Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Yaad Ki Anch (Episode 26)

Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas

آپ چاہے ميرے پاس رہو نہ رہو ميرا سب کچھ ہميشہ آپ ہی رہو گی۔ يہ مقام ۔۔يہ جگہ کوئ لے ہی نہيں سکتا۔ پھر ميں دنيا سے آپ کو اور وشہ کو کيوں چھپاؤں” ہاتھ ہٹا کر وہ محبت بھرے لہجے ميں بولا۔

“فاتک کيا يہ جنون۔۔ يہ عنايتيں۔۔ يہ محبتيں صرف تب تک ہيں جب تک ميں آپکو معاف کرکے آپکی مرضی کا فيصلہ نہيں کرديتی” مناب کی بات پر وہ دکھ سے مسکرايا۔

“بس اتنا ہی سمجھی ہو مجھے” مناب کے شک پر وہ افسوس سے سر ہلا کر اسکی سائيڈ سے گزر کر جانے لگا کہ مناب نے بازو تھام کر اسے روکا۔

نجانے کيوں اسکی ناراضگی دل کو چھبی تھی۔

“آپ خود سوچيں اتنا سب ہونے کے بعد ميں ايک دم سے کيسے يقين کرلوں” مناب کو اندازہ نہيں تھا وہ اپنی فاتک کے لئے کی جانے والی فکر اس پر آشکار کررہی تھی۔

وہ سب صحيح کرنے کی اب خواہاں بھی تھی مگر ڈر بھی تھا۔

فاتک کو وہ ايسے بچے کی مانند لگی جو اپنی پسنديدہ چيز کو چھونا بھی چاہتا ہو مگر يہ بھی ڈر ہو کہ يہ قيمتی ہے کہيں ٹوٹ نہ جاۓ۔

پہلے سے ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کے سبب وہ مزيد کسی اور ٹوٹ پھوٹ کو برداشت نہيں کرنا چاہتی تھی۔

“تھوڑا سا تو اعتبار کرو” فاتک نے گويا التجا کی۔

مناب خاموش ہو کر ہاتھ پيچھے کرکے الماری کی جانب بڑھی۔

فاتک کے کپڑے نکل نکال کر مسلسل کسی سوچ ميں غلطاں وہ کمرے سے باہر نکل گئ۔

فاتک کپڑے لئے واش روم کی جانب بڑھا۔

کچھ دير بعد وہ تينوں ايک گاڑی ميں تھے جبکہ مناب کی گاڑی ميں کريم انکے پيچھے ہی آرہا تھا۔

“ممی اب پاپا کہيں نہيں جائيں گے نا” فاتک مناب کو اپنے برينڈ کے بارے ميں بتا رہا تھا جب پيچھے بيٹھی وشہ يکدم آگے کو مناب کی سيٹ کی جانب جھکی اور پوچھا۔

مناب اور فاتک کی نظريں لحظہ بھر کو ايک دوسرے سے مليں۔

“نہيں بيٹا۔۔ پاپا، وشہ اور ممی کو چھوڑ کر اب کہيں نہيں جائيں گے” فاتک نے مناب کی جانب ديکھتے تمام بات پوری کی۔

مناب نے ايک بار پھر مڑ کر فاتک کو ديکھا جس کی نظريں گاہے بگاہے اسی کی جانب اٹھ رہی تھيں۔ غازی اور صبغہ کی شادی کے بعد اس نے آج مناب کو ہلکا پھلکا ميک اپ کئيے اور تھوڑا سا تيار دیکھا تھا۔

ميل بری رنگ کا پيپلم پہنے بليک کلر کےٹراؤذر ميں ملبوس وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھا۔ دوپٹہ سليقے سے لے رکھا تھا۔ بالوں کو کندھوں پر کھولا ہوا تھا۔ کانوں ميں خوبصورت ہم رنگ نغوں کے ائير رنگ پہن رکھے تھے۔

