Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282 Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 3)
No Download Link
Rate this Novel
Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 3)
Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan
گاڑی گیٹ سے باہر نکلی تو ادینہ کی رکی ہوئی سانس بحال ہوئی ۔۔۔۔اور خود کو سرزنش کرنے لگی کہ کیوں صارم کو دیکھ کر وہ ارد گرد سے بے گانا ہوکر اس کی شخصیت کے سحر میں کھو جاتی ہے ۔۔۔ وہ ایک شادی شدہ بندہ ہے تین بچوں کا باپ ہے۔۔۔۔مجھے خود پر پر قابو رکھنا ہے ۔۔۔۔ اگر اس کو بھی میرا اسے اس طرح بے خود ہو کر دیکھنا محسوس ہوا تو ۔۔۔۔میرے بارے میں کیا سوچیں گے ۔۔۔۔ استغفرُللہ ۔۔ اللّٰہ جی معاف کر دے۔۔ اور اپنا دھیان ادھر ادھر دیکھ کر بٹانے لگی۔۔۔۔۔
•••••••••••••••••••••
دن اس طرح گزرنے لگے آج ادینہ کو یہاں پڑھاتے ہوئے دس دن ہوگئے تھے ۔۔۔۔ وہ بچوں کے ساتھ ساتھ مسز فاروقی کے ساتھ بھی کافی گھل مل گئی تھی ۔۔۔۔ اور شکر تھا کہ اس دن کے بعد صارم سے اس کی دوبارہ ملاقات نہیں ہوئی ۔۔۔ مسز فاروقی اپنے کام سے کام رکھنے والی ایک سوبر خاتون تھیں ۔۔۔۔ نہ ملازموں پر روک ٹوک نہ ان پر کوئی رغب نا امیروں کی طرح روز نت نئے جونچلے ۔۔۔۔ اکثر اپنے روم میں بیٹھ کر اپنے گھر والوں سے کال پر بات چیت میں مصروف رہتی۔۔۔۔ یا پھر کچن میں موجود ہوتی ملازماؤں کا ہاتھ بٹانے۔۔۔۔۔
اب وہ یہاں کافی حد تک ایڈجسٹ ہوچکی تھی ۔۔۔۔ بچوں کی طرف سے بھی سٹیسفائی تھی ۔۔۔۔۔
•••••••••••••••••••
آج سنڈے تھا ۔۔۔کافی دن بعد صارم گھر پر تھا۔۔۔۔۔ چھٹی کے دن وہ بچوں کے ساتھ زیادہ ٹائم سپینڈ کرتا۔۔۔۔ لان میں کرکٹ میچ کھیلا گیا ۔۔۔۔ جس میں وہ جان بوجھ کر ارمغان اور زارش سے ہارا۔۔۔۔حورم اپنے پاپا کے ٹیم میں تھی۔۔۔وہ تالیاں مار مار کر خود کو ہلکان کرکے صارم کو جوش دلا رہی تھی۔۔۔۔ مگر وہ ہارا تھا۔۔۔۔ دونوں بچوں کے چہروں پر جیت کر جو ایکسائٹمنٹ ہوتی تھی یہی خوشی صارم کے لئے پوری دنیا سے بڑھ کر تھی ۔۔۔اور پھر حورم منہ پھلا کر اس سے اپنی ناراضگی کا برملا اظہار کرتی تھی ۔۔مگر وہ صارم تھا اپنے بچوں کے رگ رگ سے واقف تھا۔۔۔۔ حورم کو کندھے پر بٹھا کے پورے لان کی سیر کرواتا تھا۔۔۔۔ اور وہ اپنی ناراضگی پس پشت ڈال کر کافی انجوائے کرتی۔۔۔۔۔۔
بچے تھک گئے تھے اس لئے مسز فاروقی نے فریش جوس ملازمہ کے ہاتھوں بھجوا دیا تھا۔۔ ابھی وہ دوبارہ گیم سٹارٹ کرنے والے تھے کہ صارم نے ملازمہ کے ہاتھ میں اپنا موبائل فون دیکھا جو اس کی طرف آرہی تھی ۔۔۔۔
” ارسلان کالنگ ” سکرین پر نام جگمگا رہا تھا۔۔۔۔ موبائل ہاتھ میں لے کر بچوں سے ایکسکیوز کرکے کال اٹینڈ کر کے سلام کیا ۔۔۔۔
وعلیکم السلام !!!! کیسا ہے تو..۔ ارسلان نے سلام کا جواب دینے کے بعد پوچھا۔…
آئی ایم گڈ ۔۔۔ اور سویٹ ہارٹ مجھے یاد ہے آج تمھارے ساتھ شاپنگ پر جانا ہے نہ۔۔۔۔ میں تمھارے کال کا ہی ویٹ کر رہا تھا ۔۔۔ صارم نے اس کے بولنے سے پہلے ہی ایکسپلین کر دیا۔۔۔ اور سب کو اس کی یہی بات اچھی لگتی تھی کہ وہ اپنا ہر پرومس یاد رکھتا تھا۔۔۔ اور پورا کرنے میں کوتاہی نہیں برتتا تھا ۔۔۔۔
گڈ۔۔۔۔ تو پھر جلدی سے مجھے پک کر لو۔۔۔۔ راستے میں اسفند کو بھی پک کرنا ہے۔۔۔ ارسلان نے بائے کہہ کر فون بند کردیا۔۔۔۔
صارم فریش ہونے اندر چلا گیا ۔۔۔ ہال میں ہی اسے صوفے پر مسز فاروقی بیٹھی نظر آئی۔۔۔قدم اس کی طرف بڑھائے۔۔۔اور اس کے سامنے جا کر بیٹھ گیا ۔۔۔
ارسلان کے ساتھ شاپنگ پر جانا ہے ۔۔۔۔ اگر آپ کو یا بچوں کو کچھ چاہیے تو بتا دیں ۔۔۔میں لے آؤں گا ۔۔۔۔
ارسلان کی شادی کے لیے ہمیں خود بھی شاپنگ کرنی ہے اور بچوں کے لیے بھی کروانی ہے۔۔۔۔ اس لیے میں خود بچوں کو ایک دن ساتھ لے کر چلی جاوں گی ۔۔۔۔۔ مسز فاروقی نے تحمل سے جواب دیا۔۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔صارم نے کہا اور چلے گئے ۔۔۔
••••••••••••••••••••
لنچ کرنے کے بعد کچن کی صفائی کرکے اور برتن وغیرہ دھو کر وہ اپنے روم میں آ گئی۔۔۔ آج بھابھی کو مائیکے گئے بارہ دن سے زیادہ ہو گئے تھے ۔۔۔ اس نے صرف دو بار کال کرکے خیریت دریافت کی تھی ۔۔۔ اور بھائی بھی بس کبھی کبھی ویڈیو کال کرکے اماں سے بات کرکے فارمیلیٹی پوری کرتے۔۔۔۔ ابھی آرام کرنے کی نیت سے لیٹی ہی تھی کہ باہر سے باتوں کی آوازیں آنے لگی۔۔ اس نے سوچا شاید بھابھی واپس آگئی ہے ۔۔۔ باہر جھانک کر دیکھا تو اس کی فرینڈز ملیحہ تھی۔۔۔ اس کی گلی سے آگے کی گلی میں گھر تھا اس کا۔۔۔۔ادینہ کو دیکھ کر دوڑتے ہوئے آکر اس کے گلے لگی۔۔۔۔ امی نے اس کو بیٹھنے کا کہا اور خود کچن میں جانے لگی چائے بنانے۔۔۔ لیکن ملیحہ نے اس کو روکا۔۔۔۔
آنٹی میں ادینہ کو لینے آئی ہوں۔۔۔ بھائی کی شادی میں بس کچھ ہی دن رہ گئے ہیں ۔۔۔ اور اس ادینہ کی بچی کے آئے دن کے بکھیڑوں کی وجہ سے میں نے ابھی تک شاپنگ نہیں کی۔۔۔
اس کو ٹائم ہی نہیں ملتا۔۔۔۔ بس آج تو رنگے ہاتھوں پکڑا ہے۔۔۔۔ اب اسے اپنے ساتھ لے جاؤں گی۔ ۔۔۔
اچھا بیٹا لے جانا ۔۔۔۔آرام سے جانا۔۔۔ اور ٹائم پر واپس آنا۔۔۔اس کی امی نے اجازت دے دی ۔۔۔
تم تھوڑا ویٹ کرو میں جلدی سے عبایا پہن کر آتی ہوں۔۔۔ ادینہ عجلت میں کہہ کر اندر کمرے میں چلی گئی ۔۔۔۔
اوکے بی کوئیک۔۔۔ میں گاڑی میں ویٹ کر رہی ہوں۔۔۔ملیحہ یہ کہہ کر رکی نہیں اور الٹے پاؤں واپس گئی۔۔۔۔
ادینہ عبایا پہن کر باہر نکلی ۔۔۔ تو ڈرائیونگ سیٹ پر ملیحہ کو دیکھ کر وہ ٹھٹھکی۔۔۔
گاڑی تم ڈرائیو کروگی؟؟ میں تو تمہاریے ساتھ جانے سے رہی۔۔۔۔
ڈرائیور کہا ہے؟؟۔ مجھے اپنی جان بہت پیاری ہے ۔۔۔۔ میرے چھوٹے چھوٹے خواب ہیں۔۔۔ وہ پورے کرنے ہیں۔۔۔۔ابھی میں نے ورلڈ ٹور پر جانا ہے۔۔ اپنے سپنے پورے کرنے ہیں۔۔ تمہارے ساتھ جانے کا مطلب سیدھا اللّٰہ میاں کے پاس پہنچنا ۔۔۔
میں گھر واپس جا رہی ہوں۔۔۔ وہ واپس جانے کے لیے پلٹی ہی تھی کہ ملیحہ نے جلدی سے گاڑی سے باہر آ کر اسے ہاتھ سے پکڑ کر فرنٹ سیٹ پر بٹھایا ۔۔۔اور اس کو سنبھلنے کا موقع دیئے بغیر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی زن سے بھگا لے گئی۔۔۔
جان تو سب کو بہت پیاری ہوتی ہے جان من ۔۔۔اور مجھے تو اپنے بچوں کے بچوں کے ساتھ بھی کھیلنا ہے۔۔۔۔اینڈ پرومس میں اب پکی ڈرائیور بن چکی ہوں ۔۔ ملیحہ نے مسکرا سیٹ بیلٹ اچھی طرح باندھ کر کہا۔۔۔
ادینہ کو کافی ڈر لگ رہا تھا۔۔۔کیونکہ ملیحہ نے کئی بار گاڑی کا ایکسیڈنٹ کروایا تھا ۔۔۔ گاڑی پر کافی سکریچز بھی آئے تھے۔۔۔ لیکن اللّٰہ کا شکر ہے وہ خود بال بال بچ گئی تھی ۔۔۔۔
ادینہ آنکھیں بند کر کے دل میں قرآنی آیات کا ورد کرنے لگی۔۔۔ اور گاڈی میں چاروں طرف پھونک مارنے لگی۔۔۔۔
ملیحہ خود ایک بہت پیاری چینچل اور شوخ لڑکی تھی ۔۔۔۔اور اس کو اپنی یہ ملانی ٹائف فرینڈ کافی عزیز تھی۔۔ جو خود کو اچھی طرح عبایا میں کور کر کے گھر سے نکلتی تھی ۔۔۔ وہ یہ بھی جانتی تھی کہ جب تک وہ لوگ پہنچ نہیں جاتے وہ اس طرح ورد کرتی رہے گی ۔۔اسی سوچ کے ساتھ گاڑی آگے بڑھا دی۔۔۔۔
•••••••••••••••••••
وہ تینوں اس وقت اسلام آباد کے سب سے بڑے مال “گیگا مال” میں موجود تھے۔۔۔ سب سے پہلے اس نے ارسلان کو شاپنگ کروانی تھی۔۔۔ اس کے لئے ہر فنکشن کے حساب سے ڈریسز سلیکٹ کرنے کے بعد صارم اور اسفند نے اپنے لئے بھی سیم کلر کے ڈریسز لئے۔۔۔۔دلہے کے فرینڈز تھے۔۔۔۔ اس کو سب سے الگ اور نمایاں دکھنا تھا۔۔۔ اب وہ لوگ شوز وغیرہ کے لئے دوسری طرف جانے لگے۔۔۔ بیگز بہت زیادہ اور وزنی بھی تھے ۔۔۔ اسفند کو صارم نے یہ سب گاڑی میں رکھنے کو کہا۔۔۔ اور خود آگے بڑھ گئے ۔۔۔۔
اسفند پارکنگ تک آیا اور گاڑی کو کھول کر اندر شاپنگ بیگز رکھ کر گاڑی کو لاک کرکے واپس پلٹنے ہی لگا تھا ۔۔۔ کہ پیچھے سے آتی ایک تیز رفتار گاڑی نے اسکی گاڑی کو بڑے زور سے ہٹ کیا۔۔۔ اس نے تیوری چڑھا کر پیچھے مڑ کر دیکھا تو گاڑی میں ڈرائیونگ سیٹ اورفرنٹ سیٹ پر دو لڑکیاں بیٹھی نظر آئی۔۔۔ اس نے اپنی گاڑی کے پاس جاکر چیک کیا تو گاڑی کا بیڑا غرق تھا۔۔۔ پورا بیک سائیڈ اندر کو دھنسا ہوا تھا۔۔۔
وہ شدید طیش کے عالم میں اس گاڑی کی طرف آیا ۔۔اور شیشے پر نوک کیا۔۔۔ گاڑی میں بیٹھی ملیحہ اور ادینہ اس اچانک افتاد پر صدمے سے دوچار تھے۔۔۔لیکن ملیحہ نے خود کو نارمل کرکے شیشہ نیچے کیا۔۔۔ ہاتھ الگ کانپ رہے تھے ۔۔۔ اور ادینہ نے تو ابھی تک آنکھیں نہیں کھولی تھی ۔۔۔ اس کو پتہ تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔۔۔
جی فرمائیں!!!
ملیحہ نے سامنے کھڑے شخص سے پوچھا جو آیا تو بہت غصے میں تھا مگر ابھی ملیحہ کو دیکھ کر ان کے منہ میں سارے الفاظ گڈ مڈ ہوگئے ۔۔۔کھلے شولڈر کٹ سٹریٹ سنہرے بال، بلکل چائینہ جیسی دکھنے والی چھوٹی آنکھوں والی اور چھوٹی ناک والی لڑکی کو دیکھ کر اس کے دل نے ایک بیٹ مس کیا ۔۔۔وہ یک ٹھک ملیحہ پر نظریں گاڑھے کھڑا تھا۔۔۔ ایک لمحے کے لیے وہ بلکل فریز ہوگیا تھا۔۔۔ملیحہ جو اس کے بولنے کا ویٹ کر رہی تھی ۔۔۔اس کو اس طرح بغیر پلک جھپکائے اپنی طرف دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہوگئے ۔۔۔ اس نے ہمت کر کے ایک بار پھر اس کے سامنے ہاتھ ہلایا ۔۔۔۔
ایکسکیوزمی !
اسفند ایک دم ہوش میں آیا ۔۔۔ اور قہر زدہ نظر دونوں پر ڈال کر ان کو گاڑی سے باہر آنے کو کہا۔۔۔ ادینہ تو دم سادھے بیٹھی تھی۔۔۔ اس کو تو سانس لینا بھی دشوار لگ رہا تھا۔۔۔ملیحہ نے اس کی طرف دیکھا تو اس کے خوف سے کپکپاتے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسکو اشارے سے تسلی دی۔۔۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔دونوں ایک ساتھ گاڑی سے باہر نکلے۔۔۔۔
ادینہ نے سب سے پہلے سامنے والی گاڑی کے قریب جاکر معائنہ کیا تو گاڑی کو بہت زور سے ہٹ لگی تھی۔۔۔ اس کی اپنی گاڑی کا بھی آگے سے کافی برا حال تھا۔۔۔۔ اس نے افسوس کے ساتھ اسفند کی طرف دیکھا جو آنکھیں چھوٹی کرکے اسی کو گھور کر دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔ وہ ایکسکیوز کرنے کے لیے سولڈ الفاظ کا چناؤ کرنے لگی۔۔۔۔
آئی ایم سوری!!!!!! ہم نے دیکھا نہیں۔۔۔ ۔ غلطی ہماری تھی۔۔۔وہ مم۔۔ میری فرینڈ نا بہت اچھی ڈرائیونگ کرتی ہے لیکن۔ن۔ن۔ن ۔ ۔۔۔۔ابھی ادینہ اٹک اٹک کر بولنے کی کوشش کر رہی تھی کہ اسفند نے اس کی بات کاٹ کر طنزیہ انداز میں کہا۔۔۔۔
ہاں بھئی!!! وہ تو مجھے بھی دیکھ رھا ہے کہ تمہاری یہ دو انچ فرینڈ اتنی بڑی گاڑی کتنی مہارت سے چلا رہی تھی ۔۔۔ وہ تو شکر ہے کہ میں گاڑی کے اندر موجود نہیں تھا ورنہ میرے اتنے پیارے پیارے پوتے اور نواسے ایک ہینڈسم پلس چارمنگ دادا او نانا سے محروم ہوجاتے۔۔۔۔
ایکسکیوز می۔ی۔ی۔ی۔ مسٹر وٹ ایور۔۔۔۔ یہ دو انچ کا کس کو بولا۔ہاں۔۔۔آپ کے کندھے جتنی تو ہوں۔۔۔۔ابھی وہ کچھ اور بھی بول رہی تھی کہ ادینہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو اشارے سے مزید بکواس کرنے سے روک دیا۔۔۔ اور آنکھوں آنکھوں میں اسے سوری بولنے کو کہا۔۔۔۔
اسفند اس کے سوری بولنے کا ویٹ کر رہا تھا۔۔۔ لیکن ملیحہ کو دیکھ کر لگ نہیں رہا تھا کہ اسکو کوئی گلٹ ہے ۔۔۔ یا سوری بولنے کا کوئی ارادہ ۔۔۔۔ اسفند ڈھیٹ تھا تو وہ بھی مہا ڈھیٹ تھی۔ ۔۔۔
ادینہ گاڑی کو دیکھ کر سوچ رہی تھی کہ ایسی گاڑی اس نے کہاں دیکھی ہے ؟؟؟ مگر یاد نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔
دونوں کو اس طرح سوچوں میں غرق دیکھ کر اسفند کا پارا ہائی ہو گیا۔۔۔ اور زور سے اسکی گاڑی کے بونٹ پر لات ماری۔۔۔ دونوں اپنی جگہ پر اچھلے ۔۔۔۔
اسفند غصے میں مال کے اندر چلا گی۔۔ ۔وہ دونوں جو شش و پنج میں مبتلا تھے کہ کیا کرے اب ۔۔۔ ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔۔۔ ایک لمحے کے لیے دونوں چپ تھے اچانک ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر زوردار قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے ۔۔۔۔ ارے یار اتنی آسانی سے بغیر کوئی تاوان وصول کئے جلا بھنا اندر بھی چلا گیا ۔۔۔
اللّٰہ بھلا کرے ان کا۔۔۔ چلو جلدی چلو شاپنگ بھی کرنی ہے ۔۔۔ ملیحہ نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔ ۔ ہینڈسم نانا پلس دادا۔۔۔
اور وہ اندر مال میں انٹر ہو گئے ۔۔۔
