Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Yaad Ki Anch (Episode 22)

Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas

مناب نے بس ايک خاموش نگاہ اس پر ڈالی ۔۔کرسی پيچھے کھسکا کر اٹھ کھڑی ہوئ۔

چند لمحوں بعد وہ واجد کے روبرو تھی۔

“بيٹھو” اسے سامنے پڑے صوفے پر بيٹھنے کا اشارہ کيا۔وہ خاموشی سے بيٹھ گئ۔

“ديکھو بيٹا ميں مانتا ہوں کہ ميں نے تمہيں خلع کے نوٹس کے بارے ميں کچھ نہيں بتايا۔ مگر يہ ميری محبت تھی کہ ميں ۔۔۔ميں تمہيں يوں برباد ہوتے نہيں ديکھ سکتا تھا۔ اس بے خبری کے لئے ميں تم سے معافی مانگتا ہوں۔ تم ميرے لئيے ضوفشاں سے کسی صورت کم نہيں ہو۔ اسی لئے تمہاری تکليف بھی بے حد شدت سے محسوس کی حالانکہ تکليف دينے والی ميری ہی اولاد تھی۔ اس ناخلف کو خود سے دور کرديا۔ صرف اسی لئے کہ تم بے قصور تھيں۔” انہوں نے اچھے سے اپنا دفاع کيا۔

“ليکن ماموں۔ ماں باپ اولاد کا گھر تو نہيں اجاڑتے” پہلی بار۔۔پہلی بار اس نے ٹھنڈے دماغ سے سوچ کر واجد سے سوال کيا۔

وہ اسکے سوال پر ششدر رہ گۓ۔

“ميں نے تمہارا گھر نہيں اجاڑنا چاہا” وہ اسے جھٹلانے لگے۔

“آباد بھی تو نہيں کرنا چاہا”۔

“يہ کيسی انا کی جنگ تھی کہ آپ نے اسکے آگے کسی کو نہيں ديکھا۔ ميں کس کس کے قصور کو گنوں۔ فاتک کے۔۔ اپنی ماں کے يا آپکے۔ مجھے سب نے کيوں کھلونا سمجھا۔۔اور اپنی اپنی ‘ميں ‘ کی تسکين کی۔۔۔سب ميرے اپنے ہی تھے۔ کوئ پرايا نہيں تھا۔۔پھر ميرے ساتھ يہ سب کيون کيا” واجد کی جانب ديکھتے آنکھيں ڈبڈبائيں۔

وہ اب بھی اپنی غلطی پر پردہ رکھ رہے تھے۔ سب کھلنے کے بعد بھی۔ اسے يہ بات شديد تکليف سے دوچار کرگئ۔

“ميں آپ ميں سے کسی سے کچھ نہيں چاہتی بس ميرے معاملے کو مجھے خود سلجھانے ديں۔ فيصلے کا حق مجھے دے ديں۔بس” آنکھيں صاف کرتے اس نے درخواست کی۔

“اور کبھی موقع ملے تو اپنا تھوڑا سااحتساب کرليجئيے گا۔ ميری ساتھ تو جو ہوا وہ ہوا۔ کسی اور بے قصور کو بھی آپ نے بہت بڑی سزا دی ہے۔ اور وہ مامی کے علاوہ کوئ اور نہيں۔ ماں اور اولاد کی دوری کی تکليف کيا ہوتی ہے وہ ميں اب اچھے سے سمجھتی ہوں۔ کيونکہ خود ماں ہوں نا۔ مجھ سے بہتر کون جانے گا” دروازے کے قريب پہنچ کر خاموش بيٹھے واجد کو وہ مزيد آئينہ دکھا گئ۔

_______________

ميں واجد رحمان۔۔کچھ سال پہلے ميں نے اپنے بيٹے سے ضد باندھی۔۔ ہاں اب ميں ضد کہوں گا۔اولاد کے مقابلے پر اترنا ضد ہی ہے۔

ميں شروع کرتا ہوں اس دن سے جب پہلی بار مجھے پتہ چلا کہ ميرا بڑا بيٹا فاتک گانے بجانے کا شوق رکھتا ہے۔

مجھے کچھ اس انداز ميں ميرے ايک دوست نے بتايا جو مجھے شديد شرمندگی سے دوچار کرگيا۔

اپنے کسی دوست کی برتھ ڈے پارٹی ميں فاتک نے گٹار پر گانا گايا۔

اور اگلے دن اسکے باپ نے مجھے کہا”مبارک ہو واجد تمہارا بيٹا پو گويا بن گيا” اس شخص کا تمسخرانہ انداز ميرے اندر آگ سی لگا گيا۔

گھر آتے ہی ميں نے فاتک کو بلايا۔

“تم نے کب سے گانا بجانا شروع کيا ہے” کڑک انداز پر فاتک چند لمحوں کے لئے گھبرايا۔

“بابا مجھے بہت شوق ہے ميوزک کا” وہ جھجھکتے ہوۓ بولا۔

“يہ شوق نہيں فضوليات ہيں۔ جتنی جلدی ہوسکے خود کو اس چيز سے دور کرو۔۔ ميں آئںدہ تمہيں يہ سب کرتے نہيں ديکھوں۔ اپنی پڑھائ پر توجہ دو” اسے ڈانٹ کر ميں يہی سمجھا کہ جيسے ہميشہ کی طرح وہ ميری بات مان ليتا ہے اس بار بھی مانے گا۔

آگے بتانے سے پہلے ميں آپ کو يہ بتاتا چلوں کہ فاتک ان بچوں ميں سے تھا جو ماں باپ کی ہر بات پر اچھا بی کہتے ہيں۔ نہايت فرماں بردار۔

مگر نجانے کيا ہوا کہ اس بات پر وہ اڑ گيا۔

ميں جتنا اسے ميوزک سے دور رہنے کو کہتا وہ اتنا ہی اسکے قريب جاتا گيا۔

ميں نے بھی ضد باندھ لی کہ اس کو اس شوق سے ہٹا کررہوں گا۔

دوست احباب جب جب ملتے يہی کہتے۔ “ميراثی بن گيا ہے۔”اور يہ ايک لفظ مجھے ڈنگ کی صورت لگتا۔

ميں ہر حال ميں فاتک کو اس سے ہٹانا چاہتا تھا۔

کچھ عرصہ تو کثرت سے اسکی اور ميری بحث چلتی رہی۔ اور پھر جيسے ہی ميں نے مناب کی اور اسکی بات شروع کی مگر اس شرط کے ساتھ کہ وہ يہ گانا بجانا چھوڑ دے گا، وہ بغير کسی بحث کے مان گيا۔

ان دونوں کی بات پکی ہوتے ہی ميں نے بھی سکھ کا سانس ليا۔مگر ميں يہ نہيں جانتا تھا کہ يہ سکھ چند دنوں کا ہے۔

يکدم فاتک نے جلدی شادی کا شور ڈالا۔

پڑھائ اسکی ختم ہوچکی تھی۔ ميرے بزنس کو وہ اچھے سے ديکھ رہا تھا۔ مجھے کوئ اعتراض نہ تھا۔

مگر شادی سے پہلے عارفہ نے يقين مانگا کہ فاتک گانا بجانا چھوڑ چکا ہے۔

“ديکھيں بھائ صاحب آپکو پتہ ہے کہ يہ فيلڈ کس قسم کی ہے۔ميں نہيں چاہتی کل کو ميری بچی فاتک کی وجہ سے کسی دکھ اور تکليف کا شکار ہو۔ وہ اسے چھوڑ کرغير عورتوں ميں اٹھے بيٹھے” عارفہ کی فکر ناجائز نہيں تھی۔

“تمہيں مجھ پر اعتبار ہے نا۔ فاتک يہ سب چھوڑ چکا ہے۔ يقين کرو۔ وہ اب اس طرح کی ايکٹويٹيز ميں بھی انوالو نہيں” ميں نے ہر طرح بہن کو يقين دلايا۔

مگر ميں نہيں جانتا تھا کہ يقين چند دنوں کا ہی ہے۔

فاتک شادی کے ايک ماہ بعد ہی کسی کلائنٹ سے ملنے کا کہہ کر دبئ کنسرٹ ميں پہنچ گيا۔

اور جس لمحے اس نے مجھے فون کرکے اپنے ارادوں سے باخبر کيا۔ مجھے لگا ميرا اعتبار۔ اعتماد ميرا اپنی اولاد پر غرور ہر چيز ريزہ ريزہ ہوگئ ہے۔

مجھ سے اپنی بات کی۔۔اپنی حکم کی نفی برداشت نہيں ہوسکی۔

حفصہ نے بالکل ٹھيک کہا تھا۔ اولاد کی خواہشوں کے ساتھ ضد نہيں باندھی جاتی ۔انہيں سمجھا جاتا ہے۔

اور ميں سمجھ ہی نہ سکا۔

ميں زخمی شير کی مانند کسی بھی طرح اپنی ہی اولاد کو نيچا دکھانا چاہتا تھا۔

اب سوچتا ہوں تو اپنا آپ بےحد نيچ اور گھٹيا لگتا ہے۔ ميں کيسا باپ ہوں جو اپنی ہی اولاد سے مقابلے پر اتر آيا۔

اور پھر يہی نہيں۔ ميں غلطيوں پر غلطياں کرتا گيا۔

فاتک کے جانے کے چند دن بعد عارفہ روتی ہوئ ميرے پاس آئ

“بھائ صاحب يہی تھے آپکے وعدے وعيد۔ ميری بيٹی کی زندگی خراب کرڈالی آپکے بيٹے نے۔کيا قصور تھا اس کا جو يوں اسے چھوڑ کر نکل گيا” اپنی بہن کی وہ تکليف ميرے دل ميں اپنی اولاد کے لئے نفرت بنانے کا سبب بنی۔

ميں اس سے نظر ملانے کے قابل نہ رہا۔

مجھے لگتا تھا ميری پوری شخصيت۔ ميرا غرور لوگوں کی نظروں ميں بری طرح ٹوٹ گيا ہے۔چکنا چور ہوگئ ہے اور اسی کھولن کو ختم کرنے کی خاطر ميں اپنی ہی اولاد کا دشمن بن بيٹھا۔

مجھے لگا ميری اولاد ہی اس قابل نہيں تھی کہ مناب جيسی اچھی بچی اسکی شريک حيات بنتی۔

اپنی بہن کی نظر ميں اچھا بننے کی خاطر ميں نے خلع کی بات سوچی۔

فاتک نے جب جب مجھ سے معافی مانگی ميرا دل اور سخت ہوتا گيا۔

کيونکہ مجھے کوئ سمجھانے والا نہيں تھا کہ ميں بھی غلطی پر ہوں۔

غلطی ضروری نہيں کہ اولاد سے ہی ہو کبھی کبھی ماں باپ بھی غلط ہوسکتے ہيں مگر چونکہ ميں باپ تھا ميں اپنی غلطی کيسے مانتا۔

اور پھر ميں نے بنا سوچے سمجھے وہ انتہائ قدم اٹھا ليا۔ مگر اسکے بعد يکدم فاتک کی جانب سے خاموشی چھا گئ۔

اور ميں نے اب کی بار سوچ رکھا تھا کہ کسی مفتی سے مشورہ کرکے يہ نکاح ختم کروا کر مناب کی کسی اچھے بندے سے شادی کروادوں گا۔

اب جب اپنی ہی خود ساختہ انا اور غرور ميں کئيے جانے والے فيصلوں کا سوچتا ہوں تو خود سے نظر بھی نہيں ملا پاتا۔

کبھی کبھی انسان اپنے غرور کو بچاۓ رکھنے کی خاطر کيسے کيسے گناہ کا مرتکب ہو جاتا ہے۔

داؤد نے صحيح کہا تھا اگر فاتک غصے ميں آکر مناب کو طلاق دے ديتا۔

ميں صرف اپنی تکليف کے بارے ميں سوچتا رہا يہ سوچا ہی نہيں کہ ميری اس نام نہاد اناکا خميازہ کس کس کو اور کيسے کيسے بھگتا پڑے گا۔

اب تو لگتا ہے کسی سے نظر ملانے کے قابل نہيں رہا

___________________________

۔

چند دن کشمکش ميں گزرے مگر مناب سے فيصلہ کرنا بے جد مشکل ہوگيا تھا۔

جب جب وہ فاتک کو معاف کرکے اسکے ساتھ نارمل زندگی گزارنے کے بارے ميں سوچتی۔

اسکی جدائ ميں گزرے دن ياد آتے۔ اسکے لئيے سب بھلا کر فاتک کے ساتھ نئ زندگی گزارنا بے حد مشکل ہوگيا تھا۔

صبغہ نے بہت بار اسے سمجھانے کی کوشش کرنی چاہی۔

مگر غازی ہر بار اسے سختی سے منع کرديتا يہ کہہ کر’ کہ بھابھی کو پريشرائز نہيں کرنا’۔

اس تمام عرصے ميں فاتک نے پوری کوشش کی کہ وہ واجد کے پاس جاکر ان سے معافی مانگے۔

مگر وہ ہر بار يہی کہتے ‘جس کے سب سے زيادہ قصورووار ہو۔ اس نے معاف کرديا تو سمجھوميں بھی معاف کردوں گا’۔

اس شام صبغہ نے اسے کال کی

“آپا آفس سے کب تک نکليں گی” صبغہ کی بات پر اس نے ہاتھ ميں پہنی گھڑی پر نگاہ ڈالی۔

“بس تھوڑی ہی دير ميں کيوں خيريت”جلدی جلدی کمپيوٹر پر ہاتھ چلاتے موبائل کندھے سے لگاۓ وہ مصروف انداز ميں صبغہ سے بات کررہی تھی۔

“ہاں وہ اصل ميں ہمارا کہيں جانے کا پروگرام تھا وشہ بھی ہمارے ساتھ ہے سوچا آپکو بھی راستے سے پک کرليں” مناب کی گاڑی صبح ہی خراب ہوئ تھی۔

صبح ميں آفس آتے وقت تو واجد نے اسے چھوڑ ديا تھا۔ واپسی کے لئے اس نے کيب کروانے کا سوچا تھا۔

“ارے يار تم لوگ خود چلے جاؤ نا۔ ميں کيا منہ اٹھا کر ہر جگہ تم لوگوں کے ساتھ چلی جاؤں” وہ کوفت زدہ آواز ميں بولی۔

“افوہ۔۔ تم بس خاموشی سے اپنا کام ختم کرو ہم آدھے گھنٹے تک آرہے ہيں” صبغہ نے اس کی ايک بھی نہ سنی۔ مزے سے اپنا ارادہ بتايا۔

“صبی۔۔۔صبغہ۔۔ سن۔۔” اسکی بات ابھی پوری بھی نہ ہوئ تھی کہ صبغہ نے کچھ بھی سنے بنا فون بند کرديا۔

مناب سر جھٹک کررہ گئ۔

جانتی تھی جو اس نے سوچ ليا اب وہ کرکے ہی رہے گی۔

لہذا جلدی جلدی کام ختم کرنے لگی۔

ٹھيک آدھے گھنٹے بعد صبغہ کی کال آئ۔

مناب ٹيبل پر چيزيں سيٹ کرکے ہينڈ فری بيگ ميں ڈال رہی تھی۔

“ہيلو” فون اٹھا کر کان سے لگايا۔

“نيچے پہنچو ہم تمہارے آفس کے باہر ہی ہيں”

“اوکے” مناب نے کندھے اچکاۓ۔

فون بند کرکے تيزی سے لفٹ کی جانب بڑھی۔

نيچے پارکنگ ميں آتے ہی سامنے غازی کی گاڑی دکھائ دی۔

وشہ مناب کو ديکھتے ہی خوشی سے ہاتھ ہلانے لگی۔

وہ تيزی سے گاڑی کی جانب بڑھی۔

“اف تم لوگوں نے ايسی ضد پکڑی ہوتی ہے کہ بس” وہ جھنجھلائ ہوئ تھی۔

وشہ کو پيار کيا۔

اسکے بيٹھتے ہی غازی نے گاڑی سٹارٹ کی۔

“بہت ہی ناقدری ہو۔۔ايک تو ہم تمہيں فريش کرنے کے لئيے خوار ہورہے ہيں اور ايک تم ہو۔۔”صبغہ مصنوعی خفگی سے بولی۔

مناب نے ايک خاموش مگرناراض سی نظر اس پر ڈالی۔

وشہ سے چھوٹی موٹی باتيں کرتے اسے احساس ہی نہيں ہوا کہ گاڑی کچھ جانے پہچانے رستے پر دوڑرہی ہے۔

ہوش تو تب آيا جب گاڑی ايک گيٹ کے آگے رکی۔

اس نے حيرت آنکھوں ميں سمو کر صبغہ اور غازی کی جانب ديکھا۔

گيٹ پر کھڑی شخصيت کو ديکھ کر وشہ چہکتی ہوئ گاڑی سے باہر نکلی۔

“بابا”

“تم مجھے بتا نہيں سکتی تھيں” اس کی آنکھوں ميں غصہ ہلکورے لينے لگا۔

“فاتک بھائ نے ہميں دعوت دی تھی۔ سوچا اصل ميزبان کو تو ہونا چاہئيے اسی لۓ تمہيں ساتھ لے آۓ” صبغہ کی ذومعنی بات پر وہ اسے گھور کر رہ گئ۔

يکدم خيال اپنے حليے کی جانب گيا۔

بليک کھدر کے ٹراؤذر پر پنک ڈاٹس والی کرتی اور بليک ليدر جيکٹ کے ہمراہ پنک ہی اسکارف گلے ميں ڈالے بالوں کی ڈھيلی سی چٹيا بناۓ وہ بے حد عام مگر کسی کے لئے بےحد خاص تھی۔

سر جھٹک کر دروازہ کھول کر باہر آئ۔

اسے ديکھتے ہی فاتک کی نظروں ميں جگنو جگمگانے لگے۔

مناب اسکی نظروں کی پتش محسوس کرکے بھی انجان بننے کی ناکام کوشش کررہی تھی۔

“کيسے ہيں بھائ” صبغہ نے خلوص دل سے اسکی خيريت پوچھی۔

“الحمداللہ تم لوگ سناؤ” انہيں لئے وہ گھر ميں داخل ہوا۔

مناب خاموش سی سب سے پيچھے تھے۔ اندر آتے ہی کريم بھی نظر آيا۔

“کيسی ہيں ميم” شناسا سی مسکراہٹ اسکے چہرے پر آئ۔

“ٹھيک” مناب نے بھی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب ديا۔

فاتک نے اسے ابھی تک مخاطب نہيں کيا تھا۔

نہ ہی مناب نے۔

“واؤ آپکا گھر تو بڑا زبردست ڈيکوريٹ ہوا ہے” صبغہ نے ستائش بھری نظروں سے لاؤنج کو ديکھ کر کہا۔

فاتک اور مناب کی نظريں پل بھر کو مليں۔

مناب نے نظر ہٹانے ميں پہل کی۔

جبکہ فاتک کی نظريں اسکے سراپے سے ہٹنے کو تيار نہيں تھيں۔

“کسی کے خوبصورت ہاتھوں کا کرشمہ ہے” فاتک کی بات پر مناب نے ہاتھوں کو آپس ميں مسلا۔

مقصد گھبراہٹ چھپانا تھا۔

“بابا۔۔ميں آپکے گھر ميں کب آؤں گی” وشہ کی بات پر مناب کی سانس اٹک گئ۔

فاتک نے گہری نظر اسکے فق ہوتے چہرے پر ڈالی۔

“جلد ہی” فاتک کی بات پر صبغہ اور غازی کی نظروں ميں پل بھر کو تبادلہ ہوا۔

سب صوفوں پر آمنے سامنے بيٹھے تھے۔

تھوڑی دير بعد کريم جوس کے گلاس اٹھاۓ آيا۔

مناب کو اسے يوں کام کرتا ديکھ کر ايک دم شرمندگی سی ہوئ۔ نجانے کس جذبے کے تحت جوس پی کر وہ باقيوں کے گلاس ٹرے ميں رکھے کچن کی جانب بڑھی۔

وہ تو يہاں کے چپے چپے سے واقف تھی۔

جانتی تھی کچن کس جانب ہے۔

فاتک اور غازی باتوں ميں لگے تھے مگر اسکے اٹھ کر کچن کی جانب جاتے صبغہ کی نظروں نے بڑے تعجب سے مناب کو ديکھا۔

“ارے آپ کيوں آگئيں” کريم نے اسے اندر آتے ديکھ کر اچھبنھے سے کہا۔

“آپ ہٹيں باہر جائيں ميں ديکھتی ہوں” اسے ہنڈيا ميں چمچ چلاتے ديکھ کر مناب کو اور بھی عجيب لگا۔

“يہ کس نے بنايا ہے” باقی ديگچيوں کے ڈھکن اٹھاکر ديکھے۔

ايک ميں کوفتے والی بريانی، دوسرے ميں قورمہ اور ايک جس ميں کريم چمچ ہلا رہا تھا اس ميں کڑاہی بنی ہوئ تھی۔

“ميں نے اور سر نے” کريم نے ايک جانب ہوتے آرام سے جواب ديا۔

مناب کا چمچ ہلاتا ہاتھ چںد لمحوں کو ساکت ہوا۔

“اور کيا کرنا ہے” خود پر قابو پاتے اس نے مڑ کر پوچھا۔

“سلاد بھی بنانا ہے اور کباب بھی فرائ کرنے ہيں” جواب کريم کی بجاۓ فاتک نے ديا۔

غازی سے باتيں کرتے جيسے ہی اسکی نظر مناب کے خالی صوفے پر پڑی وہ ايکسکيوز کرتا کچن کی جانب آيا۔

اسے مزے سے چولہے کے قريب کھڑے ديکھ کر فاتک کو اپنا خواب سچ ہوتا نظر آيا۔

مناب کو اسکے اپنے گھر ميں چلتے پھرتے ۔۔اسحقاق سے رہتے ديکھنے کا خواب۔

کريم کو اشارہ کرکے باہر بھيجا۔

اور دروازے کے بيچوں بيچ کھڑے ہو کر مناب کو نظروں کی گرفت ميں رکھا۔

اسکی آواز پر مناب جھٹکے سے مڑی۔

“تھينکس” فاتک نے اندر آتے سينے پر بازو لپيٹتے اسے اپنی جانت متوجہ کرنا چاہا۔

“کس بات کے لئے” وہ حيران ہوکر پلٹی۔

“اپنے گھر آنے کے لئے” فاتک کچھ اور قريب آيا۔

“مجھے تو معلوم ہی نہيں تھا کہ يہ لوگ کہاں جارہے ہيں۔” وہ سادہ سے لہجے ميں سلاد کی چيزوں کو پليٹ ميں رکھ کر کاٹنے لگی۔

“اور اگر پتہ چل جاتا تو کيا نہ آتيں” فاتک سليب کے ساتھ کمر ٹکاۓ اسے نظروں کے حصار ميں پوری طرح قيد کرکے بولا۔

ايک ہاتھ سے اسکے چہرے پر آنے والی لٹوں کو کان کے پيچھے اڑسا جنہيں وہ ہاتھ فارغ نہ ہونے کے سبب جھٹکے سے پيچھے کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

فاتک کے ہاتھوں کی گرمائش نے پل بھر کو ساکت کيا۔

پيچھے کو کھسکی۔

“کيوں ۔۔۔آپ کون سے ميرے دشمن ہيں کہ ميں ايسا کچھ کرتی” لہجے ميں خفگی صاف ظاہرتھی۔

“دشمن نہيں تو کيا دوست ہوں؟”فاتک نے اسے مشکل ميں ڈالنا چاہا۔

“ضروری نہيں جو دشمن نہ ہو وہ دوست ہی ہو۔ ہر اجنبی سے ہمارا رشتہ ہونا ضروری تو نہيں” ايک چبھتی ہوئ نظر فاتک پر ڈال کر اس نے گويا اسے حد بندی قائم کرنے کی وارننگ دی جس کی نظريں اسے پگھلاۓ دے رہی تھيں۔

“اجنبوں کے لئے لہجے ميں شکايتيں نہيں ہوتيں” فاتک نے ابرو اچکا کر گويا اسے زچ کرنے کا آغاز کيا۔

“آپکے مہمان باہر بيٹھے ہيں۔ انکے پاس بيٹھيں جاکر” مناب نے وہاں سے ہٹتے ہوۓ اسے پھر سے ٹالنا چاہا اسکی معنی خيز باتوں کا اثر زائل کرنا چاہا۔

فاتک نے بازو تھام کر اسکے دور ہونے کا ارادہ بدلا۔

“اگر يوں کترائيں گی تو دل اور آپکی جانب کھينچے گا۔ اسے اعتدال پر رکھنے کے لئے مجھ سے کترانا چھوڑ ديں” اسے اپنے مقابل کھڑا کرتے فاتک نے گويا اسکے بھاگنے کی ہر راہ مسدود کی۔

“مجھے يہ سب کرکے پريشرائز مت کريں” اسکے بازو سے ہاتھ ہٹا کر مناب نے اسے پھر سے آگے بڑھنے سے روکا۔

“ميں پريشرائز تو کرہی نہيں رہا۔ ميں تو بس گزارش کررہا ہوں۔ پريشرائز کرنے والے زبان سے کہتے نہيں بس عمل کرگزرتے ہيں۔ اور ميں تو ہوں ہی آپکے رحم و کرم پر۔” فاتک نے ايک بار پھر اسکے بکھرے بالوں کو سميٹا

“مت کريں ايسے” مناب نے تھک کر اسکی محبت پاش نظروں ميں جھانکا۔

“ميرے پاس آجائيں يقين کريں جتنا وقت اور فيصلے کے لئے لينا چاہئيں گيں۔ بغير شکوہ کئيے دوں گا۔” فاتک کا بے بس لہجہ مناب کو بے بس کرنے لگا۔

“بابا” وشہ کی آواز آتے ہی وہ کچن سے باہر چلا گيا۔

مناب نے سکھ کا سانس ليا۔ نہيں تو فاتک کی قربتيں اسکے دل اور دماغ دونوں پر حاوی ہورہی تھيں۔اور اس بار وہ جذباتيت ميں کوئ فيصلہ کرنا نہيں چاہتی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *