Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Yaad Ki Anch (Episode 05)

Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas

“يہ ميری ترجيح نہيں انا کا مسئلہ بن گيا تھا۔ تم نہيں جانتے بابا نے کس کس طرح ميرے اس شوق کو لے کر مجھے کچوکے لگاۓ تھے۔ ميری ہمت جواب دے گئ اور ميں وہ قدم اٹھا بيٹھا جس نے مجھے بھيڑ ميں بھی اکيلا کر ديا۔ تم سوچ سکتے ہو ايسے انسان کی کيا حالت ہوگی۔ کہ ہزاروں مداح اسکے قريب ہوں اور اسے انکی محبت نظر نہ آۓ سنائ نہ دے۔ ميں کبھی کسی کو نہيں بتا سکتا کہ ميرے فينز جب میرے قريب آتے ہيں تو وہ ميرے لئيے کيا الفاظ بولتے ہيں۔ کون ميرے لئيے کيا تعريفی جملے بولتا ہے۔ ميں تو يہاں سے جانے کے بعد ايک روبورٹ بن گيا تھا۔” وہ اپنی تکليف اس پر آشکار کررہا تھا۔ وہی تو تھا جو ہميشہ اسکی ہر خوشی اور تکليف کو سنتا تھا۔ مگر آج وہ چاہتے ہوۓ بھی سننے کو تيار نہ تھا۔

“پليز۔۔۔بس کريں۔۔ميں پھر يہی کہوں گا کہ کسی پر يہ سب جتانا کوئ معنی نہيں رکھتا۔ کيونکہ يہ آپکی اپنی چوائس تھی۔ ہم سب نے آپکو سمجھايا تھا۔ منع کيا تھا کہ يہ پل دو پل کی خوشيوں ميں کچھ نہيں رکھا۔

مگر آپ نے تو ايسے بندوبست کرکے فرار کی راہ اختيار کی کہ کسی کو کچھ کہنے کا موقع تک نہ ديا” وہ سب الزام اس پر دھر رہا تھا۔

“ہاں ميں مانتا ہوں يہ ميری چوائس تھی۔ اسی لئے چھ سال بعد بھی معافی مانگنے اور سب کچھ سننے ميں خود آيا ہوں۔ کيونکہ ميں جانتا ہوں کہ ميں يہ سب ڈيزرو کرتا ہوں۔ مجھے تمہاری کسی تلخ بات پر کوئ شکوہ نہيں۔ مگر صرف ايک بات بتا دو۔ وہ بچی کون ہے جو کسی ايشيائ کمپيٹيشن ميں جيتی ہے اور مناب اور بابا اسکے ساتھ گۓ ہيں۔ وہ لوگ مناب کو اسکی ماں اور بابا کو اسکے دادا کيوں کہہ رہے تھے۔ ميں نے کچھ دن پہلے ہی ٹی وی پر ديکھا تھا اور بس تب ہی واپس آنے کا فيصلہ کيا۔ پليز غازی مجھے کوڑے مار لو۔۔ جو کہنا ہے کہہ لو۔ صرف يہ بتا دو کہ وہ بچی کون ہے؟” فاتک کی بے بسی اسکے ايک ايک لفظ سے جھلک رہی تھی۔

غازی نے ايک تمسخرانہ نگاہ اس پر ڈالی۔

“آپ کو اس سے کيا؟” غازی کے سوال پر وہ تڑپ کر رہ گيا۔

“ڈيم اٹ غازی وہ بيوی تھی ميری۔ميں اسے طلاق دے کر نہيں گيا تھا کہ تم لوگوں نے اسکی کسی اور سے شادی کردی۔۔ اور ۔۔۔اور کہيں تم۔۔ تم سے” مشتعل ہوکر بولتے جو خيال اسکے دماغ ميں بجلی کی مانند کوندا وہ فاتک کو صدمے سے دوچار کرگيا۔

