Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282 Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 5)

68.3K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 5)

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan

وہ کھوئی کھوئی سی گھر میں داخل ہوئی تو اپنی ماں کو بے چینی سے ادھر ادھر ٹہلتے دیکھا۔۔۔۔ شام ہوگئی تھی ۔۔آج واقعی وہ زیادہ لیٹ ہو گئی تھی ۔۔۔۔آتے ہی امی کے گلے لگی۔۔۔۔

ادینہ کتنی دیر لگا دی بیٹا۔۔اس نے پریشانی سے کہا ۔۔

جی امی۔۔۔ آج راستے میں گاڑی خراب ہو گئی تھی ۔۔۔لیکن آپ کو بتایا تھا کہ ہ لوگ کافی ذمہ دار ہیں ۔۔۔خود گھر تک پہنچایا۔۔۔ سیلری مل جائے تو آپ کے لئے موبائل فون لے لوں گی۔۔۔۔ پھر اگر کبھی لیٹ بھی ہو جاؤں تو ٹائم سے آپ کو انفارم کردونگی۔۔۔اس نے فکرمندی سے ماں کو ساتھ لگا کر کہا۔۔

چلو میں فریش ہو کر آتی ہوں۔۔۔

اپنے کمرے میں آکر اس نے سب سے پہلے موبائل فون کو پرس سے نکالا اور صارم کا نمبر سیو کیا۔۔۔ پھر اس کے نمبر پر میسج ٹائف کرکے سینڈ کر دیا ۔۔۔۔

سیفلی ریچڈ۔۔ تھینکس فار ایوری تھنگ ۔۔۔

موبائل رکھ کر فریش ہونے چلی گئی ۔۔۔ جب باہر نکلی تو موبائل پر میسج نوٹیفکیشن آیا تھا۔۔۔ بے قراری سے مسیج اوپن کیا ۔۔

اوکے ۔۔۔۔ایک لفظ جواب ۔۔۔۔

ارروگنٹ ۔۔۔ادینہ نے گہری سانس فضا کے سپرد کی۔۔۔ پھر اچانک اس کو وہ بیگ نظر اگیا۔۔۔جو مسز فاروقی نے اسے دیا تھا ۔۔۔ اس نے کھولا تو آنکھوں میں حیرت امڈ آئی۔۔۔۔

یہ تو وہی سوٹ ہیں جو میں نے پسند کیا تھا۔۔ صارم کو کیسے پتہ چلا میری پسند کا۔۔وہ عجیب سی وہموں میں گری ہوئی تھی۔۔۔۔

نہیں نہیں ادینہ تو نے کچھ زیادہ ہی خوش فہمیاں پال رکھی ہیں۔۔کچھ زیادہ اوور تھنکنگ کر رہی ہے۔۔۔۔یہ مخض اتفاق بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔

اس نے سوٹ کو اوپن کر کے اپنے ساتھ لگایا۔۔ اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہو کر خود کو تکنے لگی۔۔۔ وہی کلر وہی سائز وہی پرائس۔۔ گلے پر موتیوں کا سادہ سا نفیس کام ہوا تھا۔۔وہ سوٹ اٹھا کر باہر آئی اس کی امی کچن میں تھی۔۔۔

امی یہ مسز فاروقی نے مجھے گفٹ کیا ہے۔۔۔ کہ بچوں کی پرفارمینس کافی اچھی ہوگئی ہے ۔۔۔مجھے لینا آکورڈ لگ رہا تھا منع بھی کیا لیکن وہ خفا ہو رہی تھی کہ ہم پہلی والی ٹیچر کو بھی گفٹ دیتے تھے اپنی خوشی سے۔۔۔ ادینہ نے تیکھی ناک چڑھائے بے زار لہجے میں کہا۔۔۔

اس کی امی نے کپڑوں کی طرف دیکھا اور کہا بہت پیارا ہے۔۔۔میری بیٹی پر بہت چجے گا۔۔۔

کوئی پیار سے تخفہ دے تو انکار نہیں کرتے۔۔۔۔اس نے خوشدلی سے کہا۔۔

تھینکس امی۔۔ اور سوٹ کمرے میں رکھنے چلی گئی ۔۔

*********

ادینہ کو ڈراپ کرکے وہ سیدھا ارسلان کے گھر آیا۔ شادی کی تیاریاں دھوم دھام سے جاری تھی ۔۔ارسلان بہت خوش تھا۔۔۔۔

کچھ دیر بعد اسفند بھی آگیا۔۔۔

تو بھی آٹپکا۔۔۔صارم نے اس کو دیکھ کر نونٹ کیا۔۔۔

اینی آبجیکشن۔۔ اسفند نے دو بدو جواب دیا۔۔

نوووو۔۔ صارم نے آنکھیں سکوڑ کر کہا۔۔۔

ویسے میرے یہاں آنے سے نہ کافی رونق بڑھ جاتی ہے ۔۔۔ آپ کے اطلاع کے لئے غرض ہے کہ میں ایک زندہ دل انسان ہوں… آج میں جینے والا….، گزرے کل کو بھولنے والا اور آنے والے کل کو خود اپنے ہاتھوں سے سنوارنے والا۔۔۔ تمھاری طرح سڑا ہوا منہ لے کر نہیں گھومتا جس کے آس پاس بوڑھی روحیں بھٹکتی ہے اور اسے اپنا ماضی بھلانے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سٹاپ دس نان سینس ۔۔۔ ابھی وہ کچھ اور بھی بولنے والا تھا کہ صارم نے اسے جھڑکا تو اس کی ضبط سے سرخ آنکھیں دیکھ کر وہ ایک دم بات کا رخ بدل گیا۔۔۔

ارے بھائی صاحب کچھ زیادہ رنگ روپ نہیں چڑھا ہے تمہیں۔۔۔۔ پہلی بات کا اثر زائل کرنے کے لیے اب طنز کا تیر ارسلان کو مارنے لگا۔۔۔ کچھ زیادہ گلو نہیں کر رہا ہے ۔۔۔ اور اتنا سموتھ ۔۔۔ اگر میں گزرا تو پھسل جاؤں گا۔۔۔ اسکے چہرے پر ہاتھ پھیر کر کہنے لگا۔۔۔۔۔

ارسلان نے گڑبڑا کر ادھر ادھر دیکھ کر آہستہ سے کہا ۔۔۔یارررر۔۔۔کیوں عزت کا جنازہ نکالنے پر تلے ہوئے ہو۔۔۔ پارلر گیا تھا صبح۔۔۔ پتہ نہیں کیا کچھ توپ توپ کر لگایا تھا ظالموں نے کہ چہرے پر نکھار آئے گا ۔۔۔ مجھے تو یقین نہیں ہو رہا تھا۔۔۔ڈر تھا کہ اچھے بھلے شکل کا ستیا ناس نہ ہو جائے۔۔۔۔۔

لیکن اب تو نے بول دیا تو مطلب کچھ کچھ نکھار آیا ہے۔۔۔ اس نے نہایت معصومیت سے A ٹو Z خلاصہ بیان کر دیا۔۔۔ صارم تھوڑا نارمل ہوچکا تھا۔۔۔ ارسلان کی بات پر دونوں کا ایک ساتھ بلند قہقہہ گونجنے لگا۔۔۔۔

تم لوگ میرا مذاق اڑا رہے ہو۔۔ ارسلان نے خفگی سے منہ بنایا۔۔

دونوں ایک دم چپ ہوگئے۔۔۔۔ صارم نے مسکین سی صورت بنا کر اشارے سے اسفند کو آگے پیش کیا مطلب میں نہیں یہ۔۔۔۔

صارم بہت کم بولتا تھا ۔۔۔ لوگ اکثر ہی اس کو مغرور سمجھتے تھے ۔۔مگر یہی سنجیدگی اس کی چارمنگ پرسنالٹی پر سوٹ کرتی تھی ۔۔اس کی نسبت ارسلان اور اسفند کافی باتونی تھے ۔۔۔

کافی دیر تک وہاں رکنے کے بعد دونوں جانے کے لئے اٹھے۔۔۔

اسفند گاڑی لے کر آیا تھا۔۔۔ اور صارم بائیک ۔۔۔

تم بائیک چھوڑو ادھر۔۔ کل ارسلان گھر پہنچا دے گا۔ میرے ساتھ آجاؤ ۔۔۔۔۔۔

نہیں میں چلا جاؤں گا ۔۔۔۔ صارم نے سہولت سے انکار کر دیا۔۔۔۔۔

ایز یو وش۔۔۔۔ اسفند نے گلے لگا کر کہا اور چل دیا۔۔۔۔

بائیک پر بیٹھ کر اسے پھر سے ادینہ کی بات یاد آئی۔۔۔۔

کیسے بیٹھوں ۔۔۔۔مجھے نہیں پتہ کیسے بیٹھتے ہیں ۔۔۔۔

پھر سے مسکراہٹ ہونٹوں کی زینت بن گئی۔۔۔۔

اور وہ کھل کے مسکرایا۔۔۔اچھا لگ رہا تھا۔۔۔ ادینہ کا ساتھ ۔۔۔اس کا اسکو اس طرح کس کے پکڑنا۔۔۔اور وہ جان بوجھ کر آہستہ بائیک چلا رہا تھا۔۔۔وہ خود بھی اس کے ساتھ اور اس کے قریب خوش تھا۔۔۔ ایک خوش کن سا احساس تھا۔ مگر اگلے لمحے چھن سے اندر کچھ ٹوٹا۔۔۔ اور وہی سنجیدہ سا صارم بن گیا ۔۔۔۔

*********

دن تیزی سے گزرنے لگے ۔ ارسلان کی شادی میں اسے دو دن کے لئے چھٹی دے دی گئی تھی ۔۔۔۔

صارم اس کے ساتھ سوشل میڈیا پر ایڈ تھا۔۔ سارے فنکشن کے پکچرز اور ویڈیوز وہ شئیر کرتا۔۔۔ اور ادینہ گھنٹوں بیٹھ کر ایک ایک پکچر اور ویڈیو بار بار دیکھتی اسے آنکھوں کے راستے دل میں اتار رہی تھی ۔۔۔ کافی ساری تو سیو بھی کی تھی۔۔۔۔

ہر فنکشن کے حساب سے ارسلان کی ڈریسنگ کے ساتھ ان دونوں کی ڈریسنگ بھی لا جواب تھی۔۔۔ وہ یہی سوچ رہی تھی کہ کتنی لڑکیاں صارم کے آس پاس مکھیوں کی طرح منڈلاتی ہوگی۔۔۔۔ کتنی لڑکیوں نے اس کی شاندار پرسنالٹی کو سراہا ہوگا۔۔۔ وہ تینوں کافی پرکشش تھے۔۔۔۔ بٹ صارم سب میں نمایاں تھا۔۔۔۔اسے ایک بار پھر سے مسز فاروقی کی قسمت پر رشک آنے لگا۔۔۔۔۔اس نے ارسلان اور اسفند کے ساتھ پکچرز لی تھی ۔۔۔ اور ساری اپلوڈ بھی کی تھی ۔۔۔ لیکن ادینہ نے باقی لوگوں پر دھیان ہی نہیں دیا۔۔۔ ورنہ وہ اسفند کو ضرور پہچان پاتی۔۔ جس کی گاڑی کو ملیحہ نے ہٹ کیا تھا۔۔۔

شادی دھوم دھام سے ہوئی۔۔۔ اسفند اور صارم ہر فنکشن میں پیش پیش تھے ۔۔۔ آخر ان کے جان سے پیارے دوست دولہا بننے جا رہے تھے۔۔ خوب مستی اور ہلہ گلہ کیا۔۔ اور کافی تھک بھی گئے تھے ۔۔۔

نیکسٹ ڈے ادینہ وہاں پہنچی تو بس تھوڑا سا کام کروایا بچوں کو ۔۔۔۔کیوں کہ حورم کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔۔۔ارمغان اور زارش بھی تھک گئے تھے ۔۔۔۔تو اس کو جلدی چھٹی مل گئی ۔۔۔وہ جانے کے لئے باہر نکلی۔۔۔تو ڈرائیور اور گاڑی دونوں غائب ۔۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا ۔۔۔ تو دوسری کھڑی گاڑی کو دیکھ کر دماغ میں کچھ کلک ہوا۔۔۔گاڑی سے زرا فاصلے پر ایک آدمی اس کی طرف پشت کئے کھڑا فون پر بات کر رہا تھا۔۔۔وہ صارم نہیں تھا۔۔ صارم کو تو وہ کروڑوں کے ہجوم میں بھی آنکھیں بند کر کے پہچان سکتی تھی۔۔یہ شخص قد میں صارم سے تھوڑا کم تھا۔۔۔ وہ بے اختیار گاڑی کی طرف بڑھنے لگی۔۔۔ اسی وقت صارم اس کے پیچھے باہر نکلا۔۔۔ تو اس کو اس طرح اپنی گاڑی کے قریب جاتے دیکھا۔۔۔ حیران سا خود بھی اس کےتعاقب میں چل دیا۔۔ پیچھے کی طرف جاکر اس نے گاڑی پر ہاتھ رکھ کر بہت قریب سے گاڑی کا جائزہ لیا ۔۔۔ اس کا شک یقین میں بدل گیا ۔۔

۔اففسسسس یہ وہی گاڑی تھی ۔۔۔ جس کو ملیحہ نے ٹکر ماری تھی۔۔تبھی مجھے دیکھی دیکھی لگ رہی تھی۔۔۔۔ ریپئرنگ کروادی گئی تھی مگر غور سے دیکھنے پر فالٹ پھر بھی نظر آرہا تھا۔۔۔ مال کے پارکنگ میں بھی ادینہ کو ایسا لگا تھا کہ اس نے ایسی گاڑی پہلے کہی دیکھی تھی۔۔ مطلب صاف تھا ۔۔۔۔ فون پر بات کرنے والا وہی شخص ہے۔۔۔

اس کا دل ہولے سے لرزا۔۔۔ یہاں سے راہ فرار ڈھونڈنے لگی۔ وہ پیچھے مڑی تو اپنے پیچھے صارم کو خود کو ٹکٹکی باندھے کھڑے دیکھا ۔۔۔تو پسینے چھوٹنے لگے۔۔۔

ابھی وہ کچھ بولنے والی تھی کہ اسفند کی خون آشام نظر اس پر پڑی اور اسکی اسفند پر۔۔۔۔

آپ۔ ۔۔۔۔

تم۔۔۔

دونوں نے ایک ساتھ کہا۔۔۔۔

اچھا تو اب تم یہاں بھی پہنچ گئی ۔۔۔ اب کیا نقصان کروانے کا اردہ ہے تمہارا۔۔۔ تمھاری اس دو انچ کی فرینڈ نے تو ہماری پیاری سی گاڑی کی ہڈی پسلی ایک کرکے اس کو ہاسپٹل پہنچایا تھا۔۔۔

صارم کو تو اسفند کا پتہ تھا کہ کتنا منہ پٹ ہے جو منہ میں آیا بول دیا۔۔۔ لیکن وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسفند کے لینگویج اور انداز کو دیکھ اور سن رہی تھی ۔۔۔۔

ایکسکیوزمی ۔۔۔۔۔ ہاسپٹل ؟؟؟؟ مطلب۔۔۔انسان تھوڑی نا ہے۔۔۔۔۔

ادینہ کے ہاتھ پیر پھول گئے تھے۔۔اگر صارم کو معلوم ہوا تو میری جاب گئی۔۔۔

ہاں دیکھو نہ پیچھے سے کتنی چوٹ لگی تھی بے چاری کو آج ہی ہاسپٹل سے ڈسچارج ہو کے آئی ہے ۔۔۔اور یہ سب تمھاری اس دو انچ بد دماغ فرینڈ کی وجہ سے ۔۔۔۔

انف۔۔۔۔ بہت سن لی تمہاری گھسی پھٹی لائینز۔۔۔ اس نے ایک دم انگلی اٹھا کر وارن کرنے والے انداز میں لاؤڈلی کہا۔۔۔ تو اسفند ایک دم خاموش ہوگیا۔۔

صارم کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رقص کرنے لگی۔۔۔ پہلی دفعہ ادینہ کا یہ روپ دیکھ کر اسے حیرت اور خوشی ایک ساتھ محسوس ہوئی۔۔۔ وہ خاموشی سے تماشا دیکھنے اور انجوئے کرنے لگا۔۔۔

یہ کیا آپ نے دو انچ دو انچ کی رٹ لگا رکھی ہے ہاں۔۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔ خراب ہوگئی تھی تھوڑی سی۔۔۔ وہ بھی غلطی سے ۔۔ جان بوجھ کر تھوڑی خراب کی ہے۔۔۔ اب ٹھیک تو ہو گئی نہ گھر آگئی ہاسپٹل سے ۔۔۔ وہ روانی میں بولتی ہوئی بے دھیانی میں اسفند کے الفاظ دہرانے لگی تھی ۔۔۔ ایک دم صارم کے مسکراتی آنکھوں کو دیکھ کر جھینپ گئی۔۔۔۔

سوری ۔۔۔ وہ ہ ہ ۔۔۔۔

اور پھر اسفند کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔ اگر آئندہ میری فرینڈ کو اس طرح کے بے ہودہ القابات سے نوازا نہ تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔

اسفند نے ایک آئی برو اچکا کر طنزیہ انداز میں پوچھا ۔۔۔۔

کیا اکھاڑ لے گی تو ہاں۔۔۔ تو خود بھی دو انچ۔۔۔۔۔۔۔

بس انفففففف۔۔ اسفند اور بھی کچھ بول رہا تھا کہ صارم نے غصے سے جھڑکا۔۔۔۔

غصہ اپنی جگہ پر اسفند۔۔۔ لیکن تو پھر مینرز بھول رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ہاں تو اپنی گاڑی کی حالت بھول گئے تم۔۔۔۔ کیسی حالت تھی بے چارے کی۔۔۔۔سوسائٹی میں کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں تھی۔۔۔ اسفند بات کو اتنی آسانی سے ختم کرنے والا نہیں تھا ۔۔۔۔

ایک ک ک منٹ۔۔۔ ابھی وہ پھر سے سٹارٹ ہونے والا تھا کہ اس بار ادینہ نے روک دیا ۔۔۔

مطلب یہ گاڑی آپ کی نہیں ان کی ہے۔۔۔۔ اس نے صارم کی طرف اشارہ کر کے پوچھا ۔۔۔

تو اسفند نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔

جب گاڑی ان کی ہے تو آپکو کیوں مرچی لگ رہی ہے ۔۔ غصہ ہونا ان کا بنتا ہے ۔۔۔ آپ کا نہیں۔۔۔۔

ان کی گاڑی مطلب میری گاڑی ۔۔۔۔بھائی ہے میرا۔۔۔ اسفند کو برا لگا ۔۔۔۔۔

یہ کس اینگل سے آپ کے بھائی لگ رہےہیں۔۔۔۔ ان کو تو پتہ بھی نہیں ہے کہ لیڈیز سے بات کس طرح کرتے ہیں ۔۔۔ آپ تو ایسے بلکل نہیں ہے ۔۔۔ وہ اب براہ راست صارم سے مخاطب تھی۔۔۔

وہ آج اتنا بول کر صارم پرمسلسل بجلیاں گرا رہی تھی۔۔۔

پہلے آپ بتانا پسند کرے گی میڈم کہ آپ ہے کون اور یہاں کیا کر رہی ہے؟؟ پھر بعد میں ڈیسائیڈ کرتے ہیں کہ کون کس کا کیا لگتا ہے۔۔۔۔ اسفند نے ڈھٹائی پن کا مظاہرہ کیا۔۔۔۔

وہ صارم کی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔ تو اس نے جواب دیا ۔۔۔۔

یہ بچوں کی نیو ٹیوٹر ہے مس ادینہ۔۔ایک منتھ سے یہاں پڑھاتی ہے۔۔۔اب اگر تم نے مزید کچھ بھی بول کر اسے ہرٹ کرنے کی کوشش کی تو میرے بچے تمہیں بخشیں گے نہیں ۔۔یہ بچوں کی موسٹ فیورٹ ٹیچر ہے۔۔۔پھر مجھ سے بھی کچھ اچھی امید مت رکھنا ۔۔۔۔

صارم نے ہاتھ اٹھا کر اسے وارن کیا۔۔۔ بچوں کے نام پر وہ تھوڑا نرم پڑ گیا۔۔۔ کیونکہ بچے اسے بھی بہت عزیز تھے صارم کی جان تھی بچوں میں۔۔۔اور اس کی جان صارم میں۔۔۔

چلو بچوں کے لیے معاف کر دیا تمہیں ۔۔۔کیا یاد کروگی۔۔ اسفند نے بظاہر بڑے پن کا مظاہرہ کیا۔۔۔

اوکے۔۔۔تھینکس ۔۔ ادینہ نے برا سا منہ بنا کر کہا۔۔۔

اور ادینہ یہ میرا بیسٹ فرینڈ ہے میرا بھائی اسفند۔۔۔ آئی ایس آئی میں کام کرتا ہے۔۔ائی مین سیکرٹ ایجنٹ ہے ۔۔۔۔

صارم نے خود اسکو متعارف کروایا تو اسفند نے فرضی کالر جھاڑے۔۔۔

اووو رئیلی۔۔۔ اچھا ہے۔۔۔ بس ایٹی کیٹس ہی سکھا دے کچھ۔۔۔۔ادینہ نے اس کو چھیڑنے والے انداز میں دیکھ کر صارم سے کہا۔۔۔

یہ ایک ایمان دار اور قابل آفیسر ہے۔۔۔ بس تھوڑا سنکی ہے۔۔۔ جلدی ٹیمپر ہوجاتا یے۔۔۔۔

اور صابر چاچا کہاں ہے۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے تو مجھے لے کر آئیں تھے وہ۔۔۔۔ ادینہ ادھر ادھر متلاشی نگاہوں سے دیکھ کر پوچھنے لگی۔۔۔

اس کی وائف کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی میں نے اس کے لیے ڈاکٹر سے اپوائنٹمنٹ لی تھی ۔۔۔۔ وہ اس کو لے کر ہاسپٹل چلا گیا ہے۔۔۔۔

اوہ اچھا ۔۔۔۔ کوئی بات نہیں میں ویٹ کر لیتی ہوں۔۔۔

میں ڈراپ کردونگی ۔۔ تمہاری اس فرینڈ سے بھی ملاقات ہو جائے گی ۔۔۔جس کو بقول تمہارے کافی اچھی ڈرائیونگ آتی ہے ۔۔۔ مگر کبھی کبھی کسی گاڑی کو بد قسمتی سے ٹوک بھی دیتی ہے ۔۔۔ اسفند نے فراخ دلی سے اس کو آفر کیا ۔۔۔اس دفعہ ادینہ کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔۔

کبھی کبھی نہیں ہر تیسرے دن کسی نہ کسی گاڑی کو ٹوک کر اسے ہاسپٹل پہنچا دیتی ہے۔۔۔ یہ تو آپ کی قسمت اچھی تھی کہ آپ گاڑی سے باہر تھے ۔۔۔ ورنہ آج ایک ہاتھ یا پیر سے ہاتھ دھو بیٹھے ہوتے ۔۔۔اور آپ کے پوتے اور نواسے ہینڈسم دادا اور نانا سے محروم ۔۔۔۔

وہ ہنس ہنس کر بتا رہی تھی۔ ساتھ میں اسفند بھی ہنس دیا۔۔۔ اگر کوئی چپ تھا تو صارم ۔۔ جو ادینہ کی ہنسی میں کھویا ہوا تھا۔۔۔۔

اوےےے ۔۔۔ میں ڈراپ کردوں اس کو ۔۔؟؟ اس نے صارم کے سامنے چٹکی بجاتے ہوئے کہا۔۔۔وہ ایک دم ہوش میں آیا ۔۔۔۔

نہیں ۔۔ تمہارا کیا بھروسہ ایک نمبر کے ٹھرکی انسان ہو تم۔۔۔۔ صارم نے اسے آئینہ دکھا کر منع کردیا۔۔۔۔

دو چابی میں خود ڈراپ کر دوں گا۔۔۔صارم نے اس کے ہاتھ سے چابی لے کر کہا ۔۔۔

اسفند نے اس کو گھوری سے نوازا ۔۔۔ چھوٹی بہن جیسی ہے میری کمینے۔۔۔۔

چلو لائف میں پہلی بار تمہارے منہ سے کسی کے لئے بہن لفظ تو سنا۔۔۔ورنہ ہر لڑکی کے ساتھ تو فلرٹ کرکے لائن مارنے کی کوشش کرکے میری بھابھی بناتا ہے۔۔۔۔اب تو مجھے یاد بھی نہیں کہ میں کتنی بھابھیوں کا دیور ہوں۔۔۔۔صارم خلاف توقع کچھ زیادہ بول گیا۔۔۔

چلو ۔۔ ادینہ کو بول کر وہ ڈرائیونگ سیٹ کی طرف چلا گیا ۔۔۔۔

ادینہ اس کے پیچھے جانے لگی۔۔۔تو اسفند نے پیچھے سے آواز دی۔۔بات سنو۔۔

ہاں جی۔۔۔۔۔ ادینہ نے موڑ کر کہا۔۔۔۔۔

یو کین کال می بھائی ۔۔۔ اچھا لگے گا۔۔ اسفند نے دل سے بولا۔۔۔۔

تھینکس بھائی۔۔۔۔ادینہ نے بھی مسکرا کر دل سے جواب دیا۔۔۔۔

وہ مسکرایا ۔۔ دو فنگرز ماتھے تک لے جا کر ویلکم کہا۔۔۔

وہ بیک ڈور اوپن کرنے والی تھی کہ اسفند نے دوبارہ آواز دی۔۔۔

ارے بہنا۔۔۔وہ تمہارا ڈرائیور تھوڑی ہے فرنٹ سیٹ پر بیٹھ ۔۔۔۔۔

ادینہ نے گھبرا کر فرنٹ ڈور کھولا اور بیٹھ گئی۔۔۔۔

گاڑی گیٹ سے باہر نکلی تو اسفندزیرلب بھڑبھڑایا۔۔ پیاری لڑکی۔۔۔۔۔۔۔