Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Yaad Ki Anch (Episode 23)

Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas

کھاناخوشگوار ماحول ميں کھايا گيا۔ فاتک کے لئے ہر لمحہ خواب کا سا۔۔ وہ مناب اور وشہ کو اپنے گھر چلتے پھرتے ديکھ رہا تھا۔ اور اس کے لئے یہی بہت تھا۔

کھانے کے بعد مناب عشاء کی نماز کے لئے اٹھ کھڑی ہوئ۔ غازی اور صبغہ کا ابھی اٹھنے کا کوئ موڈ نہيں لگ رہا تھا۔

“مجھے وضو کرنا ہے” اٹھتے ہوۓ اس نے فاتک کو مخاطب کيا۔

“آپ تو اس گھر کے چپے چپے سے واقف ہيں” فاتک نے ہولے سے مسکراتے اس کے انجان بننے پر چوٹ کی۔

غازی اور صبغہ نے الجھ کر دونوں کو ديکھا۔

“وہ سب آپ نے مجھ سے دھوکے سے کروايا تھا” مناب منہ پھلا کر بولی۔ اور ايک جانب خاموشی سے چل دی۔

“اس بات کا کيا مطلب تھا” غازی نے اپنی الجھن بھری نظروں سے فاتک کو ديکھا۔

فاتک نے مسکراتے ہوۓ اپنی کارگزاری بتائ کہ کيسے خود کو معمہ بنا کر اس نے مناب سے اس گھر کا انٹيرئير ڈيزائن کروايا تھا۔

“جس سيٹنگ کی تم تعريفيں کررہی تھيں وہ تمہاری ہی بہن کا شاہکار ہے” فاتک نے مزے سے صبغہ کو بتايا جو اب خفگی بھری نظروں سے فاتک کو ديکھ رہی تھی۔

“بہت بڑے چيٹر ہيں آپ” انگلی اٹھا کر گويا اسے جتايا۔

“تمہاری بہن بھی تو کتنی ٹيڑھی ہے” فاتک کی بات پر وہ دونوں ہنس پڑے غلط بھی نہيں تھا۔

صبغہ کچھ دير بعد چاۓ بنا کر لائ مگر مناب تب تک بھی نماز پڑھ کر واپس نہيں آئ تھی۔

“کہاں رہ گئ يہ” صبغہ کے کہنے پر فاتک اپنی جگہ سے اٹھا۔

“ميں چيک کرتا ہوں” فاتک اسی کمرے کی جانب بڑھا جہاں مناب گئ تھی۔

پہلے ناک کيا کوئ آواز نہ آنے پر وہ اندر داخل ہوا۔

وہ کہيں نظر نہ آئ۔

فاتک کچھ پريشان سا آگے بڑھا۔

کمرے کے وسط ميں اسے بيڈ کے دوسری جانب پاؤں زمين پر نظر آئے۔

حيران ہو کر آگے بڑھا۔

مگر يہ کيا۔۔

جونہی بيڈ کے دوسری جانب آيا۔

جاء نماز پر مناب سکڑی سمٹی سوئ ہوئ نظر آئ۔

فاتک کو يکدم شرمندگی نے آ گھيرا۔

نجانے آفس ميں آج کتنی تھکی ہوگی۔

جب سے آئ تھی کچن ميں مصروف رہی تھی۔

تھوڑا سا اور آگے بڑھا۔

نماز کے سٹائل ميں دوپٹہ لپيٹے دھلے ہوۓ چہرے کے ساتھ بھی وہ فاتک کے دل کو گھائل کر رہی تھی۔

فاتک اسکے قريب زمين پر دو زانو ہوا۔

ہاتھ بڑھا کر اسکا کندھا ہلانا چاہا مگر وہ اتنی گہری نيند لگ رہی تھی کہ اس کا دل نہ کيا کہ اسکی نيند خراب کرے۔

کچھ سوچ کر دونوں بازوؤں کو اسکے نيچے سے گزارتے اسے بازوؤں ميں اٹھايا۔

جھٹکا پڑنے پر اسکی آنکھ کھلی۔

گہری نيند کے سبب پہلے تو وہ سمجھ ہی نہيں سکی کہ آخر يہ کيا ہوا ہے۔ مگر جيسے ہی آنکھيں کھول کر نظريں فاتک کے چہرے پر پڑيں۔

وہ چونک گئ۔ اس سے پہلے کے وہ فاتک کی اس حرکت پر کوئ شديد ردعمل کا مظاہرہ کرتی۔ فاتک اسے آہستہ سے بيڈ پر ليٹا چکا تھا۔

