Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282 Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 22)

68.3K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 22)

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan

موبائل کی چنگاڑتی آواز نے اس کی نیند میں خلل ڈالا ۔۔۔ اور ساتھ میں اسے کوئی ہلکا ہلکا جھنجھوڑ کر اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔

ادینہ اٹھو ۔۔۔ تمہاری بھابھی کا فون ہے ۔۔۔ لو بات کرلو ۔۔۔ صارم نے اسے موبائل تھمایا تو بھک سے نیند اڑ گئی ۔۔۔۔

السلام وعلیکم بھابھی ۔۔۔۔ نیند سے بوجھل آواز میں کہا ۔۔۔۔

وعلیکم السلام ۔۔۔ ادینہ کیسی ہو ۔۔

میں ٹھیک ہوں بھابھی۔۔۔۔ اتنی صبح ۔۔۔ خیریت تو ہے نہ۔۔۔ آپ ٹھیک ہے ۔۔۔ بچے ۔۔۔

ہم تو ٹھیک ہے لیکن تمہارے بھائی کو رات میں پولیس اٹھا کر لے گئی ہے ۔۔۔ تمہیں پتہ چل گیا ہوگا ۔۔۔ کہ وہ کس قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھا ۔۔۔

ہاں بھابھی ۔۔۔ یقین ہی نہیں ہورہا ۔۔۔ بھائی اس طرح بھی کرسکتے ہیں ۔۔۔ ادینہ کی آواز رندھ گئی ۔۔۔

کر چکا ہے ادینہ ۔۔۔ اور مجھے تھوڑا سا بھی رنج و ملال نہیں ہے اس کے گرفتار ہونے کا ۔۔۔۔ اسلئے تو تمہیں فون کیا کہ اگر تم نے تھوڑی سی بھی گریہ وزاری کی اس کے لئے تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔۔ اپنے گھر اور شوہر پر توجہ دو ۔۔۔ مزید کسی بے وقوفی کا سوچنا بھی مت ۔۔۔ اور ہاں شمیم خالا کی کال آئی تھی ۔۔ کہ پولیس نے گھر پر چھاپہ مارا تھا۔۔۔ پورے گھر کا خلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا ہے ۔۔۔۔ اس نے پڑوسن کا نام لیا ۔۔۔

تم صارم کے ساتھ گھر جاؤ ۔۔۔۔ میں بھی آجاتی لیکن ایان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔

بھابھی آپ کہاں تھی رات میں ؟؟؟ پولیس والوں نے آپ لوگوں کو کچھ کیا تو نہیں ۔۔۔ ادینہ کو انجانا خوف لاحق ہوگیا ۔۔۔

میں کل ہی وہ گھر چھوڑ کر امی کی طرف آگئی تھی ۔۔ جب صارم کو پیپرز دئے تھے۔۔۔ ڈونٹ وری قانون صرف مجرموں کو تختہ دار پر لٹکاتے ہیں معصوم اور مظلوموں کو پلکوں پر بٹھاتے ہیں ۔۔۔ آخر میں اسکی بھابھی نے شرارت سے کہا ۔۔۔

ادینہ پھر سے رونے لگی ۔۔۔ ایک طرف بھائی کا دکھ اب بھابھی کا گھر چھوڑ کر جانے کا غم ۔۔۔ مائیکہ اجڑ گیا تھا ۔۔۔۔

بھابھی آپ بھی چلی گئی ۔۔۔ میرا کیا ہوگا ۔۔۔اور کہا صارم نے پلکوں پہ بٹھا کر رکھا ہے ۔۔۔ مجھ سے شدید قسم کی ناراضگی چل رہی ہے ۔۔۔ پکا پولیس والا بن کر اکڑ دکھا رہے ہیں ۔۔۔۔ بات ہی نہیں کرتے ۔۔۔ وہ تو ایسا باور کروا رہے ہیں کہ اس کی زندگی میں میری موجودگی کوئی معنی نہیں رکھتی ۔۔۔ ادینہ نے شکایتوں کے انبار لگا دئیے ۔۔۔۔

صارم بس وقتی غصہ ہیں ۔۔۔ زیادہ دیر تک خفہ نہیں رہ سکتے تم سے ۔۔ ٹینشن مت لو ۔۔۔ شازمہ خود کڑے اور مشکل دور سے گزر رہی تھی لیکن ساتھ ادینہ کو بھی دلاسہ دے رہی تھی ۔۔۔۔۔

اوکے بھابھی ۔۔۔

اپنا خیال رکھنا ادینہ ۔۔۔ اللّٰہ خافظ ۔۔۔۔ میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں ۔۔۔

اپنے روم میں آئی تو صارم بالکنی میں کھڑا تھا ۔۔۔ یہ لے آپکا فون ۔۔۔۔ وہ میرے فون کی بیٹری کو ہوگئی تھی تو آپ کے فون پر کال کیا بھابھی نے ۔۔۔۔

بھابھی بول رہی تھی ۔۔۔ بھائی کو پولیس پکڑ کر لے گئی ہے ۔۔۔ اور بھابھی بھی گھر چھوڑ کر اپنے مائیکے چلی گئی ہے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ۔۔۔ ادینہ خود پر ضبط کرکے بول رہی تھی ۔۔۔

ہمممم ۔۔۔ جانتا ہوں ۔۔۔۔ صارم نے بغیر اسے دیکھے جواب دیا ۔۔۔۔

آپ کو سب کچھ پتہ ہوتا تھا ۔۔۔ بس مجھے بتانے کی زحمت نہیں کرتے ۔۔۔۔ ادینہ کا پھر سے دل بھر ایا ۔۔۔۔

وہی تو ۔۔۔ پہلے بتا دینا چاہے تھا سب کچھ ۔۔۔ نا بتانے کی سزا تو بھگت رہا ہوں ۔۔۔۔۔

صارم آپکے ہاتھ میں یہ ۔۔۔۔ یہ روم میں سمل ۔۔۔۔ آپ پ ۔ اسموکنگ بھی کرتے ہیں ؟؟؟؟ ادینہ نے گہرا سانس لے کر کہا ۔۔۔۔

ہاں تو ۔۔ سب کرتے ہیں ۔۔۔ کوئی بڑی بات نہیں ۔۔۔ صارم کی آنکھیں رت جگے کی چغلی کھا رہی تھی ۔۔۔۔

آپ تو نہیں کرتے تھے پہلے ۔۔۔ میں نے نہیں دیکھا آپکو ۔۔۔ نا میں جانتی تھی ۔۔۔۔ ادینہ بے یقینی کا شکار تھی ۔۔۔

تم تو یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ میں ایک بے اعتبار جھوٹا اور لالچی شخص ہوں ۔۔۔۔ جب اسے پتہ چل ہی گیا تھا تو کیا فایدہ تھا چپ کر پینے کا ۔۔۔ صارم نے گہرا کش لیکر دھواں اس کے منہ پر چھوڑ دیا ۔۔۔۔

صارم بس کردے ۔۔۔ ایک ہی دفعہ میں مار دے مجھے ۔۔۔ روز روز مرنے سے تو بچ جاوں گی ۔۔۔ کیوں پل پل اذیت دے رہے ہیں آپ مجھے ۔۔۔ ادینہ کے صبر کا پیمانہ ٹوٹ گیا اور پھٹ پڑی ۔۔۔

قاتل نہیں ہوں میں ۔۔۔۔ وہی ازلی لاپروہ انداز ۔۔۔۔

آپ پلیز یہ پھینکئے ۔۔۔ میرا دم گھٹ رہا ہے ۔۔۔ادینہ نے اس کے ہاتھ میں پکڑے سیگریٹ کی طرف ہاتھ بڑھایا مگر صارم نے روک دیا ۔۔۔۔

تو کیوں کھڑی ہو یہاں میرا دماغ پکانے ۔۔۔۔ اتنا بڑا گھر ہے ۔۔۔ کہیں اور جاکر بیٹھ جاؤ ۔۔۔ صارم نے تو ڈھٹائی کی حد کردی ۔۔۔۔۔

آپ کا گھر ہے اس لئے اتنے اترا رہے ہیں نہ ۔۔۔۔ ٹھیک ہے میں ہی چلی جاتی ہوں ۔۔۔۔ ادینہ نے دھمکی دی جس کا صارم پر کوئی اثر نہیں ہوا ۔۔۔

کبھی فرصت میں نکاح نامہ ایک دفعہ غور سے لفظ بہ لفظ پڑھ لیجئے گا ۔۔۔ یہ گھر تمہارے نام کر دیا ہے ۔۔۔ وہ کیا ہے تمہارا گھر ہڑپنا تھا نہ مجھے اس پر نظر رکھی ہوئی تھی ۔۔۔ کہاں صارم بلا ضرورت بولتا ہی نہیں تھا اور اب کہاں اتنی لمبی چوڑی طنزیہ نشانے لگا رہا تھا ۔۔۔

انف ۔۔۔ صارم آپ اپنی لمٹس کراس کر رہے ہیں اب ۔۔۔۔ آپ سے بات ہی نہیں کرنی اب مجھے ۔۔۔ اور خبردار جو مجھ سے بات کی اب ۔۔۔ ادینہ جاتے جاتے وارن کر گئی ۔۔۔ پیچھے صارم کے لبوں پر ایک دلکش مسکراہٹ امڈ آئی ۔۔۔۔

