Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282 Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 18)
No Download Link
Rate this Novel
Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 18)
Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan
صارم شاک کی کیفیت میں محبت کی اس دعویدار کو ساکن نظروں سے تک رہا تھا ۔۔ اگر وہ ایک قدم بھی صارم کی طرف بڑھانے کی کوشش کرتی یا اسے پکارتی تو وہ اس کی ڈھال بن جاتا۔۔۔ مگر یہاں اگر ایک طرف باپ سمان بھائی ہے تو دوسری طرف مجازی خدا اور وہ اتنی جلدی وہ ہار مان رہی تھی ۔۔۔
جبکہ سامنے کھڑی ادینہ کے لئے بھی یہ کڑی آزمائش کا وقت تھا ۔۔۔ کہ وہ آج محبت کے رشتے کو خونی رشتے پر فوقیت دے گی ۔۔۔ یا خون کے رشتے کی ڈور تھامے گی ۔۔۔۔
ذیادہ رونے کی وجہ سے ادینہ کی طبیعت پھر سے بگڑنے لگی ۔۔۔اسی کشمکشِ میں سر پر ہاتھ رکھ کر گرنے والی تھی کہ صارم نے آگے بڑھ کر اسے باہوں میں بھر لیا۔۔۔
نہیں ادینہ ۔۔۔ پلیز آج نہیں۔۔ آنکھیں بند نہیں کرنی ۔۔ پلیز اپنے بھائی کو بول دو کہ تم صرف میری ہو ۔۔۔صارم ادینہ کے چہرے کو لرزتے ہاتھوں سے نرمی سے تھپتھپا رہا تھا ۔۔۔ اس کی گرفت ادینہ کے گرد مضبوط ہوگئی ۔۔ چہرے پر چھایا تفکر بڑھنے لگا ۔۔ امید کے دھاگے ٹوٹنے لگے تھے۔۔۔ادینہ کے ہواس مفلوج ہوگئے اور اس کی باہوں میں جھول گئی۔۔۔
مسز فاروقی نے احمد کے آنے کے تھوڑے بعد ہی اسفند کو ٹیکسٹ کیا تھ ۔۔۔ وہ جانتی تھی اسفند کا ساتھ صارم کے لئے بہت ضروری ہے ۔۔۔ اسی اثنا اسفند دوڑ کر اندر آیا تو ادینہ بے ہوش صارم کے باہوں میں زمین پر پڑی تھی۔۔ اور اسکا بھائی خونخوار نظروں سے صارم کی جنونیت دیکھ رہا تھا۔۔۔
صارم ادینہ کو کیا ہوا ہے ؟؟ اسفند ان کے قریب آکر زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھتے پریشانی سے بولا۔۔۔
ابھی تو میں جا رہا ہوں ۔۔۔ لیکن بہت جلد اپنی بہن کو تم لوگوں کی زندگی سے واپس لے جاؤں گا ۔۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ایس پی صارم فاروقی صاحب ۔۔۔ جتنی تڑپ میں نے تمہاری آنکھوں میں ادینہ کے دور جانے کا ابھی دیکھا اسی تڑپ کو میں نے تمہارا مقدر بنانا ہے ۔۔۔ احمد نے غصیلے اور طنزیہ لہجے میں چبا چبا کر کہا۔۔۔
وہ چلا گیا ۔۔۔ تو صارم کی جان میں جان آگئی ۔۔ وہ بے ہوش ادینہ کو روم میں لے کر گیا۔۔۔ اسفند بھی اس کے ہمراہ تھا۔۔۔
روم میں پہنچ کر اس نے ادینہ کو بیڈ پر لٹایا اور اس کے اوپر کمبل سیٹ کرکے اشارے سے اسفند کو گیلری میں آنے کا کہا ۔۔۔
اسفند یہ ادینہ کا بھائی…… صارم ابھی کچھہ اور بھی بول رہا تھا ۔۔ کہ اسفند نے اس کی بات کاٹ دی۔۔۔
ادینہ کا بھائی یعنی احمد سردار حیات خان کا بندہ ہے ۔۔ مختصر ورڈز میں کہا جائے تو رائیٹ ہینڈ ۔۔۔ میں ادینہ کے بارات والے دن اس کے بھابھی کے روم میں ایک ارجنٹ کال پک کرنے گیا تھا ۔۔۔ تو وہاں مجھے احمد کی پکچر فوٹو فریم میں دکھی ۔۔۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں نے اس آدمی کو کہیں دیکھا ہے۔۔۔ مگر یاد نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔
پھر بارات کے بعد جب میں گھر گیا۔۔اور اپنا کیس سٹڈی کر رہا تھا ۔۔۔ تو مجھے حیات خان کے جن جن بندوں کی فوٹوز ملی تھی اس میں ادینہ کے بھائی کا فوٹو بھی تھا۔۔۔
تب مجھے زور کا جھٹکا لگا تھا۔۔ میں تمہیں بتانے والا ہی تھا۔۔۔ بیرون ملک حیات خان کے سارے کالے دھندے احمد ہی سنبھالتا ہے ۔۔۔۔ جس وقت ادینہ کی مدر کی ڈیتھ ہوچکی تھی احمد پولیس کسٹڈی میں تھا مگر حیات خان کی اسٹرونگ پوزیشن اور پاور کی وجہ سے اسے رہائی ملی ۔۔۔ وہ آج صبح پہنچا پاکستان تو سب سے پہلے وہ اپنے کارندوں سے ملنے گیا تھا۔۔ اہم رکن سفیان مسنگ تھا ۔۔۔ جوکہ آج کل میرا خاص الخواص مہمان ہے ۔۔۔تب اسے پتہ چلا کہ اس کے ساتھ کام کرنے والے کچھ لوگوں کو ایس پی صارم فاروقی نے جیل بھجوایا ہے۔۔۔ اور وہ صارم فاروقی کوئی اور نہیں اسکا بہنوئی ہی ہے ۔۔۔ اس لئے پہلی فرصت میں وہ یہاں آگیا تاکہ ادینہ کے تھرو وہ خود کو اور اپنے بندوں کو باحفاظت چھڑا کر نکل جائے ۔۔۔۔۔
اسفند نے جتنی انفارمیشن کلیکٹ کی تھی۔۔ سب بتائی۔۔۔
اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ سفیان کے غائب ہونے میں بھی تمہارا ہاتھ ہے۔۔۔۔ مگر وہ نہیں جانتا کہ یہ کیس پولیس نہیں ایجنسی والوں کے ہاتھ لگا ہے ۔۔۔
اوہوووو ۔ ۔۔۔ میری لائف میں کبھی سکون ہوگا بھی کہ نہیں ۔۔۔ پتہ نہیں ایسی کون سی غلطی سرزد ہوئی ہے کہ اتنی بڑی سزا مل رہی ہے مجھے ۔۔۔۔۔ ادینہ تو یہی سمجھتی ہے نہ کہ اس کے بھائی کو میرے بچوں سے پروبلم ہے۔۔۔ لیکن وہ اپنا گھناونا چہرہ اس سے چھپا کر ادینہ کو مجھ سے بدظن کرنے کی کوشش کرے گا ۔۔۔ اور یہ سب چھوڑ ادینہ کو اگر پتہ چل گیا کہ اس کا بھائی بھی سفیان کے ساتھ ملا ہوا ہے۔۔۔ وہ کوئی محنت مزدوری کرنے باہر نہیں گیا تھا ۔۔۔۔ تو۔۔۔۔ یار کچھ سمجھ نہیں ارہا۔۔۔ صارم کا دماغ ماؤف ہو رہا تھا ۔۔۔۔
۔
اچھا کول۔۔۔ ہم سوچتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔۔ میرا نیکسٹ ٹارگٹ احمد ہی ہے۔۔ لیکن ہمیں پہلے ادینہ کو اعتماد میں لے کر اسے سچ بتانا ہوگا۔۔پھر میں احمد پر ہاتھ ڈال سکتا ہوں۔۔۔ میرے پاس اس کے خلاف سارے ایویڈنس موجود ہے مگر ادینہ اپنے بھائی کی اچانک گرفتاری ہمارا انتقام سمجھے گی ۔۔۔۔
تمہیں جو کرنا ہے تم کرو وہ میرا دردسر نہیں۔۔میں نے اپنے دل کے ہزار پردوں میں اپنی محبت کو چھپایا ہے۔۔۔۔ جو میں نے ادینہ پر بھی عیاں نہیں کیا ہے۔۔۔ اور ایک لمحے میں اسکے بھائی نے میرے جزبات تک بآسانی رسائی حاصل کی ۔۔۔۔ اگر اس نے ادینہ کو مجھ سے دور کرنے کی کوشش کی یا میری خوشیوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو میں اسے اوپر پہنچانے میں ایک سیکنڈ نہیں لگاؤں گا۔۔۔۔
جب وہ ادینہ کا ہاتھ پکڑ کر لے جا رہا تھا تو میں اس ایک لمحے میں ہزار موتیں مرا ہوں اسفند ۔۔۔ میں اسے ایسی بھیانک موت دوں گا۔۔ جس کا اس نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔۔۔غم و غصہ نے صارم کے کنپٹیوں کی رگیں پھڑکنے لگی ۔۔۔۔
۔
اوکے ریلکس ۔۔۔تم ادینہ کو اپنے پیار اور ساتھ کا یقین دلاو ۔۔۔ مزید اسے اندھیرے میں رکھا تو اسے کھو دو گے۔۔۔ اپنے سچے جذبے آشکارا کردو اس کے سامنے ۔۔۔ اپنے رنگ میں رنگ دو اسے ۔۔۔ اسے اتنا پیار دو کہ اسے کسی دوسرے کے پیار کی ضرورت ہی نہیں پڑے ۔۔۔ باقی خود سمجھدار ہو۔۔۔
اور اب میں چلتا ہوں۔۔ تم ادینہ کا خیال رکھو۔۔۔اسفند یہ کہہ کر چلا گیا۔۔۔
صارم ادینہ کے پاس آگیا تو وہ ابھی تک بے ہوش تھی ۔۔۔ ولیمہ کا ڈریس پہنے ۔۔ مٹا مٹا میک اپ جو زیادہ رونے کی وجہ سے جگہ جگہ سے بہہ گیا تھا۔۔۔۔۔
اس نے بے ساختہ ادینہ کے بے ہوش وجود کو خود میں بھینچ لیا۔۔۔
میں تمہیں کہیں جانے نہیں دوں گا۔۔۔۔ تم میری زندگی کا قیمتی سرمایہ ہو۔۔۔ میں تمہیں اس طرح تمہارے بھائی کے گھناونے عزائم کے بھینٹ نہیں چڑھا سکتا ۔۔۔ اپنی پرچھائی بنا دوں گا تمہیں ۔۔۔ تمہارا بھائی خود غرض ہوگیا ہے ۔۔ اسے اپنے بیوی بچوں اور بہن کی زندگی اور خوشیوں سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔۔۔ وہ تمہاری وجہ سے مجھے اذیت دینا چاہتا ہے۔۔۔ خود پر تو برداشت کرلوں گا لیکن تمہیں اس کے سائے سے بھی دور رکھوں گا ۔۔۔
وہ ڈریسنگ روم چلا گیا۔۔۔ کبرڈ سے ایک سمپل سا ارام دہ لباس لے کر آیا۔۔ سب سے پہلے اس نے ادینہ کو چینج کروانا تھا۔۔۔ ایک تو اس کی طبیعت خراب تھی اوپر سے یہ برائیڈل ڈریس۔۔۔ ادینہ کے بار بار بے ہوش ہونے سے اسے ٹینشن ہو رہی تھی لیکن آج یہ بے ہوشی اس کے لئے غنیمت بن گیا ۔۔۔ اگر وہ اپنے ہوش و ہواس میں ہوتی تو یقیناً اپنے بھائی کے ساتھ چلی جاتی ۔۔۔
لائیٹ آف کر کے اس نے ادینہ کو چینج کروایا۔۔۔ پھر بالوں سے پنز وغیرہ ہٹاکر کھول دئیے ۔۔ مطمئن ہوکر خود چینج کرنے چلا گیا۔۔۔
•••••••••••••••••••••
وہ ہال سے تھکی ہاری گھر آئیں تو بچوں کو چینج کرواکر اس کے لئے دودھ گرم کرنے کچن کا رخ کیا۔۔۔ دودھ چولہے پہ رکھ کر وہ کھڑی گزرے وقت کے بارے میں سوچنے لگی تھی۔۔۔ اب کافی حد تک وہ پرسکون تھی۔۔ کہ ادینہ کو عزت کے ساتھ صارم کے سپرد کر دیا ۔۔۔
سوری ادینہ۔۔ مجھے معاف کرنا۔۔ میں نے صارم کے بیوی بچوں والی بات تمہارے بھائی سے چھپائی تھی لیکن تم بہت معصوم تھی بہت چیزوں سے انجان تھی ۔۔ میں جلد از جلد تمہیں مخفوظ ہاتھوں میں سونپنا چاہتی تھی ۔۔ تمہارے فرائض سے سبکدوش ہوکر اپنے بچوں کو لیکر یہاں سے جلد از جلد جانا چاہتی تھی ۔۔۔۔اسلئے میری نظر میں صارم سے بہترین انسان تمہارے لئے کوئی اور ہو بھی نہیں سکتا ۔۔۔
تمہارے پاس کوئی تو ہونا چاہیے تھا تمہیں سہارا دینے کے لئے ۔۔۔ اور صارم کی آنکھوں میں چھپے جذبے میں دیکھ چکی تھی۔۔۔
اسے وہ دن اچھی طرح یاد تھا جس دن ادینہ کی امی کی ڈیتھ ہوگئی تھی۔۔۔ اور اس نے احمد کو کال کرکے انفارم کردیا تھا۔۔۔ وہ اس ٹائم کہیں نظر بند تھا۔۔ اس نے لوگوں سے جھوٹ بولا تھا کہ اس کے پاسپورٹ میں کوئی مسئلہ ہے ۔۔۔شازمہ کا ایک کزن بھی پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ہے ۔۔۔ اس نے فوتگی کے اگلے دن شازمہ کو احمد کے کام کے بارے میں بتایا تو شازمہ کے لئے یہ بات کسی قیامت سے کم نہیں تھی۔۔۔اس کے شوہر کو اپنے گھر بچوں کی کوئی فکر نہیں تھی۔۔ اور اب اسے ادینہ پر ترس آنے لگا تھا۔۔ کہ اس کے پاس تو صرف ایک بھائی کا رشتہ بچا تھا۔۔۔ وہ بھی خود غرض بن چکا تھا ۔۔۔ اس نے خود صارم کا ساتھ دیا تھا ادینہ کو اپنانے میں۔۔۔ اس کے پاس مائیکے کا سپورٹ تھا۔۔۔اگر احمد پولیس کے ہتھے چڑھ بھی گیا تو اس کے بھائی سٹیبل تھے۔۔۔اس کو اور اس کے بچوں کو ایک اچھی لائف سٹائل دے سکتے تھے۔۔۔ لیکن ادینہ بالکل تہی دست رہ جاتی۔۔۔اس کے بھائی نے تو کبھی ماں کے جیتے جی حیر خبر نہیں لی ۔۔ نہ کبھی اس کی ضروریات کا خیال رکھا۔۔ ادینہ خود چھوٹے موٹے جابز کرکے اپنی اور اپنی ماں کی ضروریات کا خیال رکھتی۔۔۔۔
ادینہ میری دعا ہے کہ صارم کا پیار اور ساتھ تمہیں تمام عمر ملے۔۔ اور جتنے رشتے تم نے کھوئے ہیں وہ کمی صارم کا پیار پوری کریں ۔۔۔ میں کبھی اچھی بھابھی نہیں بن پائی تھی مگر آج میں نے اپنے تئیں ایک اچھی بھابھی کا فرض بخوبی نبھانے کی کوشش کی ۔۔۔۔
وہ جانتی تھی کہ اس کے شوہر کا ردعمل کافی جارہانہ ہوگا۔۔ وہ اپنے شوہر کو فیس کرنے کے لئے تیار تھی ۔۔۔ وہ مزید ایک ایسے انسان کے ساتھ ایک لمحہ بھی نہیں گزار سکتی۔۔ جو دوسری لڑکیوں کی عزتوں کے ساتھ کھیلتا ہے۔۔۔۔
یہ وہ شخص تھا جس سے شازمہ نے سچا پیار کیا تھا ۔۔ اتنا ارزاں نکلا میرا پیار کہ اس نے ہمیں چھوڑ کر غلط روش اختیار کرلی تھی۔۔شکر ہے اس کی ماں اپنے بیٹے کا یہ سفاک چہرہ دیکھنے سے پہلے اللّٰہ کو پیاری ہوگئی ورنہ اس کی موت کا ذمہ دار بھی بیٹا ہی ہوتا ۔۔۔سرد آہ بھر کر اس نے ہاتھ کی پشت سے اپنے انسو صاف کئے۔۔۔
بچوں کو دودھ دے کر سلایا تو خود گیٹ بند کرنے لگی تھی کہ احمد دندناتا ہوا گھر میں داخل ہوا۔۔۔
نہ سلام نہ دعا اور بیوی پر چلانا شروع کردیا۔۔۔ تمہاری ہمت کی داد دینے پڑے شازمہ بیگم۔۔
میری ہی اجازت کے بغیر میری بہن کو میرے آنے سے پہلے رخصت کردیا۔۔۔ مجھے اس کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔ لیکن میں نے صارم کی آنکھوں میں ادینہ کے لئے پاگل پن اور جنون دیکھا ہے۔۔ اپنی پاور کا غرور ہے نا اسے۔۔۔اب اس کی جنون کا فایدہ اٹھا کر میں نے اس کو زیر کرنا ہے ۔۔۔ اس کے غرور کو ملیامیٹ کرنا ہے۔۔۔۔۔۔
بس کردے احمد ۔۔۔ اور کتنا گروگے ۔۔۔۔ جس برائی کے دلدل میں تم پھنس چکے ہو وہ ایک دن تمہارے گلے کا طوق بن جائے گا۔۔۔دوسری لڑکیوں کی زندگیوں کوتو ناسور بنا چکے ہو اب اپنی بہن کا گھر اجاڑوگے۔۔ شازمہ نے اپنے تئیں اسے احساس دلانا چاہا ۔۔
ہوگیا تمہارا۔۔۔ یہ گھر میں نے بیج دیا ہے۔۔ تم کل یہ پیپرز ادینہ سے سائن کرواکر لانا۔۔۔ گھر بھی اماں نے پتہ نہیں کیا سوچ کر ادھا ادینہ کے نام کیا ہے ۔۔۔اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو میں ۔۔۔۔۔
تم کچھ کروگے یا نہیں۔۔ میں خود یہ گھر اور تمہیں چھوڑ کر جارہی ہوں۔۔۔طلاق بھجوانا ہو تو شوق سے بھجوا دینا ۔۔۔اور یہ گھر ادینہ کا بھی اتنا ہے جتنا تمہارا۔۔۔ اس گھر کے آنگن سے تم لوگوں کے بچپن اور والدین کی یادیں جڑی ہے۔۔ میں ادینہ کو اس پر سائن کرنے کی حماقت نہیں کرنے دوں گی۔۔۔ شازمہ اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے برہم ہوکر گویاہوئی ۔۔
تم نے زمانے کے اتار چڑھاؤ نہیں دیکھے ۔۔۔ یہاں محنت کرکے بس دو وقت کی روٹی مشکل سے ملتی ہے۔۔۔ باقی ضروریات کا قتل کر دیا جاتا ہے ۔۔۔ میں بھی تو گیا تھا محنت مزدوری کرنے۔۔۔ یہاں شریفوں کو ہر موڑ ہو زہریلے سانپ ڈستے ہیں۔۔ اور بالآخر اسے بھی زہریلا سانپ بننا پڑتا ہے۔۔ تم نکلو باہر تو سماج میں موجود بھیڑیے تمہیں نوچ نوچ کر ختم کر لیں گے۔۔۔ پھر خود ہی واپس آجاوگی۔۔۔احمد اسے بے معنی تاویلیں دینے لگا۔۔۔۔
اور ان بھیڑیوں میں تم بھی شامل ہو نہ ۔۔۔ اور کون سی آسائشیں دی آپ نے ہمیں ۔۔۔ تمہاری بہن گھر گھر جاکر بچوں کو پڑھاتی تھی ۔۔۔ کم از کم تم سے لاکھ درجہ اچھی تھی حلال کماتی تھی ۔۔۔ اور ہاں اگر کسی درندے کو بھگتنا پڑے تو اسے میں آپ کے کرموں کی سزا مان کر سہہ لوں گی ۔۔۔یہ کہہ کر وہ کمرے میں بند ہوگئی ۔۔۔
””””’*****”””””****”””’
صارم۔۔۔۔ ابھی وہ نیند کی وادیوں میں اترا ہی تھا کہ ادینہ کی نخیف آواز سماعتوں سے ٹھکرائی۔۔۔ تو اس کی نیند بھک سے اڑ گئی۔۔۔ ادینہ کو دیکھا تو وہ سسکی۔۔۔
صارم وہ بھائی ۔۔۔۔ ادینہ سے بولا نہیں جارہا تھا۔۔۔
وہ چلا گیا ہے ادینہ۔۔۔
وہ مجھ سے ناراض ہوکر چلا گیا ہے نہ۔۔۔۔۔ میرے پاس رشتے کے نام پر ایک بھائی تھا وہ بھی چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔ادینہ کی آواز میں درد بھرا شکوہ تھا۔۔۔
ادینہ ہم اسے منا لیں گے۔۔۔ آنکھیں چراتے ہوئے صارم نے ادینہ کو جھوٹی تسلی دی۔۔ اس کا بھائی اس کے زخمی جسم کو چھلنی کرنے پر تلا ہوا تھا۔۔۔وہ شدید اعصابی تھکن کا شکار تھا ۔۔
ادینہ میرے ساتھ ایک پرومس کرو۔۔۔ کچھ بھی ہو جائے تم مجھے چھوڑ کر نہیں جاوگی۔۔۔۔اس نے ملتجی لہجے میں کہہ کر ادینہ کو خود کے قریب کیا۔۔۔۔
میں آپ سے دور جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی صارم۔۔۔ آپ نے ابھی بتایا نا کہ ہم بھائی کو منا لیں گے۔۔ میں نے صرف بھائی کا رشتہ پایا تھا۔۔ اس کا پیار کبھی نصیب نہیں ہوا مجھے ۔۔ ابھی ملنے لگا ہے تو میں دوبارہ کھونا نہیں چاہتی۔۔۔مجھے بچپن سے بہت حسرت تھی کہ میرا بھائی مجھ سے پیار کرے ۔۔۔ میرے لاڈ اٹھائے۔۔۔ میرے لئے فکرمند ہو۔۔ آج میں نے اس کی آنکھوں میں اپنے لئے فکرمندی دیکھی ہے۔۔۔ ادینہ تڑپ اٹھی ۔۔۔۔
یہ فکرمندی نہیں ہے ادینہ وہ صرف تمہیں اپنی مفاد کے لئے استعمال کر رہا ہے ۔۔۔ کاش مجھ میں تمہیں سچ بتانے کا حوصلہ ہوتا تو میں تمہیں بتاتا کہ تمہارا بھائی لڑکیوں کی بے بسی او مجبوریوں کو خریدتا ہے ۔۔۔۔۔
••••••••••••••••••••••••
