Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282 Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 8)

68.3K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 8)

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan

صارم جبڑے بھینچے خاموشی سے ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔۔گھر کے قریب گاڑی روک کر ادینہ گاڑی سے نکلی ۔۔۔۔ گیٹ تک پہنچ کر دیکھا تو صارم اس کے پیچھے نہیں آیا تھا ۔۔۔۔

صارم نے اس کی آنکھوں میں پوچھا گیا سوال پڑھا۔۔۔۔۔

آئی تھنک گھر میں کوئی اور بھی ہے گیٹ ان لاک ہے۔۔۔ صارم نے آدھ کھلے گیٹ کی طرف اس کی توجہ دلائی ۔۔۔۔۔

پھر کبھی آجاؤنگا۔۔۔۔ اپنا خیال رکھنا۔۔۔۔۔

اور گاڑی زن سے بھگا لے گیا۔۔۔

ادینہ گھر کے اندر داخل ہوئی تو اس کی خالا سفیان کی امی بیٹھی تھی ۔۔۔۔ وہ اپنی جگہ جم گئی۔۔ وہ تو اتنے دنوں سے سفیان کی کہی ہوئی باتیں بھول چکی تھی ۔۔۔۔ تو کیا خالا واقعی شادی کی ڈیٹ مانگنے آئی ہے۔۔۔۔۔۔

اسی وسوسے میں گری وہ آگے بڑھی۔۔۔۔ اور خالا کو سلام کیا۔۔۔۔خالا نے اٹھ کر ادینہ کو گلے لگا کر پیار کیا۔۔۔۔ادینہ کو اپنی خالہ سے دلی لگاؤ تھا۔۔۔۔ شاید وہ خود اپنے بیٹے کے کرتوتوں سے ناواقف تھی ۔۔۔۔۔۔

اسکی امی نے اس کے ہاتھوں میں میڈیسن دیکھ لی تھی ۔۔۔۔ چلو شکر ہے ڈاکٹر کے پاس تو گئی۔۔۔ کتنے دنوں سے بول رہی تھی ۔۔۔ کہ چیک اپ کروالو۔۔۔ بخار اترتا نہیں ۔۔۔۔کیا کہا ڈاکٹر نے۔۔۔ اس کی امی فکرمند تھی۔۔۔۔۔

بس موسمی بخار ہے ۔۔۔۔ ٹھیک ہو جائے گا ۔۔ ۔۔یہ کہہ کر وہ آرام کرنے اندر چلی گئی ۔۔۔۔ ابھی بھی ویکنس بہت زیادہ فیل کر رہی تھی ۔۔۔۔۔

عبایا اتار کر وہ لیٹ گئی ۔۔۔۔۔ اور پھر سے خیالوں کی دنیا میں چلی گئی ۔۔۔۔ تو کیا اسفند بھائی کو پتہ تھا کہ میں صارم کیلئے کچھ فیل کرتی ہوں۔۔۔۔۔

وہ جس فیلڈ سے تعلق رکھتا ہے اس کو خیالوں تک بھی رسائی حاصل ہوتی ہے ۔۔۔۔ ہر انداز اس کا تفتیشی ہوتا تھا ۔۔۔۔ وہ کیا سوچے گا کہ میں اتنی خود غرض ہوں کہ صارم کی شادی شدہ زندگی کے بیچ آرہی ہوں ۔۔۔۔ پھر سے دماغ میں ہل چل ہونے لگی تو آنکھیں بند کر کے سونے لگی۔۔۔۔۔

*********

وہ گھر پہنچا تو سب سے پہلے حورم کے روم میں گیااس کو دیکھنے ۔۔۔ صبح سے اس کو بھی بخار تھا ۔۔۔ مگر وہ سو رہی تھی۔۔۔۔ اور مسز فاروقی اس کے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔۔ اسکو ماتھے پر کس کرکے واپس اپنے روم میں آکر شاور لیا اور صوفہ پر سر رکھ کر آنکھیں موندھی۔۔۔۔ ڈاکٹر حمدانی کے الفاظ ہتھوڑے کے وار کی طرح دل پر ضرب لگانے لگے۔۔۔۔۔