جھک کر اسکی عرق آلود پيشانی پر محبت بھرا لمس چھوڑا۔

مناب کچھ اور سمٹی۔

اٹھ کر بيٹھ گئ۔ مگر نظريں فاتک سے ملا نہيں پارہی تھی۔

“ليٹ جائيں” سينے پر ہاتھ باندھتے فاتک نے اسکے شرم سے گلنار ہوتے چہرے کو محبت سے ديکھتے کہا۔

“نہيں مجھے واپس جانا ہے” مناب سرعت سے بيڈ سے اٹھی۔

فاتک کے چہرے کی جگمگاہٹ پل ميں ماند پڑی۔

“آئم سوری۔۔فور ايوری تھنگ” فاتک نے نادم ہوتے اسکے ہاتھ تھام کر کہا

“ميں معاف کردوں گی۔ مگر کچھ وقت لگے گا” مناب نے گہری سانس بھرتے آہستہ سے اسکے ہاتھوں سے ہاتھ چھڑاۓ اور باہر کی جانب قدم بڑھا دئيے۔

فاتک کتنی ہی دير گم صم کھڑا رہا۔

نجانے وہ کيا ٹھانے ہوئ تھی۔ کہ فاتک کا کوئ اقدام اسے ٹس سے مس نہيں کررہا تھا۔

وہی منجمد انداز اور سرد لہجہ۔فاتک کو کھاۓ جارہا تھا۔

کچھ دير بعد مناب نے واپسی کی رٹ لگا لی۔

غازی اور صبغہ کو اٹھتے ہی بنی

“گھر چکر لگانا آپ” غازی کے کہنے پر فاتک نے سر ہلايا۔

“ان شاء اللہ جلد ہی چکر لگاؤں گا” وشہ کو گود ميں اٹھاۓ پيار کرتے اس نے مثبت جواب ديا۔

ابھی روبرو واجد سے اس نے معافی مانگنی تھی۔

مناب اسے ہولے سے خداحافظ کہتی بنا اسکی جانب ديکھے گاڑی ميں بيٹھ گئ۔

فاتک کی اداسی اسکے چہرے سے واضح عياں ہورہی تھی۔

وشہ کی کھڑکی کی جانب آکر اسے پيار کيا۔

مناب نے گردن موڑ کر ديکھا۔

فاتک کی ياسيت لئیے نظروں سے نظريں ٹکرائيں۔

مناب کے دل کو کچھ ہوا۔

“اپنا خيال رکھنا”اسے تاکيد کرتا وہ پيچھے ہٹا۔

غازی نے گاڑی بڑھا لی۔

کريم بھی اسکے ساتھ کھڑا تھا۔اپنے باس کی اداسی کو وہ اسکے چہرے سے بڑی آسانی سے پڑھ سکتا تھا۔

وہ ابھی بھی نہيں جانتا تھا کہ اسکے باس کی بيوی اور بيٹی اسکے ساتھ کيوں نہيں رہتے۔فاتک ايک گہری سانس کھينچ کر اندر کی جانب بڑھا۔

__________________________

دو دن بعد مناب کی جانب سے آنے والے ميسج نے فاتک کو ہلا کر رکھ ديا۔

وہ بے يقينی سے بار بار سہ بار۔۔ اور پھر نجانے کتنی بار اس ميسج کو پڑتا گيا۔

ان دنوں اپنا کپڑوں اور جوتوں کا برينڈ کھولنے ميں مصروف تھا۔

سنگنگ کو چھوڑنے کا فصلہ وہ سنجيدگی سے کر چکا تھا۔

مگر پھر بھی وہ اپنا بزنس باپ کے بزنس سے الگ رکھنا چاہتا تھا۔

بہت سوچ بچار اور داؤد سے مشورے کے بعد اس نے اپنا کپڑوں اور جوتوں کا برينڈ بنانے کا سوچا۔

آج وہ بلڈنگ ديکھ کر اسکی رينويشن کا آرڈر دے چکا تھا۔ اس کا انٹيرئير وہ مناب سے ڈيزائن کروانا چاہتا تھا۔

اس کا سوچتے اس نے موبائل نکالا کہ مناب کو اپنے فيصلے کے بارے ميں بتاۓ۔

مگر اس سے پہلے مناب نے اپنا فيصلہ بتا ديا۔

ہاتھ ميں پکڑے موبائل سے مناب کا نمبر ڈائل کرنے ہی والا تھا کہ اسکا ميسج آيا۔

چند فقروں پر مشتمل يہ ميسج فاتک کو پہاڑ سا لگا۔

“ميں آپکے نام کے ساتھ جڑا اپنا نام الگ نہيں کرنا چاہتی۔ مگر ميں آپ کے ساتھ رہ بھی نہيں سکتی۔ مجھے سيپريشن چاہئيے”يہ مناب کی جانب سے ملنے والا يہ ميسج اسکے دماغ کو سنسنا کر رکھ گيا۔

کچھ پل تو وہ بے جان ہاتھوں سے موبائل ہاتھ ميں پکڑے کھڑا رہا۔

کريم مزدوروں سے بات کرتا ہوا يکدم اسکی جانب کچھ پوچھنے کومڑا۔

مگر اسکا زرد پڑتا چہرہ ديکھ کر تشويش ميں مبتلا ہوا۔

“سر آپ ٹھيک ہيں” اسکے قريب آتے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

فاتک نے نظر اٹھا کر کريم کی جانب اجنبی نظروں سے ديکھا۔

اسے نہيں سمجھ آرہی تھی کہ وہ کہاں ہے۔۔ اسکے قريب کون ہےاور وہ کيا کررہا ہے۔

بس خالی نظروں سے وہ کريم کو ديکھے گيا۔

“سر” اب کی بار کريم زور سے بولا۔

اسے فاتک کی حالت ٹھيک نہيں لگی۔

“ہاں۔۔کچھ نہيں”فاتک جيسے اپنے حواسوں ميں نہيں تھا۔

“ميں کچھ دير کے لئے کھلی فضا ميں جانا چاہتا ہوں۔ تم يہاں کا دھيان رکھنا” فاتک نے بمشکل خود کو سنبھالا۔ گھٹن بڑھتی جارہی تھی۔

مناب کے فيصلے کی گھٹن۔اسے اندازہ تھا کہ مناب فيصلہ مشکل کرے گی۔ مگر اتنا مشکل۔

کاش وہ جان جاتا تو شايد فيصلے کا اختيار اسے نہ ديتا۔

وہ تو اسکی روح تک کو گھائل کررہی تھی۔

فاتک گاڑی کی چابی لئيے باہر نکل آيا۔

کچھ دير بے مقصد گاڑی سڑکوں پر دوڑاتا رہا۔

کچھ سمجھ نہيں آرہی تھی کہ کيا کرے اور کس طرح اسے کے فيصلےکو بدلے۔

فاتک اسے ريپلائ کرنے کی ہمت نہ کرسکا۔

وہ کيسےکرتا۔ وہ تمام رات فاتک ايک پل کو سو نہيں سکا۔

_____________________________

“اف ياد يہ کام آج کب ختم ہوگا” مناب تيزی سے کی بورڈ پر انگلياں چلاتے ہوۓ بڑبڑائ۔

آج اسے جلدی گھر پہنچنا تھا۔ کچھ مہمان آنے تھے اور ناز نے تاکيد کی تھی کہ وہ جلدی گھر پہنچے۔

مناب گھڑی کو ديکھتے ديکھتے ساتھ انگلياں بھی تيزی سے چلا رہی تھی۔

شام ميں ناز نے اسے فون کرکے بتايا تھا کہ وشہ کو فاتک تھوڑی دير کے لئے کر گيا ہے۔

وہ اس کا باپ تھا مناب بھلا کيسے اعتراض کرسکتی تھی۔

رات کو فاتک کو ميسج کرنے کے بعد وہ بے حد مضطرب رہی تھی۔کہنے کو تو اس نے فيصلہ کرليا تھا۔

مگر يہ کيسا فيصلہ تھا جو اسے خود کسی پل چين نہيں لينے دے رہا تھا۔

کام جيسے ہی ختم کرکے اس نے سکھ کا سانس ليا۔ سانسيں موبائل پر جگمگاتا نمبر ديکھ کر پھر سے اٹکنے لگيں۔

فاتک نے ميسج ملنے کے بعد سے اب تک کوئ ميسج يا کال نہيں کی تھی۔

وہ بالکل خاموش تھا۔اور مناب کو يہ خاموشی بہت چبھ رہی تھی۔

بيل مسلسل ہو رہی۔ تھی۔

ہاتھوں کی لرزش پر قابو پاتے مناب نے کال ريسيوکی۔

“ہيلو” مناب کی ہيلو سنتے ہی دوسری جانب فاتک کے حواسوں پر گويا سکوت طاری ہونے لگا۔

“ہيلو۔ کہاں پر ہو آپ؟” فاتک کے سوال پر مناب کچھ حيران ہوئ۔

“آفس ميں”

“اوکے ميں لينے آرہا ہوں”فاتک کی اگلی بات نے مناب کے گويا چھکے چھڑائے

“کيوں۔۔۔” وہ جتنا بھی حيران ہوتی کم تھا۔

کل سے کوئ بات نہيں اور يکدم آنے کا بھی کہہ دیا۔

“ايکچولی وشہ کی کچھ طبيعت ٹھيک نہيں اسی لئے آپ کو لينے آرہا ہوں”فاتک کی بات پر اب کی بار مناب پريشان ہوئ۔

“کيا ہوا ہے اسے”تيزی سے چيزيں اٹھائيں لہجے سے ٹپکتی پريشانی نے فاتک کو لمحہ بھر کو شرمندگی سے دوچار کيا۔

“ميں اپنی گاڑی پر آئ تھی۔ آپ رہنے ديں۔ ميں خود آجاؤں گی۔آپ بتائيں آپ لوگ ہيں کہاں پر؟” بيگ اٹھاۓ لفٹ کی جانب بڑھتے ہوۓ اس کا لہجہ پريشانی ميں گھل گيا۔

“اوکے ميرے ہی گھر پر” فاتک کی بات سنتے ہی مناب نے اوکے کہہ کر کال بند کردی۔

پارکنگ سے اپنی گاڑی نکالی۔جتنا تيزہوسکتا تھا وہ چلا کر فاتک کے گھر کے سامنے پہنچی۔

فاتک پہلے سے ہی باہر کھڑا تھا۔

“کيسےہيں”فاتک کے بشاش لہجےسے تومناب کو ايسا لگا جيسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

“ٹھيک وشہ کہاں ہے” وہ فکرمند لہجہميں بولی۔ اسکے ساتھ مين گيٹ سے گزر کراندر کی جانب بڑھی۔

اندر داخل ہوئ تو وشہ کو مزے سے لاؤنج ميں کارپٹ پر کھلونوں کے ساتھ کھيلتے ديکھکر فاتک کو خونخوار نظروں سے ديکھا۔

“يہ کيا گھٹيا مذاق تھا” بھنا کراسکی جانب مڑی۔

وشہ ماں کو ديکھتے چہکتی ہوئ اسے کے پاس آئ۔

“ممی ۔۔آج ميں نے اور پاپا نے بہت انجواۓ کيا”وہ ان دونوں کے بيچ ہونے والی کشمکش سے انجان خوشی خوشی ماں کو آج کی روداد سنانے لگی۔

مناب اپنے چہرے پر در آنے والی سختی سے بمشکل پيچھا چھڑاتے مسکرا کر اسکی باتوں کا جواب دينے لگی۔

فاتک اتنی دير ميں کچن کی جانب جا چکا تھا۔

کچھ دير بعد ہاتھ ميں جوس کا گلاس تھامے باہر آيا۔

مناب نے ايک سرد نگاہ اسکی جانب ڈالی۔ جو آنکھوں ميں شرارتی چمک لئے صوفے پر بيٹھی مناب کو جوس کا گلاس پيش کررہا تھا۔

“جان نکلی ہے نا۔۔ معذرت مگر ميری جان بھی آپ نے کل رات نکالی تھی۔ اپنی بے حسی سے ” اسکے گلاس تھامتے ہی فاتک گويا ہوا۔

“مگر يہ نہايت گھٹيا مذاق تھا” مناب اب تک کچھ ديرپہلے والی پريشانی کے زير اثر تھی۔

“ميری اب تک کی غلطيوں ميں آج کی يہ غلطی بھی لکھ ليں۔اس پر بھی اب ساری عمر معذرت کرنی ہے” فاتک اس کے مقابل رکھے صوفے پر بيٹھتے اسے نظرون کی گرفت ميں ليتے بولا۔

“وشہ آپ اپنے روم ميں جاؤ۔ وہاں پر اور بھی بہت سارے ٹوائز رکھے ہوۓ ہيں” فاتک نے وشہ کو منظر سے ہٹانا چاہا۔

وشہ سر ہلاتے اپنی چيزيں سميٹتے دائيں جانب بنے کمروں ميں سے ايک کی جانب بڑھی۔

وشہ کے جاتے ہی فاتک نے نظر دوبارہ خاموش مگر خفا بيٹھی مناب پر ڈالی۔ جس کے ہاتھ ميں جوس کا گلاس جوں کا توں تھا۔

“يہ پينے کے لئے ہے” فاتک نے اسکی توجہ گلاس پر مبذول کروائ۔

“مجھے نہيں پينا۔اپنی اس گھٹيا حرکت کا مقصد بتائيں” مناب اسے بخشنے کو تيار نہيں تھی۔

چہرے کے نقوش تنے ہوۓ تھے۔ لہجہ بے حد تيکھا تھا۔

“مجھے اتنی بڑی سزا کيوں دےرہی ہيں؟” فاتک اس کا سوال ان سنی کرتا بے بسی سے اسکے فيصلے کی وجہ پوچھنے لگا۔

کيا مطلب؟”مناب جان بوجھ کر انجان بنی۔

“کيا ميں اتنا گناہ گار ہوں کہ آپ مجھے معاف کرنے کو تيار ہی نہيں” فاتک کے لہجے ميں بے بسی کے ساتھ ساتھ انجانا سا دکھ تھا۔

بہت کچھ ٹوٹ جانے کا دکھ۔

“ميں نے آپ کو معاف کرديا ہے” مناب نے نظريں چراتے کہا

“نہيں منا۔۔آپ نے مجھے معاف نہيں کيا۔۔معاف کرنے والے بدلہ نہيں ليتے” فاتک نےاس جھٹلايا۔

“ميں کوئ بدلہ نہيں لے رہی۔نہ ہی آپ سے اپنا رشہ ختم کررہی ہوں۔مگر آپکے ساتھ رہ بھی نہيں سکتی”مناب کے لہجے ميں ٹھہراؤ تھا۔ ايسے جيسے وہ خود کو اسکے سوالوں کے لئے تيار کرچکی تھی۔

“تو کيا يہ معافی ہے۔۔؟کيا معاف کرنے والے ظالم ہوتے ہيں۔ آپ تو مجھے سزا دے رہی ہو۔عمر بھر کی سزا۔ ميں تو انجانے ميں آپ سے دور رہا۔۔ آپ تو جان بوجھ کر مجھے جدائ کی مار مار رہی ہو۔۔ ويسےہی کہہ دو فاتک مرجاؤ۔۔جيتے جی تو يہ ظلم مت کرو” فاتک اٹھ کر اسکے قريب دو زانو بيٹھا۔

مناب جھجھک کر پيچھے ہوئ

________

“معافی دی ہوتی تو يوں مجھ سے نہ کتراتی۔ منا مجھے ايک موقع تو دو۔۔ صرف ايک۔ آپ۔۔آپ ايسے کيوں کررہی ہو ميرے ساتھ”اسکے ہاتھ تھامے وہ بے بسی کی تصوير بنا اس سے پوچھ رہا تھا۔

“آپ جانتے ہيں ميں نے آپکے چلے جانے کے بعد وشہ کے پيدا ہونے سے پہلے تک بہت بار سوچا کہ ميں اپنا آپ ختم کرلوں۔۔مجھے لگتا تھا ميں دنيا کی وہ واحد انسان ہوں جو بے حد غير اہم ہے۔ جسکے ہونے نہ ہونے سے کسی کو کوئ فرق نہيں پڑتا۔۔ميں ايسا کر گزرتی اگر ميں اتنی بزدل نہ ہوتی۔ ميں بہت بزدل ہوں فاتک۔”فاتک کو لگا وہ اسکے ديکھتے ہوۓ بھی اسے نہيں بلکہ ان تمام مناظر کو ديکھ رہی تھی جنہيں اس نے تنہا سہا تھا۔

“نہيں مناب بزدل خود کشی کرتے ہيں بہادر تو حالات کا مقابلہ کرتے ہيں” فاتک نے اسے اسی کی خوبی بتائ۔

“مجھے معاف کردو ميں آپکو اس نہج تک لے کرگيا” ياسيت سے پر لہجہ مناب کو حال ميں واپس لے آيا

“مجھے نہيں سمجھ آتی ۔۔مگر جب جب آپ ميرے پاس آتے ہيں۔ مجھے آپکی جدائ ميں گزرا اذيت کا ايک ايک لمحہ ياد آتا ہے۔ اپنا ہر آنسو ياد آتا ہے۔ اپنی ہر تکليف ياد آتی ہے۔ ميں آپکے ساتھ رہ بھی لوں تو ميں نارمل زندگی نہيں گزار سکتی” اس کے چہرے پر تکليف کی پرچھائياں فاتک بآسانی پڑھ سکتا تھا۔

“کيا آپ چاہتے ہيں کہ ميں آپ کے ساتھ منافقت بھری زندگی گزاروں؟آپکی قربت ميں اذيتيں سہوں؟ آپکے ساتھ مسکراؤں مگر اندر سے روؤں۔۔۔؟اگر آپ يہ سب چاہتے ہيں تو مجھے کوئ اعتراض نہيں۔ ميں رہنے کو تيار ہوں”اپنی آنسوؤں سے لبالب آنکھيں اسکی آنکھوں ميں ڈالے وہ اپنی ہر اذيت گويا اسکے وجود ميں انڈيل رہی تھی۔

فاتک کو ايسا ہی محسوس ہورہا تھا۔اسکا ايک ايک لفظ فاتک کو تڑپا رہا تھا۔

اپنی ايک خواہش کے لئے اسے نے مناب کی شخصيت مسخ کردی تھی اور آج اسے اس بات کا شدت سے احساس ہورہا تھا۔

“مگر پھر ياد رکھئيے گا۔ ميں آپکی منا ثابت نہيں ہوں گی۔”مناب نے اسے تنبيہہ کی۔

فاتک اسکی گود ميں رکھے ہاتھوں کو تھام کر بے اختيار لبوں سے لگا گيا۔

مناب کی اذيت آنسو بن کر اسکی آنکھوں سے رواں ہوئ۔

مناب حيرت زدہ اس دراز قامت مرد کو آنسو بہاتا ديکھ رہی تھی۔

مرد کے آنسو اول تو بہتے ہی نہيں اور اگر بہہ جائيں تو صرف اس شخصيت کے آگے بہتے ہيں جسے پر اسے مان ہوتا ہے۔ايسے شخص کے سامنے آنسو بہاۓ جانے پر مرد کو کبھی افسوس نہيں ہوتا۔

‘تو کيا ميں واقعی اس کے لئے اب بھی سب سے زيادہ اہم ہوں’ مناب کے اندر سناٹا چھا گيا۔

کہتے ہيں کہ مرد ہميشہ عورت کے آنسوؤں کے آگے ہار جاتا ہے اور اس لمحے مناب کو لگا وہ اسکے آنسوؤں کے آگے ہار گئ ہے۔

وہ دل جو اسکی جدائ کے لئے سخت کرليا تھا اس لمحے اسی کی قربت کے لئے ہمک رہا تھا۔

وہ ششدر دل کی حالت بدلتی ديکھ رہی تھی۔

“ميں خود کو کبھی معاف نہيں کروں گا۔۔مگر وہ اذيت اس اذيت سے بڑی نہيں جو آپکی جدائ کی صورت مجھے ملے گی۔”اپنے آنسوؤں پر بند باندھ کر وہ بمشکل بولنے کے قابل ہوں۔

بھاری آواز ميں بولتا وہ مناب کو لب بستہ کر گيا۔

“ميری صرف ايک درخواست ہے۔ فيصلے کا اختيار اب بھی آپکے پاس ہی ہے۔” سر جھکاۓ وہ بولتا جارہا تھا۔ اب اس ميں مناب کی نظروں سے نظر ملانے کی ہمت نہيں تھی۔

“کہيں” مناب اسکی خاموشی سے سمجھ گئ کہ وہ اجازت چاہتا ہے۔ اب وہ کچھ بھی اسکی مرضی کے بنا نہيں کرنا چاہتا تھا۔ چاہے وہ کچھ کہنے کی درخواست ہی کيوں نہ ہو۔

“صرف ايک ہفتہ آپ ميرے ساتھ اس گھر ميں رہ لو۔۔صرف ايک ہفتہ۔۔ بے شک نارمل مياں بيوی کی طرح نہيں۔ميں آپکا روم الگ سيٹ کردوں گا۔ مگر صرف ميرے آس پاس رہ لو۔ اگر اس ايک ہفتے بعد بھی آپکا دل ميرے ساتھ رہنے پر آمادہ نہيں ہوا۔ تو ميں خاموشی سے آپکی اور وشہ کی زندگی سے نکل جاؤں گا۔ مگر صرف يہ ايک اور آخری موقع دے دو” اپنی خواہش بتا کر اس نے مناب کو مخمصے ميں ڈال ديا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *