Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Yaad Ki Anch (Last Episode)

Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas

مناب نے مختصر لفظوں ميں اسے سارا واقعہ بتايا۔

“ميں آرہی ہوں تمہارے پاس۔ تم ايک بار فاتک بھائ کو کال ملاؤ۔۔ ايسا نہيں ہوسکتا” وہ بے يقينی سے بولی۔

مناب نے صبغہ کی کال بند کرکے فورا فاتک کے نمبر پر کال ملائ اس آس ميں کہ يہ خبر واقعی جھوٹ ثابت ہو۔

مگر دوسری جانب سے آنے والی پاورڈآف کی اطلاع پر مناب سر پکڑ کر بيٹھ گئ۔

کريم کا خيال آيا فورا اسے فون ملايا۔

“ہيلو ميم جی” کريم اسکا فون آتا ديکھ کر حيران ہوا۔

“کريم تمہارے باس کہاں ہيں” مناب نے چھوٹتے ہی کريم سے پوچھا۔

“باس تو کسی کام سے ايک کلائنٹ کی طرف گۓ ہيں۔ خيريت ہے” مناب کی آواز ميں موجود پريشانی نے کريم کو بھی پريشان کيا۔

“نہيں ہے خيريت۔۔کريم ان کا ايکسيڈنٹ ہوا ہے۔ مجھے ابھی ہاسپٹل سے کال آئ ہے” وہ پھر سے رونے لگی۔

“کون سے ہاسپٹل سے” وہ پريشان ہو اٹھا۔

مناب نے فورا نام بتايا۔

“ميں پہنچتا ہوں” کريم فون بند کرتے ہی باہر کی جانب لپکا۔

صبغہ نے غازی کو فون کرکے تمام صورتحال بتائ وہ اسی لمحے مناب کو لينے پہنچا۔

مناب اور وشہ کو لئے وہ ہاسپٹل ميں موجود تھا جہاں کريم بھی پہلے سے ہی آچکا تھا۔

کريم کو ريسيپشن پر بحث کرتے ديکھ کر وہ تينوں بھی اسکے قريب گۓ۔

“کريم” غازی کے آواز دينے پر وہ فورا پلٹا۔

“سر يہ کہہ رہے ہيں کہ فاتک نامی کوئ شخص کسی کار ايکسيڈنٹ ميں ہاسپٹل نہيں آيا۔” کريم کے بتانے پر وہ مناب اور غازی چونکے۔

“ابھی کچھ دير پہلے مجھے يہاں کہ کسی نمبر سے بتايا گيا ہے کہ ميرے شوہر کا ايکسيڈنٹ ہوا ہے اور وہ سيريس کنڈيشن ميں ہيں” مناب نے آگے بڑھ کر ريسيپشنسٹ سے کہا۔

“ديکھيں ميم ميں ان صاحب کو بتا چکی ہوں کہ صبح سے ايسا کوئ کيس نہيں آيا” اس نے پھر سے مناب کو بتايا۔

“بھابھی کيا اسی ہاسپٹل کا نام بولا گيا تھا” غازی نے اب کی بار مناب سے پوچھا۔

“ہاں ہاں۔ يہ سرجی ميڈ ہی ہے نا ميرے کانوں نے غلط نہيں سنا۔ اگر يہاں کوئ ايسا کيس نہيں تو پھر کال کيوں آئ۔ آپ کيا لوگوں کو پاگل بنا کر انکے جذبات سے کھيلتے ہيں” مناب صدمے اور غصے کی ملی جلی کيفيت ميں اپنا غصہ اس پر اتارنے لگی۔

“ميم کيا آپ وہ نمبر بتا سکتی ہيں جس سے آپکو فون آيا” اس لڑکی نے اب کی بار بھی سہولت سے مناب کو ديکھ کر پوچھا۔

“نہيں نمبر تو ياد نہيں مگر اسی ہاسپٹل کا کہا گيا تھا۔ اور اگر اللہ کرے واقعی ايسا نہ ہو تو فاتک کا نمبر کيوں بند جارہا ہے۔ غازی ميرا دل بيٹھا جارہا ہے” پريشانی عروج پر تھی۔

کريم اور غازی وقتا فوقتا فاتک کو کال ملا رہے تھے۔

مگر نمبر ہنوز بند تھا۔

کريم نے غازی کو ديکھا۔

“تم ايسا کرو بھابھی کو گھر چھوڑ آؤ راستے ميں صبغہ کو بھی لے لينا ميں اور ہاسپٹلز ميں چيک کرتا ہوں۔ اور بھابھی آپ گھر جاکر اسی نمبر کو ڈھونڈ کر اس پر کال بيک کريں۔ اللہ سب بہتر کرے گا” غازی کی بات پر وہ بس ايک نظر اسے ديکھ کر رہ گئ۔

“مجھے گھر نہيں جانا” اس نے التجا کی۔

“نہيں بھابھی ميں آپکو لئے لئے ہر جگہ نہيں پھر سکتا۔ پليز” اس نے سہولت سے اسے منع کيا۔

چارو ناچار وہ کريم کے ساتھ واپس گھر آئ۔ صبغہ کو راستے ميں پک کر ليا تھا۔

گھر آتے ہی اس نے کارڈليس کی سی ايل آئ ميں وہی نمبر ڈھونڈا۔

جيسے ہی نمبر ملايا وہ بزی تھا۔

“حوصلہ کرو اللہ سب بہتر کرے گا۔” صبغہ جو اسکے قريب صوفے پر بيٹھی تھی۔ مناب کے کندھوں کے گرد بازو باندھے تسلی دينے لگی۔

“دعا کرو صبغہ يہ سب جھوٹ ہو۔ ميرا دل لگتا ہے کہ بند ہورہا ہے۔ ميں۔۔ ميں نے تو ابھی فاتک کی واپسی کو قبول کيا تھا۔ ابھی رات ميں ہم کتنے خوش تھے۔

مجھے لگا تھا ميں پلٹ رہی ہوں۔اور” وہ ہاتھ بالوں ميں الجھاۓ غمزدہ لہجے ميں بول رہی تھی۔

“صبغہ۔۔ کياکيا۔۔ يہ سزا ہے ۔۔ فاتک کو معاف نہ کرنے کی۔ اتنا وقت لينے کی” مناب کو جيسے کچھ ياد آيا۔ زرد رنگت لئے چہرہ صبغہ کی جانب موڑ کر خشک ہونٹوں کو بمشکل زبان سے تر کرتی وہ بدقت بولی۔

“نہيں پاگل۔۔ ايسے نہيں سوچتے۔ فاتک بھائ کو کچھ نہيں ہوگا وہ بالکل ٹھيک ہوں گے” صبغہ نے اسے خود سے لگاتے خوف سے بھينچا۔

خوشيوں کی چاہ ميں وہ پھر سے غم سے دوچار ہوگئ تھی۔

“پھر يہ کيا ہورہا ہے۔ ميں نے تو آج فاتک کو۔۔۔”مناب کی بات فاتک کی گاڑی کے ہارن سے ادھوری رہ گئ۔

آنکھيں کيا۔۔ ان ميں موجود آنسو بھی منجمد ہوگۓ۔

پھٹی پھٹی آنکھوں سے وہ صبغہ کو اور صبغہ اسے بے يقينی سے ديکھتی ہوئ اٹھ کر لاؤنج کے دروازے کی جانب بڑھی۔

تھوڑی ہی دير ميں فاتک ان دونوں کے سامنے تھا۔

“السلام عليکم۔۔ ارے تم يہاں”

خوشگوار لہجے ميں صبغہ کو سلام کرتا اسکی حواس باختہ صورت کو حيرت سے ديکھتا جيسے ہی وہ آگے بڑھا۔ اپنے سامنے متورم چہرہ لئے کھڑی مناب کو ديکھ کر ٹھٹھکا۔

رو رو کر اسکی آنکھيں سوجی ہوئ تھيں۔

وہ بے يقين نظروں سے فاتک کو ديکھ رہی تھی۔

فاتک پريشان ہوا۔

“کيا ہوا ہے رو کيوں رہی ہو” مناب اسکے قريب آتے ہی ٹوٹی ہوئ شاخ کی طرح گرنے کے سے انداز سے اسکے کندھے پر سر ٹکاتے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

وہ سب غبار جو ان چند گھنٹوں ميں اسکے اندر پل رہا تھا وہ فاتک کے کندھے پر نکال رہی تھی۔

“کوئ مجھے بتاۓ گا کہ کيا ہوا ہے” فاتک نے خود پر ضبط کرتے مناب کو کندھے سے پيھچے کرنا چاہا مگر وہ مزيد اسکے قريب ہوتی اسکے بازو اپنے ہاتھ ميں دبوچے کھڑی تھی۔

“آپ ٹھيک ہيں نا بھائ” صبغہ نے بولنے کی ہمت کی۔

“ہاں ميں۔۔”

“اگر آپ ٹھيک تھے تو پھر يہ کيا گھٹيا مذاق تھا۔” مناب يکدم بپھرتے ہوۓ اس سے پيچھے ہوئ۔

“آپکے ايکسيڈنٹ کی خبر اور پھر آپکا فون بھی آف ہونا۔

يہ يقينا آپ نے جان بوجھ کر کيا۔۔ ہےنا” مناب اسے غصے سے گھورتے ہوۓ بولی۔

“ايکسيڈنٹ۔۔ميرا” وہ اچنبھے سے بولا۔

“ہاں آپکا ايکسيڈنٹ۔۔ جان کر آپ نے کسی سے فون کروايا نا۔ تاکہ ديکھ سکيں مناب زندہ رہتی ہے کہ مرجاتی ہے۔

آپ نے ہی کہا تھا نا۔،مناب ويسے ہی کہہ دو کہ مرجاؤں جدائ کی بات مت کرو۔۔

تو آپ نے جدائ کی بات کيوں کی ويسے ہی کہہ ديتے مناب مر جاؤں۔

اتنی بڑی سزا دی۔۔ وقت ہی مانگا تھا نا۔۔ اور اور ۔۔۔آج آپ کو فيصلہ سنانا تھا کہ اگر آپ ميرے بغير نہيں رہ سکتے تو مناب بھی آپ کے بغير ادھوری ہے

مگر آپ نے تو ٹھيکا اٹھايا ہوا ہے۔ مجھے زچ کرنے کا۔ تکليف دينے کا۔۔ صبر نہيں ہوا نا آپ سے” مناب ہذيانی انداز ميں چيخ رہی تھی۔

وشہ اور صبغہ اسکے انداز پر دم بخود اسے ديکھ رہی تھيں۔

جو شيرنی بنی ہوئ تھی۔

صبغہ نے کچھ کہنا چاہا مگر فاتک نے اشارے سے اسے خاموش کرواديا۔

وہ نہيں جانتا تھا کہ انہيں کس قسم کی اطلاع اسکے بارے ميں ملی ہے اور کس نے دی ہے۔ مگر وہ غبار جو مناب ميں کب سے پل رہا تھا وہ اسے باہرآنے دينا چاہتا تھا۔

“اب کہہ ديں کہ آپ کو کسی فون کے بارے ميں نہيں پتہ۔

پاگلوں کی طرح غازی اور کريم ہاسپٹلوں ميں آپکے بارے ميں پوچھتے پھر رہے ہيں۔ ميرا تو چلو آپ کو کوئ احساس ہے ہی نہيں

ان کا بھی نہيں ہے۔ ۔۔۔

مجھے نہيں رہنا آپ کے ساتھ۔ دھوکے باز ہيں۔ جب جب آپکے لئے سچے دل سے سوچا آپ نے کچوکے لگاۓ۔ رہيں آپ اکيلے۔

نہيں رہوں گی اب آپکے ساتھ” مناب کمرے کی جانب مڑنے لگی کہ بازو آہنی گرفت ميں آگيا۔

فاتک نے اسکا رخ اپنی جانب کيا۔

اپنے لئے اسکی محبت کی انتہا ديکھ کر اسکی خوشی کا کوئ ٹھکانہ نہيں تھا۔

“مجھے واقعی نہيں پتہ کس نے آپ کو کيا فون کيا ہے۔ ميں تو اپنے ايک کلائنٹ سے مل کر آرہا ہوں۔ مجھے وہ نمبر دکھاؤ جس سے فون آيا ہے” فاتک نے نرمی سے کہا۔

“يہ ديکھيں ۔۔يہ نمبر ہے اور اب يہ بھی بند جارہا ہے۔ مجھے فون آيا تھا کہ آپکے شوہر کا ايکسيڈينٹ ہوا ہے وہ سرج ميڈ ميں ہيں۔۔۔” مناب نے آنسو صاف کرتے اسے بتايا۔ انداز اب بھی نروٹھا تھا۔

“يہ لوگ وہاں گۓ تو انہون نے کہا کہ ايسی کوئ کال نہيں آئ۔ اب آپا کوگھر چھوڑ کر وہ دونوں آپکو ديکھنے اور ہاسپٹلز گۓ ہيں” صبغہ نے باقی کا ماجرا سنايا۔

“انہيں فون کرو پہلے کہ ميں گھر آگيا ہوں” فاتک نے صبغہ کو کہا۔

صبغہ فون اٹھاۓ دوسرے کمرے کی جانب بڑھی۔

وشہ ابھی تک صوفے پر دبکی بيٹھی تھی۔

“وشہ يہاں آؤ” فاتک نے وشہ کو پاس بلا کر پيار کيا۔

“ممی بہت رو رہی تھيں” وشہ کو اور تو کچھ سمجھ نہيں آئ ماں کا حال بتايا۔

فاتک نے نظر اٹھا کر سامنے ديکھا۔ جہاں ہنوز ناراضگی کے ہی اثرات تھے۔

“آپ خالہ کے پاس جاؤ” فاتک نے وشہ کو صبغہ کے پيچھے بھيجا۔ خود سيدھا ہوتے مناب کے سامنے آکر رکا۔

د ماغ مسلسل يہی سوچ رہا تھا کہ کس کی حرکت ہوسکتی ہے۔ سوچتے ہوۓ نظر کيلنڈر پر گئ يکدم ذہن ميں جھماکا ہوا

“آج ڈيٹ کيا ہے” فاتک کی نظروں کے تعاقب ميں مناب نے بھی الجھ کر ديکھا۔

پہلی اپريل واضح جگمگا رہی تھی۔

دونوں نے سکھ کا سانس ليا۔

“”ميرا فون آفس سے نکلتے ہی آف ہوگيا تھا اور چارجر بھی ميرے پاس نہيں تھا” سب گتھياں سلجھ گئيں

ميری بيوی پھر سے بے وقوف بن گئ” مناب کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے وہ محبت سے گندھے لہجے ميں بولا۔

مناب کو اب اپنے لہجے کی تلخی اور کڑواہٹ کا احساس ہوا تو ندامت نے چہرے کا گھيراؤ کيا۔

“آئم سوری” وہ شرمندگی سے فاتک کو ايک نظر ديکھ کر بولی۔

جس کی نظروں ميں مناب کا عکس لہرا رہا تھا۔

نظريں جھکا ليں۔

“نہيں سوری مت کہو۔ اپنے لئے آپکا يہ جنونی انداز بہت اچھا لگا۔ گوکہ کسی کے نزديک يہ بے ضرر سا مذاق کسی اور کے لئے جان ليوا تھا۔ مگر مجھے صرف اتنی خوشی ہے کہ اس مذاق کی بدولت مجھے ميری اصل مناب واپس مل گئ” فاتک نے محبت سے اسکے ماتھے پر بوسہ ديا۔

محبت سے پر يہ لمس مناب کے اندر کی آگ کو بجھا گيا۔

“ميں بہت پريشان ہو گئ تھی۔ مرنے والی تھی”مناب پھر سے چند لمحوں پہلے کا تصور کرکے خوفزدہ انداز ميں بولی۔

“ابھی آپکو بہت جينا ہے۔ ميرے لئے ہمارے لئے” فاتک نے اس خود سے قريب کيا۔

“آپکی رات کی پيش قدمی سے يہ تو اندازہ ہوگيا تھا کہ دھند چھٹ گئ ہے۔ مگر دھند چھٹتے ہی جو طوفان آيا ہے اس کا انداز نہيں تھا” فاتک کے پر مزہ انداز پر وہ مسکراۓ بغير نہ رہ سکی۔

“ميری محبت طوفان ہے” وہ مصنوعی خفگی سے اسے گھور کر بولی۔

“نہيں يہ تو وہ موتی ہے جسے ميں ہميشہ اپنے دل کے سيپ ميں بند کرکے رکھوں گا” فاتک نے اب کی بار اسے خود سے لگايا۔

مناب نے اسکی پناہوں ميں آتے ہی طمانيت سے آنکھيں موند ليں۔

“ميں اب اور ہميشہ صرف آپکے ساتھ رہنا چاہتی ہوں” مناب نے اپنا فيصلہ سنايا۔

“اور ميں بھی” فاتک نے ہولے سے مسکرا کر اسکے وجود کی خوشبو خود ميں اتارتے اسکے گھنے بالوں سے ڈھکے سر پر رکھ دئيے۔ محبت کی تکميل ہوگئ۔

____________________

ايک سکول کا منظر۔

ايک باپ اور بيٹی سکول کے اينول فنکشن ميں گٹار ہاتھ ميں لئے اسٹيج پر کرسيوں پر آمنے سامنے بيٹھے مائيک پر جادو جگا رہے ہيں۔

جی ہاں يہ باپ اور بيٹی کوئ اور نہيں وشہ اورفاتک ہيں۔

مناب کراؤڈ ميں بيٹھی ان دونوں کو محبت پاش نظروں سے گنگناتے دیکھ رہی ہے۔

مناب نے فاتک کو سنگنگ سے مکمل طور پر دستبردار ہونے سے روک ديا۔

“جب آپ ميرے ہر جنون کے ساتھ محبت کرسکتے ہيں تو ميں کيوں نہيں۔ جب آپ ميرے احترام اور محبت ميں کوئ کمی نہيں آنے دے سکتے تو ميں بھی آپکے شوق کی راہ ميں رکاوٹ نہيں بن سکتی۔ بس اس شوق کو مجھ پر اور وشہ پر فوقيت مت ديجئيے گا” مناب کے کہنے پر اب فاتک گٹار بھی پکڑتا ہے اور وشہ کو سکھاتا بھی ہے۔

فاتک نے وہ گھر فی الحال کريم کے حوالے کرديا ہے کہ وہ اسکی ديکھ بھال کرے۔

مناب کا فيصلہ ملتے ہی فاتک نے حقيقت ميں بوريا بستر سميٹ ليا۔ اور واجد اور ناز کے بے حد اصرار پر اسی گھر اسی کمرے سے انہوں نے ايک نئ زندگی کا آغاز کيا۔

محبت کے ساتھ ساتھ عزت نہ ملے تو اس محبت کی وقعت نہيں رہ جاتی۔ مناب نے اپنے رويے سے فاتک کو يہی سمجھايا اور فاتک نے بھی سمجھا۔

اب وہ اسکی عزت پہلے کرتا ہے اور محبت بعد ميں۔ مناب نے اس سب کے دوران يہ سيکھا کہ معاف کردينے سے واقعی اللہ بے پناہ سکون سے نوازتا ہے۔ سب کے چہروں پر موجود خوشی مناب کے بروقت صحيح فيصلہ کرنے سے ہوئ۔

اور وہ فيصلہ معاف کرنے کا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *