Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas NovelR50675 Teri Yaad Ki Anch (Episode 06)
Rate this Novel
Teri Yaad Ki Anch (Episode 06)
Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas
اب کيا آپ وشہ کو بھی بھابھی سے الگ کرنے کے چکر ميں ہيں” نجانے کيوں غازی کو اس کی نيت پر شک گزرا۔
“اگر يہ سب کرنا ہوتا تو تمہيں کبھی اپنے ساتھ ملانے کی بات نہ کرتا۔ وشہ کو ٹريس کرکے خاموشی سے لے کر نکل جاتا۔اتنا ہی گھٹيا سمجھتے ہو مجھے؟” فاتک نے کسی قدر تاسف سے بھائ کو ديکھا۔
“تو پھر اس سب کا مقصد؟” وہ الجھا۔
“کيا تم نے مجھے معاف نہيں کيا۔کيا تم نہيں چاہتے کہ ميں تم سب کے ساتھ مل کر رہوں۔ کيا تم نہيں چاہتے کہ وشہ ميری جس محبت سے محروم رہی جو اس کا حق تھی وہ اسے ملے۔ ميں اپنے کئيے پر نادم ہوں غازی اور سب کچھ ٹھيک کرنے کے لئيے جتنے جتن کرنے پڑے کروں گا۔ بس تم ميرا ساتھ ديتے جاؤ۔ تمہارا يہ احسان ساری زندگی نہيں بھولوں گا۔ تمہيں اپنی سب مجبورياں بتا چکا ہوں۔پھر بھی تم سارا قصور ميرے کھاتے ميں ڈال رہے ہو” فاتک نے بے چارگی سے کہا۔
“ٹھيک ہے مگر وشہ کو ملانے سے پہلے مجھے چاچو اور چاچی سے يہ سب بات کرنی پڑے گی۔ اور آپکو ان کے پاس جانا پڑے گا” غازی نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا۔
“سب کے پاس چلوں گا۔ سب سے معذرت بھی کروں گا۔۔غلطياں دہرا کر اب اپنے حصے کی سزا کو ختم کرنا چاہتا ہوں۔ مگر راز داری شرط ہے۔ اور تم وعدہ کرو تم بابا کو بھی منانے کی کوشش کروگے” فاتک نے کسی قدر مان سے کہا۔
“پوری کوشش کروں گا۔ مگر ميں يہ داؤد چاچو کی مدد کے بغير نہيں کرسکتا” غازی نے بھی اپنی مجبوری بتائ۔
“بالکل۔۔۔مجھے بھی سب کی سپورٹ چاہئيے” فاتک نے اسکی بات کی تائيد کی۔
_____________________________
“السلام عليکم! کيسی ہو؟” بہت دنوں بعد آج اس نے صبغہ کو فون کيا تھا۔
“وعليکم سلام بالکل ٹھيک آپ سنائيں” رات کے گيارہ بجے غازی کی کال نے اسے تھوڑا حيران کيا۔کيونکہ وہ جانتا تھا کہ صبغہ کا يہ سونے کا وقت ہوتا تھا۔ لہذا اس وقت وہ فون کرنے سے اجتناب کرتا تھا۔
صبح اسے کالج بھی جانا تھا مگر غازی کا اس وقت فون۔۔۔
اسے کچھ گڑ بڑ کا احساس ہوا يہی سوچ کر اس نے سن ليا۔
“گڈ۔۔آئم سوری اس وقت آپکو ڈسٹرب کررہا ہوں۔ ليکن سمجھ نہيں آرہی کہ کس سے اپنا مسئلہ شئير کروں۔ بہت سوچنے کے بعد بھی آپکے علاوہ کسی کا نام ذہن ميں نہيں آيا” سال پہلے ہی غازی اور مناب کی خواہش پر صبغہ اور غازی کا نکاح ہوا تھا۔
عارفہ مناب کے تجربے کے بعد ہی غازی کے ساتھ صبغہ کا رشتہ کرنے پر کسی صورت آمادہ نہيں تھيں۔ جبکہ مناب جانتی تھی کہ غازی صبغہ کے علاوہ کسی اور کے ساتھ شادی پر آمادہ نہيں ہوگا۔
بہت دن مناب ماں کو سمجھاتی رہی۔
“آخر آپ لوگ میری وجہ سے انکی زندگی خراب کيوں کررہے ہيں” وہ جھنجھلائ۔
“اسی کا بھائ ہے نا۔۔ ايک نے تو ميری بيٹی کی زندگی کو برباد کرديا۔ اب دوسرے کے ہاتھ ميں ميں دوسری بيٹی کی زندگی دے دوں تاکہ وہ اسے بھی برباد کرے” عارفہ درشت لہجے ميں بوليں۔
“اماں غازی بہت اچھا ہے۔۔جس طرح ان سالوں ميں اس نے مجھے سنبھالا ہے۔ وہ صبغہ کو بہت خوش رکھے گا۔ ميرے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ميری قسمت تھی۔ اسکا قصور وار آپ کسی اور کو نہيں ٹھہرا سکتيں۔ يہ غازی کے ساتھ زيادتی ہے۔ پليز۔۔ اماں۔۔مجھے صبغہ اور غازی دونوں ہی بہت پيارے ہيں۔ اور کيا ہی اچھا ہو يہ پيارے ميرے پاس رہيں ہميشہ۔۔۔” وہ صاف دل والی تھی صاف دلی سے اپنی خواہش کا اظہار کرگئ۔
“قسمت۔۔ منا۔۔۔تو اب بھی اس بے غيرت پر کوئ الزام برداشت نہيں کرسکتی” عارفہ صدمے سے بوليں۔
“اس نے وفا نہيں نبھائ۔۔تو نہ سہی۔۔ ميں تو بے وفا نہيں ہوں نا” نجانے کيوں جب جب فاتک کو کوئ کچھ کہتا اس کا دل خون کے آنسو روتا تھا۔
اس ستم گر کی محبتيں ياد آتيں تو دل نرم پڑ جاتا تھا۔
شايد عورت ايسی ہی ہوتی ہے محبت کے چند خوشگوار لمحے تو ساری عمر نہيں بھولتی ہاں ستم ظريفی کو چندميٹھے بولوں کے بعد بھی بھلا ديتی ہے۔
عورت کی مٹی ميں وفا شعاری کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ تبھی تو بيوہ عورتيں اولاد کے سہارے پر ہی ساری عمر مرد کے سہارے کے بنا گزار ديتی ہيں۔
جبکہ مرد ايک عورت کے بعد دوسری عورت کو فورا زندگی ميں لے آتا ہے۔
“اماں ميرے مسئلوں کو چھوڑيں۔ اور يقين کريں۔ غازی نہ صرف صبغہ کے لئیے بلکہ ہم سب کے لئے ايک اچھا داماد، بہنوئ اور بيٹا ثابت ہوگا۔ آپ ميری مان کر تو ديکھيں”اور پھر مناب نے انہيں منا کر ہی چھوڑا۔
صبغہ کے لئے غازی ايک کزن کے علاوہ اور کچھ نہيں تھا۔
اب بھی غازی اس سے بہت محتاط ہوکر بات چيت کرتا تھا۔ کبھی کبھی فون پر بات کرليتا۔ بس خيريت پوچھتا پڑھائ سے متعلق بات کرتا۔ فاتک نے ايسا ڈر سب کے دلوں ميں پيدا کرديا تھا۔ کہ غازی صبغہ سے بے تحاشا محبت کرنے کے باوجود صبغہ پر کبھی ظاہر نہيں کرتا تھا۔
مناب والے واقع کے بعد تو صبغہ غازی کی فيملی سے بہت لئے دئیے رہنے لگی تھی۔
“کيا ہوا ہے؟” يکدم دھيان مناب کی جانب گيا۔
“مناب اور وشہ ٹھيک ہيں؟” گھبرا کر پوچھا۔ غازی اسکے فکرمند لہجے پر مسکرايا۔
“جی الحمداللہ وہ تو اب سو رہی ہيں۔ ويسے انکے علاوہ بھی اس گھر ميں کچھ لوگ ہيں۔ انکے لئیے بھی اگر آپ اتنی ہی فکر دکھا ديں گی تو کوئ ٹينش نہيں ہوگی” لطيف سا طنز۔۔ صبغہ کو شرمندہ کرگيا۔
“سوری ميں سمجھی۔۔۔۔” اپنی شرمندگی مٹانے کے لئیے الفاظ نہيں ملے۔
“کوئ بات نہيں” وہ جيسی اسکی ادھوری بات سمجھ کر اسے شرمندگی سے بچانے کی سعی کرنے لگا۔
“کوئ سيريس بات ہے؟” اسے سمجھ نہ آئ کيا پوچھے۔
“ہاں۔۔۔مجھے کچھ شئیر کرنا ہے آپکے ساتھ ۔۔مجھے يقين ہے ری ايکشن برا ہوگا۔ مگر ميں يہ شئير کئے بنا رہ بھی نہيں سکتا۔ مجھے کسی کی مدد کی ضرورت ہے اور آپ سے بڑھ کر مددگار اس لمحے کوئ نہيں لگا” غازی کی مبہم باتيں اسے پريشان کرگئيں۔
“کيا اماں کا شک درست نکلا۔۔کيا يہ بھی فاتک بھائ کی طرح مجھے چھوڑ جائيں گے” شک کے ناگ پھن پھيلاۓ اسے دہشت زدہ کرنے لگے۔
“ک۔ کک۔۔۔کيا بات ہے جلدی بتائيں” وہ گھبرائ۔
“صبغہ۔۔ اگر فرض کرو کہ۔۔ بھائ واپس آجائيں۔۔ تو کيا ہميں انہيں معاف کردينا چاہئيے۔ اگر اگر وہ بے حد شرمندہ ہوں۔۔کيا پھر بھی ہميں”اس سے پہلے کے اسکی بات پوری ہوتی صبغہ غازی کی بات کاٹ گئ۔
“ايک منٹ ۔۔ايک منٹ آپ کہنا کيا چاہ رہے ہيں۔ ميں يہ سوچوں بھی کيوں کہ وہ آئيں” وہ يکدم اشتعال ميں آئ۔
“ميں نے کہا فرض کريں” اسکا ردعمل ديکھ کر غازی کو اپنی بات سمجھانی مشکل ہوگئ۔
“ميں کيوں فرض کروں۔۔۔جبکہ ميں ايسا سوچنا بھی نہيں چاہتی۔۔۔پر ۔۔۔ايک منٹ کہيں ۔۔کہيں وہ آ تو نہيں گۓ” غازی کا لہجہ جس حقيقت کو چھپانے کی چغلی کھا رہا تھا صبغہ نے بہت آسانی سے اسے پکڑ ليا۔
“اگر ميں کہوں ہاں” اب کی بار غازی نے ہمت کرکے حقيقت کھولنے کا فيصلہ کيا۔
“تو ميں کہوں گی کہ اپنے بھائ کی اصليت ديکھنے کے بعد بھی آپ اسے معاف کرسکتے ہيں مگر ميں کبھی بھی معاف نہيں کرسکتی۔۔يہی محبت ہے آپکی آپا سے کہ بھائ کے آتے ہی اسکی کی جانے والی ہر زيادتی کو فراموش کرگۓ۔ پھر تو ميرا مستقبل بھی تاريک ہے۔ کيونکہ اگر آپ اسے حق بجانب سمجھ کر معاف کرگۓ ہيں۔ تو کل کو ايسا ہی فعل آپ بھی دہرا سکتے ہيں۔ اور اپنے بھائ کی طرح آپ بھی مجھے اندھيرے کنويں ميں پھينک جائيں گے۔ مگر ميں مناب نہيں ۔۔۔۔اگر يہ سب کرنا ہے تو جو تکليف ميں نے کل اٹھانی ہے وہ آج کيوں نہيں۔ اگر آپ نے اپنے بھائ کو معاف کيا يا اسکی طرفداری کی تو مجھے آپکی زندگی ميں نہيں رہنا۔” صبغہ نے اسکی ايک بھی نہ سنی اور بس سناتی چلی گئ۔
غازی جانتا تھا يہ سب آسان نہيں۔ کوئ اسے قبول نہيں کرےگا۔ وہ صبغہ سے ايسے ہی ری ایکشن کی توقع کرتا تھا۔ مگر اپنے رشتے کو داؤ پر لگانے کا سوچ بھی نہيں سکتا تھا۔
“صبغہ ميری بات”
“مجھے نہيں سننی” وہ ايک بار پھر اسکی بات کاٹ گئ۔
“کيا ميں آپ سے کل مل سکتا ہوں۔ کالج سے واپسی پر” نکاح کے بعد وہ اتنا حق پو رکھتا تھا۔ انکے نکاح کو ايک سال ہوچکا تھا۔ غازی نے ايسی کوئ خواہش پہلی بار کی تھی وہ بھی اپنے بے وفا بھائ کے لئیے۔ صبغہ استہزائيہ مسکرائ۔
“اگر اپنے بھائ کی طرفداری کے لئے ملنا چاہتے ہيں تو معذرت ۔۔” وہ بھی سمجھ گئ۔
“ميرے خيال ميں ہم آمنے سامنے زيادہ بہتر انداز ميں بات کرسکتے ہيں” غازی نے خود ہی پلين ترتيب دے ديا۔
“ميں آپکو کہہ رہی ہوں کہ مجھے آپ سے نہيں ملنا۔ نہ کل نہ کبھی” وہ دو ٹوک انداز ميں بولی۔
“اوکے پھر کل مليں گے۔ ميں پھوپھو سے بات کرلوں گا ” وہ ہٹ دھرمی سے بولا۔
“ارے ميں کہہ رہی ہوں نہيں۔۔ تو۔۔ خوامخواہ” وہ اسکی ضد پر حيران ہوئ۔
“اوکے اللہ حافظ” اسکی سنے بنا وہ فون بند کرچکا تھا۔
“ہے۔۔ہيلو۔۔ ميں” انگيج کی ٹون آتے ہی صبغہ دانت پيس کر رہ گئ۔
“ملتی ہوں ميں ضروری۔۔۔اونہہہ” بڑبڑاتے اس نے موبائل بند کرکے سرہانے پٹخا۔
______________________
اگلے دن صبح جيسے ہی صبغہ ناشتہ کرنے کچن ميں آئ صرف غارفہ ہی جاگ رہی تھيں۔ اسکا ناشتہ بناۓ وہ اسی کا انتظار کررہی تھيں۔
“السلام عليکم” محبت سے ماں کے ماتھے کو چومتے وہ ڈائيننگ چئير کی کرسی سنبھال کر بيٹھ گئ۔
“وعليکم سلام۔ بيٹا وہ آج واپسی پر آپکو ڈرائيور پک نہيں کرے گا۔ رات ميں غازی کا فون آيا تھا وہ کہہ رہا تھا کہ ميں نے صبغہ کو اپنے کسی پراجيکٹ کی ٹريٹ دينے کا وعدہ کيا تھا وہ پراجيکٹ کامياب ہوگيا ہے تو آج ميں واپسی پر اسے پک کرکے ٹريٹ دے کا واپس چھوڑ جاؤں گا۔” عارفہ کی بات سن کر وہ دانت پيس کر رہ گئ۔
“ڈھيٹ” دل ہی دل ميں اسے گاليوں سے نوازا۔
“ويسے بھی اب شوہر ہے تمہارا ميں کسی قسم کی پابندی نہيں لگا سکتی” سلائس پر جيم لگا کر اسکی جانب بڑھاتے انہوں نے اسکے خقت زدہ چہرے کو پل بھر کے لئے ديکھا۔
وہ خاموشی سے اچھا جی کہہ کر ناشتہ ختم کرتے ہی کالج جانے کے لئے باہر آئ۔
گاڑی ميں بيٹھتے وقت بھی ذہن منتشر تھا۔ اپنی ہی سوچوں ميں مگن باہر کی جانب ديکھ رہی تھی۔ موبائل پر آنے والے فون نے اسکی توجہ کھينچی۔
دماغ سے ہر بات جھٹکتے۔ فون نکالا تو آپا کالنگ ديکھ کر دل پريشان ہوا۔
“اتنی صبح” فورا کال پک کرتے موبائل کان سے لگايا۔
“السلام عليکم۔۔ کيسی ہو آپا” پريشان لہجہ مناب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھرا گيا۔
“وعليکم سلام بالکل ٹھيک ميری جان تم کيسی ہو” محبت سے گندھا لہجہ صبغہ کو جذباتی کرگيا۔
کيا بتاتی کے تمہارے لئے ہی پريشان ہوں۔ تمہارا بے وفا تمہارے پاس آنے کے راستے ہموار کررہا ہے۔
آنسو پيتے لہجہ خوشگوار بنايا۔
“بالکل ٹھيک۔ آج جاب پہ جارہی ہو يا آف ليا ہے”
“نہيں يار آف کيسا۔ وشہ کی تو چھٹی کروا دی ہے۔ تھکی ہوئ ہے۔ مامی نے کہا اسے گھر رہنے دو۔ تم نے جانا ہے تو چلی جاؤ۔ بس تيار ہورہی ہوں” مناب نے فاتک کی بے وفائ سے سنبھلتے ہی سب سے پہلا کام اپنا فائن آرٹس کی ڈگری مکمل کرنے کا کيا اور اب ايک کمپنی ميں انٹيرئير ڈيزائيننگ کی جاب کررہی تھی۔
“اچھا ميری ايک بات سنو” مناب کے انداز پر وہ چونکی
“جی جی ميں سن رہی ہوں”
“غازی آج تمہيں کالج سے پک کرے گا۔ اس سے خفا مت ہونا۔ اس نے مجھے بتايا تھا کہ وہ تم سے ويسے ہی ملنا چاہ رہا ہے۔ اور تم نخرے کر رہی ہو۔ تو امی کو پراجيکٹ والا آئيڈيا بتانے کو ميں نے ہی اسے کہا تھا۔
ديکھو صبغہ وہ بہت سنسير ہے تمہارے ساتھ ميرے يا کسی کے بھی تجربے کی روشنی ميں اسے مت ديکھو۔ ضروری نہيں سب کی زندگی ميں ايک جيسی ہی کہانی ہو۔
لہذا کوئ بھی بے وقوفی کرنے سے بہتر ہے کہ تم اسے تھوڑا سا جان لو۔” مناب کی بات نے اس کا دماغ بھک سے اڑا ديا۔
“آپ بھی ان کے ساتھ ملی ہوئ ہيں۔۔۔واہ۔۔ کسی کو ميں کيا کہوں” وہ افسوس سے بولی۔ بہن کو کيا بتاتی جس کے ساتھ مل کر پليننگ کررہی ہو وہ آپ ہی کے بے وفا کے ساتھ ملا ہوا ہے۔
“اچھا اب بس۔۔ طعنے بعد ميں دے لينا۔ مگر منہ سيدھا کرکے اس سے ملنا۔” اسے نصيحت کی۔
“اب يہ بھی انہوں نے شرط لگائ ہے کہ منہ بھی سيدھا کرکے ملوں” وہ خفگی بھرے لہجے ميں بولی۔ مناب کو اس پر بے تحاشا پيار آيا۔
“ميرا بچہ۔۔۔ وہ ويسا نہيں جيسا تم سوچ رہی ہو”
“اور وہ ويسے بھی نہيں جيسا آپ سوچتی ہيں” صبغہ کہے بغير نہ رہ سکی۔ غازی کی پھرتيوں پر بھی غصہ آيا۔ دو ايسے بندوں کو اسکے پيچھے لگا ديا تھا جن کے بارے ميں وہ جانتا تھا کہ صبغہ ان دو لوگوں کی بات کبھی نہيں ٹالتی۔
“ہاں جی تمہيں تو بڑا پتہ ہے نا۔ اچھا خير ميں نکل رہی ہوں۔ اپنا خيال رکھنا اور ميرے بيچارے سے بھائ سے لڑتی مت رہنا”مناب اسے چھيڑنے لگی۔
“جی جی اتنی ہی تو لڑاکا ہوں نا” وہ نروٹھے پن سے بولی۔
“نہيں ميری بہن بہت پياری ہے۔ اچھا اب اپنا خيال رکھنا ۔۔اللہ حافظ”
فون بند کرکے صبغہ نے تھک کر سر سيٹ کی پشت سے ٹکايا خود کو آنے والے معرکے کے لئے تيار کرنے لگی
___________
صبح ميں اٹھا تو فضا ميں موجود خوشبو آج اور بھی معطر لگی۔
“آج وہ بھی اسی فضا ميں سانس لے رہی ہوگی” فاتک نے مسکراتے ہوۓ مناب کو سوچا۔ کسلمندی سے کچھ دير بيڈ پر ليٹا رہا۔
ٹائم ديکھا تو صبح کے دس بج چکے تھے۔ اسکی عادت تھی اگر کسی دن ليٹ اٹھنا ہوتا تو فجر کی نماز پڑھنے کے بعد جاگنگ کرکے پھر سے بستر سنبھال ليتا۔
اب جب سے پاکستان آيا تھا تو فراغت ہی فراغت تھی۔
جب تک اس کا اپنا معاملہ نہ سلجھ جاتا وہ کسی نۓ پراجيکٹ کو شروع کرنا ہی نہيں چاہتا تھا۔
گھڑی ديکھ کر خيال آيا کہ مناب بھی آفس کے لئے نکل گئ ہوگی۔ بابا بھی اور غازی بھی جاچکے ہوں گے۔
ضوفشاں تو ويسے بھی اب شادی شدہ تھی۔ اسکی شادی پر ہی غازی اور صبغہ کا نکاح ہوا تھا۔
غازی يہ سب اطلاعات اسے پہنچا چکا تھا۔ غازی اور صبغہ کے نکاح کا سن کر وہ بے حد خوش ہوا۔
“اس کا مطلب ہے کہ اب گھر ميں صرف اماں اور ميری لٹل ڈول وشہ ہوں گے” خود سے مخاطب ہوتے ہاتھ بڑھا کر سائيڈ ٹيبل پر رکھا موبائل اٹھا کر گھر کال ملائ۔
“ہيلو۔۔ہو از دس” پياری سی آواز ماؤتھ پيس سے ابھری۔
فاتک کچھ لمحے تو اس آواز کی مٹھاس خود ميں اتارنے لگا۔
اس کی بيٹی۔۔۔اسکی نشانی۔ اس سے مخاطب تھی۔ يکدم بے تحاشا آنسو آنکھوں ميں جھلملاۓ۔ آج اسے يقين ہوگيا کہ بيٹياں اللہ کی رحمت ہوتی ہيں۔ اگر يہ رحمت نہ ہوتی تو آج وہ اتنا بڑا فيصلہ يوں منٹوں ميں نہ کرليتا۔
“کون ہے؟” اسکی طويل ہوتی خاموشی پر وشہ جھنجھلا کر بولی۔
“ہيلو دادی اماں” جس انداز ميں وہ بولی۔۔ فاتک کو دادی اماں ہی لگی۔ مسکرا کر اسے تنگ کيا۔
“ميں تو دادی اماں نہيں۔ دادی اماں تو ميرے لئے بريک فاسٹ بنا رہی ہيں۔ ليکن آپ کون ہيں؟” مزے سے باتيں کرتے يکدم وشہ کو خيال آيا کہ وہ کسی اجنبی سے بات کررہی ہے۔ اور مناب نے اسے سختی سے اجنبيوں سے زيادہ بے تکلف ہونے سے منع کيا تھا۔
مگر وہ بھی کيا کرتی وہ شروع سے ہی بہت گھلنے ملنے والی تھی۔
“واؤ۔ تو فيری کے لئے بريک فاسٹ بن رہا ہے۔” فاتک اسکا سوال جان بوجھ کر نظر انداز کر گيا۔
“مگر آپ ہيں کون۔ ميں دادو کو بلاتی ہوں” کجھ گھبرا کر اس نے ناز کو آواز دی۔
“دادو يہ پتہ نہيں کون انکل ہيں” خود سے اپنی بيٹی کی اجنبيت فاتک کو اس پل توڑ کر رکھ گئ۔ کرب سے لب بھينچے۔
“لو تمہيں جب پتہ نہيں تھا تو کيوں اتنی دير سے باتيں بھگار رہی ہو۔ ميں تو يہی سمجھی تمہاری ماں يا چاچو کا فون ہوگا۔” ناز نے اسے ہلکا سا ڈپٹ کر فون اسکے ہاتھ سے ليا۔
“ہيلو”
“السلام عليکم! اماں۔۔اپنی ماں اور چاچو سے تو نہيں ہاں مگر اتنے بھی اجنبی بندے سے وہ بات نہيں کررہی تھی۔ اپنے باپ سے مخاطب تھی” اسکے لہجے کی آزردگی انہيں ميں اس پل آزردہ کرگئ۔
“تم۔۔ تمہيں کيسے پتہ چلا” کچھ حيرت سے اسے پوچھا۔
“دادو کون ہے؟” وشہ مزے سے ابھی تک وہيں کھڑی تھی۔
“کوئ۔۔”
“پليز اماں اتنا اجنبی مت کريں” ناز کے کوئ نہيں کہنے سے پہلے ہی وہ تڑپ کر بولا۔
“آپکے چاچو کے دوست ہيں” ناز نے پل بھر کو خاموش ہو کر کچھ سوچ کر وشہ کو ٹالا۔
“ميں غازی سے ملا ہوں۔ اس سے معافی بھی مانگی۔ اسی نے وشہ کے بارے ميں بتايا تھا۔ نہ صرف غازی بلکہ داؤد چچا اور چاچی سے بھی مل چکا ہوں۔ انہوں نے پھر بھی دل بڑا کرکے مجھے معاف کرديا ہے” سب تفصيل بتاتے آخر ميں وہ ہلکی سی ناراضگی سے بولا۔
“کيا کروں ميں تو بتا مجھے۔ ايک طرف بيٹا ہے تو ايک طرف شوہر۔ دونوں نے مجھے سينڈوچ بنا رکھا ہے۔ کسی ايک کی جانب جھکتی ہوں تو دوسرا شکوؤں پر اتر آتا ہے۔ دونوں مرد ہو نا احساس ہی نہيں کہ عورت پر کيا بيتتی ہے۔ تم منہ بناتے ہو تو بھی دل روتا ہے۔ تمہارے بارے ميں کچھ کہوں تو تمہارے بابا منہ بنا کر پھرتے ہيں۔ بتاؤ ميں کہاں جاؤں” وہ پھپھک کر رونے لگيں۔
“افوہ اماں ۔۔اچھا اب روئيں تو مت۔ صرف ايک کام کرديں۔ وشہ کو پاس کی مارکيٹ لا سکتی ہيں۔ ميں بس اچانک ملوں گا۔ اسے بالکل احساس نہيں دلاؤں گا کہ کون ہوں۔ اس کا کيا لگتا ہوں۔ اجنبی بن کر ہی مل لوں گا۔ مگر پليز اماں۔ ايک بار اسے محسوس تو کرلينے ديں” فاتک کے لہجے ميں پنہاں حسرتيں ماں کا کليجہ چھلنی کرگئيں۔ کيا کيا نہ سوچا تھا اسکی شادی کے وقت کہ اسکی اولاد کو کھلائيں گی۔
کھلايا تو اب بھی تھامگر بيٹے کے بغير۔ اور آج وہ اپنی ہی اولاد کے لئے بے چين تھا۔ تڑپ رہا تھا۔
“اچھا لے کر آتی ہوں” ٹھنڈی آہ بھرتے انہوں نے حامی بھر لی۔
“تھينک يو سو مچ اماں” وہ مشکور ہوا…
