Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282 Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 21)

68.3K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 21)

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan

ادینہ کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا مشکل لگ رہا تھا۔۔۔ وہ دھت سے صوفے پر گر گئی ۔۔۔۔جبکہ صارم اور حنا فاروقی ہنوز خاموشی سے کھڑے رہے ۔۔۔۔ پھر کچھ توقف کے بعد مضطرب پریشان اور بے بس نظریں اٹھا کر دیکھنے لگی تو صارم اور حنا فاروقی کے چہروں پر گہری تفکر اور سنجیدگی کی لکیریں واضح تھی ۔۔۔

صارم کی آنکھیں لہو رنگ ہورہی تھی ۔۔۔۔ وہی بے اعتنائی اب اس کی آنکھوں میں نظر آرہی تھی جو تھوڑی دیر پہلے ادینہ کی نظروں میں تھی ۔۔۔ ادینہ کا دل بہت ڈوب کر ابھرا تھا ۔۔۔کچھ دیر قبل صارم کا بولا ہوا فقرہ سماعت میں گونجا۔۔۔ جب وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر کتنے مان سے کتنی منت سے اسے خود پر یقین دلانے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔ لیکن ایک لمحے کیلئے اس کا یقین ڈگمگایا تھا ۔۔۔۔ ہوتا بھی کیوں نہیں اگر وہ شوہر تھا تو دوسری طرف خون کا رشتہ اسکا اپنا بھائی تھا ۔۔۔ وہ متذبذب بیٹھی تھی ۔۔۔نہ صارم نے اپنی جگہ سے حرکت کی نا حنا فاروقی نے اور نہ ادینہ ۔۔۔

وہ بمشکل ہمت کرکے اٹھی ۔۔۔ صارم کی نظروں میں زمانے بھر کی اجنبیت اور رکھائی صاف نظر آرہی تھی ۔۔۔۔۔ وہ صارم کی طرف قدم بڑھانے والی تھی کہ صارم نے رخ دوسری طرف موڑ لیا ۔۔۔۔ اور دو دو سیڑھیاں پھلانگتا اپنے روم میں چلا گیا۔۔۔ اور دھماکے کے ساتھ دروازہ بند ہونے کی آواز آئی تو ادینہ اپنی جگہ پر اچھلی ۔۔۔ اسے احساس ہوا کہ صارم کتنا ہرٹ ہے۔۔۔۔ آنسو متواتر اس کی آنکھوں سے گر رہے تھے۔۔۔

ادینہ صارم نے تم پر اندھا اعتماد کیا تھا ۔۔۔۔اس نے کبھی اپنی مام کے بعد کسی دوسری عورت پر یقین نہیں کیا تھا ۔۔۔ تم نے اس کی آنا عزت نفس اور خودداری کو ٹھیس پہنچایا ہے ۔۔۔ بہت گہرا رشتہ تھا تم دونوں کی درمیان جو تم نے بے مول کردیا ۔۔۔۔ وہ تمہیں کچھ بولے گا نہیں ۔۔۔ وہ ایسا ہی ہے لیکن اپنے آپ کو تکلیف دے گا۔۔۔ اور اس کی بے رخی تم سہہ نہیں پاوگی میری طرح ۔۔۔ ادینہ دم سادھے کھڑی تھی ۔۔۔

آپ صارم ک ک کی۔۔۔۔

بھابھی ہوں ۔۔۔۔ حنا فاروقی نے ادھورا فقرا مکمل کیا۔۔۔ نا تم نے کبھی پوچھا تھا نا ہی صارم نے بتانا مناسب سمجھا ۔۔۔ اس کا خیال تھا کہ تم نے اسے اسکی تمام مجبوریوں سمیت قبول کیا ہے اور یہ بات اسے ساتویں آسمان پر پہنچا چکی تھی ۔۔۔ بات صرف قبول کرنے کی نہیں تھی ۔۔۔ تمہیں صارم پر بھروسہ کرنا چاہیے تھا ۔۔۔

آپ کے ہسبنڈ ؟؟؟ ادینہ کی زبان تالو سے چپک گئی ۔۔۔۔

صارم بتا دےگا ۔۔۔۔ حنا فاروقی نے ہری جھنڈی دکھا دی ۔۔۔ وہ بھی بہت ہرٹ ہوئی تھی ۔۔۔

اب جاکر دل و جان سے اسکو منانے کی کوشش کرو ۔۔ اعتبار اور یقین کا ڈور اس بار مضبوطی سے تھام لو چاہے مقابل تمہارے خون کا رشتہ ہی کیوں نا ہو ۔۔۔شوہر کا درجہ بھی کہیں بہت اوپر ہوتا ہے ۔۔۔ منانا بہت مشکل ہوگا لیکن ناممکن نہیں ۔۔۔

ادینہ نے ندامت سے سر جھکا لیا ۔۔۔ اگر تم چاہتی ہو تو اپنی بیٹی کی مدد بھی لے سکتی ہو۔۔۔ ابھی تو وہ سو رہی ہے ۔۔ اب جاکر دیکھو صارم کو ۔۔۔

حنا فاروقی نے اس کی مشکل آسان کردی۔۔۔

پہلی مرتبہ ادینہ کے لبوں پر مسکان ائی ۔۔۔

میں آپکو کیا کہہ کر بلاؤ ۔۔۔ ادینہ نے معصومیت سے پوچھا۔۔۔

بھابھی بولا کرو ۔۔۔ صارم بھی بولتا تھا مگر ۔۔۔۔

چلو تم دوسری کافی بنا کر لے جاؤ اس کے لئے۔۔۔ یہ ٹھنڈی ہوگئی ہیں ۔۔۔

اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔

کافی بنا کر وہ اپنے روم کی طرف بڑھنے لگی ۔۔ ایک انجانی خوشی بھی ہو رہی تھی کہ صارم صرف اسی کا تھا ۔۔۔ اس کی تمام چاہتوں کا اکلوتا وارث ۔۔۔ لیکن ڈر بھی رہی تھی۔۔۔ وہ تو ویسے بھی بہت کم بولتا تھا اور اب تو شائید دیکھنےکا رودار بھی نہ ہو ۔۔۔ ۔وہ اندر ہی اندر احساس جرم کا شکار تھی ۔۔۔۔

دروازہ آہستہ سے کھول کر اندر آگئی تو صارم روم میں نہیں تھا ۔۔۔۔ اور واشروم سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی ۔۔۔

اس نے کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور خود صارم کے باہر نکلنے کا ویٹ کرنے لگی ۔۔۔

واشروم کا دروازہ دھڑ سے کھلا تو صارم گردن میں ٹاول ڈالے باہر آیا ۔۔۔ سامنے ادینہ کو کڑی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے ضبط سے آنکھیں بند کرکے ٹاول سٹینڈ پر لٹکایا اور مرر کے سامنے کھڑے ہوکر بال بنانے لگا ۔۔۔

صارم کی شعلہ بار نگاہوں سے ادینہ کا رنگ ایک دم فق ہو گیا۔۔۔ اور جھرجھری سی لی ۔۔۔

آپکے لئے ک۔۔ک۔۔کافی بنا کر۔ر۔ر لائی ہوں۔۔۔ ادینہ نے ہکلا کر کہا ۔۔۔

صارم نے کپ پر نظر ڈالنا بھی مناسب نہیں سمجھا اور فون اٹھا کر گیلری میں کھڑے ہوکر کال ملائی ۔۔۔ ادینہ اس کے پیچھے آگئی ۔۔۔

ہیلو ارسلان ۔۔۔۔۔ سوری یار ہم رات ڈنر ۔۔۔۔۔ ابھی بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ ادینہ نے اس کے ہاتھ سے موبائل فون چھین لیا ۔۔۔ اور جلدی سے کان سے لگایا ۔۔۔۔ ارسلان بھائی ہم رات کو ڈنر پر آئیں گے ۔۔۔ تو ہماری اچھی سی تواضع کیجئے گا۔۔ ورنہ میرے ہسبنڈ نے آپ کا قیمہ بنانا ہے ۔۔۔ لہجے کو نارمل رکھ کر اس نے بات کمپلیٹ کرکے کال کاٹ دی ۔۔۔

کیا بدتمیزی ہے یہ ۔۔۔ صارم نے اس کے ہاتھ سے فون لیکر غصے سے جھڑک دیا۔۔۔

میں نے کیا کیا ہے۔۔۔۔؟؟ ادینہ نے قدرے جھجک کر کہا۔۔۔

اوہ رئیلی۔۔۔ واقعی تم نہیں جانتی کہ تم نے کیا کیا ہے ؟؟ میرے اعتماد کا قتل کیا ہے تم نے ۔۔۔ مگر تم نہیں سمجھو گی ۔۔۔

سر جھٹک کر وہ روم سے باہر نکلنے لگا کہ ادینہ نے اسکا بازو پکڑ کر اسے روکا ۔۔۔

آئی ایم سوری ۔۔۔۔ مجھے معاف کردو پلیز ۔۔۔۔

آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو لڑیوں کی شکل میں گرنے لگے ۔۔۔۔ صارم نے جلدی سے نظریں چرائی ۔۔۔ یہ آنکھیں اس کی کمزوری تھی۔۔۔ اور اس وقت وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتا ۔۔۔ وہ ادینہ کو احساس دلانا چاہتا تھا کہ وہ آئیندہ کے لئے محتاط رہے ۔۔۔ ہر رشتے کا اپنا الگ مقام اور حیثیت ہوتی ہے ۔۔۔ اور ادینہ کو بس یہی فرق سمجھانا تھا ۔۔۔۔

سوری بہت چھوٹا لفظ ہے ادینہ ۔۔۔ تم نے میرے دل کو بے دردی سے کچلا ہے ۔۔۔ لب بھینچے اس نے ذرا درشتی سے کہا ۔۔۔ ادینہ کے چہرے پر ایک تاریک سایہ لہرایا۔۔۔

اور اپنا بازو اس کے ہاتھ سے نکال کر بغیر کافی پئے چلا گیا ۔۔۔۔

ادینہ کا رنگ ماند پڑ گیا ۔۔۔۔ انگلی کی نوک سے آنکھ کا بھیگا گوشہ صاف کیا اور کافی کا کپ اٹھا کر باہر آگئی تو صارم کہیں موجود نہیں تھا ۔۔۔اس نے کپ کچن میں رکھا اور باہر ہال میں آکر بیٹھ گئی ۔۔۔ حنا فاروقی حورم کو گود میں اٹھائی کمرے سے نکلی ۔۔۔۔ تو ادینہ کو دیکھ کر اس کی طرف آگئی ۔۔۔

مما۔۔۔۔ حورم نے ادینہ کو دیکھ کر ہاتھ آگے کئے تو ادینہ نے اس کو گود میں بٹھایا ۔۔۔۔

کیا ہوا ؟؟؟ بات نہیں بنی۔۔۔۔؟؟؟ حنا نے اسکے چہرے پر چھائی تشویش نوٹ کی ۔۔۔۔

نہیں بھابھی ۔۔۔۔ میرے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے ۔۔۔ میں نے ان کا یقین کیوں نہیں کیا۔۔۔ وہ رکھائی سے بول کر خود کو دوش دینے لگی ۔۔۔

سب ٹھیک ہو جائے گا•••اتنی جلدی ہار مان گئی۔۔۔ صارم کو سب سے ذیادہ دکھ اعتبار نا کرنے پر ملتا ہے اور یہ بہت جلد تم سمجھ جاؤگی کہ میرے ساتھ وہ ایسا اجنبیوں والا رویہ کیوں اپناتا ہے ۔۔۔ حنا فاروقی نے اسے حوصلہ دیا ۔۔۔۔

اور چلو اپنے لئے کوئی اچھا سا ڈریس تیار کرو شام کو دعوت پہ جانا ہے ۔۔۔۔ صارم کہہ کر گیا ہے ۔۔۔

سب انوائیڈ ہیں ۔۔۔ اور اچھے سے تیار ہونا۔۔۔۔ تاکہ شوہر کی نظر بار بار بھٹک کر تم پر ائے ۔۔۔

ایسے کیسے ۔۔۔۔ اتنا تو غصہ ہے وہ ۔۔۔ دیکھنے سے مکمل سے گریزاں ہوگا ۔۔۔۔ اتنا روڈ پہلے کبھی نہیں دیکھا ۔۔۔۔ ادینہ کا منہ بن گیا ۔۔۔

چلو میں تمہارا ڈریس سلیکٹ کرنے میں ہیلف کردوں۔۔۔۔

وہ حورم کو اس طرح گود میں اٹھائے اوپر اگئی۔۔۔۔

وہ ایک ایک سوٹ باہر نکال کر حنا فاروقی کو دکھا رہی تھی۔۔۔ سب تقریباً پستہ کلر کے کمبینیشن میں تھے ۔۔۔۔ پھر ایک سوٹ پر دونوں متفق ہوگئے ۔۔۔۔ وہ پستہ کلر نیٹ کا شارٹ فراک تھا ۔۔۔۔ جس پر وائیٹ موتیوں کا کام تھا۔۔۔ اور اس کے ساتھ وائیٹ نیٹ کا دوپٹہ تھا جس کے بارڈرز پر پستہ کلر کے سٹونز لگے تھے ۔۔۔

چلو اب تم اپنی تیاری شروع کرو ۔۔۔ میں بھی حورم کو تمہاری طرح سیم ڈریس پہنانا ہے ۔۔۔

رئیلی ۔۔۔۔ ادینہ تعجب سے پوچھنے لگی ۔۔۔۔

ہاں۔۔۔۔ جب ہم تمہاری شادی کے شاپنگ کے لئے گئے تھے تب حورم نے اصرار کیا تھا کہ اسے اپنی مما کیساتھ میچنگ ڈریسنگ کرنی ہے مگر شادی اور ولیمہ کے ڈریس کے ساتھ نہیں ملا پھر اسی سوٹ کے ساتھ بے بی سوٹ مل گیا ۔۔۔۔ حنا فاروقی حورم کو لیکر چلی گئی ۔۔۔۔۔۔

••••••••••••••••••

یار بولو بھی ہوا کیا ہے ۔۔۔ اب تو مجھے سچ میں ٹینشن ہونے لگی ہے ۔۔۔ وہ جب سے آیا تھا ایسے ہی چپ چاپ سوچوں میں گم تھا ۔۔۔۔۔

ادینہ سے تلخ کلامی ہوئی ہے کیا ۔۔۔ یا اس کا وہ کھوتا بھائی آیا تھا ۔۔۔۔ کچھ تو بولو ۔۔۔ میرا صبر کیوں آزما رہا ہے ۔۔۔ اسفند نے اسکے شانے کو جھنجھوڑا ۔۔۔۔

اس نے آنکھیں اوپر اٹھائی تو اس میں وحشت و ویرانی چھائی ہوئی تھی ۔۔۔

وہ مجھ سے پیار نہیں کرتی ۔۔۔ نہ ہی مجھ پر یقین کرتی ہے ۔۔۔۔ بھائی کا ساتھ پا کر مجھے تو کنارے سے ہی لگا دیا ۔۔۔ کیا اتنا ارزاں تھا میرا پیار ۔۔۔صارم کی حالت اس خستہ حال عمارت جیسی لگ رہی تھی جو زرا سا ہاتھ لگنے سے ٹوٹ کے بکھرے جائے گا ۔۔۔

میری طرف دیکھو ۔۔۔ اسفند نے اس کا رخ اپنی طرف موڑ لیا ۔۔ وہ تم سے پیار نہیں عشق کرتی ہے ۔۔۔۔۔ لیکن وہ بھی تو اسکا بھائی ہے نا ۔۔۔ خون کا رشتہ ہے ۔۔۔ اگر تھوڑی کمزور بھی پڑھ گئی تو اسکا یہ مطلب تھوڑی نا ہے کہ وہ تم سے پیار نہیں کرتی ۔۔۔ تم اس سے ناراض ہو ۔۔۔ بنتا ہے ۔۔۔ بات بھی نہ کرو ۔۔ لیکن خود کو اتنی اذیت کیوں دے رہے ہو ۔۔۔ چلو اٹھو گھر جاو ۔۔۔ شام کو ارسلان کی طرف بھی جانا ہے ۔۔۔ اسفند اس کے رگ رگ سے واقف تھا ۔۔۔۔ اسلئے سمجھا بجھا کر اسے حوصلہ دیا ۔۔۔۔

وہ بادل ناخواستہ اٹھا اور گھر کی طرف چل دیا۔۔۔

•••••••••••••••••••••••

وہ بہت ٹوٹا بکھرا شکستہ قدموں سے گھر میں داخل ہوا ۔۔۔ اور ڈائریکٹ اپنے روم میں چلا گیا ۔۔۔ اور بیڈ پر الٹا گر کر آنکھیں موندھ گیا۔۔۔ سر درد سے پٹا جا رہا تھا ۔۔۔۔

ادینہ چینج کرکے ڈریسنگ روم سے نکلی ۔۔۔ تو صارم کو اس طرح لیٹے دیکھ کر دل میں ہوک سی اٹھی ۔۔۔۔

صارم ۔۔۔ادینہ نے اسے ہلکا سا جھنجھوڑا ۔۔۔

صارم نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا ۔۔۔۔

صارم پلیز ۔۔۔ ایسے منہ مت پھیرو ۔۔۔ میں بیوی ہوں آپ کی ۔۔۔۔ ادینہ اس کی بے رخی سہہ نہیں سکتی تھی ۔۔۔۔

صارم کچھ نہیں بولا۔۔۔ اسی طرح لیٹا رہا۔۔۔۔

ادینہ بے دلی سے نیچے آئی۔۔۔ اور حورم کو تیار دیکھ کر ما۔شاء اللہ بولا ۔۔۔ وہ بلکل ڈول لگ رہی تھی ۔۔۔ اسے جلدی سے گود میں اٹھا کر واپس اوپر چلی گئی ۔۔۔۔

حورم کو صارم کے ساتھ بٹھایا اور خود صوفے پر جاکر بیٹھ گئی ۔۔۔۔

پاپا۔۔۔۔ حورم صارم کے اوپر چڑھ کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔

جی پاپا کی جان ۔۔۔۔ صارم سیدھا ہوکر لیٹ گیا۔۔۔ اور حورم کو اپنے اوپر گرایا ۔۔۔۔ میرا بچہ تو بہت پیارا لگ رہا ہے ۔۔۔

پاپامما بھی بہت پیاری لگ رہی ہے دیکھیں نا۔۔۔۔ میری طرح ۔۔۔۔

صارم کی نظر بے ساختہ ادینہ پر پڑی ۔۔۔۔ پستہ نیٹ کا شارٹ فراک پہنے دوپٹہ سلیقہ سے پہنے میک اپ کے نام پر صرف کاجل لگایا تھا ۔۔۔

سادگی میں بھی غضب ڈھا رہی تھی ۔۔۔ صارم نے جلدی سے نظروں کا زاویہ بدلہ ۔۔۔۔

ہاں مگر میرے بچے جیسا کوئی نہیں ۔۔۔۔

مسز فاروقی نے ناک کیا اور اندر آ گئی ۔۔۔

صارم تم تیار نہیں ہوئے ۔۔۔ مہک کی کئی دفعہ کال آئی ہے ۔۔۔۔ تم اٹھو جلدی سے فریش ہو جاو۔۔۔

جی۔۔۔۔ کہہ کر وہ کسلمندی سے اٹھا ۔۔۔۔

ادینہ ہم نیچے ویٹ کر رہے ہیں تم لوگ جلدی آجانا۔۔۔

اوکے بھابھی ۔۔۔۔

صارم نے وائٹ سادا کاٹن کا شلوار قمیض پہنا۔۔۔ جس میں اس کا قد آور پرسنالٹی اور بھی نمایاں دکھ رہی تھی ۔۔ ۔ کپ کہنیوں تک فولڈ کئے ہوئے ۔۔۔ خوبصورتی کا شاہکار ۔۔۔۔

صارم بات سنے پلیز ۔۔۔ وہ جو ادینہ کو مکمل اگنور کر کے جارہا تھا ۔۔ چلتے قدم روک دئے ۔۔۔

ادینہ سامنے آئی اور اس کے سینے سے لگ گئی۔۔۔ معاف کردو پلیز ۔۔۔

یہ تم کیا بات بات پہ میرے گلے لگ جاتی ہو ۔۔۔ صارم نے ناگواری سے اسے خود سے الگ کیا ۔۔۔۔اگر عام حالات میں وہ اس طرح کرتی تو صارم کو تپتی دھوپ میں سایے جیسا سکون ملتا ۔۔۔ مگر ایک سوری سے اسکے زخموں کو مرہم نہیں مل رہا تھا ۔۔۔۔

صارم ۔۔۔۔اپ ایسے کیوں بول رہے ہیں ۔۔۔ آنسو کا گولہ خلق میں اٹکا ۔۔۔ پنجوں کے بل تھوڑا سا اوپر اٹھ کر اس نے صارم کے رخسار پر اپنے لب رکھے ۔۔۔۔

جبکہ صارم بغیر کسی ردعمل کے یکسر نظر انداز کر کے نکل گیا ۔۔۔۔

ادینہ نے خفت سے آنکھیں میچ کرکے خود کو کمپوز کیا اور اس کے بعد نکلی ۔۔۔۔

حنا فاروقی اور بچے گاڑی میں بیٹھے ہوئے تھے ۔۔۔ صارم نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی ۔۔۔ اور ادینہ کا ویٹ کرنے لگا ۔۔۔ وہ خود بھی اسے ایسے دھتکار کر تکلیف میں تھا ۔۔۔

تھوڑی دیر بعد وہ بھی بجھی بجھی سی آکر فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی ۔۔۔۔

پورے راستے بس حورم ہی نے بول بول کر ماحول میں چھایا تناؤ کم کیا ۔۔۔۔ مگر ادینہ صارم کی بے رخی افورڈ نہیں کر سکتی تھیں۔۔۔وہ بار بار صارم کی طرف دیکھتی جو بلکل اردگرد سے بے گانہ بےپروا سا ڈرائیونگ کر رہا تھا ۔۔۔

ارسلان کے گھر پورچ میں گاڑی رک گئی تو سب نکل گئے ۔۔۔

صارم ڈرائیونگ سیٹ سے نکل کر اس کی طرف آیا اور دروازہ کھول کر اسے باہر آنے کا اشارہ کیا۔۔۔

میں اپنے رشتے کا مذاق بنانا نہیں چاہتا ۔۔۔ اس لئے نارملی سب سے بیہیو کرو ۔۔۔ صارم نے تنبیہ کی ۔۔۔۔

دعوت کا اہتمام بڑے سے لان میں کیا گیا تھا۔۔۔ کافی سارے لوگوں کو بلایا گیا تھا ۔۔۔ ارسلان کی فیملی اس سے بہت اپنائیت سے ملی ۔۔۔ ارسلان کی امی ایک شفیق خاتون تھی ۔۔۔ ادینہ کو بلکل اپنی امی جیسی لگی ۔۔۔ اور دیر تک اسکے گلے لگی تھی ۔۔۔

وہ سب دائرے کی شکل میں چئیرز پر بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے ۔۔۔۔

ادینہ نے موبائل نکال کر اسفند کو ٹیکسٹ کیا جو اس کے سامنے بیٹھا تھا ۔۔۔ مگر اتنے لوگوں کی موجودگی میں وہ اس سے بات نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔

بھائی آپ سے بات کرنی ہے اکیلے میں ۔۔۔۔

اسفند نے موبائل جیب سے نکال کر چیک کیا تو ادینہ کی جانب دیکھا ۔۔۔

ادینہ کو پتہ تھا کہ اب موقع اسفند خود اسےفراہم کردے گا ۔۔۔

تھوڑی دیر بعد اسفند اٹھا ۔۔۔ گائیز ادینہ پہلی بار آئی ہے ارسلان کے گھر میرا خیال ہے اسکو گھر دکھانا چاہیے ۔۔۔ ایک جگہ چپک کر بیٹھی ہوئی ہے۔۔۔اور آکر ادینہ کا ہاتھ پکڑا ۔۔۔

او بھائی صاحب تمہاری بیوی کو تھوڑی دیر کے لئے اغوا کر کے لے جارہا ہوں ۔۔۔ تھوڑی جدائی سہہ لو ۔۔۔

صارم کو پتہ تھا اسفند کیا کرنے والا ہے۔۔۔ اور اچھا تھا۔۔۔ وہ خود ادینہ کو کچھ بتا نہیں سکتا تھا ۔۔۔

وہ لوگ اندر کی طرف چلے گئے ۔۔۔۔

اسفند اسے ڈائریکٹ ارسلان کے روم میں لے کر آیا تھا۔۔۔

ہاں بولو۔۔۔۔۔

وہ بھائی آیا تھا ۔۔۔۔ تو صارم کے ساتھ اس کی بحث ہوگئی تھی۔۔ تو وہ مجھے اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا ۔۔۔

اور تم بھی جانا چاہ رہی تھی نا ۔۔۔ اسفند نے اس کی بات کاٹ کر طنزیہ کہا۔۔۔

ادینہ سپاٹ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔

میں جانا چاہ رہی تھی لیکن صارم کو ہمیشہ چھوڑنے کے لئے نہیں ۔۔۔ صرف اپنے بھائی کے دل میں صارم کو لے کر جو خدشات تھے اسے ختم کرنے کے لئے ۔۔۔۔ اسے صارم کیلئے آمادہ کرنے کے لئے ۔۔۔۔

اور تمہارے بھائی کے خدشات کیا تھے؟؟؟؟

ادینہ نے ایک اچٹتی نظر اس پہ ڈالی ۔۔۔

چلو میں بتاتا ہوں ۔۔۔ سچ سننے کی ہمت ہے نا۔۔۔ ادینہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔ کچھ اور بھی باقی ہے کیا ۔۔۔۔۔

تمہارا وہ کزن سفیان جس کو میں نے اچھا حاصہ دھلا کر پھر سوکھایا تھا نا اس نے اپنا منہ کھول لیا ہے ۔۔۔ اور سب سے پہلے اس نے پتہ ہے کس کا نام لیا تھا ؟؟؟ احمد کا ۔۔۔۔ مطلب اپنے خالہ زاد بھائی اور اپنے سالے کا ۔۔۔۔ دونوں ایک ہی گٹر کے گندے کیڑے ہیں ۔۔۔۔

بھائی ۔۔۔ ادینہ کو ایسا لگا جیسے کسی نے اس کے اوپر دہکتا کوئلہ انڈیلہ ہو ۔۔۔ وہ متخیر سی اسفند کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔

ہاں ۔۔ تمہارا بھائی ۔۔ جو کافی عرصہ سے تم لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر پردیس میں مزدوری کا ڈھونگ رچا رہا تھا ۔۔۔ کافی بلیک منی جمع کی ہے ۔۔۔ باقی تم جانتی ہو میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں ۔۔۔

لڑکیوں کی بیرون ملک سپلائی ۔۔۔ ڈرگز کا کاروبار ۔۔۔ پہلے لڑکی کو اپنے بیڈروم کی زینت بنا کر پھر اسے آگے بھیجتا تھا ۔۔۔ یہ حقیقت ہے تمہارے جان عزیز بھائی کی ۔۔۔۔

مگر ادینہ کی حالت تو ایسی تھی جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں ۔۔۔ زرد رنگ کپکپاتے ہاتھ پیر ۔۔۔ پوری باڈی شیورنگ کر رہی تھی ۔۔۔

جھبی تو میرے ساتھ بھی غلط ہونے چلا تھا نا۔۔۔ میں اسے وقت سوچ رہی تھی کہ ہم نے تو کھبی کسی بہن بیٹی کا برا نہیں چاہا تو میرے ساتھ ایسا کیوں ہورہا ہے ۔۔۔۔ مکافات عمل تھا وہ ۔۔۔ اپنے ہی کزن کے ہاتھوں بےعزت ہونے چلی تھی۔۔۔۔ مگر اللّٰہ نے عزت رکھ لی ۔۔۔۔

اور صارم تم سے یہ سب چھپانا چاہتا تھا ۔۔

ادینہ کا تنفس بلکل تھم سا گیا تھا۔۔ وہ خق دق بیٹھی ہونٹ چبا رہی تھی ۔۔۔۔

اسفند اس کے قریب ایا۔۔۔

ادینہ ۔۔۔۔۔ار یو اوکے۔۔۔۔

ادینہ نے سر اوپر اٹھایا تو آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب رواں دواں تھا ۔۔

ایک بچا کچا رشتہ تھا وہ بھی غلاظت کا ڈھیر نکلا ۔۔۔۔

اسفند تاسف سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ اس اس لڑکی کیلئے اس کے دل میں ہمدردی تھی ۔۔۔ جو اس کے لئے چھوٹی بہن کا درجہ رکھتی تھی ۔۔۔

اسفند بھائی وہ صارم ۔۔۔

وہ ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔ شاک لگا ہے اسے ۔۔۔ جب تم نے اسکا یقین نہیں کیا تھا ۔۔۔ اس کا مان ٹوٹا ہے ۔۔۔ اور یہی وہ چیز ہے جس سے میرے دوست کو نفرت ہے ۔۔۔۔

میں نے معافی بھی مانگی تھی ۔۔۔ انسو گلے میں پھندا ڈال رہے تھے ۔۔۔

چلو اب جاکر منہ دھو لو ۔۔۔ رو رو کر پورا خلیہ بگاڑلیا اپنا ۔۔۔ پوری بوتنی لگ رہی ہو ۔۔۔۔ ویسے بھی شوہر نامدار ناراض ہے اس حال میں دیکھ کر دوسری نظر بھی نہیں ڈالے گا ۔۔۔

یہ جوک تھا ۔۔۔ ادینہ نے خفگی سے منہ بنایا ۔۔

یس ۔۔۔ چلو کافی دیر ہوگئی ۔۔۔ تم واش روم جاکر منہ دھو لو ۔۔۔

پھر آجانا میں جا رہا ہوں ۔۔۔

اس نے چہرے پر پانی کی چھینٹے مارے ۔۔۔ اور باہر نکلی۔۔۔ تو کھانا لگ رہا تھا ۔۔۔ صارم کے ساتھ اس کے لئے جگہ حالی چھوڑ دی گئی تھی ۔۔۔ صارم کی وجہ سے اسے کافی پروٹوکول مل رہا تھا ۔۔۔۔

وہ صارم کے ساتھ بیٹھ گئی تو اس کی طرف دیکھا۔۔۔ صارم سے نظریں ملی ۔۔۔ پھر جلدی جھکا لی ۔۔۔

روتی ہوئی سرخ آنکھیں ۔۔۔ دھلا ہوا صاف چہرہ ۔۔۔

ادینہ شروع کرو نا پھر جاکر آرام سے صارم بھائی کو زبر زیر خفظ کرلینا تمہارا ہی ہے اب ۔۔۔۔ مہک نے اسے صارم کو تکتے پاکر ٹانٹ کیا ۔۔۔

صارم اس کے سامنے چیزیں رکھ رہا تھا ۔۔۔ وہ تو ویسے بھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھاتی تھی اب تو بھوک جیسے اڑ گئی تھی ۔۔۔ مگر صارم جو بھی ڈش اسے پکڑواتا وہ مجبوراً کھا لیتی ۔۔۔ مطلب اسے فکر ہے وہ غافل نہیں ہے ۔۔۔ ادینہ کو تھوڑا سا سکون ملا ۔۔۔ اور اچھا خاصا ضرورت سے زیادہ کھا لیا ۔۔۔۔

کھانےکے بعد کافی اور چائے کا دور شروع ہوا ۔۔۔ مہک ادینہ کے ساتھ بیٹی گپ شپ لگا رہی تھی لیکن اس کا دھیان صارم کی طرف تھا ۔۔۔

تم نے چائے یا کافی نہیں لی۔۔۔ ارسلان نے اسے دیکھ کر پوچھا ۔۔۔

نہیں بھائی میں نہیں پیتی کھانے کے بعد ۔۔۔ نا چائے نا کافی ۔۔۔ ادینہ نے سرسری سا جواب دیا۔۔۔

عادت ڈال دو کافی پینے کی ۔۔۔ میرے دوست نے اکیلے بہت پی لی اب اسے کمپنی دینے تم آگئی ہو ۔۔۔

ادینہ نے اپنے دل میں بسا کرب چھپا کر مسکرا کر سر ہلایا ۔۔۔

کیوں نا آج شروعات یہاں سے ہوجائیے ۔۔۔ اسفند نے موقع کا فایدہ اٹھا کر تیر پھینکا ۔۔۔

مطلب ۔۔۔ صارم نے سوالیہ نگاہوں سے اسفند کو دیکھا ۔۔۔

مطلب یہ ڈیر برو ۔۔۔ کہ اپنی کافی ادینہ کے ساتھ شئیر کرو ۔۔۔ اس بار ارسلان میدان میں اترا ۔۔۔ تو ہر طرف سے ہوٹنگ شروع ہوگئی ۔۔۔ سب صارم کے سنجیدہ مزاج سے واقف تھے ۔۔۔

صارم نے اپنے دماغ میں اٹھتے اشتعال پر قابو پاکر غصے سے ارسلان اور اسفند کی طرف دیکھا ۔۔۔

کم ان برو ۔۔۔ اسفند نے لقمہ دیا ۔۔۔

صارم نے ہاتھ میں پکڑے کپ کو دیکھا جس سے بمشکل اس نے دو ہی گھونٹ کافی پئی تھی ۔۔۔ ادینہ کو دے دی ۔۔۔

ادینہ نے لرزتے ہاتھوں سے کپ تھام لیا ۔۔۔ اور منہ سے لگایا ۔۔۔۔

ایک دو تین۔۔ ۔۔۔ بس بس اسفند تو جیسے گھونٹ گن رہا تھا۔۔۔

صارم نے ادینہ کے ہاتھ سے کپ لے کر ایک ہی سانس میں کپ خالی کرکے ٹیبل پر رکھ دیا ۔۔۔

اب دفعہ ہوجاو ۔۔۔ اپنی طرح ڈھیٹ حرکتیں مجھ سے بھی کروارہے ہو ۔۔۔۔

اسفند اور ارسلان اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ کر ہنس ہنس کر لوٹ پھوٹ ہو رہے تھے ۔۔۔

صارم کے چہرے سے جیسے لہو چھلک رہا تھا۔۔۔

سب سے رخصت لے کر وہ لوگ گھر کے لئے نکل گئے۔۔۔۔

••••••••••••••••••••••••••

حورم راستے میں ہی ادینہ کی گود میں سو گئی تھی ۔۔۔ اس کو کمرے میں لٹا کر اس کے ساتھ ہی وہ لیٹ گئی۔۔۔ اس میں ہمت نہیں تھی صارم کو فیس کرنے کی ۔۔۔

ادینہ تم ابھی تک یہاں ہو ۔۔۔ اپنے روم میں جاو ۔۔۔ حنا فاروقی نے اسے ڈانٹا ۔۔

بھابھی صارم بات ہی نہیں کرتے ۔۔۔ تو کیا کرونگی ۔۔۔ آواز میں بے بسی تھی ۔۔۔

نا کریں بات ۔۔۔ یہاں سو کر اس کے غصے اور ناراضگی کو اور بھی ہوا ملے گی ۔۔۔ چلو اٹھو ۔۔۔

جی ۔۔۔۔۔

دبے قدموں سے روم میں آئی تو صارم چینج کرکے لیٹا تھا ۔۔۔

اس نے بھی چینج کرکے وضو کیا اور نماز پڑھی ۔۔۔ دل پر اتنا بوجھ تھا کہ دعا بھی نہیں مانگی ۔۔۔

اپنی جگہ آکر کروٹ لے کر لیٹ گئی ۔۔۔ تو صارم نے لائیٹس آف کرکے آنکھوں پر ہاتھ رکھا ۔۔۔

صارم ۔۔۔۔ ادینہ نے اسکی آنکھوں سے ہاتھ ہٹانا چاہا ۔۔۔۔

سو جاؤ ادینہ ۔۔۔

آپ پلیز مجھے ڈانٹے ۔۔۔ کچھ بھی بولے ۔۔ ۔۔ مارے ۔۔۔ مگر آپکی خاموشی اور بے رخی چھب رہی ہے مجھے ۔۔۔

آپ اتنے سنگدل کیسے ہوسکتے ہیں ۔۔۔۔

میں ایسا ہی تھا ۔۔۔ ایک لفظ جواب آیا ۔۔۔

ادینہ سسکیوں سے رو رہی تھی۔۔۔۔

باہر جاکر دل کھول کر رولو ۔۔ ۔۔ مجھے نیند آرہی ہے ۔۔۔ ڈسٹرب مت کرو ۔۔۔ آنکھوں کے سرخ ڈورے شدید غصے کا پتہ دے رہے تھے ۔۔۔

یہ تیور اور لہجہ تو صارم کا نہیں تھا ۔۔ وہ جتنا جان گئی تھی صارم ایک بہت کاینڈ ہرٹڈ انسان تھے ۔۔۔ ادینہ نے مندی مندی آنکھوں سے اسے دیکھا اور روم سے نکل گئی ۔۔۔

کافی دیر گزرنے کے بعد بھی وہ روم میں نہیں آئی تو صارم کو فکر لاحق ہوگئی ۔۔۔ وہ نیچے آیا تو وہ حورم کے ساتھ سو رہی تھی ۔۔۔ دونوں پر کمبل ٹھیک کرکے واپس اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔

•••••••••••••