فاتک بليک ڈريس کورٹ ميں مناب کے ڈريس سے ملتے جلتے رنگ کی ٹائ لگاۓ بے حد ہينڈسم لگ رہا تھا۔

مناب اب خاموش ہو چکی تھی۔

‘معاف تو کرکے ديکھو اللہ تمہيں سکون دے گا” مناب نے آج دوپہر ميں صمد کو کال کی گھر والوں کا حال چال پوچھا۔

انہوں نے ان دونوں کے تعلق کے بارے ميں پوچھا۔

جب وہ ٹال مٹول سے کام لينے لگی تب انہوں نے اسے يہ بات کہی۔

اس لمحے بھی اسے باپ کی کہی جانے والی وہی بات شدت سے ياد آئ۔

اس کا ايک فيصلہ کتنے لوگوں کی زندگی ميں خوشی لانے کا سبب بن سکتا ہے خاص طور سے اسکی اپنی بيٹی کی زندگی ميں۔

گلئشئير پگھل رہا تھا۔ محبت کا سمندر اپنی چھت دکھا رہا تھا۔

فاتک نے ہاتھ بڑھا کر اسٹريو آن کيا۔

Tell me this

Does any of this love exist

Or is it just a fire

Keeping out the cold

Fear of the unknown

Turning us to coal

We’d set the world alight

Live years within a night

And memories never lie

Tell me that I’m right, tell me that I’m right

I’ve seen it all go your way

But now you fall every day

Your tired, unfamiliar face

Says it all

I was told

Even though we all grow old

Love will never die

Love’s ignorant of time

But those words were your own

And that was long ago, that was long ago

I used to call

I used to call you my own, my dear

But now you’re lost

وہ واقعی گم تھی اپنی تکليف ميں۔

“آئم سوری” فاتک کی گھمبير آواز ابھری۔

مناب نے چونک کراسکی جانب ديکھا۔

نجانے وہ دن ميں کتنی بار معافی مانگتا تھا۔اس نے جو کہا تھا وہ سچ کررہا تھا۔ وہ روز اسکے سامنے ۔۔اسکی غير موجودگی ميں اسے ٹيکسٹ کرکے معافی مانگتا تھا

“ميں روز آپکو اس اذيت سے نہيں گزارنا چاہتی۔ مگر ميں کوئ فيصلہ بھی نہيں کرپارہی” مناب صاف گوئ سے بولی۔

“مجھے جلدی نہيں ہے۔ پتہ ہے کبھی کبھی انتظار ميں بھی ايک عجيب سا سرور ہوتا ہے۔ اور ميں اس سے ابھی لطف اندوز ہونا چاہتا ہوں” فاتک کے چہرے پر کھلنے والی مسکراہٹ بہت محظوظ کن تھی۔

“اب کہيں يہ نہ ہو يہ انتظار ميں لمبا کروادوں تاکہ اچھی طرح آپ سرور ليں” مناب کی بات پر وہ قہقہہ لگاۓ بنا نہ رہ سکا۔

“محبوب ظالم نہ ہو تو محبت کا مزہ ہی نہيں آتا” فاتک نے شرارتی لہجے ميں کہا۔

“اچھا جی۔۔ پھر ايک ہفتے بعد بوريا بستر اٹھا کر واپس چلی جاؤں گی۔ تو مزے ليتے رہنا” اس سے الجھ کر مناب کو بھی ايک الگ ہی مزہ آرہا تھا۔

اسے ايسا لگا کہ وقت واقعی پيچھے چلا گيا ہو جب نکاح کے بعد فاتک اسے جان بوجھ کر کسی بات کے لئے چھيڑتا تھا اور وہ تنگ ہوجاتی تھی۔

“تو ٹھيک ہے ميں بھی بوريا بستر سميٹ کر پيچھے پيچھے آجاؤں گا” اسکی دھمکی کا فاتک پر ذرہ برابر اثر نہيں ہوا۔

مناب ہنستے ہوۓ سر جھٹک گئھ

__________

فاتک کے کپڑوں اور جوتوں کے آؤٹ ليٹ کے قريب گاڑی روکتے ہی بے شمار کيمرے متحرک ہوچکے تھے۔

فاتک اپنی جانب کا دروازہ کھول کر باری باری مناب اور وشہ کی سائيڈ کا دروازہ کھول کر ان دونوں کے ہمراہ چلتا آؤٹ ليٹ کی جانب بڑھا۔ جہاں لوگوں کا جم غفير تھا۔

فاتک کے بازو کے ايک حلقے ميں مناب تھی اور مناب کے ساتھ وشہ ماں کا ہاتھ تھامے اتنے لوگوں کو ديکھ کر کچھ پريشان ہوئ۔

“سر يہ آپکی وائف ہيں کيا؟ ” ايک رپورٹر نے مائيک فاتک کے آگے کرکے سوال کيا۔

“جی يہ ميری وائف ہيں اور يہ ميری پياری سی بيٹی”

فاتک نے مسکراتے ہوۓ دونوں کی جانب محبت سے ديکھتے جواب ديا۔

“تو سر آپ نے اب تک ميڈيا کو اس بارے ميں کبھی کيوں نہيں بتايا تھا اور ان دونوں کو منظر عام پر نہ لانے کی کوئ اہم وجہ؟” ايک اور صحافی نے سوال کيا۔

“ميڈيا سے ميں نے خود کبھی زيادہ بات نہيں کی تو اپنی فيملی کو کسے ڈسکس کرتا۔ بس ميں اپنے پرسلز ميں کسی کو انوالو نہيں کرنا چاہتا تھا۔ اور ويسے بھی اب ميں سنگنگ چھوڑ چکا ہوں اسی لئے ميری بيوی اور بيٹی اب ميرے ساتھ ہيں” فاتک نے نہايت طريقے سے صحافی کے سوال کا جواب ديا تاکہ کوئ کونٹرورسی انکے رشتے کے حوالے سے نہ بنے۔

“سر سنگنگ چھوڑنے کی کوئ خاص وجہ؟” ايک اور سوال ۔

“ميں سنگنگ کی وجہ سے اپنی فيملی کو پچھلے کچھ سالوں ميں زيادہ وقت نہيں دے پايا۔ جب مجھے لگا کہ اب ميرا سارا وقت ان کا ہونا چاہئے تو ميں نے سب چھوڑ ديا” اسکے چہرے پر ايک عجيب سا سکون تھا۔ مناب مبہوت نظروں سے اسے ديکھ رہی تھی۔ جو اپنے شوق اور جنون کو چھوڑ دينے پر کہيں سے دکھی نظر نہيں آرہا تھا۔

وہ جو ايک کسک تھی کہ اس نے مجبوری ميں اس فيلڈ کو چھوڑا ہے اس لمحے وہ بھی ختم ہوگئ۔

فاتک نے اسکے ٹکٹی باندھ کر خود کو ديکھنے کو نوٹ کرليا تھا۔

حيرت آنکھوں ميں سموئے خوبصورت مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ۔ اسکی آنکھوں ميں ديکھا۔

مناب نے گھبرا کر چہرہ موڑنے کی بجاۓ اسے مسکراہٹ ہونٹوں پر سجا کر ديکھا۔

“ميری اس آؤٹ ليٹ کی چيف گيسٹ بھی ميری بيٹی اور بيوی ہيں۔ انہی کے ہاتھ سے ميں اس کا افتتاح کروانا چاہتا ہوں” فاتک نے ان دونوں کی جانب مسکرا کر ديکھتے وہاں پر موجود سب لوگوں کی جانب ديکھا۔

کريم ايک ہاتھ ميں پھولوں سی بھری پليٹ اور قينچی لئے مناب کے پاس آيا۔ مناب نے وشہ کو گود ميں اٹھا کر قينچی تھامی۔

“آپ بھی ہمارا ساتھ ديں” مناب نے فيتا کاٹنے سے پہلے فاتک کی جانب ديکھ کر خوشگوار لہجے ميں کہا۔

فاتک حيرت زدہ رہ گيا۔ تو کيا منزل قريب ہے؟

اس نے دل سے سوال کيا۔ وشہ کے ہاتھ پر دھرے مناب کے ہاتھ پر فاتک کا بھاری مردانہ ہاتھ ٹھہر گيا۔

فيتا کٹتے ہی تاليوں کی گونج پيدا ہوئ۔

انکے قريب کھرے کريم نے دل سے انکی دائمی خوشيوں کی دعا کی۔

مناب کو اپنے پيچھے غازی، صبغہ، صمد اور سب گھر والوں کی چہکاريں سنائی ديں۔ حيرت سے مڑ کر اس نے ديکھا تو آنکھوں پر يقين نہ آيا۔ ماموں کی فيملی کے ساتھ ساتھ اسکی اپنی سب فيملی بھی موجود تھی۔ عارفہ، بھائ اور بھابھياں۔

سب فاتک کو اور اسے مبارک باد پيش کررہے تھے۔ عرصے بعد وہ سب سچی خوشياں کشيد کررہے تھے۔

مناب کے لئے فيصلہ اب بے حد آسان ہوگيا تھا۔ سب کے چہروں پر کھلنے والی سچی خوشيوں نے اسکے دل سے ہر غم، ہر بے يقينی ختم کردی تھی۔

فاتک کو ايسا محسوس ہورہا تھا جيسے ہفت اقليم کی دولت آج اسے مل گئ ہو۔ اسکے سب اپنے اسکے پاس تھے۔ پچھلے بہت سے سالوں ميں اس نے يہ خواب ميں بھی ديکھنا چھوڑ ديا تھا کہ اب وہ کبھی يوں ان سب کے درميان موجود ہوگا۔

مگر اللہ تو ہر انہونی کو ہونی ميں بدل ديتا ہے۔ يہی تقدير ہے اور يہی اسکی رحمتيں۔ جو آج انکے خاندان پر برس رہی تھيں۔

اوپننگ فنکشن سے وہ لوگ تھکے ہارے گھر آۓ۔ فاتک اور وشہ تو بستر پر ليٹتے ہی سوبھی گۓ۔

مناب نے عشاء کی نماز ادا کی پھر خاموشی سے فاتک کے کمرے کی جانب قدم بڑھاۓ۔

صبح اسے فاتک کو اپنے ساتھ کی خوشخبری سنانی تھی۔ اسے يقين تھا آدھی بات تو وہ اسے اس کمرے ميں ديکھ کر ہی سمجھ جاۓ گا۔

اور آدھی بات کے لئے اسے تھوڑی سی کوشش کرنی پڑے گی۔

مناب ان دونوں پر کمبل ٹھيک کرتی۔ چند لمحوں کے لئے فاتک کے محبتوں بھرے چہرے کو تکتی رہی۔

ايک عورت کے لئے محبت سے بڑھ کر عزت ہے اور فاتک نے اسے ان چند دنوں ميں بے تحاشا عزت دے کر اسکے تمام دکھ دھو دئيے تھے۔

وہ جو خود کو دنيا ميں سب سے زيادہ غير اہم انسان تصور کرنے لگ گئ تھی۔

آج اسے لگا کہ اس سے زيادہ اہم اس دنيا ميں کوئ اور نہيں۔

فاتک کی محبت کے ساتھ ساتھ عزت اور احترام سب نے مل کر مناب کو اس پر ايک بار پھر اعتماد کرنے پر اکسايا۔

اور پھر زندگی اور رشتے تو ہوتے ہی تاش کی اس بازی کی طرح ہيں جس کے کھلنے پر نہيں پتہ ہوتا کہ جيت مقدر ميں ہوگی يا ہار۔ مگر اس بازی کو کھيلنا تو پڑتا ہے چاہتے ہوۓ يا نا چاہتے ہوۓ بھی۔

___________________________

صبح الارم بجنے سے فاتک کی آنکھ کھلی۔

ہاتھ بڑھا کر اس نے الارم بند کيا يہ سوچ کر کہ بس پانچ منٹ ميں اٹھتا ہوں۔ اور پھر وہ پانچ منٹ ايک گھنٹے بعد ہوئ۔

اچانک ہی فاتک کی آنکھ کھلی۔ نجانے کيا احساس تھا۔

پٹ سے آنکھيں کھول کر اس نے حيرت سے وشہ پر رکھے اپنے بازو کی جانب ديکھا۔

ايک نسوانی ہاتھ اسکے بازو پر دھرا تھا۔ حيرت کے مارے اس نے سر اٹھا کر بيڈ کے دوسری جانب ديکھا تو وہ کوئ اور نہيں مناب ہی ليٹی تھی اور نيند ميں اسی کا ہاتھ فاتک کے بازو پر آپڑا تھا۔

فاتک کے چہرے پر پہلے تو بے يقينی اور پھر جاندار مسکراہٹ نے لے لی۔ نچلا لب دباتے وہ سر کو نفی ميں ہلا رہا تھا۔

رات کو جو محسوس ہوا تھا کہ منزل قريب ہے تو وہ واقعی قريب کيا اس سے چند گز کے فاصلے پر آگئ تھی۔

ہولے سے کہنی کے بل اٹھ کر مناب کے ہاتھ پر پيار کی نشانی ثبت کی۔

پھر بھی قرار نہيں آيا تو اسکی صبيح پيشانی کو محبت سے چھوا۔

پيچھے ہٹتے يکدم نگاہ سامنے لگے وال کلاک پر گئ تو وقت کے گزرنے کا احساس ہوا۔

“اوہ نو” اسے آج اہم ميٹنگ ميں جانا تھا اپنے ڈيزائنرز کے ساتھ ميٹنگ ارينج کی تھی۔

آواز پيدا کئے بنا وہ بيڈ سے اٹھا اسی آہستگی سے تياری کی تاکہ وشہ اور مناب کی نيند خراب نہ ہو۔

نجانے وہ کب سوئ تھی۔ فاتک کا دل نہ کيا کہ اسے اٹھاۓ۔

جلدی سے تيار ہو کر کچن ميں آيا۔ کافی بنائ اور کپ لئيے باہر کی جانب لپکا۔

“کريم تم تھوڑا ليٹ آفس آنا۔ مناب اور وشہ ابھی سوئ ہوئ ہيں۔ جب مناب اٹھ جاۓ گی تب تم آجانا” کريم کو ہدايات ديتا وہ گاڑی ميں بيٹھ کر تيزی سے آفس کی جانب بڑھا۔

گاڑی ميں بيٹھا بھی وہ ابھی تک مناب کے خيال سے خود پيچھا چھڑا نہيں پارہا تھا۔ خوشی انتہاؤں کو چھو رہی تھی۔

کچھ سوچ کر گاڑی آہستہ کرکے مناب کو ميسج کيا۔

A heart unsatisfied, walks on a wire

From the lover to the loved, blind as a fire

Warning signs are passed aside, fuel to the fire

A heart will come undone, by a simple desire

Simple desire

We sink deeper in the mud, deep in the mire

What is pure and what is real, hard to define it

No rewind no turning back, love is like a heart attack

And you push until you crack, for a simple desire

Simple desire

I don’t want to be alone no more

It’s a simple desire

____________________

مناب کی جس لمحے آنکھ کھلی فاتک اسے کمرے ميں نظر نہ آيا۔

مگر اسکے کلون کی خوشبو سے وہ سمجھ گئ کہ وہ جاچکا ہے۔ مايوس ہو کر فاتک والی سائيڈ پر نگاہ کی جہاں وہ رات ميں سويا تھا۔

وہاں سے ہوتی نظر گہری نيند ميں سوئ وشہ پر پڑی۔

اٹھ کر بيٹھتے بالوں کا جوڑا بنايا۔ وہ فاتک کے تاثرات ديکھنا چاہتی تھی۔

مگر ۔۔

وشہ کو ہلايا جلايا۔

“وشہ جانی اٹھ جاؤ نو بج گۓ ہيں۔ آپکے سکول کی اور ميرے آفس کی چھٹی ہوگئ ہے” وشہ کسمسائ۔

“ممی ابھی سونے ديں نا”

“اٹھ جاؤ بس بہت سو ليا ہے۔” وہ پھر سے وشہ کو گدگدا کر موبائل کو تلاش کرنے لگی۔

سائيڈ ٹيبل پر موجود موبائل اٹھايا تاکہ باس کو فون کرکے آج کی چھٹی کا بتا دے۔

موبائل آن کرتے ہی فاتک کا نمبر جگمگايا۔

نظم کے اشعار ہی اسے بتلا گۓ کہ فاتک آدھی بات تو سمجھ ہی گيا ہے۔

“آدھی بات آپ کو اب شام ميں پتہ چلے گی” مناب موبائل ٹھوڑی کے نيچے رکھتے فاتک کے تصور سے مخاطب ہوئ۔ فاتک کی خوشی کا سوچتے ہی دل اور ہی لے ميں دھڑکا۔

سارا دن وشہ کے ساتھ گزارتے گھر کے کام کرتے بھی اسکا دھيان فاتک ميں ہی رہا۔

شام ميں کپڑے بدلنے کی غرض سے کمرے کی جانب بڑھی کہ لاؤنج مين موجود کارڈليس بج اٹھا۔

بنا نمبر چيک کئيے فون کان سے لگايا۔

“ہيلو”

“ہيلو جی ميں سرجی ميڈ ہاسپٹل سے بات کررہی ہوں۔ ابھی کچھ دير پہلے آپکے ہزبينڈ کار ايکسيڈنٹ ميں ہمارے ہاسپٹل لائے گۓ ہيں۔ انکی حالت بہت تشويشناک ہے۔آپ فورا ہاسپٹل پہنچيں” وہ جو کوئ تھی مناب کی جان لينے کے در پہ تھی۔ فون مناب کے ہاتھ سے چھوٹا۔

صبح ميں فاتک کی بھيجی جانے والی نظم کے اشعار نظروں کے سامنے گھومے۔

I don’t want to be alone no more

It’s a simple desire

تو کيا اس نے فاتک کی يہ ذرا سی خواہش پوری کرنے ميں دير کردی۔

وہ دھم سے جہاں کھڑی تھی وہيں بيٹھ گئ۔

وشہ جو اپنے کھلونوں سے کھيل رہی تھی فون گرتے اور ماں کی حالت ديکھتے دوڑ کر اسکے پاس آئ۔

“ممی کيا ہوا ہے۔۔آپ ايسے کيوں بيٹھی ہو” وہ ماں کی حالت ديکھ کر پريشان ہوئ۔

مناب نے خالی خالی نظروں سے وشہ کو ديکھا۔

“يہ نہيں ہوسکتا۔۔فاتک ميرے ساتھ ايسا نہيں کرسکتے” آنسو گالوں پر رواں ہوۓ۔ وہ مسلسل نفی ميں سر ہلا رہی تھی۔

وشہ بھی اسکے رونے پر رونے لگی۔

مناب نے حواس بحال کرتے وشہ کو موبائل پکڑانے کو کہا۔

صبغہ کا نمبر ڈائل کيا۔

“کيسی ہو آپا” صبغہ کی چہکتی آواز سنائ دی۔

“مر رہی ہے تمہاری آپا” صبغہ کی آواز سنتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

“اللہ خير کرے کيا ہوا ہے” وہ دبی دبی آواز ميں چلائ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *