Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282 Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 1)

68.3K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 1)

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan

یہ خوبصورت منظر ہےبحریہ ٹاؤن میں واقع فاروقی مینشن کا۔۔ فاروقی مینشن کا مالک ایس پی صارم فاروقی اپنی فیملی کے ساتھ لنچ کر رہے ہیں ۔۔ ان کی چھوٹی سی فیملی مسسز حنا فاروقی اور تین بچوں ایک بیٹا ارمغان فاروقی اور دو بیٹیاں زارش فاروقی اور حورم فاروقی پر مشتمل ہے ۔۔ ارمغان فاروقی اور زارش فاروقی سات سال کے جڑواں بچے ہیں ۔۔ جبکہ حورم فاروقی ابھی چار سال کی ہے ۔۔۔یہ ایک ویل ڈسپلنڈ فیملی ہے۔۔

گھر کے افراد کے ساتھ ساتھ ملازم بھی پنکچول اور ذمہ دار ہیں۔۔ کھانے کے دوران بات چیت پر پابندی ہوتی ہے۔ اس لئےکھانا خاموشی سے کھایا گیا تو باتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔۔۔۔

آج کل گھر میں بچوں کے ٹیوٹشن کے حوالے سے کافی ٹینشن چل رہی تھی ۔۔ پہلی والی فیمیل ٹیوٹر کی شادی دوسرے شہر میں ہوئی تھی ۔۔ اس لیے شادی کے بعد ان کا یہاں آنا ممکن نہیں تھا۔۔ وہ ایک قابلِ اعتبار لڑکی تھی ۔۔اور تین سال تک بچوں کو پڑھاتی رہی۔ بچے بھی ان سے کافی مانوس ہو چکےتھے ۔۔۔ انٹرویو کے لئے کافی لڑکیوں کو بلایا بھی گیا بٹ ابھی تک کوئی دوسری قابلِ اعتبار لڑکی نہیں ملی تھی۔۔ اور صارم بچوں کو باہر ٹیوشن پڑھانے کے حق میں نہیں تھا ۔۔

صارم آپ نے ایک لڑکی کا بولا تھا کہ آج آئی گی انٹرویو کے لیے ۔۔ کب تک آئےگی وہ۔ مسسز فاروقی نے یاد آنے پر پوچھا۔

ہاں بس اسی کے بارے میں بتانے جا رہا تھا کہ آج تین بجے تک اس کو بلایا ہے۔۔ آئی ہوپ سو وہ ہمارے معیار پر پوری اترے۔۔ اور وقت کی بابند ہو۔۔ میں نےاس کی پوری فائل ریڈ کی ہے ۔ مڈل کلاس فیملی سے بلونگ کرتی ہے ۔۔ کوالیفیکیشن بھی بہت اچھی ہے۔ اور سب سے اچھی بات ٹیچنگ ایکسپیرئنس بھی ہے۔ ان شاءاللہ آج یہ مسئلہ حل ہوجا ئے گا۔

صارم فاروقی تفصیل سے بتانے لگے ۔۔اور پھر بچوں سے سٹڈیز کے بارے میں بات چیت کرنے لگے۔۔ مسسز فاروقی نے کچن کا رخ کیا۔۔ کیونکہ اس وقت صارم کافی بڑے شوق سے پیتے تھے …

*********

دوسرا منظر

یہ تین کمروں پر مشتمل ایک چھوٹا سا گھر ہے۔ گھر کے باہر ایک تختی پر بلیک حروف میں جمال یوسف نام لکھا گیا ہے ۔۔ گھر کے مالک جمال یوسف صاحب جو ایک سرکاری سکول میں ٹیچر تھے۔ پانچ سال پہلے اپنی بائیک پر گھر آرہے تھے کہ ایک تیز رفتار ٹرک کے ساتھ ان کا تصادم سے ہوا ۔ سر پر گہری چوٹ آگئی تھی اور آپریشن کے دوران ہی سے اللّٰہ کو پیارے ہوگئے ۔۔ بیوی سکینہ بیگم ایک نیک صالح اور صابر خاتون تھی۔ ان کا صرف ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی۔۔ بیٹا احمد سعودیہ میں مقیم تھا۔۔اس کی شادی جمال صاحب نے اپنے دوست کی بیٹی شازمہ سے کروائی تھی ۔۔ وہ بس انٹر تک ہی پڑھی تھی ۔۔ ان کے دو بیٹے تھے ابیان اور ایان۔۔وہ ان کے ساتھ ہی رہتی ہے ۔۔

جمال صاحب کی چھوٹی بیٹی ادینہ ایک ذہین و فطین لڑکی ہے۔۔ بیس سال کی تھی جب جمال صاحب کی ڈیتھ ہوگئی اور وہ وقت سے پہلے کافی سمجھدار اور سنجیدہ ہوگئی تھی ۔۔۔ اس نے انگلش میں ماسٹر کیا تھا ۔۔ اور کچھ ایکسٹرا کورسز بھی کر رکھے تھے۔ ایک ہوم ٹیوشن جاب کے لیے اسکو

کال کیا گیا تھا اور آج انٹرویو کے جانا تھا۔۔ اس لیے عجلت میں کھانا کھایا اور اپنے روم میں تیار ہونے چلی گئی ۔۔ بھابھی زیادہ تر اپنے مائیکے میں ہوتی تھی ۔ بس یہ ماں بیٹی ایک دوسرے کی کل کائنات تھیں۔

وہ بار بار گھڑی کی طرف دیکھ رہی تھی تاکہ وقت پر پہنچے۔۔عبایہ پہن کر آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر سر پر اچھی طرح سکارف سیٹ کیا۔۔ وہ کوئی بہت زیادہ خوبصورت لڑکی نہیں تھی ۔۔ لیکن بڑی بڑی براؤن آنکھوں اور کھڑی ناک نے اس کی گندمی صاف رنگت کو کافی پرکشش اور سحر انگیز بنایا تھا۔۔۔ قد درمیانی تھا اور بال براؤن اور لمبے تھے ۔۔وہ نقاب نہیں کرتی تھی ۔۔ لیکن عبایہ سے خود کو اچھی طرح کور رکھتی تھی۔ سر کو بھی ڈھانپ کر رکھتی تھی۔ سکارف سیٹ کر کے ہینڈ بیگ میں موبائل فون رکھ کر کمرے سے باہر آئی جہاں برآمدے میں اس کی ماں سکینہ بیگم نماز پڑھ کر جاۓ نماز پر بیٹھی ذکر و اذکار میں مشغول تھی۔۔وہ ماں کے سامنے جھکی ۔۔ اسکی ماں نے ماتھے پر بوسا دیا ۔۔ اور کچھ دعائیں پڑھ کر اس کے چہرے پر پھونک ماری۔۔ وہ ایک بار پھر گھڑی کی طرف دیکھنے لگی ۔۔ اگرچہ اسے تین بجے بلایا گیا تھا لیکن پھر بھی اس کو وقت سے پہلے مطلوبہ جگہ پر پہنچنا تھا ۔۔ ایڈریس اس کے گھر سے بیس بائیس منٹ کے فاصلے پر تھا اور ابھی دو بج کر آٹھ منٹ ہوۓ تھے ۔۔۔ گھر سے نکل کر پیدل گلی کے دوسرے موڑ پر موجود ٹیکسی سٹاپ تک آگئی۔ جہاں پر ٹیکسی وغیرہ ایک قطار میں کھڑے ہو کر اپنی اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔۔۔۔ وہ سرعت سے ایک ٹیکسی میں بیٹھ گئی اور ڈرائیور کو ایڈریس سمجھانے لگی۔ ٹیکسی والا جان پہچان کا تھا وہ لوگ اکثر اس ٹیکسی میں آتے جاتے تھے۔۔ گاڑی روانہ ہوگئی ۔۔ تو وہ آنے والے وقت کو یاد کر کے سوچنے لگی۔۔پریشانی چہرے سے عیاں تھی۔۔ پتہ نہیں لوگ کیسے ہونگے ۔۔گھرانہ کیسا ہوگا۔ ان کا یہ ہوم ٹیوشن کا پہلا ایکسپیرئنس تھا۔ اور یہ تو پھر ایک ایس پی کی فیملی ہے۔۔ وہ دل ہی دل میں اللّٰہ سے دعا کرنے لگی کہ سب اچھا ہو۔۔ ابھی سوچنے کا سلسلہ جاری تھا کہ ڈرائیور کی آواز سے سوچوں کا تسلسل ٹوٹا۔۔ہم پہنچ گئے بیٹا یہی ایڈریس تھا ۔۔ اس نے شکریہ کے ساتھ پیسے ادا کیے اور گاڑی سے نکلی۔۔

سامنے ایک ہی قطار میں ایک ہی طرز پر خوبصورت بنگلوں کا سلسلہ تھا۔۔۔ اپنے مطلوبہ گھر کے سامنے کھڑے ہو کر لمبا سانس لے کر خود کو اچھی طرح کمپوز کیا ۔۔ اور آگے بڑھنے لگی۔ ۔گیٹ کی ایک سائیڈ پر خوبصورت الفاظ میں تحریرکیا گیا نام پڑھا۔فاروقی مینشن

ڈور بیل پر ہاتھ رکھ کر بیل بجائی۔ کچھ ہی سکینڈ کے بعد ایک مستعد باوردی گارڈ نے دروازہ کھول کر اسے اندر آنے کی اجازت دی۔۔ وہ حیرت میں ڈوبی اندر داخل ہوئی۔ گارڈ نے بغیر کسی تعارف اور چھان بین کے کیسے دروازہ کھول کر اسے اندر آنے دیا۔۔ ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ نگاہ سامنے گارڈ روم میں رکھے گئے بڑے سے سکرین پر پڑی۔ دماغ میں کچھ کلک ہوا اور منہ سے بے اختیار* اوہ*کا لفظ نکل گیا۔ وہ کیسے بھول گئی کہ ایس پی کے گھر میں کیمرے تو لازمی ہونگے۔ اور گارڈ نے اس کو آتے ہوئے دیکھا ہوگا۔ اور شاید اس کو پہلے سے میرے آنے کے متعلق انفارم بھی کیا ہوگا۔ کیونکہ اس نے اپنی جو فائل ای میل کی تھی اس کے پروفائل میں اسکی سکارف والی پکچر لگی تھی۔ گارڈ نے اشارے سے اسے اندر کی طرف جانے کا کہا ۔ ارد گرد ستائشی نظروں سے دیکھ کر گھر کی خوبصورتی کو دل ہی دل میں سراہا۔ خوبصورت سر سبز لان میں ایک طرف رنگ برنگے پھولوں سے ڈھکے پودے بلکل ایک سیدھ میں کھڑے تھے۔ پورچ میں دو گاڑیاں اور ایک سپورٹس بائیک کھڑی تھی ۔ ایک بار پھر ہاتھ پر بندھے گھڑی کی طرف دیکھا۔ دو بج کر پچاس منٹ ہونے والے تھے ۔

سٹڈی روم میں بیٹھے صارم فاروقی نے ڈور بیل کی آواز پر گھڑی کی طرف دیکھا تو دو بج کر سینتالیس منٹ ہو رہے تھے ۔۔ زیرلب بھڑبھڑائے ۔۔ گڈ پنکچول ۔۔ اور سیڑھیاں اتر کر نیچے آکر ہال میں رکھے سنگل صوفہ پر بیٹھ گئے۔۔ اور سر جھکا کر موبائل پر آئے میسج کا جواب دینے لگے۔۔

ادینہ دھڑکتے دل کے ساتھ اندر ہال میں داخل ہوئی۔ بے چینی سے ادھر ادھر ٹہلنے لگی ۔ یہاں موجود ہر چیز نفاست اور ترتیب اور اعلیٰ ذوقی کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔ سامنے بیٹھے ایس پی صاحب نے آہٹ محسوس کی تو بغیر سر اٹھائے اپنے سحر انگیز آواز میں کہا۔۔ پلیز سٹ ۔۔۔۔

وہ جو خیرت میں ڈوبی پورے ہال کا بغور جائزہ لینے میں مصروف تھی ۔ اس اچانک گھمبیر آواز پر چونکی اور ہال میں ایک طرف رکھے صوفوں کی طرف نظر دوڑائی جہاں صارم فاروقی پورے شان و شوکت کے ساتھ ٹانگ پر ٹانگ جمائے سنگل صوفے پر براجمان تھے۔۔ بلیک کھلے ٹراؤزر پر گرے کلر کا ہالف سلیوز والا شرٹ پہنے جس میں اس کے کسرتی بازو بھلے لگ رہے تھے موبائل میں بزی تھے۔۔ وہ اس کے سامنے رکھے صوفہ پر سلام کر کے بیٹھ گئی۔۔

سلام کا جواب بھی اس نے بغیر سر اٹھائے دیا۔۔ اور ساتھ ہی ملازمہ کو آواز دے کر مسسز فاروقی اور بچوں کو بلانے کا کہا۔ کچھ ہی پل گزرے کے سامنے سیڑھیوں پر اسے باوقار مسسز فاروقی اترتی ہوئی نظر آئی۔ جس نے گود میں ایک بچی کو اٹھایا ہوا تھا۔۔اور اس کے پیچھے پیچھے بہت احتیاط کے ساتھ دو اور بچوں کو اترتے دیکھا۔۔ ایک لڑکا اور ایک لڑکی ۔۔ اس سے پہلے کے وہ سلام کرنے کے لئے اپنی جگہ سے اٹھتی۔ مسسز فاروقی نے آگے بڑھ کر ہاتھ کے اشارے سے اسے اٹھنے سے منع کیا اور خود سلام میں پہل کی۔ اور اس کے ساتھ ہی دونوں بچوں نے ماں کی دیکھا دیکھی سلام کیا۔ تینوں سائڈ پر رکھے صوفہ پرایک ساتھ بیٹھ گئے۔ جبکہ گود والی بچی جو کہ بھلا کی خوبصورت تھی ۔ ماں کی گود سے اتر کر صارم فاروقی کے قریب آئی ۔ اور جھٹ سے اس کی گود میں بیٹھ گئی ۔

بات چیت کا سلسلہ فاروقی صاحب نے شروع کیا ۔اور ادینہ کو دیکھے بغیر سپاٹ لہجے میں پوچھا ۔آپ اپنے بارے میں بتائے پلیز۔۔۔

ادینہ نے اپنا پورا انٹروڈکشن کروایا۔۔ اور اس سارے وقت میں اس نے ایک بھی سکینڈ کے لیے فاروقی صاحب کی طرف نہیں دیکھا ۔ وہ ہچکچا رہی تھی ۔ اس لئے اسے دیکھنے سے گریز کر رہی تھی ۔ شاید اس کی شاندار پرسنالٹی یا پھر اس کے رتبےکا اثر تھا ۔۔۔

اگلا سوال مسسز فاروقی کی طرف سے آیا۔

کسی اور جگہ پر ٹیوشن پڑھائی ہے ۔؟؟

ایک پرائیویٹ سکول میں ٹیچنگ کرتی تھی ۔ کچھ مجبوریوں کی بنا پر چھوڑ دیا پھر گھر میں چھوٹی موٹی ٹیوشن پڑھانا شروع کیا۔۔ادینہ نے اس کو دیکھ کر جواب دیا۔

وہاں جاب کیوں چھوڑی؟؟؟ مجبوری اگر بتانے لائق ہو تو ۔۔

صارم فاروقی نے پہلی دفعہ نظر اٹھا کر اس لڑکی کی طرف دیکھ کر پوچھا۔ شاید کچھ کھوج لگا رہے ہوں۔ لیکن وہ اب بھی متواتر گود میں رکھے اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی ۔ صارم بغور اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ نوٹ کرکے باریک بینی سے اس کا مشاہدہ کر رہا تھا۔ ۔ سکارف میں لپٹا معصوم سا چہرہ ۔ گھبراہٹ کی وجہ سے مسلسل پلکوں کو جھپکا رہی تھی ۔ماتھے پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں چمک رہی تھی۔وہ کوئی معمولی آدمی نہیں تھا۔ ایک ایس پی تھا۔۔بلا شبہ چہرے پڑھ سکتا تھا۔۔۔ وہ اس کے چہرے سے چھلکتی گھبراہٹ کو آسانی سے دیکھ سکتا تھا۔۔۔ایک پیاری سی مسکان نے اس کے خوبصورت لبوں کا احاطہ کیا۔ لیکن جلد ہی اپنی سنجیدگی برقرار رکھی۔

سیلری کی وجہ سے۔ کافی کم پیکج دیتے تھے۔۔ میرے محنت سے کافی کم۔۔۔ پرائیویٹ انسٹیٹیوشنز کو دوسروں کی مجبوریوں کی پروہ کب ہوتی ہے۔ادینہ نےشکوہ کناں لہجے میں جواب دیا ۔۔

ان سب کے بارے میں ایس پی صاحب نے اپنے خاص ریسورسز سے پوری انفارمیشن حاصل کی تھی ۔ لیکن وہ ٹہرا ایک حساس بندہ۔۔ ۔ ہر قسم کی جانچ پڑتال کرکے مطمئن ہونا چاہتا تھا۔ جس سکول میں وہ پڑھا رہی تھی وہاں سے اس کو پتہ چل گیا تھا کہ سیلری نہ بڑھانے پر اس نے سکول چھوڑا تھا۔ اسکے منہ سے سچ سن کر کافی تسلی ہوئی۔۔۔

ایگزامز میں اتنے مشکل سوالات لکھتے وقت وہ اتنی کنفیوز نہیں تھی جتنی اب ہو رہی تھی۔ وہ کوئی دھبو ٹائپ لڑکی نہیں تھی۔۔ایک پر اعتماد لڑکی تھی۔۔ ۔ لیکن وہ خود سمجھنے سے قاصر تھی کہ وہ کیوں اتنی نروس تھی۔۔ دل ہی دل میں ورد کرکے وہ اگلے سوال کا ویٹ کر رہی تھی ۔

ہماری طرف سے آل اوکے۔ یہ تینوں ہمارے بچے ہیں ۔ بڑے دونوں ارمغان فاروقی اور زارش فاروقی ٹوینز ہیں اور سیکنڈ کلاس میں پڑھتے ہیں ۔اور یہ چھوٹی حورم فاروقی کو ابھی بٹھایا ہے۔۔۔باقی تمہیں پہلے سے آگاہ کر دیا گیا تھا ۔ تمہاری تنخواہ کے بارے میں اور وقت کی پابندی کے متعلق ۔ کہ چھٹی بغیر کسی ضرورت کے الاؤ نہیں ہوگی۔۔۔ پک اینڈ ڈراپ ہماری طرف سے ہوگی ۔۔۔بچوں کی پڑھائی پر نو کمپرومائز ۔۔ اگر تمہاری کوئی ڈیمانڈ وغیرہ ہو تو ابھی کلیر کر دو۔ فاروقی صاحب نے اپنے ازلی سنجیدہ لہجے میں کہا ۔

ہر ماہ کی پندرہ تاریخ کو میں چھٹی کروں گی ۔ اگر ویک اینڈ نہ ہو تب بھی ۔ادینہ نے بلا جھجک کہا۔۔۔

کیوں؟ اک لفظ سوال پوچھا فاروقی صاحب نے ۔

مجھے ہر منتھ کی پندرہ تاریخ کو اپنی امی کو چیک اپ کیلئے لیکر جانا ہوتا ہے ۔اس بار ادینہ نے بغیر کسی خوف وجھجک کے سر اٹھا کر براہ راست ایس پی صاحب کی طرف دیکھ کر کہا۔ ۔ شاید یہ ماں کے نام کا حوصلہ ہی تھا۔ کہ ساری گھبراہٹ دور ہوگئی۔۔مقاںل کی نظر سے نظر ملا کر جواب دیا۔ اور پھر نظر ہٹانا بھول گئی۔ گرین آئیز، چھوٹی سی ستواں ناک ،بالکل فئر کلر۔ اسٹائل سے کٹنگ کئے گئےکالے بال۔ شیو تھوڑی بڑی ہوئی۔ اونچا قد ۔ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ تین بچوں کا باپ ہے۔ سنا تو کافی تھا کہ بڑے لوگ کبھی بڑھے نہیں ہوتے۔۔ پچاس کے ہوکر بھی پچس کے لگتے ہیں۔ لیکن یہاں تو نظر آ بھی آرہا تھا۔ جلدی سے نگاہیں جھکا کر اپنی سوچ کو جھٹکا ۔۔

منظور ہے۔۔۔اس کی آنکھوں میں سچائی اور ماں کے لیے محبت و عقیدت دیکھ کر اجازت دے دی۔وہ موبائل پر آنے والے کال کی طرف متوجہ ہوا اور موبائل اٹھا کر بڑی عجلت میں سیڑھیاں چڑھ کر اوپر چلے گئے ۔

ملازمہ چائے کی ٹرالی لےکر آئی۔ خوب حاطر مدارت کی گئی۔۔مسسز فاروقی کے ساتھ ادھر کی باتیں کرنے کے بعد وہ اجازت لے کر باہر نکل آئی ۔۔ وہاں ایک باوردی ڈرائیور گاڑی کے ساتھ مؤدب کھڑا تھا۔ اس کو دیکھ کر جلدی سے بیک ڈور کھولا۔۔۔ اور آہستہ سے دروازہ بند کرکے خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی ۔۔ گاڑی میں بیٹھ کر ادینہ نے محسوس کیا کہ سیکیورٹی گارڈ سے لے کر کچن کے ملازمہ، ڈرائیور تک سب ایک جیسے کلر کے یونیفارم میں ملبوس تھے

*******

پورے راستے وہ یہی سوچ رہی تھی کہ صارم فاروقی اور مسسز فاروقی میں کافی ایج ڈیپرنس لگ رہا تھا۔ کیا شاندار پرسنالٹی تھی ایس پی صاحب کی۔ اور ایج بھی کم۔ اور بچے تینوں بہت پیارے تھے۔ تینوں بچوں کے لکس ایس پی صاحب سے ڈیفرنٹ تھے۔ لیکن مسسز فاروقی سے کافی مشابہت رکھتے تھے تینوں ۔ خیر مجھے کیا کہ کون کیسا ہے ۔۔جاب پکی ہو گئی اتنی اچھی تنخواہ کے ساتھ ۔۔۔پک اینڈ ڈراپ الگ۔۔بس وہ اسی میں خوش تھی ۔۔