Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282 Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 10)

68.3K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 10)

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan

اسفند کے پیرنٹس کچھ ماہ کے لیے انگلینڈ گئے تھے ان کے بڑے بھائی کے پاس۔۔۔اسکا بڑا بھائی وہاں اپنی بیوی بچوں کے ساتھ سیٹل تھا۔۔۔۔وہ اپنے پیرنٹس کو ہر سال کچھ ماہ کے لیے بلاتا تھا۔۔۔۔اب بھی وہ گئے تھے ۔۔۔۔ اور اسفند کی بڑی بہن تھی جو شادی کے بعد گاؤں میں رہتی تھی اپنے سسرال والوں کے ساتھ ۔۔۔تو اس نے صارم کو آج گھر بلایا تھا۔۔۔کی امپورٹنٹ کام سے ۔۔۔۔

وہ دونوں اسفند کے روم میں بیٹھے تھے ۔۔۔ اسفند روٹین کے مطابق لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلا رہا تھا۔۔۔ساتھ ساتھ صارم سے بھی محو گفتگو تھا۔۔۔۔

صارم وہ حیات خان کے جن دو بندوں کو میں نے اٹھوایا تھا ان کو اتنا ٹارچر کیا ہے ۔۔۔۔مینٹلی اور فزیکلی دونوں۔۔۔۔ بھوکا پیاسا رکھا۔۔۔بجلی کے کرنٹس دئے۔۔۔۔ باڈی پر جگہ جگہ کٹس لگائیں ۔۔۔گرم پانی سر پر انڈیلا۔۔۔ مگر زبان نہیں کھولی کسی نے۔۔۔۔یا تو ان کو بہت ٹریننگ دی گئی ہے۔۔۔ یا پھر وہ سچ میں لا علم ہے۔۔۔۔اسفند نے نے اب تک کی کاروائی اس کے سامنے پیش کی۔۔۔۔

میں نے پہلے بھی بولا تھا تمہیں کہ یہ لوگ کچھ نہیں جانتے ۔۔۔۔ ان کے ساتھ ڈیلنگ جو شخص کرتا ہے ۔۔۔۔ اس پر فوکس کرو۔۔۔۔ وہ ہاتھ لگ جائے تو تمہارے سامنے وہ سب بک دےگا جو تمہارے لئے فائدہ مند ہوسکتا ہے ۔۔۔۔صارم نے مشورہ دیا ۔۔۔۔

وہی تو کر رہا ہوں ڈئیر۔۔۔۔ وہ تیسرا شخص کچھ وقت کے لئے روپوش ہوگیا تھا۔۔۔۔ اسکو تھوڑی بہت بھنک لگ گئی تھی ہماری کاروائی کی کہ اس کی مخبری ہو رہی ہے۔۔۔ اس لئے منظر سے غائب ہو گیا تھا ۔۔۔۔ لیکن ابھی مجھے اطلاع ملی ہے۔۔۔۔ کہ وہ واپس آگیا ہے۔۔ اور آج اس کو اٹھوانا ہے۔۔۔۔

اسفند نے پروپر پلاننگ سے صارم کو آگاہ کیا تھا۔۔ اور ہاں تم نے میرے ساتھ چلنا ہے ۔۔۔ میں اس معاملے میں کسی اور پر ٹرسٹ نہیں کر سکتا۔۔۔۔ بس وہ جیسے ہی گھر سے نکلے گا ہم اسے اپنا دیدار کروادیں گے۔۔۔۔ اسفند نے آنکھ ونک کی۔۔۔۔

گڈ ۔۔۔۔ صارم رضامند ہوگیا۔۔

ملازم اسفند کے لئے چائے اور صارم کے لئے کافی لے کر آیا توچائے کو دیکھ کر صارم کو ادینہ کی ماں کے ہاتھ کی چائے یاد آگئی۔۔۔اس کے بعد صارم نے کبھی چائے کو ہاتھ تک نہیں لگایا ۔۔۔ کچھ لوگوں کا ساتھ صرف پل بھر کا ہوتا ہے مگر وہ ہمیشہ دلوں میں بس جاتے ہیں۔۔۔۔ ایک ٹھنڈی آہ بھر کر سر کو جھٹک کر کپ اٹھایا۔۔۔

وہ کتنی مشکل سے سنبھلا تھا۔۔یا پھر اب اس کو عادت ہوگئی تھی غموں کو سہنے کی۔۔۔ وہ سخت جان بن گیا تھا ۔۔۔۔۔

اسفند ادینہ سے کب ملو گے؟؟۔۔۔ صارم نے کافی کا گھونٹ بھر کر اسفند سے پوچھ لیا۔۔۔۔۔

آج ارادہ تھا جانے کا ۔۔۔ بٹ پہلے حیات خان کے بندے نبٹ لوں کہیں ہاتھ سے نہ نکل جائیں پھر اس سے مل لوں گا۔۔۔ اسفند دو تین دن سے نہیں ملا تھا ۔۔۔۔

اور تم نے کیا سوچا ہے۔۔ کب تک بات کروگے اس سے شادی کے بارے میں ۔۔؟؟؟۔۔اسفند نے پھر وہی بات دہرائی ۔۔.۔

تم مل کے کریدنا اسے کہ اس کے من میں کیا چل رہا ہے ۔۔۔ بھائی ہو نہ اس کے ۔۔۔ صارم نے نے شرارت سے کہا۔۔۔

ہاہاہاہاہا ۔۔۔ سوچ لو تمہارے خلاف ںھڑکا بھی سکتا ہوں اسے۔۔۔ اسفند بھی اپنے نام کا ایک تھا۔۔۔

باز آجا ۔۔۔ میری والی تو پوری طرح مجھ پہ فدا ہے ۔۔۔ تم بھڑکاؤگے تب بھی میری ہی ہوگی ۔۔۔ تمہاری باری بھی آنے والی ہے۔۔۔ وہ کیا نام تھا تمہاری اس چڑیا کا ۔۔۔ ہاں ملیحہ ۔۔۔صارم نے دانت دکھائے ۔۔۔

یار وہ اتنی آسانی سے پٹے گی نہیں ۔۔۔ میڈم کے نخرے ۔۔۔ افف ۔۔۔۔ ایک ادینہ ہے کتنی پیاری سی سویٹ سی ۔۔۔۔۔ پتہ نہیں ایسی دوست کیسے پلے پڑھی ۔۔۔۔ اسفند نے آنکھوں کو گھما کر کہا ۔۔۔۔

وہ کام تم پھر اپنی بھابھی پلس سسٹر پر چھوڑ دو۔۔۔ منا لے گی ادینہ وہ اسے ۔۔ صارم نے ادینہ کا حوالہ دیا۔۔۔

دونوں باتوں میں مصروف آگے کا لائحہ عمل طے کرنے لگے۔۔۔

•••••••••••••••••••

ادینہ ریسٹورنٹ پہنچ گئی تو باہر انٹرنس میں سفیان اس کا ویٹ کرتا نظر آیا۔۔۔ اس کو نک سک سے تیار دیکھ کر ادینہ کو ایک آنکھ نہیں بھایا۔۔۔۔ناک سکیڑ کر وہ آگے بڑھی ۔۔۔ سفیان اسے فیملی کیبن میں لے کر گیا ۔۔۔۔اور مینو کارڈ ادینہ کو تھما دیا۔۔۔

ادینہ نےیہ کہہ کر واپس رکھ دیا کہ میں کھانا کھا کر آئی ہوں ۔۔۔۔ تم نے جس بات کے لیے مجھے بلایا ہے ۔۔۔ وہ بتائے۔۔۔

سفیان کے ماتھے پر بل پڑے ۔۔۔ اتنی جلدی بھی کیا ہے ۔۔۔ ابھی آرام سے بیٹھ جاؤ۔۔۔۔

آرام سے بیٹھنے کے لیے ریسٹورنٹ نہیں بلایا جاتا ۔۔۔ گھر آکر بات کرتے ہیں ۔۔ بائے دا وے۔۔۔کام کی بات کریں۔۔۔ ادینہ نے جلد از جلد واپس جانا چاہتی تھی۔۔۔۔ اور پھر سفیان تو تھا ہی مشکوک بدنام ۔۔۔۔

سفیان کو ادینہ کی سرد مہری نے کافی طیش دلایا ۔۔۔ لیکن اپنے غصےکو کنٹرول کیا۔۔

خالا کی تو ڈیتھ ہوگئی ۔۔۔ اور امی نے اس سے ہماری شادی کی بات بھی کی تھی۔۔۔ وہ راضی تھی۔۔۔ تم ایک ہفتہ کا ٹائم لے لو۔۔۔ اگر کوئی تیاری وغیرہ کرنی ہع تو ۔۔۔۔ پھر سادگی سے نکاح اور رُخصتی کردیں گے ۔۔۔ سفیان نے کافی عجلت میں دو ٹوک بات کی۔۔۔

مجھ سے پوچھے بغیر تم نے کیسے میری لائف کا فیصلہ منٹوں میں کرلیا ۔۔۔ ادینہ کو اس کا تحکمانہ انداز کافی ناگوار گزرا ۔۔اور پھٹ پڑی۔۔

تو تمہیں کیا اعتراض ہے ۔۔ شادی تو مجھ سے ہی کرنی ہے نا۔۔۔ جلد یا بدیر۔۔۔ تو اب کیوں نہیں ۔۔۔۔ سفیان آج اپنا پورا مائینڈ بنا کر آیا تھا۔۔۔۔

تم نے یہ خوش فہمی پالی کیسے کہ میں تم سے شادی کروں گی ۔۔ تمہاری بارے میں سب کچھ جانتی ہوں میں۔۔۔ تم جن غیر قانونی کاموں میں ملوث ہو نہ۔۔سب ۔۔۔اور تمہیں اب بھی لگتا ہے کہ میں تم جیسے آوارہ لفنگے انسان سے شادی کے لئے راضی ہوجاوں گی۔۔۔۔۔ میں آج یہ رشتہ یہی پر ختم کر کے جارہی ہوں۔۔۔ آئیندہ میرے بارے میں سوچنا بھی مت ۔۔۔ یہ کہہ کر ادینہ نے پرس اٹھایا اور جانے لگی۔۔۔۔

سفیان نے ہذیانی انداز میں اس کو کلائی سے پکڑا اور اسکو اپنی طرف گھما کر ایک زوردار چھانٹا رسید کیا۔۔۔

تم شرافت کی زبان نہیں سمجھتی نہ۔۔۔۔ اگر تم انکار کرو گی تو میں زبردستی بھی تمہیں اپنا سکتا ہو۔۔۔ آگے پیچھے کون ہے تمہارے جو پوچھے ۔۔۔ جیو کا مرو ۔۔۔۔

ادینہ درد سے بلبلا اٹھی ۔۔۔ ہونٹ پھٹ گیا اور خون کے چند قطرے ٹپک پڑے۔۔۔۔ اشکوں کا سیلاب آنکھوں سے جاری ہوگیا۔۔ اور اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی لیکن وہ ایک مظبوط مرد تھا۔۔۔ اتنا آسان نہیں تھا اس کی فولادی گرفت سے نکلنا ۔۔۔۔

تمہیں کیا لگا تم مجھے ٹھکرا کر چلی جاؤگی اور میں تمہیں اتنی آسانی سے جانے دوں گا۔۔

ادینہ نے مدد طلب نظروں سے ارد گرد دیکھا تو دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجی ۔۔۔۔تھوگ نگلتے آگے پیچھے دیکھا۔۔۔۔۔ ارد گرد کوئی نہیں تھا ۔۔ اس نے بے یقینی سے سفیان کی طرف دیکھا تو اسکے چہرے پر شیطانیت بھری مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔

سفیان نے پہلے سے بندوبست کر رکھا تھا۔۔۔۔اس کو پتہ تھا ادینہ باہر ملنے پر راضی نہیں ہوگی اس لئے اس نے اپنے دوست کو اعتماد میں لے کراس کا ریسٹورنٹ خالی کر رکھا تھا۔۔

مجھے تمہاری پل پل کی خبر تھی۔۔۔کافی بڑے بڑے لوگوں کے ساتھ تم نے غلط مراسم قائم کرکے اپنا من بہلاتی رہی ہو ۔۔۔ پورا محلہ گواہ ہے ۔۔۔ کہ کون کون سے لوگوں کو تم گھر بلاتی ہوں۔۔۔۔

تھوڑا موقع مجھے بھی دو اپنی خدمت کرنے کا۔۔ بیلیو می اتنا خوش کردوں گا۔۔۔ کہ تم خود شادی کے لیے رضامند ہو جاوگی۔۔۔ ورنہ میں تمھیں کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔۔

سفیان اپنے منہ سے غلاظت اگل رہا تھا ۔۔۔

ادینہ نے اس کے منہ پر تھوک دیا ۔۔۔

سفیان کے آنکھوں سے ہوس ٹپک رہی تھی ۔۔ پردے کے پیچھے ایک سٹور روم کا دروازہ تھا اس نے ادینہ کو کھینچ کر سٹور روم میں دھکیل دیا ۔۔۔

ادینہ تڑپنے لگی ۔۔۔ اسکی منتیں کرنے لگی ۔۔ اس کے سامنے گڑگڑانے لگی۔۔۔ اپنے آپ کو اس درندے کے چنگل سے آزاد کرنے کی سعی کر رہی تھی ۔۔مگر اس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔۔۔ایک سائیڈ کندھے سے اسکا عبایا کھینچ کر پھاڑ دیا۔۔۔

ویسے تم میں اتنا کچھ خاص نہیں ہے کہ تم اتنا بھاؤ کھا رہی ہو ۔۔ بس سانولی سی ہو ۔۔۔ میں تمہارے اس دو ٹکے کے وجود سے خود اپنی ذات کی توہین نہیں کر سکتا ۔۔۔ ہر رات ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت لڑکی میرے ںیڈروم کی زینت بنتی ہے ۔۔۔ اب یہ تو تم جانتی ہو تو کیا چھپانا۔۔۔۔مگر تم نے میری غیرت کو للکارا ہے نہ ۔۔۔۔تو تمہیں اس قابل ہی نہیں چھوڑوں گا کہ تم پھر کبھی سر اٹھا کر جی سکو۔۔۔۔

ادینہ اللّٰہ سے موت مانگنے لگی ۔۔۔مگر اپنی عزت تار تار ہوتے نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔۔

***********