Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282 Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 20)
No Download Link
Rate this Novel
Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 20)
Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan
ادینہ گھر پہنچی تو مسز فاروقی الجھی سی ہال میں بیٹھی اس کی انتظار میں تھی ۔۔۔
اگئی تم ۔۔۔ اسے دیکھ کر پریشانی کے عالم میں کھڑے ہوکر عجلت میں پوچھا ۔۔۔ وہ اپنے بچوں کے لئے کافی کانشئس تھی ۔۔۔ اور اس طرح ادینہ کو بغیر صارم سے پوچھے بھیجنا بھی صحیح نہیں تھا ۔۔۔
جی ۔۔۔ میٹنگ اچھے سے ہوگئی ۔۔ بچوں کا سلیبس چینج ہوگیا ہے ۔۔۔۔ تو اس حوالے سے کچھ ڈسکشن کرنی تھی ۔۔۔ ادینہ نے خلاصہ اسے بتا دیا ۔۔۔۔
تھینکس ادینہ ۔۔ صارم کی بیوی کو لے کر مجھے جتنی خدشات لاحق تھی سب مٹ گئی ۔۔۔ مسز فاروقی نے لگاوٹ سے کہا ۔۔۔
یہ میرا بھی گھر ہے ۔۔۔ اور صارم سے جڑا ہر رشتہ مجھے عزیز ہے ۔۔۔ ادینہ مسز فاروقی کو کریدنا چاہتی تھی ۔۔ ان کے اندرونی فیلنگز کو جاننا چاہتی تھی ۔۔۔۔ اس کے چہرے پر چھایا سکون ادینہ سے ہضم نہیں ہورہا تھا ۔۔۔ وہ اس طرح کیسے پرسکون رہ سکتی تھی ۔۔۔۔
مجھے تم سے بہت امیدیں وابستہ ہیں ادینہ ۔۔۔ ہم سب ایک گھر میں بلکل مسافروں کی طرح رہ رہے ہیں ۔۔۔۔ وقت کے بے رحم لہروں نے ہمارے درمیان جو خلیج پیدا کی ہے ۔۔۔ بدگمانی کی جو دیواروں ہمارے درمیان کھڑی ہوگئی ہے ۔۔۔ وہ تم ہی گراوگی ۔۔۔ مجھے اپنے کھوئے ہوئے رشتے تم ہی واپس دلا سکتی ہو ادینہ ۔۔۔۔ مسز فاروقی ادینہ کا ہاتھ پکڑ کر ٹرانس کی کیفیت میں بول رہی تھی ۔۔ اور ادینہ ناسمجھی سے اسے سن رہی تھی ۔۔ مگر پلے کچھ پڑ نہیں رہا تھا۔۔۔۔
اسے نے مسز فاروقی اور صارم کے بیج کشیدگی نوٹ کی تھی ۔۔۔ بلا ضرورت دونوں ایک دوسرے سے مخاطب نہیں ہوتے تھے ۔۔۔ لیکن وجہ پوچھنے کی ابھی اس میں ہمت نہیں تھی ۔۔۔
میں کیسے ؟؟ ادینہ کے لہجے میں ڈھیر سارا تخیر ابھرا ۔۔۔
مسز فاروقی اسے بتانے ہی والی تھی کہ صارم کی بائیک باہر پورچ میں رک گئی تو اس نے بات بدل دی ۔۔۔۔
صارم ہال میں انٹر ہوا ۔۔۔ اور ادینہ کو عبایا پہنے تیار دیکھ کر آبرو آچکا کر پوچھا۔۔۔
ادینہ تم کہیں جا رہی ہو ؟؟؟
جا نہیں رہی ۔۔ آگئی ہوں ۔۔۔ ادینہ آنکھیں گھماتے ہوئے بولی ۔۔۔
کہاں گئی تھی اتنی جلدی میں ؟؟ جو مجھ سے پوچھنا تک گوارا نہیں کیا ۔۔۔ صارم کے ماتھے پر شکنوں کا جال بن گیا ۔۔۔ آج کل احمد کا منخوس سایہ اس کی بیوی کے سر منڈلا رہا تھا ۔۔۔
کیونکہ مجھے جلدی میں جانا تھا ۔۔۔ بچوں کے سکول گئی تھی ۔۔۔ پرنسپل نے بلایا تھا ۔۔۔ میٹنگ تھی ۔۔۔ اور بچے آپکو بتانا بھول گئے تھے ۔۔۔ انکی موم کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں تو میں خود جانا مناسب سمجھا ۔۔۔۔
صارم میری طبیعت خراب تھی ۔۔۔ اور تم بھی باہر گئے تھے ۔۔۔ تو ادینہ نے کہا کہ وہ چلی جائیں گی ۔۔ مسز فاروقی نے صارم کے بگڑے تیوروں کو دیکھ کر جلدی سے وضاحت دی ۔۔۔ تو اس کے چہرے کے تناؤ میں کمی آگئی ۔۔۔۔
تھینکس ۔۔۔۔ آنکھوں میں محبتوں کا جہاں لئے ادینہ کو دیکھ کر بولا ۔۔۔
تم واجب المحبت ہو ادینہ ۔۔۔ مگر تمہیں بہت بڑا دھچکا لگنے والا ہے ۔۔۔ مگر میں تمہیں سمبھال لوں گا بس میرا ساتھ مت چھوڑنا ۔۔۔ صارم نے حسرت سے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر سوچا ۔۔۔ اور بنا کچھ کہے اوپر روم میں چلا گیا۔۔ ادینہ بھی اس کے پیچھے گئی ۔۔۔۔
صارم ۔۔ ادینہ نے روم میں قدم رکھتے صارم کو پکارا ۔۔۔
جی ۔۔۔۔ صارم ایڑھیوں کے بل گھوما ۔۔
میں آپ کو بتائے بغیر گئی تھی نہ ۔۔۔ آپکو برا لگا۔۔۔۔
صارم نے چونک کر اس کی طرف دیکھا ۔۔۔ کیا ہے یہ لڑکی ۔۔ جو اس کے دل کے بھیدوں تک رسائی حاصل کر چکی تھی ۔۔۔
ہاں ۔۔۔ ایک لفظی جواب آیا ۔۔
ادینہ اس کے قریب آکر کھڑی ہوگئی ۔۔۔ اس کے دل کے مقام پر ہاتھ رکھا ۔۔۔ پہلی اور آخری نادانی سمجھ کر معاف کرنا۔۔۔ اسکے دل کے مقام پر لکیرین کھینچ کر اپنا اور صارم کا نام لکھنے لگی ۔۔۔۔
صارم نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیا ۔۔۔ معاف کردیا ۔۔ تم پر کسی چیز کی روک ٹوک نہیں ہوگی ۔۔۔ جہاں مرضی جانا ہو چلی جانا ۔۔۔لیکن اگر مجھ سے پوچھو گی ۔۔۔ تو مجھے اچھا لگے گا ۔۔۔ وہی گھمبیر اور لو دیتا لہجہ ۔۔۔
ادینہ نے اثبات میں سر ہلایا اور اس کے گلے لگ گئی ۔۔۔ آپ ورلڈ کے بیسٹ ہسبنڈ ہے ۔۔۔ پتہ ہے جب میں چھوٹی تھی نا تب امی مجھے سٹوریز سنایا کرتی تھی ۔۔۔ کہ ایک غریب گھرانے کی لڑکی کے لئے ایک راج کمار آتا ہے ۔۔۔ لیکن جونہی جب جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا یہ سب فرضی باتیں لگنے لگی ۔۔۔ جوکہ کتابوں کی حد تک ہی محدود ہے ۔۔۔ حقیقی زندگی میں ان کا کوئی وجود نہیں ۔۔۔ بھلا ایک غریب گھر کی معمولی شکل وصورت والی لڑکی کے لئے کون سا شہزادہ آئے گا ۔۔۔ مگر آپ سے شادی ہو جانے کے بعد بھی مجھے یہ سب ایک خواب سا لگ رہا ہے ۔۔۔ ادینہ اسی طرح اسکے سینے سے لگی اپنی داستان سنا رہی تھی ۔۔۔۔
ہم قسمت کے فیصلوں کے محتاج ہیں ۔۔۔ چھوڑو یہ سب ۔۔۔۔ یہ بتاؤ پرنسپل نے پوچھا نہیں کہ یہ پیاری سی مما کس کی ہے ؟؟ صارم نے اسے چھیڑتے ہوئے اس کا دھیان ہٹانا چاہا ۔۔۔
پوچھا تھا نا میں نے بھی بڑے فخر سے کہا کہ میں مسز صارم فاروقی ہوں ۔۔۔ زارش اور حورم کی نئی مما ۔۔۔۔ ادینہ ایک مان اور ادا سے بولی ۔۔۔
صارم نے اپنی بیوی کا یہ روپ پہلی بار دیکھا ۔۔۔ جو صارم کا ساتھ پاکر کچھ زیادہ پر اعتماد ہوگئی تھی ۔۔۔۔ اور یہی چیز صارم کو اچھی لگی ۔۔۔ اس کی بیوی اگرچہ کوئی بہت حسین دوشیزہ نہیں تھی مگر اس کا کردار پختہ تھا ۔۔۔ جو صارم پر دل۔و جان سے فدا تھی ۔۔۔۔
ہالف مسز صارم فاروقی ۔۔۔ تصحیح کرلو ۔۔۔۔ صارم نے اس کی بات کاٹ کر کہا ۔۔۔ وہ کیا ہے نا۔۔۔۔ ابھی تک پوری بیوی نہیں بنی ہو ۔۔۔ یا پھر بننا ہی نہیں ہے ۔۔۔
ادینہ کے چہرے پر شرم و حیا کے دلکش رنگ اترنے لگے ۔۔۔ اور پھر سے اس کے کے سینے میں اپنا چہرہ چھپا لیا ۔۔۔ صارم نے آنکھیں بند کرکے اپنی روح میں بسی خوشی اور سکون کی ٹھنڈک محسوس کی ۔۔۔۔ پھر دھیرے سے اسے خود سے الگ کیا۔۔۔ اپنے جذبات میں آئے بھونچال کو روکنا تھا اسے فی الحال خود کو قابو میں رکھنا تھا ۔۔۔۔
••••••••••••••••••••••••
وہ جیسے ہی گھر میں داخل ہوئی احمد بھپرے شیر کی طرح اس کے قریب آیا ۔۔۔
کہاں گئی تھی تم اور کہاں ہیں گھر کے پیپرز ۔۔۔
ادینہ کے ہسبنڈ کو دے آئی ہوں ۔۔۔ بہن بیٹی کا حق کھانے والوں کو اللّٰہ درگزر نہیں کرتا ۔۔۔ چٹانوں جیسا مضبوط لہجہ تھا ۔۔۔
تمہاری اتنی ہمت کہ میرے خلاف جاؤ تم ۔۔۔ باغی عورت ۔۔۔۔
احمد نے جیسے ہی شازمہ پر ہاتھ اٹھانا چاہا۔۔ اس کے پڑے بیٹے ایان نے اپنے باپ کو زور سےدھکہ دیا ۔۔۔ جس سے وہ لڑکھڑا کر بس تھوڑا دور ہوا ۔۔۔ شازمہ تو اپنے آٹھ سال کے بیٹے کی اتنی دیدہ دلیری پر حیران آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ اور یہی حال احمد کا بھی تھا ۔۔۔
میری ماں سے دور رہے آپ ۔۔ وہ اور اس کا چھوٹا بھائی ایک مضبوط ڈھال بن کر ماں کے سامنے تن کر کھڑے ہوگئے ۔۔۔۔
ہمیں سب پتہ ہے آپ گندے ہو ۔۔۔ غلط کام کرتے ہو ۔۔۔ بچوں کو بیچتے ہو ۔۔۔ ہمیں نہیں رہنا آپ کے ساتھ ۔۔۔ اس کا بیٹا اونچی آواز میں چلا کر بول رہا تھا ۔۔۔
احمد نے بے یقینی سے شازمہ کی طرف دیکھا ۔۔۔
صحیح سمجھ رہے ہو ۔۔۔ میں نے ہی بتایا ہے انہیں ۔۔۔ کل جب بڑے ہوکر اپنے باپ کے بارے میں پوچھتے تو کیا بتاتی انہیں ۔۔۔ ابھی سے بتانا ضروری تھا ۔۔ کہ اس کے دل میں باپ کے لئے رتی برابر بھی پیار اور قدر موجود ہو تو وہ ختم ہوجائے ۔۔۔ احمد میں تمہاری ساری غلطیاں آنکھیں بند کر کے معاف کردیتی ۔۔۔ لیکن جب جب سوچتی ہوں کہ تم نے کسی معصوم لڑکی کی عزت کا سودا کیا ہوگا ۔۔۔ پتہ نہیں کتنے لوگوں نے اس کی معصومیت کے مزے لئے ہوں گے ۔۔۔ تب تب میرے دل میں پلی تمہاری محبت کی کلیاں نفرت کے کانٹے بن کر سر ابھارنے لگتے ہیں ۔۔۔ اور اللّٰہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ میری کوئی بیٹی نہیں ورنہ تمہارے گناہوں کی سزا میری بیٹی بھگتتی ۔۔۔ ہر وقت ایک انجانے خوف کے زیر اثر رہتی ہوں میں کہ تمہارا کیا میرے بچے نا بھگتے ۔۔۔ نہیں رہنا مجھے اسی خوف کے ساتھ ۔۔۔ شازمہ سسک سسک کر رو رہی تھی ۔۔۔ اور اپنے بچوں کو لیکر کمرے کے اندر گئی اور سامان سے لدا ہوا بیگ اٹھا کر باہر لے آئی ۔۔۔
تم بہت پچھتاوگی ۔۔۔ لیکن لوٹ کر میرے پاس مت آنا ۔۔۔ احمد کا غصہ سوا نیزے پر تھا۔۔۔ حالات مزید کشیدہ ہوتے جا رہے تھے ۔۔۔۔
اگر کبھی پچھتانا پڑے تو خوشی سے نیند کی گولیاں خود بھی کھا لوں گی اور اپنے بچوں کو بھی کھلا کر ابدی نیند سلا دوں گی ۔۔ لیکن تمہارے پاس لوٹ کر کبھی نہیں آونگی ۔۔۔۔ ایک شریف او باحیا باپ کے نام پر سیاہ دھبہ ہو تم ۔۔ شازمہ نے نخوت سے کہہ کر سر جھٹکا ۔۔۔ گھر کی دہلیز پار کرتے وقت اس کے پیروں میں لڑکھڑاہٹ واضح تھی ۔۔۔ اسی گھر میں وہ احمد کا پیار اس کی بیوی بن کر آئی تھی ۔۔۔ اور آج نہ اس کے دل میں پیار کا کہیں نام و نشان تھا نہ ہی اس کا شوہر اس کا تھا ۔۔۔۔
ایک ایک کرکے احمد کے سب ساتھی پکڑے گئے تھے ۔۔۔ اسے جلد از جلد یہ گھر بھیج کر واپس بھاگنا تھا ۔۔۔ اسے پتہ تھا کہ صارم ادینہ کی وجہ سے ابھی چپ تھا مگر کب تک ۔۔۔
••••••••••••••••••••••
بچے سکول سے آگئے تھے ۔۔۔ صارم نے شادی کے لئے ہفتہ بھر چھٹی لی تھی ۔۔۔ وہ سب ساتھ میں لنچ کرنے میں مگن تھے ۔۔۔۔ حورم سب کو نظر انداز کر کے ادینہ کے ہاتھ سے مزے سے کھانا کھا رہی تھی ۔۔۔
صارم نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیے ۔۔۔ وہ نوٹ کر رہا تھا کہ ادینہ خود صحیح سے کھانا نہیں کھا رہی تھی بس حورم کو کھلا رہی تھی ۔۔۔۔
ادینہ اسے مجھے پکڑا دو باقی کا کھانا میں کھلا دوں گا ۔۔ تم اپنی ڈائیٹ پر فوکس کرو۔۔۔۔ چڑیوں جتنا کھاتی ہو ۔۔۔ سوکھی تیلی بن گئی ہو ۔۔۔۔ صارم نے اسے ہلکا سا جھڑکا ۔۔۔
جی ۔۔۔ ادینہ نے غائب دماغی سے جواب دیا۔۔۔ اسکی سوئی اپنے بھائی سے ملنے میں اٹکی ہوئی تھی ۔۔۔۔
•••••••••••••••••••••••
ادینہ صارم کے لئے کافی بنا کر لاؤ ۔۔۔ وہ کھانے کے تھوڑی دیر بعد کافی پیتا ہے ۔۔۔۔ مسز فاروقی نے ادینہ کو مخاطب کرکے کہا جو حورم کو گود میں بٹھائی اسے گدگدی کروارہی تھی ۔۔۔۔
جی۔۔ بناتی ہوں ۔۔۔ حورم کو صارم کے حوالے کرکے کچن میں چلی گئی ۔۔۔۔
