Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282 Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 11)
No Download Link
Rate this Novel
Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 11)
Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan
وہ دونوں صارم کی بائیک پر بیٹھ کر کر اپنے مطلوبہ جگہ پر جارہے تھے ۔۔ اس کو اطلاع ملی تھی کی حیات خان کا وہ خاص آدمی کہاں پر ہے اس وقت ۔۔۔ وہاں پہنچنے پر تھوڑی دور صارم نے بائیک کھڑی کر دی ۔۔۔ دونوں اردگرد دیکھ کر اندر داخل ہوگئے ۔۔۔۔ ایک روم سے قہقہوں کی آوازیں آنے لگیں ۔۔ صارم نے تھوڑا سا دروازہ کھول کر دیکھا۔۔۔ تو شراب کی بوتلیں الٹی پڑھی تھی اور چھ سات آدمی نیم بے ہوشی کے عالم میں رنگ رلیاں منا رہے تھے۔۔ سب نشے میں چور تھے ۔۔۔ وہ آدمی ان میں موجود نہیں تھا ۔۔
اسفند نے آہستہ سے دروازہ باہر کی طرف سے لاک کردیا ۔۔۔ جبکہ اندر موجود لوگ نشے میں مست ارد گرد سے بیگانہ تھے ۔۔۔۔
وو یہاں نہیں تو کہاں ہے؟؟۔۔ تم شیور ہو جگہ یہی بتائی تھی نہ۔۔ صارم نے اسفند سے پوچھا۔۔
ہاں یہی جگہ ہے۔۔۔۔ تم اوپر جا کر کونہ کونہ چیک کرو ۔۔۔ میں نیچے دیکھتا ہوں۔۔۔۔اس نے صارم کو ہدایت دی ۔۔۔۔
صارم اوپر چلا گیا ۔۔۔۔ اسفند نیچے رومز کی تلاشی لینے لگا۔۔۔ سارے رومز حالی تھے ۔۔۔ اسفند کو تشویش لاحق ہوگئی۔۔ کیا ان کو دی گئی انفارمیشن غلط تھی یا پھر وہ آدمی دوبارہ فرار ہونے میں کامیاب ہوا ہے ۔۔۔ وہ واپس جانے لگا تھا کہ کسی چیز کے گرنے کی آواز سماعتوں سے ٹکرائی ۔۔۔
میں نے تو سارے رومز چیک کئے تھے پھر یہ آواز کہاں سے آرہی ہے ۔۔۔ اس کے قدم آواز کی سمت بڑھنے لگے۔۔۔۔
•••••••••••••••••••
ادینہ اپنے آپکو اس حیوان کے پنجے سے آزاد کرانے کے لئے تگ ودو کر رہی تھی۔۔۔۔ اس کی متلاشی نظریں ادھر ادھر کچھ ڈھونڈ رہی تھی ۔۔ کہ کچھ ملے اور اس کے سر پر دے مارے ۔۔۔ وہ ایک سٹور روم تھا ۔۔۔ وہاں کھانے کے چھوٹے چھوٹے برتن رکھے گئے تھے ۔۔ادینہ نے ایک باؤل اٹھایا اور جیسے ہی سفیان کا ہاتھ اس کی شرٹ کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔ اس نے سفیان کے سر پر وار کرنا چاہا لیکن سفیان نے پھرتی سے اس کا اپنی طرف بڑھتا ہوا ہاتھ روک لیا۔۔۔ اور باؤل اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گر گیا۔۔۔
سفیان نے ایک دوسرا زوردار تماچہ ادینہ کے منہ پر مارا ۔۔۔ وہ بن آب مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی ۔۔۔ اور ساتھ ہی وہ خلق کے بل چلائی ۔۔۔۔ کہ دھڑام سے کسی نے دروازے کو لات ماری اور کوئی اندر داخل ہوا۔۔۔
سفیان جو ادینہ پر جھکا ہوا تھا اس اچانک افتاد پر سیدھا ہوا اور آنکھوں میں غصے کا طوفان لئے پیچھے دیکھا۔۔۔۔ کیونکہ اس نے کافی پیسے دے کر ملازموں کو باہر بھیج کر ریسٹورنٹ حالی کروایا تھا۔۔۔۔
لیکن آنے والے انسان کو دیکھ کر اس کے سیٹی گم ہوگئی۔۔۔۔ وہ اس شخص کو کروڑوں میں بھی پہچان سکتا تھا ۔۔۔۔ اس شخص کی وجہ سے اس نے کئی منتھ اپنے گھر سے دور ایک ویران تاریک کوٹھری میں گزارے ۔۔۔ جہاں نہ بجلی تھی نہ پانی ۔۔۔ سفیان کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا۔۔۔ اچانک آنے والے کی نظر نیچے پڑے وجود پر پڑی تو بے ساختہ ٹھٹھک گیا۔۔۔ آنکھیں جیسے اس منظر پر جم سی گئی ۔۔ اسے ایسا لگا کہ اسکے پیروں تلے زمین کھینچ لی گئی ہو ۔۔۔ آنکھوں میں دہشت اترا۔۔۔وہ مدھم پڑتی سانسوں سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔یہی حال زمین پر پڑے وجود کا بھی تھا۔۔۔
ادینہ ۔۔۔۔ وہ اتنا تیز دھاڑا کہ ہر طرف ادینہ کے نام کی گونج سنائی دینے لگی ۔۔۔۔
اسفند بھائی ۔۔۔۔ ادینہ کچھ بولنے کے قابل نہیں تھی ۔۔۔ صرف ہونٹوں نے ہلکی سی جنبش کی۔۔۔۔
اسفند نہایت برق رفتاری سے سفیان پر اس طرح جھپٹا ۔۔۔ جس طرح ایک شکاری اپنے شکار کو دبوچتا یے ۔۔۔ کہ کہیں بھاگ نہ جائے۔۔۔
تمہاری اتنی ہمت کہ تم نے میری بہن کی عزت پامال کرنے کی کوشش کی۔۔۔
اسفند نے دیوانہ وار سفیان پر لاتوں اور گھونسوں کی بارش شروع کردی۔۔ بالوں سے پکڑ کر گھسیٹ گھسیٹ کر اسکا سر دیوار پر زور زور سے مارنے لگا۔۔۔
موقع ملتے ہی ادینہ جلدی سے اٹھی ۔۔ اور بے جان قدموں سے چل کر دروازے کے پیچھے چپک کر کھڑی ہوگئی ۔۔۔ اسفند پر جنونی کیفیت طاری تھی ۔۔۔ اس نے سفیان کو مار مار کر آدھ مودھ کردیا تھا ۔۔۔۔ اور پسٹل نکال کر اس کے کنپٹی پر رکھ کر گولی چلانے والا تھا کہ صارم تندی سے روم میں انٹر ہو گیا۔۔۔اور اس کے ہاتھ سے پستول چھین لیا۔۔۔
پاگل ہو کیا۔۔۔۔؟؟مارنا نہیں ہے اس خبیث کو۔۔۔زندہ پکڑ کر سچ اگلوانا ہے ۔۔۔ صارم نےدبے غصےسے اس کو ریلکس کرنے کی کوشش کی۔۔۔ لیکن وہ اپنے ہوش میں نہیں تھا ۔۔ دوبارا سفیان پر ٹوٹ پڑا۔۔۔
صارم اس نے میری بہن کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے ۔۔۔ میں اسے جان سے مار دوں گا۔۔ وہ ہذیانی کیفیت میں چلایا۔۔۔
بہن ۔۔۔ صارم نے تعجب سے پوچھا ۔۔۔
ہاں بہن ۔۔۔۔ ہمیں خبر دی گئی تھی نا کہ یہ بے غیرت انسان کسی لڑکی کو لیکر یہاں لنچ کرنے کارہا ہے وہ کوئی اور نہیں ادینہ ہی تھی ۔۔۔۔ سفیان کی آنکھوں سے خون چھلکنے لگا۔۔۔۔۔
اسفند نے دروازے کے پیچھے شکستہ حال کھڑی ادینہ کی طرف دیکھا تو صارم نے بھی اس کے نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو اسی پل اسے ایسا لگا جیسے اسکے سینے میں کسی نے تیزدھار چاقو گھونپ دیا ہو ۔۔۔۔
ادینہ کی بکھری حالت دیکھ کر وہ حواس باختہ اس کے پاس آیا۔۔۔ چہرے پر تھپڑوں کے نشان ۔۔ منہ پھٹا ہوا۔۔ آنکھیں آنسو سے لبریز اور رونے کی شدت سے سوجھی ہوئی ۔۔۔ تڑپتی ہوئی ادینہ کے گرد بازوؤں حمائل کرکے خود سے لگایا تو ادینہ ہچکیوں سے رونے لگی ۔۔۔۔۔
ہچکیاں بند ہونے لگی۔۔۔۔۔ اور وہ صارم کے باہوں میں ڈھے گئی ۔۔۔۔ اس کو باہوں میں اٹھا کر وہ باہر کی طرف جانے لگا تو ایک زوردار لات سفیان کے پیٹ میں ماری ۔۔۔ جس سے سفیان لڑکھڑاتے ہوئے نیچے بیٹھتا چلا گیا ۔۔۔
اسفند ۔۔۔ اس کو زندہ رکھنا ہے ۔۔۔ میں نے اس کو اپنے ہاتھ سے پل پل اذیت دینی ہے ۔۔ اس کا جینا دوبھر کرنا ہے ۔۔۔۔ اس نے میری عزت کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کی ہے۔۔۔ میں اسے تڑپا تڑپا کر ماروں گا ۔۔۔ یہ موت مانگے گا مگر میں مرنے نہیں دوں گا۔۔۔ یہ اب میرا مجرم ہے۔۔صارم نے اسفند کو تنبیہ کی ۔۔
اسفند نے اپنے گھر کی کیز صارم کو تھما دئے۔۔ اسکو اپنے یا ادینہ کے گھر اس خالت میں لے کر جانا مناسب نہیں ۔۔۔ کیونکہ وہ جس حالت میں تھی اسکے کردار کو مشکوک کروانے کے لئے کافی تھی۔۔۔۔
اسے میرے گھر لے جاؤ ۔۔ اپنی بائیک اس نے وہاں چھوڑی ۔۔۔ اورٹیکسی بک کر کے پاس پڑے ٹیبل کے اوپر سے چادر کھینچ کر ادینہ کے اوپر ڈال کر دوسرے دروازے سے نکل گیا۔۔۔
اسفند کے گھر آکر اس نے ادینہ کواسفند کے روم میں لٹایا ۔۔۔ اور خود پانی کا گلاس اس کے منہ سے لگایا۔۔۔۔
ادینہ ویک اپ ۔۔۔ اوپن یور آئیز پلیز ۔۔۔
صارم اس کے سامنے چئیر پر بیٹھ گیا ۔۔۔ تھوڑی دیر بعد ادینہ نے آنکھیں کھولیں ۔۔ تو انجان جگہ پر خود کو پا کر جلدی سے اٹھنے لگی ۔۔۔ سامنے صارم کو دیکھ کر پھر اس کے گلے لگ کر رونے لگی ۔۔۔۔
صارم سفیان نے میری ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی ۔۔ اگر اسفند بھائی وقت پر نہ آتے تو ۔۔۔۔ اس کی زبان اٹک گئی اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔۔۔۔اس سے آگے کا سوچنا بھی اس کے لئے سوہان روح تھا۔۔۔۔۔
ادینہ سوری یہ سب میری لا پرواہی کا نتیجہ ہے ۔۔۔ مجھے تمہاری حفاظت کرنی چاہیے تھی۔۔ میں کیسے بھول گیا۔۔۔ پلیز مجھے معاف کردو۔۔ صارم اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر کر بتا رہا تھا۔۔۔ صارم کو ایسا لگا کہ کسی نے اس کی جسم سے روح کھینچ لی ہو۔۔۔۔
صارم ۔۔۔ سفیان میری خالا کا بیٹا ہے ۔۔۔ بچپن سے ہماری بات طے تھی ۔۔۔ لیکن وہ بہت سے اللیگل کاموں میں ملوث ہیں ۔۔۔ اس لئے میں آج اس کو انکار کرنے گئی تھی تو اس نے میری ہی عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی ۔۔۔ صارم مجھے موت سے بہت ڈر لگتا ہے لیکن میں نےاس وقت بہت شدت سے موت مانگی تھی۔۔۔
ادینہ کی باتیں صارم کے دل پر گولیاں بن کر برس رہی تھی ۔۔۔اور اسے مزید خود میں بھینچا۔۔۔
صارم آپ اور اسفند بھائی وہاں کیا کرنے آئے تھے؟؟ ۔۔ادینہ نے کافی دیر بعد اپنے دل میں آنے والے سوال کو پوچھ لیا ۔۔۔۔
اسفند سفیان کی ہی مخبری کرکے ادھر آیا تھا ۔۔ یا شائد تمہیں بچانے اللّٰہ نے ہمیں بھیجا۔۔صارم نے مختصر سب کچھ بتا دیا ۔۔۔
سامنے دیوار پر اسفند کی پکچر آویزاں تھی۔۔ بلیک جیکٹ پہنے بلیک گلاسز لگائے وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔
یہ اسفند بھائی کی پکچر یہاں کیا کر رہی
۔۔؟؟ ادینہ پکچر کو غور سے دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔
کیوں کہ یہ کمرا۔۔ بلکہ پورا گھر تمہارے اسفند بھائی کا ہی ہے ۔۔۔۔ صارم بغور ادینہ کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ جاکر سفیان کا گلہ دبا دے جس نے اس کی ادینہ کو چھواکیسے۔۔۔۔
وہ خود کہا ہے ۔۔۔۔ ادینہ اسے اپنی طرف متوجہ دیکھ کر گڑبڑائی۔۔۔۔۔
وہ ابھی سفیان نامی شیطان کو جہنم رسید کرنے کا ڈیمو دے رہا ہوگا ۔۔۔۔۔ صارم نے اسکے ہونٹ کے نیچے جمے خون پر انگلی پھیر لی مگر وہ سوکھ گئی تھی ۔۔۔۔
بھابھی کو فون کرنا ہے ۔۔۔۔ اسے ٹینشن ہوگی۔۔۔ اس نے مجھے اکیلے جانے سے منع بھی کیا تھا۔۔۔ مگر مجھے نہیں معلوم تھا کہ سفیان میرا کزن وہ اتنا گھٹیا نکلے گا ۔۔۔ادینہ نے بھرائی آواز میں کہا۔۔۔
صارم نے آتے وقت ادینہ کا پرس اٹھایا تھا۔۔۔ اسکو واپس کرکے دوسرے روم میں گیا۔۔۔اور ادینہ نے فون کرکے اپنی بھابھی کو سب کچھ بتا دیا۔۔۔۔
میں نے ہزار دفعہ تمھیں منع کیا تھا کہ مت جاؤ اکیلے ۔۔۔۔ یا کسی کو ساتھ لے کر جاؤ مگر تم میری سنتی کہا تھی ۔۔ لیکن اللّٰہ کا شکر ہے کہ بروقت ان لوگوں نے آکر بچا لیا ۔۔۔ اس کی بھابھی بھی فکرمند ہورہی تھی ۔۔۔ اب سڑا رہے ساری عمر جیل میں ۔۔۔۔
اوکے بھابھی میں تھوڑی دیر بعد آتی ہوں ۔۔۔
صارم روم میں واپس آیا تو وہ جانے کے لئے کھڑی ہوگئی ۔۔
ویٹ کرو تم ۔۔۔ ارسلان اور اسفند آرہے ہیں ۔۔۔ پھر چلی جانا ۔۔۔ اسفند نیو عبایا لے کر آرہا ہے ۔۔ اس طرح جاؤگی تو ہزار سوال اٹھیں گے۔۔۔ اور ہاں اپنی فرینڈ کو یہاں بلانا ۔۔ میں اڈریس بتاتا ہوں ۔۔۔
اس کو کیوں بلانا ہے؟؟۔ادینہ نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا ۔۔۔
یار ایک تو سوال بہت کرتی ہو تم ۔۔۔ جتنا بولا ہے اتنا کرو ۔۔۔ صارم نے اسے ٹوکا۔۔۔
اس نے ملیحہ کو اڈریس سینڈ کر کے آنے کا کہا۔۔۔۔
تقریباً آدھے گھنٹے بعد ارسلان آگیا۔۔ یونیفارم میں ملبوس ۔۔۔
ما شاءاللہ ارسلان بھائی تو بہت پیارے لگ رہے ہیں ۔۔۔دل میں اس کی نظر اتاری۔۔۔
اسلام وعلیکم ۔۔ اس نے سلام کیا۔۔ تو ادینہ اور صارم نے مشترکہ جواب دیا۔۔
تم ٹھیک ہو نہ ۔۔۔ دو دو بھائیوں کے ہوتے ہوئے تم ایک کرمنل سے اکیلے ملنے کیوں گئی تھی گڑیا۔۔۔ تمہیں نہیں پتہ وہ ہوس کا بھوکا لڑکیوں کی اسمگلنگ کرتا ہے۔۔۔۔اور اسکا ارادہ تمہیں ۔۔۔۔۔۔
ارسلان آگے سے بھی کچھ بول رہا تھا کہ صارم نے اس کی بات درمیان میں کاٹ دی۔۔۔۔
ارسلان تم چیک کرو یہ اسفند کہا رہ گیا ہے ۔۔۔ منع بھی کیا تھا قانون کے دائرے میں رہ کر کام کیا کرو مگر اپنے غصے پر اسے کنٹرول نہیں۔۔۔۔
سوری بھائی ۔۔ ادینہ تو ویسے بھی پچھتا رہی تھی۔۔۔
اسفند بھی آگیا تھا ۔۔ تھوڑی دیر بعد ملیحہ بھی پہنچ گئی۔۔۔۔
ملیحہ نے اسفند کو دیکھا ۔۔۔ تو خلق تک کڑوا ہوگیا ۔۔۔
تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟؟ ملیحہ نے غصے سے پھنکارتے ہوئے اسفند سے پوچھا۔۔۔
گڈ کوئسچن ۔۔۔۔ میں تم سے ملنے تمہارے گھر آیا ہوں ۔۔۔ اسفند نے دوبدو جواب دیا ۔۔۔۔
مگر یہ تو میرا گھر نہیں ہے ۔۔ سنکی انسان ملیحہ نے جلدی سے جواب دیا ۔۔۔۔
یہی تو ۔۔۔ جب کسی کے گھر میں ، کسی کے کمرے میں کھڑے ہو کراس سے اس طرح کا سوال پوچھو گی۔۔ تو جواب یہی ملے گا نہ ۔۔
اسفند کے دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے اسے اپنے گھر میں دیکھ کر کر۔۔۔ لیکن مزہ بھی آتا
تھا اسے چھیڑنے میں۔۔۔
تمہارا گھر؟؟؟ ملیحہ تو گھر کی خوبصورتی دیکھ کر سکتے میں تھی۔۔۔
جی ہاں ۔۔ میرا گھر ۔۔۔ اسفند نے تائید کی ۔۔۔۔۔
وہ دونوں پھر سے سٹارٹ ہوگئے تھے اور ارسلان ، صارم اور ادینہ دونوں کو پاگلوں کیطرح لڑتے دیکھ رہے تھے ۔۔۔
اسفند ۔۔۔۔ صارم نے آنکھیں دکھا دی تو وہ چپ ہوگیا ۔۔۔
ارے آپ ۔۔۔ آپ تو وہ نیو ایس پی صاحب ہے نہ ۔۔۔ کیا نام تھا۔۔۔ ہاں ہاں صارم فاروقی ۔۔۔ ہائے پکچرز سے ذیادہ رئیل میں آپ ہاٹ لگ رہے ہیں ۔۔۔ ملیحہ کچھ زیادہ آکسائیڈ تھی ۔۔۔ آپ مجھے چٹکی کاٹے کہیں میں کوئی سپنا تو نہیں دیکھ رہی ۔۔۔ وہ بغیر سوچے بول گئی ۔۔۔۔
صارم کو کھانسی شروع ہوئی ۔۔۔ ارسلان بھی مسکرا رہا تھا۔۔۔ اور سب سے برا حال اسفند کا تھا۔۔جو اس کے سامنے اس کے دوست پر لائن مار رہی تھی ۔۔
ملیحہ ۔۔۔ ادینہ نے پکارا ۔۔ تو وہ جا کر اس کے پاس بیٹھ گئی۔۔ کیا آفت آن پڑی تھی کہ اتنی جلدی میں بلایا ۔۔۔۔ گاڑی بھی نہیں تھی۔۔۔ ٹیکسی کروا کے آئی ہوں ۔۔۔ ملیحہ عادت سے مجبور فر فر شروع ہو گئی تھی ۔۔۔
شکر ہے آج گاڑی لے کر نہیں آئی ورنہ آج تو گاڑی کے ساتھ ساتھ میں بھی خدا کو پیارا ہوجاتا ۔۔۔اسفند نے شکر ادا کیا۔۔۔
ارسلان کو دونوں کے لڑنے کی وجہ سمجھ میں آگئی۔۔۔
میں نے نہیں صارم نے بلایا ہے ۔۔۔ ادینہ نے صارم کی طرف اشارہ کرکے بتایا ۔۔۔
اسفند کو کسی نے کال کی وہ پک کرنے باہر نکل گیا۔۔ صارم نے ملیحہ کو سائیڈ پر بلایا۔۔اور آج کی مکمل روداد سنائی ۔۔۔
اسفند واپس اندر آیا تو اس کے ہاتھ مںں ایک خوبصورت ایمبرائیڈرڈ شال تھی۔۔۔ اس نے ادینہ کے سر پر اڑھایا۔۔۔۔
صارم مولوی صاحب آ گئے ہیں ۔۔۔ ارسلان نے صارم سے کہا ۔۔۔ تو ادینہ چونک گئی ۔۔۔ مولوی صاحب کیوں ۔۔۔؟؟
کیوں کہ تمہارا نکاح ہو رہا ہے صارم بھائی سے ۔۔۔ ملیحہ نے سب کی مشکل آسان کردی ۔۔۔
واٹ ۔۔۔ ادینہ اپنی جگہ سے اچھلی ۔۔۔
تم خاموشی سے بیٹھ جاؤ ۔۔۔ بس تین بار قبول ہے بولو ۔۔۔ پھر باقی باتیں بعد میں کرتے ہیں ۔۔ ملیحہ دادی اماں بن کر اسے ہدایات دے رہی تھی ۔۔۔
صارم بھائی سے پیار کرتی ہو نا؟؟ ملیحہ نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا تو ادینہ نے سر جھکا لیا۔۔۔
مطلب ہاں تھا۔۔۔
صارم نے کچھ سوچ کر ہی ملیحہ کو بلایا تھا۔۔ اسے پتہ تھا کہ ادینہ کو وہی ہینڈل کر سکتی ہے ۔۔۔
مولوی صاحب کو اندر بلایا گیا ۔۔۔ ادینہ کی طرف سے ارسلان اور اسفند گواہان کے طور پر تھے۔۔اور صارم کی طرف سے کچھ اور دوست۔۔
نکاح ہو گیا تو مبارک باد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔۔۔
ادینہ سن سی بیٹھی تھی ۔۔۔ کیا میں کوئی خواب دیکھ رہی ہوں ۔۔۔ یا حقیقت میں میرے نام کے ساتھ صارم کا نام جڑ گیا ہے۔۔۔۔
سب لوگ جان بوجھ کر باہر چلے گئے ۔۔ تو صارم ادینہ کے پاس آگیا ۔۔
مجھے پتہ ہے کہ سب کچھ اتنی جلدی میں ہو گیا۔۔ تم مینٹلی تیار نہیں تھی ۔۔۔ مگر میں اب کوئی اور رسک نہیں لے سکتا ۔۔ آج جو بھی ہوا ۔۔۔ وہ میں دوبارا برداشت نہیں کر پاؤں گا ۔۔
اینڈ ٹرسٹ می ۔۔۔ مرتے دم تک تمہارا ساتھ دوں گا اور تمہاری حفاظت کروں گا ۔۔۔
ادینہ نے سر جھکایا ۔۔ صارم نے ادینہ کو ٹھوڑی سے پکڑ کر اس کا سر اوپر اٹھایا اور ماتھے پر محبت کی پہلی مہر ثبت کردی۔۔۔
*****”””””””””**********
