Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282 Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 25) Last Episode (Part - 1)

68.3K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 25) Last Episode (Part - 1)

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan

اسے آج آنے میں دیر ہوگئی ۔۔۔۔ پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔ سب سے پہلے وہ بچوں کے روم میں گیا تو سب سو گئے تھے ۔۔ بچوں کو پیار کرکے وہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آیا تو روم کی لائیٹس آف تھی ۔۔۔۔ ادینہ بھی کمفرٹر اوڑھے خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی ۔۔۔۔

وہ چینج کرکے لیٹا تو ادینہ کا رخ اپنی طرف کردیا ۔۔۔ نیند کی پکی ادینہ ہنوز اسی طرح پرسکون سوتی رہی ۔۔۔

کچھ لمحوں کے صبر آزما انتظار کے بعد خود اس نے پہل کی ۔۔۔

ادینہ۔۔۔نگاہوں کی زد میں رکھے اسے پکارا ۔۔۔ اس کے چہرے پر آتے بال ہٹائیں ۔۔۔ اسکا سر تھوڑا سا اتھا کر اسکے بالوں سے کیچر نکال کر بال کھول دئے ۔۔۔

ہممممم۔۔۔ وہ ہولے سے بولی ۔۔۔۔

اتنی جلدی سوگئی تم ۔۔۔ اچھی بیویاں شوہروں کا ویٹ کرتی ہے ۔۔۔۔ سوتی نہیں ۔۔۔ شکوہ بھی نرمی سے بھرپور تھا ۔۔۔

آپ لیٹ ہوگئے نا ۔۔ میں نے ویٹ کیا تھا بارہ بجے تک ۔۔۔ ادینہ نے مندی مندی آنکھوں سے دیکھ کر نروٹھے پن سے جواب دیا اور اپنا سر اٹھا کر صارم کے سینے پر رکھ اور دل کے مقام پر لب رکھ دئے ۔۔۔۔

تمہاری آغوش میرے لئے تسکین کا باعث ہے ڈئیر وائفی ۔۔ صارم اس کی اسی طرح بےباک اور بے دھڑک انداز پر نثار ہوتا تھا ۔۔۔ وہ باقی لڑکیوں سے ہٹ کر تھی ۔۔۔ برملا اپنے پیار کا اظہار کرتی تھی ۔۔۔ زیادہ پیار آجاتا صارم پر تو بغیر ہچکچائے شوخ سی جسارتیں کر دیا کرتی تھی ۔۔۔ اور صارم پر تو جیسے کچھ پل سکتہ طاری ہو جاتا ۔۔۔ اللّٰہ دیکھ کر جوڑیاں بناتے ہیں۔۔ اگر شوہر کم گو اور سنجیدہ ہو تو بیوی شوخ اور چنچل ہونی چاہئے ۔۔۔۔ وہ واقعی صارم کے دل کا سکون اور آنکھوں کی ٹھنڈک تھی ۔۔۔ وہ سراپا محبت تھی ۔۔۔ اس کے رگوں میں خون کی جگہ محبت گردش کرتی تھی ۔۔۔ وہ جو سارا سارا دن زہنی اور جسمانی مشقتوں میں الجھا گھر آتا تو اس کی باہوں میں پورے دن کی تھکان کچھ ہی لمحوں میں فنا ہوجاتی ۔۔۔۔

ادینہ ۔۔۔ اٹھو ۔۔ اور صبر و تحمل سے میری بات سنو ۔۔۔ صارم نے اسے نرمی سے بٹھایا ۔۔۔

کھانا کھا لیا آپ نے ۔۔۔ ادینہ نے آنکھیں مسلتے ہوئے کہا ۔۔۔

ہاں کھا چکا ہوں ۔۔۔ بٹ تمہیں ایک امپورٹنٹ بات بتانی تھی ۔۔۔

ہاں بولیں ۔۔۔ سن رہی ہوں ۔۔۔ ادینہ نے جمائی روکنے کی کوشش کی ۔۔۔۔

احمد کو عمرقید کی سزا سنائی گئی اور اسکی جتنی پروپرٹی تھی بیرون ملک سب ضبط کر لیا گیا ۔۔۔ صارم نے اسکے ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیا ۔۔۔ جبکہ ادینہ ہونقوں کیطرح اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ اور پھر اسکے آنکھیں درد اور تکلیف سے بھر آئی ۔۔۔ جیسا بھی تھا خون کا رشتہ تھا ۔۔۔ یہ سزا کم نہیں ہوسکتی صارم ۔۔۔۔

ہوسکتی تھی مگر جن لڑکیوں کو باہر بھجوایا جا رہا تھا ان میں سے کچھ بچیوں نے بدنامی کے خوف سے خودکشی کی تھی ۔۔۔ تو زمہ دار کون ہوا ۔۔ تمہارا بھائی ۔۔۔ اس لئے اب کچھ نہیں ہوسکتا ۔۔۔

ادینہ بلک بلک کر رونے لگی تو صارم نے اسے خود میں سمو کر تکلیف کم کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔

سر دکھ رہا ہے ادینہ ۔۔۔ پلیز دبا دو ۔۔۔ صارم نے اسکا دھیان ہٹانے کے لئے بہانہ گھڑا ۔۔۔ صارم کی تکلیف کا سن کر وہ اسکے سرہانے بیٹھ کر بالوں میں ہلکا ہلکا مساج کرنے لگی ۔۔۔ اور وہ کافی حد تک سنبھل گئی ۔۔۔۔

تھک گیا ہوں آج بہت ۔۔۔ اب تھوڑا سا سکون بھی دے دو ۔۔۔

جی ۔۔۔ ادینہ لائٹ آف کرکے اسکے پہلو میں آکر لیٹ گئی ۔۔۔ جبکہ صارم اسے باہوں میں بھر کر اپنی شدتیں اس پر لٹانے لگا ۔۔۔ جبکہ صارم کے ہر عمل سے اسے زندگی نئے سرے سے خوبصورت لگتی ۔۔۔ وہ اپنے شوہر کی دیوانی لڑکی خود کو اپنے شوہر کے سنگ ہی مکمل اور محفوظ سمجھتی جس کے بنا وہ ادھوری اور نامکمل تھی ۔۔۔۔

•••••••••••••••••••••••••••

آج سنڈے تھا ۔۔۔ صبح ناشتے کے بعد وہ سب ہال میں موجود تھے ۔۔۔ آج صارم کا ارادہ سب کو شاپنگ پر لے جانے کا تھا ۔۔۔ اسفند کی شادی میں بس کچھ ہی دن رہ گئے تھے ۔۔۔

صارم کا موبائیل رنگ ہوا ۔۔۔

اسفند کالنگ ۔۔۔۔ چمکتی سکرین پر نام جگمگا رہا تھا۔۔۔۔

ہاں بول۔۔۔ اتنی صبح کال کیوں کی ۔۔۔

تم سے بات کئے بغیر تو میری صبح نہیں ہوتی ڈارلنگ ۔۔۔ اسفند کی فضول گوئی شروع ہوگئی۔۔۔۔

بیوی نہیں ہوں تمہاری ٹھرکی انسان ۔۔۔ زبان سمبھال کے ۔۔۔ یہ بندہ سدھرنے والا نہیں تھا ۔۔۔ صارم نے دبے غصے میں وارن کیا ۔۔۔

ادینہ کو فون دو ۔۔۔۔ اسفند مدعے پر آیا ۔۔۔۔

ساتھ بیٹھی ادینہ کو فون تھمایا ۔۔۔

اسلام وعلیکم بھائی ۔۔۔ کیسے ہیں آپ ۔۔ گھر میں سب ٹھیک ہے؟؟؟

وعلیکم السلام ۔۔ سب ٹھیک ہے بٹ تمہارے بھائی کو دل کا روگ لگا ہے ۔۔۔

کیا مطلب۔۔ ادینہ پریشان ہوگئی ۔۔۔

ملیحہ کا نمبر سینڈ کردو ۔۔۔ شادی کا ڈریس لینے جانا ہے اس کے ساتھ ۔۔۔

ٹھیک ہے بھائی سینڈ کرتی ہوں ۔۔ وہ بھائی میں سوچ رہی تھی کہ آپکا جانا ضروری تو نہیں ۔۔۔۔ ویسے فضول میں ادھر ادھر خوار ہوں گے ۔۔۔ ہم جا رہے صارم کے ساتھ نہ تو ملیحہ کو بھی ساتھ لے جاکر شاپنگ کروادیں گے ۔۔۔ آپکی بچت ہو جائے گی ۔۔۔

کیوں صارم ۔۔۔ ادینہ نے صارم کی طرف دیکھ کر آنکھ دبا دی ۔۔۔

کوئی تو ہے اسفند کے ٹکر کا۔۔۔ ادینہ کو دیکھ کر اس نے مسکرا کر سر ہلایا ۔۔۔

ٹانگیں توڑ کر کتوں کو کھلا دوں گا تم سب کی ۔۔۔ بہن ہو میری کہ سوتن ۔۔۔ اسفند کو تپ چڑھ گئی ۔۔۔۔

۔

ہاہاہاہاہاہاہا ادینہ نے بے ساختہ قہقہ لگایا ۔۔۔ چلیں آپ غصہ تھوک دے مذاق کر رہی تھی ۔۔۔سینڈ کر رہی ہوں نمبر ۔۔۔۔ ایک دن اس کے ساتھ شاپنگ پر چلے گئے تو پھر عمر بھر کے لئے توبہ کرلو گے ۔۔۔

مما ہمارے گھر میں ننھا منا بھائی کب آئے گا ۔۔۔ وہ جو روم میں جانے لگی تھی حورم کی بات سن کر اسکی جیسی سیٹی گم ہو گئی ۔۔۔۔ یہ حورم جتنی چھوٹی تھی اتنی ہی اچھے اچھوں کو چھکے چھڑاتی تھی ۔۔۔

صارم کھا جانے والی نظروں سے ادینہ کو دیکھنے لگا تو اس نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔

حنا فاروقی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھرنے لگی ۔۔۔

میرا بچا تمہارے پاس تو ارمغان بھائی ہے نا ۔۔۔اتنا کیوٹ سا پیارا سا ۔۔۔ دوسرے کی کیا ضرورت ۔۔۔ ادینہ نے جلدی سے خود کو کمپوز کرکے حورم کو سمجھانا چاہا ۔۔۔

نہیں ۔۔۔ مجھے چھوٹا بھائی چاہیے جیسے حیا کے پاس ہے ۔۔۔ حورم کی یہ معصومیت کبھی کبھی وبال جان بن جاتی ۔۔۔۔

اب یہ حیا کون ہے بچا ۔۔۔ صارم نے پیار سے پوچھا ۔۔۔

میری کلاس فیلو حیا ۔۔ وہ اپنے بھائی کو گود میں لیتی ہے اس سے پیار بھی کرتی ہے ۔۔۔ اس کے نا چھوٹے چھوٹے ہاتھ ہے ۔۔۔۔

ہاں مما ہمیں بھی چاہیے ۔۔۔ آپ پاپا کو بول دے نا۔۔۔ زارش نے بھی اب حصہ لیا ۔۔۔ اس نے بھی حیا کے بھائی کو دیکھا تھا ۔۔۔ چھوٹا سا گول مٹول ۔۔۔

ہاں ضرور بیٹا ۔۔۔۔ لے آئیں گے تمہاری مما اور پاپا ۔۔۔ ہیں نا صارم ادینہ ۔۔۔ حنا فاروقی کے ہونٹوں سے مسکراہٹ الگ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔۔۔ اور بچوں نے تو آج ان کو زچ کرنے کی قسم کھائی تھی ۔۔۔

میں اسفند بھائی کو نمبر سینڈ کرکے آتی ہوں ۔۔۔ حورم کو صارم کی گود میں بٹھا کر وہ بھاگتی ہوئی منظر سے غائب ہو گئی ۔۔۔۔

پاپا آپ لے آئیں گے نا ۔۔۔۔ حورم صارم کے فیس پر ہاتھ رکھ کر پوچھنے لگی ۔۔۔ اسے صارم سے بے انتہا محبت تھی ۔۔۔

مگر ابھی تو میرا حورم بچا خود اتنا چھوٹا ہے ۔۔ پاپا کی گود میں بیٹھ کر کھاتی پیتی ہے ۔۔۔ اور اگر بھائی آگیا تو پھر حورم کو کون گود میں بٹھائے گا۔۔۔ کھانا کون کھلائے گا ۔۔۔

حورم اب بڑی ہوگئی ہے پاپا ۔۔۔ خود کھالے گی ۔۔۔ اور پاپا کی گود اتنی بڑی ہے حورم اور بھائی دونوں ساتھ میں بیٹھ جایا کریں گے ۔۔۔ ہیں نا موم ۔۔۔ حورم نے اپنی موم کو بھی انولو کردیا ۔۔۔

جی بلکل۔۔۔ حنا فاروقی نے ہاں میں ہاں ملائی ۔۔۔۔

افسسسس ۔۔۔ آج کل کے بچے ۔۔۔ اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔ تم لوگ تیار ہوجاؤ اسفند چاچو کی شادی کے لیے شاپنگ کروانے جانا ہے ۔۔۔۔

اور آپ بھی تیار ہوجائے ۔۔ حنا فاروقی کی طرف دیکھ کر کہا ۔۔۔

ٹھیک ہے ۔۔۔ حنا نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔۔

ویسے حورم کی بات کچھ غلط بھی نہیں تھی ۔۔۔۔ صارم ابھی دو تین سیڑھیاں اوپر چڑھا تھا کہ قدم رک گئے ۔۔۔ بھنویں اچکا کر پیچھے مڑ کر دیکھا ۔۔۔

یہ آپ بول رہی ہے ۔۔۔ بھائی سے کیا گیا ایک وعدہ تو آپ کے کہنے پر توڑ دیا ہے ۔۔۔ اپنی کہی ہوئی باتیں بھولنے کی بیماری تو نہیں لگی آپکو ۔۔۔

اسی ایک غلط بات کی تو اتنے سال سے سزا بھگت رہی ہوں ۔۔۔ تم بھول کیوں نہیں جاتے سب ۔۔۔ حنا فاروقی کے چہرے سے چھلکتی شرمندگی صاف عیاں تھی ۔۔۔۔

صارم بغیر کچھ کہے اوپر چلا گیا ۔۔۔۔

ادینہ ہاتھ میں موبائل لے کر کھڑی تھی ۔۔ پیچھے سے صارم نے اس کو بازؤں کے حلقے میں قید کر اس کے کندھے پر ٹھوڑی ٹکائی ۔۔۔۔

حورم کی بات سے تو میں بھی متفق ہوں ۔۔ سوچا جا سکتا ہے ۔۔۔۔ تمہارا کیا خیال ہے ؟؟؟؟

ادینہ کے تو اوسان خطا ہوگئے ۔۔۔

صارم آپ نے خود کہا تھا کہ ہم اور بچے ۔۔۔۔

ہاں میرے لئے تو تین بچے ہی کافی تھے ۔۔۔ اب میری بیٹی کو بھائی کی خواہش ہے تو پوری تو کرنی پڑے گی ۔۔۔۔

ادینہ کا چہرہ سرخ قندھاری ہوگیا ۔۔۔ شرم سے پلکیں جھپکائیں ۔۔۔۔

ہائےےےےےے۔۔۔۔یہ قاتل ادائیں ۔۔۔۔۔ یہ لڑکی دن بہ دن اس کے دل میں گھڑتی جارہی تھی۔۔۔

دل تو چاہتا ہے کہ اپنا جنون اپنی چاہت ایک ہی بار میں تمہارے اندر انڈیل دو ۔۔۔ مگر ڈر بھی لگتا ہے ۔۔۔۔ کیونکہ حد سے زیادہ جنونیت مجھے ہمیشہ تکلیف دیتی ہے ۔۔۔ صارم سوچتے ہوئے زور سے آنکھیں میچ گیا ۔۔۔

سیرئسلی ۔۔ میری اتنی بولڈ سی چڑیا بھی شرما رہی ہے ۔۔۔ ہاہاہاہا صارم کا شاندار قہقہ گونجا۔۔۔۔اس کے کندھے پر ہونٹ رکھ کر الگ ہوا۔۔۔

چلو تیار ہوکر نیچے اجانا۔۔۔ میں ویٹ کر رہا ہوں ۔۔۔

•••••••••••••••••••••••••••

وہ ناشتہ کرکے فری ہوگئی تو روم میں اگئی۔۔۔۔روم سیٹ کرنے لگی کہ موبائل پر میسج نوٹیفکیشن آیا ۔۔۔

تیار رہنا آدھے گھنٹے تک پک کرلوں گا ۔۔۔ بارات اور ولیمہ کا ڈریس لینے جانا ہے ۔۔۔

میسج پڑھ کر ہی اسے پتہ چل گیا کہ کس کا نمبر ہے ۔۔۔

اب اس بدتمیز او المینرڈ انسان کے ساتھ رہنا ہے مجھے ساری زندگی ۔۔۔ اگر شکل کی طرح اللّٰہ اس کو تھوڑی تمیز سے بھی نواز دیتا تو کیا خرج ہوتا ۔۔۔ مگر اب کیا پچھتانا جب چڑیاں چگ گئی کھیت ۔۔۔۔

وہ امی کے روم میں آگئی۔۔۔۔

امی اسفند آرہا ہے مجھے ساتھ لے جانے وہ بارات اور ولیمہ کا ڈریس خریدنا ہے۔۔۔

ہاں اس کی موم نے بھی کال کی تھی ۔۔۔۔ تم جاکر تیار ہوجاو وہ بس آنے والا ہوگا ۔۔۔۔

روم میں آکر تیار ہوگئی ۔۔ پیچ پنک کلر کا شرٹ اور کھلا ٹراؤزر پہنے بالوں کی لمبی چوٹی بنائی ۔۔۔ جو پشت پر لہرا رہی تھی ۔۔۔۔

تھوڑی دیر بعد گاڑی روکنے کی آواز آئی ۔۔ اور ساتھ میں ہارن کی ۔۔۔ جس پر اسفند ہاتھ رکھ کر ہٹانا بھول گیا تھا ۔۔ وہ ہڑبڑا کر امی کو خداخافظ کہہ کر نکلی ۔۔۔

ہم بہرے ہیں ۔۔۔ پورے محلے کے کانوں کے پردے پھاڑنے کا ارادہ ہے کیا ۔۔۔ ملیحہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی تو اس کی کلاس لینے لگی ۔۔۔

اب ہسبنڈ بن گیا ہو ۔۔۔۔ تھوڑی ریسپکٹ ڈیزرو کرتا ہوں بیوی ۔۔۔۔

بنے نہیں ہو ابھی ۔۔۔۔ اور خبردار جو مجھے ٹیپیکل ورڈز سے بلایا تو ۔۔۔۔ ہنہہہ بیوی ۔۔۔۔ میں کوئی اولڈ لیڈی ہوں کیا ۔۔۔

نہیں تم تو تیئیس سال کے جوان لڑکے سے بھی بیس سال چھوٹی ہو ۔۔۔ اسفند نے تھانے والی ملیحہ کی کہی گئی بات اس کو لوٹائی ۔۔۔

وہ جزبز ہوتی ہاتھ چٹخانے لگی ۔۔۔۔

ڈارلنگ ، ڈئیر ، سویٹ ہارٹ اس طرح کے الفاظ کی توقع کر رہی تھی تم ۔۔۔۔ تم لڑکیوں کو دوسروں سے اپنے شان میں قصیدے پڑھوانے کا شوق ہوتا ہے نا ۔۔۔۔ ٹایم آجانے دو وہ بھی پڑھ لوں گا ۔۔۔۔ وہ اب باقاعدہ اسے چھیڑ رہا تھا ۔۔

کوئی نہایت ہی چیف انسان ہو تم ۔۔۔۔ مجھے ایسا کوئی شوق نہیں ۔۔۔۔

اسفند نے ہاتھ بڑھا کر اسکی پونی نکال کر گاڑی سے باہر پھینک دی ۔۔۔ کھلی بالوں کا آبشار اس کی کندھوں اور پشت پر پھیلا ۔۔۔

اب یہ کیا بدتمیزی ہے ۔۔۔۔ مجھے تمہارے ساتھ آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔۔۔ ملیحہ حق دق اس کے چھچھورے پن کو دیکھ کر اس کی جرات پر حیران تھی ۔۔۔۔

آتی تو تمہاری مرحوم دادی صاحبہ بھی ۔۔۔۔ ورنہ اپنی بانہوں میں اٹھا کر لے آتا ۔۔ لیکن وہ کیا ہے۔۔۔ تمہاری یہ سفید ملائی جیسی گردن دیکھ کر میرا ایمان ڈگمگا رہا تھا ۔۔۔۔۔ بہک رہا تھا میں ۔۔۔ سوچو میرا یہ حال تھا تو کسی اور کی نظر کیسے پڑنے دے سکتا ۔۔۔ اس لئے بالوں سے ڈھانپ دیا۔۔۔

ستائیسویں صدی کے سستے عاشق ۔۔۔۔ اسفند کی اتنی بے ہودگی ہر تو ملیحہ عش عش کھانے لگی ۔۔۔ آنکھوں کی پتلیاں حیرت سے پھیلیں ۔۔۔۔یا اللّٰہ ابھی تو حق نہیں ہے مجھ پر اور صحیح معنوں میں میری جان جا رہی ہے پتہ نہیں بعد میں کیا کروں گی ۔۔۔ سارے زمانے کی بے باکی اس شخص میں کھوٹ کھوٹ کر بھر دی گئی ہے کیا۔۔۔ کہا وہ صارم بھائی جیسا سوبر سلجھا ہوا بندہ کہا یہ ٹھرکی ۔۔۔ ملیحہ لب باہم پیوست کئے تاسف سے سوچنے لگی ۔۔۔

کہاں؟؟؟ اسفند نے اسے منجمد دیکھ کر ہلکا سا جھنجھوڑا ۔۔۔۔

کچھ نہیں ۔۔۔۔ تم تیز چلاو نا۔۔۔۔ اس سے تو بہتر تھا ہم پیدل چلے جاتے۔۔۔

ہاہاہاہا گلہ پھاڑ قہقہ گاڑی میں گونجا۔۔۔ بس اتنی سی بات پر ساری اکڑ بیٹھ گئی تمہاری ۔۔۔۔ مال پہنچ کر بھی اسفند کی جسارتیں بتدریج جاری تھی ۔۔ شاپنگ ختم ہونے پر اس نے سکھ کا سانس لیا ۔۔۔۔

•••••••••••••••••••••••••••

اسفند کے نکاح کا فنکشن بارات کے ساتھ رکھا گیا تھا ۔۔۔۔ بارات کے لئے صارم نے ادینہ کو اپنی چوائس سے ہٹ کر ریڈ کلر کی میکسی خرید کر دی تھی ۔۔۔ یہ کہہ کر کہ لائف میں کچھ چینج آنا چاہیے ۔۔۔ ورنہ اکتاہٹ ہوتی ہے ۔۔۔

میکسی پہنے وہ مرر کے سامنے کھڑی بالوں کو برش کر رہی تھی کہ صارم روم میں داخل ہوا ۔۔۔

اسے لگا دنیا کا سب سے خوبصورت منظر اس کے سامنے ہیں ۔۔۔ وہ لاشعوری طور پر قریب اگیا ۔۔۔۔ ادینہ کے ہاتھ سے برش لے کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ دیا ۔۔۔ خواب جیسی کیفیت میں اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور لمبا سانس لے کر اس کے چہرے پر جھک کر اس کی سانسیں قید کرنے لگا ۔۔۔ اپنی طلب پوری کرکے وہ سیدھا ہوا ۔۔۔

ادینہ تو گومگو کیفیت میں اس کے سہارے کھڑی تھی ۔۔۔ صارم کے دور ہونے پر تھوگ نگل کر بے ترتیب سانسوں کو بحال کرنے کی کوشش کی ۔۔۔

اگر مجھے پتہ ہوتا کہ ریڈ کلر تم پر اتنا چجتا ہے تو میں اپنی شادی میں بھی تمہارے لئے ریڈ کلر ڈریس ہی لیتا ۔۔۔ کان میں ہلکی سی سرگوشی کی ۔۔۔

آج تم بال کھلے چھوڑ دوں میرے لئے ۔۔۔۔ بیشک دوپٹہ سر پر اوڑھ لو ۔۔۔

ٹھیک ہے ۔۔۔ ادینہ کچھ بھی بولنے سے قاصر تھی ۔۔۔

خود سے الگ کر کے اس کو اپنے سامنے بٹھایا لمبے بال کچھ پشت پر کھلے چھوڑ دیے اور ہالف آگے کندھے پر ۔۔۔۔ پھر ریڈ کے ساتھ گولڈن کومبینیشن دوپٹہ اٹھا کر اس کے سر پر رکھا اور پنز سے سیٹ کرنے لگا ۔۔۔ جس کندھے پر بال نہیں تھے وہاں دوپٹہ ایک سائیڈ پر سیٹ کیا باقی پشت پر پھیلا دیا ۔۔۔ سر بھی ڈھانپ دیا اور بال بھی کھلے ۔۔۔۔

واہ جی ۔۔۔ آپ تو ایکسپرٹ نکلے ۔۔۔ کتنی لڑکیوں کو تیار کروایا ہے ۔۔۔ ادینہ نے شکی نظروں سے دیکھ کر پوچھا ۔۔۔۔

میرے سارے احساسات ، جزبات ، میری چاہت سب کچھ صرف میری بیوی کے لئے مختص تھے ۔۔۔ جس پر صرف اب تمہارا حق ہے ۔۔۔ بلکل کھرا کسی بھی کھوٹ سے پاک صارم تمہارے نصیب میں تھا ۔۔۔۔

صارم ۔۔۔۔۔کیا آپ کبھی مجھ سے پیار نہیں کر سکتے ۔۔۔ میں اتنی بھی بری نہیں ہوں ۔۔۔ مجھے پتہ ہے آپ میری بہت قدر کرتے ہیں خیال رکھتے ہیں ۔۔۔۔ مگر مجھے آپکا پیار بھی چاہیے ۔۔۔۔ کیا تھوڑی سی بھی گنجائش نہیں ہے میرے لئے ۔۔۔مجھے صرف روایتی بیوی نہیں بننا آپ کے دل پر راج کرنا ہے ۔۔۔

اور یہی وہ وقت تھا کہ صارم دل کے ہزار خانوں میں مقید اپنے بے لوث محبت کا پردہ فاش کردے ۔۔۔۔ اپنے دل کے بنجر زمین پر پلنے والے محبت کا وہ چھوٹا سا پودا جو اب پروان چڑھ کر ایک تناور درخت بن گیا تھا اس سے ادینہ کو روشناس کروائے ۔۔۔ جسکو چھپانے کے لئے صارم نے خود سے لاکھوں عہد وپیمان کئے تھے کہ وہ اپنے جنون کو کبھی ادینہ ہر عیاں نہیں کرے گا ۔۔۔ بقول اس کے وہ جس بھی رشتے میں گہرائی سے اترتا ہے وہی رشتہ اس کی درد کی وجہ بن جاتا ہے ۔۔۔۔۔ اور ادینہ اس کی زندگی کا آخری اور قیمتی اثاثہ تھا جسکو وہ کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔

ادینہ پیار محبت تو بہت چھوٹا لفظ ہے ۔۔۔۔ صارم نے تم سے عشق کیا ہے ۔۔۔ جس کی حد کا مجھے خود بھی نہیں پتہ ۔۔۔۔۔ لیکن وہ صارم جس نے ساری زندگی شادی نا کرنے کی قسم اٹھائی تھی اپنے بھائی کو زبان دی تھی ۔۔۔ تمہیں ایک نظر دیکھنے کے بعد اسکا دل دغا دے گیا ۔۔ تم شفاف پانی کی مانند تھی جس میں صارم کو اپنا دھندلا عکس بلکل صاف دکھائی دینے لگا تھا ۔۔۔ وہ صارم فاروقی جو صرف ایک بے جان پتلا تھا ۔۔۔ سانس لینا چھوڑ گیا تھا ۔۔۔ وہ تمہارے لئے سانس لینے لگا ۔۔۔۔ جو کبھی مرنے کے دعا کرتا تھا ۔۔۔ جینا ہی نہیں چاہتا تھا ۔۔ گھٹ گھٹ کر جی رہا تھا ۔۔۔۔ تمہارے ساتھ جینے کے لئے لمبی عمر کی دعائیں مانگنے لگا ۔۔۔ صارم ادینہ سے پیار نہیں عشق کرتا ہے اور تم صارم کی صرف بیوی نہیں ہو ۔۔۔ محبوبہ کے عہدے پر فائز ہو ۔۔۔ تم بری نہیں ہو اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ خوبصورتی کیا ہے تو مجھے تمہارا نام لینے میں کوئی ہتک محسوس نہیں ہوگی ۔۔۔۔ میری نظر دنیا کی سب سے پیاری بیوی ہو تم ۔۔۔ یہ کہہ کر صارم اپنے ہی کہے گئے الفاظ کا بوجھ مزید برداشت نہیں کر سکا اور صوفے پر دھڑام سے بیٹھ گیا ۔۔۔۔

ادینہ منتشر دھڑکنوں کے ساتھ مسمرائیز ہوکر صارم کے ہلتے لبوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ اس کا کہا گیا ایک ایک لفظ اس کے رگ وپے میں شھد کی مٹھاس کی طرح سرائیت کرکے اسے معتبر کرنے لگا ۔۔۔ اتنا پیار ۔۔ اتنی چاہت ۔۔۔ اتنی شدت ۔۔۔

صارم ہاتھوں میں سر گرائے بیٹھا تھا ۔۔۔۔ بس اسے ادینہ کے دور جانے کا ڈر تھا ۔۔۔

صارم ۔۔۔ ادینہ اس کے قدموں میں بیٹھ گئی۔۔۔ اور اس کے گھٹنوں پر اپنے ٹھوڑی ٹکا دی۔۔۔

صارم کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹا۔۔۔

اوپر بیٹھ جاو ۔۔۔ تمہاری جگہ قدموں میں نہیں میرے دل میں ہے ۔۔۔۔ اتنا بے مول نہیں ہیں میرا پیار ۔۔۔ میں پیار میں برابری کا قائل ہوں ۔۔۔

صارم ایک جھٹکے سے اٹھا اور اپنے ساتھ ادینہ کو بھی اٹھایا ۔۔۔ اور سینے سے لگاکر ایک بار پھر خود کو یقین دلانے لگا کہ ادینہ واقعی اسکی ہے ۔۔۔

صارم پتہ نہیں آپ میری کونسی نیکی کا ثمر ہیں ۔۔۔ ادینہ نے سر اٹھا کر صارم کو دیکھا ۔۔۔ اور ہلکا سا اسکی ٹھوڑی کو چھوا ۔۔۔

اور ہاں آپ نے چیٹنگ کی ہے میرے ساتھ ۔۔۔اچانک کچھ یاد آنے پر ادینہ بولی ۔۔۔

میں نے کب ۔۔۔۔ صارم نے حیرانگی سے پوچھا

ایک بار میں نے آپ سے پوچھا تھا نا آپکی ایج کے بارے میں کہ آپ نے اتنی جلدی شادی کیوں کی ۔۔ تب بھی آپ نے میری کنفیوژن دور نہیں کی ۔۔۔

ہاہاہاہاہا ۔۔۔ میں نے تو بولا تھا تمہیں کہ تم نہیں سمجھو گی ۔۔۔۔۔ اور دوسری بات میں تمہیں کوئی جھوٹی آس امید نہیں دلانا چاہتا تھا ۔۔۔ تم خود غلط فہمی کا شکار تھی اور میں نے رہنے دیا ۔۔۔ اور تیسری بات میں تمہارے عشق کی انتہا دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔ کہ تم مجھے میری مجبوریوں سمیت قبول کروگی کہ نہیں ۔۔۔۔

مطلب میں صرف بیوی نہیں ہوں ۔۔۔ ایس پی صارم فاروقی کی دل کی ملکہ اور محبوبہ ہوں۔۔ مجھے تو یقین ہی نہیں ہورہا کہ آپ مجھ سے اتنا پیار کرتے ہیں ۔۔۔ خوشی ادینہ کے انگ انگ سے ظاہر ہو رہی تھی ۔۔۔ وہ من چاہی بیوی تھی۔۔۔ صارم نے ہمدردی میں اس سے شادی نہیں کی تھی ۔۔۔ ادینہ نے اپنی پسندیدہ تل والی جگہ پر کس کیا ۔۔۔

یار بس ایک ہی جگہ پر پیار لٹا رہی ہو سراسر نا انصافی ہے ۔۔۔ یہ باقی چھا فٹ پانچ کا بندہ بھی تمہارا ہی ہے ۔۔۔۔ اور اگر تم اس طرح میری دھڑکنیں منتشر کروگی تو میں اسفند سے معذرت کرکے بارات میں جانے کا پروگرام کینسل کرلوں گا ۔۔۔ اور ۔۔۔

نہیں نہیں ۔۔۔ ہم جارہے ہیں نا ۔۔۔۔ اسکا ارادہ سمجھ کر ادینہ گڑگڑائیں ۔۔۔۔

ادینہ جلدی سے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھ گئی اور ریڈ کلر لپ اسٹک اٹھائی ۔۔۔

نوووووو ۔۔۔۔۔ مجھ پر مزید بجلیاں گرانے کا انتظام ترک کردو ۔۔۔ ورنہ میں سچ میں نہیں جا پاؤں گا ۔۔۔۔۔ تم ایسی ہی سیدھا دل میں اتر رہی ہو۔۔۔ صارم کے ہر انداز سے پیار چھلک رہا تھا ۔۔۔۔

تیار ہوکر وہ لوگ نیچے آگئے تو حنا فاروقی بچوں کو تیار کرواکر کھڑی تھی ۔۔۔

بھابھی آپ نے چینج نہیں کیا ؟؟ آپ نہیں جارہی کیا۔۔۔؟؟؟

میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔ آج ریسٹ کرلوں گی تو کل جا پاؤں گی ۔۔۔۔ بچوں کو تیار کردیا ہے انکو ساتھ لے جانا ۔۔۔۔

بھابھی اسفند بھائی ناراض ہوجائیں گے ۔۔۔اور مجھے بھی آپکی فکر رہے گی۔۔ میں بھی نہیں جاسکتی ۔۔۔ ادینہ نے ایک سکینڈ میں اپنا ارادہ ملتوی کردیا ۔۔۔

ارے ےےے ۔۔۔ اسفند لوگوں کو پتہ ہے جب میری طبیعت خراب ہوتی ہے وہ لوگ مائنڈ نہیں کرتے ۔۔۔ حنا نے دلیل پیش کی ۔۔ اور سچ بھی تھا ۔۔۔

صارم اس کے قریب آیا ۔۔۔ اور اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔ تو بخار سے تپ رہی تھی ۔۔۔۔

ہم نہیں جارہے ۔۔۔ چلو واپس روم میں چینج کرلو ادینہ ۔۔۔ صارم نے کے چہرے پر تفکر واضح دکھ رہا تھا ۔۔۔ اب انکو ایسی حالت میں چھوڑ کر تو نہیں جاسکتے ۔۔۔

صارم میں نے میڈیسن لے لی ہے ۔۔۔ اسفند مجھے تمہاری طرح عزیز ہے ۔۔۔۔ آج اس کے لئے خوشی کا دن ہے ۔۔۔۔ میں جانتی ہو اچھے سے جب تک تم نہیں جاؤگے وہ نکاح نہیں کرےگا ۔۔۔ تم لوگ جاؤ کل تک طبیعت ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔

آر یو شیور ۔۔۔ صارم نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا ۔۔۔۔

ہاں ۔۔۔ میں اب اتنی بھی بیمار نہیں ہوں ۔۔۔

اپنا خیال رکھنا ۔۔ ہم کوشش کریں گے جلدی واپس آجائیں ۔۔۔ صارم نے تاکید کی ۔۔۔

اوکے ۔۔۔

وہ لوگ ہال سے نکلنے لگے ادینہ نے حورم کو اٹھایا تھا گود میں ۔۔۔ اب وہ 5 سال کی ہونے والی تھی لیکن سب اسے بچوں کی طرح ٹریٹ کرتے تھے ۔۔۔

ادینہ بہت پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔ صارم اسکی نظر اتاردینا۔۔۔۔ حنا فاروقی نے پہلے ادینہ کو پھر صارم کو محاطب باری باری محاطب کیا ۔۔۔۔

تھینکس بھابھی ۔۔۔ ادینہ نے مسکرا کر جواب دیا ۔۔۔ اور صارم کچھ نہیں بولا ۔۔۔۔ نظر تو وہ اتار چکا تھا ۔۔۔۔

وہ لوگ میرج ہال پہنچ گئے ۔۔۔ تو اسفند کو چینی سے ادھر ادھر ٹہلتے دیکھا ۔۔۔ صارم کو دیکھ کر جلدی سے اس کے قریب آیا۔۔۔

یار اتنی دیر لگا دی آنے میں ۔۔۔

کچھ زیادہ اتاولے نہیں ہورہے ہو ۔۔۔ ہم ٹائم سے آئیں ہیں تم شاید خوشی میں جلدی پہنچ گئے تھے ۔۔۔صارم نے اسے آئینہ دکھایا ۔۔۔

ارے واہ ادینہ ۔۔ بہت پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔ اسفند نے توصیفی نگاہ سے دیکھ کر کومنٹس پاس کیا ۔۔۔۔

ہاں بھائی کی شادی ہے نا۔۔۔ مجھے بھی اچھا لگنا تھا ۔۔۔ ادینہ دل سے خوش تھی ۔۔۔ اسفند اور ملیحہ کے لئے ۔۔۔۔

بھابھی نہیں آئی کیا۔۔۔ اسفند نے حنا کا پوچھا ۔۔۔

اسکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔۔۔ اب مزید انویسٹیگیشن مت کر ۔۔۔ صارم نے اکتا کر کہا ۔۔۔

مہک ارسلان بھی بمعہ فیملی اگئے ۔۔

ملیحہ کو سٹیج پر لایا گیا تو ادینہ حورم کو لے کر سٹیج پر جانے لگی ۔۔۔۔

کہاں ۔۔۔ صارم نے روکا ۔۔۔

اب میں تھوڑی دیر کے لئے لڑکی والوں کے سائڈ پر ہوں ۔۔۔ بہن ہونے کا فرض نبھانا ہے ۔۔۔ اور ہاں اسفند بھائی میرے ہسبنڈ کا جتنا مال ہڑپ کیا تھا نا میرے بارات کے ٹائم ۔۔۔ جو اپنی بیوی کے جھولی میں ہاتھ بھر بھر کر ڈال رہے تھے ۔۔۔ آج سود سمیت واپس لوں گی ۔۔۔ ادینہ نے اسے پہلے سے آگاہ کیا ۔۔۔

یہ چیٹنگ ہے ۔۔۔ تم تو میری بہن تھی نا ۔۔۔ پارٹی بدل دی ۔۔۔ صارم سمجھا اپنی بیوی کو ۔۔ اسفند دھائیاں دینے لگا ۔۔۔