بات تو تم خود ہی کروگی مسز ۔۔۔۔ تمہاری نٹ کھٹ باتیں تو میرا سکون ہے ۔۔۔۔

••••••••••••••••••••••••••••••

کچن میں آئی تو ناشتہ تیار تھا ۔۔۔

ادینہ شکر ہے تم آگئی جلدی سے جاکر حورم کو چینج کروادو میں ناشتہ لگاتی ہوں ۔۔۔ آج دیر ہوگئی ۔۔۔

اوکے بھابھی ۔۔۔۔۔ ادینہ بھی اسکی ہیلف کرنے لگی ۔۔۔۔

حورم کو یونیفارم پہنا کر دو چوٹیاں بنا کر وہ ڈائننگ ٹیبل پر لے آئی ۔۔۔ تو صارم بھی آگیا تھا ۔۔۔۔

اسلام وعلیکم مما اینڈ پاپا ۔۔۔ ارمغان اور زارش بھی تیار ہوکر آگئے ۔۔۔۔

وعلیکم السلام ۔۔۔ مشترکہ جواب ملا ۔۔۔

ادینہ صارم کو مکمل اگنور کر رہی تھی ۔۔۔ وہ حورم کو بھی ناشتہ کروارہی تھی اور خود بھی کر رہی تھی ۔۔۔۔ اب حورم اس کے ہاتھ سے ہی کھاتی تھی ۔۔۔

مما آج آپ پھر آئیں گی سکول ۔۔۔۔ حورم نے ناشتہ کرنے کے بعد ادینہ سے پوچھا ۔۔۔

نہیں میرا بچا ۔۔۔ آج آپکی مما کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔ اور مما ڈیلی نہیں جاتی سکول ۔۔۔ بس کبھی کبھی جاتی ہے ۔۔۔ یہ دیکھیں ابھی بھی بخار ہے مما کو ۔۔۔ اس نے حورم کا چھوٹا سا ہاتھ پکڑ کر اپنے ماتھے پر رکھا ۔۔۔۔

پاپا آپ ڈاکٹر انکل کو بول دے مما کو کڑوی داوئی نا دے اور انجکشن بھی نہ لگائیں ۔۔ میٹھی دوائی دے ۔۔۔ پھر مما ٹھیک ہو جائے گی ۔۔۔

بیٹا تمہاری مما کو جو بیماری ہے نہ اسکے لئے دس دس انجیکشن بھی کم ہے ۔۔۔ وہ دوائی سے ٹھیک نہیں ہوگی ۔۔۔۔ صارم نے بظاہر سنجیدگی سے کہا مگر حنا اور ادینہ اسکی بات کا مفہوم سمجھ چکے تھے ۔۔۔۔ ادینہ کا خود پر جبر کرکے کچھ بولنے سے روکا ۔۔۔۔

صارم ۔۔۔۔ حنا نے صارم کو ٹوکا ۔۔۔۔

چلو بچوں صابر چاچا ویٹ کر رہے ہیں ۔۔۔ صارم نے ادینہ کی گود سے حورم کو اٹھایا اور خود گاڑی میں بچوں کو بٹھا کر واپس روم میں گیا اور کچھ لمحوں بعد تیار ہوکر گھر سے نکل گیا ۔۔۔

بھابھی ۔۔۔۔ احمد بھائی کو پولیس گرفتار کرکے لے گئی ہیں ۔۔۔ بھابھی کی کال آئی تھی کہ پورے گھر کو پھیلا کر رکھ دیا ہے ۔۔۔ سارا سامان تہس نہس کر دیا ہے ۔۔۔

اوہ۔۔۔۔ سو سیڈ ۔۔۔۔ حنا کو ادینہ کے لئے افسوس ہوا ۔۔۔ ابھی اور کتنی ازمائیشیں جھیلنی تھی اسے ۔۔۔ میں جارہی ہوں اپنے گھر ۔۔۔ سامان سمیٹ کر واپس آجاؤں گی ۔۔۔ وہ صارم کو باہر جاتا دیکھ چکی تھی مگر محاطب کرنے کی اس میں ہمت نہیں تھی ۔۔۔

صارم سے پوچھ کر جانا ۔۔۔ حنا نے یاد دلایا ۔۔

وہ میری سنتے ہی کہاں ہیں ۔۔۔ آپ ہی پھر بتا دیجئے گا ۔۔۔ دکھی دل کے ساتھ ادینہ نے کہا ۔۔۔

روم میں آکر عبایا پہنا اور باہر اگئی ۔۔۔

ادینہ صابر چاچا بچوں کو سکول لے کر گئے ہیں ۔۔۔ پھر اپنی بیوی کو چیک اپ کروانے لیکر جائیں گے تم یا تو تھوڑا ویٹ کرو صابر چاچا کا یا صارم کو کال کرکے واپس بلاؤ اور اس کے ساتھ چلی جانا ۔۔۔

صارم کو تو بولنے سے رہی اب میں ۔۔۔ جتنی منتیں کروں اتنا پھیلتا جا رہا ہے ۔۔۔ اب میں نے تہیہ کر لیا ہے اپنے کسی کام کے لیے انہیں زحمت نہیں دونگی ۔۔۔ انداز انتہائی خشک تھا ۔۔۔۔

حنا کے لبوں پر مسکراہٹ رینگنے لگی ۔۔۔۔

میں کیب کرکے چلی جاؤں گی ۔۔۔۔

سوچنا بھی مت ۔۔۔۔ تم ابھی تک صارم کو اتنا جانتی نہیں ورنہ اس طرح کبھی نہیں بولتی ۔۔۔۔ حنا نے تنبیہ کی ۔۔۔۔

ہاں ٹھیک کہتی ہے آپ ۔۔۔ میں ابھی تک پورا نہیں جان پائی انہیں ۔۔۔ ورنہ یہ بھی پتہ ہوتا کہ وہ اسموکنگ بھی کرتے ہیں ۔۔۔ وہ نگاہیں حنا بھابھی کے چہرے پر مرکوز کرکے کہنے لگی ۔۔۔

وہ واقعی اسموکنگ نہیں کرتا ادینہ ۔۔۔۔ تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی ۔۔۔ حنا کے بھنویں الجھن سے سکڑیں ۔۔۔

ادینہ پلکیں جھپکائیں بغیر تذبذب سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

تم نے کب اور کہاں دیکھا تھا اسے اسموکنگ کرتے ہوئے ادینہ ؟؟؟

آج صبح اپنے روم میں ۔۔۔ اس نے سراسیمگی سی کیفیت میں کہا ۔۔۔

ویسے اتنے سالوں سے تو میں نے نہیں دیکھا ۔۔۔ شائد ہمارے سامنے احتیاط برتتا ہو ۔۔۔ ویسے بھی وہ کم گو ہونے کے ساتھ ساتھ کافی سلجھا ہوا اور مہذب انسان ہے ۔۔۔ یہ غیر اخلاقی حرکتیں اسکی پرسنالٹی پر سوٹ نہیں کرتی ۔۔۔۔ بچوں کے لئے وہ ایک آئیڈل فادر ہے ۔۔۔ حنا نے ادینہ کو سوچوں میں گم دیکھ کر کہا۔۔۔

اگر تمہیں صارم کے ساتھ نہیں جانا تو اسفند کو کال کرلو ۔۔۔ مگر اکیلے میں تمہیں جانے نہیں دوں گی ۔۔۔

اوکے بھابھی ۔۔اسفند بھائی کو ہی بلا لیتی ہوں ۔۔۔ اور اسفند کو کال ملائی۔۔۔

آرہا ہوں میں ۔۔۔ اسفند نے جو کہ صارم کے ساتھ ہی بیٹھا تھا کہہ کر فون بند کردیا ۔۔۔

کہاں جارہی ہے ؟؟ بے تاثر لہجہ میں پوچھا گیا ۔۔۔

ناراض ہو کر جا رہی ہے تمہارے سسرال ۔۔۔ اسفند نے گاڑی کی کیز اٹھا کر اسے غور سے دیکھا ۔۔۔۔

صارم نے جیسے ہی پنچ مارنے کے لئے ہاتھ اٹھایا اس نے جلدی سے روک لیا ۔۔۔

جو بیوی تمہارے جیسے بدلخاظ شوہر کے رحم و کرم پر ہو اسے پھر ہم جیسے غریبوں کی خدمات لینی پڑتی ہے ۔۔۔ تم جو بار بار اس کو دھتکار رہے ہو نا اگر سچ مچ میں تمہیں چھوڑ کر چلی گئی تو ۔۔۔

نہیں جائے گی ۔۔۔۔ وہ مجھ سےجتنا دور جائے گی ہمیشہ سائے کی طرح مجھے اپنے تعاقب میں پائے گی ۔۔۔ ادینہ کا اس سے دور جانا ہی اس کے لئے سوہان روح تھا ۔۔۔۔ اس کی سانسیں بھی میری قیدی ہے ۔۔۔ تم جاکر اسے لے جاو ۔۔۔

••••••••••••••••••••••••••••

صلح ہوگئی ۔۔۔۔ اسفند نے اس کے پژمردہ چہرے کو دیکھ کر پوچھا ۔۔۔

نہیں ۔۔۔ جیسے آپ کو نہیں پتہ کہ آپکے دوست کتنے ضدی اور آنا پرست ہے ۔۔۔

ہاں ۔۔۔۔ صرف اپنی من پسند چیزوں اور لوگوں کے لئے ۔۔۔۔ ان کو کھونے سے ڈرتا ہے ۔۔۔ اسفند صارم کی حمایت میں بول اٹھا ۔۔۔۔

بھائی ۔۔۔ صارم اسموکنگ کرتے ہیں؟؟؟؟

اسموکنگ بھی کرتا ہے ۔۔۔ ڈرنک بھی ۔۔۔ اور ایک راز کی بات بتاؤں کبھی کبھی کوٹھے پر بھی جاتا ہے ۔۔۔۔ اور تو ۔۔۔۔۔ اسفند کی شرارتی رگ پھر سے پھڑک اٹھی ۔۔۔۔

بھائی۔۔۔ آئی ایم سیرئیس ۔۔۔۔ ادینہ نے اسکی بریک لگا دی ۔۔۔۔

نہیں کرتا ۔۔۔ میں اور ارسلان بس کبھی کبھار اسموکنگ کرتے ہیں ۔۔۔ وہ بھی بس شوقیہ ۔۔۔۔ جبکہ صارم ان فضول چیزوں کو ہاتھ بھی نہیں لگاتا ۔۔ اکثر ان کے ہاتھوں تو ہماری بھی درگت بن جاتی ہے ۔۔۔ ویسے تم کیوں پوچھ رہی ہو ؟؟؟

بس ویسے ہی ان کے بارے میں چھان بین کرنی تھی ۔۔۔۔ ادینہ نے اسے بتانا مناسب نہیں سمجھا ۔۔۔۔

یہ شادی سے پہلے ہوتی ہے چھان بین ۔۔۔ بعد میں پچھتاوا ہوتا ہے ڈئیر ۔۔۔۔

جسٹ کڈنگ ۔۔۔ میرا یار بلکل صاف اور کھرا انسان ہے ۔۔۔ لڑکیوں سے بھی کئی فٹ دوری رکھتا تھا ۔۔۔ یہ تو تم خوش قسمت ہو ۔۔۔ آگئی اور چھا گئی ۔۔۔۔

گھر کے دروازے پر ڈراپ کرکے ادینہ سے پوچھا ۔۔ کس وقت لینے آوں پھر ؟؟؟

فری ہوکر خود آپکو کال کر کے بلا لونگی ۔۔۔ ابھی اندازہ نہیں کتنا وقت لگے گا ۔۔۔

گھر کے اندر قدم رکھا تو ماحول میں سکوت چھایا ہوا تھا ۔۔۔ پورا گھر بکھرا پڑا تھا ۔۔۔ آنکھیں شدت گریہ سے سرخ ہو چکی تھی ۔۔۔ اپنی پچیس سالا زندگی اس نے اسی گھر کے آنگن میں گزاری ۔۔۔ آسائشیں نہیں تھی مگر ضروریات پوری ہوتی تھی ایک سکون تھا ۔۔۔۔ ماں باپ کے بغیر گھر کیسے ویران ہوجاتے ہیں آج حقیقی معنوں میں اسے سمجھ آیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔۔ جب دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہوا تو عبایا اتار کر ایک ایک چیز اپنی جگہ واپس رکھنے لگی ۔۔۔ جس طرح اس کی امی نے نفاست سے اس سادہ سے گھر کو محل بنایا تھا ۔۔۔۔ کتنی خوبصورت یادیں وابستہ تھی اس گھر سے ۔۔۔ چیزیں سمیٹنے کی کشمکش میں دوپہر کا کھانا کھانے کا بھی ہوش نہیں رہا ۔۔۔

صارم بے چینی سے کمرے میں ادھر ادھر ٹہل رہا تھا ۔۔۔ اب یہ تنہائی اسے کاٹنے کو دوڑ رہی تھی ۔۔۔۔ پہلے اسے اگنور کر رہا تھا اور اب وہ سامنے نہیں تھی دل سمبھل ہی نہیں رہا تھا ۔۔۔۔ دو دن ہوگئے شادی کے اب تک وہ دونوں ایک دوسرے سے فاصلے پر تھے ۔۔۔۔

شام تک پورا گھر اپنے اصلی حالت میں تھا ۔۔۔ اب بھوک سے انتڑیاں بھی بین ڈال رہی تھی۔۔۔

کچن میں گئی تو فریج خالی منہ چڑا رہی تھی ۔۔۔۔

پہلے شاور لوں ۔۔۔ اپنی الماری کھولی ۔۔۔ کپڑے نکالنے لگی تو اسی سوٹ پر نظر پڑی جو صارم نے اسے لے کر دیا تھا ۔۔ اور اس نے ایک دفعہ بھی نہیں پہنا تھا ۔۔۔ وہی سوٹ نکال کر فریش ہونے چلی گئی ۔۔۔۔

فریش ہوکر نماز پڑھی ۔۔۔ بالوں میں برش کرنے لگی۔۔۔

تو ہلکا سا گیٹ ناک ہوا ۔۔ شام کا ملگجا اندھیرا ہر سو پھیلا ہوا تھا ۔۔۔۔

اس وقت کون ہو سکتا ہے ؟؟؟.

دوپٹہ سر پر اوڑھ کر گیٹ تک آئی ۔۔۔ تو خالا شمیم کی آواز ائی ۔۔۔ ادینہ بیٹا کھانا لائی ہوں دروازہ کھول دے ۔۔۔

اس نے جلدی سے دروازہ کھولا ۔۔۔

یہ لو بیٹا صبح سے لگی ہوئی ہو ۔۔۔ کھانا کھا لو ۔۔۔۔

تھینکس انٹی ۔۔۔ آپ نے بلاوجہ زخمت کی ۔۔۔۔

اپنے سامنے پلی بڑھی ہو بیٹا زحمت کیسا ۔۔۔ اور ہاں سن دیر تک رکنا نہیں ۔۔۔ اپنے شوہر کو بلا کر پھر چلی جانا ۔۔۔۔ زمانہ خراب ہے ۔۔۔

زمانہ خراب نہیں ہوتا خالہ ۔۔۔ لوگ خراب ہوتے ہیں ۔۔۔ اور فکر نہ کریں میں بس جانے والی تھی ۔۔۔ میرے شوہر آنے والے ہوں گے ۔۔۔۔۔

دروازہ اچھے سے بند کرکے واپس آئی ۔۔ تو ڈونگا وہی باہر تحت پر رکھا اور اندر چلی گئی ۔۔۔ پرس سے موبائل فون نکال کر اسفند کو کال کرنے لگی ۔۔۔۔

ہاں ادینہ ۔۔۔ فری ہوگئی۔؟؟؟۔۔

فون کان سے لگا کر اسفند نے پوچھا ۔۔۔

جی بھائی ۔۔۔

اچھا ۔۔۔۔ آرہا ہوں میں ۔۔۔۔

کال ڈسکنکٹ کرکے دوسرا نمبر ڈائل کرکے پھر کان سے لگایا ۔۔۔

اوہ بھائی صاحب ۔۔۔۔ اگر تمہیں یاد ہو تو تم ایک عدد نئی نویلی دلہن کے شوہر ہو اب ۔۔۔۔ یہ کنواروں والی عادات ترک کرکے شرافت سے اپنی بیوی کو لے آو ۔۔۔ میں نے ٹھیکہ نہیں لے رکھا ہے ۔۔۔

میں کیوں لے آؤں ۔۔۔۔ میں لے کر گیا تھا کیا ؟؟؟ صارم زچ ہوکر کہنے لگا ۔۔۔۔ ایک تو بنا بتائے گئی تھی اوپر سے اس کو بلانے کے بجائے دوسروں سے ہلیف لے رہے تھی ۔۔۔۔

سڑیل انسان چلا بھی جا ۔۔۔۔ میں اس وقت ضروری کام میں پھنسا ہوا ہوں ۔۔۔

اوکے ۔۔۔

گاڑی کی چابی اٹھانے والا تھا کہ اچانک زہن میں خوش کن احساس کودا ۔۔۔۔ اور کار کی جگہ بائیک کی چابی اٹھائی ۔۔۔

بہت ڈر لگتا ہے نہ تمہیں بائیک پر بیٹھنے سے ۔۔۔۔ آج پورا علاقہ مسز صارم فاروقی کی چیخوں سے گونج اٹھے گا ۔۔۔۔ ایک دلسوز مسکراہٹ اس کے خوبصورت لبوں پر رقص کرنے لگی ۔۔۔۔

کھانا ویسے ہی پڑا تھا ۔۔۔ صارم کے ساتھ کھانے کی عادت جو پڑ گئی تھی ۔۔۔ عبایا پہن کر رومز لاک کر رہی تھی کہ باہر سے بائیک روکنے کی آواز آئی ۔۔۔ تو پورا وجود سوکھے پتے کی مانند لرز اٹھا ۔۔۔ وہ جان گئی کہ بائیک پر کون ہوگا۔۔۔

موبائل رنگ ہوا ۔۔۔۔ صارم کالنگ ۔۔۔ آنکھیں بند کرکے لمبی سانس خارج کی ۔۔۔۔

گیٹ لاک کرکے مقابل کو تنے ہوئے اعصاب سے خود کو گھورتے پایا ۔۔۔۔

یہاں کھڑے کھڑے رات گزارنے کا ارادہ ہے کیا۔۔ اگر دل نہیں چاہ رہا جانے کا تو ہم یہاں رات گزار سکتے ہیں ۔۔۔ ویسے میں سوچ رہا تھا کہ ہم ہر ہفتے ایک رات گزارنے یہاں آیا کریں گے ۔۔۔ صارم نے اس کی دل کی بات کہی ۔۔۔ ناراضگی میں بھی وہ اسکی دلی کیفیت سے انجان نہیں تھا ۔۔۔۔۔ اب آجاؤ ۔۔۔۔۔

دھڑکتے دل کے ساتھ آکر بائیک پر بیٹھ گئی لیکن صارم کو پکڑنے کی غلطی نہیں کی ۔۔۔۔

صحیح بیٹھ جاؤ ۔۔۔ اور گرنے کا ارادہ ہے جو اتنی دور کونے پر بیٹھ گئی ہو ۔۔۔ اتنا گریز صارم سے ہضم نہیں ہورہا تھا ۔۔۔ تحکمانہ لہجہ تھا ۔۔۔

کلمے پڑھ لو ۔۔۔ صارم نے بائیک سٹارٹ کرکے سرد لہجے میں کہا تو ادینہ کے حواس منجمد ہوگئے ۔۔۔۔

ادینہ کو کچھ گڑ بڑ محسوس ہوئی۔۔۔۔

صارم نے پیچھے دیکھ کر آئی برو اچکائی اور ایک آنکھ ونک کی ۔۔۔

صارم م ن ن نہیں ۔۔۔۔۔ پلیز۔۔۔م مجھے اتارے۔۔۔۔

مجھے ڈر لگتا ہے ۔۔۔ وہ صارم کے اور قریب ہوگئی ۔۔۔ صارم کا قہقہہ بے ساختہ تھا ۔۔۔

پہلے کندھے پر ہاتھ رکھا لیکن جب صارم نے سپیڈ بڑھا دی تو ہاتھ کندھے سے ہٹا کر اس کے گرد بازوؤں کا مضبوط حلقہ بنایا۔۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ چپک گئی ۔۔۔۔ نازک سراپا پورا لرز رہا تھا ۔۔۔۔

میں آپ سے کبھی بات نہیں کرونگی ۔۔۔ آپ پلیز روک دے ۔۔۔ میں گر جاؤنگی ۔۔۔۔ میرا سر چکرا رہا ہے ۔۔۔ صارم م۔م۔۔۔۔۔۔ ادینہ کی چیخیں کان پھاڑ رہی تھی ۔۔۔ آنکھیں زور سے میچ لی تھی ۔۔۔۔ اور اونچی آواز میں قرآنی آیات کا ورد کرنے لگی ۔۔۔۔

بالآخر ایک جھٹکے سے بائیک رک گئی ۔۔۔ اور اسکا سر صارم کی پشت سے زور سے ٹکرایا۔۔۔۔

ہائے اللّٰہ میرا سر ۔۔۔۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا ۔۔۔۔ پہلے تو خوف کے مارے اور اب درد کی وجہ سے آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔۔۔۔ایک ہاتھ دل پر اور ایک سر پر رکھ کر صارم کو گھورنے لگی ۔۔۔۔۔

کہاں لگی …. دکھاو۔۔۔۔ مسکراہٹ ہونٹوں تلے دبا کر پوچھا ۔۔۔

ہاتھ مت لگائے مجھے ۔۔۔۔ آپ بہت برے ہیں ۔۔۔جان بوجھ کر مجھے ہرٹ کرتے ہیں آپ ۔۔۔ ادینہ نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا ۔۔۔

میں نے بولا تھا جم کے بیٹھنے کو ۔۔۔ بٹ تم سنتی کہاں ہو ۔۔۔۔ پوری میرے اوپر چڑھ کر بیٹھ گئی تھی ۔۔۔ایک تو بائیک چلا رہا تھا اوپر سے سو کلو کا وزن مجھ بے چارے پر لادا تھا ۔۔۔ اب یہ واویلا کیوں مچایا ہوا ہے ۔۔۔۔

ادینہ کا چہرہ مارے حجالت سے سرخ ہوگیا۔۔۔

صارم میں نے تو صرف خود کو گرنے سے بچانے کے لئے آپ کو پکڑا تھا ۔۔۔ اور میں اتنی ہلکی سی تو ہوں ۔۔۔ صرف 54 کلو ۔۔۔ اب تو وزن اور بھی کم ہوا ہوگا ۔۔۔

ہاں بلکل ۔۔۔۔ کیوں کہ میرے گھر میں تو تمہیں ایک وقت کھانا بھی مشکل سے نصیب ہوتا ہے ۔۔۔

اب میں نے ایسا بھی نہیں بولا ۔۔۔ اور یہ آپ بات بات پر عورتوں کی طرح ٹونٹ کیوں مارتے ہیں ۔۔۔

چھوڑو بحث ۔۔۔ اندر چلو کچھ کھا پی لے ۔۔ تم نے صبح سے کچھ کھایا بھی نہیں ہوگا ۔۔۔۔

وہ ایک ریسٹورنٹ کے سامنے کھڑے تھے۔۔۔۔

مجھے بھوک نہیں ہے ۔۔ ادینہ نے جھوٹ بولا۔۔۔

مزید کچھ سننے کا موڈ نہیں میرا ۔۔۔ صارم نے اسکا ہاتھ تھاما اور اندر چلے گئے۔۔۔

کونے والے ٹیبل پر بیٹھ کر مینو کارڈ ادینہ کے سامنے رکھا ۔۔۔۔

آپ خود آرڈر کرے ۔۔۔ میں تو کچھ بھی کھا لیتی ہوں ۔۔۔۔ ادینہ کو اسکی پسند ناپسند کا علم نہیں تھا ۔۔۔۔

ہممممم ۔۔۔ دو تین ڈشز آرڈر کر کے ویٹر کو جانے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔

میں اتنا کچھ تو نہیں کھا سکتی ۔۔۔۔ بندے کو کفایت شعار ہونا چاہیے ۔۔۔ ضرورت سے زیادہ خرچ نہیں کرنا چاہیے ۔۔۔۔ آپ افورڈ کرسکتے ہیں مگر مجھے فضول خرچی نہیں پسند ۔۔۔۔

ہم دونوں کے لئے ہیں ۔۔۔۔ جتنا ہم کھا سکتے ہیں اتنا ہی آرڈر کیا ہے ۔۔۔۔ وہی روکھا پھیکا لہجہ ۔۔

کیوں آپ نے بھی نہیں کھایا؟؟؟

تمہارے بغیر کھایا ہی نہیں جارہا تھا ۔۔۔۔ غیر ارادی طور پر زبان پھسل گئی ۔۔۔۔ تمہیں یہی خوش فہمی ہورہی تھی نا کہ تمہاری یاد میں مجنون بن کر میں بھوکا رہا ۔۔۔ جلدی سے خود کو سرزنش کرکے صارم نے بات کا رخ ادینہ کی جانب موڑ لیا ۔۔۔

آپ کے متعلق کم از کم میں ایسی خوش فہمیاں نہیں پالتی ۔۔۔ جتاتی نظروں سے دیکھ کر ادینہ نے ٹکا سا جواب دیا ۔۔۔

اچھی بات ہے ۔۔۔ پالنا بھی مت ۔۔۔۔ صارم نے اور بھڑکانا چاہا ۔۔۔

ایکسکیوزمی سر ۔۔۔ ایک فوٹو پلیز ۔۔۔ کچھ لڑکے اور لڑکیوں کا ایک گروپ جو وہاں موجود تھا ۔۔۔ صارم کو دیکھ کر ایکسائٹمنٹ سے اس کی طرف اگئے ۔۔۔

صارم نے جھنجھلا کر ادینہ کی طرف دیکھا ۔۔۔تو ایک لڑکی جلدی سی ادینہ سے التجائیہ مخاطب ہوئی ۔۔۔ پلیز میم ۔۔۔۔ ہم سر کے بہت بڑے فین ہیں ۔۔۔ اور ینگ جنریشن کے کرش ہے سر ۔۔۔۔ ان کو بار بار ٹی وی پر دیکھا ہے ۔۔۔ ان کے انٹرویو دیکھے اور پڑھے ہیں ۔۔۔۔۔ آج پہلی بار روبرو ملاقات ہوئی ۔۔۔۔

یہ خشک مزاج بندہ میرا بھی کرش تھا ۔۔۔۔ادینہ زیرلب بڑبڑائی ۔۔۔ ٹیبل ہر رکھے صارم کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر گویا التجا کی ۔۔۔ صارم کھڑا ہوگیا ۔۔۔ ہر طرف سے پکچرز کھینچنے لگی ۔۔۔

تھینکس یو سو مچ سر ۔۔۔ اینڈ تھینکس میم ۔۔۔ سب نے ایک ساتھ خوش دلی سے کہا اور چلے گئے ۔۔۔ خوشی سب کے چہروں پر خوشی عیاں تھی ۔۔۔

صارم واپس بیٹھ گیا ۔۔۔

صارم نے زبردستی ادینہ کو کافی زیادہ کھلا دیا ۔۔۔۔

وہ جانے لگے ۔۔۔ تو ادینہ بائیک کے سامنے رک گئی ۔۔۔۔

صارم پرامس کرو اب آہستہ چلاوگے ۔۔۔ ورنہ میں نے نہیں بیٹھنا ۔۔۔

ڈرپوک ۔۔۔ بیٹھ جاو ۔۔۔ مجھے جو کرنا تھا کرلیا ۔۔۔ صارم نے اسے مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرکے کہا ۔۔۔۔۔

کیا کرنا تھا آپ کو ۔۔۔ ادینہ نے آئی برو اچکا کر پوچھا ۔۔۔۔

نتھنگ ۔۔۔ بیٹھو ۔۔۔

ادینہ لب بھینچ کر بیٹھ گئی ۔۔۔

••••••••••••••••••••••••••••