Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan Readelle50282 Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 15)
No Download Link
Rate this Novel
Anokhi Muhabbat Season 1 (Episode 15)
Anokhi Muhabbat Season 1 By Rimsha Khan
گاڑی گھر کے گیٹ پر پہنچی تو بے ساختہ ادینہ کو وہ دن یاد آیا جب وہ پہلی دفعہ فاروقی مینشن آئی تھی ۔۔۔ تب اس گھر سے رشتہ دوسری نوعیت کا تھا وہ ہچکچا رہی تھی۔۔۔۔ آج وہ فاروقی مینشن کی مالکہ بن کر آرہی تھی ۔۔۔ وہ کوئی روایتی بیوی نہیں تھی ۔۔۔نامی گرامی ایس پی صارم فاروقی کی دل کی ملکہ تھی۔۔۔ آج وہ بھی خود کو ہواؤں میں اڑتا ہوا محسوس کر رہی تھی ۔۔۔ یہ سچ ہے انسان اپنے رزق اور قسمت کے پیچھے بھاگتا ہے ۔۔۔۔ اسے وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ در در ٹھوکریں کھانے کے بعد اسکی تقدیر کی کایا یوں پلٹ جائے گی ۔۔۔۔۔۔
اب یہ اس کا اپنا گھر تھا ۔۔ لیکن اب بھی اس کے دل میں گھر والوں کو لیکر ہزاروں اندیشے پل رہے تھے ۔۔۔
آج اپنی زندگی کے اس نئے سفر کے آغاز میں اس نے خود سے عہد کیا تھا ۔۔۔ کہ وہ پوری ایمانداری سے صارم کے ساتھ اپنا رشتہ نبھائے گی۔۔۔ ان سے جڑے ہر رشتے کو مان دے گی ۔۔۔۔۔
ابھی وہ گو مگوں حالت میں بیٹھی پتہ نہیں کونسے معرکے سر کر رہی تھی ۔۔۔ کہ صارم کے پکارنے پر چونکی ۔۔۔
گھر آگیا ہے ادینہ ارام سے اترو ۔۔۔۔ صارم نے ہاتھ بڑھا کر اسے باہر نکلنے میں مدد کی ۔۔۔۔
گاڑی سے اتر گئی تو مہک اس کو سہارا دے کر اندر لے کر جانے لگی۔۔۔۔
پورا گھر کلر فل لائیٹس سے جگمگا رہا تھا۔۔۔۔ برقی لائیٹس کی چکاچوند روشنی آنکھوں کو ہیرا کر رہی تھی ۔۔۔۔
ابھی اس کو ہال میں صوفے پر بٹھایا گیا ۔۔۔۔کہ
اچانک اندھا دھند فائرنگ سے پورا علاقہ لرز اٹھا ۔۔۔۔
ادینہ نے خوف سے آنکھیں میچی۔۔۔
ریلیکس یار ۔۔۔ ایک نڈر پولیس والے کی بیوی ہو ۔۔۔۔ بی بریو ۔۔۔ یہ فائرنگ اور آتش بازی تمہارے ہسبنڈ کے چہیتے اسفند بھائی اور میرے ہسبنڈ ارسلان ساتھیوں سمیت کر رہے ہیں ۔۔ ۔۔ مہک نے ادینہ کے حالت کے پیش نظر جلدی سے کہا۔۔۔
تم بھی چلو نہ ساتھ میں باہر رنگ میں بھنگ ڈالنے۔۔۔ ابھی آتش بازی شروع ہوجائے گی جو کہ میری فرمائش تھی ۔۔۔۔ مہک اس کا ہاتھ تھام کر باہر لان میں لے آئی جہاں بہار جیسا سماں تھا ۔۔۔ اسفند اور ارسلان کچھ اور فرینڈز کے ساتھ مل کر اب آتش بازی کر رہے تھے۔۔۔۔
صارم بھائی یہ لو اپنی دلہن کو سنبھالو میں زرا اپنے ہسبنڈ کا ہاتھ بٹاتی ہوں ۔۔۔۔
مہک نے صارم کے ہاتھ میں ادینہ کا ہاتھ تھما دیا ۔۔۔ جو کہ سائیڈ پر کھڑا اپنے جان سے عزیز دوستوں کی بچکانہ حرکتیں دیکھ کر خاصہ مخفوظ ہورہا تھا ۔۔۔ اتنا خوش تو ارسلان اپنی شادی میں بھی نہیں دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ مہک جاکر ارسلان کے ساتھ آتش بازی کرنے میں لگ گئی ۔۔۔۔
صارم کو اپنے پہلو میں ادینہ کو کھڑے دیکھ کرخوشگوار طمانیت کا احساس ہوا ۔۔۔ ادینہ کا ساتھ پا کر اسےایسا لگا جیسے اس نے پوری دنیا فتح کر لی ہو ۔۔۔ اور وجود ساری فکروں سے آزاد ہوا ہو ۔۔۔
یار گھونگھٹ ہٹاؤ ابھی ۔۔۔ تمہارے سنگ یہ خوبصورت نظارے انجوئے کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ ایک ایک پل سیلیبریٹ کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔
صارم نے اسکا گھونگھٹ اوپر کیا۔۔۔ تو جیسے اپنی جگہ ساکت ہوگیا ۔۔۔۔
وہی براؤن سحر انگیز آنکھوں پر گھنیر پلکوں کا جال جو میک اپ سے لبریز تھی اور آج انتہائی حسین لگ رہی تھی ۔۔۔
چہرے کے حسین نقوش کو میک اپ کرکے مزید پرکشش بنایا گیا تھا ۔۔۔۔
صارم مبہوت سا اس کے دلکش سراپے میں کھویا ہوا تھا ۔۔۔ ادینہ کا سارا اعتماد ہوا ہوگیا ۔۔۔ وہ صارم کے نظروں کے والہا پن کو سہہ نہیں پا رہی تھی ۔۔۔ اور نظریں واپس جھکا دی ۔۔۔۔
ابھی صارم اس کی خوبصورتی سراہنے کے الفاظ ڈھونڈ رہا تھا کہ اسفند کی بے جا مداخلت نے اس کی محویت کو توڑا ۔۔۔۔
یہ کوئی رومینس جھاڑنے کی جگہ ہے ۔۔۔ ہم کنوارے ہیں بھئی ذرا احتیاط سے ۔۔۔۔
صارم نے ناگواری سے اسفند کو دیکھا ۔۔۔ جو بے موقع آٹپکا تھا۔۔۔۔
اسفند کاش میرے ہاتھ جادو کی چھڑی لگ جائیں تو میں تمہیں تب تب غائب کردیتا۔۔۔ جب جب میں ادینہ کے پاس ہوتا ہوں۔۔۔
مہک گڑیا ادینہ کو ہال میں لے جاؤ۔۔صارم نے مہک کو محاطب کیا ۔۔۔
جی صارم بھائی ۔۔۔
تھوڑی دیر بعد دوستوں کو رخصت کرکے صارم ارسلان اور اسفند کے ساتھ ہال میں داخل ہوا۔۔۔ ادینہ مبہوت سی صارم کو دیکھ رہی تھی جو اسی کے ڈریس کے ہم رنگ شیروانی میں کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا ۔۔
۔حورم اب ارسلان کی گود میں تھی ۔۔۔۔
تو سارے صوفوں پر بیٹھ گئے۔۔۔
بھابھی یار چائے وائے تو پلا دے ۔۔۔ سر میں شدید قسم کا درد ہو رہا ہے ۔۔۔۔ اسفند نے صوفے کی پشت پر سر رکھ ارسلان کی بیوی مہک کو کچن سے باہر نکلتے دیکھ کر عجلت میں کہا ۔۔۔ مبادہ کہیں وہ واپس نا چلی جائے ۔۔۔۔
ہاں ہاں وہاں تو ادینہ کی دوست کی بک بک کو کافی دلجمعی سے انجوئے کر رہا تھا۔۔۔ کسی اور کی کمائی کے پیسے کیسے مٹھی بھر بھر کر اس کی جھولی میں ڈال رہا تھا۔۔۔۔ تب تھکان نہیں تھی ۔۔۔ ارسلان جو وہاں اسفند کا اتاؤلا پن دیکھ کر کئی دفعہ اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں وارن بھی کر گیا تھا مگر اسفند کہاں کسی کی سنتا یا مانتا ہے سوائے صارم کے ۔۔۔۔ارسلان جو کافی بھرا تھا اب پھٹ پڑا ۔۔۔۔۔
سب کے چہروں پر مسکراہٹ ابھر آئی ۔۔۔۔۔
ہاں تو تجھے کیوں ہضم نہیں ہورہا ۔۔۔ بھابھی ساتھ میں اپنے شوہر نامدار کے لئے پیٹ درد کی دوا بھی لادے ۔۔۔ اسفند نے اسے ٹکا سا جواب دیکر مہک کو بھی انولو کیا ۔۔۔
مہک چائے لے کر آئی اور سب کو سرو کردی۔۔
ادینہ نے پینے سے انکار کردیا۔۔
حورم اب گھوم پھر کر صارم کی گود میں آئی تھی ۔۔ ارمغان اور زارش سونے کے لئے اٹھے ۔۔۔ان کے سونے اور اٹھنے کا مخصوص ٹائم ہوتا تھا۔۔۔ وہ سب سے پہلے صارم کے پاس آئے صارم کو گڈ نائٹ پاپا بول دیا۔۔ صارم نے دونوں کو ماتھے پہ پیار کیا۔۔۔ پھر وہ ادینہ کے پاس اگئے۔۔ گڈ نائٹ مما۔۔۔۔ ادینہ نے بھی دونوں کو صارم کی طرح پیار کیا۔۔۔۔
پھر سب کو مشترکہ سلام کرکے دونوں اپنے روم میں چلے گئے ۔۔۔
مہک ارسلان کو جانے کے لئے اشارے کر رہی تھی کہ اسفند کی نظر ان پر پڑی ۔۔۔
یہ تم دونوں آنکھوں آنکھوں میں کیا راز ونیاز کر رہے ہو۔۔ اتنے مینرز نہیں ہے تم دونوں میں کہ مخفل میں کھسر پھسر نہیں کرتے ۔۔۔
واوووو۔۔۔ تم جانتے بھی ہوں مینرز کس بلا کا نام ہے۔۔۔۔ ارسلان نے طنزیہ وار کیا ۔۔۔۔
ویسے تمہاری بھابھی بول رہی تھی کہ اسفند بہت تھک گیا ہوگا ۔۔۔۔۔ اب اسکو گھر چلنا چاہیے ۔۔۔ ارسلان نے اسفند کو ملامت کرنا چاہا لیکن وہ سدا کا ڈھیٹ انسان تھا۔۔۔ کان پر جوں تک نہیں رینگی ۔۔۔۔
اوکے صارم بھائی ہم جارہے ہیں ۔۔۔ ادینہ بھی تھک گئی ہوگی ۔۔۔۔ آپ لوگ بھی اب جائیں روم میں۔۔۔ مہک نے صارم کو متوجہ کرکے کہا۔۔۔۔
اور اسفند بھائی آپ بھی آجائیں ہمارے ساتھ ۔۔۔ اس نے ساتھ ساتھ اسفند کو بھی اٹھایا ۔۔وہ دانت پیس کر اٹھ گیا اس کا ارادہ صارم کو مزید تنگ کرنے کا تھا مگر مہک اس کے کرتوتوں سے واقف تھی اس کو ہر گز یہاں چھوڑنے والی نہیں تھی ۔۔۔
اوکے بھابھی کل ان شاءاللہ ولیمہ پر ملاقات ہوگی ۔۔ وہ مسز فاروقی کے گلے لگی۔۔
کل ولیمہ کے فنکشن میں صارم نے کچھ خاص آفیسرز کو بھی بلایا تھا۔۔۔۔
سب کو رخصت کرنے کے بعد مسز فاروقی ادینہ کو صارم کے روم میں لے کر گئی۔۔۔۔
ادینہ اتنے عرصے میں پہلی دفعہ صارم کے روم کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ آنکھوں میں ستائش تھی ۔۔۔ کرٹنز سے لے کر قالین بیڈشیٹ ہر چیز پستہ گرین کلر کی تھی ۔۔۔ وہ بیڈ پر بیٹھ کر صارم کا ویٹ کرنے لگی ۔۔۔
صارم ہال میں کھڑا حورم کو کندھے پر لٹائے سلانے کی کوشش کر رہا تھا مگر وہ سونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔ اور صارم کی موجودگی میں وہ مس۔سز فاروقی کے پاس جاتی بھی نہیں تھی ۔۔۔۔
مسز فاروقی نیچے آگئی تو حورم جاگ رہی تھی۔۔ اسے مجھے دے دو اور تم روم میں چلے جاؤ ۔۔۔تھک گئے ہونگے ۔۔۔۔
مسز فاروقی نے اس کی گود سے حورم کو لینا چاہا تو وہ اور بھی صارم کے ساتھ چپک گئی۔۔
حورم گڑیا پاپا تھک گئے ہیں نا اس کو آرام کرنا ہے ۔۔۔ ضد نہیں کرتے بچا۔۔۔ مس۔سز فاروقی اسے سمجھانے لگی تو صارم نے اسے منع کردیا۔۔۔۔
اٹس اوکے ۔۔۔ میں سلا دوں گا ۔۔ اور اسے لیکر اوپر چلے گئے ۔۔۔۔
وہ روم میں داخل ہوئے تو ادینہ کو اپنا منتظر پایا ۔۔۔۔۔ آنکھیں نیند سے بوجھل اسکا انتظار کرتی ۔۔۔۔
سوری ادینہ ۔۔۔۔۔ اس نے جلدی سے معذرت کی۔۔
کس بات کے لیے؟؟ اس نے پریشانی سے پوچھا۔۔۔
حورم میرے ساتھ آنے پر ضد کر رہی تھی ۔۔
ہاں تو اس میں سوری والی کیا بات ہے۔۔ اسے مجھے پکڑا دے ۔۔ میں سلا دوں گی ۔۔ ادینہ نے ہاتھ بڑھائے تو حورم اس کی گود میں چلی گئی ۔۔۔
میں چینج کرکے آتا ہوں۔۔۔۔ وہ ڈریسنگ روم میں چلا گیا۔۔اور ادینہ حورم کے ساتھ لیٹ گئی۔۔۔ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر کر اسے سلانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔
صارم تھوڑا سا لیٹ ہوگیا اسے ایک ارجنٹ کال آئی تھی ۔۔۔ روم میں آیا تو حورم کے ساتھ ساتھ ادینہ بھی خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی ۔۔۔
افسس ۔۔ یہ پاگل کیوں سو گئی ۔۔ وہ بھی برائیڈل ڈریس میں ۔۔ جس میں وہ انکمفرٹیبل تھی ۔۔۔ آج وہ اتنی پیاری لگ رہی تھی کہ اس کے دھڑکنیں منتشر کر رہیتھی ۔۔صارم نے بہت مشکل سے اپنے جزباتوں پر قابو رکھا تھا۔۔۔
ابھی وہ کچھ سوچ رہا تھا کہ ڈور نوک ہوا۔۔ اس نے دروازہ کھولا تو مسز فاروقی کھڑی تھی۔۔۔
حورم سو گئی؟؟ اس نے پوچھا۔۔تو صارم دروازے سے ہٹ گیا۔۔۔۔
وہ اندر آگئی تو ملامت زدہ نظروں سے صارم کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔ کیونکہ حورم ادینہ کے اوپر آرام سے لیٹی سو رہی تھی ۔۔اور حورم اس کے اوپر اپنا ہاتھ رکھ کر ۔۔ اگر ایک کو بھی اٹھایا جاتا تو لازمی دوسرا بھی اٹھتا۔۔ اور اگر حورم اٹھ گئی تو وہ لاکھ کوششوں کے باوجود دوبارہ جلدی نہیں سوتی ۔۔۔
صارم یہ ادینہ کیوں سو گئی ۔۔۔ اور تم نے اسے کیوں حورم کو سلانے کا بولا۔۔ وہ بھی تھک گئی تھی تو آنکھ لگ ہو گی ۔۔۔
میں حورم کو لے کر جارہی ہوں تم ادینہ کو اٹھا دینا۔۔۔
وہ حورم کو اٹھانے لگی تو ادینہ نے نیند میں ہی اسے خود میں بھینچ لیا۔۔۔
مسز فاروقی پھر سے صارم کو دیکھنے لگی۔۔
چھوڑو اسے ۔۔ اب اگر اسکی مما اسے اپنے اپ سے الگ کرنا نہیں چاہتی تو ہم کیا کریں ۔۔۔ویسے میری بیٹی نے جلدی پارٹی بدل دی ۔۔۔
لیکن صارم ادینہ بھی اس ڈریس میں کمفرٹیںبل نہیں ہے ۔۔ بہت ہیوی ہے۔۔۔
کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔ آپ جائیں میں سمبھالونگا۔۔۔۔
وہ نا چاہتے ہوئے بھی حورم کو یہاں چھوڑ کر چلی گئی ۔۔۔
اس نے ایک بار پھر کوشش کی حورم کو ادینہ کے بازوؤں سے نکالنے کی لیکن ناکام رہا ادینہ کا سر تکیے پر ٹھیک کیا۔۔۔ لائٹ آف کرکے ادینہ کے پاس آیا۔۔ جذبات کا لاوا باہر نکلنے کو تیار تھا۔۔
دل پرجبر کر کے ادینہ اور حورم دونوں کو اپنی باہوں میں بھرا اور آنکھیں بند کر کے سونے لگا۔۔ رات کے کسی پہر ادینہ کی آنکھ کھلی ۔۔ تو حورم اس کے سینے پر میٹھی سی نیند سو رہی تھی ۔۔۔
۔اور صارم بھی اس کے ساتھ لیٹا سو رہا تھا ۔۔
افففف میرے اللّٰہ میں سو گئی تھی ۔۔۔
صارم کی بے قراریاں اس کے آنکھوں میں محبت کا خمار سب کچھ اسے یاد آنے لگا۔۔۔۔۔ کتنا ویٹ کیا تھا صارم نے اس دن کا ۔۔۔ وہ خود کو کوسنے لگی ۔۔۔ وہ تھوڑا سا پیچھے سرک گئی اور حورم کو اپنے اور صارم کے بیچ لٹایا۔۔۔ ادینہ کے ڈریس کی وجہ سے حورم بے چین تھی ۔۔ یہ کپڑے اس کو چھب رہے تھے ۔۔
وہ آہستہ سی اٹھی۔۔۔ اور ڈریسنگ روم میں چلی گئی ۔۔۔ ایک اوپن ٹراؤزر پر سادہ سا شرٹ پہن کر وہ باہر ائی۔۔۔ بال کھول دئے اور صارم کے پاس کھڑے ہو کر اسے دیکھنے لگی۔۔ یہ شخص اس کا کرش تھا۔۔۔ اس کا جنون تھا۔۔۔
صارم کے بال ماتھے پر بکھرے پڑے تھے ۔۔ ان بالوں کی ادینہ دیوانی تھی ۔۔۔ اس نے نیچے جھک کر ماتھے سے اس کے بال ہٹائیں اور وہاں اپنے نرم لبوں سے کس کیا۔۔۔ اور جلدی اپنی جگہ واپس آکر لیٹ گئی۔۔۔
**********
