Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas NovelR50675 Teri Yaad Ki Anch (Episode 11)
Rate this Novel
Teri Yaad Ki Anch (Episode 11)
Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas
رات ميں مناب کے پاس ليٹے وشہ کو بے اختيار آج کی ساری جھڑپ ياد آئ۔ صبغہ کی تنبيہہ بھی ياد آئ۔
“ممی۔۔۔ميرے پاپا کيسے دکھتے ہيں” وشہ کی بات پر مناب کے مسکراتے لب پہلے تو سکڑے اور پھر وہ سناٹے ميں چلی گئ۔
وشہ نے آج تک ايسا کچھ کبھی نہيں پوچھا تھا۔
“آ۔۔آپ کو کس نے کہا ہے يہ۔۔۔آپکے ذہن ميں يہ بات کیسے آئ” مناب نے لہجہ کو ہموار رکھنے کی پوری کوشش کی۔
“ميری بہت سی فرينڈز کے پاپا انہيں لينے آتی ہيں۔ سب اتنے اچھے لگتے ہيں۔ آج میری فرينڈ بھی پوچھ رہی تھی کہ تمہارے پاپا کہاں ہيں” وہ معصوميت سے اسے بتانے لگی۔
“تو آپ نے کہنا تھا نہ کہ وہ بہت دور ہوتے ہيں۔ کسی اور ملک ميں” اسکے بال سہلاتے مناب کو خود پر ضبط رکھنا مشکل ہوگيا۔
“وہ پوچھ رہی تھی کہ کون سے ملک ميں؟” ايک اور سوال۔ مناب نے تحمل برقرار رکھنے کی کوشش کی۔
“ہيں ايک ملک ميں آپ بڑی ہوگی تو بتاؤں گی۔ ابھی تو آپکو ملکوں کے اتنے نام نہيں پتہ” وہ اسے ٹالنے والے انداز ميں بولی۔
“نہيں ممی۔ مجھے پتہ ہے، سری لنکا، آسٹريليا، امريکہ، جاپان، جرمنی، چائنا، انگلينڈ اور بھی بہت سارے ” وہ اسے جھٹلانے کو اپنی بات پر زور دے کر بولی۔
مناب اسے بہلاتے ہوۓ يہ بھول گئ تھی کہ وشہ اپنی عمر کے بچوں کی نسبت بہت بہتريں حافظہ کی مالک ہے۔
“وشہ اب خاموشی سے سو جاؤ۔ صبح سکول جانا ہے” آخر مناب کو بات ہی بدلنی پڑی۔
“ممی آپ وشہ کی پاپا سے بات کروائيں۔ کيا وہ جہاں رہتے ہيں وہاں فون نہيں ہوتے۔” اب کی بار مناب کا ضبط جواب دے گيا۔
“وشہ سٹاپ اٹ ناؤ۔۔پاپا کی رٹ بند کرو۔۔ خاموش ہوکر اب سو جاؤ” اسے جھڑک کر وہ غصے ميں اٹھی لائٹ آف کرکے واپس بيڈ پر آکر ليٹی۔
وشہ ہقا بقا ماں کو دیکھ رہی تھی جو کبھی اس سے اس لہجے ميں نہيں بولی آج اسے کيا ہوا ہے۔
مناب کے واپس ليٹنے تک وشہ کی آنکھوں ميں آنسو ہلکورے لينے لگے۔
اپنے لہجے کی سختی کا منا کو بخوبی اندازہ ہوگيا۔
افسوس سے اسے روتے ديکھا۔
اسکے پاس ليٹتے اسے بازوؤں ميں بھر گئ۔ خود بھی رو پڑی۔
“آئم سوری وشہ” اسکے آنسو صاف کرتے اسے پيار کيا۔ دل کسی نے بڑی زور سے مسلا۔
“آئم سوری ٹو ممی” اسکے ساتھ لپٹتے روئ روئ آواز نے مناب کے دل کو اور بھی دکھی کرديا۔
“آپ کے پاپا امريکہ ميں ہوتے ہيں۔ اور جلد ہی وہ آپکو کال کريں گے۔ بس اب يہ مت پوچھنا کہ کب؟” مناب نے تھک ہار کر اسے ايک حقيقت بتائ۔
اور يہ سب ہونا تھا۔ جيسے جيسے وہ بچوں ميں گھلے ملے گی ان سب سوالوں کے جواب مناب کو دينے ہوں گے۔
وہ جانتی تھی۔ مگر يہ نہيں جانتی تھی کہ اتنی جلدی اسے ان سب سوالوں کا جواب دينا ہوگا۔
وہ اپنی سوچوں ميں گم تھی۔
وشہ سسکياں ليتے کب سوئ۔ وہ اپنے تانے بانوں ميں محسوس ہی نہ کرسکی۔ يوں ہی ليٹے ليٹے نجانے کتنا وقت گزر جاتا کہ موبائل کی بپ نے اسکی توجہ ختم کی۔
You are so beautiful and true
Dark and lovely
You stole my heart
Before I could give it away
I’ve said enough
Wed the lonely
Set the fires alive
Cut the tethers off my body;
Untie me
They said you love was the water
It’s deep in the water
Let it all go
I was alone in the water
Where did you go?
I’m pushing away
I keep pushing away, love
I’m pushing away, love
Don’t leave me or let me go
I’m begging you to come back
Hold me and I will stay
پھر وہی نمبر ۔۔۔پھر دل کو ہلادينے والی تحرير۔
“يہ شخص مجھے پاگل کردے گا” وہ جھنجھلائ۔
کيوں وہ اس نمبر کو بلاک نہيں کرپارہی تھی وہ نہيں جانتی تھی۔
“تم اتنے ڈھيٹ کيوں ہو۔ اپنا وقت کہيں اور برباد کرو” نجانے کيوں غصے ميں ميسج لکھ کر سينڈ کرديا۔
“وقت۔ حالات اب ہی تو ٹھيک ہوۓ ہيں۔” دوسری جانب سے آنے والے ميسج نے اسے چونکايا۔
“کون ہو آخر؟” نجانے کيوں وہ گھبرائ۔ فورا نمبر کو کنٹيکٹ لسٹ ميں ايڈ کرکے واٹس ايپ پر اسی نمبر کو چيک کيا کہ شايد کوئ تصوير کوئ کليو مل جاۓ۔
“ابھی اپنی تلاش ميں ہوں۔ جب مل جاۓ گی۔ بتادوں گا” عجيب سا جواب کہيں سے نہيں لگ رہا تھا کہ کوئ وقت گزاری کے لئے يہ سب کر رہا ہے۔ کيونکہ ايسے لوگوں کے جواب اس طرح کے نہيں ہوتے۔
واٹس ايپ پر دیکھا تو نمبر واٹس ايپ پر تو آرہا تھا مگر ڈی پی کوئ نہيں تھی۔
اب کی بار جواب دينے کی بجاۓ مناب نے موبائل ہی پاور آف کرديا۔ وشہ کے قريب ليٹ کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔
________________________
اگلے دن مناب کو کريم کے ساتھ اسکا گھر ديکھنے جانا تھا۔ تاکہ اسے گھر کے ہر کمرے کے حساب سے بتا سکے کہ کہاں کس چيز کی ضرورت ہے۔
ايک کينال پر بنا وہ گھر مناب کو چونکا گيا۔
کہيں بھولی بسری ايک ياد ذہن کے پردے پر لہرائ۔
“فاتک مجھے يہ اس طرح ہٹ کے سٹائل والے گھر بہت پسند ہيں۔”
“اچھا”
“اگر کبھی ہم نے اپنا گھر بنايا نا تو ايسا ہی گھر ليں گے”
“ضرور ميری جان جلد ہی”
اسکے تخيل سے نکل کر مناب کو لگا اسکی ايک نامکمل خواہش مکمل صورت لئے اسکے سامنے کھڑی ہے۔
دل کيا يہيں سے واپس چلی جاۓ۔
“ميم آر يو اوکے” اسکے قريب کھڑے کريم نے اسکی پيلی پڑتی رنگت دیکھ کر پريشانی سے کہا۔
“آئ۔۔ آئم اوکے ” بمشکل خود کو سنبھال کر گھر کے اندر بڑھی۔
خوبصورت سے گيراج کے بائيں جانب لان تھا جہاں سے سيڑھياں اندرونی حصے کی جانب جاتی تھيں۔
مناب ہر سوچ جھٹک کر اندر کی جانب بڑھی۔
ڈبل سٹوری پر بنا يہ گھر حقيقت ميں کسی بھی آرائش کے بنا بھی بے حد خوبصورت تھا۔
ہر کمرے کو گھوم پھر کر ديکھنے کے ساتھ ساتھ وہ لسٹ تيار کرواتی جارہی تھی۔
اسکے ساتھ کمپنی کے دو اور لڑکے آۓ ہوۓ تھے۔ جو مناب کی بتائ ہوئ چيزوں کی لسٹ تيار کررہے تھے۔
