Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282 Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 17)

68.3K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 17)

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan

دوپہر دو بجے ادینہ جاگی تو صارم گیلری میں کھڑا اسفند سے فون پر بات کر رہا تھا ۔۔۔

شادی تمہاری تو نہیں ہوئی جو گدھے گھوڑے بیچ کر سو رہے ہو ۔۔۔ شام کو جلدی پہنچنے کی کوشش کرنا ۔۔ ساری ارینجمنٹ چیک کرنی ہے۔۔۔ اگر مجھے کوئی کمی بیشی نظر آئی تو جانتا ہے نا مجھے ۔۔۔ صارم کے کشادہ پیشانی پر بل نمودار ہوئے ۔۔۔۔

اوکے باس ۔۔۔ لے اٹھ گیا ۔۔۔۔ ویسے صارم اگر مجھے کھبی ساس ملی تو وہ بھی تیری طرح جابر نہیں ہوگی ۔۔۔۔ میرے پیرنٹس باہر جاتے وقت مجھے تمہارے ذمے سونپ گئے تھے اور ادھر تو مجھ پر جبر کے پہاڑ توڑے جا رہا ہے ۔۔۔اسفند کی نیند سے بوجھل آواز میں دہائیاں عروج پر تھی ۔۔۔۔

ابھی تو میں نے کچھ کیا نہیں ۔۔۔ اگر ایک منٹ میں تو واش روم نہیں گیا تو تمہاری درگت بنانے میں میں کوئی دقت نہیں ہوگی ۔۔۔۔

یہ کہہ کر صارم نے کال ڈسکنکٹ کی۔۔۔

روم کے اندر آیا تو ادینہ کو بیٹھتے دیکھ کر اس کے قریب آکر بیٹھ گیا۔۔۔

کیسا فیل کر رہی ہو اب۔۔۔

ٹھیک ہوں ۔۔۔ لیکن سر بھاری ہورہا ہے ۔۔ ادینہ نے کسلمندی سے جواب دیا۔۔۔

صارم نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر بخار چیک کیا تو اتر گیا تھا۔۔۔

چلو شکر ہے بخار تو نہیں ہے ۔۔۔ تم کھانا کھا لو پھر بیوٹیشن آکر تمہیں تیار کرےگی ۔۔۔

تھوڑی دیر بعد مسز فاروقی کھانا لے کر آئی تو ادینہ نے بس تھوڑا سا کھانا کھانے پر اکتفا کیا ۔۔۔

صارم روم سے باہر چلا گیا اور ادینہ مسز فاروقی کے ساتھ بیٹھ کر بیوٹیشن کا ویٹ کرنے لگی۔۔۔

اس کے ہاتھ پر پہنے چمکتی بریسلٹ پر نظر پڑی تو پوچھ لیا۔۔

صارم نے پہنایا ہے منہ دکھائی میں ؟؟ حنا فاروقی آنکھوں میں تخیر سموئے گویا ہوئی ۔۔۔۔

جی ی ی ی۔۔ ادینہ نے اس کی طرف دیکھ کر جواب دیا۔۔

بہت پیارا ہے ۔۔ بلکل تمہاری طرح ۔۔۔ اس نے توصیفی نگاہ سے دیکھ کر تعریف کی ۔۔

ادینہ یک ٹک اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔ کچھ بھی نہیں تھا اس کے چہرے پر ۔۔نہ دکھ تکلیف کی ہلکی سی رمق ۔۔۔ نہ طنز۔۔ نہ حقارت ۔۔ نہ گلہ۔۔ بلکل کھرا لہجہ۔۔ لیکن آواز میں تھوڑا سا درد کا عنصر شامل تھا۔۔

کیا اس کا ظرف اتنا بڑا ہے کہ اپنے شوہر کو شئیر بھی کردیا اور رتی بھر افسوس بھی نہیں تھا انہیں ۔۔۔ کچھ تو تھا جو ادینہ کو کھٹکا ۔۔۔ جو بھی ہوا قسمت کا لکھا تھا ۔۔۔ وہ خود کو بھی دوش نہیں دے سکتی ۔۔۔۔ کیونکہ صارم کو اسکا ہم سفر بننا تھا ۔۔۔۔

بیوٹیشن اس کو تیار کر رہی تھی ۔۔ کہ صارم روم میں چلا آیا۔۔۔

سنئے ۔۔۔ صارم نے ڈائریکٹ بیوٹیشن کو مخاطب کیا۔۔۔

آج ادینہ کے بالوں میں کوئ جل اور کسی قسم کا بھی ہیر سپرے یوز مت کرنا۔۔ اسے ان چیزوں سے الرجی ہے ۔۔۔ میں نہیں چاہتا اس کے بال خراب ہو۔۔۔۔خاصہ تنبیہی لہجہ تھا ۔۔۔۔

اوکے سر۔۔۔ بیوٹیشن نے ادب سے جواب دیا۔۔۔

آج بھی ادینہ کا ڈریس پستہ گرین کلر کا تھا۔۔ لیکن اس کے ساتھ پنک کلر کی کمبینیشن کی گئی تھی ۔۔ اور یہ ایک لونگ میکسی تھی ۔۔ بہت زیادہ ہیوی نہیں تھی ۔۔۔ وہ آسانی سے کیری کر سکتی تھی ۔۔۔۔

فائنل ٹچ کے بعد بیوٹیشن نے اسے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا کیا۔۔۔

ادینہ نے خود کو دیکھا تو متخیر سی اپنے سراپے پر نظر ڈالی ۔۔۔ پنک اور گرین کلر کا آئی شیڈ لگایا گیا تھا۔۔۔ جس نے آنکھوں کو اور بھی حسین بنایا تھا ۔۔ بال نیچے سے تھوڑے سے کرلی کرکے کھلے چھوڑ دئیے گئے تھے ۔۔۔ کچھ آگے کی طرف اور کچھ پشت پر۔۔۔ ابھی وہ خود کا جائزہ لینے میں مصروف تھی ۔۔ کہ دروازہ کھول کر زارش اور ارمغان اندر داخل ہوئے اور ادینہ سے لپٹ گئے ۔۔۔

گڈ آفٹر نون مما۔۔۔ دونوں نے ایک ساتھ کہا۔۔

مما یو لک گارجئس۔۔۔ زارش نے محبت پاش نظروں سے ادینہ کو دیکھ کر کہا۔۔

تھینکس میرا بچا۔۔ ادینہ نے جھک کر دونوں کو پیار کیا۔۔۔

صارم بھی حورم کو گود میں اٹھائے اندر آگئے۔۔۔

ادینہ کو دیکھ کر اس کے قدم رک گئے۔۔۔ وہ صارم کے سامنے اپنی تمام تر رعنائیوں سمیت جلوہ گر تھی ۔۔۔ کچھ آوارہ لٹیں چہرے کا طواف کر رہی تھی ۔۔۔ اور صارم کی دھڑکنوں میں طلاطم برپا کر رہی تھی ۔۔۔ وہ رغبت سے اسے دیکھ رہا تھا تو ادینہ نے جز بز ہوتی نگاہیں جھکائی ۔۔۔

چلو بچوں ہال پہنچنا ہے گاڑیاں تیار ہے۔۔ مسز فاروقی بچوں کو بلانے اوپر آئی تھی۔۔۔

ما شاءاللہ ۔۔ بیوٹیفل ۔۔۔ مسز فاروقی نے ادینہ کو دیکھ کر بے ساختگی سے کہا ۔۔۔

تھینکس۔۔۔ ادینہ ہچکچائی ۔۔۔

مسز فاروقی تینوں بچوں کو ساتھ لے کر گئی۔۔۔

صارم آگے بڑھا اور پورے استحقاق کے ساتھ ادینہ کے ماتھے پر لگی بندی کو اٹھا کر نرمی سے اپنے لب وہاں رکھ دئے ۔۔۔ مگر ہونٹ جیسے سل گئے تھے ۔۔۔کچھ بولنے سے انکاری تھے ۔۔۔ تھوڑے توقف کے بعد اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام کر نیچے اترا۔۔۔

گڈ آفٹر نون ڈئیرسٹ بھابھی پلس سسٹر۔۔۔ دونوں کو ایک ساتھ سیڑھیوں سے اترتے دیکھ کر اسفند نے وش کیا۔۔۔

گڈ آفٹر نون بھائی ۔۔ بٹ آپ مجھے بھابھی نا کہا کرے ۔۔ مجھے نام سے پکارا کریں ۔۔۔ادینہ پہلے سے کافی حجل تھی ۔۔۔۔ رہی سہی کسر اسفند نے پورا کیا ۔۔۔۔

ارسلان مہک بھی موجود تھے۔۔ وہ بھی خوشدلی سے ملے ۔۔۔

تمام لوگ ہال سے نکلے اور گاڑیوں کی طرف بڑھنے لگے ۔۔۔

آج بھی ارسلان اور اسفند صارم کی گاڑی میں تھے۔۔۔

پندرہ بیس منٹ بعد وہ لوگ میرج ہال پہنچ گئے ۔۔۔

صارم نے گاڑی سے نکل کر ادینہ کے سائیڈ کا دروازہ کھولا اور ہاتھ بڑھایا ۔۔۔ ادینہ نے اس کا ہاتھ تھاما اور باہر نکلی ۔۔۔

گیٹ سے لے کر پوری راہداری میں سٹیج تک ریڈ کارپٹ بچھایا گیا تھا۔۔۔

تمام لوگوں کی نظروں کا مرکز یہ خوبصورت کپل تھا۔۔۔ کچھ لوگوں کی نظروں میں ستائش تھی تو کچھ میں جلن۔۔۔

ارسلان اسفند مہک مسز فاروقی سب ان کے ساتھ چل کر سٹیج تک ائیں ۔۔۔ ادینہ کو سٹیج پر بٹھا کر صارم نیچے اتر کر لوگوں سے ملنے لگا ۔۔ جس میں ہر فیلڈ کے لوگ شامل تھے ۔۔۔

صارم ہر ایک سے مسکرا کر مبارک باد وصول کر رہا تھا۔۔

ادینہ کی بھابھی اور ملیحہ لوگ بھی پہنچ گئے تو دنوں ادینہ کے گلے لگے۔۔۔

بھائی نہیں پہنچے بھابھی ۔۔۔ ادینہ کو بھائی نظر نہیں آیا تو پوچھنے لگی ۔۔

نہیں ۔۔۔ہم نے ان کا بہت ویٹ کیا لیکن نہیں پہنچے۔۔ ڈونٹ وری آج ضرور پہنچیں گے ۔۔۔ اس کی بھابھی نے اس کی آنکھوں میں چمکتے آنسو دیکھ کر جیسے آس دلائی ۔۔۔

ملیحہ اس کے ساتھ چپک کر بیٹھ کر رازونیاز کرنے لگی ۔۔۔

منہ دکھائی میں کیا ملا۔۔۔۔

ادینہ نے ہاتھ پر بندھا بریسلٹ دکھایا۔۔۔۔

بریسلٹ ۔۔۔ واووووو۔۔۔ بہت پیارا ہے۔۔۔۔

تھینکس ۔۔۔ ادینہ نے مسکرا کر جواب دیا۔۔ اور صارم جو اسی وقت اپنے سرکل کے کچھ آفیسرز کے ساتھ محو گفتگو تھا ۔۔ دور سے ہی ادینہ کو آنکھوں کے حصار میں لئے ہوئے تھا۔۔۔۔

اپنے چہرے پر نظروں کا ارتکاز محسوس کرکے ادینہ نے اپنے سامنے دیکھا تو مسکراتے لب سمٹ گئے۔۔۔

پوری رات دل نہیں بھرا تمہارا جو ابھی بھی اس کو ندیدوں کی طرح تاڑ رہا ہے۔۔ مانتا ہوں کچھ زیادہ پیاری لگ رہی ہے ۔۔۔ لیکن اس طرح پبلک میں اسکو ایمبیرس کیوں فیل کروارہا ہے ۔۔۔ اسفند جو کب سے اسے نوٹس کر رہا تھا۔۔ اس کے کان کے قریب سرگوشی کی۔۔۔

صارم نے جارحانہ تیوروں سے اسفند کو دیکھا ۔۔

اتنے بڑے مجمے میں تمہاری دھلائی کرنے میں مجھے تو کوئی ہتک محسوس نہیں ہوگی۔۔۔۔ اگر تمہیں اپنی عزت کی لاج رکھنی ہو تو ادھر سے جا۔۔۔ ملیحہ کے ساتھ باتیں کر کے دل بہلاؤ اپنا ۔۔۔۔

اووو سوری۔۔۔ اسفند نے ہاتھ اوپر کر کے جیسے ایکسکیوز کیا ۔۔۔۔

اس کے ساتھ بات کرنا تو لوہے کے چنے کھانے کے مترادف ہے ۔۔۔ اور سٹیج کی طرف بڑھنے لگا جہاں ملیحہ ادینہ کے ساتھ ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی ۔۔۔

اسلام وعلیکم بیوٹیفل لیڈیز ۔۔۔۔۔ اسفند نے دونوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ۔۔۔

ملیحہ نے چونکتے ہوئے اس کی طرف دیکھا تو اسفند کی مقناطیسی نظریں اس پر ٹکی ہوئی تھی ۔۔۔۔ اس نے بالوں کو کھلا چھوڑ کر آگے کی طرف سے فرنچ ہئر سٹائل کیا تھا ۔۔ نفاست سے ہلکا پھلکا میک اپ کرکے بھی وہ قیامت ڈھا رہی تھی۔۔۔

یہ کیا چھچھوروں کی طرح دیکھ رہے ہو۔۔ اپنی ماں بہن نہیں ہے کیا۔۔۔ ملیحہ نے جلدی سے اپنی ٹون چینج کی ورنہ وہ بھی غیر ارادی طور پر اسفند کے سحر میں مبتلا ہو گئی تھی ۔۔۔

ایک عدد پیاری سی موم بھی ہے۔۔۔ بہن بھی ہے۔۔ وہ کیا ہے نا بیوی سے ابھی تک محروم ہوں ۔۔۔ اسفند نے سر خم کرکے بڑی معصومیت سے کہا تو ملیحہ سٹپٹا گئی ۔۔۔

کیسی ہے آپ بھابھی۔۔۔ اسفند نے جلدی سے شازمہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔۔ مبادا ملیحہ بھرے مخفل میں اس کی خاطر تواضع نہ کریں ۔۔۔

ٹھیک ہوں ۔۔۔ شازمہ نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔۔

ادینہ کے سر اور بدن میں درد کی تیز لہر دوڑی ۔۔۔ اس نے سر کو ہاتھوں میں تھام لیا ۔۔۔

مسز فاروقی جو مہمانوں کی آمد پر انہیں ویلکم کر رہی تھی ۔۔۔ ادینہ کے پاس چلی ائی۔۔۔

آر یو اوکے ادینہ ۔۔۔۔۔

چکر آرہے ہیں ۔۔ پورے باڈی میں پین ہو رہا ہے۔۔۔ادینہ کو ہلکا ہلکا پسینہ آنے لگا ۔۔۔

اسفند جاؤ پانی لے آو جلدی ۔۔۔ مسز فاروقی نے اسے پانی لانے بیج دیا اور ادینہ کے پرس میں رکھی گئی میڈیسن نکالی ۔۔۔ صارم نے دور کھڑے سٹیج پر افراتفری کا عالم دیکھا تو مضطرب سا لمبے لمبے ڈگ بھرتا سٹیج تک پہنچ گیا۔۔

کیا ہوا اسے ۔۔۔ طبیعت پھر سے خراب ہوئی ہے کیا۔۔۔

صارم نے ادینہ لال آنکھیں دیکھ کر بے قراری سے کہا ۔۔۔ تو جنونی کیفیت میں اس کو ساتھ لگایا۔۔

ہاں میں نے میڈیسن دے دی۔۔ ابھی تھوڑی دیر بعد ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔ مسز فاروقی نے بے چین ہوتے صارم کو تسلی دی۔۔۔

م م میں ٹھیک ہوں۔۔۔ آپ گیسٹ کو دیکھے ۔۔ صارم کے بازوؤں کے حلقے میں ادینہ شرم سے لرز گئی۔۔۔۔

تم ذرا ادھر آنا بھائی صاحب ۔۔۔ اسفند نے صارم کو کن اکھیوں سے دیکھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور سائیڈ پر لے کر گئے ۔۔

اب تم اپنا بھائی نامہ شروع مت کرنا۔۔ کل رات وہ سو گئی تھی حورم کے ساتھ ۔۔۔ میں نے ہاتھ بھی نہیں لگایا اسے ۔۔۔۔ تو بہتر ہے چپ چاپ یہاں سے کھسک لو ۔۔۔ صبح سے ہر ایک کو وضاحتیں دے دےکر تھک چکا ہوں ۔۔۔اور تو جاکر ارسلان کے ساتھ گیسٹ اٹینڈ کرو۔۔۔ صارم نے خونی نظروں سے اسے دیکھ سختی سے تنبیہ کی ۔۔۔

بیٹا بیوی تمہارے یہ ساری اکڑ نکالنے آگئی ہے۔۔ میرے سارے بدلے وہ تم سے چن چن کر لے گی ۔۔اسفند کے بے تکانہ ریمارکس پر وہ بغیر کان دھرے چل پڑا۔۔۔

ولیمہ بخیریت اختتام کو پہنچا ۔۔ تو ادینہ جو کب سے خود پر جبر کرکے مسکرا کر سب سے مل رہی تھی ۔۔۔ اس نے صارم کو جلدی گھر جانے کو کہا۔۔ تو تھوڑی دیر بعد وہ لوگ گھر روانہ ہوگئے۔۔۔

گھر پہنچ کر ادینہ نے سکھ کا سانس لیا ۔۔

صارم اسکو ڈائریکٹ روم میں لے آیا۔۔

ابھی وہ دونوں بیٹھے ہی تھے کہ ادینہ کو نیچے سے اپنے نام کی گونج سنائی دی۔۔۔ کوئی چلا چلا کر اس کا نام پکار رہا تھا۔۔۔

آواز جانی پہچانی تھی۔۔۔

ادینہ جلدی سے روم سے باہر نکلی ۔۔۔ سیڑھیوں کے اوپر سے بلانے والے کو دیکھا تو خوشی اور خیرت کے ملے جلے جذبات سے پکاری۔۔۔

بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کے بھائی نے اوپر دیکھا تو کرخت لہجے میں پکارا ۔۔۔ نیچے اترو جلدی ۔۔۔

ادینہ بھاگتے بھاگتے نیچے آئی اور بھائی کے گلے لگی ۔۔۔

سالوں بعد اپنے بھائی کا لمس محسوس کرکے ادینہ تڑپ اٹھی ۔۔۔ اور رونے لگی۔۔۔

اس کے بھائی نے خود سے لگا کر اسکا ماتھا چوما۔۔۔

پھر اچانک رغب دار آواز میں کہا ۔۔۔ گھر چلو۔۔ اور اسے مہلت دیے بغیر اسکا ہاتھ پکڑ کر جانے لگا کہ ادینہ نے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا۔۔

بھائی میری شادی ہوگئی ہے ۔۔۔ رخصت ہوکر یہاں آئی ہوں۔۔یہ دیکھے ابھی ہمارا ولیمہ تھا۔۔ ادینہ نے اپنے سجے روپ کی طرف اس کی توجہ دلائی ۔۔۔

کس کے لئے اتنا سج دھج کے تیار ہوئی ہو۔۔ ایک شادی شدہ آدمی کے لئے ۔۔ جس کی آلریڈی بیوی بچے ہیں۔۔۔ تمہاری جگہ کہاں ہوگی ادینہ ۔۔۔ تم میں کوئی کمی تھی یا تمہاری عمر گزر گئی تھی شادی کی کہ مجھے بھی اندھیرے میں رکھ کر شادی کی ۔۔۔

بھائی مجھے لگا تھا بھابھی نے آپکو سب کچھ بتایا ہوگا ۔۔ ادینہ روتے ہوئے صفائی دینے لگی ۔۔۔

اس سے تو میں بعد میں نبٹ لوں گا ۔۔۔ پہلے تم چلو گھر ۔۔ میں ایسی کسی شادی کو نہیں مانتا۔۔۔۔ احمد بپھر گیا ۔۔۔۔

ادینہ کہیں نہیں جائے گی ۔۔ یہ بیوی ہے میری ۔۔ پورے عزت کے ساتھ اپ کی بہن کی رضامندی سے اسے بیاہ کر کے لایا ہوں۔۔۔ بھگا کر نہیں لایا۔۔۔ صارم جو سیڑھیوں پر استقامت سے اتر رہا ہے اونچے آواز میں بولا۔۔۔

مسز فاروقی نے بچوں کے خوف ذدہ چہرے دیکھے تو ان کو کمرے کے اندر بیج دیا۔۔۔

انکےبچے کہاں ایسے لہجوں کے عادی تھے۔۔ اس کے گھر میں کبھی کسی نے اونچی آواز میں بات تک نہیں کی تھی ۔۔۔

بھائی میں صارم سے بہت پیار کرتی ہوں۔۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ بال بچوں والا ہے ۔۔۔اس نے بار بار میری عزت بچائی ہے۔۔۔

بند کرو اپنی بکواس ۔۔۔ عزت بچائی تھی تو یہ اس کی ڈیوٹی تھی ۔۔۔ قانون کا عزتوں کا رکھوالا ہے یہ ۔۔۔ کیوں ساری عمر اس کے بچوں کو پالوگی ۔۔۔ تم اتنی بڑی وقوفی کیسے کر سکتی ہو ۔۔۔ اس کا بھائی اونچی آواز میں غرایا۔۔۔۔

آواز نیچی کر کے بات کریں آپ ۔۔ ادینہ کے بھائی ہے آپ اس لئے برداشت کر رہا ہوں۔۔۔ ورنہ۔۔۔

ورنہ کیا۔۔ اپنی وردی کا پاور دکھائے گا۔۔۔ جو بھی کرنا ہے کرلے ۔۔ میں اپنی بہن کو یہاں سے لیکر جارہا ہوں ۔۔۔ روک سکتے ہو تو روک کر دکھاؤ ۔۔۔ احمد نے سفاکیت کی انتہا کردی ۔۔۔

احمد بھائی پلیز ۔۔۔ م م م میں صارم کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں ۔۔ میں ان کے ساتھ خوش رہوں گی۔۔ مر جاؤں گی بھائی میں صارم کے بغیر۔۔۔

ادینہ گڑگڑا کر اس کی منت کرنے لگی۔۔۔ادینہ کے آنسوؤں صارم کے دل پر آگ کے گولے بن کر برس رہے تھے ۔۔۔ اس کی طبیعت بھی خراب تھی ۔۔۔ مزید کوئی ڈرامہ وہ افورڈ نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔

آپ اس طرح ادینہ کے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے ۔۔ ان سے پوچھے اگر یہ خود آپ کے ساتھ جانے پر راضی ہو تو میں اسے نہیں روکوں گا۔۔ صارم نے دل پر پتھر رکھ کر کہا لیکن اندر درد کی ٹھیسیں اٹھنے لگی ۔۔۔ ادینہ کا دور جانا اسکے لئے سوہان روح بن گیا تھا ۔۔۔

ادینہ اب بھی اپنا ہاتھ چھڑانے کیلئے تگ ودو کر رہی تھی۔۔ جو احمد نے سختی سے دبوچا تھا۔۔۔وہ خود صارم سے دور جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔۔۔

ادینہ کیا تمہاری زندگی میں ایک بھائی کے فیصلے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔۔ بڑا بھائی باپ سمان ہوتا ہے ۔۔۔ یہ تو تم جانتی ہو نہ۔۔ تو آرام سے چلو میرے ساتھ ۔۔۔ ورنہ مرتے دم تک تمہیں اپنی شکل نہیں دکھاؤں گا۔۔۔۔احمد نے اس کو ایموشنلی بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔۔۔

ادینہ کے مزاحمت کرتے ہاتھ رک گئے تو صارم کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔

**************