Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas NovelR50675 Teri Yaad Ki Anch (Episode 10)
Rate this Novel
Teri Yaad Ki Anch (Episode 10)
Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas
ماں ہيں وہ ميری” کچھ دير ضبط کرنے کے بعد فاتک نے ماں کے کندھے پر بازو حمائل کرتے انہيں اپنے قريب کرتے باپ سے سرد لہجے ميں کہا۔
“تم جيسے بے غيرت کے ميں منہ بھی نہيں لگنا چاہتا۔ اتارو ميری پوتی کو اور جہاں سے آۓ ہو وہيں دفع ہو جاؤ” وشہ کو اسکے ہاتھ سے کھينچتے ہوۓ اب کی بار انکی سرد نگاہيں نفرت سے فاتک کو ديکھ رہی تھيں۔
“آپکی پوتی ہے تو ميری بيٹی ہے۔ دنيا کا کوئ شخص مجھے اپنی ماں اور اپنی بيٹی سے ملنے سے روک نہيں سکتا۔ آپ بھی نہيں” وشہ کو اپنے بازوؤں ميں بھينچتے ہوۓ وہ سردمہری سے بولا۔
“کون سی بيٹی۔۔۔يہ صرف مناب کی بيٹی ہے تمہارا اس سے کوئ تعلق نہيں” کاٹ دار لہجے ميں وہ اسے بہت کچھ باور کرواگۓ۔
“اس کی رگوں ميں جو خون ہے وہ ميرا ہے۔ دنيا کی کوئ ليبارٹری کوئ عدالت مجھے چیلنج نہيں کرسکتی۔” جتاتی نظروں نے واجد کے غصے کو بڑھاوا ديا۔
“بيچ چوراہے ميں نہ کھڑے ہوتے تو تمہار منہ توڑ ديتا۔ اسے نيچے اتارو اور تم ۔۔۔تمہيں تو ميں گھر چل کر بتاؤں گا” فاتک کو حکم ديتے ناز کو جن کھاجانے والی نظروں سے انہوں نے ديکھا انکی روح تک کانپ گئ۔
“فاتک تم ابھی جاؤ” انہوں نے فاتک سے التجا کی۔
“اماں” وہ کچھ کہنا چاہتا تھا مگر روتے ہوۓ وہ اسے ہاتھ سے خاموش رہنے کا اشارہ کرگئيں۔
فاتک نے وشہ کو گود سے اتارا۔
“ابھی تو ماں کے کہنے پر جا رہا ہوں۔ مگر بہت جلد اپنی بيوی اور بيٹی کو لينے آؤں گا۔ اب جب ميں منظر عام پر آچکا ہوں تو دير کيسی۔ مگر ياد رکھئيے گا اس بار آپکی کوئ دھمکی مجھ پر اثر نہيں کرے گی۔ آپ نے جتنا برا ميرے ساتھ کرنا تھا کرليا۔ اب اور نہيں” فاتک نے انہيں پھر سے بہت کچھ جتايا۔
اسکی بات پر کوئ بھی تاثر دئيے بنا وہ اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گۓ۔
فاتک نے فورا غازی کو کال کرکے صورتحال بتائ۔
“بھائ اب کيا ہوگا” وہ پريشان ہوا۔
“تم بس اماں کا دھيان رکھنا اور مجھے حالات بتاتے رہنا۔ بلکہ کوشش کرو کہ گھر آجاؤ۔ ديکھنا وہ اماں کے ساتھ کوئ زيادتی نہ کرجائيں۔” پريشان سا وہ گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔ جس وجہ سے وہ اتنے سال دور رہا۔ آج وہی ڈر حقيقت بن کر اسکے سامنے کھڑا تھا۔
“آپ پريشان مت ہوں ميں نکلتا ہوں” غازی اسے تسلی دے کر شوروم سے نکل آيا۔
________________________
غازی جيسے ہی گھر پہنچا اندرونی حصے کی جانب جاتے اسے واجد کے گرجنے کی آواز آئ۔
لاؤنج ميں وہ غصے سے ادھر سے ادھر پھرتے قہر برساتی نظروں سے ناز کو ديکھ رہے تھے۔ وشہ ايک جانب دبکی بيٹھی تھی۔
“کب سے وہ يہاں ہے اور کب سے تم مل رہی ہو” رک کر لال انگارہ آنکھيں ناز پر ٹکائيں۔
“کچھ ہی دن ہوۓ ہيں۔ جب۔۔جب آپ مناب اور وشہ ۔ وشہ کے کمپيٹيشن کے لئے گۓ تھے۔” وہ منمناتی آواز ميں بوليں۔ آنسو قطار در قطار آنکھوں سے گر رہے تھے۔ ايک جانب بيٹا تھا تو دوسری جانب سر کا سائيں۔ کس کس کے لئے روتيں۔
“اور تم۔۔ تم نے مجھے بتانا بھی گوارا نہ کيا ۔جبکہ ميں نے تمہيں منع کيا تھا کہ کبھی وہ رابطہ کرے تو تم نے اس سے رابطہ نہيں کرنا۔ مر گيا ہے وہ ہمارے لئے” لہجے کی کڑواہٹ پر ناز نے بے اختيار آنکھيں سختی سے ميچ ليں۔
“کتنی آسانی سے کہہ دیا آپ نے۔ ماں مری اولاد پر کبھی صبر نہيں کرتی يہ تو پھر ميری جيتی جاگتی اولاد ہے۔ ميری عمر بھی اسے لگے۔ اتنے بڑے بول مت بوليں۔ اس سے غلطی ہوئ۔۔”
“غلطی۔۔۔۔کسی کی زندگی وہ برباد کرگيا اور تم کہہ رہی ہو غلطی۔ عورت ہو کر عورت کے دکھ کو نہيں سمجھ رہيں” وہ تاسف بھری نظروں سے انہيں ديکھ کر رہ گۓ۔
“اس کا دکھ سمجھا اسی لئے مامتا کا گلا گھونٹ ليا۔ چھ سال۔۔چھ سال۔۔ اسکی دوری برداشت کی۔”
“خاموش ہوجاؤں” وہ گرجے۔ غازی بے اختيار آگے بڑھا۔ اب خاموش رہنا ناگزير ہوگيا تھا۔
“بابا۔۔بس کريں پليز” ماں کی جانب بڑھتے باپ کو ٹوکا۔
“اوہ۔۔آؤ تم بھی۔۔ تم بھی يقينا يہ سب جانتے ہوگے۔ واہ ايک ميں ہی پاگل ہوں اس گھر ميں جس کی ناک کے نيچے يہ سب ہوا اور وہ بے خبر ہے” انکی کڑواہٹ کچھ اور بڑھی يہ جان کر کہ انکے دونوں اپنوں نے ان سے اتنی بڑی بات چھپائ۔
“تو کيا کرتے۔۔۔آپکی طرح سفاک ہو جاتے۔ وہ ہمارا حصہ ہے۔۔کسی دارالامان سے اٹھايا تھا کيا آپ نے اسے؟” پہلی بار زندگی ميں وہ باپ سے اونچی آواز ميں بولا۔
“ميں تم سب کو يہ باور کروا دوں۔ آج کے بعد اس ٹاپک پر کوئ بات نہ ہو۔ خاص کر مناب کے سامنے ذکر تک نہ ہو۔ اور نہ ہی تم ميں سے کوئ اب اس سے ملے گا۔ جہاں چھ سال گزارے ۔۔۔وہيں باقی زندگی بھی گزارے۔ اور جس کو وہ حق پر لگتا ہے۔ وہ بے شک ميرا گھر چھوڑ کر اسی کے پاس دفعان ہوجاۓ۔” ان دونوں کو وارن کرتے وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھے۔
“غازی” ناز بے بس ہو کر بس اتنا ہی کہہ سکيں۔
“سب ٹھيک ہو جاۓ گا آپ فکر نہيں کريں۔ اللہ کوئ رستہ نکالے گا” غازی نے ان کا سر سينے سے لگاتے تھپک کر کہا۔ محبت سے ان کے سر پر بوسہ ديا۔
________________
شام کی چاۓ بنا کر وہ کتابيں لے کر بيٹھی ہی تھی کہ موبائل پر غازی کا نمبر ديکھ کر حيران ہوئ۔
جس دن سے ان کے گھر گئ تھی اسکے بعد سے نہ اسکی کال آئ تھی نہ ميسج۔
“السلام عليکم” موبائل کان سے لگاتے ہی سلامتی بھيجی۔
“وعليکم سلام کيسی ہيں” سنجيدہ سا لہجہ صبغہ کو کسی گڑ بڑ کا احساس دلا گيا۔
“الحمداللہ۔۔خيريت۔۔پريشان ہيں” وہ فکرمندانہ لہجے ميں بولی۔
غازی نہ چاہتے ہوۓ بھی ہولے سے مسکرايا۔
“ميری آواز سے ميری فکر کا اندازہ لگانے والی ميری محبت سے انکاری ہے۔ ايسے ہی کوئ کسی کی آواز سن کر اسکے حال کا اندازہ نہيں لگا ليتا” نجانے کيوں اس لمحے صبغہ پر بے اختيار پيار آيا۔
“ہوا کيا ہے؟” اسکی باقی باتوں کو نظر انداز کرکے اس نے پريشانی سے پوچھا۔ غازی نے الف سے لے کر يے تک سب مسئلہ کہہ سنايا۔
“بہت پريشان تھا سمجھ نہيں آرہی تھی کس سے بات کروں۔ صوفشاں کو کال کرتا تو وہ بھی پريشان ہوجاتی۔ بس اسی لئے آپکو ڈسٹرب کيا” ياسيت بھرے لہجے نے صبغہ کو بے حد پريشان کرديا۔
“ڈسٹرب کی کيا بات ہے آپکے گھر ميری بہن ہے اس کی زندگی سے جڑا ہر مسئلہ ميرا بھی اتنا ہی مسئلہ ہے جتا کا آپکا يا آپکے کسی اور فرد کا” وہ حقيقت پسندانہ انداز ميں بولی۔
“ہاں۔بالکل آپ کا تو صرف بھابھی کی وجہ سے ہی ہم سے رشتہ ہے نا”نجانے کيوں غازی کو اسکا يہ انداز بے حد دکھ پہنچاگيا۔ اسکی اگلی کوئ بھی بات سنے بنا وہ کال کاٹ گيا۔
صبغہ حيرت زدہ رہ گئ۔
کال بيک کی۔
چند بيلوں کے بعد غازی نے اٹھا لی۔
“جی” نروٹھا انداز صبغہ کو مسکرانے پر مجبور کرگيا۔
“ميں نے کہيں پڑھا تھا کہ جب انسان محبت کرتا ہے تو وہ چھوٹا سا بچہ بن جاتا ہے۔ ضد اس کا خاصا بن جاتی ہے اور وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر لگا ليتا ہے۔ آپ بھی اس وقت چھوٹے بچے لگے ہيں”
“ايسی فضوليات آپ نے ہی لکھی ہوں گی” وہ ابھی بھی ناراض لہجے ميں بولا۔
“اوکے سوری۔ مجھے اتنا آؤٹ اسپوکن نہيں ہونا چاہئيے۔ ليکن ميں کيا کروں ميں جو محسوس کرتی ہوں کہہ ديتی ہوں۔” وہ معذرت خواہانہ انداز ميں بولی۔
“کسی کا دل رکھ لينے ميں آپکے پيسے نہيں لگتے”
“ہاں مگر دل رکھنے اور جھوٹ بولنے ميں فرق ہوتا ہے آپ چاہتے ہيں کہ ميں جھوٹ بولوں” وہ پھر سے صاف گو انداز اپنا گئ۔
“آپ کہنا چاہ رہی ہو کہ آپ ميرے لئے اور اس رشتے کے لئے کچھ محسوس نہيں کرتی” غازی خطرناک حد تک سنجيدگی سے بولا
“پتہ نہيں۔۔ اب اگر کچھ سچ کہوں گی تو آپکو برا لگے گا۔ خير مجھے چھوڑيں۔ يہ بتائيں کہ اب کيا ہوگا۔ ماموں نے تو دوٹوک فاتک بھائ کو معاف نہ کرنے کا عنديہ دے ديا ہے۔ اور آپا سے ہم کب تک چھپائيں گے۔” وہ بات کا رخ ہی موڑ گئ۔
“يہی تو مسئلہ ہے ميں اور فاتک بھائ نہيں چاہتے کہ جس طرح وہ بابا کے سامنے آۓ ہيں بھابھی کے سامنے بھی آئيں” وہ اپنی پريشانی کی اصل وجہ بتانے لگا۔
“اور وشہ ۔۔۔۔وشہ سے بات کی آپ نے اسے يقينا سمجھ تو نہيں آئ ہوگی۔ ليکن اگر وہ ساری لڑائ آپا کو بتا دے تو انہيں تو سمجھ آجاۓ گی نا کہ فاتک بھائ آچکے ہيں”
“اوہ اس طرف تو ميں نے سوچا ہی نہيں” غازی کو يکدم احساس ہوا کہ اس سب ميں وہ وشہ کو اگنور کرگيا ہے۔
“آپ آسکتی ہيں ابھی؟” غازی نے جھجھکتے ہوۓ پوچھا۔
“ابھی؟” وہ ہچکچائ۔
“اگر کوئ ايشو ہے تو کوئ بات نہيں۔ ميں آجاتی ہوں۔”
کچھ سوچ کر اس نے حامی بھر لی۔
“تھينکس” غازی نے تشکر سے کہا۔
“شکريہ کی ضرورت نہيں۔” بيڈ سے اٹھ کر سليپر پاؤں ميں اڑاتے دوپٹہ ليا۔ فون کان سے لگا تھا۔
“آپ سے تو اب سوچ سمجھ کر ہی بات کرنی پڑے گی۔ جتنی خطرناک آپ ہيں۔ آپ کا کيا پتہ کب کون سی بات کا طعنہ دے کر اجنبيت کی ديوار کھڑی کرديں۔” وہ شکوہ کر گيا۔
“اتنی بھی ہيبت ناک نہيں” وہ برا منا گئ۔
“ہيبت ناک ميں نے ہر گز نہيں کہا۔ اب آپ اپنے بارے ميں زيادہ بہتر جانتی ہيں تو ميں کيا کہہ سکتا ہوں” اس کا ساتھ دينے پر وہ بے حد ريليکس ہوگيا تھا۔
“اچھا بس اتنا بھی مت پھيليں۔ خداحافظ” اسے ٹوک کر جلدی سے فون رکھ ديا۔
فون بند کرکے جلدی سے الماری کی جانب بڑھی ابھی جوتے نکال کر بدل ہی رہی تھی کہ غزنوی کا ميسج آگیا۔
“ميں لينے آجاؤں” اس محبت بھرے پيغام پر اس کا دل بری طرح دھڑکا۔
“مجھے آپکے گھر کا راستہ بہت اچھے سے آتا ہے” نجانے کيوں پہلی بار جان بوجھ کر اسے چڑايا۔ اس کا ری ايکشن سوچ کر ہنسی آئ۔
“جانتا ہوں بس ميرے دل تک آنے کا راستہ نہيں آتا” وہ سر تھام کر رہ گئ۔
“اف اس شخص کو کتنی فلمی گفتگو آتی ہے”
“ڈائيلاگز بہت ازبر ہيں آپکو” چادر درست کرکے خود کو آئينے ميں ديکھا۔ گرے ٹراؤذر پر بليک اور گرے کرتا بليک شال کندھوں پر ڈالے بليک ہی کارڈيگن پہنے اپنے ادھ کھلے کمر تک آتے گھنگريالے بالوں کو کيچر سے آزاد کرکے پھر سے کيچر ميں مقيد کيا۔ ڈريسنگ پر پڑی صبايا کی بوتل پکڑ کر گردن پر اسپرے کيا۔ ا
اور بس اسکی تیاری مکمل تھی۔
قدم دروازے کی طرف بڑھاۓ۔
کچھ ہی دير ميں وہ واجد کے گھر کا گيٹ کراس کرکے اندر کی جانب بڑھی۔
لاؤنج ميں ہی غازی وشہ کو گود ميں بٹھاۓ يقينا اسکا دھيان ہٹانے کے لئے ادھر ادھر کی باتيں کر رہا تھا۔
“ہيلو وشہ جانی” چہکتی آواز ميں وشہ کو پکارا۔
وشہ اب تک واجد کے برہم ہونے کے زير اثر تھی۔
گردن موڑ کر بس ايک نظر صبغہ کو دیکھا۔
غازی کی گود سے اتر کر اسکی جانب مرجھاۓ چہرے کے ساتھ بڑھی۔
صبغہ کے دل کو کچھ ہوا۔ جب سے مناب نے جاب شروع کی تھی۔ وشہ کو زيادہ تر صبغہ نے ہی سنبھالا تھا۔
جب ناز کو تنگ کرنے لگتی وہ فورا صبغہ کے پاس بھيج ديتيں۔ صبغہ کی جان تھی اس ميں۔
“کيا ہوا ميرے بچے کو” اس کے قريب آتے دوزانو اسکے سامنے بيٹھی۔ وشہ بس خاموشی سے اسکے گرد بازو لپيٹ کر اسکے کندھے پر سر رکھ گئ۔
صبغہ نے سامنے بيٹھے غازی کی جانب نگاہ کی۔ جس کی آنکھوں ميں تفکر تھا۔
“دادا جانی نے دادو کو آج بہت ڈانٹا ہے۔ اور اور۔۔آپکو بتاؤں ميں اپنے فيورٹ سنگر سے آج ملی۔ داداجانی نے انہيں بھی ڈانٹا”وشہ سمجھ نہيں پارہی تھی کہ کيسے سب بتاۓ۔ اسے تو واجد کے غصے کی ہی سمجھ نہيں آرہی تھی۔
“ہاں مجھے آپکے چاچو نے بتايا تھا۔” صبغہ اسے گود ميں اٹھاۓ صوفے پر غازی سے فاصلے پر بيٹھی۔
“دادا جانی کو اتنا غصہ کيوں آيا کيا وہ ممی کی طرح دادا جانی کو بھی اچھے نہيں لگتے۔ اور پتہ ہے وہ مجھے اپنی بيٹی کہہ رہے تھے۔ وہ کيوں؟” وشہ بچی تھی مگر يادداشت اسکی عام بچوں سے کہيں زيادہ تيز تھی۔
غازی اور صبغہ ايک دوسرے کو ديکھ کر رہ گۓ۔
“وہ تو انہوں نے ويسے ہی کہا ہے۔ ميں بھی تو آپکو اپنا بيٹا کہتی ہوں۔ ليکن ميں تو آپکی خالہ ہوں نا ممی تو نہيں نا” صبغہ کے لئے اسے سمجھانا مشکل ہوگيا تھا۔
“اچھا وشہ آپ نے ممی کو نہيں بتانا يہ سب ديکھو ممی پریشان ہو جائيں گی نا۔ وہ آفس ميں بھی اتنا کام کرتی ہيں اور پھر تھکی ہوتی ہيں۔ وشہ تو نہيں چاہتی نا کہ وہ ممی کو پريشان کرے؟” صبغہ بھی جانتی تھی کہ اسے کيسے ٹريک پر لانا ہے۔
“نہيں تو”وشہ نے جھٹ اسکی تائيد کی۔
“پھر وشہ نے ممی کو کچھ بھی نہيں بتانا۔ نا ہی فاتک سے ملنے کا اوکے” صبغہ کی وہ بات ويسے بھی بہت جلدی مانتی تھی۔
“اوکے خالہ” وہ جھٹ مان گئ۔
“خالہ سنڈے کو وشہ کو پارک بھی لے کر جائيں گی” صبغہ نے اسے ايک اور لالچ ديا۔
“ڈن” اب تو وشہ نے بالکل بھی کچھ نہيں کہنا تھا۔
غازی کی چاہت بھری نظريں اسکا حصار کئے ہوۓ تھيں۔ اسکی معاملہ فہمی اور بردباری کا قائل ہوگيا۔
“آپ چاچو کے پاس بيٹھو ميں دادو سے مل کر آتی ہوں” وشہ کو گود سے اتارتے وہ کھڑی ہوئ ساتھ ہی غازی کی جانب دیکھا۔ اسکی چاہت بھری نظروں کو نظرانداز کيا۔
“مامی کہاں ہيں؟” سنجيدگی سے غازی کو دیکھا۔
“اپنے روم ميں ہيں”
“سنو” غازی نے اسے خاموشی سے پلٹتے دیکھ کر پکارا۔
“جی”
“تھينکس” وہ حقيقتا اس کا مشکور تھا۔ اسکے ايک بار کہنے پر وہ یوں اسکے دکھ کم کرنے پہنچ جاۓ گی اسے بالکل بھی اميد نہيں تھی۔
“ميرے اس گھر سے بہت اہم وابستگی ہے اور اس وابستگی کی وجہ سے مجھے يہاں کی ہر تکليف اسی طرح محسوس ہوتی ہے جس طرح آپ کو۔ شکريہ کہہ کر ميرے احساسات کا مذاق مت اڑائيں”وہ بے حد سنجيدگی سے بولی۔ غازی ہولے سے مسکرايا۔ عورت واقعی ايک معمہ ہوتی ہے۔
کبھی وہ اس سے ايسی اجنبيت دکھاتی کہ وہ حيران رہ جاتا۔
اور اب اتنی اپنائيت کے اسکے لئے يقين کرنا مشکل۔
“احساسات کی جگہ محبت کہہ دیتيں تو زيادہ بہتر تھا” اسکی گہری مسکراہٹ پہلی بار صبغہ کو بھی مسکرانے پر مجبور کرگئ۔
“آپ کبھی سيريس ہوسکتے ہيں” کچھ چڑ کر بولی۔
اپنی طرف سے اسے شرمندہ کرنا چاہا يا پھر اسکی غلط وقت پر دکھاۓ جانے والی محبت کی شدت پسندی کا احساس دلانا چاہ۔
“بخدا ميں تو بالکل سيريس ہوں۔ اور يہ يقين دلا دوں کہ ايک ميں ہی تو سيريس ہوں” وہ بات کو کہاں سے کہاں لے گيا۔
صبغہ نے خود کو کوسا۔
“حد ہے” اس سے زيادہ اسےسمجھ نہ آئ کہ اسکی شرارت کا کيا جواب ديتی۔
اب کی بار تيزی سے مڑ کر ناز کے کمرے کا رخ کيا۔
اندر آئ انہيں بيڈ پر بيٹھے روتے ديکھا۔
شديد تکليف ہوئ۔ ناز نے اسے اور مناب کو ہميشہ اپنی اولاد کی طرح چاہا تھا۔ اور وہ دونوں بھی ان سے بے حد محبت کرتی تھيں۔
بے اخيار ان کے قريب بيٹھتے انکے ہاتھ تھامے وہ اور شدت سے رو پڑيں۔
“پليز مامی ايسے مت کريں۔ ماموں بہت غلط کررہے ہيں۔ سب کے ساتھ۔” وہ دھيمے مگر پرتاسف لہجے ميں بولی
يکدم آنسو صاف کئیے۔
“تم۔۔تم کيسے آئيں” انہيں خيال آيا کہ فاتک کی آمد کی تو انکے اور غازی کے سوا اور کسی کو خبر نہيں۔ اپنی نند کی فاتک کے لئے نفرت سے وہ آگاہ تھيں اور يہ بھی تو اسی کی بيٹی ہے۔
“آپ کيوں رو رہی ہيں ميں اچھے سے جانتی ہوں۔ غازی نے مجھے فاتک بھائ کی آمد اور آج ہونے والے مسئلے کے بارے ميں بتايا ہے۔ آپ پريشان نہ ہوں امی اور بابا کی طرح ميں فاتک بھائ سے اب ہر گز نفرت نہيں کرتی” انکے شکوک و شبہات دور کئيے۔
“تمہيں کب پتہ چلا اور ۔۔اور تم نے مناب کو” اب انہيں ايک اور فکر لاحق ہوئ۔
“نہيں ميں نے آپا کو کچھ نہيں بتايا۔ اگر اسے بتايا ہوتا تو وہ طوفان نہ لے آئ ہوتی۔ بے فکر رہيں جب تک فاتک بھائ نہيں چاہيں گے۔ ميں کسی سے ذکر تک نہيں کروں گی۔ اور آپ ہی تو کہتی ہيں صبغہ بہت اچھی رازدان ہے۔ تو پھر اب کيوں پريشان ہيں” محبت سے انکے آنسو صاف کئیے۔
“خدا گواہ ہے صبغہ ميں نے مناب کو کبھی ضوفشاں سے کم نہيں جانا۔ اسکی تکليف پر اب تک اپنی ممتا کا گلا گھونٹ رکھا تھا۔ مگر کيا کروں ماں ہوں۔ کيسے ۔۔کيسے اسے اپنی زندگی سے نکال دوں۔۔يہ ميرے بس ميں نہيں۔” وہ پھوٹ پھوٹ کر روئيں۔ اور رو تو صبغہ بھی رہی تھی۔ کس کس کے درد پر روتی۔
محبت سے ناز کو اپنے ساتھ لگايا۔
“ميں جانتی ہوں مامی۔ آپ نے تو ممانی ہو کر ہميں اپنے بہن بھائيوں حتی کے ماموں کے بہن بھائيوں کے بچوں کو اتنی محبت دی تو آپ اپنی اولاد سے محبت کی نفی کيسے کر سکتی ہيں۔ اور يقين مانيں اب تو احساس ہوتاہے کہ آپکے ساتھ بھی کم زيادتی نہيں ہوئ” انہيں تسلی دلاتے وہ حقيقت ميں انکی تکليف کو شدت سے محسوس کررہی تھی۔
“بتاؤ ميں کيا کروں” وہ جيسے تھک گئيں تھيں۔
“آپ فکر نہيں کريں۔ ميں اور غازی آپکے ساتھ ہيں۔ اور جيسے ہی فاتک بھائ سب کے سامنے آئيں گے۔ ميں بابا کو انکے لئے قائل کرنے کی پوری کوشش کروں گی۔ آپکو پتہ ہے کہ وہ بہت معاملہ فہم ہيں۔ يقينا سمجھ جائيں گے۔ آپ پريشان نہ ہوں” انکا سر کندھے سے لگاتے تھپتھپايا۔
” اور مناب کو بھی ميں سمجھاؤں گی” توقف کے بعد انہيں ايک اور تسلی دی۔
“تھينک يو صبغہ۔۔ ” وہ تشکر سے بوليں۔
” بيٹی کہہ کر اجنبی بھی کرديا” وہ مصنوعی خفگی سے بولی۔
“تو واقعی بيٹيوں سے بڑھ کر ہے۔ ميرا غازی بہت خوش نصيب ہے” اسکے کندھے سے سر اٹھاتے محبت سے اسکا چہرہ تھاما۔ انکی بات پر غازی کی کچھ دیر پہلے کی جانے والی شرارتی گفتگو یاد کرکے لمحہ بھر کے لئے اسکا چہرہ لال ہوا۔
“اب آپ نے رونا نہيں۔ اللہ بہتر کرے گا۔ جب وہ دوبارہ فاتک بھائ کے دل کو ہماری جانب کھينچ کر لا سکتا ہے تو وہی اللہ ان سب لوگوں کے دلوں ميں بھی انکی محبت پھر سے پيدا کرے گا۔ دلوں سے جڑے رشتے جتنی بھی دور چلے جائيں انکی محبت اور شدت ختم نہيں ہوسکتی۔” وہ سر ہلا کر رہ گئيں۔”