“بس کل سب سے پہلے آپ ڈرائينگ روم کی چيزيں لے آئيے گا وہيں سے ہم سيٹنگ کا کام شروع کريں گے۔” ايک ڈيڑھ گھنٹے ميں سب کام وائنڈ اپ کرکے وہ آخری نگاہ اس گھر پر ڈال رہی تھی کہ موبائل پر اسی نمبر کا میسج آيا۔
مناب نے اپنے سامنے کھڑے کريم اور دونوں ورکرز کی جانب ديکھا جو حساب کتاب کی باتيں کررہے تھے۔
ايک جانب ہوکر مناب نے ميسجز کھولے۔
“ويلکم ہوم” مناب وہ ميسج پڑھ کر اندر تک کانپ گئ۔
“صفدر چليں” کپکپاتے ہاتھوں سے موبائل بند کرکے ساتھ آۓ لڑکے کو پکارا۔
“جی ميم” اسکے لئے مزيد اس گھر ميں کھڑے رہنا ناگزين ہوگيا۔
يہ ميسج تھا يا کسی جانب اشارہ۔
مناب کتنی ہی دير اسکے اثر سے باہر نہ آسکی۔
____________
وشہ اگلے دن صبغہ کو مناب کی ناراضگی کے متعلق بتا چکی تھی۔ کہ کيسے اسکے پوچھنے پر مناب برہم ہوئ۔
“آپکو پتہ ہے ممی نے مجھے بہت ڈانٹا۔ وہ ايسے کبھی نہيں بوليں۔ ميں آئندہ پاپا کے بارے ميں ان سے کچھ نہيں پوچھوں گی” وہ منہ پھلا کر بولی۔ صبغہ جيسے ہی کالج سے آئ۔ وشہ نے ناز سے کہلوا کر اسے فون ملايا۔
“ابھی اسی وقت ميرے پاس آئيں” وہ ضذی لہجے ميں بولی۔
“کيا ہوا ہے؟” صبغہ تھکی ہونے کے باوجود فريش لہجے ميں بولی۔ وشہ کے لئے وہ ہر دم ہر کام کرنے کو تيار رہتی تھی۔
“بس مجھے بہت غصہ آيا ہوا ہے۔ آپ ميرے پاس آجائيں نا خالہ” لجاجت بھرا لہجہ صبغہ کا دل پگھلا گيا۔
“آرہی ہوں۔ کھانا کھا سکتی ہوں۔۔۔اگر آپکی اجازت ہو ميڈم” وہ اسے تنگ کرنے والے انداز ميں بولی۔
“نہيں۔ ميں آپکا ويٹ کررہی ہوں آپ ميرے ساتھ لنچ کريں” اسکے معصوم سے حکم پر صبغہ مسکراۓ بنا نہ رہ سکی۔
“اوکے باس” فون رکھتے ہی وہ ماں کو بتا کر واجد کے گھر کی جانب چل پڑی۔
ابھی وہ اپنی مطلوبہ گلی ميں مڑنے ہی لگی تھی کہ کسی گاڑی کے ہارن کی آواز آئ۔ وہ اپنی طرف سے سڑک کے کنارے پر ہی چل رہی تھی۔ پھر بھی تھوڑا سا اور سڑک سے ہٹ گئ۔
پھر سے ہارن کی آواز آئ۔
اب کی بار اسے لگا کسی نے جان بوجھ کر تنگ کرنے کے لۓ ہارن بجايا۔
غصے سے مڑی يہ سوچ کر کے کوئ خوامخواہ تنگ کررہا ہے۔
مگر مڑتے ہی غازی کی گاڑی دیکھ کر سارا غصہ جھاگ کی طرح بيٹھ گيا۔
غازی بھی گاڑی بند کرکے مسکراتا ہوا باہر آيا۔
“آپ کہاں مٹر گشت کررہی ہيں؟” اسے ديکھتے ہی غازی کا موڈ يکدم فريش ہوگيا۔
“آپ کے ہی گھر جارہی ہوں” وہ بھی ريليکس ہو کر غازی سے بات کرنے لگی۔
بلو جينز کی پاکٹس ميں ہاتھ ڈالے ايک شرارت بھری نظر صبغہ کے چہرے پر ڈال کر بائيں جانب موجود گھروں کو ديکھا۔
“ايک ہی بار کيوں نہيں آجاتيں۔ روز کا آنا جانا تو ختم ہوگا” بات کے اختتام پر نظر پھر سے اس چہرے پر ٹھہری جس سے نظر ہٹانے کو غازی کا دل کبھی نہيں مانتا تھا۔
صبغہ کا متغير چہرہ اسکی نظر سے پوشيدہ نہيں رہا۔
وہ جتنا اسکی اور اپنی باتوں سے دور بھاگتی تھی وہ اتنا ہی صرف اسے اور خود کو ڈسکس کرتا تھا۔
مناب کے مسئلے کے بعد اسے لگتا تھا کہ مرد اور عورت کا يہ رشتہ بس ايک رشتہ ہے۔ احساسات اور محبت سے اس کا يقين اٹھ سا گيا تھا۔
پھر غازی کی محبت پر يکدم يقين کيسے آتا۔
اور غازی يہ بات سمجھ نہيں پارہا تھا۔
کچھ بھی کہے بنا صبغہ نے قدم بڑھائے۔
“ميں گھر ہی جارہا ہوں ميرے ساتھ ہی چليں” اسے قدم بڑھاتے ديکھ کر وہ سنجيدگی سے بولا۔
“اٹس اوکے ميں چلی جاؤں گی” وہ اس سے بھی زيادہ سنجيدہ اور سپاٹ لہجے ميں بولی۔
“مجھے آپ سے کچھ بات بھی کرنی ہے” وہ اسے ہر صورت روکنا چاہتا تھا۔
“مجھے کوئ بات نہيں سننی” وہ يہی سمجھی کہ اپنے متعلق کوئ لايعنی گفتگو کرے گا۔
“کيا ہوجاتا ہے آپ کو يکدم” دو قدم بڑھا کر اسکا راستہ روکا۔
“يہی تو ميں آپ سے بھی پوچھنا چاہتی ہوں۔ آپکو کيا ہو جاتا ہے يکدم۔ اچھی بھلی بات کرتے ۔۔ايکدم عجيب باتيں شروع کرديتے ہيں” وہ اسی کے انداز ميں مگر کسی قدر چڑ کر بولی۔
“ميرا خيال ہے دنيا کا آٹھواں عجوبہ ہمارا کپل ہے۔” اب اسے صبغہ کے رويے کی سمجھ آئ۔ تنے اعصاب ڈھيلے پڑے۔
“بھائ آپ سے ملنا چاہتا ہے۔ اب کيسے اور کہاں ملنا ہے يہ آپ ڈيسائيڈ کريں گی۔ يہی سب کہنے گھر آرہا تھا۔ سوچا تھا آکر آپکو ساتھ لوں گا اور بھائ سے ملنے چليں گے” سنجيدگی سے اسے اپنے آنے کا مقصد بتايا۔
“پھوپھو کو ميں نے کال کردی تھی کہ مجھے کچھ شاپنگ کرنی ہے صبغہ کو ساتھ لے جارہا ہوں” وہ جو ابھی اسے ٹالنے کا سوچ رہی تھی اسکی جلد بازياں پر کڑھنے کے سوا کچھ نہ کرسکی۔
“ايک تو آپ نا۔۔۔کسی دن مجھے گھر والوں کی نظروں ميں مشکوک کرکے رہيں گے۔” منہ بنا کر اسکی گاڑی کی جانب بڑھی۔ جانتی تھی جب تک بيٹھے گی نہيں وہ ٹلے گا نہيں۔
غازی نے سر کھجاتے سکون کا سانس لیا۔
“ليکن مجھے پہلے وشہ سے ملنا ہے۔ اسی نے بلايا تھا”جيسےہی اس نے گاڑی سٹارٹ کی صبغہ نے اپنا پروگرام واضح کيا۔
“اوکے مسز” غازی کے منہ سے نکلنے والے الفاظ نے صبغہ کو گويا چار سو چاليس والٹ کا کرنٹ لگايا۔
گھور کر اسکی جانب ديکھا جس کی دبی دبی مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ اس نے چڑانے کے لئے کہا ہے۔ “
_____________________
کچھ ہی دیر ميں وہ وشہ کے پاس تھی۔
وشہ اسے مناب اور اپنی رات کی تمام گفتگو تبا چکی تھی۔
“اچھا چلو کوئ بات نہيں ميں ممی کو منع کروں گی کہ آئںدہ آپکو ايسے نہيں ڈانٹيں” صبغہ، ناز اور غازی تينوں وشہ کی باتيں سن رہے تھے۔
تينوں ايک ہی درد سے گزر رہے تھے۔
“اچھا وشہ مجھے بتاۓ کہ اس نے ابھی فاتک سے ملنے جانا ہے” صبغہ نے آہستہ آواز ميں گويا رازداری سے کہا۔
“سچ ميں” وشہ تو خوشی سے پھولے نہيں سماۓ۔
“ہاں ۔۔۔ابھی ابھی” وہ اسکے جوش کو اور بھی ہوا دينے لگی۔
“ٹھيک ہے” وشہ فورا تيار ہوگئ۔
“تم اسے فاتک کے پاس لے کر جارہے ہو” ناز کو اب غازی کی اس وقت آمد کی وجہ سمجھ آئ تھی۔
“جی” غازی نے تائيد کی۔
“چلو وشہ۔ اچھا مامی ہم تھوڑی دير تک آۓ” صبغہ ناز سے ملتے ہوۓ بولی۔
“ميں مجبور ہوں۔ اپنی اولاد سے مل بھی نہيں سکتی۔ اسے کہنا ماں ترس رہی ہے اسکے لئے” آنسو بہاتے ناز نے حسرت سے کہا۔ صبغہ نے بے اختيار انہيں خود سے لگايا۔
“آپ فکر مت کريں ان شاءاللہ جلدہی وہ وقت بھی آۓ گا جب فاتک بھائ آپکے ساتھ ہوں گے۔ پليز آپ روئيں نہيں” محبت سے انکے آنسو پوچھتے صبغہ انہيں تسلی دلانے لگی۔
غازی نے بڑی مشکل سے خود پر ضبط کيا۔ وشہ کا ہاتھ تھامے باہر نکل گيا۔
تھوڑی دير بعد صبغہ بھی گاڑی ميں آکر بيٹھی۔
وشہ پيچھے بيٹھی تھی جبکہ وہ غازی کے ساتھ فرنٹ سيٹ پر تھی۔
ايک نظر غازی کے پتھريلے چہرے پر ڈالی۔ کچھ لوگ سنجيدہ بالکل اچھے نہيں لگتے۔ صبغہ کو بھی اس وقت ايسا ہی محسوس ہوا۔ اس لمحے احساس ہوا کہ اس کا نٹ کھٹ اور شرارتيں کرتا روپ ہی اسکے دل کو بھاتا ہے۔
اسکی سنجيدگی سے دل بيٹھا جارہا تھا۔ وہ جو اسکے التفات کا منتظر رہتا تھا۔
اس وقت اسکی خود پر پڑتی نظروں سے بالکل انجان تھا۔
صبغہ نے يکدم اسکے اسٹيئرنگ پر رکھے مضبوط مردانہ ہاتھ پر اپنا نازک ہاتھ رکھ کر جيسے اسکے اندر کی آگ کو بجھانا چاہا۔
غازی نے چونک کر اسکی اس حرکت کو نہ صرف ديکھا۔ بلکہ ہاتھ سے ہوتی حيران نظريں صبغہ کے چہرے کو ناسمجھی کے انداز ميں ديکھ رہی تھيں۔
“آپ ايسے بالکل اچھے نہيں لگتے۔” دل کی بات زبان پر لاتے آج اسے جھجھک محسوس نہيں ہوئ۔
غازی نے قہقہہ لگايا۔ مگر يہ قہقہہ بے حد کھوکھلا تھا۔
صبغہ خوفزدہ ہوئ۔
“ايسے نہيں ہنسيں۔”
“اوکے سوری۔۔۔ويسے ميں تو آپ کو کسی بھی طرح اچھا نہيں لگتا۔ چاہے ايسے ہو يا ويسے” نجانے کس کی تلخی وہ صبغہ پر نکالنے لگا۔
“ميں نے کب کہا کہ آپ اچھے نہيں ہيں” وہ حيرت سے بولی۔
غازی نے اسکے ہاتھ کے نيچے سے اپنا ہاتھ نکال کر اسکے ہاتھ پر وہی ہاتھ رکھ کر گويا اب اسے صحيح سے قيد کيا۔
“اچھا ہونے اور اچھا لگنے ميں فرق ہوتا ہے” غازی کو باتوں ميں گھمانا واقعی مشکل تھا صبغہ کو آج اندازہ ہوا سب صحيح کہتے ہيں وشہ نے ذہانت غازی سے چرائ ہے۔
وہ واقعی بہت ذہين تھا۔
“ميں نے آپکو کبھی کہا کہ آپ برے ہيں”
اسکے بات کو ايک نيا رخ دينے پر غازی مسکراۓ بغير نہ رہ سکا۔
“ميں پھر کہوں گا کہ برا ہونے اور لگنے ميں فرق ہے۔ لوگ اچھے برےنہيں ہوتے يہ ہمارے مزاج پر ہے کہ کون اچھا لگے اور کون برا۔ ميں آپکو اچھا لگتا ہی نہيں اور يہ بات آپکے چہرے سے عياں ہوتی ہے۔ تو جب اچھا نہيں لگتا تو برا ہی لگوں گا نا” وہ بھی لوگوں کو گھيرنے کے فن سے آشنا تھا۔
“اگر برے لگتے تو آپکی ہر تکليف پر يوں منہ اٹھا کر مدد کرنے نہ پہنچ جاتی” وہ منہ پھلا کر بولی۔
‘آخر وہ کيوں اظہار کروانے پر تلا تھا۔ کيا اظہار ضروری ہے؟’ وہ سوچ کر رہ گئ۔
“اوکے ۔۔۔ساری عمر اسی حسرت ميں گزر جاۓ گی کہ ميری بيوی کبھی تو اظہار کرے” اسکے دل ميں چھپی بات سمجھتے غازی نے بے اختيار امڈنے والی ہنسی روکی۔
_____________________
“ہيلو غزنوی۔ کيسے ہو” فاتک تيار ہونے کے ساتھ ساتھ غزنوی سے فون پر بات کرنے ميں مصروف تھا۔ غازی نے تھوڑی دير پہلے ہی اسے ميسج کيا تھا کہ وہ وشہ اور صبغہ کو لے کر اسکے ہوٹل کے قريبی ريسٹورينٹ ميں آرہا ہے۔ وہ بھی جلدی پہنچے۔
“بالکل ٹھيک۔ شکر ہے تمہاری آواز تو سننے کو ملی” غزنوی خوشگوار لہجے ميں بولا۔
“يار پاکستان ميں ميرے کنسرٹس ارينج کروانے ہيں تو آج سے ہی يہ کام سٹارٹ کردو۔ نائ آئم اويل ايبل فار ورک” رات ميں ہی وہ فيصلہ کر چکا تھا کہ اب اسے منظر عام پر آنا ہے۔
“آر يو شيور” غزنوی خوشگوار حيرت ميں مبتلا ہوا۔
“ہاں يار۔ پريٹی شيور۔ مگر اس سے پہلے ايک انٹيرئير ڈيزائننگ کی کمپنی ہے انکا اينول فنکشن ہے کل۔ ميں انکے فنکشن ميں ايز آگيسٹ جانا چاہتا ہوں۔” فاتک نے اصل مقصد بيان کيا۔ اب اس لکا چھپی کے کھيل کو وہ ختم کرنا چاہتا تھا۔
“اوکے تم مجھے انکی ڈيٹيل سينڈ کرو ميں بات کرتا ہوں” غزنوی نے فورا ہامی بھری۔
“تھينکس ميں ابھی ڈيٹيلز فورڈ کرتا ہوں” فون بند کرکے کمپنی کا نام ايڈريس اور اونر کا کنٹيکٹ نمبر غزنوی کو سينڈ کرتے ہی وہ نکل کھڑا ہوا۔
جاری ہے
