Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282 Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 19)

68.3K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 19)

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan

اس نے آنکھیں کھولی تو خود کو صارم کی باہوں میں قید پایا ۔۔ وال کلاک پر نظر ڈالی تو 11 بج رہے تھے ۔۔۔

رات کی نماز بھی قضا ہوگئی تھی اور صبح کی بھی۔۔۔

اس نے اپنے اوپر رکھا صارم کا ہاتھ آہستہ سے ہٹانا چاہا تو صارم نے اور زور سے اسے خود میں بھینچ لیا ۔۔

اس نے رخ صارم کی جانب موڑی ۔۔۔ وہی خوبصورت پر کشش چہرہ بال ماتھے پر بکھرے ہوئے۔۔۔

پر سحر آنکھیں بند تھی۔۔۔اس شخص کو پانے کے لئے اس نے اپنی دعائیں اور سجدے طویل کئے تھے ۔۔ اور آج وہ اس کے ساتھ تھا اسکے پہلو میں ۔۔۔ تو زندگی آزمائش لے کر سامنے کھڑی ہوگئی ۔۔۔ اس نے اپنا ہاتھ صارم کے چہرے پر رکھا۔۔۔

آئی لو یو صارم ۔۔۔۔ ادینہ نے صارم کے بند آنکھوں کو اپنے نرم لبوں سے چھو کر تسکین بخشی ۔۔۔۔

صبح صبح اتنا پیار ۔۔۔ سوئے ہوئے ہسبنڈ سے فلرٹ کر رہی ہو ۔۔۔ صارم نے بند آنکھوں سے پیارا سا ٹونٹ کیا۔۔۔۔

جی نہیں ۔۔ شوہر کو چھونا فلرٹ نہیں ہوتا پیار ہوتا ہے۔۔۔ ادینہ شائستگی سے ہمکلام ہوئی۔۔۔

تم خوش ہو نا میرا ساتھ پاکر ۔۔۔ صارم نے آنکھیں کھول کر اچانک پوچھا ۔۔۔

خوش بھی ہوں اور مطمئن بھی ۔۔۔ ادینہ نے جھجھک آمیز طمانیت سے اعتراف کیا ۔۔۔

ہاں یار ویسے میری پرسنالٹی ہے ہی ایسی کہ لڑکیاں ایک نظر دیکھتے ہی مرغوب ہوجاتی ہیں ۔۔۔ صارم مصنوعی تفخر سے اس کے چہرے پر نظریں گاڑھے اسے چھیڑنے لگا ۔۔۔

کوئی آپکو ایسی نظروں سے دیکھے تو سہی میں اس کی آنکھیں نوچ لوں گی ۔۔۔ ادینہ کا لہجہ خود بخود لڑاکا روایتی بیویوں والا ہوگیا ۔۔۔۔

چلو اٹھیں آپ مجھے بھوک لگی ہے ۔۔۔ اور ساتھ ہی کمبل ہٹایا تو آنکھوں میں ڈھیر سارا تخیر ابھرا ۔۔۔ بے یقینی سے صارم کی طرف چونک کر دیکھا ۔۔۔

واٹ۔۔۔۔ ایسے نا دیکھو مجھے کچھ ہوتا ہے ۔۔۔ صارم نے انجان بن کر کہا ۔۔۔

میں تو ولیمہ کے ڈریس میں تھی ۔۔۔ تو پھر یہ کیا ۔۔۔ ادینہ کی آنکھوں سرخ اور رنگت پل بھر میں متغیر ہوگئی ۔۔۔۔

میں نے چینج کروایا تھا تمہیں ۔۔۔ بے ہوش ہوگئی تھی تم ۔۔۔ اور سے تمہارا ڈریس ایمبرائیڈرڈ تھا ۔۔۔ اس طرح بے سکونی سے تو سونے نہیں دے سکتا تھا ۔۔۔ اور ہسبنڈ ہوں تمہارا ۔۔۔ کوئی شرعی حد نہیں رکھتا ۔۔ حد ہوگئی اتنی سی بات پر چہرہ انگارہ ہوگیا ۔۔۔ صارم نے قدرے سلجھے ہوئے انداز میں اسے سمجھایا ۔۔۔

ورنہ تم نے تو قسم کھائی ہے میرا صبر آزمانے کی۔۔ کبھی بخار کو بلاتی ہو کبھی بےہوشی کا دامن پکڑتی ہو ۔۔۔ جانتی بھی تھی کہ کل مجھے تمہاری توجہ و طلب کی کتنی ضرورت تھی ۔۔۔

ادینہ کو صارم کے زومعنی بات کا مفہوم سمجھ میں آیا ۔۔۔ تو پلکیں حیا سے جھک گئی ۔۔۔ اس سے واقعی فرض میں کوتاہی ہوگئی تھی ۔۔۔

تم فریش ہو جاؤ ۔۔ ناشتہ کرلو پھر کچھ ضروری باتیں ڈسکس کرنی ہے ۔۔۔

وہ اٹھ کر واشروم چلی گئی ۔۔۔

کل پوری رات نیند صارم کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔۔۔ اسے کوئی حل نظر نہیں ارہا۔۔ ادینہ کی حالیہ کنڈیشن کے پیش نظر اسے کچھ بھی بتایا جانا مناسب نہیں تھا ۔۔۔ کافی سوچ و بچار کے بعد اس نے ادینہ کی بھابھی سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔

اسلام وعلیکم بھابھی ۔۔۔ شازمہ کو کال ملائی ۔۔۔

وعلیکم السلام ۔۔۔ صارم کیسے ہو تم ۔۔۔ اور ادینہ کیسی ہے ۔۔۔ شازمہ کی متفکر آواز سپیکر سے ابھری۔۔۔

شکر ہے میں بھی ٹھیک ہوں اور ادینہ بھی۔۔۔بھابھی آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی۔۔۔ صارم ادینہ کے باہر نکلنے سے پہلے جلدی بات ختم کرنا چاہتا تھا ۔۔۔

مجھے بھی تم سے ملنا تھا صارم ۔۔۔ بات ایسی ہے کہ ہم فون پر ڈسکس نہیں کرسکتے ۔۔۔ باہر کہی مل سکتے ہو ؟؟؟ اس کی بھابھی نے متفکرانہ انداز میں پوچھا ۔۔۔

صارم اس کو ادینہ کی موجودگی میں گھر پر نہیں بلا سکتا تھا ۔۔ تو اسفند کے گھر کا اڈریس سمجھا دیا ۔۔ ویسے بھی آج کل وہاں کے مکین آوٹ آف کنٹری تھے ۔۔۔۔ تو کھلی چوٹ تھی ۔۔۔۔

ادینہ واشروم سے باہر نکلی تو بال برش کرنے لگی ۔۔۔ صارم اس کے پیچھے آکر کھڑا ہوگیا ۔۔۔ مرر میں ادینہ نے صارم کو اپنے پیچھے کھڑا دیکھا تو برش کرتے ہاتھ رک گئے ۔۔۔۔

تمہارے بال بہت پیارے ہیں ۔۔۔ صارم نے اس کی پشت پر بکھرے بالوں کو ایک طرف شولڈر پر ڈالا اور اس میں اپنا منہ چھپایا تو ادینہ کے دھڑکنیں منتشر ہوگئی ۔۔۔ اور بائیں کندھے پر اپنے لب رکھ دئے تو ادینہ کے ہاتھ کپکپانے سے برش چھوٹ کر نیچے گر گیا۔۔۔۔ تو صارم دور ہوگیا ۔۔۔

تمہارا یہ گریز کب ختم ہوگا یار ۔۔۔ میں جلد از جلد اپنے رشتے کو مکمل کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔

چلو ۔۔۔ صارم نے سر جھٹک کر اس کا ہاتھ پکڑا اور نیچے جانے لگا ۔۔۔۔

بال باندھ لوں تو ۔۔۔۔ ادینہ ہچکچاتے ہوئے بولی ۔۔۔

کھلے چھوڑ دو آج۔۔۔ ویسے بھی ہمارے گھر میں میرے علاؤہ کوئی دوسرا مرد نہیں ۔۔۔ صارم نے فرمائش کی ۔۔۔

کیوں؟؟؟ ادینہ ہکا بکا اسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔

کیونکہ مجھے پسند ہے ۔۔۔ مخصوص ٹھرے ہموار لہجے میں صارم نے اپنی خواہش کا اظہار کیا ۔۔۔۔

صارم میں آپ کی حکم عدولی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی لیکن مجھے سر ڈھانپنے کی عادت ہے اور کھلے بالوں پر دوپٹہ ٹکتا نہیں ہے ۔۔۔۔ آپ سمجھے پلیز ۔۔۔ ادینہ نے پر امید نگاہوں سے صارم کی طرف دیکھ کر کہا ۔۔۔

سمجھ گیا میں ۔۔۔ باندھ لو جلدی ۔۔۔ صارم نے مسکرا کر اجازت دے دی ۔۔۔

ادینہ نے بالوں کا رف سا جوڑا بنا دیا۔۔۔ اور دوپٹہ سر پر لے کر صارم کے ساتھ چلی گئی ۔۔

دونوں ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ گئے ۔۔ تو ملازمہ نے جلدی جلدی ادینہ کو ناشتہ سرو کردیا ۔۔۔

آپ نہیں کریں گے ناشتہ ۔۔۔ ملازمہ نے صرف ادینہ کا ناشتہ تیار کرکے سامنے رکھا تو اس نے صارم سے پوچھا ۔۔

ڈئیر وائفی ۔۔۔ ہمارے گھر میں سالوں سے کچھ رولز چلے آرہے ہیں ۔۔ ہم سب ایک ساتھ ناشتہ لنچ اور ڈنر کرتے ہیں ۔۔۔ تم فلحال مہمان ہو اور طبیعت بھی ناساز تھی تو تمہیں تھوڑا وقت دے رہے ہیں ایڈجسٹ ہونے کے لئے ۔۔۔ بائے دا وے ۔۔ بچے سکول جا رہے تھے میرے بغیر وہ لوگ ناشتہ نہیں کرتے ۔۔ تو میں نے ان کے ساتھ کرلیا ہے۔۔۔

کل سے ان شاءاللہ تم بھی ہمیں کمپنی دو گی ۔۔۔۔ صارم نے بہت پولائٹلی اور محبت سے اسے اپنی بات سمجھا دی ۔۔۔

اوکے ڈئر ہسبنڈ ۔۔ اور کچھ ۔۔۔ ادینہ نے فرمانبرداری سے سر خم کرکے صارم کے انداز میں جواب دیا۔۔

فی لحال اتنا ہی۔۔۔۔ اب خاموشی سے ناشتہ ختم کرلو ۔۔ میں ساتھ بیٹھا ہوا ہوں ۔۔۔

•••••••••••••♪••••••••••

ادینہ نے ناشتہ کرلیا تو صارم اس کے ساتھ اٹھنے لگا ۔۔

ادینہ میں ذرا اسفند کی طرف جارہا ہوں کچھ ضروری کام ہے ۔۔۔ تم پورا گھر گھوم آو ۔۔ اور شام میں تیار رہنا ارسلان کے گھر ڈنر پر انوائیٹڈ ہیں ہم ۔۔۔ صارم نے اسے آج کے پلاننگ سے آگاہ کیا۔۔۔

وہ آج اگر بھائی کی طرف جاتے تو ۔۔شادی کے بعد پہلے مائکے جاتے ہیں نا ۔۔۔ ادینہ نے اس کے روبرو کھڑے ہوکر اپنی دل کی بتا دی ۔۔۔

وہاں بھی چلے جائیں ایک دن ۔۔ صارم نے سہولت سے بات ٹال دی۔۔۔ اب اسے کیا بتاتی ۔۔۔ مائیکے جانے کے لئے مائیکے کا آباد ہونا ضروری تھا ویران نہیں ۔۔۔۔

شام کو اچھے سے تیار رہنا ۔۔۔ ادینہ کو گلے لگا کر ماتھے پر کس کرکے وہ چلا گیا۔۔۔

•••••••••••••••••••••••••

ادینہ گومگو کیفیت ہال میں کھڑی تھی ۔۔۔ کہ کیا کرے ۔۔۔ کہ مسز فاروقی اپنے روم سے نکل آئی۔۔۔

اسلام وعلیکم ۔۔۔ادینہ نے اس کو دیکھ کر سلام کیا۔۔۔

وعلیکم السلام ۔۔۔ کیسی طبعیت ہے اب تمہاری ۔۔۔

ٹھیک ہوں۔۔۔ بچے گئے ہیں سکول ۔۔۔ ادینہ نے پوچھا ۔۔۔۔

ہاں۔۔۔ ناشتے پر تمہارا ویٹ کر رہے تھے۔۔۔ حورم تو ناشتہ بھی نہیں کر رہی تھی کہ اپنی مما کے ہاتھ سے کروں گی ۔۔ پھر صارم نے اسے سمجھا دیا کہ اس کی مما کی طبیعت خراب ہے ۔۔۔ مسز فاروقی بڑے پرخلوص اور مان بھرے لہجے میں بولی۔۔۔

سوری ۔۔۔ آج لیٹ آنکھ کھلی ۔۔ پھر ان شاء اللہ سویرے اٹھونگی ۔۔۔ ادینہ نے جلدی سے وضاحت دی۔۔۔

صارم کہیں گیا ہے؟؟۔۔ اس سے بات کرنی تھی مجھے۔۔۔ قدرے توقف کے بعد حنا فاروقی گویا ہوئی ۔۔۔۔

ہاں اس نے کہا اسفند بھائی سے ملنے جانا ہے۔۔۔ کوئی ضروری بات ہو تو آپ کال کرکے بتا دے ۔۔۔ادینہ نے اس کے چہرے پر چھائی فکرمندی نوٹ کرکے مشورہ دیا ۔۔۔

ہاں وہ آج سکول میں میٹنگ ہے ۔۔ پیرنٹس کو بلایا ہے ۔۔۔۔کل کے مسئلے کیوجہ سے زارش اور ارمغان بھول گئے تھے صارم کو انفارم کرنا ۔۔۔

اوہ سوری ۔۔۔ آپ بلالے اسکو ۔۔ اور ساتھ چلی جائیں ۔۔۔۔

نہیں صارم کو کوئی ضروری کام ہوگا ورنہ اس طرح شادی کے دوسرے دن اپنی نئی نویلی دلہن کو چھوڑ کبھی نہیں جاتا ۔۔۔ اور میری طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔ رات کو بی پی شوٹ کر گیا تھا ۔۔۔ تو سوئی نہیں ہوں ۔۔۔ ورنہ میں خود چلی جاتی ۔۔۔

میں چلی جاؤں؟؟؟ میں بھی تو مما ہوں نا ۔۔۔ادینہ کے چہرے پر خوشگوار تاثرات ابھر ائے۔۔ ۔۔

آر یو شیور ۔۔۔ مسز فاروقی نے تعجب سے پوچھا۔۔۔

جی۔۔۔ میں ٹیچر تھی نا۔۔ مجھے پتہ ہے ٹیچر پیرنٹس میٹنگز کا ۔۔۔ میں چلی جاوں گی ۔۔۔۔ اتنا کچھ خاص نہیں ہوگا ۔۔۔ صابر چاچا چھوڑ دے گا۔۔۔ ایک انجانی خوشی ادینہ کے آنکھوں سے عیاں ہو رہی تھی ۔۔۔

چلو ٹھیک ہے تم جاکر تیار ہوجاو میں صابر چاچا کو بتاتی ہوں ۔۔۔ حنا فاروقی کو بھلا کیا اعتراض ہوسکتا تھا ۔۔۔ ویسے بھی ادینہ اب اس گھر کا حصہ تھی ۔۔۔۔

تھوڑی دیر بعد ادینہ نیچے آئی حسب عادت عبایا پہن سلیقے سے سکارف سر پر اوڑھے ۔۔۔۔ صارم نے شادی کی شاپنگ کرتے وقت ادینہ کے لئے دو تین نئے عبائے بھی خرید لئے تھے ۔۔۔

مسز فاروقی کو یہ صاف دل لڑکی بہت پسند تھی ۔۔۔

اچھا میں چلتی ہوں آپ ریسٹ کیجیے ۔۔۔ اس سے اجازت لیکر ادینہ چلی گئی ۔۔۔

سکول پہنچ کر اسے پرنسپل آفس میں بلایا گیا۔۔۔ جہاں کچھ پیرنٹس پہلے سے موجود تھے۔۔۔

پرنسپل نے اسکی طرف غیر شناسا نظروں سے دیکھا۔۔۔

میں مسز صارم فاروقی ہوں ۔۔۔ ارمغان فاروقی اور زارش کی نئی مما ۔۔۔ وہ بچوں کی موم کی طبیعت رات سے ٹھیک نہیں تھی تو میں آگئی ۔۔۔۔ادینہ نے اعتماد کے ساتھ اپنا انٹروڈکشن کروایا ۔۔۔

اچھا اچھا آپ ہے ایس پی صاحب کی وائف ۔۔۔ ابھی کل ہی تو شادی ہوئی تھی نا ۔۔۔۔پرنسپل نے تائیدی نظروں سے اسے دیکھ کر کہا ۔۔۔

اوکے ۔۔۔ ڈزنٹ میٹر ۔۔۔ میٹنگ اٹینڈ کرکے سب جانے لگے تو اس نے پرنسپل سے اجازت مانگی حورم سے ملنے کی ۔۔ اس نے بخوشی اجازت دے دی۔۔۔

مما۔۔۔۔حورم جیسے ہی آفس میں انٹر ہوئی ادینہ کو دیکھ کر خوشی سے چہکتی ہوئی آکر اس کے گلے لگی ۔۔۔ ادینہ نے اسے گود میں اٹھا کر پیار کیا ۔۔۔

پرنسپل نے ستائشی نظروں سے دونوں کو پیار کرتے دیکھا ۔۔۔۔ صارم فاروقی جیسا کئیرنگ انسان ایسی لڑکی ہی ریزرو کرتا ہے ۔۔۔ وہ خود بچوں کے سکول آتا تھا ۔۔۔ ہر میٹنگ خود اٹینڈ کرتا تھا ۔۔ بچوں کے معاملے میں کبھی غفلت سے کام نہیں لیا ۔۔۔

پھر حورم کو واپس کلاس میں بھیج کر وہ بھی سکول سے نکل آئی جہاں ڈرائیور اس کا منتظر تھا۔۔۔

••••••••••••••••••••••••••

وہ دونوں اسفند کے گھر کےوسیع لان میں آمنے سامنے بیٹھے تھے ۔۔۔۔

صارم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں الجھایا ہوا تھا ۔۔۔ چہرے پر تفکر کے آثار واضح دکھائی دے رہے تھے ۔۔۔ وہ سوچ رہا تھا کہ بات کہاں سے شروع کرے ۔۔۔۔

صارم کیا ہوا اتنا نروس کیوں ہو رہے ہو ۔۔۔ کچھ ہوا ہے کیا ۔۔ اتنے نڈر آفیسر کے چہرے پر پہلی دفعہ تشویش دیکھ رہی ہوں ۔۔۔ شازمہ نے صارم کے ماتھے پر پھیلی شکنوں کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔

بات ہی ایسی ہے بھابھی ۔۔۔۔ میں ادینہ سے بہت پیار کرتا ہوں ۔۔ اور اس حوالے سے آپکی بہت ریسپکٹ کرتا ہوں ۔۔۔ احمد کے بارے میں بات کرنی ہے ۔۔۔ میں آپ کو اور ادینہ کو ہرٹ کرنا نہیں چاہتا ۔۔۔لیکن بتانا بھی ضروری ہے ۔۔۔۔۔صارم الفاظ کا استعمال بہت احتیاط کے ساتھ کر رہا تھا۔۔۔

میں سب جانتی ہوں صارم ۔۔۔ احمد جو کام کرتا ہے۔۔۔ سب پتہ ہے مجھے ۔۔۔ میں نے ادینہ کی شادی اتنی جلدی میں کیوں کروائی تمہارے ساتھ ۔۔۔ میں اسے مظبوط اور مخفوظ ہاتھوں میں سونپنا چاہتی تھی ۔۔۔ اگر میں بروقت یہ شادی نا کرواتی تو اس کو اپنے بھائی کے تمام گھناونے جرائم کا پتہ چل جاتا ۔۔۔ اور تب وہ شاید اپنی زندگی اپنے ہاتھوں ختم کرتی ۔۔۔ کیونکہ اس کے پاس جینے کی کوئی اور وجہ بھی نہیں ہوتی۔۔۔

شازمہ نے خود سے بات کا آغاز کیا ۔۔۔

آپ کو پتہ تھا تو آپ مجھے بتاتی نا۔۔۔ اتنا تو مجھ پر یقین کرسکتی تھی آپ ۔۔ صارم نے لمبی سانس لے کر شکوہ کیا ۔۔۔۔

مجھے بہت دیر سے پتہ چلا ۔۔۔ جس دن امی کی ڈیتھ ہوگئی تھی تب ۔۔۔ پھر اس نے سب کچھ صارم کو خرف بہ خرف بتایا ۔۔۔۔

بھابھی اب ہم کیا کریں گے ۔۔۔ وہ کل رات گھر آیا تھا ۔۔۔ اتنا ہنگامہ برپا کردیا تھا یہ تو شکر ہے ادینہ بے ہوش ہوگئی ۔۔۔ اصلی بات چھپا کر میرے بچوں کو ہتھیار بنا کر ادینہ کو ورغلا رہا تھا۔۔۔ اور آپ یہ بھی جانتی ہے کہ وہ بہت جلد پولیس کی گرفت میں ہوگا ۔۔۔ لیکن مجھے آپ کے اور بچوں کے لئے بہت گلٹ فیل ہو رہا ہے کہ میں آپ لوگوں کے لئے کچھ کر بھی نہیں سکتا ۔۔۔ میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔۔۔ وہ گناہگار ہے ۔۔۔ اس کے لئے کوئی رعایت نہیں ۔۔۔

صارم ۔۔ انسان جو کرتا ہےاسے اپنے کئے کی سزا بھگتنی پڑتی ہے ۔۔۔ اور مجھے تمہاری ایمانداری پر کوئی شک نہیں بلکہ فخر ہے ۔۔۔ میں اپنے بچوں پر احمد کے برائیوں کا سایہ بھی پڑنے نہیں دونگی ۔۔۔ تم اپنی ڈیوٹی پوری کرو ۔۔۔ اور یہ ہمارے گھر کے کاغذات ہیں ۔۔۔ احمد نے دیے ہیں کہ ادینہ سے سائن کروالوں وہ گھر بیج رہا ہے ۔۔۔۔ لیکن یہ تم اپنے پاس رکھو ۔۔۔ یہ گھر ادینہ کے لئے اس کی کل کائنات ہے ۔۔۔ اسکے امی ابو کی اور ادینک کی بچپن کی آخری نشانی ۔۔۔ یہ احمد کے ہاتھوں نہیں لگنے چائیے ۔۔۔ شازمہ کی آواز بھرائی ۔۔۔۔

بھابی یہ آپکا گھر ہے ۔۔۔ بچوں کا گھر ہے ۔۔۔ آپ کہاں جائیں گی؟؟؟ یہ آپ رکھ لے ۔۔۔۔میں اس طرح آپ لوگوں کو در بدر ٹھوکریں کھاتے نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔ یہ ادینہ آپکے اور بچوں کے نام کردے گی ۔۔۔ مگر میں یہ نہیں رکھ سکتا ۔۔۔ صارم نے ماتھے پر تنقیدی بل لئے اعتراض کیا ۔۔۔۔

میں اپنے باپ کے گھر جا رہی ہوں ۔۔۔ میرے پرینٹس زندہ ہیں وہ میری زمہ داریوں کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں ۔۔ میں اپنے بچوں کو اب حرام کی کمائی کا ایک نوالہ کھانے نہیں دوں گی ۔۔۔ شازمہ تلخی سے گویا ہوئی ۔۔۔

آپ کو جب جب میری ضروت ہو ۔۔۔ مجھے پکارنا۔۔ بہت احسانات ہیں آپ کے مجھ پر ۔۔۔ اسکا قرض میں مرتے دم تک نہیں اتار سکتا ۔۔۔صارم کے پاس اسے دلاسہ دینے کے لئے الفاظ نہیں تھے ۔۔۔

تم ادینہ کو خوش رکھو ۔۔۔ بہت کچھ سہا ہے اس نے۔۔۔ یہ آخری گھاؤ ہوگا مجھے یقین ہے تم پر کہ تم اس کے زخموں کا مرہم بنو گے ۔۔۔ اسے ٹوٹنے بکھرنے نہیں دوگے ۔۔۔۔

احمد کا پردہ فاش کردو صارم ۔۔۔ ایسے لوگ معافی اور رحم کے مستحق نہیں ۔۔۔ بد کا انجام برا ہوتا ہے ۔۔۔۔ اسے کڑی سزا دلوا دو ۔۔۔ تاکہ کوئی اور درندہ کسی معصوم لڑکی سے اسکی معصومیت نہ چھینے ۔۔۔۔ کسی اور ماں کا جوان بیٹا نشے کا عادی نہ ہو جائے ۔۔۔ میں خود ایک ماں ہوں جو آج مجھ پر بہت رہی یہ تکلیف میں اچھے سے محسوس کر سکتی ہوں ۔۔۔ اگر ضرورت پڑی تو گواہی دینے مجھے بلا لینا۔ ۔۔۔ یہ کہہ کر وہ رکی نہیں دل پر منوں بوجھ لے کر چلی گئی۔۔۔۔۔

•••••••••••••••••••••••••