وہ اپنے موبائل میں بزی تھا کہ بوٹوں کی ٹک ٹک پر سر اوپر اٹھایا ۔۔۔ تو احمد دندناتا ہوا آرہا تھا ۔۔۔ صارم کی آنکھوں میں غضب ناک سرخی امڈی ۔۔۔ جبڑے مظبوطی سے بھینچے ۔۔۔
دوبارا یہاں آنے کی ہمت کیسے کی ۔۔۔ صارم نے اشارے سے مسز فاروقی کو کچھ کہا وہ بچوں کو اندر لے گئی ۔۔۔۔
میرے گھر کے کاغذات واپس کردو ۔۔ جو میری بے وقوف بیوی نے تمہارے حوالے کئے ہیں ۔۔۔۔احمد نے دھاڑتے ہوئے کہا ۔۔۔
میں تمہیں اپنی اور ادینہ کی زندگی میں زہر گھولنے کی اجازت ہر گز نہیں دوں گا ۔۔۔۔ تمہیں جو تھوڑی بہت مہلت مل رہی ہے جو آزاد گھوم پھر رہے ہو یہ ادینہ کی بدولت ہے ۔۔۔ ورنہ اب تک حوالات میں سڑ رہے ہوتے ۔۔۔ صارم آواز دبا کر سردپن سے کہا ۔۔۔۔
شرافت سے نکلو ابھی کے ابھی میرے گھر سے ورنہ گارڈز کو بلا کر تمہیں دھکے مار مار کر نکلوا دوں گا ۔۔۔
گھر کے پیپرز لئے بغیر تو میں جانے سے رہا۔۔۔ احمد نےاپنی اوقات دکھانی شروع کردی ۔۔۔
یو باسٹرڈ ۔۔۔۔۔ کوئی پیپرز تمہیں نہیں ملیں گے۔۔۔ وہ گھر میری ادینہ کے پیرنٹس کی نشانی ہے۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔
صارم ۔۔۔ ادینہ ہونقوں کی طرح کھڑی کبھی اپنے بھائی کو تو کبھی صارم کو دیکھ رہی تھی ۔۔
کس چیز کے پیپرز ۔۔۔ اور یہ آپ میرے بھائی سے کس لہجے میں بات کر رہے ہیں ؟؟ بڑے ہیں وہ آپ سے ۔۔۔۔ آپ ایسے تو نہیں تھے ۔۔۔۔
ادینہ تمہارے شوہر نے شازمہ سے گھر کے پیپرز منگوائے تھے ۔۔۔ احمد ادینہ کی ہمدردی پا کر اور شیر ہوگیا ۔۔
گھر کے پیپرز ۔۔۔ مگر کیوں ؟؟ ادینہ بے یقینی سے صارم کی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔
صارم سرعت سے ادینہ کی طرف آیا ۔۔۔ جو حیرت کا مجسمہ بن کر کھڑی تھی ۔۔۔ اور اس کے ہاتھ سے کافی کا کپ لے کر ٹیبل پر رکھا ۔۔۔ اور اس کے ہاتھ تھام لئے ۔۔۔۔
تمہیں مجھ پر بھروسہ ہے نہ ۔۔ اپنے صارم پر ۔۔۔صارم نے محبت سے ادینہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے ورطہ حیرت میں ڈالا ۔۔۔
پہلے تم ہاں یا نا میں جواب دو کہ شازمہ نے تمہیں وہ پیپرز دئیے ہیں یا نہیں ۔۔۔ احمد نے پھر سے بیچ میں ٹانگ اڑائی مبادہ ادینہ صارم کے بہکاوے میں نہ آئے ۔۔۔۔
ادینہ نے بھی نظر اٹھا کر صارم کی آنکھوں میں دیکھا مطلب وہ بھی جاننا چاہتی ہے ۔۔۔
ہاں دئے ہیں مجھے ۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔
ابھی صارم مزید کچھ کہتا ۔۔۔ اس کے ہاتھوں سے ادینہ کے ہاتھ چھوٹ گئے ۔۔۔ اعتماد کی اینٹوں پر بنایا گیا مظبوط رشتہ دھڑام سے زمین بوس ہوگیا ۔۔۔۔
احمد نے دیکھا کہ تیر نشانے پر لگا ہے ۔۔۔ تو اس نے چالاکی سے اپنے بازوؤں واہ کر کے ادینہ کو اس میں سمایا ۔۔۔ دیکھو میری جان تم نے صارم کی بیوی بچوں کو دل سے قبول کیا ۔۔۔ اس سے ریلیٹڈ ہر رشتے کا احترام کرتی ہو ۔۔۔ اور تمہارا شوہر تمہارے باپ سمان بھائی کو گھر کے اندر زلیل کر رہاہے ۔۔۔ اور تم پھر بھی چپ رہ کر برداشت کر رہی ہو ۔۔۔۔
یہ کبھی تم جیسی لڑکی کو وہ عزت و مقام دے ہی نہیں سکتا جو اس سے معیار و حیثیت میں کم ہو ۔۔۔
ادینہ نے ایک لمحے کے لئے بھی صارم سے نظر نہیں ہٹائی تھی ۔۔۔ آنکھوں میں عجیب سا درد سموئے وہ یک ٹک صارم کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ آیا اس نے ابھی جو کچھ سنا وہ سچ تھا ۔۔۔ صارم نے واقعی گھر کے پیپرز منگوائے تھے ۔۔۔۔
جسٹ شٹ اپ ۔۔۔ اب اگر تم نے اور بکواس کی تو اپنے پیروں پر یہاں سے نہیں جا پاو گے ۔۔۔ صارم نے طیش کے عالم میں ہاتھ اٹھا کر اسے وارن کیا ۔۔۔
صارم پلیز بس کردے آپ ۔۔۔ کس طرح آپ میرے سامنے میرے ہی بھائی کو بار بار دھتکار کر انکی توہین کر رہے ہیں ۔۔۔ ادینہ کا لہجہ التجائیہ تھا ۔۔۔
صارم حق دق کھڑا اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ کیا خون کے رشتوں کی کشش محبت کے رشتوں سے زیادہ ہوتی ہے ۔۔۔ اسکا سانس خشک ہورہا تھا۔۔۔ کیا وہ ہار گیا ۔۔۔ ایک بار پھر ۔۔۔۔
ادینہ میرے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے ۔۔۔ مجھے ایکسپلین کرنے دو ۔۔۔ میں تمہارے گھر کا کیا کروں گا ۔۔۔ صارم کو ادینہ کی بے اعتنائی اور آنکھوں کی بے اعتباری اندر سے توڑ رہی تھی ۔۔۔ دل میں درد کی لہر دوڑی ۔۔۔۔
میں نے تو تمہاری خوشی کے لئے صارم کو قبول کرنے کا من بھی بنایا تھا ادینہ ۔۔۔ کہ اگر تمہاری خوشی صارم کے ساتھ رہنے میں ہے ۔۔۔ تو میں بھی تمہاری رضا میں راضی ہوکر اس رشتے کو قبول کرلوں گا ۔۔۔ مگر مجھے نہیں پتہ تھا کہ اس کی نظر ہمارے چھوٹے سے گھر پر ہوگی ۔۔۔احمد نے مکاری کی حد کردی ۔۔۔۔
پتہ نہیں کیا سوچ کر اس نے تم سے شادی کی ہے ۔۔ جب اس کا اپنا گھر ہے بیوی ہے بچے ہیں۔۔۔۔
تو اسے تمہاری کیا ضرورت ۔۔۔ کچھ دن ساتھ رکھ کر اپنی خواہش پوری کرکے چھوڑ دے گا تمہیں ۔۔۔ بڑے لوگوں کے بڑے بڑے چونچلے ۔۔۔۔ گھر چلو ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ۔۔۔ شادی شدہ ہے وہ ۔۔۔
صارم کی آنکھیں ضبط سے سرخ ہوگئی ۔۔۔۔
ادینہ کہی نہیں جائے گی ۔۔۔ وہ صارم کے گھر میں اس کے ساتھ رہے گی ۔۔۔ اور یہ میرا فیصلہ ہے ۔۔۔ آواز کی سمت سب نے ایک ساتھ دیکھا تو شازمہ جتنی تیزی سے اندر آئی تھی اتنی تیزی سے اس نے احمد کے ہاتھوں سے ادینہ کی ہاتھ چھڑا کر دور کیا ۔۔۔
اور یہ۔۔۔۔ اس نے حنا فاروقی کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ صارم کی بیوی نہیں اس کی بھابھی ہے ۔۔۔
ب ۔ ب بھابھی ۔۔۔۔ ادینہ نے اپنی بھابھی کے سپاٹ چہرے کو دیکھا جو احمد کو خونخوار نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
جب اپنی عیاشیوں میں ڈوبے ہوئے تھے تمہارے بھائی تب اسے یہ خیال نہیں آیا کہ اس کی بھی اپنی ایک عدد جوان بہن گھر پر موجود ہے ۔۔۔ اب آگئے ہیں اپنا پیار جتانے ۔۔۔ اگر یہ صارم کی بھابھی نہیں بیوی بھی ہوتی تب بھی میں صارم کے ساتھ ادینہ کی شادی بخوشی کروادیتی ۔۔۔ سب کو اپنے جیسا عیاش سمجھتے ہو تم ۔۔۔ لڑکیوں کو ٹشو کی طرح استعمال کرکے پھینک دینا تمہارا پسندیدہ مشغلہ ہے ۔۔۔صارم کا نہیں ۔۔۔ شازمہ بولنے پر آئی تو احمد کی جڑیں اکھاڑنی شروع کردی ۔۔۔۔
اور ادینہ تم صارم کو چھوڑنے جارہی تھی اپنے اس جھوٹے او مطلب پرست بھائی کے لئے ۔۔۔۔ یہ وہ صارم ہی ہے ۔۔ جس نے غیر ہوکر بھی تمہیں زمانے کی گندھی نظروں سے بچائے رکھا ۔۔۔ ہر مشکل میں ساتھ دیا ۔۔۔ جسکو پانے کے لئے تم نے راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعائیں مانگی تھی ۔۔۔ رو رو کر التجائیں کی تھی ۔۔۔ اس بھائی کے کہنے پر جس نے کبھی تمہیں پوچھا تک نہیں ۔۔۔ ادینہ پر تو آج حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے ۔۔۔
بھابھی وہ گھر کے پیپرز ۔۔۔ ادینہ بوکھلاہٹ کا شکار تھی ۔۔۔۔ ایک سے بڑھ کر ایک دھچکا ۔۔۔۔
وہ تمہارے بھائی نے دئے تھے مجھے خود تم سے سائن کروانے کے لئے ۔۔۔ وہ گھر بھیجنا چاہتا تھا ۔۔۔ لیگل طریقے سے باہر جاتا تو پکڑا جاتا تو اللیگل طریقہ اپنانا چاہا جو میں نے ناکام بنا دیا ۔۔۔۔ اور میں ایسا بلکل بھی نہیں چاہتی تھی کہ وہ گھر بیج دے ۔۔۔ اس لئے میں نے تمہارے علم میں لائے بغیر صبح صارم کو بلا کر کر کاغذات اس کے حوالے کر دیے ۔۔۔۔۔ کیونکہ تمہارے شوہر کا ظرف اتنا بڑا ہے کہ وہ تمہارے بھائی کا مکروہ چہرہ تمہاریے سامنے لا کر تمہیں ہرٹ کرنا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔ مجرم ہے تمہارا بھائی ۔۔۔ گناہگار ۔۔۔۔ باقی اپنے بھائی کے کرتوتوں کا اپنے ہسبنڈ سے پوچھ لو ۔۔۔ مجھ میں بتانے کا مزید حوصلہ نہیں ۔۔۔
یہ تم سب جو اس ایس پی کے بل بوتے پر اتنے اترا رہے ہو نہ دیکھ لوں گا تم سب کو ۔۔۔ احمد چٹکی بجاتے بولا ۔۔۔
ادینہ نے متعجب ہوکر بھائی کی طرف دیکھا تو کچھ دیر پہلے والے شیریں لہجے کی جگہ اس کی زبان آگ برسا رہی تھی ۔۔۔ اور زہر اگل کر چلا گیا۔۔۔۔
اس کی بھابھی بھی اپنا کام کرکے چلی گئی ۔۔۔ ہال میں اب حنا فاروقی صارم اور ادینہ کھڑے رہ گئے ۔۔۔
•••••••••••••••••••••••••
