Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282 Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 16)

68.3K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 16)

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan

دور کہی اذانوں کی آواز سن کر ادینہ کی آنکھ پھر سے کھل گئی ۔۔۔۔ جلدی سے اٹھ کر واش روم چلی گئی ۔۔ بیوٹیشن نے اس کے بالوں پر جل اور ہیر سپرے یوز کیا تھا جس سے ادینہ کے بالوں میں خارش ہو رہی تھی ۔۔ شاور لینا چاہا تو گیزر کا نہیں پتہ تھا کہ کہاں سے آن ہوتا ہے ۔۔ خارش بڑھنے لگی تو ٹھنڈے پانی سے ہی بال واش کئے۔۔۔ باہر نکل کر جائے نماز ڈھونڈنے کے لئے ادھر ادھر نظر دوڑائی لیکن اسے نہیں ملا۔۔۔

پھر وہ ڈریسنگ روم میں چلی گئی تو وہاں پر اسے کبرڈ میں جائے نماز مل گیا ۔۔ اس نے نماز پڑھی اور دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے ۔۔۔

صارم نے کروٹ لے کر آنکھیں تھوڑے سے واہ کئیں تو حورم کو اپنے پاس لیٹتے پایا۔۔۔۔ کمرے میں نگاہ ڈالی تو ادینہ موجود نہیں تھی ۔۔۔ پہلے وہ اس روم اور اپنی تنہائی کا بلا شرکت غیرے مالک تھا ۔۔ لیکن اب ادینہ اس کی ملکیت میں حصہ دار تھی ۔۔۔

وہ بیڈ سے نیچے اترا اور ایک نظر واش روم پر ڈالی ڈور اوپن تھا تو ڈریسنگ روم کی جانب قدم بڑھائے۔۔۔

ادینہ آنکھیں بند کر کے ابھی دعا مانگ رہی تھی کہ صارم ڈریسنگ روم کا دروازہ کھول کر آیا۔۔۔ اسے دعا مانگتے دیکھ کر خاموشی سے اس کی گود میں سر رکھ کر آنکھیں بند کرکے لیٹ گیا۔۔۔۔ ادینہ نے دعا مانگی تو اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرے ۔۔۔

کیا مانگا دعا میں ؟؟ صارم نے از حد نرمی سے اسکے پر رونق چہرے کو دیکھ کر استفسار کیا ۔۔۔۔

آج مانگ نہیں رہی تھی ۔۔ مانگا تو بہت پہلے تھا ۔۔ آج اللّٰہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے ۔۔۔ تو شکریہ ادا کر رہی تھی اللّٰہ کا ۔۔۔ ادینہ پیار سے اس کے صبیح چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔

کیا مانگا تھا ؟؟ دوسرا سوال ۔۔

آپکا ساتھ اور آپکا پیار ۔۔۔۔ آپ کا ساتھ تو مل گیا۔۔ یقین کامل ہے پیار بھی مل جائے ۔۔۔۔ اس نے پر امید ہو کر کہا ۔۔۔۔

صارم نے اپنے چہرے سے اس کا ہاتھ ہٹا کر اسکی ہتھیلیوں پر اپنے لب رکھ کر آنکھوں سے لگائیں۔۔۔۔

تم رات کو سو گئی تھی ۔۔۔۔ تمہیں پتہ تھا میں نے تمہیں جی بھر کر دیکھا بھی نہیں تھا ۔۔ تمہاری خوبصورتی کو سراہنا تھا ۔۔۔بہت سارا پیار کرنا تھا ۔۔۔ ڈھیر ساری باتیں کرنی تھی ۔۔۔ صارم نے ہلکا سا گلہ کیا ۔۔۔۔

آپ جگا سکتے تھے مجھے ۔۔۔ اس نے صارم کو مورد الزام ٹھہرایا ۔۔۔

ہممممممم ۔۔۔اچھا ۔۔۔ صارم سابقہ کیفیت برقرار رکھ کر اسکی گود میں سر رکھے لیٹا رہا ۔۔۔ پتہ نہیں ایک عجیب سا سرور بدن میں دوڑ رہا تھا۔۔۔۔

حورم سو رہی ہے ؟؟؟ ادینہ نے پوچھا۔۔۔

ہاں نئی مما کچھ زیادہ ہی اچھی لگی جیسے دیکھ کر اپنے پاپا کو بھی بھول گئی ۔۔۔۔ وہ دھیرے سے ہنسا ۔۔۔

وہ ادینہ کے مہندی لگے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیکر اپنا نام ڈھونڈنے لگا اور پھر جلد ہی نام مل گیا ۔۔۔ دل کو ایک دم ٹھنڈک ملی ۔۔ روح تک سرشار ہوگئی ۔۔۔۔ بے ساختہ وہاں دوبارہ اپنے لب رکھے ۔۔۔ صارم کے ملائی جیسے ہاتھوں میں اپنے سانولے ہاتھ ادینہ کو احساس کمتری کا شکار بنا رہے تھے ۔۔۔ جبکہ صارم اسی ہاتھوں کو بار بار عقیدت سے چوم کر خود کو سکون پہنچانے کی کوششوں میں لگا تھا ۔۔۔ اور اسے بس وہی سکون چاہیے تھے ۔۔ جس کی اسکی زندگی میں کمی تھی ۔۔۔۔

آپ نے تو میری دو بول تعریف بھی نہیں کی ۔۔۔بھابھی اور ملیحہ بول رہی تھی کے میں بہت پیاری لگ رہی ہوں ۔۔۔ اور مجھے دیکھ کر آپ کے ہوش اڑ جائیں گے۔۔۔۔ لیکن آپ کو تو جیسے کوئی فرق ہی نہیں پڑا ۔۔۔ ادینہ نے میٹھا سا شکوہ کیا ۔۔۔

کتنی مشکل سے اپنے بے لگام جذبوں کو قابو میں رکھا تھا تم اندازہ نہیں لگا سکتی ۔۔ اور دوسری بات تمہاری یہ سادگی کسی تعریف کی محتاج نہیں ۔۔۔۔ اس کے چہرے کو اپنے نظروں کے حصار میں لے کر سنجیدگی سے بولا۔۔۔۔

آپ کی آئیز بہت پیاری ہے ۔۔۔ سمندر کی طرح بہت گہری بہت خاموش ۔۔۔۔ ادینہ نے بلا جھجک دل کی بات کہہ دی ۔۔۔

ہممممم۔جانتا ہوں ۔۔۔ جبھی تو میں جب جب سامنے آجاتا تھا ۔۔ تو تم پلک جھپکانا بھول جاتی تھی ۔۔۔ صارم کا لہجہ کسی قسم کے طنز سے حالی تھا ۔۔۔۔

ٹھیک کہا ۔۔۔ آپ جب بھی میرے روبرو آتے تھے۔۔ تو یہ جان کر بھی کہ آپ کی اپنی فیملی ہے بچے ہیں ۔۔۔ کبھی میرے ہو ہی نہیں سکتے ۔۔۔میں پھر بھی اپنے حواسوں میں نہیں رہتی ۔۔۔ بس یہی چاہتی تھی آپ سامنے رہے اور میں آپکو دیکھتی رہوں ۔۔۔ میں نے بہت دعائیں مانگی تھی صارم آپ کا ساتھ مانگنے کی ۔۔۔ اور مجھے یقین تھا کہ میری دعائیں رائیگاں نہیں جائے گی ۔۔۔ لیکن کبھی کبھی آپ ایسی بے اعتنائی برتتے تھے کہ میں نے اپنی محبت سے دستبردار ہونے کے لیے سفیان سے شادی کرنےکے لئے ہامی بھی بھرلی تھی۔۔ کہ ہمارا ملاپ شاید ممکن نہیں ۔۔۔ مگر اللّٰہ کو مجھ پر رحم آگیا تھا ۔۔۔ امی کو تو لے لیا اور بدلے میں آپ کا ساتھ دے دیا ۔۔۔۔۔

جزبات کی شدت سے ادینہ کی آواز رندھ گئی ۔۔۔۔

سچے جذبے اور صبر رائیگاں نہیں جاتے ڈئیر ۔۔۔۔ اور شدت سے مانگی ہوئی دعائیں کبھی رد ہو ہی نہیں سکتی ۔۔۔ اور نا ہی ہمیں جلدبازی میں ہار مان کر کوئی بڑا فیصلہ لیکر اپنی لائف اسپوئل کرنی چائیے ۔۔ ہاں میں مانتا ہوں کہ زندگی کے بے رحم لہروں نے مجھے کٹھور بنا دیا ہے لیکن میں اپنی ذات سے کسی کو بھی ہرٹ ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔۔ اور تمہیں تو بالکل بھی نہیں ۔۔۔۔ صارم نے اسے اپنے اوپر جھکا کر اسکے ماتھے پر بوسہ دیا ۔۔۔۔

اور میں آخری دم تک تم سے اظہار محبت نہیں کرونگا ادینہ ۔۔۔ میں نے اپنی محبت کو تھپکی دے کر ابدی نیند سلایا ہے ۔۔ میری مجبوریوں نے میرے پیروں میں بیڑیاں ڈال دی ہے ۔۔۔ صارم صرف خیالوں میں خود سے مخاطب تھا۔۔۔۔ کہنے کی اس میں ہمت نہیں تھی ۔۔۔

صارم اٹھ کر روم میں چلا گیا تو ادینہ نے جائے نماز فولڈ کر کے واپس اپنی جگہ پر رکھ دی اور اس کے پیچھے روم میں چلی آئی ۔۔۔

صارم واپس لیٹ گیا تھا ۔۔ وہ اپنی جگہ پر جانے والی تھی کہ صارم نے اشارے سے اسے اپنے پاس بلایا۔۔ وہ اسکے پاس چلی گئی ۔۔۔۔

بیٹھ جاؤ ادھر میرے پاس ۔۔ حکم دیا گیا ۔۔۔

صارم وہ حورم ۔۔۔۔۔ ادینہ ہچکچائیں ۔۔۔

بچی ہے وہ ۔۔۔ صارم بضد تھا ۔۔۔۔

وہ عجیب کشمکش میں تھی ۔۔ صارم بچی ہے وہ بھی آپ کی لہذا عمر سے ذیادہ سمجھدار ہے ۔۔۔

ادینہ اس کے ساتھ سیمٹ کر بیٹھ گئی ۔۔۔ تو صارم نے حورم پر ایک احتیاطی نظر ڈال کر ادینہ کو اپنے اوپر گرا لیا ۔۔۔۔

ادینہ اس کے دل کے مقام پر انگلی پھیرنے لگی۔۔۔صارم ۔۔۔۔

ہممممم ۔۔۔

ارمغان زارش اور حورم ان میں کوئی بھی آپ پر نہیں گیا ہے ۔۔ بس حورم کی آنکھیں آپ جیسی ہے گرین ۔۔۔ میں جب پہلے دن آئی تھی تبھی نوٹس کیا تھا ۔۔۔ ادینہ کا ہاتھ بے اختیار صارم کے نچلے لب کے نیچے تک تک پہنچ گیا ۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ چھیڑ خوانی شروع کردی ۔۔۔۔

ہاہاہاہاہا۔۔ چھوٹے سے دماغ سے اتنا سوچتی ہو تم۔۔۔ حورم کی آنکھیں مجھ پر نہیں گئیں ۔۔۔ اور ہاں یہ ہاتھ ہٹاؤ اگر میں نے کچھ کیا اور حورم اٹھ گئی تو مجھے قصوروار ٹہراؤگی۔۔۔۔

ادینہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔۔۔ آپ ہنستے ہوئے بہت اچھے لگتے ہیں ۔۔۔۔ ہنسا کرے ۔۔۔ ادینہ ہاتھ ہٹا کر نرمی سے اپنے لب اسکے تل پر رکھ دئے۔۔۔۔

اور اپ بولتے بھی بہت کم ہے ۔۔ میں دس باتیں کروں تو آپ بس ایک کا جواب دیتے ہیں ۔۔۔۔

ہاں۔۔۔۔۔ کیونکہ مجھے بولنے سے زیادہ تمہیں سننا پسند ہے ۔۔۔ صارم نے ایک لمحے کیلئے اسکی حرکت پر ششدر تھا ۔۔۔۔

سو جاؤ ادینہ آج پھر تھکا دینے والا دن ہے ۔۔۔۔ شادی میں نے سادگی سے کی لیکن ولیمہ میں میرے فیلڈ کے کافی بڑے بڑے آفیسرز انوائیڈ ہے ۔۔۔۔

اس نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں بند کر لی۔۔۔ حورم اتنی بھی بچی نہیں تھی ۔۔ کہ اس کی موجودگی کو وہ نظر انداز کردیں ۔۔۔

صارم نے اس کی بے چینی نوٹ کی ۔۔ وہ جانتا تھا ادینہ کو کہ وہ شرم و حیا کا پیکر تھی ۔۔۔ ادینہ کے گال کو کس کرکے نا چاہتے ہوئے بھی اسے اٹھنے کی اجازت دے دی ۔۔۔۔ اور وہ حورم کے دوسری سائیڈ جاکر لیٹ گئی ۔۔۔۔

*********

اپنے چہرے پر نرم سا لمس محسوس کر کے ادینہ نے آنکھیں کھولی تو حورم اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے اس کے چہرے کو تھتپھا کر اسے اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔

مما مجھے واش روم جانا ہے۔۔۔

وہ جلدی سے اٹھی اور اسے واش روم لے کر گئی ۔۔ واشروم کرنے کے بعد اسکا منہ دھو کر واپس لے آئی ۔۔ اور صارم کے ساتھ اس کو بٹھا دیا۔۔۔

حورم بیٹا اپنے پاپا کو اٹھاو ۔۔۔ حورم صارم کے اوپر چڑھ کر بیٹھ گئی اور اس کبھی فیس پر کھبی ماتھے پر کس کرنے لگی ۔۔ پاپا اٹھے نا۔۔۔۔ حورم کو آپ کے ساتھ کھیلنا ہے ۔۔۔

صارم نے آنکھیں نیم واہ کرکے حورم کو ایک جھٹکے سے آہستہ سے بیڈ پر گرا دیا ۔۔ تو اس کی کھلکھلاہٹیں سارے روم میں گونج اٹھی ۔۔۔۔

وہ تینوں ایک دوسرے میں مگن خوب مستی کر رہے تھے ۔۔۔

ڈور نوک ہوا۔۔۔ تو ادینہ نے اٹھ کر اوپن کیا۔۔۔

مسز فاروقی کو سلام کرکے اندر آنے کا بولا۔۔۔

حنا نے حورم کو صارم کے ساتھ مستی کرتے دیکھ کر ادینہ کی طرف ملامت نظروں سے دیکھا۔۔

سوری ادینہ ۔۔ حورم میری نسبت صارم سے بہت زیادہ اٹیچڈ ہے ۔۔۔ آپ لوگوں کی اسپیشل رات خراب کردی ۔۔۔

کوئی بات نہیں ۔۔ صارم کے ساتھ ساتھ اسکو میری بھی عادت ہو جائیگی جلدی ۔۔ میں کوشش کروں گی ۔۔۔

تھینکس ۔۔۔ مسز فاروقی نے دل سے گویا ہوئی

حورم چلو بیٹا تمہیں واش روم کرنا ہے ۔۔۔ اور چینج بھی کرنا ہے ۔۔۔

واش روم کر دیا ہے موم ۔۔۔ حورم جانا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔ جلدی سے بولی۔۔

کس نے کروایا؟؟ مسز فاروقی سے پہلے صارم کی طرف نظر گھما کر پوچھا۔۔۔

نئی مما نے ۔۔۔ وہ خوشی خوشی بتانے لگی۔۔ تو صارم نے بہت پیار بھری تائیدی نظروں سے ادینہ کی طرف دیکھا ۔۔

چلو چینج کروادو تمہیں۔۔۔۔

نہیں میں نے پاپا کے ساتھ کھیلنا ہے ۔۔

حورم گڑیا ابھی سونے کا ٹائم نہیں صبح ہوگئی ہے۔۔۔۔ناشتہ کریں گے ۔۔ پاپا کو فریش ہونا ہے ۔۔ ضد نہیں کرتے بچا ۔۔۔ مسز فاروقی نے اسے سمجھایا ۔۔

اوکے موم ۔۔ اس نے صارم کو اور ادینہ کو کس کیا اور چلی گئی ۔۔۔۔

اس کے پیچھے ادینہ بھی جانے والی تھی کہ صارم نے روکا ۔۔۔

تم کہاں جارہی ہو۔۔۔

باہر ۔۔ آپ بھی اٹھے ۔۔۔فریش ہوجائے۔۔۔ ناشتہ کرنے جانا ہے مجھے بھوک لگی ہے کل سے کچھ کھایا نہیں ۔۔۔۔ ادینہ راہ فرار ڈھونڈ رہی تھی ۔۔۔ تنہائی ملتے ہی اسکو ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔۔۔۔

میں چھٹی کے دن اتنی جلدی نہیں اٹھتا بےبی۔۔ نہ ہی بچے۔۔۔ شام کو پروگرام ہے تو ابھی سے اٹھ کر کیا کریں گے ۔۔۔ صارم نے اسے اپنی ڈیلی روٹین سے آگاہ کیا ۔۔۔

وہ دوبارہ واپس آگئی ۔۔۔

اب تو حورم نہیں ہے نہ ۔۔ صارم نے معنی خیز انداز میں پوچھا ۔۔۔

تو۔۔۔۔ادینہ نے ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔

تو مطلب ہم کنٹینیو کرے ۔۔۔ صارم نے آنکھ دبا کر شرارت سے کہا ۔۔۔

دس بج گئے ہیں صارم ۔۔۔۔ ادینہ دوبارہ اٹھنے لگی کہ صارم نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے واپس بٹھایا ۔۔۔۔

ادینہ ایک بات کلیر کروانی ہے۔۔۔ اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں الجھا کر صارم سنجیدگی گویا ہوا ۔۔۔

جب جب مجھے تمہاری ضرورت ہو ۔۔۔ اور میں تمہارے پاس آنا چاہوں تو مجھے نا مت کرنا۔۔ سب کچھ برداشت کر لوں گا تم سے دوری اور تمہارا گریز نہیں ۔۔۔اور میں رشتوں میں بجائے زبردستی رضامندی کا قائل ہوں ۔۔۔اس نے صاف اور واضح الفاظ میں جتایا۔۔۔۔

جی ی ی ی ۔۔۔ادینہ کو اپنی حرکت پر ڈھیروں شرمندگی نے آگھیرا ۔۔۔۔۔

صارم نے سائیڈ ٹیبل کے ڈرار سے ایک جیولری باکس نکالا اور خوبصورت نازک سا بریسلٹ نکال کر اسے پہنایا جس میں ہیرے جڑے ہوئے تھے ۔۔۔

ادینہ ہکا بکا اپنے ہاتھ پر پہنے بریسلٹ کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔

کیا ہوا اچھا نہیں لگا۔؟؟ اسکی حیران نظروں میں ایک عجیب س تاثر تھا ۔۔۔

یہ تو بہت ایکسپنسیو ہے۔۔اور بہت پیارا بھی۔۔۔۔ادینہ کی نظروں میں ستائش تھی۔۔۔

تمہاری مسکراہٹ سے زیادہ قیمتی اور پیارا نہیں۔۔۔۔۔ اسے اپنے ہاتھ سے کبھی نہیں اتارنا۔۔۔ یہ ہر وقت تمہیں آس پاس میری موجودگی کا احساس دلائے گا ۔۔۔۔

ادینہ کے ہاتھوں کی گرمائش اور کپکپاہٹ اسے بہت کچھ باور کروا گیا۔۔۔ گردن پر ہاتھ رکھا ۔۔ تو متجسس سا ادینہ کو دیکھنے لگا۔۔۔۔

کیا ہوا۔۔ ادینہ نے اچانک سر اٹھا کر پوچھا۔۔

تمہارا بخار اترتا نہیں ہے۔۔۔؟؟ صارم شکوہ کناں لہجے میں بولا اور اسے نرمی سے بیڈ پر لٹایا۔۔۔ تم ارام کرلو میں فریش ہوکر ڈاکٹر سے بات کرتا ہوں ۔۔۔

خود واش روم چلا گیا۔۔۔ اور پھر اسے جیسے سانپ سونگھ گیا اور سرعت میں باہر نکلا ۔۔۔

ادینہ کے قریب بیٹھ کر اسکا دوپٹہ اس کے سر سے سرکایا ۔۔۔

اوہ نووووو ۔۔۔ ادینہ گیزر تو آف تھا تو تم نے ٹھنڈے پانی سے باتھ کیوں لیا ہے ۔۔۔ نومبر کا لاسٹ ویک چل رہا ہے ۔۔۔۔ صارم نے دبے غصے سے کہا۔۔۔

میرے بالوں میں خارش ہو رہی تھی ۔۔ سارے بال چپک گئیں تھے آپس میں ۔۔ پارلر والی نے پتہ نہیں کیا کچھ بالوں میں لگایا تھا ۔۔ مجھے عادت نہیں ہے نہ ان سب چیزوں کی۔۔ تو۔۔۔۔۔۔۔اور مجھے گیزر کا نہیں پتہ تھا کہ کہا سے آن ہوتا ہے۔۔دینہ نے اٹک اٹک کر بات مکمل کی ۔۔۔۔

فرض تو نہیں تھا اس وقت شاور لینا۔ ۔۔ مجھے اٹھا دیتے ۔۔ یا بعد میں لیتی ۔۔ صارم نے مٹھیوں کو سختی سے بھینجا۔۔۔ بخار تو معمولی بات ہے اب تک جم کر برف بن چکی ہوتی تم ۔۔۔ وہ اٹھا اور کمرے کا ہیٹر آن کرکے ڈاکٹر کو کال ملانے لگا۔۔

**********

جلدی سے فریش ہوکر وہ سیڑھیاں اتر کر نیچے آیا۔۔۔ مسز فاروقی حسب معمول کچن میں بزی تھی۔۔۔اسے دیکھ کر قریب آئی۔۔۔

کیا ہوا ۔۔ شکل پہ بارہ کیوں بج رہے ہیں ۔۔ اس نے استفسار کیا ۔۔۔

ادینہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔ صارم نے پریشانی سے کہا۔۔۔۔

کیا ہوا اسے۔۔ صبح تو بلکل ٹھیک تھی۔۔۔۔

بخار ہے اسے ۔۔۔ صبح سے ہی ہوگا۔۔ اس نے بتایا نہیں تھا۔۔۔ صارم کے عضلات تن گئے ۔۔۔

اوہ۔ اوکے میں جاتی ہوں اس کے پاس ۔۔ مسز فاروقی نے ملازمہ کو کچھ ہدایات دی اور اوپر روم میں چلی گئی ۔۔۔

ادینہ کیا ہوا۔۔ طبیعت خراب ہے۔۔

ادینہ کچھ نہیں بولی۔۔۔

اس نے ادینہ کے کھلے بکھرے بال باندھ لئے ۔۔۔ اور دوپٹہ اچھی طرح سیٹ کیا ۔۔ اسے پتہ تھا صارم اپنے رشتوں کے لئے کتنا پوزیسیو ہے ۔۔۔

تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر نے چیک اپ کرکے اسے میڈیسن دی۔۔۔ انجکشن بھی لگایا کہ شام تک ٹھیک ہو جائے گی ۔۔۔

صارم ڈاکٹر کو چھوڑنے گیا۔۔۔ تو مسز فاروقی بھی اٹھنے لگی ۔۔ تا کہ ادینہ کو کچھ کھلا دے میڈیسن نہار منہ نہیں دے سکتی ۔۔۔

صارم کو باہر دروازے پر ملی ۔۔۔

میں کچن میں جارہی ہوں۔۔۔ادینہ کے لئے کچھ ہلکا پھلکا ناشتہ تیار کرنے۔۔۔۔ شام تک اسے ٹھیک ہونا ہے۔۔اتنے سارے لوگوں کو مدعو کیا گیا ہے۔۔

اوکے ۔۔۔صارم نے کہا اور روم میں چلے گئے۔۔۔

یار ادینہ حد ہے ۔۔۔ شادی کی صبح ہی بغیر کسی جرم کے ملزم بنا کر کٹہرے میں کھڑا کردیا ۔۔ ڈاکٹر مجھے ایسے گھور رہا تھا جیسے ساری رات تم پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے ہو۔۔۔اور تم میری وجہ سے بیمار ہوئی ہو۔۔۔۔ خالانکہ ظلم تو مجھ پر کیا ہے میری عزیز از جان بیٹی اور بیوی نے۔۔۔۔۔تنقیدی لہجہ تھا۔۔

عنودگی میں ادینہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگنے لگی ۔۔۔

مسز فاروقی نے ناک کیا اور بمعہ ناشتہ روم میں داخل ہوئی ۔۔

تم اٹھو وہاں سے ۔۔ صارم کو ادینہ کے ساتھ چپک کر بیٹھتے دیکھا تو جلدی بولی۔۔۔

کیوں۔۔۔صارم کے چہرے پر ناگواری در آئی۔۔۔

مسز فاروقی کی آنکھوں میں بھی وہی کچھ پڑھا جو ابھی تھوڑی دیر پہلے ڈاکٹر کی آنکھوں میں تھا۔۔۔۔

آپ بھی وہی سوچ رہی ہے نہ۔۔ جو ابھی ڈاکٹر مجھے طنز کے تیر مار کر گئے ہیں۔۔۔

میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔ اس پاگل لڑکی کو شوق تھا سویرے سویرے ٹھنڈے پانی سے باتھ لینے کا۔۔میڈم کو ہئر سپرے سے الرجی ہو رہی تھی۔۔۔صارم نے خشمگیں نظروں سے گھور کر جلدی سے اپنی صفائی دی۔۔۔

مسز فاروقی ہولے سے مسکرائی اور ادینہ کو اٹھا کر ناشتہ کروانے لگی۔۔۔۔

******”””********