Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas NovelR50675 Teri Yaad Ki Anch (Episode 07,08)
Rate this Novel
Teri Yaad Ki Anch (Episode 07,08)
Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas
کالج سے نکلتے ہی صبغہ کو بالکل سامنے غازی کی بليک وٹز نظر آئ۔ حلق تک کڑوا ہوگيا۔ وہ بڑے مزے سے اندر بيٹھا اسکا انتظار کررہا تھا۔
جيسے يقين ہو کہ وہ اسے خود ڈھونڈ کر گاڑی ميں آکر بيٹھے گی۔باہر نکلنے کی زحمت بھی نہيں کی۔
ابھی وہ اپنی ہی ادھيڑ بن ميں تھی کہ غازی نے گردن موڑ کر جوں ہی گيٹ کی جانب دیکھا۔ جو چھٹی ہوتے ہی کھل چکا تھا۔
بے زار سی صبغہ کھڑی نظر آئ۔ ہونٹوں پرمحظوظ ہونے والی مسکراہٹ رينگی۔
صبغہ نے اس کا ديکھنا نوٹ کرليا تھا۔ لہذا مرے مرے قدم اٹھاتے ہوۓ اسکی گاڑی کی جانب بڑھی۔ اندازہ ہو ہی گيا تھا کہ اب کچھ بھی کرنا بے کار ہے۔
خاموشی مگر کسی قدر غصے سے فرنٹ سيٹ کا دروازہ کھولا اور جتنی زور سے ہوسکتا تھا بند کيا۔
دھماکے کی آواز پر غازی کے ہونٹوں پر کھلنے والی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوئ۔
گاڑی سٹارٹ کرتے چہرہ ہلکا سا موڑ کر گاگلز کے اس پار اپنی محبت کی غصيلی مگر کسی قدر بے بس شکل ديکھ کر بے اختيار نکلنے والے قہقہے کا گلا گھونٹا۔
“السلام عليکم!۔ جب دو مسلمان آپس ميں ملتے ہيں تو سلام ضرور کرتے ہيں” مسکراہٹ دبا کر راکھ ميں چنگاری کو سلگايا۔
“وعليکم سلام” ايک نظر گھور کر غازی کو ديکھنے کے بعد وہ اچھا خاصا رخ موڑ گئ۔
“ويسے آپکی اطلاع کے لئے بتاتا چلوں۔ کہ جس گاڑی کے دروازے پر آپ نے اپنا غصہ اتارا ہے۔ وہ خالصتا میرے پيسوں کی لی ہوئ ہے۔ آپکے ماموں کی ہر گز نہيں ہے” غازی نے صبغہ کو جيسے اہم خبر سنائ۔
“ماموں کی نہيں ہے اسی لئے يہ سلوک کيا ہے” پھنکارتا لہجہ غازی کا قہقہہ نہ روک سکا۔ صبغہ نے کسی قدر حيرت سے اسے ديکھا۔
‘ميں نے کوئ لطيفہ تو نہيں سنايا تھا’ دل ميں سوچا۔
“يعنی آپ مجھے باخبر کررہی ہيں کہ جب جب آپ کو اپنے شوہر نامدار پر غصہ آۓ گا آپ اسکی حق حلال کی کمائ گئ چيزوں کے ساتھ ايسا ہی سلوک کريں گی” موڑ کاٹتے لمحہ بھرا کو اسکے گھنگريالے بالوں ميں موجود معصوم سے چہرے کی جانب دیکھا۔ دل نے پل بھر ميں کيا کيا خواہشيں نہ کرڈاليں۔
“يہ تو ابھی ٹريلر ہے” اس نے بھی اکڑ کر مزيد دھمکايا۔
“اوہ ہ ہ ہ” غازی جيسے اسکی دھمکی سے بہت متاثر نظر آيا۔
گاڑی ايک ريسٹورنٹ کے سامنے روکی۔
“اب اترتے وقت بھی وہی سلوک کريں گی؟” جان بوجھ کر اسے پھر سے چھيڑا۔
“يہ تو آپکو مجھے يہاں لانے سے پہلے سوچنا چاہئيے تھا۔” کندھے اچکا کر وہ سارا الزام اسی کے کندھوں پر ڈال گئ۔
“تھوڑا سا بھی مجھ غريب کا خيال نہيں آپکو؟” سيٹ کی پشت سے سر ٹکاتے اسے نظروں کے حصار ميں ليا۔
صبغہ اسکی نظروں کا ارتکاز اگنور کرکے باہر دیکھنے لگی۔
“اتنے بھی غريب نہيں اب آپ۔۔” سر جھٹک کر گاڑی کے دروازے پر ہاتھ رکھ کر اتری۔ مگر اس بار دروازہ آرام سے ہی بند کيا۔
“يعنی کچھ غصہ اتر چکا ہے” غازی نے اسکی حرکت نوٹ کرتے دل ميں سوچا۔
اتر کر گاڑی کو لاک لگايا۔ اسے ہمراہ لے کر ڈائيننگ ايريا کی جانب بڑھا۔
ايک ٹيبل وہ پہلے ہی ريزرو کروا چکا تھا۔
کرسی گھسيٹ کر پہلے اسے بيٹھنے کا اشارہ کيا۔ پھر اسکے سامنے والی کرسی پر خود ٹک گيا۔
صبغہ اردگرد کے ماحول کا جائزہ لينے لگی۔ اور غازی اس کا۔
دونوں کہنياں ٹيبل پر جماۓ تھوڑا سا آگے کو جھکے ہاتھوں کی مٹھياں ٹھوڑی کے نيچے رکھے گہری نظروں سے اسکی جانب ديکھ رہا تھا۔
يہ پہلا موقع تھا کہ وہ دونوں يوں آمنے سامنے تھے۔
“اتنا تو لوگ غير لڑکی کے ساتھ نکاح ہونے کے بعد اس کو نہيں ديکھتے جتنا آپ ميرے رشتے دار ہونے کے بعد بھی مجھے ديکھ رہے ہيں” صبغہ شروع سے مناب کے الٹ تھی جو دل ميں ہوتا کہہ ديتی۔ ڈرنے جھجھکنے والی نہيں تھی۔
اب بھی غازی کو ديکھے بغير اسکے ٹکٹکی باندھ کر خود کو ديکھنے کو محسوس کرگئ۔
ايک نظر اسکی مسکراتی نظروں ميں ڈال کر پھر سے ہٹا ليں۔
“ديکھ رہا تھا کہ ميرا ساتھ کب تک نبھانے کی خاصيت رکھتی ہيں؟” غازی نے اسکی رات والی بات کا حوالہ ديا۔
“اتنی ہی کہ جس کی بنا پر کسی اور رشتے کے ساتھ زيادتی نہ کردوں” وہ صاف گوئ سے بولی۔
“زيادتی نہيں ہوگی۔۔ بلکہ اسکی بے رنگ زندگی ميں پھر سے رنگ آجائيں گے” غازی بالآخر اصل موضوع کی جانب آيا۔ جس کی وجہ سے اس نے اتنے پاپڑ بيلے تھے۔