وہ بے ہوشی میں آپ کا نام لے رہی تھی صارم ۔۔۔۔ اس کو پینیک اٹیک آیا ہے ۔۔۔۔کسی بات کا بہت زیادہ سٹریس لیا ہے۔۔۔۔ کوشش کرے انکا سٹریس کم کرنے کی۔۔۔۔۔۔

وہ جانتا تھا ادینہ کے سٹریس کی وجہ کو ۔۔۔۔ اس کو عشق کا روگ لگا تھا ۔۔۔۔۔ وہ اس کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔ اس نے کبھی اس کو سپنے نہیں دکھائے تھے۔۔۔ نہ ہی کبھی اپنے باتوں سے کوئی امید دلائی تھی۔۔۔۔ پھر کیوں ۔۔۔ وہ خود بھی اس کے لئے سوفٹ کارنر رکھتا تھا۔۔ مگر وہ ہر طرف سے بندھا ہوا تھا۔۔۔۔ اس کی اپنی فیملی تھی ۔۔۔ اس مسئلہ کا کوئی حل تو اسے ڈھونڈنا تھا۔۔ اس کی جان پر بنی تھی ادینہ کی یہ حالت دیکھ کر ۔۔۔۔۔۔

موبائل اٹھا کر مطلوبہ نمبر ڈائل کیا اور کان سے لگایا ۔۔۔۔

ہیلو اسفند ۔۔۔مجھ سے ملو ابھی ۔۔۔۔ نہ سلام نا دعا۔۔

کہاں؟؟؟

میرے گھر آجاؤ ۔۔۔۔

اوکے ۔۔۔ اسفند نے کہا اور موبائل بند کردیا۔۔۔

اگلے پندرہ منٹ میں وہ اس کے کمرے میں اس کے سامنے بیٹھا تھا ۔۔۔۔

اب بول بھی دو ۔۔۔۔۔کیا بات ہے ؟؟؟؟

مسلسل وہ ہاتھوں کو ایک دوسرے میں الجھا کر مروڑ رہا تھا …..

اب یہ پریٹینڈ مت کرنا کہ تمہیں کچھ نہیں پتہ کہ میں نے تمہیں یہاں کیوں بلایا ہے۔۔صارم بغیر نظر ملائے بول گیا۔۔۔

جانتا ہوں ۔۔۔۔۔ بٹ خود تمہارے منہ سے سننا چاہتا ہوں ۔۔۔۔ اسفند اس کے قریب ہو کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔

میں نے کبھی اس سے ایسی بات کی ہی نہیں جس سے اس کے دل میں امید کی کوئی کرن جاگ جائے۔۔۔۔ میں تو خود سپنوں کی دنیا سے کوسوں میل دور کھڑا ہوں ۔۔۔۔کوئی وعدہ کوئی دعویٰ نہیں کیا۔۔۔اس کی یہ حالت اور دیوانگی دیکھ کر ڈر لگنے لگا ہے۔۔۔۔۔

صارم نے تفکرانہ انداز میں وضاخت کی۔۔۔

وہ سوٹ بھی تم نے اس کو لاکر دیا تھا نہ؟؟

اسفند کے پوچھنے پر وہ گڑبڑایا۔۔ ۔۔

ہاں لیا تھا۔۔۔ اقرار کیا اس نے۔۔۔۔۔

تمہیں اس نے بتایا ؟؟؟ صارم نے حیرانگی سے پوچھا ۔۔۔۔۔

نہیں ۔۔۔۔ میری اس سے بس اتنی ہی بات چیت ہوتی ہے جو تمہاری موجودگی میں ہوتی ۔۔۔۔۔

میں نے خود تمہیں وہ سوٹ خریدتے وقت دیکھ لیا تھا۔۔۔ جب تم مال میں ہم سے جان بوجھ کر پیچھے رہ گئے ۔۔۔ تو میں آیا تھا تمہاریے پیچھے ۔۔۔۔ تم نے سوٹ کو دیکھا پھر پیک کر کے لے لیا۔۔۔ تم پیمنٹ کر رہے تھے جب میں آنکھ بچا کر واپس آگیا ۔۔۔۔۔

اور یقیناً تم ارسلان کو بھی بتایا ہوگا تم نے ۔۔۔ ؟؟؟ صارم نے نظر اٹھا کر پوچھا۔۔۔۔۔