“آپکی طرح بے غيرت نہيں ميں۔ کہ اپنی ماں اور بہن جيسی بھابھی سے۔۔۔” غازی اسکی سوچ پر نادم ہوا۔

“تو پھر وہ بچی کہاں سے آئ” وہ پھر الجھا۔

“خود سے پوچھيں ۔۔رخصتی کروائ تھی نہ آپ نے جانے سے پہلے۔۔اسے بيوی کی حيثيت دی تھی نا” غازی ہر سرا سلجھا رہا تھا۔

“تت۔۔تو کيا۔۔وہ ۔۔۔۔وہ ميری ب۔۔بيٹی ہے” فاتک ہکلا کر بولا۔ بے يقين نظروں سے غازی کو ديکھا۔ سمجھ نہ آيا خوشی کا اظہار کرے يا۔۔۔

“بدقسمتی سے” غازی دکھ بھرے لہجے ميں گويا ہوا۔

فاتک لڑکھڑا کر کرسی کا سہارا لے کر رہ گيا۔

____________________________

کچھ دن بعد فاتک نے گھر ميں مشہور کيا کہ اسے کچھ دنوں کے لئيے اسلام آباد جانا ہے۔ کسی کلائنٹ کے آفس کا انٹيرئير ديکھ کر اسکے حساب سے فرنيچر ڈيزائن کرنا ہے۔

“يہ کون سا کلائنٹ ہے؟” واجد خود حيران تھے۔ کہ کون ہے جن سے بالا ہی بالا فاتک بات چیت کرچکا ہے۔

اس وقت وہ سب رات کا کھانا کھا رہے تھے۔ سبھی ڈائيننگ روم ميں موجود تھے جب فاتک نے دو دن بعد اپنے اسلام آباد جانے کا اعلان کيا۔

“بابا ميں نے آپکو دکھائيں تو تھيں انکے آفس کی پکچرز” نجانے فاتک نے کس کے آفس کی پکچرز دکھا کر انہيں مطمئن کيا تھا۔

“اچھاٹھيک ہے۔ تم پھر غازی کو اپنے ساتھ لے جاؤ”وہ بھی اسکے باپ تھے۔ نجانے کيوں گڑ بڑ کا اندازہ ہورہا تھا۔

“بابا ميں کوئ دودھ پيتا بچہ تو نہيں کہ وہاں اکيلا جا کر گم جاؤں گا” انکی احتياط فاتک کو ہرگز پسند نہيں آئ۔

“اچھا اچھا۔۔۔کتنے دن کے لئیے جانا ہے” انکے پوچھنے پر اس نے کچھ لمحوں کے لئيے سوچا۔

“تين دن تو لگ جائيں گے” فاتک کی بات پر مناب کا نوالہ منہ تک لے جاتا ہاتھ لرزا۔

وہ تو اب اسکی چند لمحوں کی دوری برداشت کرنے کی اہليت نہيں رکھتی تھی۔ کجا کہ تين دن۔

اور پھر جس چيز سے انسان سب سے زيادہ خوفزدہ ہوتا ہے اور سوچتا ہے کہ وہ يہ کام کرنے کی ہمت کبھی بھی نہيں کرسکتا۔

قدرت اسے اسی چيز کے قريب لاتی ہے۔ اور يہی آزمائش ہے يہی امتحان ہے کہ ہم اپنے خوف کے ساتھ جيتے ہيں۔ ہميں ہر حال ميں اسے برداشت کرنا ہوتا ہے۔

جس لمحے وہ اپنی پيکنگ کررہا تھا مناب کا دل عجيب وہموں ميں گھرا تھا۔

نم آنکھوں سے وہ اسے ہر چيز پيک کرتے ہوۓ ديکھ رہی تھی۔

“کيا ضروری ہے کہ آپ ہی جائيں۔ غازی کو بھيج ديں” آخر جب اس سے رہا نہ گيا تو کہہ بيٹھی۔