“ميں نے آپکو کہا تھا کہ اپنے بھائ کی طرفداری ميرے سامنے مت کيجئيے گا” وہ سنجيدگی سے اب اسکی جانب ديکھنے لگی۔
جس کی آنکھوں ميں صبغہ کی بات پر ايک عجيب سی بے چينی نظر آئ۔
“ميں اس وقت صرف اپنے بھائ کا نہيں سوچ رہا۔ ميں اپنی بھابھی اور اپنی بھتيجی کا بھی سوچ رہاہوں۔ اور ان دونوں کی ہی وجہ سے ميں اس نتيجے پر پہنچا ہوں کہ ان دونوں کو اپنے اصل کے ساتھ رہنا چاہئيے۔ اور فاتک بھائ ہی ان کا اصل ہيں” رسان سے اپنے گھمبير لہجے ميں اسے سمجھايا۔
“کيا آپکو آپا کی وہ حالت ياد نہيں جو فاتک بھائ کے جانے کے بعد ہوئ تھی۔ کتنی مشکلوں سے ہم سب نے مل کر انہيں سنبھالا تھا۔ اور وہ جو اس سب کا سبب تھے اپنی دنيا ميں مگن عيش کر رہے تھے۔ اور ميری بہن انہی کی اولاد کی وجہ سے تڑپ رہی تھی جس کا شايد انہيں اب تک پتہ بھی نہيں۔ انہوں نے تو مڑ کر ديکھنا گوارا نہيں کيا۔ وہ تو ايسے يہاں سے بھاگے جيسے ميری بہن انکی کچھ لگتی ہی نہيں” وہ پھر سے بھڑاس نکالنے لگی۔
“جب ميں فاتک بھائ سے ملا تھا ميرے بھی خيالات کم و بيش وہی تھے جو آپکے ہيں۔ ليکن کبھی کبھی ايک ہی شخص قصوروار نہيں ہوتا۔ يا يہ کہہ ليں کے جيسے ہم کسی کے بارے ميں گمان کرتے ہيں کبھی کبھی وہ ويسا نہيں ہوتا۔ آپ کو اور باقی سب کو بہت سی باتيں نہيں پتہ اور مجھے اميد ہے کہ وہ سب جاننے کے بعد آپکے بھی خيالات بدل جائيں گے” کہنياں ٹيبل سے ہٹاتے کرسی کی پشت سے ٹيک لگاتے صبغہ کو نظروں کے ہی حصار ميں رکھتے نہايت سکون سے بولا۔ جيسے يہ يقين ہو کو بہت کچھ سننے کے بعد جيسا وہ کہہ رہا ہے ويسا ہی ہوگا۔
“اچھا تو ايسا کيا ہے جو آپ اور وہ جانتے ہيں اور ہم نہيں” تمسخرانہ انداز اپناتے صبغہ دونوں بازو سينے پر باندھتے بھنويں اچکا کر بولی۔
اور پھر جو کچھ غازی نے بتايا اس کو سننے کے بعد کتنی ہی دير وہ گنگ رہ گئ۔
آنسو جھڑی کی صورت گرے۔
“کبھی کبھی ہميں اپنی غلطيوں کی سزا اتنی بھيانک ملتی ہے کہ ہماری پوری زندگی ان غلطيوں کے زير اثر آجاتی ہے اور پھر سب کچھ ٹھيک کرنے کے چکر ميں ماہ و سال گزر جاتے ہيں مگر وہ غلطياں ٹھيک نہيں ہوتيں” اپنے آنسو صاف کرتے اس نے غازی کی خود کلامی سنی۔
“بھائ نے پہلے کسی سے رابطہ کرکے کيوں نہيں بتايا” آنسوؤں سے بھری نظريں اٹھاتے غازی کو ديکھنے لگی۔ جس کا دل اس لمحے اسکے آنسو اپنی پوروں پر اتارنے کی شديد خواہش کررہا تھا۔
“ميں نے آپکو اسکی مجبوری بتائ تو ہے۔” بازو ايک بار پھر سے ٹيبل پر ٹکاتے وہ تھوڑا آگے کو ہوا۔
“اب ہميں کيا کرنا چاہئيے” معصوميت سے نظريں جھکاۓ بھراۓ ہوۓ لہجے ميں بولی۔
غازی ہولے سے مسکرايا۔ عجيب دھوپ چھاؤں سی لڑکی تھی کبھی گرجتی برستی اور کبھی معصوميت کے ريکارڈ توڑتی ہوئ۔ وہ اس لمحے غازی کے لئے امتحان بنی ہوئ تھی۔
“مدد” اسکے ايک لفظی جواب پر اس نے بے اختيار نظر اٹھا کر ديکھا۔
“جيسے جيسے ميں کہتا جاؤں ويسے ويسے آپ کرتی جائيں۔ بھابھی آپکے گھر ميں سب سے زيادہ آپکے نزديک ہيں۔ اور اس کا فائدہ اٹھاتے ہم نے انہيں بار بار احساس دلانا ہے کہ وہ فاتک کے بنا ادھوری ہيں۔ اسکے لئے کچھ ڈرامہ بھی کرنا ہوگا۔ اور آپ نے ميرا ساتھ دينا ہے” غازی کی آنکھوں ميں موجود ايک عجيب سی چمک صبغہ کو نہ چاہتے ہوۓ بھی عجيب سی گھبراہٹ ميں مبتلا کرگئ۔
“اگر مجھے ٹھيک لگا تو کروں گی” اسکی ہنسی کو مشکوک نظروں سے ديکھا۔
“ميں نے کون سا آپکو چھت سے کودنے کا کہہ دینا ہے” اسکے مشکوک انداز پر وہ چڑا۔
“اوہ ۔۔۔ابھی تو شادی ہوئ نہيں۔ ابھی سے ايسی بے زاری کے مجھے چھت سے کودتے ديکھنے کی خواہش ہے” وہ بات کو کوئ اور رنگ دے گئ۔
“آپ کس پھپھے کٹنی عورت کے زير اثر پرورش پاتی رہی ہيں۔ نہ پھوپھو ايسی ہيں اور نہ ہی بھابھی۔ آپ کس پر چلی گئ ہيں” غازی نے اسکی الٹی باتوں پر محظوظ ہوتے پوچھا۔
“امی مجھے بتاتی ہيں کہ جب ميں پيدا ہوئ تب آپ اسی ہاسپٹل ميں تھے اور جس لمحے مجھے گڑتی کھلانے کی باری آئ۔ آپ نے خدمات پيش کيں اور کہا کہ ميں نے اس بے بی کو ہنی کھلانا ہے۔” بڑے مزے سے صبغہ نے اسے قصہ سناتے جس طرح اسی کی بات اس پر ماری وہ عش عش کر اٹھا۔
“اب تو لوگ کہتے ہيں ميں ايک ہيرا انسان ہوں۔ کيوں نہ لنچ ميں ہی آپکو اپنے ہاتھوں سے کھلاؤ تاکہ اب کی بار کچھ اچھے اثرات آپ پر پڑيں” اسکی ذومعنی بات پر وہ جو اپنی طرف سے اسے لاجواب کرچکی تھی اب نظريں چرانے لگی۔
“مجھے کوئ لنچ ونچ نہيں کرنا بس چليں” ٹيبل پر ہاتھ رکھ کر وہ اٹھنے ہی والی تھی جب غازی کے بھاری ہاتھ کے نے ٹيبل پر رکھے اسکے نازک ہاتھ پر دباؤ ڈال کر اسے ششدر کيا۔
“ميری پہلی ڈيٹ آپکے ساتھ جس بھی وجہ سے ہوئ ۔۔۔اسے پوری طرح انجواۓ تو کرلينے ديں۔ اپنی کمائ سے پہلی بار اپنی بيوی کو کچھ کھلانے پلانے کا ارادہ کيا ہے اس ارادے پر پانی مت بہائيں” غازی کيا کہہ رہا تھا اس سنائ نہ ديا۔ اسکی تمام حسيات اس ہاتھ ميں مرکوز ہوگئيں جو غازی کے ہاتھ کے نيچے دبا تھا۔
پہلی بار وہ غازی کے سامنے نروس ہوئ۔ اپنی غير ہوتی حالت پر غصہ بھی خوب آيامگر اپنے چہرے کی لالی سے پھوٹتی گھبراہٹ کو وہ چاہنے کے باوجود ظاہر ہونے سے روک نہ پائ۔
ہاتھ کھينچنا چاہا تو غازی نے اب کی بار مٹھی ميں بند کرکے زور سے دبايا۔
صبغہ کی اسکی کچھ بولتی آنکھوں ميں ديکھنے کی ہمت نہ ہوئ۔
دوسرے ہاتھ کو پينٹ کی پاکٹ ميں ڈالتے غازی نے ايک چھوٹی سی ڈبيہ نکالی۔
صبغہ نے حيرت سے اسکی جانب ديکھا۔
غازی نے مسکراتے ہوۓ ايک ہی ہاتھ سے ڈبيہ کھولی۔ دوسرے ہاتھ سے صبغہ کا ہاتھ نہيں چھوڑا ايسے جيسے ڈر ہو کہ ہاتھ کھولا اور وہ بھاگ کھڑی ہوگی۔
ڈبيہ کھلتے ہی پلاٹينم کی خوبصورت سی رنگ اسکے سامنے تھی۔
“آپکے لئے ہماری پہلی ڈيٹ پر پہلا تحفہ” اسکی آنکھوں ميں جھانکتے اسکی انگلی ميں انگوٹھی پہنائ۔
“تھينکس ميری فيملی کی پرابلمز کو سمجھ کر ميرا ساتھ دينے کے لئے۔ ايک من پسند ساتھی کے ساتھ کی خوشی تبھی ہوتی ہے جب وہ آپ کی زندگی کے ہر اچھے برے پہلو کو ديکھ کر بھی آپکا ساتھ نہ چھوڑے۔ اور اب مجھے يقين ہوگيا ہے کہ بہت جلد وہ محبت جو ميں آپکے لئے محسوس کرتا ہوں آپ بھی اسکے زير اثر آنے والی ہو۔”
صبغہ حيرت زدہ تھی وہ کتنی باريک بينی سے ان کے رشتے کو ديکھ رہا تھا۔
“يہ رشتہ اور آپ کو ميرے اللہ نے ميری قسمت ميں لکھا ہے۔ اور مجھے يقين ہے کہ اللہ نے ميرے لئے بہترين شخص کو چنا ہے۔ وہ چاہے آپ ہوتے يا کوئ اور ميں کبھی شکوہ نہ کرتی” بغير جھجھکے اپنا نقطہ نظر بيان کرتے بھی وہ اسکی جانب ديکھنے سے احتراز برت رہی تھی۔
غازی ہولے سے مسکرايا۔
“محبت کو کنفيس نہ کرنے کا اچھا طريقہ ہے” صبغہ نے اسکی بات کا کوئ جواب نہ ديا۔
کچھ دير بعد لنچ کرکے اس نے صبغہ کو گھر کے باہر اتارا۔
“مجھے يقينا يہ کہنے کی ضرورت نہيں کہ جو باتيں آپکو بتائيں ان کا ذکر کئے بنا آپ بھابھی کو سمجھانے کی کوشش کريں گی” اسٹيرنگ پر ہاتھ رکھے چہرہ اسکی جانب موڑ کر اسے اترتے ديکھ کر کہا۔
“يقينا ۔۔۔۔آپ کو يہ يقين دہانی کروانے کی بھی ضرورت نہيں۔ ميں بہت اچھی رازدان ہوں” اپنی ايک خوبی بتاتے وہ بہت فخر سے بولی۔
“مگر مجھے خوشی ہوگی کہ ميری محبت آپکے چہرے سے آشکار ہو” اسکی بات کو پھر سے اپنی جانب موڑا۔
“ہر بات کا اختتام خود پر کرنا آپکی بہت فضول عادت ہے” وہ منہ بنا کر بولی۔ غازی کا قہقہہ بلند ہوا۔
“يہ عادت تب تک جاری رہے گی جب تک آپکی ہر بات کا اختتام مجھ پر نہيں ہوتا” وہ محظوظ ہوکر بولا
“بس پھر قيامت تک انتظار کريں” وہ جان بوجھ کر اسے تنگ کرتے ہوۓ بولی۔
“ميں ناممکنات پر يقين نہيں رکھتا۔ ان شاء اللہ جلد ہی آپکی زندگی ميں اس مقام تک پہنچ جاؤں گا۔ مجھے اپنی صلاحيتوں اور اچھی قسمت پر کوئ شبہ نہيں” اسے پھر سے لاجواب کيا۔
“
خداحافظ” اب کی بار صبغہ نے گاڑی سے نکلنے ميں ہی عافيت جانی۔
_________________________
“وشہ مجھے کچھ گروسری لينے جانا ہے۔ آپ چلو گی ميرے ساتھ” ناز نے ناشتہ کرتی وشہ سے پوچھا۔ وہ فورا ہاتھ روک کر خوشی سے چہکی۔
“واؤ۔۔ليکن کوئ ٹواۓ لے کر ديں گی پھر جاؤں گی” فورا اپنی خواہش ظاہر کی۔
“کيوں نہيں ميرا بچہ جو کہے گا لے دوں گی” محبت سے اسکے چھوٹے چھوٹے ہاتھ تھام کر پيار کيا۔
“کب جانا ہے” جلدی جلدی ناشتہ ختم کيا۔
“آپ ہينڈ واش کرکے آؤ پھر چلتے ہيں۔ ميں اپنا بيگ بھی لے لوں” ناز نے کرسی سے اٹھتے ہوۓ کہا
وشہ بھی بھی جلدی سے بھاگتی ہوئ ہاتھ دھونے چل پڑی۔ ہاتھ دھو کر تيزی سے اپنے کمرے کی جانب بڑھی۔
جوتے بدلے اور اتنی ہی تيزی سے نيچے آئ۔
“دادو آئم ريڈی” اونچی آواز ميں ناز کو اطلاع دی۔
وہ کمرے سے پرس اور چادر لے کر نکليں۔ بيٹے سے ملنے کو دل بے چين تھا۔
وہ اپنی اولاد کے لئے بے چين تھا اور ناز اپنی اولاد کے لئے۔
مسکرا کر وشہ کا ہاتھ تھاما۔ کچن ميں ماسی کو بتا کر باہر نکل آئيں۔
______________________
ماں سے بات کرنے اور پروگرام ترتيب دينے کے بعد فاتک جلدی جلدی تيار ہورہا تھا۔
خود کو شيشے ميں ديکھتے مسکرايا۔
“ايک وقت تھا جب تمہاری ماں سے ملنے کے لئے تيار ہوتا تھا اور آج تم سے ملنے کے لۓ تيار ہورہا ہوں” وشہ کے عکس سے مخاطب ہوا۔
دل عجب ہی انداز ميں دھڑک رہا تھا۔ اولاد انسان کو کتنا مجبور کرديتی ہے کہ وہ اپنی انا، اپنی عزت نفس حتی کہ اپنا آپ تک بھول جاتا ہے۔
نجانے کيوں آج اپنی ماں کا درد محسوس ہوا جو انہوں نے اتنے سال اسکی دوری کے سبب جھيلا تھا۔ آج وہ اپنی اولاد کے پتہ چلنے کے بعد سے اس سے ملنے کے لئے تڑپ رہا ہے۔ اس وقت کے انتظار ميں ہے جب وہ اسے تھام سکے گا۔ نزديک سے ديکھ سکے گا۔
اس سے يہ چند پل گزارنے مشکل ہورہے تھے اور ناز نے اپنے بيٹے کے لئے کتنے سال انتظار کيا۔
يہ جانے بنا کہ وہ انتظار لاحاصل ہوگا کہ حاصل۔
اپنی اولاد ہونے کے بعد انسان کو اپنے ماں باپ کی قدر ہوتی ہے۔
اور يہ قدر فاتک کو آج ہو رہی تھی۔ بے اختيار اللہ سے معافی مانگی۔
گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر نکل آيا۔
ايک ايک لمحہ صديوں کے برابر محسوس ہورہا تھا۔
اپنے گھر کے قريب بنی مارکيٹ کے پاس گاڑی روکی۔ چہرے کو ہڈی ميں چھپا کر گاگلز پہن رکھے تھے تاکہ کوئ اسے پہچان نہ سکے۔
فون نکال کر ماں کا نمبر ملايا۔
“ہيلو ۔۔اماں کہاں ہيں آپ لوگ” ادھر ادھر انہيں تلاش کرتے پوچھا۔
“بيٹا ہم يہ اوپر والے سٹور ميں ہيں” انہوں نے سامنے بنے پلازہ کا نام ليتے اسکی اوپری منزل کا بتايا۔
“اوکے ميں آرہا ہوں” فاتک تيزی سے اسکی سيڑھيوں کی جانب بڑھا۔
دھک دھک کرتے دل کو بمشکل سنبھالا۔
اسٹور ميں داخل ہو کر سامنے بنے ريکس کی جانب بڑھ گيا۔
ايک کے بعد دوسرا ۔۔دوسرے کے بعد تيسرے ريک کی جانب بڑھا۔ ابھی فون نکال کر ناز کو ملانے کا سوچا تاکہ پوچھے کہ کس ريک ميں کھڑے ہيں۔ کہ پيچھے سے آنے والی معصوم سی آواز نے اسے منجمد کرديا۔
“دادو۔۔يہ ٹيڈی کتنا پيارا ہے مجھے بس يہی چاہئيے” مڑے بغير بھی وہ اس آواز کو پہچان گيا ابھی کچھ دير پہلے ہی تو اس سے فون پر بات ہوئ تھی۔
“ہاں ميرا بچہ ابھی ليتے ہيں” ناز ادھر ادھر ديکھتے اسے بہلانے والے انداز ميں بوليں۔
فاتک پنجوں کے بل مڑا۔
وشہ اس سے چند قدموں کے فاصلے پر تھی۔
اسکے مڑتے ہی اس نے سر اٹھا کر فاتک کی جانب ديکھا تو شکل جانی پہچانی سی لگی۔
فاتک کی آنکھيں جھلملائيں۔ خوبصورت نين نقش والی وہ ہو بہو مناب تھی۔ چھوٹی سی پونی ٹيل کو جھلاتی۔ پنک ہڈی اور پيچ جينز پہنے وہ فاتک کو اس دنيا کی سب سے خوبصورت بچی لگی۔ يکدم اسکے قريب دو زانو بيٹھا۔ ناز بھی اسے ديکھ چکی تھيں۔
دل پر ہاتھ رکھے اتنے سالوں بعد اپنے خوبرو بيٹے کو ديکھ کر آنسو جھڑی کی مانند آنکھوں سے بہے۔
وشہ کسی قدر حيرت سے اسے اپنے قريب دو زانو بيٹھتے ديکھ رہی تھی۔
آنسو آنکھوں سے نکلنے کو بے تاب تھے۔ جنہيں بہنے سے فاتک روک نہ سکا۔
گاگلز آنکھوں پر ہونے کے باعث وشہ کو اسکی آنسوؤں سے بھری آنکھيں نظر نہيں آئيں۔
چہر نيچے کرکے تيزی سے آنسو صاف کئے۔
“ہيلو سوئيٹ گرل” اپنا لہجہ بشاش رکھنے کی کوشش کرتے اسے پکارا۔
“ہيلو۔۔۔آ۔۔۔آپ کون ہيں؟” آنکھيں پٹپٹاتے اسے ديکھا۔
فاتک نے مسکرا کر اسے ديکھا۔ پھر گاگلز آنکھوں سے اتارے۔
“آ۔۔۔آپ فاتک ہيں وہ سنگر” حيران ہوتے منہ پر ہاتھ رکھتے اسے ديکھا۔
فاتک مسکرايا۔
“دادو۔۔” اس سے پہلے کہ وشہ چيخ کر پورے اسٹور کو فاتک کی موجودگی کا بتاتی فاتک نے يکدم اسکے منہ پر ہاتھ رکھا۔
“شش۔۔کسی کو بتانا نہيں کہ ميں يہاں ہوں۔ ميں صرف آپ سے ملنے يہاں آيا ہوں” فاتک نے اسے خبردار کيا۔
“مجھ سے” فاتک کا ہاتھ ہٹاتے وہ حيران ہوئ۔
“ہاں”اب کی بار فاتک نے اسکے بازو کو محبت سے تھام کر اپنے اور قريب کيا۔
“ميرے خواب ميں ايک انکل آۓ تھے۔ انہوں نے کہا پاکستان جاؤ اور اس بچی سے ملو مگر کسی کو پتہ نہ چلے کے تم اس سے ملنے گۓ تھے۔ تو بس ميں پاکستان آگيا۔ مگر آپ نے اب کسی کو نہيں بتانا کہ ميں آپ سے ملا ہوں” اسے من گھڑت کہانی سناتے وارننگ بھی دی۔
“کسی کو نہيں بتاؤں گی۔۔افف مجھے اتنی خوشی ہورہی ہے۔ کين آئ ہگ يو” وہ محبت اور جوش سے بولی۔
“شيور” فاتک تو اس پر پيار نچھاور کرنے کو تڑپ رہا تھا۔ يکدم اسے خود ميں بھينچا۔
“کاش يہ وقت يہيں رک جاۓ”دل ميں شديد خواہش جاگی۔
Episode 8
کتنے ہی لمحے يوں ہی اسے لپٹاۓ رکھا۔ ناز نے بڑھ کر ان دونوں کے قريب بيٹھتے دونوں کے گرد اپنے بازو باندھے۔ انہيں کوئ پرواہ نہيں تھی کون انہيں ديکھ رہا ہے کون نہيں۔ فاتک کے ايک کندھے پر ماں تھی تو دوسرے پر بيٹی۔ کيا حسين لمحہ تھا۔
فاتک نے ماں کے سر پر محبت بھرا بوسہ ديا۔
بہت مشکل سے وشہ کو خود سے الگ کرکے ماں کو بازوؤں ميں بھرا۔
“اولاد کے ملتے ہی ماں ياد نہ رہی” انہوں نے پيار بھرا شکوہ کيا۔
“مجھے تو ملی ہی اب ہے” فاتک نے اداس لہجے ميں کہا۔
“دادو آپ۔۔آپ کو بھی يہ اچھے لگے۔۔” وشہ ان دونوں کے يوں ملنے پر يہی سمجھی کہ اسکی طرح دادو بھی فاتک کی فين بن گئ ہيں۔
“ہاں نا ميری وشہ جس کی فين ہے ميں اسکی فين نہ بنوں” فاتک سے الگ ہوتے آنسو صاف کرتے لہجے کو خوشگوار بناتے ناز نے اسے پيار سے اپنے پاس کيا۔
“واؤ۔۔ اب ہو دونوں انکے سونگز سنيں گے”وہ اپنی عمر کے مطابق بات اخذ کرگئ۔ فاتک اور ناز اپنی جگہ سے کھڑے ہوۓ۔
“وشہ پھر ملوگی مجھ سے؟” فاتک نے آس سے پوچھا۔
“کيا ہم دوبارہ مل سکتے ہيں؟” وشہ کے لئے تو يہ خواب تھا۔ اسی لئے حسرت سے پوچھا
“ہاں نا جب آپ کہو۔ مگر ميک آ پرامس ماما کو نہيں بتانا۔ مجھے پتہ چلا ہے کہ آپکی ماما کو ميں پسند نہيں تو اگر آپ انہيں بتاؤ گی تو وہ دوبارہ ہميں ملنے نہيں ديں گی” فاتک کے بتانے پر وشہ حيرت زدہ ہوئ۔
“آپکو کيسے پتہ”
“مجھے ايک ميجک آتا ہے اس سے مجھے پتہ چل جاتا ہے کہ کس کو ميں اچھا لگتا ہوں کس کو برا” اس نے بات بنائ۔
“واؤ۔۔ ويسے ممی کو آپ پتہ نہيں کيوں اچھے نہيں لگتے۔” وہ بے چاری سی شکل بنا کر بولی۔
“کوئ بات نہيں ممی کو نہ سہی وشہ کو تو ميں اچھا لگتا ہوں نا” اسکے ماتھے پر بوسہ دے کر لہجے ميں محبت سمو کر بولا۔
“وشہ کے تو فيورٹ ہيں آپ” وہ ناز سے بولی۔
“چلو وشہ کيا لے گی۔ ميں اس کو لے کر دوں گا” اور پھر کچھ گھنٹے انکے ساتھ گزار کر اور وشہ کو ڈھيروں تحفے دلا کر وہ خوش مگر کسی قدر اداس دل سميت واپس آيا۔
مگر يہ اميد ہوگئ کہ بہت جلد اس سے آگے رسائ حاصل کرے گا۔
_________________
فاتک نے کچھ دير پہلے ہی کريم کو اپنے روم ميں آنے کا کہا۔
اس وقت وہ دونوں آمنے سامنے کمرے ميں موجود صوفوں پر بيٹھے تھے۔
فاتک کسی گہری سوچ ميں تھا۔ابھی تک کريم کو مخاطب نہيں کيا تھا۔
کريم نے اپنے سامنے بليک ٹراؤذر اور براؤن ہڈی پہنے اپنے پرکشش مگر کسی قدر الجھے ہوۓ باس کو ديکھا۔
آنکھوں پر لگی نظر کی عينک کو سيدھے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے ٹھيک کرتے اس نے ہنکارا بھرا۔
“کريم مجھے يہاں گھر لينا ہے۔ کسی بھی اچھی پارٹی سے بات کرو۔ اور اسکے بعد اسکا انٹيرئير کس سے ڈيزائن کروانا ہے يہ ميں خود تمہيں بتاؤں گا۔ ايک دو دن ميں سب فائنل کرو” کچھ سوچتے اپنی گہری سياہ آنکھوں سے کريم کو ديکھتے ہوۓ اس نے ہدايت جاری کی۔
“ٹھيک ہے سر جيسے آپ کہيں ميں کل صبح ہی پتہ کرواتا ہوں” وہ تابعداری سے بولا۔
“اور ہاں ابھی ميری اصل شناخت کسی پر ظاہر نہيں ہونی چاہئيے۔” اسے تنبيہہ کی۔
“سر آپ فکر ہی نہ کريں” پھر سے تابعداری کا وہی مظاہرہ ہوا۔
“ٹھيک ہے تم جاؤ اب ۔ سو جاؤ صبح جلدی نکل کر کسی پراپرٹی ڈيلر سے رابطہ کرنا” اسے جانے کی ہدايت ديتے وہ خود بھی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ گلاس ونڈو کے پاس آکر نجانے وہ باہر کيا ديکھتا رہتا تھا۔
“جی سر بہتر۔شب بخير” کريم فورا اٹھ کھڑا ہوا۔
اسکے کمرے سے جاتے ہی فاتک نے گردن موڑ کر بيڈ کے ساتھ موجود سائيڈ ٹيبل پر رکھے موبائل کی جانب ديکھا۔
غازی سے مناب کا نمبر وہ لے چکا تھا۔ شام ميں ہی کريم سے ايک نئ سم منگوائ تھی اور اسے موبائل ميں پہلے سے موجود سم کے ساتھ ڈال بھی چکا تھا۔
“رات کے اس پل يقينا وہ کمرے ميں ہوگی۔ وشہ سے باتيں کرتے سونے کی تياری کررہی ہوگی۔” گھڑی کے ہندسوں کو ديکھتے وہ خود سے ہم کلام ہوا۔
رات کے ساڑھے دس بج چکے تھے۔ غازی سے اسکی پوری روٹين وہ جان چکا تھا۔
کچھ سوچ کر سائيڈ ٹيبل کے قريب آيا۔ ہاتھ بڑھا کر موبائل اٹھايا۔ بيڈ پر بيٹھ کر کمفرٹر اپنے اوپر ليتے اب وہ آرام دہ انداز ميں بيٹھا مناب کو سوچ رہا تھا۔
کچھ دير خلاؤں ميں ديکھنے کے بعد اسکی انگلياں تيزی سے کچھ ٹائپ کر رہی تھيں۔
I can’t sleep in this room
Still so far from finding you
I can’t see, I dig beneath
The piles of dirt they cover me
Don’t let go
Silence keeps our story straight
Fighting for a perfect stake
Wave your flag or I believe
Hope is comfort if not relief
And there’s a heart that still can beat
Of every breath that’s inside me
And find the spark that’s buried deep
And won’t go out, so please.
Don’t let go
We can find our way back home
ٹھہرے پانی ميں پہلا پتھر آج وہ پھينک چکا تھا۔ اب موجوں کے اٹھنے کا انتظار کرنا تھا۔
________________
مناب ابھی کچھ دير پہلے ہی اپنے اور وشہ کے کل کے کپڑے پريس کرکے وشہ کو بيڈ پر ليٹی تھی۔
“آج ميری بيٹی نے کيا کيا ۔۔کيا” مزے سے اسکی دونوں ٹانگيں اپنے اوپر رکھے ہولے ہولے انہيں دباتے ہوۓ وہ روزانہ کی طرح اس سے باتيں کررہی تھی۔
“صبح ميں اٹھی۔ پھر ميں نے بريک فاسٹ کيا اور پھر ميں اور دادو مارکيٹ گۓ۔ اور پتہ ہے ممی ہم وہاں کس سے ملے” صبح کی باتيں بتاتے يکدم وشہ روانی ميں راز افشاں کرنے ہی والی تھی کہ مناب کے موبائل کی بپ بجی۔ وشہ کی بات وہيں ادھوری رہ گئ۔
موبائل پر انجان نمبر سے ملنے والی انگلش کی نظم کچھ لمحوں کے لئے مناب کو منجمد کرگئ۔
الفاظ تھے کہ اظہار، خواہش، درخواست يا گزارش۔۔۔
مناب نے سر جھٹک کر موبائل واپس سائيڈ ٹيبل پر رکھا۔
“ہاں جی تو آپ کيا بتا رہی تھی؟ کس سے ملی آپ” لہجے کو ہموار کرتے وہ پھر سے وشہ کی جانب متوجہ ہوئ۔
جو فاتک کی تنبيہہ ياد کرتے ہی اب کوئ اور بات بنانے کا سوچنے لگی۔
کيونکہ اسے پھر دوبارہ بھی فاتک سے ملنا تھا۔ اور اگر وہ مناب کو بتا ديتی تو وہ پھر کبھی فاتک سے نہ ملتی۔
“ہم وہاں ۔۔۔ہم۔۔سيما آنٹی سے ملے تھے” يکدم سوچتے اس نے ناز کی ايک فرينڈ کا نام ليا۔
“اچھا۔۔ گڈ۔۔ يہ اتنے سارے ٹوائز آپ کيوں لے کر آئ ہو۔ دادو کا کتنا خرچہ کروا ديا” وہ اسے ڈپٹتے ہوۓ بولی۔
وشہ نے ايک خاموش نگاہ سامنے ٹوائز ريک ميں رکھے اپنے نئے ٹوائز پر ڈالی۔ وہ سب آج اسے فاتک نے لے کر دئیے تھے۔
“سوری ممی۔ آئندہ نہيں لوں گی” يکدم شرمندہ ہوتے کہا۔ مگر وہ يہ نہيں بتا سکتی تھی کہ يہ ٹوائز ناز نے نہيں بلکہ فاتک نے لے کر دئيے ہيں۔
______________________
“السلام عليکم بھابھی بھائ صاحب گھر آچکے ہيں” شام کا وقت تھاداؤد نے فون کرکے ناز سے واجد صاحب کے گھر پر ہونے کی تصديق چاہی۔
“ہاں ۔۔۔وہ گھر پر ہی ہيں۔ خيريت بلا دوں” وہ سمجھيں داؤد نے کچھ بات کرنی ہے۔
“نہيں بھابھی۔ ہم لوگ آپکی طرف آنا چاہ رہے تھے۔ بہت دن سے چکر نہيں لگا۔ آپ لوگوں نے کہيں جانا تو نہيں” داؤد نے اپنا پروگرام بتايا۔
“ارے نہيں۔ سو بسم اللہ۔ آؤ۔۔واقعی بہت دن ہوگۓ تم لوگوں کو آئے ہوۓ۔ اچھا کيا پروگرام بنا ليا۔ کھانا ادھر ہی کھانا ہے۔ ميں پہلے ہی بتا رہی ہوں۔ گھر جانے کی رٹ لگائ نا تو مار کھاؤ گے” ناز نے پيار بھری دھمکی دی۔ وہ بالکل ماؤں کی طرح داؤد سے پيار کرتی تھيں۔ داؤد اور فاتک کی بہت عادتيں ملتی تھيں۔ فاتک کے جانے کے بعد سے تو وہ داؤد سے اور بھی پيار کرنے لگيں تھيں۔ ايسے جيسے اپنی مامتا کی کمی کو پورا کرنا چاہتی ہوں۔ داؤد اور حفصہ بھی ہميشہ سے انکی بہت عز کرتے تھے۔
“بھابھی۔۔ پھر زيادہ تکلف نہيں کرنا۔۔ آپ اتنا تردد کرتی ہيں کہ بندہ شرمندہ ہی ہوجاۓ۔” وہ محبت سے بولے۔
“اچھا اچھا زيادہ باتيں مت بناؤ۔ ميں فون رکھتی ہوں آنے کی تياری کرو۔” عجلت ميں فون بند کرکے واجد اور مناب کو بتانے چل پڑيں۔
شام ميں خوب رونق لگی۔ بہت دنوں بعد وہ لوگ يوں مل بيٹھ کر اکٹھے ہوۓ تھے۔ مناب نے فون کرکے صبغہ کو بھی بلا ليا تھا۔
وہ ہميشہ آنے سے ہچکچاتی تھی اور کچھ دن سے تو وہ ويسے بھی غازی کے سائے سے بھاگنے کی کوشش کررہی تھی۔ اسکا اظہار، اسکی وارفتگياں صبغہ کو بوکھلا کر رکھ گئيں تھيں۔
“کيا ہے آپا ميرا آنا ضروری ہے کيا؟” وہ جھنجھلائ ہوئ تھی۔
‘قريب گھر ہونے کا يہی نقصان ہوتا ہے۔’ اس نے دل ميں جل کر سوچا۔
“يار ميں تھکی ہوئ آئ ہوں۔۔بالکل کچھ کرنے کی ہمت نہيں ہورہی۔ تم آ کر مدد نہيں کرواسکتيں ۔۔۔ميری پياری بہن نہيں” جان بوجھ کر مسکين آواز بنا کر بولی۔ مقصد صرف اسکی اور غازی کی ملاقات کروانا تھا۔ حالانکہ غازی نے کہا نہيں تھا۔ مگر اسے لگتا تھا کہ صبغہ اس رشتے کو لے کر بہت غلط باتيں سوچے ہوۓ ہے۔ وہ چاہتی تھی کہ چند ملاقاتوں ميں اسے غازی کی محبت اور خيال رکھنے والی عادت کا اندازہ ہو جاۓ۔ تاکہ جب وہ نئ زندگی شروع کرے تو غازی سے متعلق کوئ وسوسہ اسکے دل ميں نہ ہو۔
“آپا يار۔۔۔ اچھا آرہی ہوں۔۔۔آ۔۔آپ کے ديور تو گھر پر نہيں ہيں نا” جھجھکتے ہوۓ اصل مسئلہ بيان کيا۔
“نہيں يار جب ماموں جلدی آجائيں تو وہ شو روم ميں ہی ہوتا ہے” کچن ميں جاتے غازی کو ديکھتے اسکی آنکھوں ميں شرارت مگر لہجے ميں سنجيدگی تھی۔
“اچھا ٹھيک ہے آرہی ہوں” آخر کار اس نے آنے کی ہامی بھر ہی لی۔
“اوکے۔۔ويٹنگ” چہکتے ہوۓ مناب نے فون بند کيا۔
____________________
شام کا وقت تھا واک کرتے ہوۓ وہ کچھ ہی دير ميں واجد ہاؤس کے سامنے کھڑی تھی۔ چوکيدار نے اسے ديکھتے ہی بتیسی نکالی۔
“سلام بی بی”
صبغہ نے سر ہلا کر جواب ديا۔ اندر قدم رکھتے ہی سامنے غازی کی گاڑی کھڑی دکھائ دی۔ دل ہی دل ميں مناب کو سخت سست سنائيں۔
اس سے پہلے کہ وہ اس دھچکے کہ بعد واپسی کے لئے قدم موڑتی غازی اندرونی حصے سے باہر آتے سيڑھياں اتر کر اپنی گاڑی کی ہی جانب آرہا تھا۔ لائٹ بلو جينز پر ڈارک بلو جيکٹ پہنے وہ گیٹ کے قريب پريشان کھڑی صبغہ کو ديکھ کر خوشگوار حيرت ميں مبتلا ہوا۔ گاڑی کی جانب بڑھتے قدم اب سست ہو کر صبغہ کی جانب اٹھ رہے تھے۔
مرتے کيا نہ کرتے۔۔صبغہ کو اندر کی جانب قدم بڑھانے ہی پڑے۔ سر نيچے کئے وہ اسکے پاس سے گزر جانا چاہتی تھی۔ جب وہ اسکے عين سامنے آکر رکا۔
“السلام عليکم!آپ آج اس غريب خانے ميں کيسے آگئيں” خوشگوار لہجے ميں چھپا طنز صبغہ کو کچھ زيادہ ہی چبھا۔
جھٹکے سے گردن اٹھا کر اسکی متبسم نظروں کو پل بھر کے لئے ديکھا۔
“آپا نے بلايا تھا اسی لئے آئ ہوں” گردن بائيں جانب موڑ کر لان ميں بکھری شام کی کرنوں کو ديکھا۔
“بھابھی سے کہوں گا۔۔ يہاں آنے کا راستہ بتا ديا ہے تو سلام کا جواب دينا بھی سکھا ديں” دبی دبی مسکراہٹ نے صبغہ کو کچھ اور غصہ دلايا۔
“کيا ہے؟آ۔۔آپ ۔۔۔کو تو شوروم ميں ہونا چاہئيے تھا۔ ماموں گھر پر ہيں تو آپ شوروم ميں کيوں نہيں ہيں”گھبراہٹ ميں وہ اپنی آمد کی وجہ سے پردہ اٹھا گئ۔
“اوہ ہ ہ۔۔۔تبھی آپ آئ ہيں۔ يہ سوچ کر کہ ميں نہيں” غازی کو اب اسکی آمد کا مقصد سمجھ آيا۔
صبغہ نے جھٹ زبان دانتوں تلے دبائ۔ اور نظريں بھی چرائيں۔
“نہيں ميں تو” وہ بات بنانا چاہتی تھی۔
“ميں نے آپکو کچھ کام کہا تھا۔۔اب تک آپ نے بھابھی سے کوئ بات کی؟” غازی نے يکدم سنجيدہ ہو کر فاتک سے متعلق بات چھيڑی۔
“مجھے سمجھ ہی نہيں آرہی کيسے بات کروں” وہ سچ مچ آجکل يہ سوچ سوچ کر پريشان تھی کہ فاتک کے متعلق کب اور کيسے مناب سے بات کرے۔ اس دن غازی سے وعدہ تو کرليا تھا کہ مناب کا ذہن فاتک کی جانب لے کر جاۓ گی۔ مگر تب سے سمجھ نہيں آرہی تھی کہ بات شروع کيسے کرے۔
جب سے وہ گيا تھا ان سب نے مناب کے سامنے فاتک کاذکر تک کرنا چھوڑ ديا تھا۔
“يعنی آپ ميرا ساتھ نہيں ديں گی” غازی نے سينے پر ہاتھ باندھتے بليک ٹراؤذر اور پرنٹڈ سٹائلش سی شرٹ پر بليک ہی کيپ شال لۓ۔ گھنگريالے بالوں ميں مقيد اسکے خوبصورت چہرے کو ديکھا۔
“ميں نے يہ نہيں کہا کہ آپکا ساتھ نہيں دوں گی۔ مگر کيسے بات شروع کروں يہ بھی سمجھ نہيں آرہی”اس نے بے چارگی سے کہا۔
“جب تک آپ رابطے نہيں رکھيں گی۔ تب تک ميں آپکو کيسے کوئ حل بتاؤں گا۔ آپ تو اس دن کے بعد سے ايسے غائب ہوئيں جيسے دوبارہ ملنے پر ميں نے رخصتی کروا لينی ہے۔ نہ کال اٹينڈ کرتی ہيں اور نہ ميسج کا ريپلائ کرتی ہيں” وہ شکوہ کناں لہجے ميں بولا۔
“ميں بزی تھی” نظريں غازی کے جاذب نظر چہرے سے ہٹاتے سامنے ديوار پر جماتے کہا۔
“جھوٹ بولنے والوں کے سر پر سينگ نہيں ہوتے۔ مگر انکی نظر نہ ملانے پر معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ جھوٹے ہيں” غازی نے کوئ بھی لگی لپٹی رکھے بنا اسے جھاڑا۔
“تو آپ ان دونوں تک ہی بات رکھتے نا۔۔يہ۔۔يہ کيوں پہنائ” اپنے ہاتھ ميں موجود رنگ اسکے سامنے کرتے نروٹھے انداز ميں بولی۔
“لڑکی شادی نہيں کرنی کيا مجھ سے ۔۔۔۔يا بارات والے دن بھی کہو گی۔۔کيوں آۓ مجھے رخصت کروانے۔ نکاح کا مطلب يہ نہيں کہ آپ اپنے گھر خوش اور ميں اپنے گھر خوش۔ بعد ميں بھی کيا ميری محبتوں پر يہی شکوہ ہوگا۔ کہ اماں اور بابا کی بہو ہی بنانا تھا نا۔۔يہ يہ۔۔بيوی کيوں بنا ديا” غازی اسکی عقل پر ماتم کئے بنا نہ رہ سکا۔ لڑکياں جن باتوں پر خوش ہوتی ہيں وہ ان باتوں پر ناراض ہو رہی تھی۔
“اب کال کروں تو بات کرنی ہے۔ پھر ہی کوئ مشورہ دوں گا اور اگر بات نہيں کريں گی تو ميں سمجھوں گا کہ آپکو بھابھی کی خوشيوں سے کوئ لينا دينا نہيں” اسے جذباتی باتوں کی مار ماری۔ نشانہ خطا نہيں گيا۔
وہ تڑپ گئ۔
“جی نہيں ميں خود غرض نہيں”منہ بنا کر بولی۔
“اوکے اب جائيں۔۔۔بھابھی انتظار کررہی ہوں گی۔ اور انکے سامنے آج جان بوجھ کر وشہ سے اسکے فيورٹ سنگر کا نام پوچھنا” اسے مشورہ ديتے راستے سے ہٹ کر گاڑی کی جانب بڑھا۔
سر ہلاتے قدم آگے بڑھاۓ۔ پھر اسکے پاس سے گزرتے رکی۔
“کہاں جارہے ہيں؟” مقصد صرف يہ تھا کہ جان جاۓ کہ شو روم جارہا ہے کہ نہيں۔
غازی مسکراہٹ دباۓ پورے کا پورا اسکی جانب مڑا۔
“ساتھ چلنا ہے” قريب کھڑی صبغہ کے قريب ہولے سے جھکتے اسے کنفيوز کيا۔
“جی نہيں۔ ويے۔۔۔ ويسے ہی پوچھا تھا” جھجھک کر پيچھے ہٹتے ہکلائ۔
“شو روم نہيں جارہا۔ دس منٹ ميں گھر پر واپس موجود ہوں گا۔۔آپکی جان نہيں چھوڑنے والا آج” داياں ابرو اچکاتے اسکے پوچھنے کا مقصد جانتے اس پر چوٹ کی۔
صبغہ اسے بس ايک نظر ديکھ کر اندر کی جانب مڑ گئ۔
غازی نے مسکراتے ہوۓ جيسے اسکی چوری پکڑے جانے کا حظ اٹھايا۔
______________________
“شکر تم آگئيں” صبغہ کو کچن ميں آتا ديکھ کر مناب نے شکر کی سانس لی۔
کھانا تقريباّّ تيار تھا۔ صرف سوئيٹ ڈش رہتی تھی۔
“ہٹيں ميں بنا ديتی ہوں” صبغہ ناز اور مناب سے ملنے کے بعد اسے ايک جانب کرتی خود کريمی سيلڈ اور اوريو ذيزرٹ بنانے لگی۔
“چلو تم کرو ميں ذرا کپڑے چينج کرلوں” ناز محبت سے دونوں کو ديکھتيں اپنے کمرے کی جانب چل ديں۔
“اور بھئ ميری پريٹی ڈول کيسی ہے؟” صبغہ نے کاؤنٹر پر چڑھ کر بيٹھی وشہ سے پوچھا جو مزے سے چاکليٹ کھانے ميں مگن تھی۔
“بالکل ٹھيک۔ مگر مين آپ سے خفا ہوں؟”
“خفا سے ياد آيا۔ تمہاری سٹوری بعد مين سنوں گی۔ کيونکہ ميں تمہاری ممی سے خفا ہوں” يکدم کچھ ياد آنے پر وہ منہ پھلا کر بولی۔
سلاد کے لئے چيزيں کاٹتی مناب حيرانگی سے اسکی جانب مڑی۔
“کيوں ميں نے کيا کيا ہے؟”
“آپ نے مجھے کہا تھا کہ غازی گھر پر نہيں” اسے گھور کر ديکھا۔ ساتھ ساتھ ہاتھ تيزی سے کام کررہے تھے۔
“ہاں تو وہ تو۔۔ اسی وقت آيا تھا” مناب نے بات بنانی چاہی۔
“ان کا شو روم يہاں سے بيس منٹ کے فاصلے پر ہے۔ مجھ سے بات کرتے کرتے کيا وہ ہوائ جہاز پر بيٹھ کر وہاں سے يہاں تک آۓ تھے” اسکے بات بنانے پر صبغہ غصہ سے بھنائ۔
“تو تمہيں اسکے ہونے نہ ہونے سے کيا مسئلہ ہے۔ تمہيں وہ کھا جاۓ گا کيا؟” مناب آخر اسکی الجھن دور کرنے کے در پہ ہوئ۔
“مجھے بس الجھن ہوتی ہے۔” وہ اپنے محسوسات کو سمجھا نہيں پائ۔
“اسی الجھن کو دور کرنے کے لئے تو ميں چاہتی ہوں کہ تم اس سے ملو” مناب اسکے قريب آکر محبت سے اسکے بازو پر ہاتھ رکھ کر دھيمے سے بولی۔
“اور اگر ايسی ہی کوئ خواہش ميں کبھی آپ سے کروں؟” نظريں جھکاۓ کريم باؤل مين پھيلاتے ہوۓ وہ ذومعنی انداز اپنا کر بولی۔
اسکے جواب دينے سے پہلے ہی کاؤنٹر پر رکھا مناب کا موبائل بجا۔
دونوں کی نظر اسی لمحے موبائل کی سکرين پر پڑی۔
انجان نمبر تھا۔
