Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas NovelR50675 Teri Yaad Ki Anch (Episode 09)
Rate this Novel
Teri Yaad Ki Anch (Episode 09)
Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas
عجيب پاگل انسان ہے” مناب نے جھنجھلا کر موبائل اٹھايا اس سے پہلے کہ وہ ميسج ڈيليٹ کرتی صبغہ نے اسکے ہاتھ سے موبائل اچک ليا۔
“کون ہے کس کو کوس رہی ہو” شرارتی آنکھيں اسکے چہرے پر گاڑھيں۔
“پتہ نہيں يار کون پاگل ہے۔ دو دن سے مسلسل انگلش نظميں بھيج رہا ہے۔” وہ دوبارہ سے سلاد بنانے لگی۔ مگر خاصی جھنجھلائ ہوئ تھی۔
صبغہ نے مناب سے نظر ہٹا کر موبائل پر کھلے ميسج کو پڑھنا شروع کيا۔
All I knew this morning when I woke
Is I know something now, know something now I didn’t before
And your smile in the back of my mind making me feel like
I just want to know you better,
Cause all I know is we said hello
And your eyes look like coming home
All I know is a simple name, everything has changed
All I know is you held the door
You’ll be mine and I’ll be yours
Come back and tell me why
I’m feeling like I’ve missed you all this time
And meet me there tonight
And let me know that it’s not all in my mind
“آر يو شيور آپا کہ يہ صرف کوئ اجنبی ہے؟” صبغہ کو فاتک کا ذکر چھيڑنے کا يہ موقع سب سے بہترين لگا۔
“کيا مطلب۔۔؟” اس نے الجھن بھری نظروں سے صبغہ کو ديکھا۔ الجھ تو وہ گئ تھی۔
“مجھے تو لگتا ہے يہ کوئ گزارش ہے۔ کوئ التجا” کندھے اچکا کر موبائل واپس کاؤنٹر پر رکھتے اس نے مناب کی الجھن ميں اضافہ کيا۔
“کيافضول باتيں کررہی ہو۔ غازی سے پوچھ کر يہ نمبر تو بلاک کرتی ہوں۔ ناک ميں دم کر ديا ہے اس بندے نے” تيزی سے ہاتھ چلاتے اس نے اپنی اور صبغہ دونوں کی سوچ کو گويا جھٹلانے کی سعی کی۔
“کبھی کبھی کچھ لوگوں سے دور بھاگنے کے ہم جتنے جتن کرليں۔ قسمت ہميں انہی کے اور قريب کرديتی ہے” صبغہ نے ذيزرٹ پر چاکليٹ کرش کرکے اسکی تہہ بچھاتے لاپرواہ لہجے ميں کہا۔
“جيسے کے ميں اور آپ۔ زندہ مثاليں ہيں” اسکی بات اچکتے ہوۓ غازی نے کچن ميں آتے وشہ کو گود ميں اٹھايا۔
صبغہ کی دھڑکنوں کی رفتار بڑھی۔
“يہ تو ہے” مناب نے شرارت سے صبغہ کے ہوائياں اڑتے چہرے کو دیکھ کر کہا۔
“وشہ کل جب ميں نے کال کی تھی تو کس کے گانے بڑے زور و شور سے سر رہی تھيں” صبغہ نے غازی کے کہے پر عمل کيا۔
“ميرا فيورٹ سنگر؟” وشہ نے آنکھيں گھما کر گويا سوچا۔
“وہ ہيں نا فاتک۔۔۔” وشہ نے چٹکی بجاکر پرجوش انداز ميں کہا۔
اس سے پہلے کہ مناب کوئ تنبيہہ کرتی داؤد اور حفصہ کے آنے کا شور مچ گيا۔
باقی سب تو نکل گۓ مگر فاتک کا نام وشہ کے منہ سے اتنی محبت سے سننے پر وہ کتنے لمحے اپنی جگہ سے ہل نہ سکی۔
صبغہ کی باتيں۔۔ اسکے سوال۔۔اور پھر وشہ سے جان بوجھ کر فاتک کا پوچھنا اور پھر يہ ميسجز۔۔۔مناب کو سب کچھ مل کر پريشان کر گيا۔
_______________________
آج جيسے ہی وہ آفس پہنچی باس نے اسے انٹرکام پر اپنے روم ميں آنے کا کہا۔
“کوئ کسٹمر آۓ ہيں” اسکے ساتھ والی چئير پر بيٹھی کنزہ نے اطلاع دی۔
وہ حيران ہوتی اپنا رائيٹنگ پيڈ اٹھاتی باس کے روم کی جانب بڑھی۔
ناک کرکے ‘کم ان’ کی آواز پر اندر داخل ہوئ۔ باس کے سامنے کرسی پر وہ جو کوئ بھی تھا مناب کی جانب اسکی پشت تھی۔
“آئيں مناب۔ پليز ہيو آ سيٹ” مناب کو اس شخص کے ساتھ والی سيٹ پر بيٹھنے کا اشارہ کيا۔ مناب نے تھينکس کہتے کرسی سنبھالی۔
“مناب يہ ہمارے نيو کلائنٹ ہيں کريم” محسن درانی (باس)نے مناب کے ساتھ بيٹھے شخص کی جانب اشارہ کرکے تعارف کروايا۔
“ہيلو” مناب پروفيشنل انداز ميں اسکی جانب ديکھ کر بولی۔
“انکے باس دبئ سے آئے ہيں۔ کچھ مصروفيت کی بنا پر وہ آ نہيں سکے۔ تو انہوں نے آکر ہم سے ہماری خدمات حاصل کرنے کی درخواست کی ہے۔ انکے باس نے کو کسی نے ہماری کمپنی اور خاص طور سے آپ کا نام ريفر کيا تھا۔ تو يہ اپنے گھر کے انٹيرئیر کے لئے آپکو ہائر کرنا چاہتے ہيں” محسن درانی نے تفصيل سے اس شخص کے وہاں ہونے کی وجہ بتائ۔
“اوکے سر آپ ڈيٹيلز پوچھ ليں۔ اور پيپر ورک کرليں۔ پھر ميں ايک وزٹ کرنے کے بعد باقی کی ڈيٹيلز انہيں بتادوں گی” مناب نے حامی بھرتے کہا۔
“ليں سر آپکا کام ہوگيا ہے۔ اوکے مناب آپ سيٹ پر جائيں۔ ميں باقی ڈيٹيلز آپ سے بعد ميں ڈسکس کرتا ہون” اہم بات ہوتے ہی محسن درانی نے مناب کو اسکی سيٹ پر جانے کا کہا۔
“اوکے سر” مناب تيزی سے اٹھ کر واپس اپنے کيبن مين آکر کام شروع کرنے لگی
__________
آج جيسے ہی وہ آفس پہنچی باس نے اسے انٹرکام پر اپنے روم ميں آنے کا کہا۔
“کوئ کسٹمر آۓ ہيں” اسکے ساتھ والی چئير پر بيٹھی کنزہ نے اطلاع دی۔
وہ حيران ہوتی اپنا رائيٹنگ پيڈ اٹھاتی باس کے روم کی جانب بڑھی۔
ناک کرکے ‘کم ان’ کی آواز پر اندر داخل ہوئ۔ باس کے سامنے کرسی پر وہ جو کوئ بھی تھا مناب کی جانب اسکی پشت تھی۔
“آئيں مناب۔ پليز ہيو آ سيٹ” مناب کو اس شخص کے ساتھ والی سيٹ پر بيٹھنے کا اشارہ کيا۔ مناب نے تھينکس کہتے کرسی سنبھالی۔
“مناب يہ ہمارے نيو کلائنٹ ہيں کريم” محسن درانی (باس)نے مناب کے ساتھ بيٹھے شخص کی جانب اشارہ کرکے تعارف کروايا۔
“ہيلو” مناب پروفيشنل انداز ميں اسکی جانب ديکھ کر بولی۔
“انکے باس دبئ سے آئے ہيں۔ کچھ مصروفيت کی بنا پر وہ آ نہيں سکے۔ تو انہوں نے آکر ہم سے ہماری خدمات حاصل کرنے کی درخواست کی ہے۔ انکے باس نے کو کسی نے ہماری کمپنی اور خاص طور سے آپ کا نام ريفر کيا تھا۔ تو يہ اپنے گھر کے انٹيرئیر کے لئے آپکو ہائر کرنا چاہتے ہيں” محسن درانی نے تفصيل سے اس شخص کے وہاں ہونے کی وجہ بتائ۔
“اوکے سر آپ ڈيٹيلز پوچھ ليں۔ اور پيپر ورک کرليں۔ پھر ميں ايک وزٹ کرنے کے بعد باقی کی ڈيٹيلز انہيں بتادوں گی” مناب نے حامی بھرتے کہا۔
“ليں سر آپکا کام ہوگيا ہے۔ اوکے مناب آپ سيٹ پر جائيں۔ ميں باقی ڈيٹيلز آپ سے بعد ميں ڈسکس کرتا ہون” اہم بات ہوتے ہی محسن درانی نے مناب کو اسکی سيٹ پر جانے کا کہا۔
“اوکے سر” مناب تيزی سے اٹھ کر واپس اپنے کيبن مين آکر کام شروع کرنے لگی
ابھی وہ اپنے کيبن ميں آئ ہی تھی کہ موبائل گنگنايا۔
مناب نے مصروف سے انداز ميں موبائل اٹھا کر ديکھا تو وہی انجان نمبر۔
Oh my love
Help me open my heart again
Tear it open let the rain fall in
Wash this hardness underneath my skin
Oh my love
Let me hear your voice come through
I wanna know the love inside of you
Make this dark heart believe in what is true
I know that in the dark there’s a fear of letting go
I know that in my heart that I fear what I don’t know
It’s hard to trust
When your hearts been broken times before
You pull the curtains and you lock the doors
Swear you’ll never go out anymore
مناب سر پکڑ کر بيٹھ گئ۔ آخر يہ کون اتنا ڈھيٹ ہے جسے نہ ميں جواب دے رہی ہوں اور پھر بھی۔
اس طرح کی نظميں۔۔۔
جب جب وہ اس انجان نمبر کا ميسج پڑھتی۔
اس کا دل ہر بار دھڑکتا
“شايد يہ کوئ گزارش ہے۔ کوئ التجا” صبغہ کی کہی بات پھر سے دماغ ميں گونجی۔
اور جو شبيہہ ذہن کے پردے پر ابھری وہ اسے سوچنا بھی نہيں چاہتی تھی اس کا ذکر تو بہت بعد کی بات تھی۔
“اب نہيں۔ اب کبھی بھی نہيں” اتنے سالوں بعد وہ آج پہلی بار فاتک کے ہيولے سے مخاطب ہوئ تھی۔
تکليف در تکليف تھی۔ آنکھيں آنسوؤں سے بھری چھلکنے کو بے تاب تھيں۔
“اب کچھ نہيں بچا” خود پر ضبط کرتے کپکپاتے ہاتھوں سے اس نمبر پر پہلی بار ميسج کرنے کا سوچا۔
“ہو از دس۔ وائے آر يو اريٹينگ می” ميسج سينڈ کرکے بھی وہ کتنی ہی دير ميسج کھول کر اسے تکتی رہی۔
ايک منٹ۔۔پانچ منٹ اور پھر دس منٹ بھی يوں ہی گزر گۓ مگر کوئ جوابی ميسج نہيں آيا۔
مناب نے تھک ہار کر سر سيٹ کی پشت سے ٹکايا۔
آنکھيں لمحہ بھر کو موند کر خود کو ريليکس کيا۔
اسی پل ٹون پر سے سنائ دی۔
جھپٹنے کے سے انداز ميں اس نے موبائل تھاما۔
” سيکرٹ ايڈمائرر” مناب ميسج پڑھ کر چڑ سی گئ۔
شايد دل کے گوشے ميں کہيں اسی کا نام پڑھنے کی خواہش تھی۔
موبائل ايک جانب ڈال کر کام ميں مصروف ہوگئ۔ ہر سوچ جھٹک دی۔
__________________
وہاں سے نکلتے ہی کريم نے فاتک کو فون کيا۔
وہ بھی جيسے انتظار ميں ہی بيٹھا تھا۔
“ہاں کريم” بے تابی سے فون اٹھاتے اسی بے تابی سے پوچھا۔
“سر کام ہوگيا ہے۔ ميڈم کل گھر وزٹ کريں گی اور پھر اسکے مطابق چيزوں کی لسٹ بتائيں گی۔ اگلے دن سے کام شروع ہوجاۓ گا۔” کريم کی اطلاع پر اس نے شکر کا سانس بھرا۔
اپنے گھر کی سجاوٹ وہ گھر کے اصل مکين کے علاوہ کسی اور سے کرواتا۔ سوال ہی پيدا نہيں ہوتا تھا۔
جو حالات ان کے بيچ تھے ان کے سبب مناب اسکے گھر ميں آنے کی روادار نہ ہوتی کجا کہ سجاوٹ۔
مگر اب يوں منظر عام پر آئے بنا اس نے دوسرا راستہ اختيار کيا تھا مناب سے اسکے اپنے ہی گھر کی سجاوٹ کروانے کا۔
“تھينک يو کريم”وہ حقيقت ميں اس سچے بندے کا شکرگزار تھا جس نے ہميشہ اس کا ساتھ دياتھ بغير کسی غرض کے۔
“سر آپ شکريہ نہ کہا کريں” وہ اسے ٹوک گيا۔ جس طرح اسکی فيملی کی ڈيتھ کے بعد فاتک نے اسکی مدد کی اور اسکے بعد سے اسے اپنا پی اے اپائنٹ کرکے اپنے ساتھ ساتھ رکھتا تھا۔ کريم ساری زندگی اس کا يہ احسان بھول نہيں سکتا تھا۔
وہ اسکی فيملی کے متعلق تو کچھ نہيں جانتا تھا۔ مگر دل سے دعا نکلتی تھی کہ اسکی جو بھی مشکليں ہيں وہ آسانيوں ميں بدل جائيں۔
“چلو ٹھيک ہے واپس آؤ۔ مجھے ضروری کام سے نکلنا ہے” اسے ہدايت ديتے فون بند کيا۔
________________________
“السلام عليکم۔ اماں کيسی ہيں” کريم کی کال بند کرنے کے فورا بعد اس نے ناز کو کال کی۔
“وعليکم سلام ميں ٹھيک ہوں تم کيسے ہو” ناز نے محبت بھرے لہجے ميں پوچھا۔
“بالکل ٹھيک۔ کيا آپ دوپہر کے بعد وشہ کو گھر کے پاس والی مارکيٹ لا سکتی ہيں” اپنی بيٹی سے ملنے کے لئے بھی اسے کيسے کيسے جتن کرنے پڑ رہے تھے۔ کبھی کبھی قسمت اور حالات ہميں کس موڑ پر لے آتے ہيں کہ جہاں ہميں اپنے اہم رشتوں سے ملنے کے لئے بھی وقت اور حالات ديکھنے پڑتے ہيں۔
“ہاں وہ سکول سے آجاۓ تو پھر ميں لے آؤں گی” انہوں نے فورا حامی بھر لی۔
“تھينکس اماں” محبت سے ماں کا شکريہ ادا کرتے وہ حقيقت ميں اس رشتے کی اصل حقيقت سے اب واقف ہوا تھا۔ بے لوث اور صلہ کی تمنا کئے بنا ماں ہميشہ اولاد کو بس دئيے ہی جاتی ہے۔ کبھی لينے کی خواہش نہيں کرتی۔
________________________
شام ميں اسکے مقرر کئے ہوۓ ٹائم پر ناز وشہ کو لئے قريبی شاپنگ پلازہ ميں پہنچ چکی تھيں۔
فاتک پہلے سے ان کا منتظر تھا۔
وشہ نے اسے ديکھتے ہی خوشگوار حيرت کا اظہار کيا۔
“ہيلو مائ پريٹی ڈول” اسی دن ای طرح ہڈی اور گلاسز ميں چہرہ چھپاۓ لہجے ميں محبت سموۓ وشہ کو اپنے مضبوط بازوؤں ميں بھر کر اٹھايا۔
“آپ کو کيسے پتہ ميں يہاں آئ ہوں” وہ اب بھی حيرت زدہ تھی۔
“بس ديکھ لو۔۔ميں نے اپنے ميجک سے پتہ کر ليا کہ ميری وشہ اس وقت کہاں ہے جیسے ہی مجھے پتہ چلا ميں آپ سے ملنے آگيا” اسکے پھولے گالوں پر پيار کرتے اسے لگا اسکی کل متاع اسکے پاس ہے۔ اسے تھامے ماں سے ملا۔ ہميشہ کی طرح انکے ماتھے پر بوسہ ديا۔ ناز کو لگا نجانے کتنے برسوں کی بے سکونی کو اب آرام آگيا ہو۔
“کيسا ہے” محبت سے اسکے وجيہہ چہرے پر ہاتھ پھيرتے پوچھا۔
“ٹھيک آپ کيسی ہيں” ماں سے عقیدت کچھ اور بڑھ گئ تھی۔
“بس زندگی گزار رہی ہوں تمہارے بغير” اداس لہجے نے فاتک کی تکليف ميں اضافہ کيا۔
“ان شاء اللہ جلد ہی ميں آپ سب کے درميان ہون گا” ماں کو يقين دلايا۔ جو سرد آہ بھر کر رہ گئيں
“آپ نے اپنی ممی کو میرے بارے ميں تو نہيں بتايا نا” کچھ خيال آنے پر وشہ سے پوچھا۔
“نہيں تو۔۔ ممی تو مجھے آپکی ويڈيوز بھی ديکھنے نہيں ديتيں۔” وہ معصوميت سے سچ بتا رہی تھی۔
مگر اس کا يہ سچ فاتک کا دل کس کس طرح چير رہا تھا يہ صرف وہی جانتا تھا۔
“ميری پرنسس کو پزا اچھا لگتا ہے يا برگر” اپنے لہجے کو بشاش رکھتے اس نے موضوع ہی بدل ديا۔
“ہممم۔” شہادت کی انگلی ٹھوڑی کے نيچے رکھ کےسوچنے کے سے انداز ميں وہ فاتک بے حد پياری لگی۔ بے اختيار ہوکر اسکے ماتھے پر لب رکھے۔
جو بھی تھا مناب نے اسکی تربيت يقينا بہت اچھی کی تھی۔
“جلدی سوچو” اسکے کان ميں دھيرے سے سرگوشی کی۔
“برگر” جھجھک کر اپنی پسند بتائ۔
“اتنا سوچ کر کيوں بتايا۔” فاتک کے پوچھنے پر وشہ نے ايک نظر ناز کے مسکراتے چہرے پر ڈالی۔ اسکی فرمائش جانتے ہی فاتک نے قدم سٹور کے داخلی دروازے کی جانب بڑھاۓ۔ نزديک ہی ميکڈونلڈ تھا اور وہ اسے وہاں لے جانا چاہتا تھا۔
“ممی کہتی ہيں دادا، دادی اور چاچو کے علاوہ کسی سے کوئ فرمائش نہيں کرتے” بردبار سے انداز ميں اس نے فاتک کو پتے کی بات بتائ۔
فاتک کے دل کو کسی نے مٹھی ميں ليا۔
“اور ۔۔۔اور پاپا۔۔۔ ان سے کچھ نہيں کہتے” بالآخر فاتک اسے اپنے رشتے کی کمی کا احساس دلانے لگا۔
“پاپا۔۔ميرے پاپا تو ہيں ہی نہيں” بڑے بھول پن سے وہ بولی۔ سيڑھياں اترتے وہ يکدم رکا۔ اسے لگا اسکے قدموں ميں جان نہ رہی ہو۔
“اللہ نہ کرے” ناز نے دہل کر ہاتھ دل پر رکھا۔
“يہ۔۔۔۔يہ آپکو کس نے کہا ہے”فاتک نے کچھ کہنے کی ہمت مجتمع کرتے اس سے پوچھا۔
“مجھے دادا جانی نے کہا تھا۔ آپکو پتہ ہے ميں نے ابھی کچھ دن پہلے ہی ايک کمپيٹيشن ون کيا ہے۔ وہاں کسی نے پوچھا کہ اسکے فادر کہاں ہيں۔ تو دادا جانی نے کہا وہ نہيں ہيں۔ ليکن ممی تو مجھے کہتی ہيں وہ کہيں دور گۓ ہيں۔ جب ميں بڑی ہو جاؤں گی تب آئيں گے۔” وہ معصوميت سے فاتک کو بتانے لگی۔
جبکہ فاتک اور ناز دونوں کو يہ سن کر جيسے چپ لگ گئ۔
گاڑی کے دروازے پر ہاتھ رکھ کر ابھی وہ کھولنے ہی والا تھا کہ ايک گرجدار آواز اسے اپنے پيچھے سے سنائ دی۔
“ناز” آواز تھی کہ دھاڑ۔
فاتک اور ناز نے پيچھے مڑ کر ديکھا۔ دونوں ششدر رہ گۓ۔
_________________________
“غازی وہ عبداللہ گروپس نے جو آرڈر ديا تھا انکی فائل کہاں ہے” واجد تيزی سے غازی کے آفس کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوۓ۔
“بابا وہ تو ميں کل گھر لے کر گيا تھا شايد وہيں رہ گئ ہے” کچھ توقف کے بعد وہ ڈرتے ڈرتے بولا۔
“يار کيا کرتے ہو۔ کوئ کام ڈھنگ کا نہيں تمہارا۔ وہ لوگ آرہے ہيں اور اس فائل ميں انکے آرڈرز سے متعلق سب ڈاکومنٹس تھے۔ اب کيا کريں” دو ڈرائيورز پہلے ہی کسی کا سامان ڈراپ کرنے گۓ ہوۓ تھے۔
“ميں لے آتا ہوں بابا” غازی نے جلدی سے اپنی خدمات پيش کيں۔
“نہيں رہنے دو۔ ايس اينڈ کے والے بھی آرہے ہيں۔ اور ان کا کام تمہی ہينڈل کررہے ہو۔ تمہارا يہاں ہونا ضروری ہے ميں جا کر لے آتا ہوں” کچھ سوچتے انہوں نے جلدی سے پروگرام طے کيا۔ اسکی کچھ بھی سنے بنا گاڑی کی چابی پاکٹ ميں چيک کرتے ہوۓ باہر نکل گۓ۔
تيزی سے ڈرائيو کرتے وہ گھر کی جانب جارہے تھے۔ ابھی گھر کے قريب بنی مارکيٹ کے پاس پہنچے ہی تھے کہ نظر بے اختيار بائيں جانب اٹھی۔
جھٹکے سے بريک لگائ۔
بے يقينی سے سامنے کا منظر ديکھا۔
ناز اور وشہ ۔۔۔فاتک کے ہمراہ تھيں۔
کچھ دير انہيں يہ يقين کرنے ميں لگی کہ آيا جو وہ ديکھ رہے ہيں وہ صحيح ہے يا غلط۔
گاڑی کو پھر سے سٹارٹ کرکے سڑکے کے کنارے روکی۔
گاڑی سے اتر کر تيزی سے ان کی جانب بڑھے۔
غصے اور بے يقينی سے برا حال تھا۔
“ناز” آواز دھاڑ کی صورت ان دونوں تک پہنچی۔
دونوں نے مڑ کر بے يقينی سے ديکھا۔
“تم۔۔۔تم اس خبيث کے ساتھ ہو۔ ميری اجازت کے بغير۔ تمہيں ہمت کيسے ہوئ” فاتک کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے وہ صرف ناز سے مخاطب تھے۔
ناز تھر تھر کانپ رہی تھيں۔ وشہ بھی حيرت سے اپنے جان لٹانے والے دادا کا يہ سخت روپ پہلی بار ديکھ رہی تھی۔
جاری ہے