فاتک سامان رکھنا ترک کرکے اسکی جانب ديکھا۔ جو بيڈ کے دوسرے کونے پر بيٹھی حسرت بھری نظروں سے اسکی جانب ديکھ رہی تھی۔

فاتک کو لگا اسکا دل کسی نے مٹھی ميں لے کر زور سے بھينچ ديا ہو۔

“مان کچھ دن کی ہی تو بات ہے۔ اور ويسے بھی غازی کو ابھی ان سب باتون کااتنا تجربہ نہيں ہے۔ وہ ڈيلنگ نہيں کرسکے گا” نظر چرا کر جھوٹ بولتے اسکا دل رو رہا تھا۔ مگر يہ آخری چانس تھا اسکے پاس کہ وہ خود کو منوا سکتا تھا۔ اسکے بعد اسے کوئ موقع نہيں ملنے والا تھا۔

غزنوی نے صاف لفظوں ميں کہا تھا “يہ آخری چانس ہے ميں مزيد لوگوں کے سامنے تمہاری وجہ سے ذليل و خوار نہيں ہوسکتا۔ جب جب۔۔تمہيں کنسرٹ ميں پرفارم کرنے کا موقع ديا تم نے کوئ نہ کوئ بہانے بنانے شروع کردئيے۔اگر يہ سب کرنا ہے تو ميں اس کے بعد تمہيں کسی کنسرٹ کی آفر نہيں کروں گا۔ ويسے بھی اس ميں ملک کی مايہ ناز کمپنيز کے ڈائريکٹرز ہوں گے۔ اگر تمہيں کوئ بھی پسند کرليتا ہے سمجھو اسکے بعد تمہاری کاميابيوں کا سفر شروع ہوجاۓ گا۔ ہاں اگر تم يہ چانس بھی مس کرديتے ہو تو پھر اس فيلڈ سے خود کو الگ کرلو۔

اور اسکے لئيے تمہيں دبئ جانا پڑے گا۔” فاتک کو غزنوی کے الفاظ ياد آۓ۔

“تين دن کے بعد ميں آپکے پاس ہوں گا۔ پليز مان اس طرح کرکے مجھے مشکل ميں مت ڈالو۔” فاتک بيگ بند کرکے اسکی جانب آتے۔ اسکے مقابل بيڈ پر بيٹھا۔ جو گود ميں دھرے اپنے ہاتھوں کو ديکھتے بے آواز رو رہی تھی۔

فاتک نے اسکا چہرہ اونچا کرکے اسکے آنسو سے تر چہرے کو پيار سے چھوا۔

مناب کی ہچکی بندھ گئ۔

“مجھے ايسا کيوں لگ رہا ہے۔ کوئ طوفان آنے والا ہے۔ کچھ بہت غلط ہونے والا ہے۔ ہم دونوں کسی آزمائش ميں مبتلا ہونے والے ہيں” فاتک کے ايک ايک نقش کو محبت اور حسرت سے ديکھتے وہ ٹوٹے ہوۓ لہجے ميں بولی۔

“آپکا وہم ہے يار ايسا کچھ نہيں ہوگا۔ ٹرسٹ می” فاتک نے محبت سے اسے خود سے لگايا۔

اسکے ماتھ پہ بوسا ديا۔

“اگر يہ ٹرسٹ ٹوٹا نا۔۔ تو ميں بھی ٹوٹ جاؤں گی ۔۔۔ميں بتا رہی ہوں آپکو” وہ ناز بھرا انداز اپنا کر بولی۔

“نہيں ٹوٹے گا” فاتک نے اسے تسلی دلائ۔

مگر وہ اعتماد ٹوٹنا تھا ٹوٹ گيا اور حقيقت ميں مناب کو بھی اندر تک توڑ گيا۔

تين دن کا کہہ کر فاتک پھر واپس نہيں آيا۔

دبئ کے کنسرٹ ميں اسکی پرفارمنس نہ صرف ايک ميوزک کمپنی کو پسند آئ بلکہ انہوں نے اسی وقت اسے سائن کرليا۔ اور مسئلہ يہ تھا کہ وہ خود امريکہ ميں ہوتے تھے۔ فاتک کو انکے ساتھ جانا تھا۔

اس نے گھر فون کيا۔

اسکا فون کيا آيا پورے گھر ميں کہرام برپا ہوگيا۔

“تو تم جھوٹ بول کر گۓ تھے۔۔۔” اسکی بات سنتے ہی واجد برسے۔

“ہاں کيونکہ ميں جانتا تھا کہ ہميشہ کی طرح اگر آپکو بتايا تو آپ نے ايسی سختی کرنی ہے کہ ميں اپنے شوق کو پورا کرنے کا خواب ہی ديکھتا رہوں گا” فاتک کے لہجے کی ہٹ دھرمی اور ٹھہراؤ انہيں ايک آنکھ نہ بھايا۔

“يہ جانتے ہوۓ بھی کہ ميں اس پيشے کو پسند نہيں کرتا۔ تم ابھی اور اسی وقت واپس آؤ۔ دماغ ٹھکانے لگاتا ہوں تمہارا” وہ پھر سے بھڑکے۔

“واپس تو ميں اسی صورت آؤں گا جب آپ مجھے ميرے خوابوں کو پورا کرنے کی حامی بھريں گے” فاتک بے لچک انداز ميں بولا۔

“اور اگر حامی نہ بھروں” انکے چٹانوں سے سخت لہجے کا بھی فاتک پر کوئ اثر نہ ہوا۔ انکی بے کار کی انا کے سامنے اب اس وقت اسے کچھ دکھائ نہيں دے رہا تھا۔

“تو پھر ميں کبھی واپس نہيں آؤں گا” اسکی عمر کا تقاضا ہی بے سوچا سمجھا جوش تھا۔ اور اسی جوش نے اسکے تمام ہوش ٹھکانے لگا دئيۓ۔

اسکے انداز واجد کو اور بھی تاؤ دلاگۓ۔

“تو پھر مت آنا۔۔ميں يہ بھول جاؤں گا کہ ميرے دو بيٹے تھے۔ آج سے تم ميرے لئيۓ مر چکے ہو۔ اپنی شکل مجھے مت دکھانا۔ ديکھتا ہوں۔ کتنے دن تم اس مراثيوں والے کام سے اپنا پيٹ بھرتے ہوۓ۔ يہ اونچے خواب دکھانے والے زمين پر اتنی تيزی سے پٹختے بھی ہيں۔ مگر ياد رکھنا جب پيٹ کے دوزخ کی آگ بجھانے کو کوڑی کوڑی کے محتاج ہوگے تب ميرے در پر ہی آؤ گے۔ مگر ميں تب تمہيں قبول نہيں کروں گا۔” کوئ باپ اپنی اولاد کو اتنی سخت باتيں کہہ سکتا ہے۔ فاتک کو يقين نہيں آيا۔

“تو پھر آپ بھی ياد رکھيں۔ ميں بھی آپکو دکھا کر رہوں گا کہ فاتک واجد آپکے بنا بھی دنيا ميں وہ سب حاصل کرے گا جسکی اس نے خواہش کی ہے۔ مگر افسوس رہے گا کہ اگر آپکی رضامندی سے ہوتا تو بہتر تھا۔ ليکن کوئ بات نہيں۔ يہ سب اب اکيلے ہی سہی” وہ بھی انہی کا بيٹا تھا ہٹ دھرمی ورثے ميں ملی تھی۔

“اونہہ۔۔۔يہ گھر۔۔ہم سب اور يہاں کی ہر چيز سے اب تم دستبردار ہو۔ کسی کو کانٹيکٹ کرنے کی کوشش مت کرنا خاص کر مناب کو۔”انہوں نے پھنکار کر کہا۔

“ميری بيوی کو تو دنيا کا کوئ قانون مجھ سے جدا نہيں کرسکتا۔ آپ تو پھر ميرے باپ ہيں” اسکی ہنسی انہيں طيش دلا رہی تھی۔

“بکواس بند کرو۔۔ اس سے اپنا ہر تعلق اب ختم سمجھو” وہ ايک ايک لفظ چبا کر بولے۔

“اس سب کو ميں سوائے اپنی بيوی کے کسی اور سے ڈسکس کرنا مناسب نہيں سمجھتا” انکے تلخ الفاظ کی تکليف شدت سے ہورہی تھی۔ لہذا وہ لہجے کی تلخی کو چھپا نہيں سکا۔

انہوں نے غصے ميں فون بند کرديا۔

فون سے ٹوں ٹوں کی آواز ابھری۔ اس نے کچھ سوچ کر مناب کو فقط وائس ميسج کيا۔

“ميری جان۔ اور ميرا مان۔ بابا کی طرح آپ سفاک مت ہوجانا۔

ميں اسلام آباد نہيں دبئ آيا ہوں۔ کنسرٹ کے لئيے۔ ميں ميوزک کو کبھی نہيں چھوڑ نہيں سکتک۔ يہ فقط ميرا شوق نہيں ميرا جنون ہے۔ اور آج ميرے جب ميرے خوابوں کی تکميل ہونے چلی ہے تو ميرے اپنے مجھے سمجھنے اور سپورٹ کرنے کی بجاۓ ميرا ساتھ چھوڑنے کی بات کر رہے ہيں۔ دبئ سے ايک مشہور ميوزک کمپنی کے ساتھ ميرا دو سال کا کانٹريکٹ ہوا ہے۔ ميں فی الحال امريکہ جارہاہوں۔ جيسے ہی موقع ملے گا آپکو اپنے پاس بلالوں گا۔ مگر پليز تب تک۔ ميرے لئيے کوئ بدگمانی مت لانا۔ ميں نے جلدی شادی بھی اسی لئۓ کی تھی۔ کيونکہ جس بندے نے مجھے يہ موقع ديا تھا اس نے تب ہی باخبر کرديا تھا کہ اس چانس کے بعد دنيا کے دروازے مجھ پر کھل جائيں گے۔ اور وہ دروازے کھلنے کے بعد شايد ميں گھر والوں کو وہ وقت نہ دے سکوں جس کے وہ حقدار ہيں۔ کہيں جانے سے پہلے کسی اور نئ ڈگر پر بڑھنے سے پہلے ميں چاہتا تھا کہ آپ ميری زندگی ميں آجاؤ۔ آپکا نام ميرے نام کے ساتھ جڑ جاۓ۔ تاکہ کوئ اسے کبھی الگ کرنے کی بات نہ کرے۔ ميں جانتا تھا کہ گھر ميں کسی کو ميرا يہ جنون پسند نہيں اور پھوپھو نے تو يہاں تک کہا تھا کہ اگر ميں نے يہ سب نہ چھوڑا تو ميری بيٹی کو بھول جاؤ۔ مان ميں خود کو بھول سکتا ہوں مگر آپکو نہيں۔

يہ سب چند سالوں کی بات ہے جيسے ہی ميں سيٹل ہو جاؤں گا آپ ميرے پاس ہوگی۔ پليز۔ کسی کی باتوں ميں آکر ميرے بارے ميں غلط فہمياں مت پالنا۔ آپ آج بھی اتنی ہی اہم ہو جتنی کہ کل تھی۔

مگر ميں اپنے جنون کو بھی نہيں چھوڑ سکتا تھا۔ پليز۔۔ مجھے سمجھنا اور اپنا خيال رکھنا۔ يہ چند سال جلدہی ختم ہوجائيں گے۔ آپکی محبتوں کا منتظر۔۔آپکا فاتک” فون ہاتھ ميں لئيۓ رات کے اس پہر اس پر گويا قيامت ٹوٹی تھی۔

پتھرائ آنکھوں ميں آہستہ آہستہ آنسو جمع ہوتے گۓ۔ اور پھر کمرے کی تنہائ تھی اور اسکی سسکياں۔

“ميری محبت بس اتنی ہی تھی۔ جس نے آپکے جنون کو بھی نہيں توڑا۔ يہ محبت تو نہ تھی۔ يہ تو بس چند لمحوں کو رنگين بنانے کی خواہش تھی۔ مجھ پر ميرے وجود پر اپنے نام کا ٹھپہ لگانے کی جستجو تھی۔ ميں۔۔۔ ميں کبھی آپکو معاف نہيں کروں گی۔ فاتک آپ نے ميرے ساتھ ميری محبت کے ساتھ بہت برا کيا ہے۔ اب آپ اپنی دنيا ميں مگن رہيں۔” بلک بلک کر روتے وہ فاتک کے ہيولے کے ساتھ مخاطب تھی۔ کچھ دير روچکنے کے بعد اس نے فون ميں سے سم نکالی۔

غصہ۔ انتقام کيا کچھ نہ بھر گيا تھا اسکے اندر۔

کھڑکی کھول کر وہ سم دور اچھالی۔

“مجھ سے دور جاتے جب آپ نے ميرے بارے ميں نہيں سوچا تو ميں کيوں اس بے اعتنائ پر آپکا سوچوں۔ ہر مقام پر مجھے جھوٹی تسلياں ديں۔ جھوٹ پر جھوٹ بولا مجھ سے۔ جس شخص نے تعلق ہی جھوٹ پر قائم کيا وہ اسے نبھانے کی اہليت ہی نہيں رکھتا تھا۔ ميں نے ہر رابطہ ہر تعلق آپ سے توڑا فاتک۔۔ ہر رابطہ” نفرت سے اسے سوچتی پھر سے تڑپ کر روئ۔

مگر کچھ دن بعد اسکے اندر پلنے والے وجود نے اسے باور کروا ديا کہ وہ چاہنے کے باوجود فاتک سے تعلق توڑ نہيں سکتی۔ اسکی بيٹی اسکی وشہ نور ۔۔۔اسے پل پل اس بے رحم کی ياد دلاتی

__________

“وشہ ميں نے کتنی بار کہا ہے يہ سونگز مت سنا کرو” وشہ موبائل پر فاتک واجد کے نۓ سونگ کی ويڈيو يو ٹيوب پر لگا کر مگن سی ديکھ اور سن رہی تھی۔ جب واش روم سے باہر آتے ہوۓ مناب اس پر برسی۔

ٹھيک آدھے گھنٹے بعد انہوں نے ائير پورٹ کے لئيے نکلنا تھا۔ آج انکی پاکستان واپسی تھی۔

اور اس وقت بھی وہ سامان پيک کرنے کے بعد واش روم سے ضروری چيزيں لينے گئ کہ پيچھے سے وشہ نے اسکے موبائل پر فاتک کا گانا لگا ديا۔

اسے فاتک بہت پسند تھا۔ مناب کے بے تحاشا چڑنے کے باوجود وہ چھپ چھپا کر فاتک کے گانے سنتی اور اسکی ويڈيوز ديکھتی تھی۔

ايک عجيب سی کشش اسے محسوس ہوتی تھی۔ تھی تو وہ بچی مگر بچے جتنے بھی چھوٹے ہوں اپنے خون کی جانب ہمکتے ضرور ہيں۔

وشہ تو انجان تھی کہ وہ کيوں فاتک کو پسند کرتی ہے مگر مناب انجان نہيں تھی۔

وہ اس شخص کی نہ تو کبھی آواز سننا چاہتی تھی اور ديکھنا تو بہت دور کی بات۔

“ممی آپکو يہ کيوں نہيں اچھے لگتے۔۔ اتنے کيوٹ سے تو ہيں بالکل وشہ کی طرح” وشہ نے منہ بنا کر بند کرتے وہ کچھ کہہ ديا جسے سن کر مناب کتنی دير گنگ رہ گئ۔

“وشہ کی طرح”۔۔۔يہی الفاظ کتنی دير اسکی سماعتوں ميں بازگشت کرتے رہے۔

تو کيا يہ خود کو فاتک ميں ڈھونڈنے لگی ہے۔ تو کيا ميری اس کو فاتک کے بارے ميں کچھ نہ بتانے والی ہر احتياط ضائع ہوگئ۔ وہ وشہ کے الفاظ سن کر شاکڈ تھی۔

“آ۔۔۔آپ کو کس نے کہا اس سنگر کی شکل آپ جيسی ہے” مناب نظريں چراتے ہوۓ اس سے بولی۔

“ممی شکل تو نہيں کہا۔ بس کيوٹنيس کہا ہے۔۔کيوں کيا ميری شکل ان سے ملتی ہے؟” مناب کی تصحيح کرتے وہ پرجوش انداز ميں بولی۔

“اللہ نہ کرے۔۔۔” وہ ايک دم دل تھام گئ۔

“ميرا مطلب ہے بالکل نہيں۔ ميری وشہ تو بہت پياری ہے” يکدم بيڈ پر بيٹھی وشہ کو گود ميں اٹھاتے اسکے چہرے کو چومتے محبت سے بولی۔

“وشہ کی ممی بھی تو بہت پياری ہيں” وشہ يکدم بہل گئ۔

اسکی سب سے اچھی عادت يہ تھی کہ وہ بہل جاتی تھی۔باتوں ميں لگ کر پچھلی بات بھول جاتی تھی۔ اور يہ شايد اللہ کی مہربانی تھی کہ اسکی عادت ايسی تھی۔ فاتک سے متعلق جب کوئ بات شروع ہوتی مناب اسے باتوں ميں لگا دیتی اور وہ بھول جاتی پھر دوبار اس بات کا ذکر نہيں کرتی۔ نہيں تو اگر وہ پيچھے پڑنے والی بچی ہوتی تو مناب کے لئيے اس کے سوالوں سے بچنا بہت مشکل ہوجاتا۔

“چلو جلدی سے ريڈی ہو جاؤ دادا جان انتظار کررہے ہوں گے” وہ تيزی سے اسکے بالوں ميں برش کرتے ہوۓ بولی۔

واجد ہوٹل کے دوسرے کمرے ميں موجود ان دونوں کے منتظر تھے۔

_______________________

“اب آپ مجھ سے کيا چاہتے ہيں” فاتک اور عازی اس لمحے ايک دوسرے کے سامنے بيٹھے تھے۔ اس دن غازی کے آفس سے وہ چپ چاپ واپس آگيا۔ ہاں مگر اس کا فون نمبر لينا نہيں بھولا تھا۔

غازی بھی شايد اس کو دل سے معاف کرچکا تھا لہذا چپ چاپ نمبر دے ديا۔ اگلے دن رات ميں واجد، مناب اور وشہ کی واپسی تھی۔

فاتک نے غازی سے درخواست کی کہ وہ کچھ دير کے لئیے اسکے ہوٹل اس سے ملنے آجاۓ۔ اسے غازی کو ہر صورت اپنے ساتھ ملانا تھا۔ تاکہ مناب اور وشہ تک رسائ حاصل کرسکے۔ ايک بار وہ دونوں اسکا ساتھ دينے کو تيار ہوجائيں تو پھر واجد کو منانا کوئ بڑی بات نہيں تھی۔

کچھ پس و پيش کے بعد غازی نے آنے کی حامی بھر لی۔

اس وقت دونوں فاتک کے کمرے ميں صوفوں پر آمنے سامنے بيٹھے تھے۔

“ميں صرف يہ چاہتا ہوں کہ تم ابھی وشہ سے ميری چند ملاقاتيں کروا دو۔ مناب کے علم ميں لاۓ بغير” اس نے اپنا لائحہ عمل بتانا شروع کيا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *