔ آپ لوگ ادینہ کے سسرال والے ہو ۔۔ اور صارم کو کون نہیں جانتا ۔۔۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں ۔۔ ملیحہ کا بھائی جنید جلدی سے بولا ۔۔۔۔
مبارک باد کا شور اٹھا ۔۔۔ ادینہ اور مہک نے سب کا منہ میٹھا کروایا ۔۔۔ اسفند اور ملیحہ کو ساتھ بٹھایا گیا ۔۔۔ چھوٹی سی رسم ادا کی گئی ۔۔ اور ساتھ میں شادی کی ڈیٹ فکس کردی گئی ۔۔۔ اسفند تو ہواؤں میں اڑ رہا تھا ۔۔۔
میں بہت خوش ہوں ۔۔ ایک ساتھ نند اور دیورانی بن گئی ہوں ۔۔ ادینہ خوشی سے ملیحہ اور اسفند کے گلے لگی ۔۔۔
مجھے بھی چاچو کی دلہن سے پیار کرنا ہے ۔۔۔سب لوگ ملیحہ کو گلے لگا کر پیار کر رہیں تھے ۔۔۔ تو حورم کہاں پیچھے ہٹتی ۔۔۔ اسے بھی اپنا حصہ وصول کرنا تھا ۔۔۔
آجا چاچو کی جان ۔۔۔ اسفند نے اسے ملیحہ کی گود میں بٹھایا ۔۔۔۔۔ ملیحہ نے اسے گالوں پر پیار کیا ۔۔۔ تو حورم نے شرما کر چہرہ چھپایا ۔۔ سب ایک اس ادا پر ایک ساتھ ہنسے ۔۔۔۔
پھر صارم ملیحہ کے قریب ایا ۔۔۔ اور خود سے لگایا ۔۔ تیار ہوجاو میرے سنکی دوست کو برداشت کرنے کے لئے ۔۔۔۔ ویسے خوب جوڑی جمے گی جب مل بیٹھیں گے دو سر پھرے ۔۔۔۔
پھر سب لوگ خوشی خوشی واپس گھر کی طرف چل دئے۔۔۔
••••••••••••••••••••••••••••••••
