Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282 Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 4)
No Download Link
Rate this Novel
Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 4)
Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan
وہ کافی مشتعل اندر میں داخل ہوا۔۔.. ارسلان کو دور سے کس انہونی کا احساس ہوا۔۔۔۔قریب آنے پر پوچھ لیا۔۔۔
کیا ہوا ہیرو ۔۔۔۔ کیوں چہرے سے لالی ٹپک رہی ہے۔۔۔اور آنکھیں لال انگارہ ۔۔۔
ابھی دو دو انچ کی پاپا کی پریوں سے واسطہ پڑا ہے ۔۔۔ اور ہماری گاڑی کو بڑی نزاکت اور بڑے پیار سے جہنم رسید کیا ہے ۔۔۔ اسفند کا غصہ سوا نیزے پر تھا۔۔۔
اوپر سے اتنا ایٹیٹیود دکھا رہی تھی ۔۔۔جیسے کسی پریزیڈنٹ کی اولاد ہو۔۔۔ بددماغ۔۔ ایک نمبر کی چڑیل۔۔ میسنی کہی کی۔۔ اسفند کی گل افشانی عروج تھی۔۔۔
صارم نے اسے تیز گھوری سے نوازا ۔۔۔اسے اسفند کے اس طرح زنانہ انداز ولہجہ سے خاصہ چڑ تھا۔۔۔
میں نہیں ڈرتا تمہاری ان گھوریوں سے ۔۔۔ بیوی نہیں ہوں تمہاری۔۔۔۔ اپنی گاڑی کا حال دیکھ لو۔۔۔۔ بے چاری کو ہاسپٹل پہنچانے کے لائق چھوڑا ہے۔۔۔
ہاں تو صارم کی گاڑی ہے نہ جب اسے فرق نہیں پڑتا تو تمہیں کیوں تپ چڑھی ہوئی ہے ۔۔۔ارسلان نے ٹوکا ۔۔۔
ابھی وہ پھر سے سٹارٹ ہونے والا تھا کہ صارم نے آگے کی طرف قدم بڑھا دیئے ۔۔۔۔ مطلب بات ختم۔۔۔۔
شوز وغیرہ لے کر وہ واپسی کرنے لگے تھے کہ گلاس ڈور کی دوسری طرف لیڈیز کارنر میں صارم کو کسی لڑکی پر ادینہ کا گمان ہوا ۔۔۔۔
ارسلان اور اسفند باتیں کرتے دور نکل گئے اور وہ دروازہ کھول کر اندر جانے لگا۔۔۔بلاشبہ وہ ادینہ ہی تھی۔۔ معمول کے مطابق ڈارک بلیو کلر کا عبایا پہنے۔۔۔۔ ۔ایک سوٹ ہاتھ میں پکڑے ستائش سے اسکو الٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھی ۔۔۔ پھر پرائس ٹیگ کو دیکھا۔۔ تو آنکھوں میں تھوڑی دیر پہلے ستائش والے جلتے دئیے ایک دم بجھ گیے۔۔۔ چہرہ جیسے مرجھا گیا۔۔۔جلدی سے سوٹ واپس آویزاں کر کے ملیحہ کے پاس پہنچ گئی جو کب سے سیلز مین کے ساتھ بحث میں مصروف تھی ۔۔۔
ارے تم نے کچھ لیا نہیں ۔۔۔ یا کچھ پسند نہیں آیا ۔۔اس نے ادینہ کو خالی ہاتھ دیکھ کر پوچھ لیا۔۔۔
ہاں ۔۔۔ن نہیں ۔۔ وہ ابھی ہم لیٹ ہورہے ہیں نہ۔ پہلے تم شاپنگ کمپلیٹ کرو۔۔ پھر میں کسی دن امی کو ساتھ لے کر آجاوں گی ۔۔۔ اس نے نگاہیں موڑ کر اپنے چہرے پر چھائی افسردگی ملیحہ سے چھپانے کی کوشش کی ۔۔۔ لیکن کسی اور نے اسکی آنکھیں بہت گہرائی سے پڑھ لی تھی۔۔۔۔
ملیحہ نے پیمنٹ کر دی اور اسکا ہاتھ پکڑے دوسری جانب بڑھنے لگی۔۔۔
صارم خود کو ادینہ کی نظروں سے چھپانے کیلئے سائیڈ پر ہوگئا۔۔۔
وہ دونوں نکل گئے۔۔ تو صارم اسی سوٹ کے پاس آیا جو کچھ لمحے پہلے ادینہ کے ہاتھ میں تھاجو اس نے پرائس ٹیگ دیکھ کر واپس رکھا تھا۔۔۔ اس کا شک یقین میں بدل گیا وہ اٹھارہ ہزار کا سوٹ تھا۔۔۔ کچھ خاص نہیں تھا اس میں ۔۔۔اور یہ پرائس صارم جیسے بندے کے لیے کچھ بھی نہیں تھی۔۔۔ ابھی اس نے اپنے لئے ڈیڑھ لاکھ کی شاپنگ کی تھی ۔۔۔اس نے سیلز مین کو وہ سوٹ پیک کرنے کو کہا ۔۔ اور پیمنٹ کرکے واپس چلا گیا۔۔۔
اسفند اور ارسلان اس کا ویٹ کر رہے تھے ۔۔۔
صارم نے ایک نظر گاڑی کو دیکھنا تک گوارہ نہیں کیا۔۔۔ کیونکہ گاڑی کو ایک صنف نازک نے نقصان پہنچایا تھا اور یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا تھا۔۔ اسفند کو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا اگر گاڑی کوئی لڑکی ڈرائیو نہ کر رہی ہوتی ۔۔۔
***********
گھر پہنچ کر ادینہ نے سکھ کا سانس لیا ۔۔ اور شکر ادا کیا کہ وہ صحیح سلامت پہنچ گئی۔۔۔مگر دل اور دماغ پر عجیب سی کیفیت چھانے لگی تھی۔۔۔ ایک تو گاڑی کا خیال ذہن میں اٹک گیا تھا۔۔۔ کہ کتنا خرچہ آئے گا ریپئر کروانے میں۔۔۔ اور دوسرا ایک سوٹ کی طرف اس کا معصوم دل مائل ہوگیا تھا ۔۔۔ جو اس کو پہلی نظر بھایا تھا۔۔ باپ کے مرنے کے بعد یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا تھا کہ اپنی کسی پسندیدہ چیز کو اس نے چاہ کر خریدا نہیں ہو۔۔۔۔ بہت سی خواہشات کا گلا گھونٹا تھا اس نے۔۔ پھر دل میں ایک موہوم سی امید جاگی کہ سیلری مل جائے تو جا کر لے لوں گی۔۔۔
**********
وہ گھر آکر کافی تھکا ہوا تھا ۔۔ ملازمہ کو کافی کا بول کر سیدھا روم میں چلا گیا ۔۔ فریش ہوگیا تو سستی دور ہو گئی۔۔۔سامان کو اپنے کپبرڈ میں ترتیب سے رکھ کر اس نے وہ لیڈی سوٹ والا شاپر کھول کر ایک بار پھر سے چیک کیا ۔۔۔۔
ناٹ بیڈ۔۔۔ اچھا لگے گا اس پر ۔۔
وہ بیگ اٹھا کر نیچے ہال میں آیا۔۔۔ تو مسز فاروقی ہاتھ میں کافی لے کر آئی اور کپ اس کو تھمایا ۔۔۔
ہوگئی شاپنگ۔۔۔۔اس نے صارم سے پوچھا۔۔۔۔
ہاں۔۔۔۔ یک لفظی جواب ملا ۔۔۔۔
کافی پی کر کپ ٹیبل پر رکھ کر اٹھنے لگا تو ہاتھ کے اشارے سے اسکی توجہ بیگ کی جانب مبذول کرائی ۔۔۔
یہ زارش کی ٹیچر کے لئے ہے۔۔
مسز فاروقی نے اثبات میں سر ہلایا اور بیگ اٹھا کر روم میں رکھنے چلی گئی ۔۔۔
***********
بلیوٹوتھ لگائے انگلیاں لیپ ٹاپ پر بڑے مہارت سے چلاتا وہ صارم کے ساتھ بات کر رہا ہے۔۔۔
ایک فیمس انڈسٹرئیلسٹ سردار حیات خان کا کیس اس کو دیا گیا تھا ۔۔ جو پس پردہ کافی سارے اللیگل کاموں میں ملوث تھا ۔۔۔ ڈرگز کی سپلائی اپنے ملک کے ساتھ ساتھ فارن کنٹریز کو اور لڑکیوں کے اسمگلنگ کرنے والے گروہ کا سربراہ تھا۔۔ ۔
صارم میں نے مخبری کرکے سردار حیات خان کے دو تین بندوں کا سراغ لگایا ہے۔۔ وہ کب کہاں جاتے ہیں کس سے ملتے ہیں ۔۔ سب پتہ کروایا ہے۔۔ جلد ہی اس کو اٹھوا کر سچ اگلوانے کی کوشش کروں گا ۔۔ اسفند نے روانی سے اسے اپنے پلان کا بتایا۔۔۔۔
آئی ہوپ سو تمہارے ہاتھ سولڈ ثبوت لگے۔۔ بٹ مجھے نہیں لگتا کہ ان چھوٹے موٹے غنڈے ٹائپ لوگوں سے وہ اپنے سیکرٹس شئیر کرتے ہونگے ۔۔ یہ لوگ تھرڈ پرسن کے تھرو سامنے والوں سے ڈیلنگ کرتے ہیں ۔۔۔۔ نہ کبھی خود ملتے ہیں نہ بات کرتے ہیں۔۔ یہ بلیک ورلڈ کے لوگ کافی سمجھداری اور ہوشیاری کے ساتھ ہاتھ مارتے ہیں اور ثبوت ڈھونڈ کر بھی نہیں ملتے۔۔۔صارم نے اسے اپنا پوائنٹ آف ویو سمجھایا۔۔۔
تم اس تھرڈ پرسن کا کھوج لگاؤ بہت کچھ ہاتھ لگ جائے گا۔۔۔اگر پھر بھی میری ہلپ کی ضرورت ہو تو بندہ نا چیز خاضر ۔۔۔
صارم اپنے اس سنکی دوست کو بخوبی جانتا تھا جو ایک دفعہ کسی کام کرنے کی ٹھان لے تو جان بھی چلی جائیں وہ پیچھے ہٹتا نہیں ہے ۔۔
اوکے باس۔۔ اسفند نے کچھ سوچ کر کہا۔۔۔
کال آف کر کے وہ گیلری میں چلا آیا جہاں ادینہ گاڑی سے اتر کر ہال کی طرف جا رہی تھی ۔۔وہ اس لڑکی کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔ پہلی ملاقات سے ہی وہ سادہ سی معصوم لڑکی اس کے حواسوں پر چھانے لگے تھی۔۔۔ وہ اس کے لئے اور اپنے لئے کوئی ایشو کرئیٹ نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔۔
زارش اور ارمغان کو ہوم ورک کمپلیٹ کرواکر وہ حورم کو گود میں بٹھائے ٹریسنگ اور کلرنگ سکھا رہی تھی ۔۔ اور وہ سیکھ بھی رہی تھی ۔۔۔
اس کے جانے کا ٹائم ہوگیا تو اسے مسز فاروقی ہاتھ میں کوئی بیگ پکڑے روم سے باہر آتی دکھائی دی ۔۔۔
ادینہ بچوں کے ٹیسٹ رزلٹ ہماری توقع سے زیادہ اچھے آرہے ہیں ۔۔ اور اس خوشی میں یہ ہماری طرف آپکا انعام ۔۔۔ مسز فاروقی نے خوشدلی سے وہ بیگ ادینہ کو دینا چاہا۔۔۔
یہ میری ڈیوٹی ہے۔۔۔ اور اپ لوگ مجھے اس کی اچھی خاصی پیمنٹ بھی دیتے ہو۔۔ تو پھر اس تکلف کی کیا ضرورت ۔۔ ادینہ وہ بیگ لینے سے کترا رہی تھی ۔۔۔
بچے خوش تو ہم خوش۔۔ ہم پہلے بھی اس طرح اپنی پسند کے چھوٹے موٹے گفٹس بچوں کی ٹیچر کو دیتے تھے ۔۔ اور یہ صارم خود لے کر آیا تھا۔۔ اب تم رد کروگی تو ہم سب کو برا لگے گا ۔۔۔مسز فاروقی انسسٹ کرنے لگی تو ادینہ نے بادل ناخواستہ گفٹ رکھ لیا۔۔۔۔
اوپر کھڑے صارم کو پتہ تھا کہ ادینہ اتنی آسانی کے ساتھ یہ گفٹ نہیں لے گی اتنی تو خوددار تھی وہ۔۔۔ مگر وہ جانتا تھا مسز فاروقی اسےکنوینس کر ہی لے گی۔۔۔۔
ادینہ کے جانے کے تھوڑی دیر بعد وہ بھی بائیک کی کیز ہاتھ میں اٹھائے نیچے آیا ۔۔۔
میں ارسلان کی طرف جا رہا ہوں۔۔ کارڈز کی سلیکشن کرنی ہے۔۔۔ آپ بچوں کو ٹائم پر کھانا کھلا کر سلا دینا۔۔ اس نے کچن کے دروازے میں کھڑی مسز فاروقی سے کہا۔۔۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔
بائیک کو ہوا میں اڑائے وہ ارسلان کے گھر کی طرف جا رہا تھا ۔۔اسے ہر وقت گارڈز اور سرکاری گاڑی استعمال کرنے سے کوفت ہوتی تھی۔۔ اپنی گاڑی اس کی مکینک کے پاس تھی جس کو ملیحہ نے ہٹ کیا تھا۔۔۔ یہ بائیک ہی اس کی تنہائی کی ساتھی تھی۔۔۔ اور ایک خاص اٹیچمنٹ تھی اس کے ساتھ۔۔۔۔ابھی وہ یو ٹرن لے کر دوسرے روڈ پر جانے والا تھا کہ اسے سامنے سنسان روڈ پر ادینہ کی گاڑی ایک طرف کھڑی دکھائی دی۔۔۔
ڈرائیور گاڑی سے باہر حیران و پریشاں کھڑا تھا۔۔ اس سے کچھ فاصلے پر ادینہ سہمی سی کھڑی تھی ۔۔۔
وہ اس کے قریب جاکر رکا۔۔
کیا ہوا صابر چاچا ۔۔ وہ کوئی پچاس کے لگ بھگ عمر کا آدمی تھا جس کو صارم کے ڈیڈ کرنل اظہر فاروقی نے اپنے ساتھ رکھا تھا اور اس کا سب سے زیادہ قابل اعتماد بندہ تھا ۔۔۔
باپ کے مرنے کے بعد صارم نے اپنے باپ کے ساتھ اس کی دلی لگاؤ آور وابستگی کی وجہ سے اسے اپنے ساتھ رکھ لیا تھا۔۔۔ اس نے ادینہ کو مکمل طور پر نظر آنداز کر کے ڈرائیور سے پوچھا ۔۔۔
اصل میں اس کا ادینہ کو اس طرح گاڑی سے باہر نکل کر کھڑا رہنا کھٹکا تھا ۔۔۔کیا ضرورت تھی اسے باہر نکلنے کی ۔۔۔ عورتوں کے معاملے میں وہ کافی محتاط رہتا۔۔۔۔
ادینہ بلا کی قیاس شناس تھی۔۔ اس کے لہجے کی سختی اور ماتھے پر پھیلی شکنوں کا جال اس کو بہت کچھ باور کرواگیا تھا۔۔اور عجلت سے گاڑی میں بیٹھ گئی ۔۔۔ دروازہ بند ہونے پر صارم نے پیچھے دیکھا تو وہ نہیں تھی۔۔۔۔
خوبصورت مسکان لبوں پر امڈ ائی۔۔۔
ہممممم جینئیس۔ ۔۔۔۔۔
صارم بابا۔۔۔ میں نے آپکو کالز کی تھی۔۔آپ نے شائید دھیان نہیں دیا۔۔۔۔ گاڑی میں کوئی مسئلہ ہوگیا ہے ۔۔میں نے چیک کیا مگر سمجھ نہیں ارہا۔۔
ڈرائیور نے فکرمندی سے کہا۔۔۔
وہ خود گاڑی چیک کرنے لگا۔۔ کافی دیر تک تگ ودو کرنے کے بعد وہ ٹھیک کرنے میں ناکام رہا ۔۔
صابر چاچا مجھے نہیں لگتا کہ ہم سے ٹھیک ہو پائے گا ۔۔۔۔
ہاں بیٹا۔۔ بچی کو بھی دیر ہو رہی ہے ۔۔۔
کچھ سوچ کر وہ بیک ڈور پر گیا اور شیشے پر نوک کیااا۔۔۔۔
ادینہ نے شیشہ نیچے کیا۔۔۔ اور حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
اپنا سامان اٹھاو اور باہر نکلو۔۔۔۔صارم نے کہا۔۔۔
ادینہ نے اپنا پرس اور مسز فاروقی کا دیا گیا بیگ اٹھایا اور باہر نکلی ۔۔۔
جی ی۔ باہر نکل کر وہ صارم سے مخاطب ہوئی۔۔۔
گاڑی میں کوئی فالٹ آگیا ہے ۔۔ میکینک کے آنے اور ٹھیک ہونے میں وقت لگے کا۔۔۔تو۔۔۔۔۔
ڈونٹ وری ۔۔۔ میں کیب کر کے چلی جاؤں گی۔۔۔ صارم کی بات مکمل کرنے سے پہلے ہی وہ بول گئی۔۔۔۔۔
اسی لمحے صارم نے نظر اٹھا کر ادینہ کو دیکھا۔۔۔اس کی گہری سبز آنکھیں ادینہ کی براؤن آنکھوں کی گہرائی میں کھو گئ ۔۔۔۔ اسے لگا جیسے ڈوب کے ابھرا ہے۔۔۔۔نہ وہ نظر ہٹا سکا نہ ادینہ ۔۔۔۔ کئی لمحے سرک گئے۔۔۔۔۔۔
میں کیب بک کرواتا ہوں۔۔ صابر چاچا کی آواز نے ان کے سوچوں کے درمیان خلل ڈالا۔۔۔ادینہ نے بدقت نظریں چرائیں۔۔ افسسس کیا ہے یہ صارم فاروقی ۔۔۔ میں کیوں ہر بار کمزور پڑ جاتی ہوں اس کے سامنے ۔۔۔
نہیں چاچا۔۔ ویٹ ۔۔۔۔
صارم نے صابر چاچا کو کیب بک کرنے سے روکا۔ ۔۔اور ادینہ کی طرف دیکھ کر آہستہ سے پوچھا۔۔
بائیک پر بیٹھ سکتی ہو۔۔۔۔ ادینہ پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے۔۔۔۔
ج ج ج ی ی ی ۔۔۔ م م میں ں ں۔۔۔ وہ گڑبڑا کر بولی۔۔۔
آف کورس تم۔۔۔ یہاں کوئی اور ہے کیا۔۔۔۔۔ صارم نے تیوری چڑھائی ۔۔۔۔۔
مجھے ڈر لگتا ہے ۔۔۔ ادینہ کی گرفت ہینڈ بیگ پر مضبوط ہوگئ۔۔۔۔۔۔۔
کس چیز سے۔۔۔۔ ایک اور سوال۔۔۔۔۔
گرنے سے ۔۔۔ادینہ اتھل پتھل سانسوں سے بولی۔۔۔
اور تمہیں لگتا ہے میں تمہیں گرنے دوں گا۔۔۔
صارم نے آئی برو اچکا کر کہا۔۔۔
ن ن نہیں ۔۔۔ بلا ارادہ ادینہ کے منہ سے پھسلا ۔۔۔۔
صابر چاچا آپ گاڑی ٹھیک کروا کر لے جائے گھر ۔ میں اسے ڈراپ کر دوں گا ۔۔۔
صارم بائیک پر بیٹھ کر اس کا ویٹ کرنے لگا۔۔
آ بھی جاؤں اب ۔۔ پہلے سے کافی لیٹ ہو گئی ہو تم ۔۔ صارم نے اسے کشمکش میں مبتلا دیکھ کر گھورا ۔۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے پاس آکر کھڑی ہوگئی۔۔۔
کس طرح بیٹھوں میں۔۔۔ مجھے بائیک پر بیٹھنا نہیں آتا ۔۔۔۔ نا کبھی پہلے بیٹھی ہوں۔۔۔۔
صارم کے لبوں پر ایک گہرا تبسم رقص کرنے لگا۔۔۔۔جیسے مہارت سے چھپا گیا۔۔۔۔
جس طرح چئیر پر بیٹھتی ہوں نا اسی طرح دونوں پیر ایک سائیڈ پر کر کے آرام سے بیٹھ جاؤ ۔۔
اس کے ہاتھ سے چیزیں لے کر کہا۔۔۔
وہ عبایا کو اچھی طرح فولڈ کر کے بیٹھ گئی تو صارم نے اس کو سامان واپس پکڑوایا۔۔۔
صارم نے بائیک سٹارٹ کر دی تو ایک جھٹکے کے ساتھ وہ اچھلی اور صارم کو کس کر کندھے سے پکڑ لیا۔۔۔
پلیز آہستہ چلائیں گا۔۔۔
ٹرسٹ می گرنے نہیں دوں گا ۔۔ صارم نے بڑے وثوق سے کہا۔۔۔
عادت کے مطابق ادینہ نے آنکھیں بند کر کے قرآنی آیات کا ورد شروع کر دیا ۔۔۔
تھوڑی دیر بعد اس نے آنکھیں کھولی ڈر کم ہوگیا تھا۔۔ شام کے گہرے سائے ہر طرف پھیل گئے تھے ۔۔ صارم کے جسم سے اٹھنے والی کلون کی بھینی بھینی خوشبو اسے مسحور کر رہی تھی ۔۔ کاش یہ سفر کبھی ختم نہ ہو ۔۔کاش۔۔۔ اس کے دل میں معصوم سی خواہش ابھری۔۔ لیکن پھر خود کو ڈانٹ ڈپٹ کر ملامت کیا۔۔سدھر جاؤ ادینہ کیا کیا سوچنے لگی ہو۔۔۔۔۔
ہمارا ساتھ صرف گھر تک ہے۔۔ یہ سوچ کر اس کی آنکھیں دھندلا گئی ۔۔
گھر سے تھوڑا دور اس نے صارم کو بائیک سٹاپ کرنے کو کہا۔۔۔
اس نے بریک لگائی۔۔۔
یہاں گھر ہے تمہارا ؟؟؟
نہیں دوسری گلی میں ۔۔ لیکن یہاں لوگ مجھے بچپن سے جانتے ہیں اس طرح آپ کے ساتھ بیٹھ کر وہ ہزار باتیں بنائیں گے اور میں نہیں چاہتی کہ کوئی آپ کے بارے میں غلط بولے۔۔
ادینہ نے وضاحت کی ۔۔۔۔
اوکے آرام سے اترو۔۔۔
وہ اتری او صارم کے سامنے آکر کھڑی ہو گئی ۔۔ اس کی آنکھوں میں محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دیکھ کر صارم نے نظریں جھکا دی۔۔۔وہ پہلے دن سے اس کی آنکھوں میں محبت کے جلتے جگنو دیکھ چکا تھا۔۔ یہ لڑکی معصوم تھی۔۔وہ اس کو ہرٹ کرنا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔
فون دو اپنا۔۔۔صارم نے ہاتھ بڑھا کر فون مانگا ۔۔۔
ادینہ نے بلا چوں وچرا پرس کھول کر موبائل اس کے حوالے کیا۔۔۔
اپنے موبائل پر بیل دی کر فون اسے واپس کردیا۔۔
نمبر سیو کر لو۔۔ گھر پہنچ کر انفارم کردینا۔۔۔
وہ مڑی گھر جانے کے لئے ۔۔۔لیکن وہ جانتی تھی کہ صارم ایک زمہ دار انسان ہے وہ جب تک نظروں سے اوجھل نہیں ہوجاتی وہ کھڑا اس کی پشت کو تکتا رہے گا۔۔۔۔۔
جب وہ نظروں سے فنا ہوگئی ۔۔۔صارم نے کک لگا کر بائیک سٹارٹ کی۔۔۔۔۔۔
