Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282 Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 13)

68.3K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 13)

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan

صارم کے جانے کے تھوڑی دیر بعد اذان ہوگئ۔۔۔

اس نے وضو کیا ۔۔۔ اور نماز پڑھ کر سو گئی۔۔

صبح دس بجے آنکھ کھلی۔۔۔تو گزرے رات کے لمحے ایک فلم کی طرح دماغ کے سکرین پر چلنے لگے۔۔۔

وہ صارم کا پل میں تولہ پل میں ماشہ والے رویہ کو لے کر مضطرب تھی ۔۔۔ کبھی کبھی وہ اتنا بے گانہ ہوجاتا تھا۔۔ کہ جان کر بھی انجان بن جاتا۔۔۔۔ اور اب اس کی اتنی پروہ اسے ہضم نہیں ہورہی تھی ۔۔۔ لیکن پھر بھی اس کے دل میں صارم کے لئے عزت اور محبت بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔

وہ اٹھی اور فریش ہونے چلی گئی ۔۔۔۔

کچن میں آئی تو بھابھی ناشتے کے برتن دھو رہی تھی ۔۔۔۔

اسلام وعلیکم بھابھی ۔۔۔

وعلیکم السلام ۔۔۔ شازمہ کے ہاتھ پل بھر کو رکے ۔۔۔۔

بھابھی ناشتہ تیار ہے؟؟؟

ہاں ابھی تیار کیا ہے ۔۔ بھابھی اسے تیکھی نظروں سے دیکھ کر بولی ۔۔۔

نیند اچھے سے آئی نہ ۔۔۔ اس کی بھابھی نے معنی خیز انداز میں پوچھا ۔۔۔

وہ سٹپٹا گئی ۔۔۔۔جی ی ی ج ۔۔۔۔ہولے سے سر کو جنبش دی۔۔۔

ظاہر ہے اتنے ہینڈسم شوہر کی باہوں میں کس کو اچھی نیند نہیں آئےگی ۔۔۔ طنز کا تیر پھینکا گیا ۔۔۔۔۔

وہ بھابھی کے لہجے میں چھپی طنز کو بھانپ گئی ۔۔۔اور سر جھکا لیا۔۔۔

ویسے ہمارا اتنا چھوٹا سا تو گھر ہے ۔۔ کوئی آتا جاتا ہے تو ظاہر ہے ہمیں پتہ چل جاتا ہے۔۔۔ اور

کوئی بات نہیں ۔۔۔ ہوتا ہے اس طرح ۔۔ جب میری بات پکی ہوگئی تھی نا تو ابو تو کافی سٹرکٹ اور کنزرویٹیو تھے۔۔ تواحمد بے چارہ فون تک نہیں کر سکتا تھا۔۔ وہ نکاح پر فورس کرنے لگا۔۔۔ پھر نکاح کے بعد بھی ابو نے ملنے کی اجازت نہیں دی ۔۔۔تو پتہ ہے کھبی کبھی اسی طرح رات کو چوروں کی طرح آتا تھا۔۔ اور صبح ہونے سے پہلے چلا جاتا ۔۔۔

وہ مسکرا کر بتا رہی تھی ۔۔ ادینہ کی خفت مٹانے کو اپنی کہانی سنا دی۔۔۔

اس کی بھابھی پہلے بس اپنے کام سے کام رکھتی تھی۔۔۔ لیکن ادینہ کی امی کی ڈیتھ کے بعد وہ یکسر بدل گئی تھی ۔۔ ادینہ کا خیال رکھنے لگی تھی ۔۔۔۔

ہاں ادینہ وہ صارم رخصتی کی بات کر رہا تھا ۔۔۔۔ میں نے کہا کہ ہم نے تو تیاری بھی کرنی ہے ۔۔۔ بیٹی کو خالی ہاتھ وداع تو نہیں کر سکتے ۔۔ مگر اس نے یہ کہہ کر کچھ بھی لینے سے انکار کیا ہے ۔۔ کہ اللّٰہ کا دیا سب کچھ ہے ہمارے پاس۔۔۔ بس ادینہ چاہیے ۔۔۔۔

تمہارے بھائی سے بھی بات ہوئی میری۔۔۔ اسکو بھی کوئی اعتراض نہیں ۔۔ نیکسٹ سٹڑڈے کو رخصتی کا بولا ہے۔۔۔

جی بھابھی ۔۔۔ وہ دھیمی آواز میں بولی۔۔۔

تمہارے بھائی نے کچھ پیسے بھجوائے ہیں ۔۔۔ آج ملیحہ کے ساتھ جاکر شاپنگ کر لینا۔۔۔

صارم نے بولا تھا کہ شادی والا ڈریس وہ تمہارے ساتھ جاکر خرید لے گا۔۔۔

اوکے بھابھی ۔۔۔اس نے ناشتہ ختم کیا۔۔۔تو اپنے روم میں چلی گئی ۔۔۔

*********

صارم اٹھو ۔۔۔12 بج رہے ہیں ۔۔ بس بھی کرو ۔۔۔صارم جو گھوڑے بیچ کر سو رہا تھا ۔۔۔اسفند نے کوئی دس دفعہ اس کو جگانے کی کوشش کی لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوا۔۔

صارم ادینہ آئی ہے ۔۔۔ وہ جو دوبارہ بلینکٹ اپنے اوپر ٹھیک کرنے والا تھا۔۔۔ جھٹ سے آنکھیں کھولیں۔۔ کہاں ہے؟؟؟؟

باہر لان میں ۔۔۔میں نے بہت فورس کیا اندر آنے کو بٹ نہیں آرہی تم جلدی فریش ہوکر نیچے آو۔۔۔

وہ اسفند کے کپبرڈ سے اپنے لئے شرٹ ٹراؤزر نکال کر فریش ہونے چلا گیا ۔۔۔ جلدی باتھ لے کر نیچے آیا تو اسفند ناشتہ پر اس کا ویٹ کر رہا تھا ۔۔

ادینہ کہاں ہے۔۔ ؟؟؟

اپنے گھر میں ہوگی اور کہاں ۔۔۔ اسفند نےلا پروائی سے کہا ۔۔

تم نے مجھ سے جھوٹ بولا ۔۔ صارم نے قہر برساتی نگاہوں سے اسفند کو گھور کر کہا۔۔

ہاں۔۔۔ تو ویسے اٹھنے والا تھا نہیں ۔۔۔ مجبوراً بولنا پڑا ۔۔۔۔

جلدی ناشتہ کرلو ایس پی صاحب ۔۔۔ تمہیں آج جاکر وہ ریسٹورنٹ بند کروانا ہے ۔۔۔ اور میں نے سفیان کو اس کے گھناونے جرائم کی سزا دینے کیلئے کافی جتن کرنے ہیں ۔۔۔ اس نے سرد کٹیلےلہجے میں کہا۔۔

پھر دونوں ناشتہ کرنے لگے۔۔۔

پورے ثبوت اس میں ہے ۔۔۔۔ یو ایس بی اس نے صارم کو تھما دی۔۔

بس آگے کا کام تمہارا۔۔۔

صارم ناشتے کے بعد گھر چلا گیا اور اسفند اپنے فلیٹ پر۔۔

تھوڑی دیر بعد صارم پولیس یونیفارم پہنے اپنی ڈیوٹی سر انجام دینے جارہا تھا۔۔۔ بڑے کروفر سے گاڑی سے اترا اور ریسٹورنٹ پہنچا تو اس کے لئے دروازہ کھول دیا گیا۔۔۔

وہ جارہانہ تیور لئے ریسٹورنٹ میں انٹر ہوا۔۔اور گرجدار آواز میں وہاں کے ورکرز سے مخاطب ہوا ۔۔۔۔

ریسٹورنٹ کے اونر کو بلاو۔۔۔ ود ان ٹو منٹس ۔۔۔

ایک 45 سال کا آدمی پینٹ شرٹ پہنے بوکھلاتے ہوئے آیا۔۔۔

جی سر ۔۔۔میں ہوں یہاں کے اونر۔۔۔۔

کل پورا دن تم کہاں تھے ۔۔؟؟صارم نے سر تا پیر جانتی نگاہوں سےاس کا جائزہ لے کر پوچھا ۔۔۔

میں کسی کام سے باہر گیا تھا سر ۔۔۔ اس لئے کل کام کی چھٹی دی تھی ۔۔۔

صارم نے ایک گارڈ کی طرف دیکھا۔۔۔ تو اس نے جیب سے موبائل نکال کر ایک ویڈیو پلے کی۔۔۔ جس میں اس کے ورکرز ڈرنک کرنے میں مشغول تھے۔۔ اور ساتھ ساتھ اپنے منہ سے مغلظات بک رہے تھے ۔۔۔ آدمی اپنی جگہ دہل کر رہ گیا۔۔

ارد گرد ٹیبلز پر کافی لوگ بیٹھے لنچ کر رہے تھے ۔۔۔ سب کھڑے ہوکر تماشا دیکھنے لگے۔۔

کچھ لڑکیاں بھی تھی اور صارم کی پرسنالٹی پر کومنٹس پاس کر رہی تھی ۔۔۔ لیکن اسے اردگرد کی کوئی پروا نہیں تھی ۔۔۔۔

اریسٹ ہم ۔۔۔۔ صارم کی آواز میں طوفانوں جیسی گرج تھی ۔۔ اس نے اپنے پیچھے کھڑے باوردی پولیس کو آرڈر دیا۔۔۔ وہ آگے آئے ۔۔۔ اور اس اونر کے ساتھ جتنے ورکرز اس ویڈیو میں تھے سب کو ہتھکڑیاں پہنا دی گئی۔۔۔۔

سر پلیز غلطی ہو گئی تھی ۔۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ میری غیر موجودگی میں ایسا کچھ ہوگا۔۔۔ ریسٹورنٹ کا مالک اونچا اونچا بول کر اپنی صفائی دے رہا تھا۔۔مگر صارم کا ذہن گزشتہ روز ہونے والے واقعے کی طرف تھا۔۔۔۔کل اس نے یہاں ادینہ کے ساتھ خود کو پل پل مرتے دیکھا تھا ۔۔۔اسے ادینہ کو اپنے ہاتھوں میں بے ہوش اور نڈھال ہوتے دیکھا تھا۔۔۔ اگر وہ لوگ تھوڑے سے بھی لیٹ ہوجاتے۔۔۔۔۔۔ اس سے آگے سوچتے ہوئے اس کو موت آنے لگی تھی ۔۔۔ایک بار پھر اس کے اندر کرب اور اذیت کی بھٹی جلنے لگی۔۔۔ اگر اس کے بس میں ہوتا وہ اس ریسٹورنٹ کو آگ لگا کر بھسم کردیتا مگر وہ قانوناً اسے سزا دلوانا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔

اور اپنے ساتھی کی طرف دیکھا ۔۔۔۔

اسلم اگلے تین منٹ میں ریسٹورنٹ خالی نظر آنا چاہیے ۔۔۔۔

اور ایسا ہی ہوا۔۔ اگلے چوتھے منٹ میں اس ریسٹورنٹ پر سیل کا سٹیمپ لگا دیا گیا تھا۔۔

ڈن۔۔۔۔۔ اسفند کو میسج ٹائپ کرکے سینڈ کردیا۔۔۔۔

اسفند جو سفیان کے پاس بیٹھا اس سے سچ اگلوانے کے لئے طرح طرح کے حربے آزما رہا تھا۔۔ میسج دیکھ کر وہ ہنسا۔۔۔ تمہارے دوست کا وہ ریسٹورنٹ تو گیا۔۔۔

سفیان نے ششدر نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔

کیا سوچ کر ادینہ کو وہاں پر لے کر گیا تھا تو۔۔اسفند نےپھر دھاڑتے ہوئے اسے بالوں سے پکڑ کر اس کا سر چئیر پر دے مارا۔۔

وہ میری منگیتر ہے ۔۔ خود آئی تھی میرے پاس۔۔وہ خود ایک کیریکٹرلس لڑکی ہے۔۔کئی لڑکوں کے ساتھ اس کے ناجا ۔۔۔۔ ابھی وہ کچھ اور بھی بول رہا تھا کہ اسفند نےہاتھ میں پکڑا چاقو اسکے ہاتھ میں گاڑھ دیا اور وہ اس کے ہاتھوں سے خون کا پھوارہ بہنے لگا ۔۔۔اسکی دردناک چیخیں ہر طرف گھونجنے لگی ۔۔۔

کتے ۔۔۔۔ بہن ہے وہ میری ۔۔۔ میں تمہاری زبان نوچ لوں گا اگر اس کے بارے میں ایسی بکواس کی تو۔۔۔اسفند کا خون کھولنے لگا تھا۔۔۔

وہ تمہاری منگیتر تھی ۔۔۔۔ مگر اب نہیں ۔۔ وہ میرے دوست کی بیوی ہے ۔۔۔ مسز صارم فاروقی بن گئی ہے ۔۔۔۔ ایس پی صارم فاروقی کی بیوی ۔۔۔۔۔ نام تو سنا ہوگا ۔۔۔ جس کی وحشت سے طوفان بھی رخ موڑ لیتے ہیں ۔۔۔وہ تمہیں جہنم واصل کرنے میں ایک سیکنڈ نہیں لگائے گا۔۔۔زمین میں زندہ گاڑھ دے گا۔۔۔۔ اسفند نے اس کو اتنا مارا کہ وہ پھر بے ہوش ہوگیا ۔۔۔۔

**********

اس نے ملیحہ کو کال کرکے شاپنگ پر جانے کے لئے بلایا ۔۔ اگلے دس منٹ میں وہ ادینہ کے گھر میں تھی۔۔۔

میں نے بابا سے پرمیشن لے تھی گاڑی لے جانے کی ۔۔ کیوں موت آتی ہے تمہیں میرے ڈرائیونگ کرنے سے۔۔ ملیحہ نے اپنی ناراضگی کا برملا اظہار کیا۔۔۔

کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ آج پھر تم کسی کا لاکھوں روپے نقصان کروالو۔۔ ادینہ نے دو ٹوک جواب دیا۔۔۔۔

ٹیکسی کر کے وہ لوگ مارکیٹ پہنچ گئے ۔۔۔

ادینہ کو تو صارم کی پسند نا پسند کا پتہ نہیں تھا۔۔ موبائل اٹھا کر اسے ٹیکسٹ کرنے لگی۔۔۔

آپ کو کونسا کلر پسند ہے؟؟۔۔۔

صارم جو ابھی ابھی ریسٹورنٹ سیل کرکے گاڑی میں بیٹھنے والا تھا۔۔ مسیج نوٹیفکیشن آیا تو میسج اوپن کر دیا ۔۔۔ ادینہ کا میسیج دیکھا تو بوجھل طبیعت میں خوشگواری عود آئی ۔۔۔

پستہ گرین ۔۔۔۔۔۔ جواب لکھ کر سینڈ کر دیا ۔۔۔

اوووکے تھینکس۔۔۔۔۔ ادینہ مسرور سی شاپنگ کرنے لگی۔۔۔

چن چن کر پستہ گرین کلر کے تین کامدار سوٹ خرید لیے ۔۔ پھر دوسری خریداری کرنے سیکینڈ فلور پر جانے لگے ۔۔۔

ابھی سیڑھیوں پر قدم رکھا ہی تھا کہ مال میں ایک طرف لگے بڑے سے اسکرین پر نیوز اینکر کافی جوش و خروش میں بریکنگ نیوز دے رہی تھی ۔۔۔۔

جانے مانے ایس پی صارم فاروقی کا اسلام آباد کے ایک مشہور ریسٹورنٹ پر چھاپہ۔۔۔۔ اونر سمیت کافی ورکرز گرفتار ۔۔۔ ایس پی کے بیان کے مطابق وہ ریسٹورنٹ پس پردہ کالے دھندوں کا اڈا تھا ۔۔۔ جہاں پر شراب جیسے حرام مشروب اور آئیس وغیرہ کی خرید وفروخت کی جاتی تھی ۔۔۔۔ یہاں ہم آپ سب کو بتاتے چلے کہ ایس پی صارم فاروقی نے اپنے سروس کے بہت کم مدت میں اپنی ایمانداری سے ایک نام ایک مقام بنایا ہے ۔۔۔۔ ہمارے ملک کو ایسے ہی جوان آفیسرز کی ضرورت ہے۔۔۔۔

ادینہ نے اب سکرین پر ابھرے صارم کے چہرے کو اشتیاق سے دیکھا۔۔۔ اس کے خوبرو چہرے پر جاندار سی مسکراہٹ تھی ۔۔۔ جو بہت کم دیکھنے کو ملتی ۔۔۔ وہ اپنے بلند اور پر عزم آواز میں میڈیا کے نمائندوں سے مخاطب تھا۔۔۔۔ادینہ کا سر فخر سے بلند ہوگیا۔۔۔

ملیحہ نے یاہو کا نعرا لگایا۔۔ واووووو پراوڈ آف یو صارم بھائی۔۔۔

وہاں موجود کافی لوگ اب چہ مہ گوئیوں میں مصروف تھے۔۔ جبکہ ادینہ باقی کی شاپنگ کمپلیٹ کرنے لگی۔۔۔۔

گھر واپسی پر پھر سے ہاتھوں میں کجھلی ہونے لگی تو موبائل نکال کر ٹائیپنگ کرنے لگی۔۔

مجھے فخر ہے آپ پر۔۔۔ اور خود پر بھی کہ میں ایک وفادار ایمان دار ، نڈر اور جان نثار قانون کے رکھوالے کی بیوی بن گئی ہوں۔۔۔

آئی لو یو ایس پی صاحب ۔۔۔ آئی لو یو مور دین آئی لو مائی سیلف ۔۔۔۔

******”””””””””********