یہ کیوں سمجھایے گا ۔۔۔ کتنی دفعہ میں نے تمہیں ٹوکا تھا اس ٹائم کہ ہاتھ ہلکا رکھ ۔۔۔ مگر نیا نیا جوش چڑھا تھا تمہیں عاشقی کا ۔۔۔ اب تمہاری باری ۔۔۔۔ ارسلان بھی چن چن کر بدلے لے رہا تھا۔۔۔۔

سب ہنسنے لگے۔۔۔۔

ادینہ سٹیج پر چڑھ کر ملیحہ کے ساتھ بیٹھ گئی ۔۔۔

تھوڑی دیر بعد مولوی صاحب نے نکاح پڑھانا شروع کردیا ۔۔۔۔

اسفند کے ایک سائیڈ صارم بیٹھا تھا دوسری طرف ارسلان ۔۔۔ ادینہ نے تینوں کو ساتھ میں دیکھا ۔۔۔ تو مسکرادی ۔۔۔ مثالی دوستی اور پیار تھا ۔۔۔ اللّٰہ ہمیشہ یہ دوستی قائم ودائم رکھے ۔۔۔ دل سے دعا دی ۔۔۔

نکاح نامہ پر دونوں طرف سے سائن کروادئیے گئے تو مبارکباد کا سلسلہ شروع ہوا ۔۔ اسفند سب سے مسکرا کر مبارکباد وصول کر رہا تھا ۔۔۔

ملیحہ کے ساتھ اسفند کو بٹھایا گیا ۔۔۔ رسمیں شروع ہوچکی تھی ۔۔۔ ادینہ ٹریک پر اچکی تھی ۔۔۔ اور اودھم مچا رکھا تھا مہک کے ساتھ ملکر ۔۔۔ کافی رقم بٹور رہی تھی ۔۔۔ اسفند غضب ناک تیور لیئے اسے گھور رہا تھا ۔۔۔۔۔ ادینہ اسے خاطر میں لائے بغیر اپنا مطلب نکال رہی تھی ۔۔

یار سمجھا نا اس کو کنگال کرکے رکھ دیا ۔۔۔ اسفند کے پاس جتنی نقدی تھی ختم ہوگئی ۔۔۔۔

تو فکر نا کر تمہارا چیک بک ساتھ لایا ہوں ۔۔۔ اس سے بھی کام چلے گا۔۔۔ ارسلان نے چیک بک سامنے کیا۔۔۔۔ تو اسفند کا خلق خشک ہوگیا ۔۔۔

یار کونسی دشمنی نکال رہے ہو ۔۔۔ پورے دو سال چھوٹا ہوں تم دونوں سے ۔۔۔ بچہ سمجھ کر کچھ رحم کھا لو مجھ پر ۔۔۔۔

دو سال چھوٹا ہے لیکن تمہارے کرتوت دو سال بڑوں جتنے ہیں ۔۔۔ ناک میں دم کررکھا تھا پوری زندگی ۔۔۔ ارسلان آج اس کو چھوڑنے والا نہیں تھا ۔۔

یار صارم تو کیوں چپ ہے ۔۔۔ سمجھا نا ان سب کو ۔۔۔۔ جان سولی پر لٹکی ہوئی ہے میری ۔۔۔۔ مدد طلب نظروں سے صارم کو دیکھا ۔۔۔۔

ادینہ بس کر اتنا کافی تھا ۔۔۔ اور ارسلان یہ چیک بک مجھے پکڑادو ۔۔۔ سنجیدگی صارم کی شخصیت کا خاصہ تھا کہ کوئی اس کو نا نہیں کہہ سکتا تھا ۔۔۔

شکر ہے ۔۔۔ رسمیں اختتام پزیر ہوئی تو اسفند کی جان میں جان آگئی ۔۔۔

پھر بہت سی دعاؤں کے حصار میں ملیحہ کو رحصت کر دیا گیا۔۔۔۔۔

•••••••••••••••••••••••••

ویسے ایس پی صاحب پہر داری کے لئے تو گارڈز کافی تگڑے رکھے ہیں لیکن ہم جیسے پختہ ارادے رکھنے والے لوگوں کو منزل مقصود تک پہنچنے سے کوئی روک نہیں سکتا ۔۔ فاروقی مینشن کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے ماسک سے چہرے کو اچھی طرح کور کرلیا اور مینشن کے بالکل آخری اندھیرے والے کونے کی طرف قدم بڑھا دیئے ۔۔۔ خطروں سے کھیلنے والا صارم فاروقی شائید بھول گیا تھا کہ کوئی اس کے ٹھکر کا بھی ہے ۔۔۔۔۔ جیسے ہی گارڈ دروازے کی طرف بڑھ گیا تو نقاب پوش ایک لمحے کی دیری کیے بغیر اتنی اونچی دیوار پر چڑھ گیا اور اتنی ہی تندی سے دوسری طرف کھود بھی گیا ۔۔۔بمشکل 15 سیکنڈ کا ٹائم لگا تھا ۔۔۔۔ اپنے کھیل کو ماہر کھلاڑی لگ رہا تھا ۔۔۔۔

مسلسل کھانسنے کی وجہ سے گلہ سوکھ گیا تو اس کی آنکھ کھلی ۔۔۔ پانی پینے کے لئے اٹھی تو خالی جگ منہ چھڑا رہا تھا ۔۔۔ ٹائم دیکھا تو دو بجنے والے تھے ۔۔۔ صارم لوگوں کی ابھی تک واپسی نہیں ہوئی تھی ۔۔۔ وہ روم سے باہر نکلی تو گھپ اندھیرا ہر سُو پھیلا ہوا تھا ۔۔۔

••••••••••••••••••••••••