نہیں ۔۔ مجھے راز رکھنے آتے ہیں ۔۔۔۔ اسفند کے جواب سے وہ مطمئن ہو گیا۔۔۔۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ اپنے فرینڈز سے اپنے سیکرٹس چھپانا چاہتا تھا ۔۔۔۔ مگر اس وقت بات کسی لڑکی عزت کی تھی۔۔۔۔۔ وہ ہر عورت کی قدر کرنا جانتا تھا ۔۔۔۔

پھر جب میری ادینہ سے یہاں ملاقات ہوئی ۔۔۔ یو نو وہ گاڑی ٹوکنے والی ریزننگ۔۔۔ تو میں نے تمہاری آنکھوں میں اس کے لئے محبت کے دیپ جلتے دیکھے تھے۔۔۔۔۔۔ سارے جہاں کا پیار اپنی آنکھوں میں سما کر تم است تک رہے تھے ۔۔۔آنکھیں بولتی ہے تمہاری۔۔۔۔

پھر ایک دن جب میں تمہیں لینے آ رہا تھا۔۔۔۔سوچا تمہاری گاڑی مکینک کے پاس ہے میں تمہیں پک کرکے ارسلان کے ہاں چلے جائیں گے۔۔۔ تو گیٹ پر صابر چاچا سے ملا ۔۔۔ اس نے بتایا تھا کہ ادینہ والی گاڑی راستے میں راب ہوگئی تھی اور تم اس کو بائیک پر چھوڑنے اس کے گھر گئے ہو۔۔۔ اور مجھ سے بہتر تمہیں کون جانتا ہے کہ میرے بھائی نے آج تک اپنی بائیک پر کسی لڑکی کو نہیں بٹھایا ہے۔۔۔۔ ضرور کوئی سم ون اسپیشل ہوگی۔۔اسفند کو جتنا معلوم تھا۔۔ بتا دیا۔۔۔۔۔

صارم نے دو انگلیوں سے اپنی ماتھے کو مسلا۔۔۔۔۔

اور پھر ہاسپٹل میں تو تم نے میرے یقین پر مہر لگا دی۔۔۔تمہاری حالت ایسی تھی جیسے ۔۔۔۔۔۔۔

بسسسس یار ۔۔۔ صارم نے بے بسی سے ہاتھ اٹھا کر اسے چپ کردیا۔۔۔۔

ہاں تو اب مجھے کیوں بلایا۔۔ اسفند نے پھر سے وہی سوال دہرایا ۔۔۔۔

آئی لو ہر ۔۔۔ صارم کے منہ سے آخر وہ کھڑوا سچ نکل ہی گیا ۔۔۔۔ جو اندر ہی اندر اسے دیمک کی طرح چاٹ رہا تھا۔۔۔۔

آئی نو دیٹ۔۔۔۔۔ اسفند نے دوبدو جواب دیا ۔۔۔

لیکن تم جانتے ہو نہ۔۔ کہ ایسے تعلق کا کوئی نام نہیں ہوتا۔۔ میرا گھر اور بچے۔۔۔ صارم نے کھوئے کھوئے لہجے میں کہا ۔۔۔۔۔

پیار پر کسی کا بس نہیں چلتا ۔۔۔۔ کب کس گھڑی دل دغا دے ۔۔۔ پتہ ہی نہیں چلتا۔۔۔نہ ہی کوئی اپنی مرضی سے پیار کرتا ہے ۔۔۔۔ یہ بس ہوجاتا ہے ۔۔۔۔ نہ عمر دیکھتا ہے نہ حالات ۔۔ وہ بھی یہاں آتی تھی۔۔۔ سب جانتی تھی نہ۔۔۔۔ پھر بھی اس کو پیار یوگیا ہے تم سے۔۔۔۔

دونوں نے چونکتے ہوئے ایک ساتھ دروازے کی جانب دیکھا ۔۔۔۔ مسز فاروقی ہاتھ میں فریش جوس پکڑے اندر داخل ہوئی ۔۔۔۔ اتنا کچھ بولنے کا مطلب ہے کہ اس نے دونوں کی گفتگو سنی۔۔دونوں کو سانپ سونگھ گیا ۔۔۔۔

اتنا آسان نہیں ہے یہ ۔۔۔۔ میں ایسا کچھ بھی نہیں کرنے والا ۔۔۔۔ سب جانتے ہیں ۔۔۔۔پھر ایسا کیسے بول سکتے ہو تم سب ۔۔۔۔ صارم نے بے بسی سے کہا۔۔۔۔۔

تو پھر چھوڑو اس کی پروہ کرنا ۔۔۔۔ جو بھی ہو یہ اس کا مسئلہ ہے ۔۔۔ تم کیوں گلٹ فیل کر رہے ہوں۔۔۔ سائیڈ پہ ہو جاؤ۔۔۔۔ مرنے دو اسے۔۔۔۔

بھابھی پلیز ۔۔۔۔ آپ اتنی سیلفش کیسے ہو سکتی ہے ۔۔۔۔اسفند کو برا لگا اسے مزید بولنے سے روکا۔۔۔

واوووو ۔۔۔ میں کہ تمہارا یہ دوست۔۔۔۔ یہ ہے خود غرض ۔۔۔ اسے کیا لگتا ہے کہ اس طرح قربانیاں دے کر یہ گریٹ بن جائے گا تو ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔ یہ کہہ کر وہ رکی نہیں چلی گئی ۔۔۔۔۔

برا کیوں لگ رہا ہے اب تمہیں ۔۔۔۔اسفند نے طنز کا تیر صارم کو مارا۔۔۔ جس کا چہرا خفت سے سرخ تھا۔۔۔۔ بھابھی ٹھیک ہی کہہ رہی تھی۔۔۔۔۔ اگر اسے اپنا سکتے تو اس کے حال پر چھوڑ دو ۔۔۔

میں نے تمہیں یہاں کیوں بلایا ہے۔۔۔۔ اس مسئلہ کے حل کے لیے نہ ۔۔۔۔ تو پھر اپنی بکواس بند کرو ۔۔۔۔ مجھے بتاؤ کیا کروں میں ۔۔ میری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بلکل مفقود ہے۔۔۔۔ صارم نے کنپٹیوں کو دونوں ہاتھوں سے سہلایا ۔۔۔۔

شادی کر لو اس سے ۔۔۔۔ سب سے بیٹر سولوشن۔۔۔ اسفند نے تجویز پیش کی ۔۔۔۔۔

واٹ ۔۔۔۔ دماغ تو ٹھیک ہے نا تمہارا۔۔ صارم نے چلا کر کہا۔۔

۔

ہاں ٹھیک ہوں بلکل ۔۔۔ لوگ چار چار شادیاں کرتے ہیں اور تم۔۔۔۔۔۔

اسفند پلیز ۔۔۔ کوئی اور راستہ نہیں ہے کیا۔۔۔۔

مجھے تو کوئی اور نظر نہیں آرہا۔۔۔اسفند نے صاف گوئی سے کام لیا ۔۔۔۔۔

مجھے سوچنے دو ۔۔۔۔ صارم نے تھک کر سر ہاتھوں میں پکڑا ۔۔۔

اچھی طرح سوچ کر مجھے بتانا۔۔۔ میں نے آج سردار حیات خان کے بندے کو پکڑنے جانا ہے ۔۔۔ دعا کرو ۔۔۔

وہ چلا گیا۔۔۔ صارم اس کی باتوں کو سوچنے لگا۔۔۔۔

کیا ادینہ یہ سب ایکسپٹ کر لے گی۔۔۔ سوچتے سوچتے وہ نیند کی وادیوں میں اتر گیا ۔۔۔۔۔۔

****”***

وہ ابھی آرام کر کے اٹھی تھی کہ اس کی امی روم میں آگئی۔۔۔ وہ بیٹھ گئی ۔۔۔۔

اب طبیعت ٹھیک ہے ؟؟؟ اس کی امی نے پیار سے پوچھا ۔۔۔۔۔

جی امی ۔۔۔ اب بہتر ہے ۔۔۔۔۔

شکر ہے خدا کا۔۔۔۔

تمہاری خالا آئی تھی شادی کی ڈیٹ فائنل کرنے۔۔ امی نے افسردگی سے آنکھیں چراتے ہوئےکہا۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے امی اگلی بار آئیں وہ ۔۔۔تو بھائی سے مشورہ کر کے ڈیٹ فائنل کروادیں ۔۔ ادینہ نے لہجے کو نارمل رکھ کر کہا۔۔۔شاید یہی میری قسمت میں لکھا گیا ہے ۔۔۔۔

امی نے اس کو گلے لگایا ۔۔۔ اللّٰہ تمہیں سارے جہاں کی خوشیاں دے۔۔۔ اللّٰہ نصیب اچھے کرے ۔۔ آمین ۔۔۔۔۔

آمین ۔۔۔ ادینہ دھیرے سے بولی۔۔۔

رات کسی پہر ادینہ کو اپنی امی کی آواز سنائی دی ۔۔۔ پہلے تو اسے خواب کا گمان ہوا۔۔۔ لیکن پھر جھٹ سے آنکھیں کھولی تو اس کی امی سامنے سنگل بیڈ پر لیٹی سینے پر ہاتھ رکھ کے زور سے دبا رہی تھی ۔۔۔۔ ادینہ نے بیڈ سے چھلانگ لگائی اور امی کے پاس پہنچ گئی ۔۔۔۔

امی امی کیا ہوا۔۔۔

پ پ پانی ی۔۔۔ اس کی امی نے بے ترتیب سانسوں میں کہا۔۔۔۔۔

وہ جلدی پانی لے آئی۔۔۔۔امی پلیز آنکھیں کھولیں ۔۔۔ وہ بہت رو رہی تھی ۔۔ اس کی بھابھی کسی کزن کی شادی میں گئی تھی ۔۔۔۔

وہ دونوں اکیلی تھی ۔۔۔

امی پلیز ۔۔ یا اللّٰہ امی کو کچھ نہیں ہوسکتا۔۔ کیا کروں میں۔۔۔۔۔

کچھ یاد آنے پر موبائل اٹھایا اور نمبر ڈائل کیا۔۔۔ بیل جارہی تھی ۔۔۔۔ لاسٹ بیل پر کال پک کر لی گئی۔۔۔۔ اور صارم کی نیند میں ڈوبی خمار بھری گھمبیر آواز آئی۔۔۔۔

ہیلو ۔۔ نمبر دیکھے بغیر اس نے کال پک کی۔۔۔۔۔

اور دوسری طرف سسکیوں کی آواز کے ساتھ ہی وہ پوری طرح نیند سے بیدار ہوا۔۔۔ موبائل کان سے ہٹا کر نمبر دیکھا تو ادینہ کا تھا ۔۔۔ جلدی دوبارہ کان سے لگایا۔۔۔

ہیلو ادینہ ۔۔ کیا ہوا ۔۔۔۔ رونے کی آواز تیز ہو گئی ۔۔ادینہ کچھ تو بولو ۔۔۔اس کا دل ڈوبنے لگا تھا۔۔۔۔۔

امی کو ہارٹ اٹیک آیا ہے ۔۔۔ گھر میں کوئی نہیں ہے۔۔۔ اسکی کنڈیشن کافی کریٹیکل ہے۔۔۔ آآآپپ پ پ پلیز جلدی آجائیں ۔۔ وہ سسکتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔

کچھ نہیں ہوگا میں ابھی اتا ہوں ڈونٹ وری۔۔۔۔

وہ نائٹ ڈریس میں ہی چپل پہنے ، بکھرے بال۔۔۔ گاڑی کی کیز اٹھاتا باہر نکلا۔۔۔ اس کی جاب ایسی تھی کہ اکثر رات کو بھی جانا پڑتا تھا۔۔۔ گارڈ نے اس کو گاڑی میں بیٹھے دیکھ کر مین گیٹ کھولا اور وہ نکل گیا ۔۔۔۔۔

بیس منٹ کا راستہ اس نے دس منٹ میں طے کیا ۔۔۔ ادینہ نے گاڑی رکنے کی آواز سنی تو گیٹ کھولا۔۔۔۔

وہ عجلت میں اندر داخل ہوا۔۔۔

کہاں ہے آنٹی۔۔۔روتی ہوئی ادینہ سے پوچھا۔۔۔

اندر ہے۔۔۔۔ ادینہ کی مدد سے اس نے اس کی امی کو گاڑی میں لٹایا۔۔۔۔ ادینہ نے اس کا سر اپنی گود میں رکھا تھا اس کی آنکھیں بند ہونے لگی تھی۔۔۔شائید بے ہوش ہوچکی تھی ۔۔۔۔ ادینہ اب ہچکیوں میں رو رہی تھی۔۔۔۔ بار بار اس کے چہرے کو چھوم رہی تھی۔۔۔

امی آنکھیں کھولیں پلیز ۔۔۔۔ صارم کافی رش ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔۔ آدھی رات کا وقت تھا ۔۔۔ روڈ تقریباً سنسان تھا۔۔۔۔۔

ہاسپٹل پہنچے تو صارم نے ان کو گود میں اٹھایا اور سٹریچر پر ڈالا۔۔۔ ادینہ نے اپنی امی کا ہاتھ پکڑا تھا۔۔۔ صارم سے اس کی یہ حالت نہیں دیکھی جارہی تھی ۔۔۔۔ وہ خود بھی ٹھیک نہیں تھی۔۔۔وہ مسلسل اس کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔

اس کی امی کو ایمرجنسی میں لے جایا گیا ۔۔۔ تو اس کے ہاتھ سے ادینہ کا ہاتھ چھوٹ گیا۔۔۔ اور وہ وہی زمین پر بیٹھ کر بلک بلک کر رونے لگی۔۔۔۔۔

ڈاکٹرز ایمرجنسی میں چلے گئے ۔۔۔۔ صارم اس کے پاس ہی زمین پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔ وہ اپنی حیثیت عہدہ سب کچھ بھول گیا تھا۔۔۔ اگر کچھ یاد تھا تو صرف کہ ادینہ تکلیف میں ہے ۔۔لیکن اس کے پاس خود الفاظ نہیں تھے تسلی دینے کے۔۔۔۔۔

اندر سے ایک ڈاکٹر باہر آیا اور صارم کو ایک کاغذ پکڑا دیا کہ جلدی یہ انجیکشن اور ڈراپ لے آئیں ۔۔۔ وہ جانے لگا۔۔۔ تو اسے یاد آیا کہ وہ جلدی میں اپنا والٹ اٹھانا بھول گیا ہے۔۔۔۔ وہ باہر گیا اور اسفند کو کال کی۔۔۔ وہ بھی سو رہا تھا۔۔۔ رات کے ڈھائی بج رہے تھے۔۔۔۔۔

کال پک کر لی گئی ۔۔۔تو صارم نے جلدی میں سب کچھ بتایا۔۔۔میں والٹ گھر بھول آیا ہوں۔۔۔۔ تم جلدی پہنچو۔۔۔

وہ انجیکشن اور ڈراپ لے آیا۔۔۔ اور پیمنٹ تھوڑی دیر بعد کرنے کو کہا۔۔۔۔

ڈاکٹر کو سامان پکڑواکر وہ پھر زمین پر ادینہ کے پاس بیٹھ گیا ۔۔ وہ بہت زیادہ رو رہی تھی۔۔۔۔ صارم نے آج پہلی بار اسے بغیر عبایا کے دیکھا۔۔۔ معصوم سی ادینہ گھر کے سادہ کپڑوں میں ملبوس تھی۔۔۔۔

تھوڑی دیر بعد اسفند بھی پہنچا۔۔۔

وہ بھی نائٹ ڈریس میں تھا۔۔۔صارم کی طرح کھلا ٹراؤزر اور کھلا شرٹ پہنے ۔۔۔۔

اس نے آکر ادینہ کو اپنے ساتھ لگا کر تسلی دی ۔۔۔۔ صارم کھڑا ہوگیا تو اسفند نے ادینہ کو بھی اٹھا کر بینچ پر بٹھایا ۔۔۔ صارم نے اسفند کو پیمنٹ کرنے بیج دیا۔۔۔

ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ایک سینئر ڈاکٹر باہر نکلا۔۔۔۔۔

وہ دونوں ایک ساتھ اٹھے اور ڈاکٹر کو توجیہی نظروں سے دیکھنے لگے۔۔۔

آئی ایم سوری ۔۔۔ شی از نو مور۔۔۔ آپ لوگوں نے لانے میں دیر کر دی ۔۔۔۔ ہم اسے بچا نہیں پائے۔۔۔

آواز تھی کہ بم۔۔۔۔ ان کے سروں کے اوپر جیسے آسمان دھڑام کے گرا ہو ۔۔۔۔ پورا ہاسپٹل ادینہ کی چیخوں سے گونج اٹھا۔۔۔۔

~~~~~~~~~~~~~~