Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282 Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 25) Last Episode (Last Part).

68.3K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 25) Last Episode (Last Part).

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan

کچن میں آکر لائٹ جلائے بغیر نل کھول کر جگ بھرنے لگی کہ غقب میں قدموں کی دبی دبی آہٹ محسوس کی ۔۔۔۔ ایک انجانا خوف رگوں میں دوڑنے لگا سانس سینے میں اٹک گئی ۔۔۔۔ خوف کے مارے ہاتھ پیر کانپنے لگے ۔۔۔ قدموں کی آہٹ اب قریب سے آنے لگی ۔۔۔ تو وہ بلکل اپنی جگہ منجمد ہوگئی ۔۔۔ رخ مڑنے والی تھی کہ کسی نے پیچھے سے اسکے منہ پر ہاتھ رکھا اور کوئی نوکیلی چیز اس کے گردن پر رکھ دی ۔۔۔ ایک زوردار چیخ ماری لیکن آواز منہ پر رکھے ہاتھ میں دب گئی ۔۔۔

اگر ایک انچ بھی ہلی یا آواز نکالی تو جان سے جاؤگی ۔۔۔۔ گھمبیر آواز آہستہ سے کانوں سے ٹکرائی ۔۔۔۔

وہ زور سے آنکھیں میچی ہوئی ساکت کھڑی تھی ۔۔۔

ک ککون ہے آآپ۔پ پ ۔۔۔ آپ جو ک۔ کک کوئی بھی ہے غلط رہے ہیں ۔۔۔ یہ ایس پی صارم فاروقی کا گھر ہے یہاں آنے کی ج ج۔ جج جرات کیسے کی ۔۔۔ وہ چھوڑے گا نہیں اپکو ۔۔۔۔ ہکلاتے ہوئے بات پوری کردی ۔۔۔۔

دیکھتے ہیں کون کس کو نہیں چھوڑتا ۔۔۔ چلو باہر ۔۔۔۔۔

وہ آگے آگے وہ نقاب پوش پیچھے پیچھے کچن سے نکل کر ہال میں داخل ہوئے ۔۔۔

ہال تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔ صرف موبایل ٹارچ کی روشنی تھی ۔۔۔ حنا فاروقی نے ڈرتے ڈرتے پیچھے دیکھنا چاہا ۔۔۔ لیکن خوف آڑے اگئی ۔۔۔۔

بیٹھو ۔۔۔۔ صوفے کی طرف اشارہ کرکے کہا گیا ۔۔۔۔

وہ صوفے پر بیٹھ گئی ۔۔۔ پورا جسم زلزلوں کی زد میں تھا ۔۔۔۔

کہاں گئے ہیں باقی گھر والے ۔۔۔ کرخت لہجے میں پوچھا گیا ۔۔۔۔

آپ۔پ کو ج۔۔۔ج۔۔جو بھی چاہیے وہ آپ لے جائے۔۔ م۔۔۔ م۔۔ میں خود دے دونگی س۔س۔سب۔۔۔

مجھے جو چاہیے وہ تمہارے ایس پی صاحب ہی دیں گے ۔۔۔۔ ہم بھی دیکھنا چاہتے ہیں کتنا دم ہے اس میں ۔۔۔۔ چہرے ہر کئے گئے نقاب کی وجہ سے آواز بھاری اور وحشت ناک ہورہی تھی ۔۔۔

مین گیٹ کھولنے کی آواز آئی تو حنا فاروقی کی جان جانے لگی اس کے رگ وپے میں سنسنی پھیلنے لگی ۔۔۔۔۔ اس کے جان سے پیارے بچے ۔۔۔ بھائیوں سے بڑھ کر دیور ۔۔۔ اور معصوم سی ادینہ ۔۔۔ جو اتنی کٹھن آزمائشوں کے بعد جینے لگی تھی ۔۔۔ وہ دم سادھے خوفزدہ سی کھڑی ہوگئی ۔۔۔ اور سب کی خیر و عافیت کی دعا مانگنے لگی ۔۔۔

ص۔۔۔ص۔۔صارم۔۔۔۔ اندر مت آنا ۔۔۔۔۔ جیسے ہی صارم لوگ ہال میں قدم رکھنے لگے ۔۔۔ حنا فاروقی کی دل کو چیرتی آواز سنی ۔۔۔ تو نقاب پوش پھر سے اسکے پیچھے آکر کھڑا ہوگیا اور گردن پر تیزدھار ہتھیار رکھا ۔۔۔۔

آواز پر صارم کے چلتے قدم رک گئے ۔۔۔

ہال کے دروازے کے ساتھ ہی لگے سوئچ بورڈ پر ہاتھ رکھا اور ساری لائیٹس آن کردی ۔۔۔ ہال ایک دم روشن ہوا ۔۔۔ سامنے کا منظر دیکھا تو قدم وہیں ٹھٹھک گئے ۔۔۔۔

بھابھی ۔۔۔ صارم ہلکے آواز میں دھاڑا ۔۔۔ کنپٹی کی رگیں اُبھر کر پھٹنے کے قریب ہوگئی ۔۔۔ چھوڑو اسے ۔۔۔۔ کون ہو تم ۔۔۔ اتنی سخت سیکیورٹی میں اس طرح گھر کے اندر گھسے کیسے ۔۔۔۔ یہ سکیورٹی والے مر گئے تھے کیا ۔۔۔۔

حنا فاروقی بڑے چاہ سے صارم اور اس کے منہ سے نکلنے والے الفاظ پر غور کر رہی تھی ۔۔۔ یہ لفظ سننے کے لئے برسوں سے اس کے کان ترس گئے تھے ۔۔۔ آج بولے بھی تو کونسے لمحے میں جب موت کی تلوار سر پر لٹک رہی تھی ۔۔۔۔

کام ڈاؤن ایس پی صاحب ۔۔۔ آواز نیچے ۔۔ اگر ایک بھی گارڈ اندر آیا تو یہ تو گئی ڈائریکٹ اوپر ۔۔۔۔ پیچھے سے حنا فاروقی کی گردن کو پکڑ کر وارننگ دی ۔۔۔

بچے گاڑی میں ہی سو گئے تھے ۔۔۔ ادینہ کے کندھے پر حورم اور صارم کے پاس زارش جو اس کے کندھے پر سر رکھ کر سو رہی تھی ۔۔۔ جبکہ ارمغان کو گاڑی میں چھوڑ آئے تھے ۔۔۔۔ ارادہ زارش کو لٹا کر اسے بھی لانے کا تھا ۔۔۔ لیکن یہاں کا منظر تو کچھ اور ہی تھا ۔۔۔

مجھ سے بات کرو ۔۔۔ اب صارم تھوڑا ڈاؤن ہوگیا ۔۔۔۔ جو انسان اتنی ٹائٹ سیکیورٹی کے باوجود اندر تک آسکتا تھا تو مطلب کچھ بھی کر سکتا تھا ۔۔۔

سب سے بات کروں گا ۔۔۔ جلدی ہی کیا ہے ۔۔۔

میں بچوں کو روم میں لٹا کر آتا ہوں ۔۔۔ چلو ادینہ ۔۔۔ صارم نے ادینہ کو مخاطب کرکے کہا جو کب سے ہونق بنی بھابھی کو تک رہی تھی ۔۔۔

نہیں صارم وہ بھابھی ۔۔۔۔ ادینہ سہمی ہوئی صارم کا بازو دبوچ کر کھڑی تھی ۔۔۔۔

جاؤ ۔۔۔ اگر کوئی بھی ہوشیاری کی یا پولیس وغیرہ کو بلانے کا سوچا تو سب جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گے ۔۔۔

پاگل ہوں کیا میں ۔۔۔ صارم ضبط سے بولا ۔۔۔۔

بچوں کو کمرے میں لٹا کر صارم ارمغان کو لینے گیا۔۔۔ اس کو بھی لٹا کر روم کا دروازہ باہر سے لاک کردیا ۔۔۔

اب تینوں باہر ہال میں کھڑے تھے ۔۔۔ جبکہ نقاب پوش جو کہ بلیک شرٹ او سیم ہی بلیک کلر کا ٹروزار بلیک جیکٹ پہنے نقاب کئے آنکھوں پر بلیک گلاسز لگائے کھڑا تھا ۔۔۔۔

کون ہو تم اور کیا چاہیے ۔۔۔ چھوڑ میری بھابھی کو ۔۔۔ جو بھی بولنا ہے مجھ سے بولو ۔۔۔ عورتوں کو بیچ میں کیوں گھسیٹ رہے ہو ۔۔۔۔

خاموشی میں صارم کی سرد آواز نے خلل ڈالا ۔۔۔ گھر کی عزت کا اس طرح کسی اور کے بازوؤں میں کھڑے رہنا اسے طیش دلا رہا تھا لیکن سوال بھابھی کی زندگی کا تھا ۔۔۔۔

واو ۔۔۔۔ اور یہ تتلی کون ہے؟؟؟ ادینہ کی طرف اشارہ کرکے پوچھا ۔۔۔ جو سہمی سی صارم کے پہلو میں کھڑی تھی ۔۔۔۔

اس نے پوری باڈی کو چھپا کر رکھا ہوا تھا ۔۔۔ تو کسی قسم کا ایکسپریشن دکھ نہیں رہا تھا ۔۔

ادینہ صارم کے اور قریب کسک گئی ۔۔۔۔

رشتہ داریاں نبھانے آئے ہو کیا ۔۔۔ مدعے پر آو ۔۔۔ صارم نے ادینہ کے گرد بازوؤں کا حلقہ بنا کر خود سے لگایا ۔۔۔۔

تمہاری بھابھی کچھ دیر پہلے تمہاری بہادری کے بڑے دعوے کر رہی تھی کہ تم مجھے چھوڑوگے نہیں ۔۔ فلاں فلاں ۔۔۔ تو چلو دو دو ہاتھ ہوجائے ۔۔۔۔

نہیں ۔۔ نہیں پلیز ۔۔۔ ایک ساتھ حنا فاروقی اور ادینہ گڑگڑائی ۔۔۔۔۔ ادینہ نے صارم کی شرٹ مٹھیوں میں جھکڑ لی ۔۔۔

نہیں صارم پیچھے ہٹو ۔۔۔ ایک قدم بھی آگے مت آنا ۔۔۔ حنا نے بھی اسے منع کیا ۔۔۔۔

تو تماشہ دیکھوں ۔۔۔ یہ شخص میری بے بسی کا مذاق اڑا رہا ہے ۔۔۔ صارم غرایا ۔۔۔ اور ادینہ کے ہاتھوں سے اپنی شرٹ نکالنے لگا مگر ادینہ کی گرفت کافی سخت تھی ۔۔۔

نن ۔نہیں صارم آپ کو میری قسم ۔۔۔۔ لڑنا نہیں ۔۔۔ انہیں جو چاہیے وہ دے دو ۔۔۔ میرے پاس آپ کے علاؤہ کوئی نہیں ہے ۔۔۔ میں مر جاؤگی ۔۔۔ آپکو نہیں کھو سکتی ۔۔۔۔ وہ صارم کے آگے ٹوٹ رہی تھے اب باقاعدہ رونے لگی ۔۔۔

افسسسسس ۔۔۔۔ تیری بلبل تو بڑی پھڑپھڑا رہی ہے ۔۔۔ چچچ ۔۔۔ لو میرج ہے کیا ۔۔۔ ایک جاندار قہقہہ نقاب پوش کا پورے ہال میں گونجا ۔۔۔ صارم جو اس کی بات پر پیچ وتاب کھاکر ادینہ کے گرفت سے خود کو چھڑا کر آگے بڑھ رہا تھا ۔۔۔ اس کے قہقہے پر اسکے پیروں میں جیسے بیڑیاں ڈال دئ گئی ۔۔۔۔

وہ یک ٹک سامنے کھڑے شخص کو بے یقینی سے دیکھنے لگا ۔۔۔۔

اور یہی حال سامنے کھڑی حنا فاروقی کا بھی تھا۔۔۔ اس بار ہمت کرکے وہ پیچھے مڑی ۔۔۔ اور نقاب پوش کے دوبدو کھڑی ہوگئی ۔۔۔۔

اور لا شعوری طور پر ہاتھ ہولے سے نقاب پوش کے نقاب میں ڈھکے اس کے چہرے پر رکھا ۔۔۔۔ ابھی اسکا نقاب ہٹانے ہی لگی تھی کہ صارم برق رفتاری سے آگے آیا اور نقاب پوش کو گردن سے پکڑ کر دیوار سے لگایا ۔۔۔ اور اس کے پیٹ پر مکوں گھونسوں کی بوچھاڑ کردی ۔۔۔۔ حنا فاروقی سائیڈ پر کھڑی صارم کا پاگل پن دیکھنے لگی ۔۔۔۔

ادینہ صارم کو پکارتے پکارتے چپ گئی ۔۔۔ کیونکہ مقابل شخص کے وجود میں کوئی جنبشِ نہیں ہوئی تھی ۔۔۔ وہ صارم کے مارنے پر کسی طرح کا ری ایکٹ نہیں کرپا رہا تھا ۔۔۔ اور بھابھی کیوں نہیں روک رہی صارم کو ۔۔۔۔

صارم کی ہمت تھک کر جواب دے گئی ۔۔۔ تو وہی زمین پر بے سدھ گر گیا ۔۔۔

ایک بار ۔۔۔ ایک بار بھی آپ نے میرے بارے میں نہیں سوچا ۔۔۔ ایک بار بھی آپکو میری یاد نہیں آئی ۔۔۔ پل پل مرتا رہا میں آپکو یاد کرکے ۔۔۔۔ ہجر کی کٹھن راتیں مجھے سونپ کر گئے تھے اور پلٹ کر پوچھا نہیں ۔۔۔ غم اور جذبات کی شدت سے وہ خوبرو مرداپنے اندر سالوں سے پلتے دکھوں کا لاوہ باہر انڈیل رہا تھا ۔۔۔ مر گیا تھا صارم اسی دن جب آپکے موت کی خبر ملی تھی ۔۔۔ مگر آپ سے کئے گئے وعدوں کا پالن رکھنے کے لیے سانس لیتا رہا ۔۔۔اپکے بچوں کے لئے جیتا رہا ۔۔۔۔

نقاب اتر گیا تھا ۔۔۔ وہی روشن آنکھیں وہی پر سحر چہرہ ۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں بدلہ تھا ۔۔۔ ادینہ آنکھیں پھاڑے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ جو اب صارم کے پاس زمین پر بیٹھ کر اسے خود میں بچوں کی طرح بھینچے ہوئے تھا ۔۔۔۔ اور اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو لگاتار چھوم رہا تھا ۔۔۔

نکال لی دل کی بھڑاس ؟؟؟ صارم نے ایک لمبی سانس ہوا کے سپرد کی تو آریز نے ٹونٹ کیا ۔۔۔ ہاتھ ہے یا ہتھوڑا ۔۔۔ قسم سے پیٹ کا سارا مواد باہر نکل کر آجاتا ۔۔۔۔ اور ساتھ ہی اسے اٹھا کر صوفے پر اپنے پاس بٹھایا ۔۔۔۔

حنا فاروقی اب تک بے یقینی سے اپنے ہسبنڈ کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ جو ان کے لئے جیسے مر کر زندہ ہوگیا تھا ۔۔۔۔

یہ ۔۔۔ آریز نے ادینہ کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔

میری وائف ہے ۔۔۔ صارم نے شرمندگی سے سر جھکایا ۔۔۔

ادھر آو ۔۔۔۔ آریز نے ادینہ کو دیکھ کر سنجیدگی کا لبادہ اوڑھ کر سختی سے کہا تو ادینہ لرز گئی ۔۔۔۔ اور صارم کی طرف مدد طلب نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔۔۔ اس کے سر ہلانے پر بے جان قدموں سے پاس چلی آئی ۔۔۔

تمہیں شادی کے لئے کوئی اور نہیں ملا جو اس جیسے سڑیل انسان کے پلے پڑھ گئی ۔۔۔ اتنی پیاری تو ہو ۔۔۔ ہاتھ بڑھا کر ادینہ کو اپنے قریب بٹھا کر خود سے لگایا اور ماتھے پر پیار کیا ۔۔۔۔۔ حنا فاروقی بھی گو مگو کیفیت میں سامنے صوفے پر بیٹھ گئی تھی ۔۔۔۔

ادینہ نے بے اختیار اپنا ہاتھ آریز کے چہرے پر رکھ کر خود کو یقین دلانا چاہا ۔۔۔ جس شخص سے ملنے کی خواہش کی تھی وہ حقیقت بن کر سامنے بیٹھا تھا ۔۔۔۔ تو صارم آنکھیں چھوٹی کرکے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔

میں نے صارم کے منہ سے آپکا ذکر سن کر اس کی آنکھوں میں آپ کے لئے پیار اور عقیدت اور بے پناہ چاہت دیکھی ہے ۔۔۔ اور یہی حسرت رہی کہ کاش آپ سے مل لیتی ۔۔۔۔ خوابوں میں ہی سہی لیکن یہاں تو آپ حقیقت بن کر سامنے ہے تو یقین کرنا مشکل ہورہا ہے ۔۔۔۔ ادینہ ٹرانس کی کیفیت میں مبتلا تھی ۔۔۔۔

یہ میرا سب کچھ ہے میری جینے کی وجہ ۔۔۔ اتنا تو بنتا تھا اس کا بھی ۔۔۔ آریز نے دوسری طرف صارم کو خود سے لگا کر اس کے سر پر بوسہ دیا ۔۔۔

اتنی حسین مسکراہٹ میں نے پہلی بار دیکھی ہے ۔۔۔ آپ واقع ایک زندہ دل انسان ہے ۔۔۔ مسکرانے میں کنجوسی نہیں کرتے ہیں ۔۔۔ ادینہ دیکھ آریز کو رہی تھی او طنز کا نشانہ صارم تھا ۔۔۔

ہاہاہاہاہاہاہا ہائے قربان ۔۔۔ آریز نے پھر سے ادینہ کو سینے سے لگایا ۔۔۔

یار اتنی پیاری لڑکی ملی کہاں تمہیں ۔۔۔ صارم جو ادینہ کو گھور رہا تھا آریز کے پوچھنے پر پوری کہانی سنا دی ۔۔۔۔

تو ہمارے ایس پی صاحب کو پیار ہوگیا تھا ۔۔۔ آریز نے دبی مسکراہٹ سے کیا ۔۔۔ تو ادینہ جھینپ گئی ۔۔۔

اب آپ بتانا پسند کرینگے کہ ہوا کیا تھا مشن میں اور آپ زندہ ہوکر بھی واپس نہیں آئے ۔۔۔ کیوں اتنے سال ہمیں بھی بے خبر رکھا ۔۔۔ ہم سے لاتعلق ہوکر دور رہے ۔۔۔۔ صارم نے استفہامیہ آبرو اچکائے ۔۔۔۔

یہاں سے گئے تو ہر دروازہ اختیاط سے عبور کرتے ۔۔۔۔ کہ دشمنوں کو بھنک بھی نہ پڑے ۔۔۔۔ لیکن کچھ غدار ہم اپنی ہی آستینوں میں ہی پالتے ہیں ۔۔۔۔ انکو خبر دی گئی ہمارے مشن کے بارے میں کہ اگلہ ٹارگٹ ہمارا کون اور کہاں ہوگا ۔۔۔ جب ہم مطلوبہ جگہ پہنچے تو وہ لوگ پہلے سے تاک لگائے بیٹھے تھے ۔۔۔ ہمارے سنبھلنے سے پہلے ان لوگوں نے چاروں طرف سے ہم پر گولہ باری شروع کردی ۔۔۔ پندرہ فوجی اسی لمحے شہید ہوئے تھے اور باقی ہم سب شدید زخمی ۔۔۔ ہم سب کو بھی مرنے والوں کی کیٹگری میں ڈال کر چھوڑ دیاگیا ۔۔۔ میں دو سال تک خفیہ ہسپٹل میں زیر علاج رہا ۔۔۔ جب زخم کچھ مندمل ہوگے تو ایک اور ٹیم تیار کی گئی ۔۔۔ اور دوسری دفعہ ہم نے اس کو موقع دیئے بغیر اپنا ٹارگٹ اچیو کرنا تھا ۔۔۔

لیکن بات وہی ختم نہیں ہوئی ۔۔۔۔ میرے بچنے کی خبر کو اسلئے راز رکھا گیا تھا ۔۔۔ تاکہ جو دشمن اپنے بلوں میں چھپ کر بیٹھے ہیں وہ باہر نکلے ۔۔۔ دو دفعہ ارادہ کیا کہ تم سے رابطہ کرلوں ۔۔۔ لیکن زندگی کا کوئی بھی بھروسہ نہیں تھا ۔۔۔ ایک دفعہ تو بچ گیا تھا دوبارہ امید دلانا مشکل تھا۔۔۔ مشن کمپلیٹ کئے بغیر آنا بھی نہیں چاہتا تھا اور موت کا فرشتہ ہر وقت سر پر منڈلاتا رہتا۔۔۔ ہم فوجی لوگ تو سر پر کفن باندھ کر گھروں سے نکلتے ہیں ۔۔۔۔ ایسے میں تم لوگوں سے رابطہ کرنا میرا عزم اور حوصلہ پست کردیتا ۔۔۔ گھر فیملی سے محبت میرے عزائم کو پورا ہونے سے پہلے خاک کردیتے ۔۔۔ اسلئے تم لوگوں سے تھوڑا غافل ہوگیا ۔۔۔۔ پرسوں ہی کامیاب واپس لوٹا ہوں ۔۔۔ اور آج تم لوگوں کے سامنے ۔۔۔۔

آریز کے ہاتھ صارم کے ہاتھوں میں تھے جس کو وہ بار بار عقیدت سے چھوم رہا تھا ۔۔۔

اور اپنی اس چڑیا کو سٹرونگ بنا دو ۔۔۔ میں تو اور بھی اپنی اداکارای کے جوہر دکھاتا شائد ایک دو مکے مار ہی دیتا لیکن اس کی معصومیت بھری سسکاریاں دیکھ کر کنٹرول نہیں کر پایا ۔۔۔ یہ تو بے ہوش ہونے والی تھی ۔۔۔۔

ایسی ہی ہے یہ ۔۔۔۔ بات بات پر بے ہوش ہوجاتی ہے ۔۔۔۔ صارم نے بےزاری سے کہا تو ادینہ ناگواری سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔

•••••••••••••••••••••••••••

ویلکم ویلکم مسز اسفند ۔۔۔ اسفند کمرے میں داخل ہوا تو ملیحہ کو اپنا انتظار کرتے پایا تو طبیعت میں سرشاری عود آئی ۔۔۔

اپنا ٹھرکی پن مت جھاڑ۔۔۔ جلدی سے منہ دکھائی دے ۔۔۔ بیٹھ بیٹھ کر باڈی دکھ رہی ہے پوری ۔۔۔ سونا ہے مجھے ۔۔۔ ملیحہ نے اکھڑے لہجے میں کہا ۔۔۔۔

دل کے ارمان آنسوؤں میں بہہ گئے ۔۔۔۔ ہائےےےے میں نے تو سوچا تھا اب تم مجھے آپ کہہ کر پکاروگی ۔۔۔میرے انتظار میں بیٹھی ہوگی ۔۔۔ سر جھکا کر شرما کر بات کروگی ۔۔۔ میری پھوٹی قسمت ۔۔۔۔ اپنی منہ دکھائی کے لئے اتاولی ہورہی ہو ۔۔۔ اسفند کی ایکٹنگ شروع ہوگئی تھی ۔۔۔

او نائینٹیز کے ہیرو ۔۔۔۔ ملیحہ کبھی چینج نہیں ہوگی ۔۔۔ یہ خوش فہمیاں ڈسٹ بین میں ڈال کر پھینک آو ۔۔۔۔

اسفند نے ہیروں کا ایک خوبصورت ہار باکس سے نکالا ۔۔۔ یہ موم لائی تھی اس بار ۔۔۔

دوپٹہ سر سے سرکا کر اسکے گلے میں پہنایا ۔۔۔ ماشاء اللہ کہہ کر نیکلس پر اپنے لب رکھے ۔۔۔۔ تم کل آرام سے دیکھ لینا ۔۔۔۔ ملیحہ کسمسائی ۔۔۔

ہٹو مجھے چینج کرنا ہے ۔۔۔

اتنا شریف نہیں ہوں میں ۔۔۔ کہ تم پاس ہو اتنے قریب اور میں حد میں رہوں ۔۔۔

ملیحہ کو مزید کچھ بولنے کا موقع دئے بغیر اسفند نے لائیٹس آف کئے ۔۔۔۔

اسفند۔۔۔۔

جی ۔۔۔ کل آرام سے لڑ لیں گے ۔۔۔ ابھی لڑنے کا موڈ نہیں ہے میرا ۔۔۔۔ ڈھیر سارا پیار کرنا ہے ۔۔۔ اس کے سر اور کندھوں کو شال کے بوجھ سے آزاد کرکے جیولری اتاری ۔۔۔۔ اور اس کے گالوں پر شدت بھرا لمس چھوڑ کر اسے خود میں سمیٹ لیا ۔۔۔

بے شرم انسان ۔۔۔۔ ملیحہ نے زور سے پنچ مارا ۔۔۔

ابھی تو تم نے دیکھی ہی نہیں میری بے شرمی۔۔۔۔

م۔م م۔میں۔۔۔۔ ملیحہ کو گھبراہٹ ہونے لگی ۔۔۔

شششش ۔۔۔ اس کے منہ پر انگلی رکھی۔۔۔ ماتھے پر اپنے لب رکھے ۔۔۔ بس چھپ ۔۔۔ مجھے سنو مجھے محسوس کرو اور میرے پیار کو سہو ۔۔۔ ملیحہ نے آنکھیں بند کر کے ہتھیار ڈال دئیے ۔۔۔

•••••••••••••••••••••••••••••••••

صبح ہوگئی چاروں اسی طرح بیٹھے دل کا بوجھ ہلکا کر رہے تھے ۔۔۔

روم میں جاؤ سب ۔۔۔ بچوں سے صبح مل لوں گا ۔۔۔۔ مجھے بھی اپنی بیوی کو منانا ہے ابھی ۔۔۔ آریز نے سب کو مخاطب کرکے آخر میں حنا پر ایک الفت بھری نظر ڈال کر آنکھ کا کونا دبایا ۔۔۔

جو کہ آپ کے لئے قطعی مشکل نہیں ہے ۔۔۔ صارم کو اپنے بھائی کی طبیعت کا پتہ تھا ۔۔۔ ایسے بندے کو الجھا کر آپ اپنی مطلب نکال دیتے ہیں ۔۔۔

ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔ اس لئے تو بول رہا ہوں ۔۔۔۔ آریز نے خوشگوار قہقہ لگایا ۔۔۔۔

صارم کو کہہ کر وہ بھی اٹھا ۔۔۔ اور حنا جو کب سے خاموش بیٹھی آریز کو دیکھ کر آنکھوں سے برسوں کی تشنگی بجھا رہی تھی۔۔۔۔ وہ بھی ساتھ میں اٹھی ۔۔۔۔

حنا کے گرد بازوؤں کا مضبوط حصار بنا کر اپنے روم میں چلا گیا ۔۔۔

شکر الحمد للّٰہ ۔۔۔ ادینہ کے منہ سے نکل گیا ۔۔۔

میں بہت خوش ہوں صارم ۔۔۔ بھابھی کے لئے ۔۔۔ ہماری فیملی مکمل ہوگئی ۔۔۔۔

ثم الحمدللہ ۔۔۔ تم خوش ہو تو اسی خوشی میں مجھے بھی خوش کردو ۔۔۔ صارم نے آنکھ دبا دی۔۔۔۔

آج تو اچھے سے تعریف بھی کرنا میری ۔۔۔ اتنی اچھی تو لگ رہی تھی میں ۔۔۔ سب نے کتنا سراہا ۔۔۔ آپ سے دو بول بھی نہیں پڑھے گئے ۔۔۔ ادینہ کو تو جیسے پر لگ گئے تھے ۔۔۔۔

ہاں تو میری سنگت کا اثر ہے نا ۔۔۔ پیاری تو لگنی تھی۔۔۔۔ میں جو ہوں اتنا ہینڈسم ۔۔۔ دیکھ نہیں رہی کیسی لڑکیاں مڑ مڑ کر مجھے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

میں بھی یہی سمجھتی تھی کہ آپ ہینڈسم ہیں ۔۔ مگر آریز بھائی آپ سے بھی ذیادہ ڈیشنگ پلس ہینڈسم ہے ۔۔۔ اور اس کی مسکراہٹ اتنی پیاری ہے ۔۔۔ دل لبھانے والی ۔۔۔۔ ادینہ اسے جلانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔

اچھا ۔۔۔ یہ بھی صحیح ہے ۔۔۔ مجھے ان سے جیلسی فیل نہیں ہوتی ۔۔ ادینہ کو باہوں میں اٹھا کر وہ اپنے روم جانے لگا ۔۔۔

اور آپکی تو بس آئیز پیاری یے ۔۔۔۔

اچھا ۔۔۔ جھبی میری نیند کا فایدہ اٹھا کر گھنٹوں تم مجھے تکتی ہو ۔۔۔ بار بار بالوں میں انگلیاں چلا کر کس کیوں کرتی ہوں ۔۔۔۔ صارم احتیاط سے سیڑھیاں چڑھ رہا تھا ۔۔۔

ہاں تو بال بھی پیارے ہیں نا اپکے ۔۔۔ اور یہ ناک بس ٹھیک ہی ہے ۔۔۔ اور آپکا کلر بھی مجھے پسند ہے ۔۔۔ بلکل فئیر ۔۔۔ ادینہ نے اسکے گریبان سے نظر آتے سفید گردن پر نظر ڈال کر کہا ۔۔۔

صارم ۔۔۔۔ سنیں ۔۔۔

ہمممم ۔۔۔ آخری سیڑھی پر قدم رکھ کر اسکے بولنے کا ویٹ کرنے لگا ۔۔۔

وہ مم میں ۔۔۔۔

بھلا مجھے آپ سے اجازت لینے کی کیا ضرورت ۔۔ میری ہی پروپرٹی ہیں آپ ۔۔۔ ادینہ سارے شرم بالائے طاق رکھتے ہوئے بڑے مان سے بولی ۔۔۔۔ وہ واقعی گھنٹوں صارم کو تکتی جب وہ سوتا یا کسی کام میں بزی رہتا ۔۔۔ ہر بار خود کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہی تھی کہ اتنا پیارا شخص اسکا شوہر ہے ۔۔۔ لیکن یہ تو اسکا سیکرٹ تھا صارم کو کیسے پتہ چلا ۔۔۔ اس نے ایک مشکوک نظر صارم پر ڈالی جو روم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہورہا تھا ۔۔۔۔

اسے بیڈ پر لٹا کر کوٹ اتار کر صوفے پر پھینکا اور اسکے قریب بیڈ پر بیٹھ کر شوز اتار کر ادینہ کو دیکھا جو سینڈل پہنے بیڈ پر براجمان تھی پھر سے غیرارادی طور پر دیکھنے میں مگن تھی ۔۔۔

یہ سینڈل بھی میں اتروادوں ۔۔۔۔ ادینہ کا سکتہ ٹوٹا ۔۔۔

نن۔نہیں ۔۔۔ میں کردیتی ہوں ۔۔۔۔ سینڈل نکال کر بیڈ سے نیچے رکھ دئے اور اترنے لگی کہ صارم نے بازو سامنے کرکے راستہ روکا ۔۔۔

کہاں ۔۔۔۔۔

چینج کرنے ۔۔۔۔

ضرورت ہی نہیں ہے ۔۔۔۔ اور صارم اسکا سر تکیہ پر رکھ کر اس پر اسطرح حاوی ہوگیا کہ فرار کی سارے راستے مسدود کردیے ۔۔۔۔

صارم ۔۔۔

ہاں ۔۔۔

بھائی تو آگئے نا واپس ۔۔۔۔ اب تو ہمارے بچے ۔۔۔۔ وہ میرا مطلب ہے کہ ۔۔۔۔ اگر آپ چاہے تو ۔۔۔۔ ادینہ عجیب سی کشمکش کا شکار ہورہی تھی ۔۔۔۔

کتنے بچے چاہیے ۔۔۔ صارم نے تکیہ پر سر رکھ کر ادینہ کا سر اپنے سینے پر رکھ کر سنجیدگی سے پوچھا ۔۔۔۔

ہوبہو آپ جیسا چھوٹا صارم ۔۔۔ جس کی آپ جیسی آئیز ہو ۔۔۔ ادینہ نے صارم کی آنکھوں کو چھوا ۔۔۔ آپ جیسی ناک ۔۔۔ پھر اسکے ناک پر لب رکھ دئے ۔۔۔ اور ایسا تل بھی ۔۔۔۔ آخر میں تل پر لب رکھ کر وہ ہٹانا بھول گئی ۔۔۔۔

پھر میری جگہ کہاں ہوگی ۔۔۔ جب دوسرا صارم اجائے گا تو تم اپنا سارا پیار اس پر نچھاور کر دوگی ۔۔ تب میں کیا کروں گا ۔۔۔۔

آپ کو اپنے دل میں ایک اونچے مسند پر بٹھایاہے ر وہ جگہ صرف آپکی ہے ۔۔۔ آپ کا پیار کھبی کم نہیں ہوگا ۔۔۔۔ آپ کی وجہ سے تو سانسیں چل رہی ہیں ۔۔۔ صارم کے شرٹ کے اوپری دو بٹن کھلے تھے باقی دو ادینہ نے کھول دئے ۔۔۔۔ اور دل کے مقام پر پیار سے ہونٹ رکھے ۔۔۔

وہ بعد کی باتیں ہیں ۔۔۔۔ فی الحال تو مجھے میری بیوی چاہیے ۔۔۔ اور تم مجھے مسلسل باتوں میں پھنسا کر اس سے دور کر رہی ہو ۔۔۔ اب بلکل خاموشی سے اپنی تعریف وصول کرلو ۔۔۔

••••••••••••••••••••••••••••••

وہ دونوں آمنے سامنے بیڈ پر بیٹھے تھے ۔۔۔ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے ۔۔۔

کچھ تو بولو۔۔۔ کب سے خاموش ہو ۔۔۔ آریز نے اسکے ہاتھ پر ہلکا سا دباؤ ڈالا۔۔۔

بولنے کے لیے تو کچھ بچا ہی نہیں جو تھا سب سہہ چکی ہوں ۔۔۔ آنکھوں سے آنسوؤں گرنے لگے ۔۔۔۔

نووووووو ٹئیرز ۔۔۔ فرائض بھی پوری کرنے تھے نا۔۔۔ زمہ داریاں تو پوری ہو ہی جاتی ہے ۔۔۔ میرے وطن کی مٹی کا مجھ پر قرض ہے وہ اتارنا تھا ۔۔۔ اس کے آنسو انگلی کے پوروں سے صاف کرکے خود سے لگایا ۔۔۔

باقی گلے شکوے پھر ۔۔۔ تھک گیا ہوں ۔۔۔ تمہارے اور صارم کی طرح ہجر میں نے بھی کاٹی ہے ۔۔۔ اب وصل کی رات ہے ۔۔۔ اس کی گود میں سر رکھ کر آنکھیں موندھ لی ۔۔۔۔

آپ جب گئے تو ۔۔۔۔ وہ حورم کے بارے میں بتانے لگی کہ آریز نے اس کے بولتے لب مقید کر دئے ۔۔۔

باقی باتیں بعد میں ۔۔۔۔ ابھی ہمارا وقت ہے ۔۔۔۔ اسکے چہرے کو ہاتھ کے پیالے میں بھر کر پچھلے پانچ سالوں کا حساب چکتا کر لینے لگا ۔۔۔۔

•••••••••••••••••••••••••

دوپہر ایک بجے وہ چاروں اٹھ گئے ۔۔۔ ایک نئا اور خوشیوں سے بھر پور دن تھا ۔۔۔

صارم اور آریز ہال میں بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے اور ادینہ حنا بھابھی کے ساتھ ملکر ناشتہ تیار کروارہی تھی ۔۔۔

ڈیڈ ۔۔۔ زارش اور ارمغان ایک ساتھ چلائے اور دوڑ کر اپنے باپ سے لپٹ گئے ۔۔۔

آریز دونوں کو گود میں ایک ساتھ بٹھا کر دیوانہ وار چومنے لگا ۔۔۔ جس طرح ان کے بچپن میں کرتا تھا ۔۔۔۔

آپ نے بہت دیر کردی آنے میں ۔۔۔ ہم کب سے آپکا ویٹ کر رہے تھے ۔۔۔ ارمغان نے پرشکوہ نظروں سے باپ کو دیکھا ۔۔۔

ہاں مجھے پتہ ہے میرے پرنس اور پرنسز نے مجھے کافی مس کیا ہوگا بٹ ڈیوٹی بھی نبھانی تھی نا ۔۔۔ اور تم لوگوں کے پاس پاپا اور موم تھے میں اکیلا تھا ۔۔۔۔

دونوں کو خود میں بھینچ کر جیسے روح کو ٹھنڈک ملی ۔۔۔۔

پاپا۔۔۔۔ حورم بھی اٹھ کر روم سے باہر آگئی اور آنکھیں مسلتے ہوئے صارم کو پکارا ۔۔۔۔

کچن سے نکلتے ادینہ نے جلدی اسکو گود میں اٹھایا۔۔۔

پاپا کی جان ۔۔۔ اور اس کو صارم کی گود میں بٹھایا تو وہ آریز کو تیز نگاہوں سے دیکھنے لگی ۔۔۔۔

صارم بہت تیز نکلے تم ۔۔۔۔ بیوی کیساتھ بیٹی بھی لے آئے ۔۔۔۔

ہال میں ایک دم گہرا سکوت چھا گیا ۔۔۔ حنا الفاظ کی گتھ جوڑ میں مصروف تھی ۔۔۔

مما ۔۔۔۔ حورم کا گودی کھیل شروع ہوگیا تھا ۔۔۔ادینہ کی طرف ہاتھ اٹھائے تو اس نے صارم کی گود سے اسے اٹھا لیا ۔۔۔

یہ آپکی بیٹی ہے ۔۔۔ میری شادی کو ابھی تین منتھس ہوگئے ۔۔۔۔ صارم نے جیسے بم پھوڑا ۔۔۔۔۔

آریز سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا لیکن اس کے چہرے پر مزاق کی کوئی رمق دکھائی نہیں دی ۔۔۔

آپ کے جانے کے چھ منتھ بعد پیدا ہوئی ہے یہ ۔۔۔۔ حنا نے الجھن سلجھا دی ۔۔۔ صبح یہی بتانے والی تھی مگر آپ کو نیند آرہی تھی ۔۔۔۔

ادینہ حورم کو اسکی گود میں بٹھانے لگی تو وہ زور زور سے نفی میں سر ہلانے لگی ۔۔۔ نہیں پاپا کے پاس جانا ہے ۔۔۔ وہ صارم کے پاس جانے کے لئے ہاتھ پیر چلانے لگی ۔۔۔ اور بلند آواز سے رونے لگی ۔۔۔

صارم نے جلدی سے اسے باہوں میں بھر لیا ۔۔۔

بس بس میرا بچا رونا نہیں ہے ۔۔۔

آرہز کے اندر چھناک سے کچھ ٹوٹا ۔۔۔ کیا فرائض نبھاتے نبھاتے زمہ داریاں اتنے پیچھے رہ گئی تھی کہ اس کو اپنی بچی بھی پہچانے سے انکاری تھی ۔۔۔۔

صارم نے آریز کی آنکھوں میں چھپا کرب محسوس کیا ۔۔۔

حورم بیٹا یہ تمہارے ڈیڈ ہے ۔۔۔ صارم نے حورم کو سمجھانا چاہا ۔۔۔

زارش اور ارمغان کی طرح ۔۔۔۔

حورم ناسمجھی سے صارم کو تو کبھی اپنے باپ کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

بچی ہے صارم ۔۔۔۔ جس نے آنکھ کھلتے ہی تمہیں باپ کے روپ میں پایا ہو اس کی سوچ سے دل سے تمہیں نکالنا مشکل ہوگا ۔۔۔ بہت تکلیف محسوس کر رہا ہوں لیکن اس کے ساتھ تمہارا پیار اور اٹیچ منٹ دیکھ کر پراوڈ فیل کر رہا ہوں کہ اسے اتنا پیار ملا شاید میں بھی اتنا نا دے پاتا ۔۔۔

جیسا چل رہا ہے چلنے دو ۔۔۔ اس کے تمہارے بارے احساس سے ہم کھیل نہیں سکتے ۔۔۔ تمہیں باپ مانتی ہے ماننے دو ۔۔۔ باپ سے بڑھ کر ہو تم ۔۔۔۔ آریز نے جھک کر اس کی گود میں دھنسی حورم کا سر چوما ۔۔۔ اور ساتھ میں صارم کو ماتھے پر ایک خوبصورت بوسہ دیا ۔۔۔

آئی رئیلی لو یو ۔۔۔ اینڈ پراوڈ آف یو مائی سن ۔۔۔۔

چلو ناشتہ تیار ہے ۔۔۔۔ حنا فاروقی نے کہا تو سب ڈائننگ ٹیبل کی طرف ائیں ۔۔۔

ادینہ حورم کو ناشتہ کروارہی تھی اور حورم بار بار ادینہ کو کبھی گال کر کبھی چن پر کبھی منہ پر کس کر رہی تھی ۔۔۔۔

بچے پیار احساس کے بھوکے ہوتے ہیں ۔۔ یہ بات آریز کو اب سمجھ میں آگیی ۔۔۔

مما آپ بھی کھائے نا ۔۔۔ حورم نے ادینہ کو بولا جو صرف اسی کو ناشتہ کروارہی تھی ۔۔۔

اسے مجھے دے دو تم خود ناشتہ کرلو ۔۔۔ باقی میں کر وادں گا ۔۔۔ صارم نے کہا تو حورم منہ بسورنے لگی ۔۔۔۔ سب ہنسنے لگے ۔۔

بھائی حورم بلکل آپ پر گئی ہے ۔۔۔ ادینہ نے آریز کو گم سم دیکھ کر کہا ۔۔۔۔

اس کی آئیز بھی آپکی اور صارم کی طرح ہے ۔۔۔ اور یہ ناک ۔۔۔ ہوبہو آپ کی کافی ہے ۔۔۔۔

حورم اپنے پاپا کی جیسی ہے ۔۔۔۔ حورم نے ادینہ کی بات کی نفی کرتے ہوئے معصومیت سے کہا ۔۔۔۔

بلکل حورم اپنے پاپا کی طرح ہی ہے سویٹ سی اور صارم تم نے اسے اپنے جیسا ایروگنٹ بھی بنایا ہے کسی کو گھاس نہیں ڈالتی ۔۔۔ ہمیں تو منہ ہی نہیں لگا رہی ۔۔۔۔۔ آریز کا دل مچل رہا تھا حورم سے پیار کرنے کو اسے گود میں لینے کو ۔۔۔

بھائی عادت ہو جائے گی اسے آپکی ۔۔۔ آپکا خون ہے ۔۔ بس بچی ہے نا ۔۔۔ صارم نے اسکی تڑپ محسوس کی ۔۔۔۔

حورم میرا پیارا بچا ہے ۔۔۔ بیٹا اپنے پاپا کی بات مانے گی نا ۔۔۔ صارم نے حورم کو پیار سے محاطب کیا ۔۔۔۔

جی۔ی۔ی۔ی۔۔۔۔۔ تو اپنے ڈیڈ کے پاس جاو ۔۔۔ اسے کس کرو جس طرح پاپا کو کرتی ہو ۔۔۔ پھر میں بھی تمہاری بات مان لوں گا ۔۔۔ اور ایک سویٹ سا بھائی لے آؤں گا ۔۔۔۔۔

تو باپ بننے والا ہے کیا ؟؟؟؟ آریز نے جٹ سے پوچھا ۔۔۔۔

ابھی کہاں ۔۔۔۔ یہ تو میں بھول گیا تھا کہ بچے بھی ہونے چاہیے ۔۔۔ شکر ہے میری بیٹی نے یاد دلادیا ۔۔۔ کیونکہ ان کو بھی اپنی فرینڈ کی طرح ننھا منھا بھائی چاہیے تھا ۔۔۔

حورم پھرتی سے آریز کے پاس گئی اور دونوں گالوں پر کس کیا ۔۔۔

سب کی ہنسی بے ساختہ تھی ۔۔۔۔

بھائی اسفند کی شادی تھی کل رات ۔۔۔۔ صارم کو جیسے یاد آیا ۔۔۔۔

ہائے میرا چیتا ۔۔۔ آریز کو صارم کے دونوں دوست عزیز تھے ۔۔۔ وہ بھی دولہا بن گیا ۔۔۔۔

ہاں بدقسمتی سے ۔۔۔ آج ولیمہ ہے ۔۔ آج اس کو بھی سرپرائز دے دیں گے ۔۔۔۔

•••••••••••••••••••••••••••••••

گڈ آفٹر نون چائینیز ۔۔۔ اسفند نے اس کے چہرے پر زور سے چٹکی کاٹی ۔۔۔۔

پاگل ہو کیا۔۔۔ ہائے میرا فیس ۔۔۔ اور یہ چائینیز کس کو بولا۔۔۔۔

اپنی پیاری سی بیوی کو جس کی چائینیز جیسی مٹر برابر جتنی آنکھیں ہیں ۔۔۔۔۔

جلو تم ۔۔۔۔ ناقدرے ۔۔ اتنی سندر بیوی ملی ہے۔۔۔تعریف میں کچھ اچھا ہی بول لیتے ۔۔۔۔ اب یہ چائینیز اور مٹر جیسے ڈشز کے نام بھی بھلا تعریف کے زمرے میں آتے ہیں ۔۔۔۔

ہاں تو تعریف بھی اچھے سے کی تھی کل رات کو ۔۔۔ اگر بھول گئی ہو تو یاد دلاؤ ۔۔۔۔

بالکل بھی نہیں ۔۔۔۔ جاؤ میرے کپڑے نکال کر لے آؤ ۔۔۔۔ ملیحہ نے حکم صادر کیا ۔۔۔۔

واٹ ۔۔۔ خود لنگڑی ہو کیا۔۔۔ اسفند تو اس کے نئے نئے جونچلوں سے پریشان تھا ۔۔۔

آللہ نا کرے ۔۔۔ بٹ اچھا لگے گا تم لے آؤ نا ۔۔۔ بیوی کی خدمت کرنے سے ثواب ملتا ہے ۔۔۔اسفند نے اس کے نئے لاجک پر تاسف سے سر ہلایا ۔۔۔ کپبرڈ سے اس کے لئے ایک فارمل ڈریس نکالا ۔۔۔ ویسے بھی شام کو ولیمہ کے لئے پھر چینج کرنا تھا ۔۔۔۔

اور پھر اس کو باہوں میں بھر کر واشروم میں کھڑا کیا ۔۔۔

بس اتنا خواب دیکھا تھا یا شاور بھی میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نکلو ۔۔۔۔۔۔۔۔ملیحہ نے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر رکھ کر باہر دھکیلا ۔۔۔۔

اسفند خدا تیرا حامی و ناصر ہو ۔۔۔ خود کو تسلی دی ۔۔۔ جنگلی بیوی ۔۔۔

••••••••••••••••••••••••••••••••

ادینہ نے حورم کو تیار کروایا تو خود بھی تیار ہونے لگی ۔۔۔۔

حورم جا بیٹا اپنے ڈیڈ سے مل ۔۔۔ کتنی پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔ صارم اسے بہانے بہانے سے آریز کے پاس بھیج رہا تھا ۔۔۔۔

اپ بھی ساتھ میں چلے ۔۔۔۔۔

صارم اسکو ہاتھ سے پکڑے نیچے آرہا تھا۔۔۔۔ آریز نیچے ہال میں بیٹھا تھا ۔۔۔ ساتھ میں ارمغان اور زارش بھی تیار ہوکر بیٹھے تھے ۔۔۔۔

ما شاءاللہ میرا بچا تو بہت پیارا لگ رہا ہے ۔۔۔ آریز نے حورم کو توصیفی نظر سے دیکھ کر کہا ۔۔۔

آجاؤ میرے پاس ۔۔ وہ گئی ۔۔۔ تو آریز نے اسکو گود میں بٹھایا ۔۔۔

تمہیں بھائی چاہیے تھا تو میں لے آؤں گا ۔۔۔

نن۔نہیں مجھے پاپا لا کر دیں گے ۔۔۔ حورم نے معصومیت سے کہہ کر آریز کے دل پر جیسے برچھیاں چلا دی ۔۔۔

صارم اس کو چھوڑ کر اپنے روم واپس چلا گیا۔۔ جہاں ادینہ تیار ہورہی تھی ۔۔۔

بلیک کلر شارٹ فینسی فراک کے ساتھ کیپری پہن رکھی تھی ۔۔۔ یہ بھی صارم کی پسند کی تھی ۔۔۔

صارم بال باندھ لوں ؟؟؟؟

ہاں باندھ لو ۔۔۔۔ میں پھر کہی اور دیکھ نہیں پاتا ۔۔۔ صاف گوئی سے جواب آیا ۔۔۔

میں بھی تو یہی چاہتی ہوں نا کہ آپ کسی اور کو نا دیکھیں ۔۔۔۔

کیوں نہیں ۔۔۔ آج بھی تو اتنی حسین دوشیزائیں آئیں گی سجی سنوری ۔۔۔ صارم نے شرارت سے کہا مگر ادینہ کو برا لگا ۔۔۔

میں نہیں جارہی ۔۔۔ ادینہ نے زور سے برش ڈریسنگ ٹیبل مارا ۔۔۔

یہی تو میں چاہ رہا تھا ۔۔۔ کہ تم منع کردو اور میں وہاں سنگل بن کر انجوئے کروں ۔۔۔

وہ جانتا تھا ادینہ اس کو اکیلے جانے دےگی ۔۔۔ آپکی یہ خواہش پوری ہونے سے رہی ۔۔۔ میں تم پر کڑی نظر رکھوںگی۔۔۔۔

•••••••••••••••••••••••

ملیحہ کو تیار کرکے ہال پہنچا دیا گیا تھا۔۔۔۔۔

وہ ادینہ کا ویٹ کر رہی تھی ۔۔۔ گولڈن کلر کا لہنگا پہنے ہوئے تھا ۔۔۔ جس میں وہ بلکل ڈول لگ رہی تھی ۔۔۔۔

وہ چاروں ایک ساتھ ہال میں داخل ہوئے۔۔۔۔ حورم صارم کا ہاتھ پکڑے ہوئی تھی ۔۔۔ اور زارش ارمغان آریز کے ساتھ تھے ۔۔۔۔

ملیحہ انٹرنس کی طرف دیکھ رہی تھی کہ نظریں ٹھٹھک گئی ۔۔۔

یہاں بیٹھا ہوں میں کہاں نظریں بٹھک رہی ہے تمہاری ۔۔۔ ملیحہ نے ہنوز نظروں کا زاویہ تبدیل نہیں کیا تو اسفند بھی رخ بدل کر اس کے نگاہوں کے تعاقب میں دیکھنے لگا۔۔۔

اور سیکنڈ کے اندر وہ جیسے اڑ کر آریز کے قریب پہنچ کر اس کے گلے لگ گیا ۔۔۔

آئی کانٹ بلیو ۔۔۔۔ آریز بھائی ۔۔۔ م۔۔۔ م۔۔ میں کوئی سپنا تو نہیں دیکھ رہا۔۔۔

حقیقت ہے ۔۔۔ صارم نے اسے دھموکا جڑا ۔۔۔

اسفند ہکا بکا اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ پھر اس کے گال پر ایک ہاتھ رکھا جیسے یقین کرنا چاہ رہا ہو ۔۔۔۔

آریز نے اسکا ہاتھ منہ سے لگایا ۔۔۔ تو وہ اچھلا ۔۔۔

سچ ہے سچ ہے ۔۔۔ اور پھر صارم کے گلے لگا ۔۔۔

یہ کیا بندروں جیسے اچھل کود رہے ہو ۔۔۔ صارم نے اسے ٹوکا۔۔۔

صارم ۔۔۔۔ آریز نے اسے آنکھیں دکھائی ۔۔۔ آج شادی ہے اس کی ۔۔۔ بنتا ہے اسکا ۔۔۔۔

پھر وہ سٹیج کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔۔۔

اسفند اس سے پہلے سٹیج تک پہنچا ۔۔۔ اور ملیحہ کا ہاتھ پکڑ کر نیچے لے آیا ۔۔۔۔

ملیحہ یہ آریز بھائی ہے ۔۔۔ حنا بھابھی کی ہسبنڈ ۔۔۔ ملیحہ تو کب سے آنے والے شخص کے شاندار سراپے رنگ ڈھنگ چال ڈھال کو دیکھ کر چھوٹی ایکسرے آنکھوں سے جائزہ لینے میں مصروف تھی ۔۔۔ اچانک اس کے سامنے آجانے سے جز بز ہوتی نگاہیں اس کے چہرے پر ٹکا دی ۔۔۔۔

ہوگیا تمہارا ۔۔۔۔۔ اسفند نے اسے گھورا ۔۔۔

کیا ۔۔۔ ملیحہ نے ائیںرو آچکا کر پوچھا ۔۔

ایکسرے ۔۔۔۔ آرام سے دیکھ لو ۔۔۔ ہماری بھابھی برا نہیں مانے گی ۔۔۔ اسفند نے اسکی چوری پکڑ لی ۔۔۔

آسلام وعلیکم بھائی ۔۔۔۔ ہوش آنے پر ملیحہ نے سلام کیا ۔۔۔

وعلیکم السلام بیٹا ۔۔۔۔ ملیحہ کو خود سے لگاکر دونوں کو مبارک باد دی ۔۔۔

بے ہودہ انسان اس کو نیچے کیوں لے آئیں ۔۔۔

اتنا بھاری ڈریس ہے اسکا ۔۔ ہم جارہے تھے نا اوپر ۔۔۔ اب لے جاؤ اسے آرام سے ۔۔۔۔ صارم نے بھی ملیحہ کو خود سے لگایا ۔۔۔

اسفند ملیحہ کا ہاتھ پکڑے سٹیج پر لے آیا تو پیچھے سے کوئی زور سے چلایا ۔۔۔

آریز بھائی ۔۔۔ سب نے ایک ساتھ مڑ کر دیکھا تو ارسلان حیران سا کھڑا تھا ۔۔۔ اور دوڑ کر آریز کے گلے میں جھول گیا ۔۔۔

یار آج تو میرے کندھے لٹک جائیں گے ۔۔۔ آریز مسکرایا ۔۔۔

آپ کب آئیں ۔۔۔۔ مجھے کسی نے بتایا کیوں نہیں ۔۔۔ میں نے آپکو بیک سے پہچان لیا آپکا ہئر سٹائل ۔۔۔

اتنی خوشیاں ایک ساتھ ۔۔ ہارٹ اٹیک نہ آجائے ۔۔۔ اسفند تو خوشی سے پھولے نہ سما رہا تھا ۔۔۔۔

مہک ارسلان کے ساتھ آکر کھڑی ہوگئی۔۔۔

بھائی یہ مہک ہے میری وائف ۔۔۔ مہک یہ آریز بھائی ۔۔۔ ایک ساتھ دونوں کو انٹرودیوز کروایا ۔۔۔۔

آریز نے مہک اور ارسلان کو ساتھ لگایا ۔۔۔

اتنی پیاری پیاری بیویاں کیسے ملی تم جیسے بندروں کو ۔۔۔۔ کہیں چلہ وغیرہ تو نہیں کاٹا تھا نا ۔۔۔ ہال سب کی قہقہوں سے گونج اٹھا ۔۔۔

اسفند یہ آریز بھائی آرمی میں ہے کیا ۔۔۔ اتنے گڈ لوکنگ چارمنگ ۔۔۔ اسفند جیسے ہی ملیحہ کے ساتھ آکر بیٹھ گیا تو پوچھا ۔۔۔۔

ہاں میجر آریز فاروقی ۔۔۔ کافی پاپولر ہے ۔۔۔ صارم کے لئے اس کا سب کچھ ۔۔۔ پھر رات کو فرصت میں ڈیٹیل کے ساتھ بتادوں گا سب ۔۔۔

آج سے پہلے صارم بھائی کو اتنا خوش نہیں دیکھا۔۔۔۔

بلکل۔۔۔ شکر ہے اللّٰہ کا ۔۔۔ سب ٹھیک ہوگیا ۔۔۔

صارم ۔۔۔۔۔۔ اسفند نے پکارا تو وہ رک گیا ۔۔۔۔

ہاں ۔۔۔۔۔

حیات خان پکڑا گیا ۔۔۔ کل رات ۔۔۔ ہر کنٹری کی نیشنلٹی کا خوب فایدہ اٹھایا مگر کب تک اور دوبئی پولیس کے ہتھے چڑھ گیا ۔۔۔

چلو مبارک ہو ۔۔۔ اب گلے لگ جا ۔۔۔ تمہاری بیوی واقعی لکی ہے ۔۔۔ ایک ساتھ اتنی خوشیاں ۔۔۔

اسفند حورم آریز بھائی کے پاس نہیں جارہی ۔۔۔ گلٹی فیل کر رہا ہوں میں ۔۔۔

کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔ بیٹی ہے تمہاری ہو یا آریز بھائی کی ۔۔۔ کیا فرق پڑتا ہے ۔۔۔ سمجھ جائے گی وقت کیساتھ ان کو ایکسپٹ کرلے گی ۔۔ تو ٹینشن مت لے ۔۔۔

ان شاءاللہ

•••••••••••••••••••••••••••••••

ایک منتھ بعد

صارم اٹھے ۔۔۔۔ رات کے کسی پہر ادینہ کی طبیعت خراب ہوگئی ۔۔۔

کیا ہوا ۔۔ یہ پسینہ کیوں آرہا ہے تمہیں ۔۔۔

صارم نے جلدی سے پانی کا گلاس اس کے منہ سے لگایا ۔۔۔ دل خراب ہورہا ہے ۔۔ گلاس منہ سے لگاتے ہی اسے وومٹنگ ہونے لگی ۔۔۔۔

میں ڈاکٹر کو فون کرتا ہوں ۔۔۔۔

وہ نیچے آیا تو آریز اور حنا کو جگا کر ڈاکٹر کو کال ملائی ۔۔۔۔

سب پریشان نظریں ڈاکٹر پر گاڑھے کھڑے تھے۔۔۔

سر ۔۔۔۔ شی از ون منتھ پریگننٹ ۔۔۔ پریشانی کی کوئی بات نہیں ۔۔۔ بس پروپر ڈائیٹ کا خیال رکھے اسکا ۔۔۔

سب کے چہروں پر چھایا تفکر سکون میں بدل گیا ۔۔۔۔

ڈاکٹر کو رخصت کرکے واپس آیا تو حنا ادینہ کے ساتھ بیڈ پر بیٹھی تھی ۔۔۔ اور آریز دیوار کیساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا ۔۔۔ میرا ببر شیر ۔۔۔۔۔مبارک ہو ۔۔۔ صارم کو گلے لگایا ۔۔۔۔

اپنے بچوں کا بچپن دیکھنے سے تو محروم رہا یہ ارمان تمہارے بچوں پر پورے کروں گا ۔۔۔ دے گا نا یہ حق ۔۔۔۔

جی بھائی ۔۔۔۔ بلکل ۔۔۔۔ ان شاءاللہ ۔۔۔۔ صارم نے ایک تشکر بھری نظر ادینہ پر ڈالی جس نے حجل ہوکر سر جھکا دیا ۔۔۔۔

ختم شد ۔۔۔۔۔۔

••••••••••••••••••••••••