Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282 Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 14)
No Download Link
Rate this Novel
Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 14)
Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan
آج فرائیڈے تھ ا۔۔ کل ادینہ کی رخصتی تھی۔.. اس نے اپنی خالا کو بلا کر خود سفیان کے بارے میں سب کچھ سچ سچ بتا دیا تھا ۔۔۔ وہ بہت زیادہ دکھی تھی ۔۔۔ سفیان کے کارناموں کی وجہ سے ۔۔۔ اور سفیان کا کچھ اتا پتہ بھی نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے ۔۔۔ لیکن وہ ادینہ کے لئے خوش تھی ۔۔۔۔
اس نے ملیحہ کے ساتھ مل کر بس تھوڑی بہت شاپنگ کی تھی ۔۔ کیونکہ صارم نے منع کیا تھا ۔۔۔ اور ویڈنگ ڈریسز اس نے صارم کے ساتھ جاکر خود پسند کیے تھے۔۔۔۔
آج اس کے ہاتھوں پر صارم کے نام کی مہندی لگنے والی تھی ۔۔۔ سب کچھ ایک خواب لگ رہا تھا ۔۔۔وہ کافی ایکسائیڈ تھی ۔۔۔ مگر بار بار امی کو یاد کرکے اس کی آنکھیں نم ہو جاتی ۔۔۔ اور دل کے کسی کونے میں ڈر بھی تھا کہ صارم کے گھر والوں کا ری ایکشن کیسا ہوگا ۔۔۔۔ جب صارم نے سب کو بتایا ہوگا ۔۔۔۔
صارم کی کال آرہی تھی تو اس نے اٹینڈ کی۔۔۔
یار ایک ہفتہ ہوگیا۔۔۔ آنکھیں ترس گئی تمہیں دیکھنے کو ۔۔۔ اپنا دیدار تو کروادو ۔۔۔ صارم نے نرمی بھرا شکوہ کیا ۔۔۔
کل جی بھر کر دیکھ لینا ۔۔۔ادینہ نے صاف انکار کیا۔۔۔
اچھا مہندی تو دکھاؤ ۔۔۔ میرا نام تو لکھا ہے نا۔۔۔ وہی دکھا دو ۔۔۔ صارم کا دل مچل رہا تھا ۔۔۔۔
بلکل لکھا ہے ۔۔۔ لیکن ابھی نہیں دکھانی میں نے ۔۔ پھر تو سارا سسپنس خراب ہو جائےگا۔۔۔۔ وہ آپ نے فرصت میں ڈھونڈ کر نکالنا ہوگا ۔۔۔ ایسے تھوڑی دکھاتے ہیں ۔۔۔۔
یار بہت ظالم بیوی ہو تم ۔۔۔ تھوڑا رحم بھی نہیں کھا رہی اپنے مظلوم شوہر پر ۔۔۔۔
میں ایک نہایت معصوم اور شریف لڑکی ہو ۔۔۔ ادینہ چہک کر بولی ۔۔۔
آپ کال بند کر لیں مجھے دوسرے ہاتھ پر بھی مہندی لگوانی ہے ۔۔۔۔۔ ایک ہاتھ کی مہندی مکمل ہوگئی تھی ۔۔۔۔۔
اوکے ۔۔ اللّٰہ خافظ ۔۔۔۔۔۔
*************
شہر کے ایک ماہر بیوٹیشن کو صارم نے ادینہ کو تیار کرنے کے لیے ہائیر کیا تھا ۔۔۔۔۔
وہ پستہ گرین کلر کا ہیوی ایمبرائیڈرڈ پیروں کو چھوتا فراک پہنے سلیقے سے کئے گئے میک اپ میں نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی ۔۔ وہ پہلی دفعہ اتنی سج دھج کے تیار ہوئی تھی۔۔۔۔۔ بیوٹیشن لینسز لگوانا چاہتی تھی ادینہ نے منع کردیا ۔۔۔ کیونکہ صارم کو ادینہ کی انکھوں کا نیچرل کلر پسند تھا ۔۔۔۔۔۔ ملیحہ اور اسکی بھابھی بار بار آتے اور نظر اتارتے۔۔۔۔
آج تو کچھ لوگوں کے دلوں پر بجلیاں گرے گی ۔۔۔۔ملیحہ اس کو صارم کا نام لے کر چھیڑ رہی تھی ۔۔۔
بہت ذیادہ لوگوں کو انوائیٹ نہیں کیا گیا تھا بس آس پاس محلے کے کچھ لوگ تھے۔۔۔۔ ملیحہ کے گھر والے ۔۔۔ اور اسکے بھابھی کے مائیکے والے ۔۔۔ چھوٹا سا گھر اتنے لوگوں میں بھی بھر گیا تھا ۔۔۔ ادینہ کا بھائی بھی آج پہنچنے والا تھا ۔۔۔ لیکن موسم کی خرابی کی وجہ سے فلائیٹ ڈیلے ہوگئی تھی ۔۔۔۔
دوسری طرف صارم تیار بھی ہورہا تھا اور ساتھ ساتھ ادینہ سے میسجز پر بات کر رہا تھا ۔۔۔۔ اسکی بے قراریاں عروج پر تھی ۔۔۔ وہ اسے ایک نظر دیکھنے کو بے تاب تھا ۔۔۔۔ اور اسکی شوخ باتوں سے وہ بلش ہو رہی تھی ۔۔۔۔ وہ لوگ تھوڑی دیر بعد روانہ ہونے والے تھے ۔۔۔
****”””””””*******
صارم اپنے روم میں تیار ہورہا تھا۔۔ ادینہ کے ڈریس کے ساتھ میچنگ پستہ کلر شیروانی پہنی تھی ۔۔۔ اسفند اور ارسلان دھڑام سے دروازہ کھول کر روم میں داخل ہوگئے ۔۔۔
کبھی تو انسانوں کی طرح پیش آیا کرو۔۔۔۔ صارم نے دونوں کو گھورا۔۔۔۔۔
ہائے صدقے ۔۔۔ میرا سوہنا یار ۔۔۔ میرے جگر کا ٹکڑا ۔۔۔ نظر اتار لے اپنی ۔۔ اور یہ چہرہ لال گلاب ہورہا ہے ۔۔۔۔ آجا میں تجھے نظر کا کالا ٹیکہ لگا دوں ۔۔۔ اسفند نے صارم کو گرم جوشی سے ہگ کر کے کہا ۔۔۔
اسفند نے فرسودہ روایت کے پیش نظر جلدی سے ٹیکہ لگانے کی جھوٹی ایکٹنگ کی ۔۔۔
اس کی چاہت جتانے پر صارم نے ناک چڑھائی۔۔۔ بس کر تو کچھ زیادہ فری ہو رہا ہے۔۔۔ اور آج تو مجھ سے چار فٹ دور رہ کر بات کیا کر ۔۔۔۔ تمہارا کیا بھروسہ ۔۔۔ تمہاری تو کوئی کل سیدھی نہیں ۔۔۔۔۔
اور تو کیوں مجھے چھچھوروں کی طرح تاڑ رہا ہے ۔۔۔ صارم نے اب ارسلان کو آنکھیں دکھائیں ۔۔۔جو کب سے گم سم کھڑا بغیر پلکیں جھپکائیں اسے دیکھنے میں مگن تھا ۔۔۔
صارم !!! برسوں سے تمہاری آنکھوں میں ایک خالی پن دیکھتا آیا ہوں ۔۔۔۔ ہر وقت سوگ اور رت جگے مناتی ہوئی آنکھیں ۔۔۔۔ آج اسی آنکھوں میں محبت کے ہزاروں دیپ جگمگاتے ہوئے دیکھ رہا ہوں ۔۔۔ کچھ پانے کا جنون ۔۔۔
اللّٰہ کریں تمہاری زندگی کا آنے والا ہر لمحہ کروڑوں خوشیاں ساتھ لائے ۔۔۔ آمین ۔۔۔۔ارسلان نے اپنائیت سے صارم کو گلے لگا کر خود میں بھینچا۔۔۔۔۔
وہ دونوں صارم کے لئے بہت خوش تھے۔۔۔
صارم تیار ہوکر نیچے آیا تو سب لوگ اس کا ویٹ کر رہے تھے ۔۔۔ مسسز فاروقی ارسلان کی وائف مہک کے ساتھ کھڑی کچھ ڈسکس کر رہی تھی ۔۔۔ سیڑھیاں اترتے صارم کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیے اس کا دل اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبا ۔۔۔ بے اختیار اس کے منہ سے ما شاءاللہ کے الفاظ نکلے ۔۔۔ اور آنکھیں چرائے ۔۔۔۔
واوووو صارم بھائی آپ تو لشکارے مار رہے ہیں۔۔ مہک نے دل کھول کر تعریف کی ۔۔۔۔ اور پگڑی کہاں کے اپکی۔۔۔۔
نہیں مجھے نہیں پہنی ۔۔۔ بس ایسے ہی ٹھیک ہوں۔۔۔ صارم نے منع کردیا ۔۔۔۔
مہک !!! تم حنا بھابھی کے ساتھ ان کی گاڑی میں آجاؤ ۔۔ میں اور اسفند صارم کے ساتھ آرہے ہیں ۔۔۔۔ آج ان کے لئے بہت بڑا دن ہے ۔۔۔ ہم کوئی رسک نہیں لینا چاہتے ۔۔۔۔
ڈونٹ وری ۔۔ آپ جائیں دولہے کے ساتھ ۔۔۔ میں مینیج کرلوں گی ۔۔۔ مہک نے فرمانبرداری کا مظاہرہ کیا ۔۔۔۔
گاڑی گیٹ سے باہر نکلی تو پولیس کی دو تین گاڑیاں اس سے آگے پیچھے چلنے لگی ۔۔۔ سخت سیکیورٹی کا انتظام کیا گیا تھا ۔۔۔
گاڑی ارسلان ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔۔ اس کے ساتھ فرنٹ پر صارم بیٹھا تھا اور اسفند پیچھے ۔۔۔
صارم کی گود میں حورم تھی ۔۔۔
حورم گڑیا پاپا تمہاری لئے نیو مما لے کر آرہے ہیں ۔۔۔ آپ کو اچھا لگے نا۔۔۔ اسفند اب حورم کے ساتھ بچہ بن گیا تھا۔۔۔
ہاں چاچو ۔۔۔ حورم بہت خوش ہے ۔۔۔ نئی مما حورم کے ساتھ کھیلے گی ۔۔ حورم کی فیورٹ ڈشسز بنائے گی ۔۔۔ اور ہوم ورک بھی کروائیں گی ۔۔۔ حورم کافی ایکسائیٹڈ لگ رہی تھی۔۔۔
اور حورم کو کس نے بتائی اتنی ساری باتیں ۔۔۔ اسفند نے پھر سے پوچھا ۔۔۔
حورم کے پاپا نے ۔۔۔ اور صارم نے حورم کو خود سے لگا کر پیار کیا ۔۔۔ اس کے بچے واقعی بہت لاکھوں میں ایک تھے ۔۔۔۔ ان کے لئے صارم کی کہی ہوئی چھوٹی سی چھوٹی بات بھی پتھر کی لکیر ہوتی ۔۔۔ جن کا وہ سب مان رکھتے ۔۔۔۔
کیا کھچڑی پک رہی ہے تمہارے دماغ میں جو اتنے خاموش بیٹھے ہو ۔۔۔ صارم جو کب سے خیالوں کی دنیا میں مگن تھا ۔۔۔ اسفند نے اس کو ہلکا سا دھموکا جڑا ۔۔۔
کچھ نہیں ۔۔۔ بس ویسے ہی ۔۔۔ ادینہ کا بھائی نہیں پہنچا اسے لیکر ادینہ اپسٹ تھی ۔۔۔
چھوڑو سالے صاحب کو ۔۔۔ اس کی بہن کی فکر کرو۔۔۔اسے اپنے گھر میں ایڈجسٹ کر پائے گا ؟؟
اسفند نے صارم کی پریشانی بھانپ لی تھی ۔۔۔
وہی تو ٹینشن ہے ۔۔۔ اس نے تو کھلے دل سے سب کچھ قبول کیا تھا ۔۔۔ بات صارم کی زبان پر آہی گئی ۔۔۔۔
اللّٰہ خیر کرے گا ۔۔ ارسلان نے ہمت باندھی ۔۔۔
******””””””””””****
باہر ایک ساتھ گاڑیاں رکنے کی آواز آئی ۔۔۔ تو ادینہ کا دل بہت زور زور سے دھڑکنے لگا۔۔۔۔ ملیحہ اور محلے کے چند اور لڑکیوں نے بارات والوں کا استقبال پھولوں سے کیا ۔۔۔۔۔
صارم کے ایک سائیڈ پر ارسلان اور دوسری طرف اسفند تھے۔۔۔۔
محلے کی عورتیں اور لڑکیاں صارم کو دیکھ کر ادینہ کی قسمت پر رشک کرنے لگے۔۔۔۔ کہاں وہ دو کمروں کے چھوٹے سے مکان میں رہنے والی معمولی شکل و صورت کی لڑکی کہاں وہ شہزادوں جیسا آن بان ایک ایک اونچے خاندان کا چشم وچراغ ۔۔۔۔
اسفند کو دیکھ کر ملیحہ نے اسمائیل پاس کی تو وہ بھی مسکرایا۔۔۔
ناٹ بیڈ ۔۔۔ کافی ہینڈسم ہے ۔۔۔۔ ملیحہ نے دل میں سراہا ۔۔
صارم کو ادینہ کے پاس بٹھایا گیا رسموں کے لئے لیکن چہرہ گھونگھٹ سے ڈھکا ہو ا تھا۔۔۔۔
گھونگھٹ کیوں کیا ہے اب ۔۔۔ صارم نے بھاری مخمور لہجے میں کہا ۔۔ تو ادینہ کے دل کی دھڑکنیں اودھم مچانے لگی۔۔۔
یہ رسم ہے صارم ۔۔۔ ادینہ نے سمجھایا ۔۔۔
میں کسی رسم وسم کو نہیں مانتا ۔۔۔ صارم نے کسی کی پروہ کئے بغیر بایاں بازوں ادینہ کے گرد حائل کرکے جھٹکے سے اپنے قریب کرلیا۔۔۔
اس کی اتنی بولڈنس اور جرات پر ادینہ ہق دق رہ گئی۔۔۔
ادینہ کے ساتھ بیٹھے اسفند نے جھک کر صارم کے کان میں کچھ کہا تو وہ سنجیدہ سا بیٹھ گیا۔۔۔
ملیحہ نے ہر رسم پر صارم سے کافی رقم بٹوری۔۔۔۔ اور صارم کی طرف سے پیسے اسفند دے رہا تھا۔۔۔۔
گھونگھٹ کی اوٹ سے ادینہ کی نظر مسز فاروقی پر پڑی جس کی گود میں حورم کھلکھلا رہی تھی۔۔۔۔ اور دونوں بچے اسفند اور ارسلان کی گود میں بیٹھے تھے ۔۔۔۔
وہ مسز فاروقی کے چہرے پر کچھ کھوجنا چاہتی تھی لیکن وہ بلکل ریلکس کھڑے ہوکر ہر رسم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی تھی ۔۔۔ حورم صارم کی گود میں آنے کے لیے مچل رہی تھی ۔۔۔۔
صارم نے مسز فاروقی کی گود سے حورم کو نیچے اتارا ۔۔ اور اپنی گود میں بٹھایا ۔۔۔ وہ صارم کو اس نئے لک میں دیکھ کر بار بار چومنے لگی ۔۔۔۔
پاپا مجھے نئی مما کی گودی میں بیٹھنا ہے ۔۔۔ اس نے ادینہ کی گود کی طرف اشارہ کیا ۔۔تو ادینہ نے اس کو صارم کی گود سے اٹھا کر اپنی گود میں بٹھایا ۔۔۔
رسمیں اختتام کو پہنچ گئی ۔۔۔۔ تو رخصتی کی تیاری شروع ہوگئی ۔۔۔ ادینہ اپنی بھابھی کے گلے لگ کر بہت رو رہی تھی مگر ملیحہ نے اسے ڈانٹ ڈپٹ کر چپ کروایا ۔۔۔ کہ بیوٹیشن کے سارے محنت پر پانی پھیر جائے گا۔۔۔۔۔ اور پھر بھیانک چہرہ لے کر صارم بھائی کے پاس جاوگی۔۔
اس کو صارم کے ساتھ گاڑی میں بٹھایا گیا ۔۔۔ گاڑی اب اسفند ڈرائیو کر رہا تھا اور ارسلان فرنٹ سیٹ پر براجمان تھا ۔۔۔ اور صارم پیچھے ادینہ کے ساتھ بیٹھا تھا ۔۔۔ اور اس کی گود میں حورم تھی ۔۔۔ حورم بہت خوش تھی کبھی کس کی گود میں بیٹھتی کبھی کس کی۔۔۔
ارسلان چاچو کے پاس جانا ہے۔۔۔۔
آجا میرا بچا چاچو کی جان ۔۔ ارسلان نے اس کو کسی کرکے اپنی گود میں بٹھایا۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ اسفند کی گود میں بیٹھی گاڑی چلانے میں اس کی مدد کر رہی تھی ۔۔۔۔
پیچھے صارم کی بے باک سرگوشیوں نے ادینہ کو بے حال کر رکھا تھا ۔۔۔ اور ادینہ کے ہاتھ پیر ٹھنڈے ہو گئے تھے اس کی بے باک باتیں سنتے سنتے ۔۔۔۔۔۔۔۔
*******”””””””””*******
