Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas NovelR50675 Teri Yaad Ki Anch (Episode 24)
Rate this Novel
Teri Yaad Ki Anch (Episode 24)
Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas
نجانے کس چيز نے مناب کو پھر سے فاتک کے لفظوں سے باندھا تھا۔ شايد اسکے شفاف آنسوؤں نے۔۔
مناب سر جھکا گئ۔
فاتک نے کسی قدر آس سے سر اٹھا کر اسے ديکھا جو سوچ ميں گم تھی۔
“ابھی بھی ميں فورس نہيں کررہا صرف درخواست ہے” اس کا منت بھرا لہجہ۔ مناب کا دل پسيج گيا
“کل شام آپ مجھے اور وشہ کو لينے آجاۓ گا” اسکی جانب ديکھے بنا مناب نے يہ سب کہتےجيسے فاتک کے اندر ايک نئ روح پھونک دی۔
“مگر پھر بھی فيصلہ ميرا ہی ہوگا۔ اس بات پر آپ قائم رہئيے گا” اسکی جانب ديکھتے وہ پھر سے باور کروانا نہيں بھولی
“بالکل ميری جان فيصلہ آپ کا ہی ہوگا۔” فاتک نے محبت سے اسکی صبيح پيشانی پر لب رکھے۔ اور اب کی بار مناب اسکی قربت سے بيزار نہيں ہوئ۔
دل سے اس تبديلی پر سوال کيا جو خاموش تھا۔
وہ جھنجھلائ۔
________________________
اگلے دن جيسے ہی واجد کو فاتک کی درخواست کے بارے ميں علم ہوا انہوں نے فورا اسے فون کيا۔
“کيسے ہيں بابا” لہجے ميں محبت گھلی تھی۔
“ٹھيک ہوں۔ مگر مجھے تمہاری منتک سمجھ نہيں آئ۔ تم گھر کيوں نہيں آتے۔ميں تم دونوں کے فيصلے ميں اب بولنا نہيں چاہتا ۔ مگر صرف اتنا چاہتا ہوں کہ تم نے جو بھی پلين کيا ہے وہ اپنے گھر رہ کر بھی تو کرسکتے ہو۔
مجھے ايسا لگ رہا ہے تم نے مجھے ابھی تک معاف نہيں کيا” واجد کے لہجے ميں دکھ پنہاں تھا۔
“نہيں بابا۔۔ايسا کچھ نہيں ہے۔ ميں آپکو معاف کرنے والا کون ہوتا ہوں۔ بس آپ نے ميری مجبوريوں کو سمجھ ليا ميرے لئے يہی بہت ہے۔ مجھے گناہگار مت کريں۔۔ماں باپ اولاد سے معافی مانگتے اچھے نہيں لگتے” فاتک کی بات پر انکی آنکھيں نم ہوئيں۔وہ اپنی اتنی فرماںبردار اولاد کو دنيا کی نظر کرنے والے تھے۔ اگر بروقت حفصہ اور داؤد انہيں احساس نہ دلاتے تو وہ تو اسے کھو چکے تھے۔
“پھر بيٹا۔ اب بس کرو اور گھر آجاؤ” انکے لہجے ميں تھکاوٹ تھی۔
“بابا ميں آؤں گا ان شاء اللہ ضرور آؤں گا۔ مجھے اور جانا ہی کہاں ہے۔ مگر ميں چاہتا ہوں کہ مناب کچھ دن ميرے گھر ميں رہ کر فيصلہ کرے۔
اگر ميں آپکی طرف آجاتا ہوں تو مجھے يقين ہے کہ اس گھر ميں رہ کر وہ سواۓ اذيت ميں رہنے کے کچھ اور سوچ نہيں پاۓ گی۔
بابا۔۔اس گھر ميں اس نے ميری جدائ کے تکليف دہ لمحے سہے ہيں۔ وہ کبھی بھی مجھے دوبارہ اس گھر ميں رہ کر قبول نہيں کرے گی۔
اسی لئے ميں چاہتا ہوں کہ وہ اس ماحول سے باہر نکل کر پھر اپنے پورے دل کی آمادگی کے ساتھ فيصلہ کرے۔ آئ ہوپ آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ ميں کيا کہنا چاہتا ہوں”فاتک نے اب انہيں اس فيصلے کی اصل وجہ سے آگاہ کيا۔
انہيں اس کا فيصلہ غلط نہيں لگا۔
يقينا انسان جس جگہ سب سے زيادہ تکليف ميں رہ چکا ہو۔وہاں سے وہ دوبارہ خوشياں کشيد نہيں کرسکتا۔
اس کمرے ميں حتی کہ اس گھر کے چپے چپے سے مناب کی تکليف دہ ياديں وابستہ تھيں۔وہ سب اذيت کے لمحے تھے جنہيں اس نے فاتک کے بنا گزارے تھے۔
اسی لئے وہ جب بھی فاتک سے مل کر آتی۔ کمرے ميں پہنچتے ہی اسے وہی سب لمحےکسی فلم کی طرح ياد آتے۔ اور وہ کوئ فيصلہ نہيں کرپارہی تھی سواۓ جدائ کے۔
“ٹھيک ہے اللہ تم دونوں کے حق ميں بہتر کرے۔ تم اگر مجھے منع نہ کرتے تو ميں يقينا اسے سمجھاتا”
“نہيں بابا ميں نہيں چاہتا کہ وہ اب پريشرائز ہو” فاتک نے سانس بھرتے کہا۔
اب وہ اپنے اور مناب کے بيچ کسی تيسرےکو آنےنہيں دينا چاہتا تھا۔
___________________________
فاتک کے آنے سے کچھ لمحے پہلے وہ جو بے حد مضطرب تھی صمد کی کال کے بعد جيسے احساسات ميں ٹھہراؤ آگيا۔
“اسلام عليکم بابا۔۔ کيسے ہيں۔۔ امی کيسی ہيں۔ وہ تو صبغہ کی شادی کے بعد مجھے ايسا بھولی ہيں کہ پلٹ کر خبر بھی نہ لی۔” ناچاہتے ہوۓ بھی وہ ماں کے رويے کا شکوہ کرگئ۔
“وعليکم سلام۔ بيٹا جب انسان کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے تو وہ يوں ہی لوگوں سے نظريں چراتا ہے۔ تمہاری ماں بھی شرمندہ ہے۔ اور اسی شرمندگی کے باعث ابھی تمہارا سامنے کرنے کی اس ميں ہمت نہيں” صمد کی بات پر وہ چپ سی رہ گئ۔
“ميں نے تو انہيں مورد الزام ٹھہرايا ہی نہيں۔ ميں نے تو کسی سے شکوہ نہيں کيا۔ ماں باپ تو ويسے بھی اپنی اولاد کی محبت ميں ہر حد تک جانے کی کوشش کرتے ہيں۔ انہوں نے تو ميری محبت ميں کيا۔ پھر ميں انہيں الزام کيسے دے سکتی ہوں” صمد اسکی سعادتمندی پر مسکراۓ بغير نہ رہ سکے۔
“تم اچھی بيٹی ہو اسی لئے اسکی غلطيوں کو نظر انداز کر گئ ہو۔ مگر اعتدال ہر رشتے کی شرط ہے۔ اور اولاد تو سب سے بڑی آزمائش ہےاسی لئے تو اللہ نے اپنی پاک کتاب ميں اسے سب سے بڑی آزمائشوں ميں سے ايک ٹھہرايا ہے۔ اسی اولاد کے ساتھ بھی کبھی کبھی ہم زيادتی کے مرتکب ہوتے ہيں۔ مگر اسے محبت کا نام ديتے ہيں۔
خير۔۔ تم ابھی اپنی ماں کو نہ ہی چھيڑو۔ بس تم دونوں کا معاملہ بہتری کی جانب آجاۓ تو تمہاری ماں خود تمہارے پاس آۓ گی” صمد نے اسے تسلی دی۔
“اور بيٹا۔۔ اگر تم نے کسی سے شکوہ نہيں کيا تو پھر اس بيچارے کو کس بات کی سزا دے رہی ہو” اب وہ اصل موضوع پر آۓ۔
“کيونکہ ميری تکليف کا سب سے بڑا ذمہ دار وہی ہے” مناب نے پہلی بار فاتک کو کسی کے سامنے قصوروار ٹھہرايا۔
“ميری بيٹی کا دل سب کے لئے وسيع ہے مگر اس بيچارے کے لئے کيوں تنگ ہے۔ اسے يہ کہہ کر معاف کيوں نہيں کررہيں کہ يہ سب حالات نے کيا ہے” صمد نے اسے گھيرا۔
“بابا پليز ۔۔۔انہيں بيچارا مت کہيں۔ خواہشيں تو انہی کی تھيں نا” وہ منہ بسور کر بولی۔
“ايک بات کہوں۔ہم سب سے زيادہ جس کی پرواہ کرتے ہيں نا شکوے بھی اسی سے ہوتے ہيں۔۔ کيونکہ ان پر مان ہوتا ہے۔ اميديں وابستہ ہوتی ہيں ان سے اور پھر جب وہ اميد ٹوٹتی ہے تو تکليف ہوتی ہے اور تکليف اسی شخص کی سب سے زيادہ ہوتی ہے جو دل کے سب سے قريب ہوتا ہے” وہ شروع سے ماں کی نسبت صمد سے زيادہ قريب رہی تھی۔ ہر چھوڑٹی بڑی بات پر انہيں سے مشورہ کرتی اور وہ بھی بن کہے اسکی پريشانياں سمجھ جاتے۔
آج بھی وہ اسے دوست کی صورت اسکے دل کی باتيں بتا رہی تھے۔ جنہيں وہ خود سے بھی کہنے ميں گريز برت رہی تھی۔
“ميں تمہيں يہ نہيں کہتا کہ تم فورا اسے معاف کردو۔ پرکھو۔ اور پھر فيصلہ کرو۔ مگر اتناضرور کہوں گا۔کہ ايک بار دل سے معاف کرکے ديکھو پھر ديکھنا اللہ تمہيں خود بخود پرسکون کر دے گا۔ ماضی ميں جو ہوا نہ وہ تمہارے اختيار ميں تھا اور نہ مستقبل ميں جو ہوگا وہ تمہارے اختيار ميں ہے
مگر ان دونوں کے بيچ اپنا حال خراب مت کرو”صمد کی ہر بات اس لمحے اسکے لئے سوچوں کے نئے در وا کررہی تھی۔
“بس ميری دعا ہے اللہ تمہارے لئے بے حد آسانياں پيدا کرے” مناب نے دل سے آمين کہا۔
اور اسی خاموشی سے فون بند کرديا۔
ابھی اسے فون بند کئے چند لمحے ہی گزرے تھے کہ وشہ بھاگتی ہوئ اندر آئ۔
“ممی پاپا آگۓ۔ چليں”اسے جب سے مناب نے بتايا تھا کہ ہم بابا کے پاس رہنے جارہے ہيں۔ وہ تب سے بے حد ايکسئيٹيڈ تھی۔
مناب نے سر اٹھا کر بيٹی کا خوشی سے جگمگاتا چہرہ ديکھا۔
“چليں نا” وہ اسکا بازو تھامے اسے اٹھنے پر زور دے رہی تھی۔
مناب ہولے سے مسکراتے اٹھی۔
نظر سامنے نصب آئينے پر پڑی۔ سادہ سی رائل بليو شلوار قميض پر پرنٹڈ شال لئیے ادھ کھلے بالوں ميں اسکے چہرے پر نجانے کيوں مگر آج بہت عرصے بعد اسے خود سکون محسوس ہوا۔ آنکھوں کی وحشت بھی معدوم تھی۔
دل پلٹ رہا تھا۔ دماغ نے بھی جنگ چھيڑ رکھی تھی۔
بس اب بات انا کی رہ گئ تھی۔ وہ کب چکنا چور ہونی تھی اسے اس وقت تک اسے کوئ فيصلہ نہيں کرنا تھا۔
_______________________________
وشہ کا ہاتھ تھامے جس لمحے وہ نيچے اتری سامنے صوفے پر بيٹھے فاتک کی جگر جگر کرتی نظريں اس سے ہٹنے کو تيار نہيں ہوئيں۔
صبغہ اور ناز اسے کمپنی دے رہی تھيں۔
“السلام عليکم”مناب نے دھيمی آواز ميں سلام کيا۔
فاتک اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔
ايسا لگا مناب کو پہلی بار ديکھا ہو۔ اسکے چہرے سے عحيب سی روشنی پھوٹ رہی تھی۔ آنکھوں کی اداسی کی جگہ عجيب سا ٹھہراؤ محسوس ہوا تھا۔
فاتک کو لگا اسکی تکليف کے دن اب جلد ہی ختم ہونے والے ہيں۔
“تمہارا سامان کہاں ہے” نازنے اسے خالی ہاتھ آتے ديکھ کر کہا۔
“اوپر ہی ہے” صبغہ کے برابر بيٹھتے اس نے جواب ديا۔
“ميں لے آتا ہوں” فاتک سيڑھيوںکی جانب بڑھا۔
“کھانا کھا کر چلے جانا”ناز نے ہانک لگائ۔
“آپکی بہو کے لئے بہت اچھا ڈنر بنا کر آيا ہوں۔ پھر کسیدن آکر آپ کے ہاتھ کا کھانا کھاؤں گا” ايک شوخ نگاہ مناب پر ڈالتا وہ تيزی سے سيڑھيوں کی جانب بڑھا۔
“ميں حلوہ ديتی ہوں وہ تو لے جانا” ناز نے دال کا حلوہ بنا رکھا تھا۔ فاتک کی جلد بازی ديکھتے وہ تيزی سے کچن کی جانب بڑھيں۔
صبغہ نے اپنے ساتھ خاموش بيٹھی مناب کے ہاتھ تھامے۔
“خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دو۔ کچھ دن بعد ذہن کو تھکانا۔ ابھی صرف اس بندے کی محبتوں کو ديکھو۔ جو ہر طرح تمہيں خوش رکھنے کے جتن کررہا ہے۔
خلوص خود غرض نہيں ہوتا۔ اور اسکے ہر عمل ميں اس وقت صرف خلوص اور احساس نظر آرہا ہے۔ مجھے اميد ہے تم اپنے اور وشہ کے ساتھ کوئ زيادتی نہيں کروگی۔”صبغہ نے اچھی دوست اور بہن ہونے کے ناطے اسے پھر سے سمجھايا۔
“ميں تمہاری محبتوں کا قرض کبھی نہيں چکا سکتی۔تم نے قدم قدم پر جيسے ميرا ساتھ ديا۔اور اب بھی۔۔۔صبغہ تم جيسی بہنيں اللہ قسمت والوں کو ديتا ہے” مناب نے محبت سے اسے گلے لگايا۔
“بس ميں تمہاری بہتری اور خوشی چاہتی ہوں۔ دل کرتا ہے کہيں سے تمہارے ہونٹوں پر سچی مسکراہٹ لا دوں۔۔تمہاری زندگی خوشيوں سے بھر دو۔ تمہاری آنکھ ميں اب کبھی ايک آنسو بھی نہ آۓ۔ اپنے پياروں کو روتے ديکھنا بہت تکليف دہ ہوتا ہے اور پچھلے کئ سالوں سے ميں اس تکليف سے گزر رہی ہوں” آنسو بمشکل پيچھے دھکلتے وہ سچے دل سے گويا ہوئ۔
“ميں جانتی ہوں” اسے خود سے بھينچتے مناب ہولے سے مسکرائ۔
پيچھے ہوتے اسکے چہرے پر پيار سے بوسہ ديا۔
“ہميشہ خوش رہو” نم آنکھوں سے اسے ديکھتے صبغہ نے دل سے دعا دی۔
“آمين” فاتک کے نيچے اترتے ہی وہ لوگ باہر کی جانب بڑھے۔
“اپنا خيال رکھنا” صبغہ اور ناز يک زبان ہو کر بوليں۔
“ان شاء اللہ” فاتک نے گاڑی بڑھانے سے پہلے ہاتھ اٹھا کر انہيں خدا حافظ کہا۔
فاتک کے ساتھ مناب بيٹھی مسکراتی نظروں سے انہيں ديکھ رہی تھی۔
وشہ پيچھے بيٹھی۔ جوش و خروش سے ہاتھ ہلاتے دادی اور خالہ کو خدا حافظ کہہ رہی تھی۔
کتنا مکمل منظر تھا
_______________
تمام راستہ گاڑی ميں خاموشی رہی۔ سواۓ وشہ کی چہکاروں کے۔ مناب قسمت کے اس ہير پھیر پر حیران تھی۔ چند دن پہلے جس شخص کی شکل ديکھنے کی وہ روادار نہيں تھی آج اسی کی گاڑی ميں بيٹھی اسی کے گھر جارہی تھی۔
جبکہ فاتک خوشگوار حيرت ميں مبتلا تھا۔ کيا اللہ اتنا بھی مہربان ہوتا ہے۔ کيا سچے دل سے مانگی جانے والی معافياں اتنی جلدی قبول ہوتی ہيں۔
يہ وہ اور اس کا اللہ ہی جانتا تھا کہ اس نے رشتوں ميں کبھی کھوٹ نہيں آنے ديا۔
نجانے اللہ کو اسکی کيا بات پسند آئ تھی۔ يا پھر نہيں وہ اللہ تو ہے ہی اتنا مہربان وہ بندے کی نيکی کا منتظر نہيں ہوتا۔ بس وہ بندے کا بندے کے ساتھ سلوک پرکھتا تھا۔
جہاں خودغرضی آۓ وہيں سے امتحان شروع اور جہاں سچائ ڈيرے جماۓ وہيں سے مہربانيوں کا آغاز۔
فاتک کا رواں رواں اللہ کا شکر ادا کررہا تھا۔
گھر پہنچ کر گاڑی سے اترے ہی تھے کہ کار پورچ ميں کھڑا کريم انہيں خوش آمديد کہنے کو آگے بڑھا۔
وشہ سے مل کر مناب کو سلام کيا۔
ان کا سامان اٹھا کر اندر کی جانب بڑھ گيا۔
“يہ آپکے پاس ہی ہوتا ہے” مناب، فاتک کے ساتھ اندر قدم بڑھاتے ہوۓ کريم کے بارے ميں استفسار کرنے لگی۔
“ہاں اسکی فيملی نہيں ہے۔ميرا مينجر تھا اب بھی ہے۔ مگر کسی اور کام کے لئے” فاتک اندرونی حصے کی جانب بڑھتے ہوۓ مناب کو پہلے قدم بڑھانے کا اشارہ کرتے ہوۓ بولا۔
مناب نے اسکی بات پر کچھ الجھ کر اسے ديکھا۔ پھر اندر بڑھ گئ۔
شام کے ساۓ گہرے ہوچکے تھے۔ فاتک وشہ کے ساتھ مصروف تھا۔
گاہے بگاہے اٹھ کر ايک چکر کچن کا بھی لگا آتا۔
اپنے کمرے کے ساتھ والا کمرہ اس نے مناب کے لئے سيٹ کروا ديا تھا۔
مناب اندر جاکر اپنی اور وشہ کی چيزيں الماری ميں سيٹ کرنے لگی۔
وہاں سے فارغ ہوکر نماز پڑھی۔ باہر کی جانب قدم بڑھاۓ۔
فاتک اور وشہ ۔۔۔وشہ کے کھلونوں کے ساتھ کھلنے ميں مصروف تھے۔
مناب بھی قريب بيٹھ گئ۔
“صبح آپ کو اور وشہ کو ميں ڈراپ کردوں گا” مناب کو صوفے پر بيٹھتے ديکھ کر فاتک گويا ہوا۔
وہ دونوں رگ پر بيٹھے کھيلنے ميں مصروف تھے۔
“نہيں ميں نے غازی سے کہا ہے وہ ميری گاڑی کچھ دير ميں چھوڑ جاۓ گا۔ آپ کو مشکل ہوگی۔ عادت نہين ہے نا” مناب روانی ميں کہہ گئ۔ مگر اپنی بات کے جواب ميں فاتک کے چہرے پر پھيلنے والے شرمندگی کے ساۓ اسکی آنکھوں سے اوجھل نہيں رہے۔
“آئم سوری” فاتک نے بہت مشکل سے ضبط کرتے ہوۓ کہا۔
“ميرا يہ مطلب نہيں تھا” مناب شرمندہ ہوئ۔
“اٹس اوکے” فاتک اٹھ کر نماز ادا کرنے چل پڑا۔
تھوڑی ہی دير بعد ڈائننگ ہال ميں فاتک نے کھانا لگانا شروع کرديا۔
کريم بھی بھرپور مدد کررہا تھا۔
مناب نے بھی مدد کرنی چاہی تو فاتک نے سہولت سے اسے منع کرديا۔
“آج کے دن مجھے خاطريں کر لينے ديں۔ پھر تو آپ نے ہی چارج سنبھالنا ہے” فاتک کی بات پر وہ خاموش ہی رہی۔
اسی خاموشی سے واپس لاؤنج ميں جا کر بيٹھ گئ۔
کجھ دير بعد ہی فاتک نے اسے اور وشہ کو ڈائننگ ہال ميں آنے کا اشارہ کيا۔
اندر داخل ہوتے ہی ڈم لائٹس ميں ٹيبل پر موجود کھانے کے ہمراہ کينڈلز جلتی ديکھ کر مناب دم بخود رہ گئ۔
“ہمارا فرسٹ کينڈل لائٹ ڈنر” فاتک اسکے پيچھے کھڑا اسکے کان ميں گنگنايا۔
مناب لب بھينچ کر آگے بڑھی۔
ايک کرسی گھسيٹ کر فاتک نے اسے بيٹھنے کا اشارہ کيا۔
دوسری کرسی وشہ کے لئے گھسيٹی
آخر ميں خود ايک کرسی پر ايسے براجمان ہوا کہ اسکے دائيں جانب مناب تھی تو بائيں جانب وشہ۔
اس کا گھر آج حققت ميں گھر لگ رہا تھا۔
فاتک نے مختلف ڈشز مناب کی جانب بڑھائيں۔ اور خود وشہ کی پليٹ ميں کھانا ڈال کر اسے کھلانے لگا۔
مناب خاموش تھی۔ کيا ہورہا تھا دل کو کيسے ہر چيز بدل رہی تھی ہر احساس جاگ رہا تھا۔ وہ نہيں جانتی تھی يہ سب کيوں اور کيا ہورہا تھا۔
“پاپا کھانے کے بعد آپ ہميں گانا سنائيں گے” وشہ نے چاولوں سے انصاف کرتے ہوۓ مزے سے فرمائش کی
“نہيں بيٹے ميں اب گانا نہيں گاؤں گا” فاتک کے انکار پر مناب نے جھٹکے سے سراٹھا کر اسکی جانب ديکھا۔
فاتک اسکی نظروں کو خود پر مرکوز ہوتے محسوس کرچکا تھا۔
گردن موڑ کر لمحہ بھر کے لئے اسکی حيران آنکھوں ميں ديکھا۔
“ميں سنگنگ چھوڑ چکا ہوں۔ اب ہر وہ چيز چھوڑ دوں گا۔ جو مجھے آپ سے اور وشہ سے دور لے جانے کا سبب بنے گی۔” فاتک نے گردن جھکا کر چاولوں سے بھرا چمچ منہ ميں ڈالتے ہوۓ کہا۔
مناب کا کباب کھاتا ہاتھ وہيں رہ گيا۔
يہ مہربانياں مناب کو خوش کرنے کی بجاۓ سناٹوں ميں لے جارہی تھيں۔
وہ کيوں اتنا سب کچھ کر رہا تھا۔
کيا مداوا تھا يہ مناب کی ہر تکليف کا۔۔۔
کيا کوئ يوں بھی کسی کے لئے ديوانہ ہو سکتا ہے کہ اپنے جنون کو ختم کرلے۔
_____________________________________
کھانے سے فارغ ہوتے ہی مناب نے فاتک کے منع کرنے کے باوجود تمام برتن خود کچن ميں رکھے۔ چاۓ کا پانی رکھ کر کريم اور فاتک دونوں کو کچن سے باہر نکالا۔
اسی لمحے غازی اسکی گاڑی چھوڑنے کے لئے آچکا تھا۔
“کيسے ہو” بھائ سے بغلگير ہوا۔ فاتک کے چہرے سے ظاہر ہوتی سچی خوشی ديکھ کر غازی نے اسکے چہرے پر ہميشہ يہ مسکراہٹ قائم رہنے کی دل سے دعا مانگی۔
