Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282 Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 6)

68.3K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 6)

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan

گاڑی مین روڈ پر آئی تو ادینہ جو چپ چاپ بیٹھی تھیں ہمت کر کے اس کی طرف رخ کرکے دیکھنے لگی ۔۔۔ اور کچھ بولنے کی کوشش کی لیکن زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ کہنا ہے تمہیں ؟؟؟؟ صارم نے اس کی جھنجلاہٹ نوٹ کرکے پوچھا۔۔۔۔۔

ہاں وہ میں۔۔۔۔

تم سوری بولنا چاہتی ہو نہ۔۔۔۔کہ تمھاری فرینڈ نے کتنی دیدہ دلیری سے میری اتنی مہنگی گاڑی کا نقصان کروایا ۔۔۔ اور اس کو ٹھیک کرنے پر میرے تقریبا ایک لاکھ اڑن چھو ہوگئے ۔۔۔۔ اس کی ہچکچاہٹ محسوس کرکے صارم نے خود اس کی مشکل آسان کردی۔۔۔

کیا۔۔۔۔۔۔ ایک لاکھ۔۔۔۔۔۔؟؟؟

جی ہاں۔۔۔۔یہ کوئی عام گاڑی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کروڑوں کی گاڑی ہے۔۔۔۔ تھوڑی سی جگہ پر معمولی سا اسکریچ بھی آجائیں تو لاکھوں لگتے ہیں ٹھیک ہونے میں ۔۔۔۔

ادینہ عش کھا کر گرنے والی ہوگئی۔۔۔سانس اٹک گیا۔۔۔۔اور دل ہی دل میں ملیحہ کو صلواتیں سنانے لگی۔۔۔

کبھی اسفند کے ہاتھوں شدید زخمی ہوتی ہے بے چاری کبھی ارسلان کی۔۔۔ اور کئی کئی دن تک بقول اسفند کے ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہوتی ہے ۔۔۔۔ وہ ہونقوں کی طرح اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ جب وہ کچھ نہ بولی تو سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔

او سوری۔۔۔ صحبت کا اثر ہے۔۔۔۔ اسفند کے ساتھ رہ کر ہم بھی اس کے رنگ میں رنگنے لگے ہیں ۔۔۔۔اکثر اس جیسا لینگویج بولنے لگتے ہیں ۔۔۔میرا مطلب تھا۔۔۔۔کئی کئی دن مکینک کے پاس کھڑی ہوتی ہے گاڑی۔۔۔

ادینہ ایک دم کھلکھلا کر ہنسی ۔۔۔ اٹکی ہوئی سانس بحال ہوئی ۔۔۔۔

عجیب بندہ ہے یہ اسفند بھائی بھی۔۔۔۔

بلکل ۔۔۔

اور یہ ارسلان صاحب کون ہے ؟؟؟

جس کی شادی تھی پچھلے دنوں۔۔۔ میں اسفند اور ارسلان بچپن کے فرینڈز ہیں ۔۔۔۔میں نے سی ایس ایس کر لی۔۔۔ تو پولیس ڈیپارٹمنٹ جوائن کر لیا۔۔۔اسفند نے خفیہ ایجنسی ۔۔۔۔اور ارسلان نے ائیر فورس ۔۔۔۔

آپ کی ایج کتنی ہے۔۔ بے اختیار ادینہ کے منہ سے نکل گیا ۔۔

۔

بتیس سال ، پانچ منتھ چھبیس دن۔۔۔

اوہ ۔۔۔۔ تو آپ نے 24 سال کی عمر میں شادی کی ۔۔۔۔ اتنی جلدی کیوں۔۔۔۔ منتظر نگاہوں سے صارم کے جواب کا ویٹ کرنے لگی۔۔۔

چھوڑو تم نہیں سمجھو گی۔۔۔ صارم نے اس کی طرف نظر گھما کر کہا۔۔۔۔

ویسے تمہیں کیا لگتا ہے۔۔۔۔ شادی کونسی عمر میں کرنی چاہیے ۔۔۔صارم نے براہ راست اس کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا۔۔۔

مجھے کیا پتہ۔۔۔ویسے ہی پوچھ لیا۔۔۔ادینہ گڑبڑا گئی۔۔۔۔

اور تمہاری ایج پچیس سال ہے نہ۔۔۔تمہاری پروفائل میں نے پڑھی تھی۔۔۔۔

ہاں جی ۔۔۔۔۔

آج کہاں اترنا ہے ؟؟؟گھر کے قریب پہنچ کر اس نے ادینہ سے پوچھا۔۔۔۔

گھر کے سامنے ۔۔۔۔رسان سے جواب دیا۔۔۔۔

کیوں آج لوگ ہزار باتیں نہیں بنائیں گے ؟؟ صارم کا انداز نارمل تھا۔۔۔۔

نہ تو آج میں بائیک پر آپ سے چپک کر بیٹھی ہوں اور نہ ہی میں نے آپ کے کندھے پر ہاتھ رکھا ہے ۔۔۔۔ ادینہ نے صاف گوئی سے وضاحت کی۔۔۔

ہممم گڈ۔۔۔۔۔تھوڑا سا آگے جو میرون کلر کا گیٹ ہے اس کے سامنے گاڑی روک دے۔۔۔۔

گھر کے سامنے گاڑی روک کر وہ نیچے اتری۔۔۔۔

اور تھینکس کہہ کر اندر کی طرف بڑھنے لگی۔۔ پھر اچانک واپس مڑی۔۔۔ صارم اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

آپ چائے پیئں گے؟؟؟

وائے ناٹ ۔۔۔اگر تم پلاؤگی تو ۔۔۔

میں زیادہ اچھی نہیں بناتی نہ ۔۔۔امی کے ہاتھ کی ایک دفعہ پی لی۔۔۔ تو لوگ کیا بولتے ہیں۔۔ ہاں۔۔۔۔۔لت لگ گئی۔۔۔وہ ہوجایے گی ۔۔ادینہ چہچہا کر بولی۔۔۔

اگر یہی بات ہے تو پھر تو عادت ڈال لینی چاہیے مجھے۔۔۔ گاڑی سے نکل کر اس نے گاڑی لاک کی۔۔۔۔ اور اس کے پیچھے چلنے لگا ۔۔۔

ادینہ پرس سے کیز نکال کر گیٹ کھول رہی تھی کہ صارم پوچھ بیٹھا۔۔۔۔ تم لاک کیوں لگاتی ہو۔۔۔۔ گھر میں کوئی نہیں ہے کیا؟؟؟

امی ہے نہ۔۔ وہ اکیلی ہوتی ہے تو پھر میں باہر سے لاک لگا کر جاتی ہوں۔۔۔۔

گیٹ کھلا۔۔سب سے پہلے وہ اندر داخل ہوئی۔۔ اور اس کے پیچھے وہ ۔۔۔

اس کی امی معمول کے مطابق باہر ہی بیٹھی تھی ۔۔۔ اسکو سلام کر کے گلے لگایا۔۔۔

اسلام وعلیکم آنٹی ۔۔۔ صارم نے آگے بڑھ کر سلام کیا ۔۔۔۔

وعلیکم السلام بیٹا ۔۔ جیتے رہو۔۔

امی یہ صارم سر ہے۔۔۔

صابر چاچا کی بیوی بیمار تھیں تو وہ اس کو ہاسپٹل لے کر گئے تھے ۔۔۔ یہ خود مجھے چھوڑنے آگئے۔۔۔

ما شاءاللہ ۔۔۔ اللّٰہ سلامت رکھے آپ جیسے بڑے لوگ ہمارے غریب خانے پر آئے ۔۔۔

آو میرے پاس بیٹھو۔۔اپنے پاس جگہ بنا کر اسے بٹھایا۔۔۔

کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا۔۔۔ آنٹی ہم ایک جیسے لوگ ہیں ۔۔۔ اور میں آج آپ کے ہاتھ کی سپیشل چائے پینے آیا ہوں۔۔۔۔

کیوں نہیں ۔۔۔ آپ بیٹھے میں بس پانچ منٹ میں بنا کر لاتی ہوں۔۔۔

ادینہ اس کے سامنے چئیر پر بیٹھ گئی۔۔آپ وہاں کمفرٹیںبل ہے؟؟۔۔ وہ لکڑی کے تخت پر بیٹھا تھا۔۔۔

ہاں۔۔۔کیوں۔؟؟۔۔ صارم نے حیرت سے پوچھا۔..

وہ آپ کو عادت نہیں ہے نہ اس طرح ۔۔۔۔۔ادینہ بولتی ہوئی ہچکچا رہی تھی ۔۔..

عادت تو مجھے چائے پینے کی بھی نہیں ہے۔..

واٹ۔۔۔ ادینہ جھٹکے سے اٹھی ۔.. اور کچن کی طرف بڑھنے والی تھی کہ صارم نے روک لیا۔۔۔

ایک سیکنڈ ۔۔۔ کہاں؟؟؟

وہ امی کو منع کرنے۔۔۔آپ کو چائے نہیں پسند نہ تو کچھ اور۔۔۔۔

میں نے کب کہا کہ مجھے نہیں پسند۔۔۔؟؟

ابھی ۔۔۔۔۔ادینہ جھٹ سے بولی۔

۔

کم سنتی ہو کیا میڈم ؟؟ میں نے بولا عادت نہیں ہے ۔۔ ایک بار پی لوں عادت ہو جائے گی۔۔۔

اوو کے۔۔۔۔وہ دوبارہ بیٹھ گئی ۔۔۔

اس کی امی چائے کے ساتھ سنیکس لے کر آئی ۔۔۔

سوری بیٹا۔۔ آپ کے آنے کا نہیں پتا ورنہ کچھ اچھا بنا لیتی..۔ بس گھر میں صرف یہی کچھ تھا۔۔۔

میں نے صرف چائے پینی تھی آپ کے ہاتھ کی۔۔۔ صارم نے عقیدت سے کہا۔۔۔

کپ اٹھا کر منہ سے لگایا۔۔. ادینہ اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ چہرے کے تاثرات کو پڑھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔مگر وہ صارم فاروقی تھا اسے سمجھنے کے لئے خود سمجھدار بننا پڑتا تھا ۔۔۔

ایک گھونٹ پی کر اچانک سر اوپر اٹھایا۔۔۔

آنٹی کیا کیا ملایا ہے اس میں۔۔ صارم نے سراہتے ہوئے پوچا۔۔۔

کچھ نہیں بس دل سے بنائی ہے بیٹا۔۔۔۔

ہمممم۔ پیار سے بنائی ہے جبھی اتنی اچھی ہے۔۔۔۔

اور بچے کیسے ہیں؟؟ ادینہ کی امی رسمی بات چیت کرنے لگی۔۔۔۔

شکر ہے اللّٰہ کا ۔۔۔۔ بلکل ٹھیک ہے ۔۔۔

اسکو بھی کبھی ساتھ لے کر آؤ ۔۔اچھا لگے گا۔۔۔

ضرور۔۔۔ صارم کپ خالی کرکے اٹھنے لگا۔۔۔۔

تھینکس ۔۔۔ میں اب چلتا ہوں۔۔۔۔

اور اس کی طرف جھک کر بڑے پیار سے کہا۔۔ یو آر ویری سویٹ۔۔۔۔ اگر میری موم آج زندہ ہوتی تو آئی ایم شیور بلکل آپ جیس پیاری دکھتی۔۔۔۔ یہ کہہ کر وہ رکا نہیں لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔۔۔۔

ادینہ اس کے پیچھے گیٹ تک آئی۔۔ وہ گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔۔ ادینہ کو دیکھ کر آسودگی سے مسکرایا اور چلا گیا ۔۔۔

••••••••••••••••••••••

ادینہ اندر واپس آئی اور امی کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنے لگی ۔۔۔۔

ادینہ یہ صارم کی عمر تو کافی کم ہے نہ۔۔۔ تو پھر سات سال کا بیٹا اور بیٹی ۔۔۔ سکینہ بیگم نے کچھ سوچ کر سوال کیا۔۔۔

ہاں امی۔۔۔ وہ میں بھی راستے میں ان سے یہی پوچھ رہی تھی۔۔ تو مجھے بولے چھوڑو تم نہیں سمجھو گی۔۔۔۔۔۔

اوہ۔۔ اچھا۔ چھوڑو یہ۔۔ ویسے کافی سلجھا ہوا بچہ ہے ۔۔۔۔۔۔

امی خدا کا خوف کرے کہاں سے آپکو بچہ لگا۔۔۔۔ تین بچوں کے باپ ہیں ۔۔۔۔ حد ہے یار۔۔۔۔ ادینہ نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔۔اور روم میں چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔

•••••••••••••••••••••••••

وہ سارے راستے مسلسل ادینہ کی امی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اتنا روشن پرنور چہرہ۔..۔ ادینہ ان کی جیسی پاکباز عورت ہی کی بیٹی ہو سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔

ادینہ سے پہلے ملاقات پر ہی اس کے دل نے بغاوت شروع کی تھی۔۔۔۔ وہ بھی اس کو لائک کرتی تھی لیکن نظروں میں شرم و حیا کھوٹ کھوٹ کر بھری تھی۔۔…

وہ صرف سات سال کا تھا جب اس کی موم کی ڈیتھ ہو گئی تھی ۔۔۔۔ اور اس کے ڈیڈ نے دوسری شادی ہی نہیں کی تھی ۔۔۔ اسکا خیال تھا کہ سوتیلی ماں کبھی سگی نہیں ہوتی اور نہ ہو سکتی ہے۔۔۔۔ اور خود اپنے بچوں کو ماں اور باپ دونوں کا پیار دیا لیکن اپنے بچوں کو دوسروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا۔۔۔ اس کے ڈیڈ آرمی میں ایک بڑے عہدے پر فائز تھے ۔۔ اور اپنے بچوں کے کرش تھے۔۔۔ وہ ورلڈ کے بیسٹ ڈیڈ ثابت ہوئے۔۔۔

••••••••••••••••••••••

آج پندرہ تاریخ تھی۔۔۔۔ادینہ نے مسز فاروقی کو دوبارہ یاددہانی کرائی کہ میں امی کو چیک اپ کے لئے لے کر جاؤ گی۔۔۔ تو آج ٹیوشن کی چھٹی ہوگی۔۔۔۔

وہ امی کو لے کر ہاسپٹل پہنچ گئی۔۔۔ہاسپٹل میں خلاف معمول کافی گہما گہمی تھی۔۔۔۔کافی سارے لوگ ایک ایمرجنسی وارڈ کے سامنے کھڑے تھے۔۔۔۔ ایک آدمی غصے سے ڈاکٹروں پر بھڑک رہا تھا۔۔۔۔ شکل اور سوٹ بوٹ سے اثر و رسوخ والا لگ رہا تھا۔۔۔کافی دیسی غنڈے ٹائپ گارڈز بھی ہتھیاروں سے لیس کھڑے تھے جگہ جگہ ۔۔۔۔۔

ادینہ نے وہاں کسی نرس سے پوچھا جو دم سادھے ایک طرف کھڑی تھی۔۔۔۔

یہاں کچھ ہوا ہے؟؟۔۔

ہاں اس آدمی کے بیٹے کو کسی نے شوٹ کیا ہے۔۔۔شائید کوئی جاگیردار ہے۔۔۔۔ پورا ہاسپٹل سر پر اٹھا رکھا ہے۔۔۔۔نرس اسے بتا رہی تھی۔۔۔۔ ڈاکٹروں کو ایک ساتھ ایمرجنسی میں زبردستی بھجوایا ہے اور باقی کو اپنے کیبن میں لاک کرکے رکھ دیا ہے۔۔۔۔۔

اووو۔۔ ادینہ کو بھی تاسف ہوا۔۔

وہ اپنی مطلوبہ ڈاکٹر کے پاس امی کو لے جانے لگی۔۔۔۔ تو وہاں کچھ لوگ ہاتھوں میں بندوق لئے کھڑے تھے۔۔۔۔۔۔۔

ادینہ ہمت کر کے بولی۔۔۔۔۔ ہمیں ڈاکٹر سے چیک اپ کروانا ہے ۔۔۔۔ پلیز آپ سائیڈ پر ہو جائے۔۔۔۔۔۔

اوو بی بی ۔۔۔۔۔کیوں ہم یہاں نمائش کے لیے کھڑا ہے کیا۔۔۔۔ہمارے صاحب کا بچہ کو گولی لگا ہے۔۔۔ جب تک اس کا علاج نہیں ہوتا ہم کہیں نہیں جائے گا۔۔۔۔ نہ کوئی ڈاکٹر کام کرے گا۔۔۔۔۔ آپ شرافت سے گھر چلا جائے ہمیں مجبور نہ کریں ہم عورت پر ہاتھ نہیں اٹھاتا۔۔۔ خالص پٹھانوں والا لہجہ تھا۔۔۔

ایسے کیسے چلے جائیں ۔۔۔۔ ہم بھی مجبوری میں آئے ہیں۔۔۔۔آپ لوگوں نے جو سرکس لگایا یہاں پہ۔۔۔۔اس کا تماشا دیکھنے نہیں آئے ۔۔۔۔۔کسی ایک انسان کے لئے پورا ہاسپٹل بند کروادو گے کیا۔۔۔۔ ادینہ نے کوفت اور غصے کے ملے جلے جذبات سے کہا۔۔۔۔۔

لیکن وہ لوگ ٹس سے مس نہ ہوئے ۔۔۔

ادینہ امی کو لے کر ایک سائیڈ بینچ پر بیٹھ کر ویٹ کرنے لگی۔۔۔۔۔

اتنے میں پولیس کی تین گاڑیاں ایک ساتھ ہاسپٹل میں داخل ہوگئی۔۔۔۔

پیچھے گاڑی سے ایک پولیس کانسٹیبل سرعت سے نکلا اور آگے جیپ کا دروازہ کھولا۔۔۔۔ سب لوگوں نے ایک ساتھ پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔۔۔۔

فرنٹ سے پولیس یونیفارم میں ملبوس ایس پی صاحب باہر نکلے۔۔۔۔ بلیک سن گلاسز لگائے بالوں کو نفاست سے سیٹ کیے اپنی پوری وجاہت سے چلتے ہوئے آگے کی طرف جا رہے تھے ۔۔۔۔ ٹوپی ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی ۔۔۔آگے سے لوگ اسے دیکھ کر تعظیم میں خود بخود راستہ بنانے لگے۔۔۔۔۔

ادینہ جو کوفت کا شکار تھی اچانک ہی دل خوش گوار حیرت سے جھوم اٹھا۔۔۔ اس نے صارم کو پہلی دفعہ یونیفارم میں دیکھا تھا۔۔۔ نظر لگ جانے کی حد تک پیارا ۔۔ جسم میں توانائی پیدا ہونے لگی۔۔۔۔۔

ادینہ یہ تمہارے وہ ایس پی صاحب ہے نہ۔۔۔۔ اس کی امی نے صارم کو توصیفی نظر سے دیکھ کر کہا ۔۔۔۔۔۔

جی امی۔۔ دراصل لڑکے کو گولی لگی ہے نہ۔۔۔۔ پولیس کیس ہے۔۔۔۔۔۔

ایمرجنسی کا دروازہ کھلا تو ایک ڈاکٹر عجلت میں باہر آیا اور لڑکے کے باپ سے محاطب ہوا۔۔۔ بلڈ کافی زیادہ بہہ گیا ہے۔۔۔۔ہمارے ہاں اس گروپ کا بلڈ اس وقت موجود نہیں ہے ۔۔۔۔ آپ لوگ کوشش کریں ارینج کرنے کی۔۔ورنہ۔۔۔۔

ورنہ کیا۔۔۔۔جب ہاسپٹل میں کوئی سہولت موجود نہیں ہے تو بند کروادو نہ۔۔۔ جلدی سے بلڈ ارینج کرکے میرے بیٹے کو بچاؤ ورنہ پورے ہسپتال کو آگ لگا دوں کا۔۔۔۔اس آدمی نے ڈاکٹر کا گریبان پکڑ کر زخمی شیر کی طرح پھنکارتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

سارے لوگ بدک کر پیچھے ہٹ گئے ۔۔۔اور اسی وقت صارم کوریڈور میں داخل ہوئے بھاری نفری کے ساتھ ۔۔۔۔۔

اور اس آدمی کے ہاتھوں سے ڈاکٹر کا گریبان چھڑواکر زور سے دھاڑے۔۔۔کہ سب لوگ اپنی جگہ سن ہو گئے۔۔۔۔

دور رہ کر تمیز کے دائرے میں بات کرو۔۔ یہ گورنمنٹ ہاسپٹل ہے تمہارے باپ کی جاگیر نہیں ہے۔۔ نہ یہ ڈاکٹرز تمہارے باپ کے نوکر۔۔۔ نہ یہ ہاسپٹل تمہاری دی ہوئی حیرات سے چلتا ہے۔۔۔۔۔

بڑے آدمی ہوں گے اپنے گھر اور علاقے میں یہاں سب ایک جیسے ہیں ۔۔۔۔۔ اگر اتنا گھمنڈ ہے خود پر تو جاکر کسی پرائیویٹ ہاسپٹل میں اپنے بیٹے کا علاج کرواو۔۔۔۔

وہ انگلی اٹھا کر اسے وارن کر کے بول رہا تھا۔۔۔۔

سب لوگوں کی نظروں میں اس کے لئے ستائش تھی۔۔۔ وہ آدمی ہکا بکا اس ینگ آفیسر کی جرات کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

ارے یہ تو وہ نیو ایس پی صارم فاروقی ہے۔۔۔۔ پرسوں ہم نے اس کا انٹرویو دیکھا تھا ٹی وی چینل پر۔۔۔۔ کافی فیمس ہے آج کل ہر نیوز کی سرخی کی زینت بنا ہوتا یے۔۔۔۔۔

ادینہ نے اپنے عقب میں کسی کی تعریفی آواز سنی تو مسکرائی ۔۔۔۔

ہاں سنا ہے بڑے جگر والا ہے۔۔۔۔ انگاروں میں ہاتھ ڈالتا ہے۔۔۔کسی کی من مانی کو خاطر میں نہیں لاتا۔۔۔۔ وہ دونوں لڑکے اب بھی متواتر صارم کو ڈسکس کر رہے تھے ۔۔۔۔۔۔

وہ تو نظر آرہا ہے کہ کتنا جگر والا ہے ۔۔۔۔دونوں نے سامنے کھڑے اس شخص کو دیکھا جو اب ایک کونے میں کھڑا صارم کو گھور گھور کر دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اگر اسکا تھوڑا سا بھی بس چلتا تو صارم کو کچا چبا جاتا۔۔۔

صارم اب ڈاکٹر کے ساتھ کھڑا کچھ ڈسکس کر رہا تھا۔۔۔ کہ غیر ارادی طور پر سامنے نظر پڑی تو چونکے۔۔۔۔۔۔

ادینہ اس کو اپنی طرف دیکھنے پر جلدی سے پلر کی اوٹ میں چھپ گئی۔۔۔۔ لیکن صارم نے اس کو دیکھ لیا تھا۔۔۔ ایک جاندار مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر ابھری لیکن گول کر گیا۔۔۔اسے یاد آیا آج پندرہ تاریخ ہے۔۔۔۔

•••••••••••••••••••••••••