Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Yaad Ki Anch (Episode 16)

Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas

مطلب يہ کہ فاتک اور مجھے لے کر تم جو فلمی سين بنانا چاہتی ہو وہ کبھی نہيں ہوسکتا۔يہ ميری زندگی ہے اور اپنی زندگی کے ساتھ کھيلنے والے شخص کو ميں اتنی آسانی سے کبھی معاف نہيں کرسکتی۔ مجھے کل رات غازی نے سب بتاديا ہے۔ کہ وہ کيسے يہاں تک آيا اور کيسے تم دونوں نے اسکے راستے ہموار کرنے چاہے” صبغہ کی حيرت زدہ آنکھوں ميں ديکھتے وہ وشہ والا واقعہ اور اپنی اور فاتک کی ملاقات ہر چيز بتاتی گئ۔

صبغہ کی حيرت کم ہونے ميں نہيں آرہی تھی۔ ابھی رات ميں ہی تو اسکی اور غازی کی بھی بات ہوئ تھی۔ اس نے يہ سب کيوں نہيں بتايا۔

“آپا۔۔تم کچھ بھی کہو۔ ميں مانتی ہوں انہوں نے تمہارے ساتھ غلط کيا مگر وہ واپس کن وجوہات۔۔۔” صبغہ شايد سب بتانے کا تہيہ کرہی ليتی اگر مناب اسے ٹوکتی نا۔

“بس کرو صبغہ، ميں تمہاری اور غازی کی شادی بہت دل سے انجواۓ کرنا چاہتی ہوں۔ ميری زندگی کا وہ سياہ باب ختم ہوچکا ہے مجھے اسے پھر سے کھولنا ہی نہيں وہاں اب صرف راکھ بچی ہے اور راکھ کو جتنا کريديں گے ہمارے ہی ہاتھ کالے ہوں گے۔”مناب کی بات پر صبغہ بے بسی سے اسے ديکھ کر رہ گئ۔

“مجھے اب اس شخص کے متعلق کچھ نہيں سننا۔ يہ سب اسکی چوائس تھی۔ تو پھر اب معذرت کيسی۔خير اب دوبارہ ميں تمہيں اسکی وکالت کرتے نہ ديکھوں۔ ميں نے کل رات بہت مشکل سے خود کو پھر سے سميٹا ہے اب اور نہيں۔ بس تم آئندہ ہمارے درميان اس کا ذکر نہيں لاؤ گی۔”مناب نے اب کی بار لہجہ سخت رکھا۔

“وہ درميان ميں آچکا ہے” صبغہ باز نہيں آئ۔ وہ اسے بتا دينا چاہتی تھی کہ اسکی اپنی ماں اور ماموں نے اسکے ساتھ کيا کيا ہے۔ نہ صرف اسکے ساتھ بلکہ فاتک کے ساتھ کتنا برا کيا ہے۔

کچھ لوگ اپنی انا ميں يہ تک بھول جاتے ہيں کہ اس کا خميازہ انکی اپنی ہی اولاد کو بھرنا پڑے گا۔

عارفہ اور واجد نے بھی اپنی اناؤں کی جنگ ميں يہی کيا تھا۔

مگر صبغہ تب بتاتی جب وہ سننے کو تيار ہوتی۔ وقت کی نزاکت ديکھتے وہ خاموش ہوگئ۔

“تم اب اس بکواس کو بند کروگی يا ميں سب چھوڑ چھاڑ تم سب کی زندگيوں سے ہی چلی جاؤں” اسکے وہی بات دہرانے پر مناب برامنا کر تيز لہجے ميں بولی۔

“ميرے ساتھ تو اس نے جو کرنا تھا کرديا۔ مگر ميری بيٹی کو اپنی حقيقت بتا کر اس نے ميرے ساتھ بہت برا کيا ہے۔ وشہ سے وہ جب سے ملا ہے وشہ نے اسی کے نام کی رٹ لگائ ہوئ ہے۔ کس مشکل سے اسے بہلا رہی ہوں يہ ميں ہی جانتی ہوں” اس کے چہرے سے معلوم ہورہا تھا کہ وہ کس اذيت سے گزر رہی ہے۔ صبغہ خاموشی سے بس ايک نظر اسے ديکھ کر رہ گئ۔

“باہر چلو سب تمہارا انتظار کررہے ہيں” بمشکل غصہ پيتے مناب نے اٹھتے ہوۓ اس کو بھی اٹھايا۔

صبغہ اب کی بار خاموش ہی رہی۔

خاموشی سے ہی اسکے ساتھ چل کر ڈرائنگ روم تک پہنچی جہاں ان کی شادی کی ڈيٹ فکس کرنے کی خوشی ميں باتوں اور مٹھائ کا تبادلہ ہورہا تھا۔

کوئ اور تو نہيں مگر ڈرائينگ روم ميں داخل ہوتے ہی صبغہ نے جن ناراض نظروں سے دروازے کے سامنے والے صوفے پر بيٹھے غازی کو ديکھا تھا۔ پھر سارا وقت غازی ان نظروں کی شکايت بھول نہيں پايا۔

غور کرنے پر اسے محسوس ہوا کہ صبغہ اور مناب ايک دوسرے سے کھچی کھچی ہيں۔

کچھ سمجھتے ۔۔صبغہ کو ٹيکسٹ کيا۔

“سوری” وہ جان گيا کہ مناب فاتک والی بات کے حوالے سے اسکی کلاس لے چکی ہے کہ وہ کيوں فاتک کا ساتھ دے رہی ہے۔

سب کو خوش گپياں کرتے ديکھتی صبغہ نے موبائل کی بپ بجنے پر انباکس کھولا۔۔۔

غازی کا نمبر جگمگايا۔ اسکی مختصر سی سوری صبغہ کو پھر سے غصہ دلا گئ۔

“بات مت کريں مجھ سے” ٹائپ کرکے اسے يکسر نظر انداز کيا جس کی نظريں صبغہ کے چہرے پر ہی ٹکی تھيں۔

“جاؤ بيٹا چاۓ پانی کا بندوبست کرو” عارفہ کے کہتے ہی صبغہ سب سے پہلے اٹھ کر ڈرائينگ روم سے نکلی۔

ايسے جيسے اسی انتظار ميں بيٹھی تھی کہ کوئ کہے اور وہ اس کمرے سے فرار ہو۔

“بھابھی کا فون بج رہا ہے ميں دے کر آتا ہوں” ان دونوں کے نکلتے ہی غازی نے بھی وہاں سے نکلنے کے لئے پر تولے۔

“بھابھی کا فون تو ايک بہانہ ہے” ضوفشاں کے شوہر شاہمير نے غازی کو مناب کا فون اٹھا کر نکلتے ديکھا تو شرارت سے بولا۔

“ايسی کوئ بات نہيں بھائ”اسکی بات پر مسکراہٹ دباتے وہ بات جھٹلانے لگا۔

“بيٹا تم ابھی نۓ ہو اس کام ميں” داؤد چچا بھی کسی سے کم تھے کيا۔

“اچھا آپ دے آئيں۔” وہ جو ان دونوں کے نرغے ميں بيٹھا تھا۔ ہتھار ڈالنے کے سے انداز ميں فون داؤد کی طرف بڑھا کر بولا۔

“نہيں اتنا اچھا موقع ضائع کروا کر تيری بددعائيں لينے کا مجھے کوئ شوق نہيں” وہ ہاتھ پيچھے کرکے مزے سے بولے۔ تينوں مدہم آواز ميں بول رہے تھے۔ کوئ ان کی جانب متوجہ نہيں تھا۔

“جا جا” شاہمير نے اسکی پيٹ تھپکتے اسے ہمت دلائ۔

غازی بمشکل مسکراہٹ دباتا اٹھ کر باہر کی جانب بڑھا۔

کچن ميں پہنچا تو دونوں شد و مد سے کام ميں مصروف تھيں۔

“بھابھی آپ کا فون بج رہا تھا” پليٹس ٹرالی ميں سيٹ کرتی صبغہ اپنے پيچھے غازی کی آواز سن کر کچھ لمحوں کے لئ ہاتھ روک گئ۔

مگر چند لمحوں بعد پھر سے اپنے کام ميں مگن ہوگئ۔

“اوہ فراز کی کال آرہی ہے” موبائل پکڑتے وہ کچن سے باہر نکلی۔ آفس کے کسی کوليگ کی کال تھی۔

“راشدہ تمہارا مياں باہر بلا رہا تھا۔ اسکی بات سن آؤ” غازی نے کام کرنے والی کو بھی وہاں سے ہٹايا۔

“جب کام کررہے ہو اسے اپنا کوئ نا کوئ کام پڑ ہی جاتا ہے” وہ منہ بنا کر کچن کے پچھلی جانب کھلنے والے دروازے سے باہر نکلی۔

صبغہ کو سب سمجھ آرہی تھی۔ پھر بھی انجان بنی اپنے کاموں ميں مشغول رہی۔

کوکيز پليٹر ميں ڈالتے ہوۓ کوئ قريب کھڑا محسوس ہوا۔

“کيا ہوا ہے؟” غازی کی آواز قريب سے ابھری۔

دائيں جانب مڑتے ہوۓ شکوہ کناں نظروں سے اسے ديکھا۔

“آپ نے مجھے بتايا کيوں نہيں کہ آپا اور فاتک بھائ کی ملاقات ہو چکی ہے” شکوہ کرکے پھر سے اپنے کام ميں مصروف ہوگئ۔

“رات ميں يہ سب جان کر ميں خود اتنا اپ سيٹ تھا کہ آپ کو پريشان کيا کرتا۔ يہ سب تو ہونا ہی تھا۔ ميں نہيں چاہتا تھا کہ ان لمحوں ميں آپ پريشان ہوں۔ سوچا تھا واپس جاکر آپکو کال پر بتاؤں گا” اسکی ناراضگی کی وجہ جان کر وہ قدرے ريليکس ہوا۔ دل ميں وسوسے تھے کہ آخر ناراض کيوں ہے۔ ابھی رات ميں ہی تو اسے جلدی شادی رکھنے کی وجہ بتائ تھی تو پھر يہ خفگی کيوں؟

“مجھے پتہ ہوتا تو پہلے سے تھوڑا خود کو تيار کرليتی۔ آپا کے غصے کو کسی اور طرح ہينڈل کرتی۔ مجھے تو اب آپ کے پلين پر بھی ڈر لگ رہا ہے” پريشانی فطری تھی۔ مناب کا ری ايکشن بہت برا تھا وہ تو کچھ سننے کو تيار ہی نہيں تھی۔

“بھابھی کو جو شاک ملنا تھا وہ مل گيا ہے۔ اگر ايسے ہی ہم ڈرتے رہے تو حقيقت تو کبھی کھل کر ان کے سامنے نہيں آۓ گی۔ وہ ہميشہ بھائ کو اس سب کا قصوروار ٹھہرائيں گيں۔ انہيں يہ اندازہ ہی نہيں ہوگا کہ ہر سال۔۔چھ ماہ بعد اس نے واپس آنے کی بھر پور کوشش کی وہ تو بابا اور پھوپھو کے رويوں نے انہيں پلٹنے نہيں ديا۔بھابھی نے جس طرح اپنی سم ختم کردی۔ پھر ميں تو خود کو بھی قصوروار کہوں گا بلکہ ہم سب۔۔ کيونکہ ہم سب کو انہون نے جب جب کانٹيکٹ کيا ہم نے انکی آواز سنتے ہی فون بند کردئيے۔ تو وہ شخص کس کو ۔۔۔کس کو آخر اپنی داستان سناتا” غازی کے لہجے ميں دکھ پنہاں تھا۔

“بالکل ہم ميں سے کسی نے ان کی سنی ہی نہيں۔ بس اپنی سوچ کو ہی ٹھيک مانتے گئے۔ يہی سوچا کہ وہ ظالم ہيں۔ ان سے تعلق ختم کرلو” صبغہ ٹھنڈی سانس بھر کر بولی۔

“مگر اب خود کو آنے والے وقت کے لئے تيار رکھيں” غازی کی بات پر وہ سر ہلا کر رہ گئ۔

“ہاں اب تو ہمت کرنی ہی ہے” صبغہ پليٹ ٹرالی ميں رکھنے کے لئے مڑی۔

“جلدی کرو نا صبغہ” مناب کے کچن ميں آتے ہی غازی کچن سے باہر چلا گيا۔

____________________

صبغہ اور غازی کی شادی کی تيارياں عروج پر تھيں۔تين ہفتے کيسے گزرے پتہ ہی نہيں چلا۔ اب آخری ہفتہ چل رہا تھا اور شادی سر پر کھڑی تھی۔

مناب چاہ رہی تھی کہ صبغہ کی شادی سے پہلے پہلے کريم کے باس کے گھر کا انٹيرئر ختم کردے۔ آج آخری دن تھا۔ پورا گھر سج چکا تھا۔ مگر اس کے باس سے مناب کی ملاقات ابھی تک نہيں ہوئ تھی۔

دوپہر کا وقت تھا۔ بس گيراج ميں کچھ لائٹس کی فٹنگ رہ گئ تھی۔ اندر کمروں کا سب کام ہوچکا تھا۔

مناب کی ہدايات جاری تھيں۔

کسی کام سے اندر آئ تو نظر موبائل پر پڑی۔

اپنی ہی رو ميں موبائل اٹھايا۔ آن کرتے ہی وشہ کے سکول سے آنے والی لاتعداد مسڈ کالز ديکھيں۔

دل يکدم پريشان ہوا۔

فورا نمبر ملايا۔

دوسری جانب تيری سے چوتھی بيل پرفون اٹھاليا۔

“ہيلو۔ ميں وشہ کی مدر بات کررہی ہوں۔ ابھی تھوڑی دير پہلے سکول سے ميرے نمبر پر کالز آرہی تھيں۔ وشہ خيريت سے ہے” گھبراۓ لہجے پر بمشکل قابو پايا۔

“جی ميم۔ اصل ميں وشہ کو چوٹ لگ گئ تھی وہ سوئنگ سے نيچے گر گئ تھی۔ سکول انتظاميہ اسے فورا ہاسپٹل لے گئ تھی۔ مگر ہم نے آپکو انفارم کرنا مناسب سمجھا۔ آپ تو فون اٹھا نہيں رہی تھيں۔ ہم نے پھر اسکے فادر کے نمبر پر کال کی۔ وہ اسکے پاس ہی ہوں گے۔ انہوں نے آپ کو نہيں بتايا” ريسيپشن پر موجود لڑکی نے تفصيل بتائ۔

وشہ کی چوٹ کا سن کر اسکے تو ہاتھو پاؤں پھول گئے اور يہ سوچ کر کہ فاتک اسکے پاس ہے اس کے رہے سہے اوسان بھی خطا ہوگۓ۔

“نہيں مجھے نہيں معلوم۔ آپ پليز ہاسپٹل کا نام بتا ديں” مناب اس شخص کو اب زندگی ميں کبھی فون نہيں کرنا چاہتی تھی۔

دوسری جانب سے ہاسپٹل کا نام سنتے ہی وہ باہر کی جانب لپکی۔

“کريم آپ پليز اس کو کسی طرح مينج کرليں۔ ميرے گھر ميں ايمرجنسی ہوگئ ہے مجھے جانا ہے” بيگ پکڑے عجلت ميں وہ کريم کے پاس آئ۔ جو باہر ہی کھڑا تھا۔

“سب خيريت ہے ۔۔آپ جائيں گی کيسے آج تو آپ کی گاڑی بھی نہيں” کريم بھی پريشان ہو اٹھا۔

مناب کی گاڑی صبح ميں ہی خراب ہوئ تھی۔ آتے وقت بھی غازی اسے يہاں ڈراپ کرکے گيا تھا۔

“کوئ بات نہيں ميں کوئ رکشہ يا ٹيکسی ديکھ لوں گی” وہ بس کسی طرح يہاں سے نکلنا چاہتی تھی۔

“ميں آپ کو لے چلتا ہوں” کريم اپنے ايک دو اور بندوں کو گھر کی حفاظت کی ہدايات دے کر مناب کو لئے باہر کھڑی گاڑی کی جانب آيا۔

“آپ کو ايسے ہی زحمت ہوگی” مناب کو اسے اپنی وجہ سے تنگ کرنا اچھا نہيں لگ رہا تھا۔

“پليز ميم۔مانا کہ ہم اجنبی ہيں مگر انسانيت کے ناطے بھی کچھ فرائض نبھانے ہوتے ہيں” متانت سے اسے ٹوک گيا۔

مناب اب کی بار خاموش رہی۔

“جانا کس طرف ہے” مناب نے اس ہاسپٹل کا نام اور راستہ سمجھايا

کچھ سوچ کر غازی کو فون کيا۔

“ہيلو” غازی کی آواز سنتے ہی اس کے کب کے رکے آنسو بہے۔

اپنوں کے ساتھ کا احساس ہی اتنا طمانيت بھرا ہوتا ہے انسان نہ چاہتے ہوۓ بھی اپنا غم کہہ سناتا ہے۔

“غازی وشہ ہاسپٹل ميں ہے” بھراۓ لہجے پر کريم نے ايک نظر اسکے چہرے کی جانب ديکھا۔ جہاں آنسو لڑی کی صورت بہہ رہے تھے۔

“جی ميں بھی وہيں جارہاہوں۔ آپ کہاں ہيں لينے آجاؤں” غازی نے فورا پوچھا۔

مناب حيران ہوئ۔

“تمہيں کس نے بتايا سکول سے کال آئ تھی؟” آنسو صاف کرتے سواليہ لہجے ميں پوچھا۔

“نہيں بھائ نے کال کی تھی” غازی ايسا بولا جيسے کوئ جرم سرزد ہوا ہو۔

مناب چپ کی چپ رہ گئ۔

“اوکے” بس اتنای ہی کہہ سکی۔

“ميں آرہی ہوں” اتنا ہی کہہ کر کال کاٹ دی۔

_______________________

ہاسپٹل پہنچی تو ايمرجنسی کے باہر پہلے سے ہی کھڑے غازی اور فاتک نظر آئے۔ کريم نے کسی قدر حيرانی سے وہاں فاتک کو ديکھا۔ پھر بڑھ کر مصافحہ کيا۔

فاتک کو يکسر نظر انداز کرتی غازی کی جانب بڑھی۔ اپنی پريشانی ميں وہ کريم کی حيرانگی پر غور ہی نہيں کرپائ

“کيا ہوا ہے۔ کيسی ہے وشہ؟” پريشانی چہرے سے ہی جھلک رہی تھی۔

غازی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

“بہتر ہے بس سر کے پچھلی جانب چوٹ آئ ہے۔ ويسے تو بينڈج کردی ہے۔ بے ہوش ہے ابھی۔ مگر۔۔۔” غازی نے اسے تسلی دی ليکن مگر کے بعد چھوڑے جانے والے ادھورے جملے نے مناب کے چہرے پراترتےاطمينان کو پھر سے تباہ کيا۔

“کک۔۔کيا مطلب” وہ پھر سے پريشان ہوئ۔

“مطلب يہ کہ ابھی اسے ہوش نہيں آيا۔ ڈاکٹرز نے انڈر آبزرويشن رکھا ہوا ہے۔ کہ کہيں خدانخواستہ سر کے اندر کی کوئ وين ڈيمج نہ ہوگئ ہو۔” غازی کے لئے يہ سب بتانا مجبوری تھا۔

“اللہ نہ کرے” وہ دل تھام کر رہ گئ۔ آنسو بھل بھل آنکھوں سے بہے۔

“ميری بچی” وہ لڑکھڑائ

فاتک نے بڑھ کر تھاما۔

ايک ہاتھ سے آنسو صاف کرکے جيسے ہی مناب نے اسے سہارا دينے والے کی جانب ديکھا۔نفرت سے اس کا بازو جھٹک کر پاس بڑھے بينچ کی جانب بڑھی۔

فاتک نے حسرت سے اپنے اس ہاتھ کی جانب ديکھا جسے مناب نے تنفر سے جھٹکا تھا۔ پھر ہاتھ پينٹ کی جيبوں ميں ڈال کر ادھر ادھر ديکھ کر جيسے خود پر برداشت کے کڑے پہرے بٹھاۓ۔

غازی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی۔

“سر ميں چلا جاؤں گھر کا کام بھی ديکھنا ہے۔ بندے تو چھوڑ کر آيا ہوں مگر آپ تو جانتے ہيں” کريم کی آواز پر مناب کو مجبورا مڑ کر اسکی جانب ديکھنا پڑا۔

جہاں وہ فاتک سے کھڑا اجازت لے رہا تھا۔

الجھ کر ان کی گفتگو سنی۔ کريم ايسے بول رہا تھا جيسے کب سے اسے جانتا ہو۔

کريم کی نظر مناب کی الجھن بھری نظروں سے ٹکرائيں۔

“يہ ميرے باس ہيں” کريم مزے سے اسے حقيقت بتانے لگا جسے سن کر مناب کو لگا ايک اور بم اس کے سر پر پھوٹا ہو۔

جس شخص کی وہ شکل نہيں ديکھنا چاہتی تھی۔ پچھلے ايک ماہ سے اسکے گھر کو سجا رہی تھی۔

ايک بار پھر آنکھوں ميں افسوس اور نفرت لئے اس نے فاتک کی جانب ديکھا۔ جو مناب کی جانب ديکھنے سے احتراز برت رہا تھا۔

کوئ بھی جواب دئيے بنا اس نے گردن موڑ کر کاريڈور کی جانب نگاہ کی۔

“کريم يہ ميرا بھائ ہے غازی اور غازی يہ ميرا مينجر ہے کريم” فاتک نے دونوں کا تعارف کروايا۔

“کريم ميری بيٹی کے لئے دعا کرنا۔ اندر جو پيشنٹ ہے وہ ميری بيٹی اور گھر کی جو انٹيرئير ڈيکوريٹر ہے وہ اسکی ماں ہے” کريم حيران نظروں سے بس اس کی بات سن سکا۔ بولنے کے قابل نہيں تھا۔

ايک نظر پھر بے گانی سی مناب پر ڈالی۔

“اللہ بہتر کرے گا” اس سے زيادہ وہ کچھ کہہ نہ سکا۔ اب اسے فاتک کے يکدم واپس آنے کی کچھ کچھ وجہ سمجھ آئ۔

“تم جاؤ” فاتک نے اسے واپس جانے کا اشارہ کيا۔

کريم سر ہلا کر چلا گيا۔ تھوڑی ہی دير گزری تھی کہ سامنے سے داؤد اور واجد آتے نظر آئے۔

فاتک کی اس جانب پشت تھی مگر غازی کی آنکھوں ميں آنے والے لمحوں کو سوچ کر خوف ہلکورے ليںے لگا۔

“کيا ہوا وشہ کو” غازی کے قريب آتے وہ پريشانی سے بولے۔

ان کی نظر ابھی فاتک پر نہيں پڑی تھی۔

“مجھے کچھ دير پہلے ہی مناب کا ميسج ملا تو نکل پڑا” انہوں نے مناب کو ديکھا جو ان کی آواز سنتے ہی بينچ سے اٹھ کر ان کے پاس آئ۔

سامنے آنے پر ان کی نظر فاتک پر پڑی جو مڑ کر داؤد کو سلام کررہا تھا۔

وہ ششدر ان دونوں کو ملتے ديکھ رہے تھے۔

“تم کيا کرنے آؤ ہو يہاں۔ اور داؤد۔۔۔ تم تم ” انہيں سمجھ نہ آئ کہ وہ کيا کہيں۔ درشت لہجے ميں فاتک سے اور پھر داؤد سے مخاطب ہوۓ۔

“جو اندر بچی زخمی ليٹی ہے ميں اس کا باپ ہوں” فاتک نے ان کی جانب ديکھے بنا ايک ايک لفظ ٹھہر کر کہا۔

“باپ۔۔۔۔اونہہ” وہ نفرت سے سر جھٹک گۓ۔

“بھائ صاحب يہ سب باتيں کرنے کے لئے يہ جگہ ہر گز مناسب نہيں ہے” داؤد نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سمجھايا۔

“اس کو کہے دفع ہو جاۓ اپنی شکل لے کر۔۔”

“ميری بيوی اور بيٹی ميرے حوالے کر ديں۔ يقين کريں کبھی آپ کو اپنی صورت نہيں دکھاؤں گا” انکے لہجے کی سختی اور نفرت کو وہ سہہ نہيں پايا۔نظر اٹھا کر انہيں ديکھتے بے خوفی سے بولا۔

مناب اس کی بات پر کھول کر رہ گئ۔

“کون سی بيٹی اور بيوی۔ جنہيں چھوڑ کر تم خواہشيں پوری کرنے چلے گۓ تھے” دونوں آمنے سامنے تھے کوئ بھی ہارنے کو تيار نہ تھا۔

“کسی کے پيچھے لگ کر نہيں گيا تھا۔ صرف ايک چھوٹی سی خواہش کی تکميل ميں گيا تھا جسے آپ نے ميرا گناہ بنا کر پوری دنيا کے سامنے ايسے اشتہار لگايا ہے جيسے ميں گناہوں ميں ڈوبا ايک غليظ انسان ہوں۔” فاتک کا نہ لہجہ تلخ تھا نہ آواز اونچی تھی بس تاسف تھا اس کے لہجے ميں۔ اس کا باپ اب بھی اس کے سامنے اپنی غلطی ماننے کو تيار نہيں تھا۔ کيا وہ نہيں جانتا تھا کہ اس کے جھوٹ کا پول اب کھل چکا ہے۔

“فاتک بس۔۔۔ موقع نہيں اس سب کا بيٹے” داؤد نے اسے خاموش کروايا۔

وہ چپ کرکے وہاں سے ہٹ گيا۔

مناب اس کی جرات پر حيران تھی۔ اس سے تعلق نہ رکھنے والا اپنے باپ کو کيسے مورد الزام ٹھہرا سکتا تھا۔

“ڈاکٹر سے بات ہوئ ہے تمہاری” داؤد نے واجد کا بازو پکڑ کر بينچ پر بٹھانے کے بعد غازی سے استفسار کيا۔

غازی نے وہی بات دہرائ جو مناب کو بتائ تھی۔

“اللہ کرم کرے گا۔ بيٹا پريشان مت ہوں۔ حفصہ اور صبغہ آرہی ہيں” انہوں نے مناب کے سر پر ہاتھ پھير کر اسے تسلی دی۔ پھر اسکے سائيڈ سے گزرتے سائيڈ پر کھڑے فاتک کی جانب بڑھے اسکے شانوں پر بازو پھيلاۓ۔ آہستہ آواز ميں اسے کچھ سمجھانے لگے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *