Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282 Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 23)

68.3K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 23)

Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan

مما آپ ڈاکٹر کے پاس گئی تھی ۔۔۔ وہ جیسے ہی گھر آگئی پہلے حورم سے ملنے اس کے روم میں چلی گئی ۔۔۔ صبح سے اسے نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔

ہاں میری جان ۔۔۔ اور میں نے اپنے بچے کو بہت مجھے مس کیا ۔۔۔۔ ادینہ نے پیار سے اسے باہوں میں بھرا ۔۔۔ اور تم نے یاد کیا ؟؟؟

ہاں اتنا سارا ۔۔۔ حورم نے چھوٹے چھوٹے بازوؤں کو پھیلا کر کہا ۔۔۔۔

مما کے ساتھ سونا ہے ؟؟؟؟ ادینہ اسے اس طرح خود سے لگائے پوچھ بیٹھی ۔۔۔۔۔

نہیں ادینہ ۔۔۔ یہ صبح پھر جلدی نہیں اٹھتی ۔۔۔ تم جاکر ریسٹ کرو ۔۔۔ اکیلے پورے گھر کا پھیلاوا سمیٹا ہے ۔۔۔ تھک گئی ہوگی ۔۔۔۔ اور اپنے شوہر کا بھی کچھ خیال کرو ۔۔۔۔ اس طرح بے رخی اور گریز تم دونوں کے درمیان موجود رشتے کو کمزور کر دے گی ۔۔۔ خود پہل کرو ۔۔۔ اس کے قریب جاؤ ۔۔۔ پیار جتاو ۔۔۔۔

جی ۔۔۔۔ ادینہ نے تابعداری سے سر ہلایا ۔۔۔۔

حورم کو دونوں گالوں پر کس کرنے کے بعد وہ زارش اور ارمغان کے پاس بھی آگئی ان دونوں کو بھی پیار کیا ۔۔۔

روم میں آگئی ۔۔۔ تو صارم بالکنی میں کھڑا ارسلان کے ساتھ فون پر بات کر رہا تھا ۔۔۔

وہ ڈریسنگ روم میں چلی گئی عبایا اتارا ۔۔۔

صارم کو کل سے ڈیوٹی پر جانا تھا ۔۔۔ اس کا یونیفارم چیک کیا تو پریس کیا ہوا تھا ۔۔۔ تو ڈریسنگ روم نے نکل آئی ۔۔۔۔

صارم نے دروازہ بند ہونے کی آواز پر پیچھے دیکھا تو ادینہ کو دیکھ کر اسے خوشگوار طمانیت کا احساس ہوا ۔۔۔ وہی ڈریس پہنے جو وہ لایا تھا ۔۔۔ دیکھنے میں اتنا قابل تعریف نہیں تھا لیکن ادینہ پر بہت چج رہا تھا ۔۔۔ لمبے بھورے گیلے بال پشت پر بکھرے پڑے تھے ۔۔۔ دوپٹہ کندھے پر ٹکا ہوا تھا ۔۔۔ وہ برش اٹھا کر بالوں میں پھیرنے لگی ۔۔۔ مگر توجہ کا مرکز صارم ہی تھا جو لاتعلقی کا اظہار کررہا تھا ۔۔۔۔

کافی ملے گی ۔۔۔ موبائل کان سے ہٹا کر اسکے سراپے پر ایک گہری نظر ڈالی ۔۔۔۔

لا رہی ہوں ۔۔۔۔ صارم کی طرف دیکھا تو اسکی نظروں میں وارفتگی سے خائف ہوکر جلدی سے منظر سے غائب ہوگئی ۔۔۔

تمہارا یہ گریز ۔۔۔۔ ہمیں گھائل کردے گا ۔۔۔۔ ایک سرد آہ فضا کے سپرد کر دی ۔۔۔۔

تو ابھی تک غصہ ہے ۔۔۔ دوسری طرف ارسلان نے پوچھا ۔۔۔

وہ منا ہی نہیں رہی ۔۔۔ بس اپنی معصوم اداؤں سے مجھے اپنی طرف کھینچ رہی ہے ۔۔۔۔

ہاں تو تم نے اپنی خوفناک شکل اور لہجے کی کڑواہٹ دیکھی ہے ۔۔۔ ہٹلر کی اولاد ۔۔۔ اوپر سے رومینس کا الف ب بھی نہیں جانتا ۔۔۔ وہ بیچاری تو یہ سوچ کر آہیں بھرتی ہوگی کہ کس قسم روکھے پھیکے ہسبنڈ سے پالا پڑا ہے ۔۔۔۔ہنسنا مسکرانا یہ بھی تمہیں دیکھ کر کوسوں دور بھاگتے ہیں ۔۔۔ ویسے لاسٹ ٹائم ہنسا کب تھا تو ۔۔۔۔

آج شام کو ۔۔۔ جب تمہاری بھابھی کو اڑا کر لے جارہا تھا اور چیخوں کا ایک طوفان تھا جس سے پورا علاقہ لرز رہا تھا ۔۔۔ صارم اپنا کارنامہ سنا رہا تھا ۔۔۔۔

یو ڈفر۔۔۔ شرم نہیں آئی تمہیں ۔۔۔

یہ کس بلا کا نام ہے ۔۔۔۔ یہ جو تم لوگ مجھ سے ٹھرکیوں والی حرکتیں کرواتے ہو اس ٹائم تم لوگوں کی اپنی شرم گھاس چرنے گئی ہوتی ہے۔۔۔ جو سب مجھے درس دینے نکلے ہو ۔۔۔

وہ رومینس ہوتا ہے ۔۔۔ شرم نہیں ۔۔۔ ابھی پرسوں شادی ہوئی ہے اور تو ابھی تک وہی کھڑا ہے ۔۔۔ آگے بڑھ صارم ۔۔۔ زندگی جی لے اپنی ۔۔۔ ادینہ کو اپنا ہونے کا احساس دے ۔۔۔ وہ خود کتنا کچھ سہہ چکی ہے بس ایک تمہارے رحم و کرم پر ہے ۔۔۔۔ اپنی ماضی کی تلخیاں اس کا پیار سمیٹ کر دور کردو ۔۔۔۔ خود کو اور اسے مکمل کردو ۔۔۔۔ بھردو اسکی جھولی اپنی بے لوث محبت سے ۔۔۔ میں نے تو ایک مہینہ تک ہنی مون منایا تھا ۔۔۔۔ یہ نکاح کا رشتہ اوپر سے محبت کی شادی یہ اللّٰہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت ہے ۔۔۔ جو دونوں تمہیں دستیاب ہیں ۔۔۔ اپنا ماضی کھول کر اس کے سامنے رکھ دو ۔۔۔ تمہارے اندر جو غموں کا لاوہ ابل کر پک رہا ہے اسے باہر نکالو ۔۔۔ وہ مرہم بنے گی۔ تمہارے ہر درد کی دوا بنے گی تم قدم تو اٹھاؤ ۔۔۔ سمجھ رہے ہو نا ۔۔۔

کافی۔۔۔۔۔ ادینہ نے بھاپ اڑتی کافی اس کے سامنے پیش کی ۔۔۔

یہ فون زرا مجھے پکڑا دے ۔۔۔۔

کیوں ؟؟؟ صارم نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا ۔۔۔

مجھے بات کرنی ہے ارسلان بھائی سے ۔۔۔۔

اوکے بڈی سونا ہے مجھے ۔۔۔۔ اللّٰہ حافظ ادینہ کی بات کو سراسر نظر انداز کر کے اس نے کال کاٹ دی ۔۔۔۔

ادھر بالکنی میں رکھے گئے چئیر ہر بیٹھ کر کافی پینے لگا ۔۔۔۔

ادینہ تب تک ساتھ میں کھڑی تھی ۔۔۔

کیوں سر پر سوار ہوکر کھڑی ہو ۔۔۔۔ ہنوز خاموشی سے کھڑے دیکھ کر پوچھ لیا ۔۔۔۔

آپ شاید بھول گئے ہیں آپ میرے ساتھ کافی شئیر کریں گے ۔۔۔۔ بے خوف انداز تھا ۔۔۔

۔

اپنے لئے دوسری نہیں بنا سکتی تھی تم ۔۔۔۔سردمہری سے بولا ۔۔۔

نہیں ۔۔۔ وہ بڑے بزرگ کہتے ہیں نہ ۔۔ شوہر کا جھوٹا کھانے اور پینے سے پیار بڑھتا ہے ۔۔۔ ادینہ نے قدرے ٹھہرے انداز میں کہا ۔۔۔ تو صارم کے تپتی روح میں ایک ٹھنڈی لہر سرائیت کرنے لگی ۔۔۔

تو نظریں بے اختیار خود کو تکتے وجود پر جیسے ٹہر گئی ۔۔۔۔

پی لو ۔۔۔ آدھا کپ پی کر باقی اس کو پینے کا کہہ کر خود روم میں چلا گیا ۔۔۔ وہ بھی کپ پکڑے اس کے پیچھے آئی ۔۔۔

یار پرابلم کیا ہے تمہیں ۔۔۔ وہ جو دراز پر جھک کر سر درد کی میڈیسن نکال رہا تھا ۔۔ اپنے پیچھے کھڑی ادینہ کو دیکھ کر ایک دم مڑا تو گرم گرم کافی اس کے ہاتھ پر الٹ گئی ۔۔۔

سسسس ۔۔۔۔ ادینہ جلن سے بلبلائی ۔۔۔

سوری ۔۔۔ میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا ۔۔۔ دکھاؤ ہاتھ ۔۔۔

ہاں بالکل ۔۔۔۔ میں ہی آپ کے پیچھے آتی ہوں خوار ہونے کے لئے ۔۔۔ آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو سموئے درد سے بولی ۔۔۔۔

تم بیٹھو ادھر ۔۔۔۔ بے تابی سے کہہ کر وہ ڈریسنگ روم گیا واپس آیا تو ہاتھ میں ٹیوب تھا ۔۔۔

اسکا ہاتھ پکڑ کر مرہم لگایا تو ادینہ نے زور سے آنکھیں میچی ۔۔۔۔

اب وہ مرہم کے اوپر سے ہی پھونک مار رہا تھا ۔۔۔۔

میری کافی ۔۔۔ میں نے ایک گھونٹ بھی نہیں پی تھی ۔۔۔۔ کافی اب اتنی بھی گرم نہیں تھی ۔۔۔ مگر ادینہ کی ڈرامہ بازی ۔۔ صارم کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے ایک چھوٹی سی کوشش کی ۔۔۔

سیرئیسلی ادینہ ۔۔۔ تمہارا ہاتھ جل گیا ۔۔۔ تمہیں اب بھی کافی کی پڑی ہوئی ہے ۔۔۔۔ یکلخت سنجیدگی اختیار کرکے صارم نے ڈپٹا ۔۔

صارم آپ مجھے معاف کردے نا۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔ مجھے منانا نہیں آتا ۔۔۔۔ ہمارے گھر میں کوئی تھا ہی نہیں صرف امی تھی اور وہ کبھی ناراض ہی نہیں ہوتی ۔۔۔ اب آپ اتنے شدید ناراضگی جتا رہے ہیں مجھ سے نہیں ہو رہا ۔۔۔۔ میں جب گھر میں خفہ ہوتی تھی یا کوئی ضد کرتی تھی۔۔ تب امی کہتی تھی کہ اپنے ناز نخرے شوہر سے اٹھوانا ۔۔۔ مگر یہاں تو آپ کو میری پروا ہی نہیں ۔۔۔ میرے نخرے نا اٹھوائے بس مجھ سے خفہ مت ہو ۔۔۔ میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں۔۔۔ بولتے بولتے آواز رندھ گئی ۔۔۔

آپ نے ایک بار مجھے بولا تھا کہ آپ کو سکون چاہیے ۔۔۔۔ اور آج میں آپ سے بول رہی ہوں صارم مجھے آپ چاہئے ۔۔۔ میں مستحق ہوں غلطی ہوئی ہے ۔۔۔ آپ کڑی سی کڑی سزا مجھے دیں ۔۔۔ مگر خود سے دور رکھ کر نہیں ۔۔۔ دل میں اٹھتی ٹھیس دباتی وہ صارم کے سینے سے لگی ۔۔۔

صارم جب میں پہلی دفعہ آپ سے ملی نا ۔۔۔ تو مجھے آپ اپنے اپنے لگے ۔۔۔۔ اور پھر جب جب آپ سے ملتی میرے دل میں آپ کو پا لینے کی طلب بڑھتی گئی ۔۔۔بری طرح یہ دل آپ پر فریفتہ ہوگیا تھا ۔۔۔ میں تو آپکو شادی شدہ سمجھ رہی تھی ۔۔۔ خود کو بھی برا بلا کہہ دیتی ۔۔۔ مگر دل تھا کہ آپکی طرف کھینچتا چلا آرہا تھا۔۔ آپکی ایک نظر التفات کے لئے میں روز دعائیں کرتی ۔۔۔ بہت ہمت کرکے وہ اپنی محبت کا اعتراف کر رہی تھی ۔۔۔ جو صارم کو محبت کی بلندیوں پر پہنچا کر اسکی مغروریت کو دوچار کر گئی ۔۔۔۔

نرمی سے ادینہ کی ٹھوڑی اوپر اٹھا کر اس کا چہرہ اپنے روبرو کرکے ماتھے پر عقیدت بھرا لمس رکھا ۔۔۔۔۔

پھر دوبارہ اپنے سینے سے لگا کر گویا ہوا ۔۔۔

ہم دو بھائی تھے ۔۔۔ میں اور مجھ سے بڑا بھائی آریز فاروقی ۔۔۔۔ میرے ڈیڈ میجر اظہر فاروقی کے دل میں وطن کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔۔۔ موم کی شادی کم عمری میں ہوئی تھی پہلی ڈیلیوری کے وقت کچھ پیچیدگیوں کی وجہ سے ڈاکٹر نے صاف جواب دیا تھا کہ دوسرا بچہ پیدا کرنا خود کو موت کے منہ میں دھکیلنے کے مترادف ہے ۔۔۔۔ اس لئے ایک ہی بچے پر اکتفا کرے ۔۔۔ جب بھائی چار سال کے ہوگئے ۔۔۔ تو موم کافی روتی تھی دوسرے بچے کے لئے ۔۔۔۔ اور بھائی بھی بار بار دوسرے بہن بھائیوں کے لئے اصرار کرنے لگے ۔۔۔ لیکن ڈیڈ موم کی لائف کو لے کر کوئی رسک لینا نہیں چاہتے تھے ۔۔۔۔ اس لئے موم کی رونے دھونے پر کان نہیں دھرے ۔۔۔ مگر خدا کے کاموں میں مصلحت چھپی ہوتی ہے اور انہونی ہوجاتی ہے اچانک ایک بار پھر خوشی نے دروازے پر دستک دی ۔۔۔۔ وہ خوشخبری ملی جس کو سننے کے لئے سب کے کان ترس گئے تھے ۔۔۔ ڈیڈ نے سخت مخالفت بھی کی بٹ موم نے کہا کہ موت زندگی اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے ۔۔۔ اور وہ یہ بچہ پیدا کرے گی ۔۔۔ ڈیڈ زیادہ وقت اپنی ڈیوٹی پر موجود ہوتے تھے ۔۔۔ بس بھائی ہی امی کا واحد سہارا تھے ۔۔۔ ڈیڈ خود بھی اپنی مصروفیت میں سے وقت نکال کر موم کا خیال رکھنے ہمہ وقت موجود رہتے ۔۔۔

اور اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر ایک بار پھر موم نے ایک اور بیٹے کو جنم دیا ۔۔۔۔ گھر میں ایک فرد کا اضافہ ہوا ۔۔۔۔ اور آریز فاروقی کو صارم فاروقی کی شکل میں ایک چھوٹا فرشتہ بھائی ملا ۔۔۔ جس کو پاکر وہ مکمل ہوگیا تھا ۔۔۔۔ یہی ہماری چھوٹی سی خوشحال فیملی تھی ۔۔۔۔

میری پیدائش کے بعد موم بیمار رہنے لگی تھی ۔۔۔ ڈیڈ اسے بیرون ملک بھی علاج کے لئے لیکر گئے مگر دن بدن کمزور ہوتی گئی ۔۔۔ اس لئے میرے دنیا کی آنے کی خوشی بھی پوری طرح محسوس نہیں کر پائی ۔۔۔۔ اس وقت بھائی ہی میرا سب کچھ تھے ۔۔۔ میری تمام زمین داریاں بھائی کے چھوٹے کندھوں پر تھی ۔۔۔ گھر میں ملازمین کے ہوتے ہوئے بھی بھائی نے کبھی ان کا سہارا نہیں لیا ۔۔۔۔ جب بڑا ہوتا گیا موم سے زیادہ بھائی کو ایک مہربان سائے کی طرح خود سے قریب پایا ۔۔۔۔ پھر جب میں سات سال کا ہوگیا ۔۔۔ تو ایک تاریک رات کی سیاہی ہماری خوشوں بھری زندگی کو کھا گئی ۔۔۔ اور موم کی آنکھیں ہمیشہ کے لئے بند ہوگئی ۔۔۔ بھائی نے مجھے ماں بن کر سمبھالا ۔۔ راتوں کو اٹھ اٹھ کر موم کو بلاتا چیختا چلاتا ۔۔۔ لیکن جانے والے لوٹ کر نہیں آتے ۔۔۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہمارے زخم مندمل ہونا شروع ہوگئے ۔۔۔ تو ڈیڈ کو دوسری شادی کے لئے فورس کیا گیا ۔۔۔ میرے ڈیڈ ایک آئیڈل فادر تھے ۔۔۔ وہ ہمیں سوتیلی ماں کے رحم و کرم پر چھوڑنا نہیں چاہتے تھے ۔۔۔ اس لئے دوسری شادی نہیں کی ۔۔۔ صابر چاچا کی انہی دنوں نئی نئی شادی ہوئی تھی ۔۔۔ ڈیڈ نے ان کو بمعہ فیملی سرونٹ کوارٹر میں منتقل کروایا ۔۔۔ پہلے اس کی ماں ہمارے ساتھ ہوتی ہمارا خیال رکھتی ۔۔۔ پھر ان کی ڈیتھ کے بعد اس کی وائف ہمارے گھر کام کرنے لگی ۔۔۔ وہ قابل اعتبار لوگ تھے ۔۔۔ ہمیشہ ڈیڈ کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہے ۔۔۔ ڈیڈ کی خواہش تھی کہ ان کے بچے بھی ان کی طرح سپیشل فورسز جوائن کریں ۔۔ ان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے بھائی نے بھی آرمی جوائن کرلی ۔۔۔

بھائی کی شادی کا موضوع گھر میں ڈسکس ہونے لگا۔۔۔ تو وہ صاف انکاری تھے ۔۔۔ بقول ان کے اس کی بیوی آجائے گی ۔۔۔ تو ہم تینوں کی آپس میں پیار ومحبت کے بیچ دیوار حائل ہو جائے گی ۔۔۔۔ لیکن مجھے بھابھی چاہیے تھی ۔۔۔ بھائی بالآخر میری خواہش کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگیے ۔۔۔ ڈیڈ کے عزیز از جان دوستوں میں سے ایک کرنل شیرازی بھی تھے۔۔۔ ان کی چھوٹی بیٹی حنا شیرازی ڈیڈ کو بھائی کے لئے بچپن سے پسند تھی اور اس بات کا اظہار وہ برملا شیرازی انکل سے بھی کیا کرتے تھے ۔۔۔ ان کو بھی کوئی اعتراض نہیں تھا ۔۔۔ اور اس طرح حنا شیرازی نے حنا فاروقی بن کر فاروقی مینشن میں قدم رکھا ۔۔۔

بھابھی کو لے کر بھائی کو جتنے خدشات تھے ۔۔۔ وہ غلط ثابت ہوئے ۔۔۔۔ بھابھی کے آتے ہی ہمارے گھر کی خوشیاں دوبالا ہوگئی ۔۔۔ بھابھی نے آتے ہی پورے گھر کی زمہ داریاں خوش اسلوبی سے سر انجام دی ۔۔۔۔ ہم سب کو ایک ساتھ جوڑے رکھا ۔۔۔ جن بچوں کے بچپن ماں کے بغیر گزرے وہ وقت سے پہلے سنجیدگی کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں ۔۔۔۔ یہی حال میرا بھی تھا ۔۔۔ اسفند اور ارسلان میرے دائیں اور بائیں بازو کی طرح مجھ سے جڑے ہوئے تھے ۔۔۔ جن کے بغیر صارم فاروقی ادھورا تھا ۔۔۔

آیک بار پھر اتنی خوشیاں ہمیں راس نہیں آئی اور ایک قیامت ہمارے گھر پر ٹوٹ پڑی جب ڈیڈ کی جسد خاکی کو گھر کے دہلیز پر رکھا گیا ۔۔۔۔

اس وقت بھائی کی حالت مجھ سے بھی ابتر تھی ۔۔۔ وہ اس بار خود ایسا ٹوٹا تھا کہ اس کو سنھبالنے میں بھابھی نے دن رات ایک کر دئے ۔۔۔۔ باپ کا مہربان سائہ سر سے اٹھ گیا ۔۔۔

بھابھی نے ہم دونوں کو اکیلے سنبھالا ۔۔۔ وہ صدمہ میرے لئے ایسا تھا کہ میرے پاس زندہ رہنے کا کوئی جواز ہی باقی نہ رہا ۔۔۔ روشنی سے ڈر لگنے لگا تھا۔۔۔ اندھیروں کا ساتھی بن گیا ۔۔۔ بھائی کے ساتھ ساتھ ارسلان اور اسفند نے مجھے ان تنہائی بھری تاریکیوں سے نکالنے کے لئے کافی جتن کئے تھے ۔۔۔ اور میں پہلے سے بھی زیادہ کم گو اور کٹھور بن گیا ۔۔۔ بھائی نے ڈیڈ کے ادھورے سپنے میرے زریعے پورے کرنے کے لئے دن رات ایک کر دی ۔۔۔ لیکن جب بھی مجھے ڈیڈ کا خون میں لت پت وجود یاد جاتا میں اپنے ہواس کھو دیتا ۔۔۔۔ میں نے بھائی کو بولا کہ میں پولیس فورس جوائن کروں گا ۔۔۔ بھائی نے میرے فیصلے کی مخالفت نہیں کی ۔۔۔ بس تاکید کی کہ وطن سے وفاداری اور ایمان داری کا دامن مظبوط سے تھامے رکھنا ہے ۔۔۔۔ ڈیڈ کا نام بلند کرنا ہے ۔۔۔۔

پھر ڈیڈ کے گزر جانے کے دو سال بعد زارش اور ارمغان کے آمد نے ہماری بے جان جسموں میں نئی جان ڈالی ۔۔۔ زندگی کی تلخیوں میں کمی آنے لگی ۔۔۔ میں نے ایگرامز پاس کرکے پولیس جوائن کرلیا ۔۔۔

زندگی اپنے ڈگر پر چلنے لگی ۔۔۔ مجھ پر شادی کا دباؤ بڑھنے لگا مگر میں نے صاف صاف بھائی کو بول دیا تھا کہ جب تک مجھے اپنی پسند کی لڑکی نہیں مل جاتی کوئی مجھے چھیڑے گا نہیں ۔۔۔۔ انہی دنوں ایک سیکریٹ مشن کے لئے بھائی کا نام منظر پر آنے لگا ۔۔۔ بھابھی کے ساتھ ساتھ میری بھی جان جانے لگی ۔۔۔ بس ایک ہی رشتہ تھا جو میرے جسم میں روح کی مانند تھا۔۔۔ مگر بھائی اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوئے تھے ۔۔۔ نا ہی میں اسے جانے کی اجازت دے رہا تھا اور نا ہی بھابھی ۔۔۔ مشن کے ہیڈ بھائی تعینات کئے گئے تھے ۔۔۔ وہ اپنے قدم پیچھے لینے کو تیار نہیں تھے ۔۔۔ ان کی سربراہی میں یہ مشن کئی ملکوں کے اندر جاکر دشمنوں کو اپنے کیفر کردار تک پہنچانے کا تھا ۔۔۔

وہ آخری رات پھر طوفان لے کر ہماری ہنستی بستی زندگی کو اکھاڑنے آئی تھی ۔۔۔ میں اور بھابھی بچوں کی طرح بھائی کے قدموں میں بیٹھے اس کو روکنے کے لئے سر توڑ کوششیں کر رہے تھے ۔۔۔ لیکن بھائی کے رگوں میں ڈیڈ کا خون گردش کر رہا تھا ۔۔۔ پہلے وطن کی محبت اور پھر فیملی ۔۔۔

آریز اگر آپکو کچھ ہوگیا تو ہمارے بچے کیا کریں گے ۔۔۔ میں کیا کروں گی ۔۔۔ ابھی تو میرے بچوں نے باپ کے پیار کو پوری طرح سے محسوس بھی نہیں کیا اور آپ ان کو اپنے سائے سے محروم کر رہے ہیں ۔۔۔ حنا بھابھی بچوں کا حوالہ دے کر بھائی کو روکنا چاہتی تھی ۔۔۔

میں ان شاءاللہ اپنے مشن میں سرخرو ہو کر لوٹ آوں گا ۔۔۔ بھلا موت کو آنے بھی سے کوئی روک سکتا ہے وہ تو یہاں بھی آسکتی ہیں ۔۔۔ اور جب تک میں نہیں آتا صارم ہے نہ میرا بچا میرا بھائی ۔۔۔۔ یہ اپنی فیملی اپنے گھر کی حفاظت کرے گا ۔۔۔ مجھے اس پر خود سے بھی زیادہ بھروسہ ہے ۔۔۔ آریز اسے سمجھا رہا تھا ۔۔۔۔

مجھے نہیں ہے کسی پر بھروسہ ۔۔۔ کل کو صارم کی شادی ہوجایے گی ۔۔۔ اس کے اپنے بچے ہونگے ۔۔۔ نا چاہ کر بھی اسکی توجہ اور پیار ہم سے ہٹ جائے گا ۔۔۔۔ پھر ہمارا کیا ہوگا ۔۔۔ میں آپ کو نہیں جانے دوں گی ۔۔۔ ہمارے بچوں کو کوئی نہیں پوچھے گا ۔۔۔ سڑک پر آجائیں گے ہم ۔۔۔ جن بچوں کے سروں پر باپ کا سایہ نہیں ہوتا لوگ اسے پیروں تلے روندتے ہیں ۔۔۔۔ حنا فاروقی بضد تھی ۔۔۔ اور بے خودی میں اس کی زبان سے آگ کے شعلے اگل رہے تھے ۔۔۔

صارم منجمد ہوکر اپنی ماں سمان بھابھی کو دیکھ رہا تھا اور آریز اپنے جان سے عزیز بھائی کو ۔۔۔ جس پر اسے خود سے بڑھ کر مان تھا ۔۔۔

بھابھی آپ کو کب میں اتنا سیلفش لگا ۔۔۔ اگر بات میرے بھائی اور اس کی بیوی بچوں کی آ جائے تو صارم فاروقی شادی کرے گا ہی نہیں ۔۔۔ اور یہ میرا اپنے بھائی سے وعدہ ہے ۔۔۔ مگر آج آپ نے میرے اعتماد اور خلوص کی دھچیاں اڑا دی ۔۔۔ شادی بیوی بچے گئے بھاڑ میں ۔۔۔۔۔ مگر آپ کو اس طرح میری زات کی ناقدری نہیں کرنی چاہئے تھی ۔۔۔ پہلے تو اللّٰہ کے فضل و کرم سے بھائی کو کچھ ہوگا نہیں اور موت برحق ہے اگر وہ لوٹ کر نہیں آئے تو میرے جیتے جی میرے بھائی کے بچے میرا اپنا خون سڑک پر کیوں آئیں گے ۔۔۔۔ ایسا کیسے سوچ سکتی ہیں آپ ۔۔۔۔ صارم آنکھوں میں شدید چھبن لئے سرد لہجے میں بول رہا ۔۔۔ کمرے میں صارم کے کہے الفاظ سے سناٹا چھا گیا ۔۔۔

میرا وہ مطلب نہیں تھا صارم ۔۔۔ حنا کو اپنی بات کی گہرائی کا اندازہ ہوگیا تھا ۔۔۔۔

بس بھابھی ۔۔۔۔ بھائی آپ جائے ۔۔۔ جی جان سے لڑے ۔۔۔۔ اور کامیاب ہوکر لوٹ آئیں ۔۔۔۔ گھر بچوں کی فکر سے آزاد ہوکر ۔۔۔ جس طرح موم ڈیڈ مجھے آپکے پاس آپکے اسرے چھوڑ کر گئے تھے آپ نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی مجھے ایس مقام تک پہنچانے میں تو بھلا میں کیوں پیچھے ہٹوں گا ۔۔۔۔ ان شاءاللہ پوری دنیا دیکھے گی اپنے پیارے بھائی آریز فاروقی اور اس کے بچوں کے لئے صارم فاروقی کا پیار اور انوکھی محبت ۔۔۔۔ اور رشک بھی کرے گی ۔۔۔

اور آپ بھی دیکھ لیجئے گا اگر کوئی کمی نظر اجائے تو یاد دلا دیجئے گا ۔۔۔۔ آخر میں حنا فاروقی کو بہت کچھ جتا گیا ۔۔۔

اور بھائی الوداع کہہ کر چلے گئے ۔۔۔ صارم کے آنسو متواتر گر رہے تھے اور ادینہ اپنے ہاتھوں سے اس کے آنسو صاف کرکے خود بھی رو رہی تھی ۔۔۔۔ سالوں سے دل میں چھپے کرب کو وہ خود کرید رہا تھا ۔۔۔

بھائی کے جانے کے ایک منتھ بعد ہمیں خبر ملی کہ مشن پر گئے بیس میں سے پندرہ افراد جام شہادت نوش کر چکے ہیں ۔۔۔ تو رہی سہی سانسیں بھی ساکت ہوگیی ۔۔۔ بھابھی کو بے ہوشی کے دورے پڑنے لگے ۔۔۔ بچوں کو بے خبر رکھا گیا ۔۔۔ بھابھی کو ہسپٹل میں ایڈمٹ کردیا گیا تو ایک اور دھماکہ سماعتوں کے منتظر تھا ۔۔۔

جب ڈاکٹر نے کہا کہ بھابھی ماں بننے والی ہے۔۔۔ اگر بھائی کی موجودگی میں یہ خبر ملتی تو بات الگ ہوتی مگر اب تو جیسے میں خود ٹوٹ کر بکھر گیا تھا ۔۔۔ مجھے تو زارش اور ارمغان کا غم کھائے جارہا تھا ۔۔۔۔ ان کے سوالوں کے جوابات دے دے کر تھک گیا تھا ۔۔۔ اب ایک اور بچہ ۔۔۔ جو پیدا ہوتے ہی باپ کے سائے اور شفقت سے محروم ہوگا ۔۔۔ صارم بے بسی کی انتہاؤں پر تھا ۔۔۔ ارسلان اور اسفند ایک بار پھر صارم کے شانہ بشانہ کھڑے تھے ۔۔۔

شہید فوجیوں کو وطن پہنچایا گیا تو شناخت کروانا مشکل تھا ۔۔۔ سب کو ایک ساتھ فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا ۔۔۔ مگر ہمیں ایک موہوم سی امید تھی ۔۔۔ کہ شاید بھائی شہید ہونے والوں میں شامل نہ ہو ۔۔۔ زندہ بچ جانے والوں میں ہو ۔۔۔ پانچ سال سے اسی آس پہ بیٹھے ہیں ہم ۔۔۔

اب تو جیسے وہ امید بھی دم توڑ گئی ۔۔۔ بھائی کی کوئی خیر خبر نہیں ۔۔۔۔

بھابھی نے ایک پیاری سی پری کو جنم دیا ۔۔۔ جسکا نام میں نے حورم رکھا ۔۔۔ زارش اور ارمغان تو پھر بھی باپ کے لمس سے آشنا تھے ۔۔۔ مگر حورم کو باپ کی شکل میں صارم فاروقی ملا ۔۔۔۔

صارم کی آنکھیں بند تھی ۔۔۔۔ اور آنسو رواں۔۔۔۔

ادینہ نے اس کو خود میں سختی سے سے

بھینچا تھا ۔۔۔ یہ سچ تھا ہر انسان کہیں نا کہیں اپنی زندگی میں درد اور غم سے گزرتا ہے ۔۔۔ ادینہ کو بھی آج صارم خود سے بڑھ کر مظلوم لگا ۔۔۔۔ جس نے بہت درد سہا تھا ۔۔۔۔

ادینہ کو صارم اور حنا فاروقی کے مابین گریز کی وجہ سمجھ میں آگئی تھی ۔۔۔ صارم کی نظر میں ہر رشتہ کے لئے اعتبار پہلی سیڑھی ہوتی ہے جس پر چل کر پختہ عمارت کی تعمیر ہوتی ہے ۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ساتھ بہت سے اور رازوں کا بھی پردہ فاش ہوگیا ۔۔۔۔ کافی پہیلیاں سلجھ گئی ۔۔۔۔

ادینہ میں بھائی سے کیا گیا وعدہ نہیں نبھا سکا ۔۔ تمہاری آنکھوں میں اپنے لئے محبت کے جذبے دیکھ کر بھائی سے وعدہ خلافی کر بیٹھا ۔۔۔ تمہیں بھی یوں تڑپتا اور سسکتا ہوا نہیں دیکھ سکتا تھا ۔۔۔۔ پتہ ہے تم ایک دن بے ہوش ہوگئی تھی تب میں تمہیں ڈاکٹر کے پاس لیکر گیا تھا ۔۔۔ تب تم بے ہوشی میں بار بار مجھے پکار رہی تھی ۔۔۔ تمہیں تکلیف میں دیکھ کر میں بھی بے سکون تھا ۔۔۔ میں کسی کو بھی خوش نہیں رکھ پایا ۔۔۔۔

صارم آپ نے وعدہ توڑ کر مجھ سے جو رشتہ بنایا ہے نا میں ایسا موقع ہی نہیں دوں گی کہ آپ کو مجھے اپنانے پر کبھی پچھتاوا ہو ۔۔۔ میں نے زارش ارمغان اور حورم کو اپنے بچوں کے روپ میں ہی قبول کیا تھا ۔۔۔ اور اب میں ایک وفادار بیوی کے ساتھ ساتھ ایک اچھی ماں بن کر آپکا فخر مان سب کچھ واپس لوٹا دونگی ۔۔۔ اور اب دنیا صرف صارم فاروقی کی نہیں مسز صارم فاروقی کی انوکھی محبت اپنی فیملی اور بچوں کے لئے دیکھے گی ۔۔۔۔

اب ادینہ کو صارم کے زخموں کا مرہم بننا تھا۔۔۔اس کے بے رنگ زندگی میں رنگ بھرنے تھے ۔۔۔

صارم کے ماتھے پر بکھرے بالوں کو سیمٹ کر محبت سے وہاں اپنے لب رکھے ۔۔۔۔

صارم ۔۔۔۔۔

ہاں ۔۔۔۔ صارم نے اپنی شدت غم سے سرخ آنکھیں کھول کر ادینہ کو دیکھا ۔۔۔۔

مجھے آپکی پوری بیوی بننا ہے ۔۔۔ آپکا سکون آپکا لباس بننا ہے ۔۔۔۔ اپنا رشتہ مکمل کرنا ہے ۔۔۔ ادینہ نے بلاجھجک اپنی خواہش کا اظہار کیا ۔۔۔۔

تو صارم کے آسودہ چہرے پر قربت کے ہزاروں رنگ نمایاں ہوگئے ۔۔۔

ہمدردی سمجھو یا پھر ۔۔۔۔

پیار ۔۔۔ اور وہ بھی بے تحاشا ۔۔۔ انمول ۔۔۔ ادینہ نے لائٹ آف کرکے صارم کے سینے پر سر رکھا ۔۔۔۔

ادینہ اپنی زندگی کی نئی شروعات کرنے سے پہلے کچھ چیزیں کلئیر کروادوں ۔۔۔ صارم نے ادینہ کے کھلے نم بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا ۔۔۔

جی ۔۔۔۔

ہمارے لئے بس تین بچے کافی ہیں ۔۔۔ بھابھی کا خوف اندیشہ اپنی جگہ مگر یہ اٹل حقیقت ہے کہ میرے اپنے بچے پیدا ہو جائیں گے تو ۔۔۔۔

شششش ۔۔۔۔ صارم مجھے آپ چاہئے بس ۔۔۔ بچے ہیں ہمارے پاس ۔۔۔۔ ادینہ کو صارم کے دل میں پلتا خوف سمجھ آرہا تھا ۔۔۔

تم واقعی اتنی اچھی ہو ۔۔۔ یا پھر اچھی بننے کا ناٹک کر رہی ہو ۔۔۔ صارم اپنی سابقہ کیفیت میں واپس آیا اور ادینہ کو چھیڑنے لگا ۔۔۔ اس کے گلے کو دوپٹہ سے آزاد کرکے اس کی گردن پر اپنے لب رکھے ۔۔۔

میں بہت بری ہوں ۔۔۔ اگر آج کے بعد آپ ناراض ہوگئے تو میں نے آپکا خون پی جانا ہے ۔۔۔ جان ہی نکال دی تھی میری ۔۔۔۔

برداشت کر لو گی مجھے ۔۔۔ میری جنونی قربت ۔۔۔ بے قراریاں ۔۔۔ میری بے ساختگیاں ۔۔۔ صارم نے اپنی بڑھتی ہوئی تشنگی بجھانے کے لئے ادینہ کے چہرے پر اپنے ہونٹ رکھ کر اس کے نچلے لب پر انگوٹھا پھیرتے ہوئے اجازت طلب نظروں سے اسے دیکھا ۔۔۔۔

ادینہ کی پلکیں حیا سے جھک گئی ۔۔۔۔ چہرے پر لالی بکھر گئی ۔۔۔۔

نہیں ۔۔۔۔۔ ادینہ نے بند آنکھوں سے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔ تو صارم نے مسکرا کر اسکے چہرے کو جابجا اپنے لمس سے مہکایا ۔۔۔۔

میرا وعدہ ہے تم سے ادینہ ۔۔۔ تم میری زندگی میں آنے والی پہلی اور آخری لڑکی ہوگی ۔۔۔ صارم دل وہ جان سے صرف تمہاری امانت ہے اور اس میں کبھی حیانت نہیں کرے گا ۔۔۔

اور میں نے آپکے پیار کو امر کرنا ہے صارم ۔۔۔ ادینہ نے صارم کے گرد بازوؤں حمائل کرکے خودسپردگی دے دی ۔۔۔ صارم اس پر اپنے پیار کا برسات کرکے خود کو بھی سیراب کرتا رہا ۔۔۔ قطرہ قطرہ اپنا جنون اس پر لٹاتا رہا ۔۔۔ اور ادینہ اتنا پیار پاکر اللہ تعالیٰ کی مشکور تھی ۔۔۔۔

•••••••••••••••••••••••