Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Yaad Ki Anch (Episode 14,15)

Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas

سر وہ تو آج نہيں آئيں گی” کريم نے فون بند کرتے کہا۔

“ہمم اميد تھی کہ وہ نہيں آۓ گی” ايک گہری سانس خارج کرتے فاتک نے مضطرب انداز ميں بالوں ميں ہاتھ چلايا۔ ايک ٹانگ بھی مسلسل حرکت ميں تھی۔

بے چينی عروج پر تھی۔

دل کررہا تھا ابھی اسکے پاس جاۓ۔

اگر پچھلی رات مناب پر بھاری تھی تو سکون سے فاتک بھی نہيں سويا تھا۔

کل رات جس لمحے گانے کے بعد اس نے آنکھ کھولی داخلی دروازے سے مناب کے جانے کا منظر اسکی آنکھوں سے چھپا نہيں رہا تھا۔

اسکے پيچھے وہ اس لمحے جا نہيں سکتا تھا۔ نہيں تو دل ناداں تو اکسا رہا تھا کہ جاۓ اسکا راستہ روکے اور اس سے اپنے ہر عمل کی معافی مانگے۔

وہ تمام دکھ جو اس کی ذات سے مناب کو ملے ان پر گڑاگڑا کر اس سے معافی کی درخواست کرے۔ اسے بتاۓ کہ وہ کتنا بے چين ہے۔

اسے دکھ پہنچا کر وہ ايک دن بھی سکون سے نہيں رہا۔

مگر مصلحت کا تقاضا تھا کہ ابھی وہ اپنے جذبات پر قابو پاۓ اور اس نے قابو پايا۔

مگر اس لمحے يہ سن کر کہ اسکی طبيعت خراب ہے دل کو سکون نہيں آرہا تھا۔

فون اٹھا کر صبغہ کو کال ملائ۔

“ہيلو۔۔کيسی ہو چھوٹی”

صبغہ اس وقت کالج ميں تھی۔ ليکن فری پيريڈ تھا اسی لئے فاتک کی کال اٹھا لی۔

“الحمداللہ ٹھيک آپ سنائيں بھائ” اسکی آواز سن کر وہ کچھ حيران بھی ہوئ اور پريشان بھی۔

“مناب اس وقت ٹھيک نہيں ہے۔ تم اسکے پاس جاسکتی ہو۔

اسے کسی کی ضرورت ہے” فاتک کو سمجھ نہيں آرہی تھی کہ کيا کہے

“کيا مطلب آپکو کيسے پتہ” وہ اور بھی حيران ہوئ۔

فاتک نے سب قصہ کہہ سنايا۔

صبغہ نے گہری سانس کھينچی

“آپکے خيال ميں آپکا اس کے سامنے آنا معمول کی بات تھی جسے وہ خاموشی سے سہہ جاتی۔ وہ پہلے ہی خوفزدہ ہے کہ اگر آپکو وشہ کے بارے ميں پتہ چل گيا تو آپ اسے آپا سے چھين ليں گے۔ کل رات اس نے اپنے خوف کو اپنے سامنے کھڑا ديکھ ليا۔ تو اب کچھ وقت تو لگے گا اسے سنبھلنے ميں۔ ليکن اب اگر آپ سامنے آہی گۓ ہيں۔ تو بہتر ہے کہ بار بار آئيں اور اسکی غلط فہمياں دور کريں” صبغہ نے اسے دوست بن کر مشورہ ديا۔

“اور بابا؟۔۔۔وہ ايسا ممکن ہونے ديں گے” فاتک نے اصل وجہ کی جانب اشارہ کيا۔

“اب ماموں کو ماننا پڑے گا۔ داؤد ماموں يہ سب منوائيں گے۔ آپ اکيلے نہيں ہيں اب ہم سب آپکے ساتھ ہيں۔ ہميں تو معلوم ہی نہيں تھا کہ بڑے ماموں نے بالا ہی بالا کيا کچھ کيا۔ يقين کريں ايک بار بھی پتہ چلتا کہ آپ نے واپس آنے کے کتنے جتن کئيۓ ہيں۔ تو ميں آپکا ساتھ دينے والوں ميں تب بھی پہل کرتی۔” اس کے لہجے کی سچائ فاتک کو مسکرانے پر مجبور کرگئ۔

“آپ فکر مت کريں۔ ميں کالج سے سيدھی آپا کہ پاس چلی جاؤں گی۔” اس نے پھر سے فاتک کو گويا تسلی دلائ۔

“تھينکس چھوٹی” فاتک حقيقت ميں اس کا شکر گزار تھا۔

“پريشان مت ہوں” صبغہ نے الوداعيہ کلمات کہہ کر فون بند کرديا۔

______________________

“ہيلو۔۔غازی وشہ سکول گئ ہے” صبغہ کو فون کرنے کے بعد فاتک نے اب غازی کو فون کيا۔

“جی بھائ۔۔ کيوں خيريت” غازی يکدم پريشان ہوا۔

“اسے لينے کون جاتا ہے؟” فاتک نے ايک اور سوال کيا۔

“اماں ہی لينے جاتی ہيں۔ کيوں کيا ہوا ہے۔۔خيريت ہے” وہ اب کی بار اور پريشان ہوا۔

“ہاں يار سب خيريت ہے۔ تم اس کے سکول فون کرکے بتا دوگے کہ اسکے فادر آج پک کرنے آئيں گے۔ ميں کچھ دير وشہ سے ملنا چاہتا ہوں۔ اماں کو بتا دوں گا۔” اس نے التجا کی۔

دل اب وشہ اور مناب کے بغير ايک پل نہيں لگتا تھا۔

“ہاں کوئ ايشو نہيں آپکا کانٹيکٹ نمبر ان کو لکھوا ديتا ہوں اور اسکی پرنسپل سے بات کرليتا ہوں۔ ان سے کافی جان پہچان ہے ميری۔ انکے گھر کا فرنيچر ہم نے ہی ڈيزائن کيا تھا” حامی بھرتے ہوۓ غازی نے کچھ اور تفصيل بھی بتائ۔

“ٹھيک ہے تھينکس يار” فون بند کيا مگر اضطراب تھا کہ ختم ہونے ميں نہيں آرہا تھا۔

کيا کيا نہ سوچا ہوگا مناب نے اس کے بارے ميں۔

بس يہی سوچ اسے اندر تک چھلنی کر رہی تھی۔

اسکی بے گانگی سہی نہيں جارہی تھی۔ حالانکہ وہ خود کو اس سب کے لئے تيار کرکے اس رات اينول ڈنر ميں گيا تھا۔

مگر اب جب وہ سب اس پر بيتا تھا تو سہہ نہيں پارہا تھا۔

وہ کيسے مناب سے معافی مانگے گا۔ کيسے اسے قائل کرے گا۔

اسے اب يہ سب ناممکنات ميں سے لگ رہا تھا۔

_________________________

دوپہر ميں وہ نيچے آئ۔

“کيسی طبيعت ہے اب” ناز نے فکرمند انداز ميں اسکے ستے چہرے کو ديکھا۔

“بس بہتر ہے۔ آپ سنائيں” کچن ميں انکے پاس کھڑی ہوکر انکو محبت سے ساتھ لگايا۔

مناب کے لئے تو وہ ماں سے بھی بڑھ کر تھيں۔

“ميں تو ٹھيک ہوں۔ بتاؤ کيا کھاؤ گی” ہنڈيا بناتے کام والی سے ساتھ ساتھ برتن لگوانے کا کام کر رہی تھيں۔

“کچھ نہيں بس جوس لوں گی۔ اچھا وشہ کو آج آپ لينے مت جائيے گا۔ ميں خود لينے جاؤں گی” فريج ميں سے جوس کا جگ نکالتے انہيں ہدايت دی۔

“باجی کارپٹ کا کام کل کرليں گے ميں اب تھک گئ ہوں” کام والی نے ان کو صبح سے تنگ کيا ہوا تھا۔

“چلو۔۔۔ اب پھر تمہارے نخرے شروع ہوگۓ ہيں۔ اب آگے دو تين دن بارشيں ہيں۔ تب تک ميں کيسے انتظار کروں۔ بس يہ کام آج ہی ہوگا۔” وہ کام والی کے ساتھ الجھنے ميں يہ بھول گئيں کہ کچھ دير پہلے فاتک کا فون آيا تھا اور اس نے بتايا تھا کہ آج وہ وشہ کو سکول سے پک کرے گا۔

بحث و مباحثہ ميں انہيں ياد نہيں رہا کہ وہ مناب کو روکتيں۔ اور کوئ کور بہانہ بناتيں۔

مناب جوس پی کر کچن سے باہر گئ۔

لاؤنج ميں موجود کی ہينگنگ سے گاڑی کی چابياں پکڑيں۔

اور باہر گيراج کی جانب بڑھ گئ۔

گاڑی ڈرائيو کرتے اس نے ہر بری سوچ کو ذہن سے محو کرنا چاہا اور اس ميں وہ کسی حد تک کامياب ہوبھی گئ تھی۔

سکول گھر سے زيادہ دور نہيں تھا۔

جيسے ہی وہ گيٹ پر پہنچی وہاں موجود چوکيدار نے بڑھ کر اسے سلام کيا۔

گاڑی سے اتر کر وہ اندر کی جانب بڑھی۔

سوچا پرنسپل سے بھی سلام دعا کرلے گی۔ بہت دن ہوۓ تھے وہ وشہ کی پرنسپل سے نہيں ملی تھی۔

واجد اور غازی سے جان پہچان ہونے کے سبب وہ بھی وشہ کی پرنسپل سے وقتا فوقتا ملتی رہتی تھی۔

سيدھا اسکے آفس ميں گئ۔

“السلام عليکم۔۔کيسی ہيں آپ” آفس ميں داخل ہو کر بڑے تپاک سے وہ مناب سے ملی۔

“الحمداللہ بالکل ٹھيک۔۔آپ سنائيں کيسی ہيں” مناب نے بھی ملنساری کا مظاہرہ کيا۔

“بڑے دنوں بعد چکر لگا” اس نے مناب کو اپنے ٹيبل کے سامنے رکھی کرسی پر بيٹھنے کا اشارہ کرتے خوشدلی سے کہا۔

“بس ٹائم ہی نہيں ملتا۔ آج آفس نہيں گئ تھی تو سوچا وشہ کو بھی لے آؤں اور آپ سے بھی مل لوں” کرسی پر ٹکتے اس نے نے بھی چہرے پر مسکراہٹ سجا کر جواب ديا۔

پرنسپل يکدم چونکی۔

“وشہ کو تو تھوڑی دير پہلے اس کے فادر لے کر گۓ ہيں۔ مجھے غازی کا فون آيا تھا۔ اس نے نام اور کانٹيکٹ نمبر بھی ديا تھا۔ آپ کو نہيں پتہ کيا” پرنسپل کی بات پر مناب کی ہوائياں اڑيں۔

اس کی پھٹی پھٹی نگاہوں کی وحشت پر پرنسپل کچھ مشکوک نظروں سے اسے ديکھنے لگی۔

“آپ کو علم نہيں کيا۔۔ غازی تو بتا رہا تھا کہ اس کے فادر واپس آگۓ ہيں۔۔فاتک ہی نام ہے نا وشہ کے فادر کا” وہ پھر عجيب سی نظروں سے مناب کو ديکھنے لگی۔

مناب نے بمشکل خود کو سنبھالا۔

“جی جی وہ ميں اصل ميں صبح سے ليٹی ہوئ تھی طبيعت ٹھيک نہيں تھی۔ تو مجھے پتہ نہيں چلا کب فاتک اسے لينے آگۓ ۔۔ ميں ۔۔ميں اب چلتی ہوں” مناب عجلت ميں اٹھی۔

اسے خداحافظ بھی نہ کہا اور تيزی سے اسکے آفس سے باہر نکلی۔

غازی نے کال کی۔۔۔يہ بات اسے ہضم نہيں ہورہی تھی۔

کچھ سوچ کر ايڈمن آفس پہنچی۔

وہاں ريسيپشنسٹ بيٹھی تھی۔

“ابھی کچھ دير پہلے جو وشہ کو لے گۓ ہيں۔ ان کا کانٹيکٹ نمبر مل سکتا ہے۔” اپنے لہجے کو فريش بنانے کی ناکام کوشش کی۔

“آپ کون ہيں” اپنے سامنے لکھے نمبر کو ايک نظر ديکھتے اس نے مناب سے پوچھا۔

“ميں ۔۔۔ميں اسکی خالہ ہوں۔ ميرا موبائل آف ہوگيا ہے اور ميں نے انہيں کال کرنی ہے۔ مجھے نمبر زبانی ياد نہيں تو ميں کسی پی سی او سے کروں گی۔ آپ پليز نمبر اگر مجھے دے ديں تو مہربانی ہوگی” اتنا تيز اس کا دماغ کبھی زندگی ميں نہيں چلا تھا جتنی تيز اب چل رہا تھا۔

“جی جی ضرور” وجہ ايسی تھی کہ اس لڑکی کو مانتے ہی بنی۔

“آپ کو تو پتہ ہے کہ موبائلز کی وجہ سے اب کسی کا نمبر بھی ياد نہيں رہتا” اس نے اپنی بات ميں مزيد وزن پيدا کیا ۔

“بالکل ايسا ہی ہے۔ ميم يہ نمبر ہے” اس نے فورا دوسرے پيج پر وہی نمبر لکھ کر مناب کی جانب بڑھايا۔

“بہت شکريہ۔” مناب نے ديکھے بنا جلدی سے پرچی تھام کر باہر کی جانب قدم بڑھاۓ۔

گاڑی ميں بيٹھ کر غصے سے زور زور سے ہاتھ اسٹيرنگ پر مارے۔

جس کا ڈر تھا وہی ہوا۔

دل کيا چيخ چيخ کر روۓ۔ آنسو تو بہنے ہی تھے۔ مگر خاموشی سے بہے۔

نفرت سے اس نمبر کو ديکھا تو کچھ جانا پہچانا محسوس ہوا۔

سر جھٹک کر جلدی جلدی نمبر ڈائل کيا تو اسکے کانٹيکٹ لسٹ ميں وہی نمبر اسی اجنبی کے نام سے جمگايا جو کچھ دن پہلے مناب کو تنگ کررہا تھا اور مناب اس کی کھوج ميں تھی۔

دماغ سائيں سائيں کررہا تھا۔

‘تو کيا وہ ميرے آس پاس تھا اور ميں جان ہی نہ سکی۔’

آنسو يکدم روکے۔

خود پر قابو پاتے نمبر ملايا۔

_______________

فاتک وشہ کو لئے سالٹ اينڈ پيپر آيا۔

“وشہ۔۔آپ کو کچھ بتانا ہے” آج وہ وشہ کو اپنی اور اسکے درميان موجود تعلق کی حقيقت سے آگاہ کرنا چاہتا تھا۔ طوفان تو آچکا تھا اب اس طوفان کی موجوں کو بڑھتے اور پھر ٹہرتے ديکھنے کا وقت تھا۔

“جی” وشہ اپنے سامنے رکھے سينڈوچز کے ساتھ انصاف کرتے ہوۓ بولی۔

“ميں آپ کو کيسا لگتا ہوں” فاتک کو سمجھ نہ آيا حقيقت بتاۓ کيسے۔

“آپ مجھے بہت زيادہ اچھے لگتے ہيں” وشہ نے معصوميت سے آنکھيں بند کرکے بہت پر زور ديا۔

“گڈ” وہ لمحہ بھر کو رکا۔

“اگر ميں کہوں کہ ميں۔۔۔ميں ہی آپکا فادر ہوں۔۔مطلب ميں آپ کا پاپا ہوں۔آ۔۔۔آپ ميری بيٹی ہو” فاتک نے بالآخر اٹکتے ہوۓ وشہ کو حقيقت بتا ہی دی۔

وشہ بچی تھی مگر ذہانت کی وجہ سے چيزوں کو جلدی سمجھتی اور محسوس کرتی تھی۔

اس کا چلتا منہ يکدم رکا۔ نظريں چند لمحوں کے لئے فاتک کے مسکراتے چہرے پر رکيں۔ جيسے وہ اسے يقين دلا رہا ہو۔

“اگر آپ ميرے پاپا ہيں۔ تو ممی کو اتنے برے کيوں لگتے ہيں؟اور ممی نے مجھے کبھی بتايا کيوں نہيں کہ آپ ميرے پاپا ہو؟” يہ فطری سوال تھے جو اسکے ذہن ميں آنے ہی آنے تھے۔

“وشہ ممی مجھ سے ناراض ہيں ميں جب باہر کے ملک گيا تھا تو ممی سے لڑائ کرکے گيا تھا۔ اسی لئے ممی کو ميں برا لگتا ہوں” فاتک نے اسکے ذہن کے مطابق اسے بتايا۔

“پھر تو آپ واقعی برے ہيں” وشہ نے بغیر لحاظ کہا۔

فاتک اسکی بات پر حيران ہوا۔ اسے وشہ سے اتنی بھی صاف گوئ کی اميد نہيں تھی۔

“جو ميری ممی سے لڑائکرتا ہے اور انہيں تنگ کرتا ہے مجھے وہ اچھا نہيں لگتا” وہ نفی ميں سر ہلاتے ہوۓ بولی۔

“مگر اب ميں ممی سے سوری کرنا چاہتا ہوں۔ ان سے دوستی کرنا چاہتا ہوں۔ وشہ ميری مدد کرےگی” فاتک نے بے چاری سی صورت بنا کر کہا۔

اسی لمحے اسکا موبائل بج اٹھا۔

نظريں مناب کے نمبر کو موبائل کی اسکرين پر بلنک ہوتا ديکھ کر حيران رہ گئيں۔

جھٹ پٹ فون اٹھايا۔

“ہيلو” فاتک نے کسی قدر بے يقينی سے فون اٹھايا جيسے دوسری جانب مناب ہو بھی کہ نہيں۔

“ميری بيٹی کہاں ہے” بغير کچھ اور کہے اور سنے وہ غصے ميں بولی۔

“مناب” وہ سرگوشی کے سے انداز ميں اس کا نام بولا۔

وہ ابھی تک بے يقين تھا کہ مناب نے خود اس کو کال کی ہے۔

“ميں اجنبی لوگوں کے منہ سے اپنا نام سننا پسند نہيں کرتی۔ مجھے صرف يہ بتائيں کہ ميری بيٹی کہاں ہے۔ وہ تو اللہ کا شکر ہے کہ آج ميں چھٹی پر تھی ورنہ آپ تو ميری بيٹی کو لے کر فرار ہو رہے تھے۔ ابھی تو رات کے جھٹکے سے ميں سنبھل نہيں پائ۔ ايک اور جھٹکا دينے چلے تھے” وہ غصے سے بس بولتی ہی چلی گئ۔

“ميں ہر گز وشہ کو۔۔۔”

“اور آپ۔۔۔آپ کو پتہ کيسے چلا ميری بيٹی کا۔۔۔مجھے ابھی اور اسی وقت ميری بيٹی واپس کريں۔ سمجھ آئ آپ کو” وہ حلق کے بل چلاتے اسکی بات کاٹ گئ۔

وہ سخت پريشان اور بدگمان تھی۔

اسے ايسا ہی لگا کہ فاتک وشہ کو اس سے چھيننا چاہتا ہے۔

صبغہ کے الفاظ دماغ ميں گونج رہے تھے۔

“اگر انہيں اپنی بيٹی کا پتہ چلا تو کيا وہ آئيں گے نہيں” کون تھا کس نے بتايا تھا فاتک کو۔

غازی سے تو دو دو ہاتھ کرنے ہی تھے۔ مگر پہلے بيٹی کو واپس لينا ضروری تھا۔

“اوکے آپ ميرے ہوٹل ميں آجاؤ جہاں ميں ٹھہرا ہواہوں کيونکہ آپ جس حد تک پہنچی ہوئ ہو ميں کسی پبلک پليس پر کوئ تماشا افورڈ نہيں کرسکتا” فاتک نے سنجيدگی سے کہتے اسے اپنے ہوٹل کا نام اور روم نمبر بھی بتايا۔

مناب نے فون رکھتے ہی گاڑی سٹارٹ کی۔

فاتک بھی وشہ کو لے کر فورا اپنے ہوٹل کی جانب گاڑی بڑھا لے گيا۔

___________________

ريش ڈرائيونگ کرتے وہ غصے اور تکليف دونوں کيفيتوں سے بيک وقت گزر رہی تھی۔ مسلسل آنسو صاف کررہی تھی۔

کس مشکل سے گاڑی چلا بلکہ اڑا رہی تھی يہ وہی جانتی تھی۔

دماغ ميں اس وقت کچھ تھا تو وہ وشہ سے دوری تھی۔ جو وہ کسی صورت برداشت نہيں کرسکتی تھی۔

مطلوبہ ہوٹل کے سامنے گاڑی رکتے ہی وہ تيزی سے باہر نکلی۔

گاڑی لاک کرکے تيز تيز قدم اٹھاتی وہ اندرونی حصے کی جانب بڑھی۔

“کمرہ نمبر 33 کس اسٹوری پر ہے” کپکپاتی آواز کو بمشکل قابو کئيے وہ ريسپشن سے پوچھ رہی تھی۔

“سيکنڈ فلور پر ميم” وہاں موجود بندے نے کسی قدر تعجب سے اسکے ستے اور متورم چہرے کو ديکھا۔

تيزی سے لفٹ کی جانب بڑھی۔ لفٹ آنے ميں ابھی دير تھی وہ وہيں سے مزيد انتظار کئيے بنا سيڑھيوں کی جانب بڑھی۔

دل لگتا تھا بند ہوجاۓ گا۔

کيا کيا وہم نہ ستا رہے تھے۔

دوسرے فلور پر پہنچتے ہی لمبی راہداری سے گزرتے ايک ايک روم کا نمبر پڑھتی ہوئ آگے بڑھ رہی تھی۔

آخر دائيں جانب روم نمبر 33 نظر آتے ہی قدم روکے لمبے لمبے سانس لے کر ہمت مجتع کرتی دروازہ کھٹکھٹايا۔

ہاتھوں کی انگلياں بے دردی سے موڑ رہی تھی۔

دوسری جانب بھی فاتک جيسے انتظار ميں ہی بيٹھا تھا۔

عجلت ميں دروازہ کھولا۔

دروازہ کھلتے ہی دونوں آمنے سامنے تھے۔ چھ سال بعد جذبات، حالات اور وقت سب بدل چکا تھا۔ حتی کہ شايد دل بھی

مناب نے سب سے پہلے نفرت سے نظريں ہٹائيں۔

فاتک کے ايک جانب سے نکلتی تيزی سے اندر کی جانب بڑھی۔

“ممی” وشہ اسے ديکھ کر نہ صرف حيران ہوئ بلکہ کسی قدر خوش بھی ہوئ۔

مناب اس کے قريب جاتے ہی اس بازوؤں ميں بھر کر شکر کا کلمہ پڑھنے لگی۔

بے دريغ اسکے چہرے پر بوسوں کی بارش کی۔ بار بار اسے خود ميں بھينچتے اسے يقين نہيں آرہا تھا کہ وہ وشہ کو پھر سے ديکھنے اور خود سے لپٹانے کے قابل ہے۔ وسوسے لمحہ بھر کو دم توڑ گۓ۔

“ممی آپ ايسے کيوں پيار کررہی ہيں۔” وشہ منہ بسور کر بولی۔

مناب کی آنکھوں سے بس آنسو جاری تھے۔ زبان تالو سے چپکی کچھ بولنے کی ہمت نہيں کرپارہی تھی۔

گلا رندھ گيا تھا رو رو کر۔

وہ وشہ کے قريب ہی زمين پر دو زانو بيٹھی تھی جب فاتک نے پانی گلاس ميں بھر کر اسکی آنکھوں کے سامنے کيا۔

مناب جيسے ہوش ميں آئ۔

ايک لمحہ کے لئے اپنے سامنے کھڑے فاتک کو ديکھا۔ پھر نخوت سے وہی گلاس ہاتھ مار کر ايک جانب اچھالا۔

“آپکی ہمت کيسے ہوئ ميرا پيچھا کرنے کی۔۔کيا سوچ کر آپ نے يہ گھٹيا حرکت کی۔۔” زمين سے اٹھ کر اب وہ اسکے مقابل کھڑی حساب مانگ رہی تھی۔

اور حساب تو اسے مانگنا ہی تھا ہر اس پل کا جس نے مناب سے اسکی ہر خوشی چھينی تھی۔

“ميرا مقصد تمہيں تکليف اور دکھ دينا نہيں تھا ميں تو صرف” گلاس کی ٹوٹی کرچياں ديکھتے فاتک نے سر اٹھا کر اسکی جانب ديکھا۔

بليک اور گرے کرتے شلوار ميں دوپٹے کو اسکارف کی صورت گلے ميں ڈالے وہ آج بھی فاتک کے دل کی دھڑکنيں منتشر کررہی تھی۔

“دکھ اور تکليف” وہ طنزيہ مسکراہٹ اس پر اچھال کر وشہ کو اپنے اور بھی پاس کرتے بولی۔

“آپ نے اور ديا ہی کيا ہے دکھ اور تکليف کے علاوہ۔۔۔آپکے منہ سے يہ شرمندہ الفاظ اچھے نہيں لگتے۔ آپ تو وقت کے فرعون ہيں۔۔ جسے چاہيں روندھ ديں۔” اسکے چٹانوں سے سخت تاثرات کی نسبت فاتک کے تاثرات ٹھہراؤ لئے ہوۓ تھے۔

جاری ہے

Episode 15

وہ حق بجانب تھی اور فاتک کے پاس اف تک کرنے کی گنجائش نہيں تھی۔

وشہ سہم کر ماں کا يہ روپ ديکھ رہی تھی۔ وہ اس طرح غصے ميں تو کبھی نہيں آئ تھی۔

“آئندہ مجھ سے اور ميری بيٹی سے جتنا دور ہو سکے رہئيے گا۔ آج تو ميں برداشت کرگئ ہوں۔ مگر آئندہ يہ حرکت برداشت نہيں کروں گی۔ آپ کيا سمجھ کر ميری بيٹی تک آئے تھے۔ ارے آپ ہيں ہی کون اس کے۔۔۔۔کچھ نہيں آپ نہ ميرے نا وشہ کے۔۔ہم سے دور رہيں” وہ اسے وارننگ دے رہی تھی۔

“ايسے مت کہو” وہ دکھ بھرے لہجے ميں بولا۔

“يہ سخت الفاظ اور لہجہ آپ ہی کی مرہون منت ہے۔ خير ميں يہاں کوئ اور بات کرنے نہيں آئ۔ ميری بيٹی کے آس پاس بھی نہ بھٹکئيے گا۔۔۔۔ورنہ پھر ميں عدالت کی جانب سے ہی آپ سے بات کروں گی” فاتک تو اسکے انداز ديکھ کر حيرت زدہ تھا۔ زبان ساتھ دينے سے انکاری تھی۔

“ميری بات تو سنو” فاتک التجائيہ انداز ميں بولا۔

“نہيں سننا کچھ نہيں سننا۔۔کوئ اور ڈرامہ۔۔۔۔نہيں ميں مزيد افورڈ نہيں کرسکتی۔۔۔ميں کسی اور رشتے سے يہاں نہيں آئ۔۔آپ کون ہيں۔ ميں نہيں جانتی ميں جاننا بھی نہيں چاہتی۔ آپ صرف ايک اجنبی ہيں اور اس سے زيادہ کچھ نہيں” وہ اپنی نفرت اسکے کانوں ميں انڈيل رہی تھی۔ اسے بولنے کا موقع ہی نہيں دے رہی تھی

“ميں وشہ کو آپ سے الگ کرنے کے لئے يہ سب نہيں کررہا۔ مجھے يہ کرنا ہی نہيں۔۔۔آپ غلط سمجھ رہی ہو” آخر وہ زور سے بولا۔

“آپ يہ کربھی نہيں سکتے” وہ ايک ايک لفظ پر زور دے کر بولی۔

“ہاں ميں ايسا نہيں کرسکتا۔۔۔ميں اپنی بيٹی”

“نہيں ہے يہ آپکی کچھ۔۔۔۔يہ صرف اور صرف مناب کی بيٹی ہے۔ سمجھے آپ” اسکی آدھی ادھوری بات مناب کے دل کو چير گئ۔

“يہ مت کرو مناب” وہ اسکی بات کا مفہوم سمجھتے گويا گڑگڑايا۔

“کيا نہ کروں کيا۔۔۔۔آپ کا اس پر کوئ حق نہيں۔۔۔” ضبط کرتے کرتے بھی آنسو آنکھوں سے بہہ نکلے۔ وہ اس کٹھور انسان کے سامنے مضبوط رہنا چاہتی تھی مگر يہ جذبات۔۔۔۔۔۔۔۔

“فارگارڈ سيک مناب مجھے کچھ کہنے کا موقع تو دو۔۔” آخر وہ التجا کرنے لگا۔ وہ تو اسے کچھ بولنے دے ہی نہيں رہی تھی۔

“موقع۔۔۔۔؟” وہ کھوکھلے انداز ميں ہنسی۔

“کون سا موقع۔۔۔ميں يہاں کسی ماضی کی کوئ بات کرنا نہيں چاہتی۔۔ اسے ميں دفن کرچکی ہوں۔ اور مردوں کو دوبارہ ہم انسان زندہ نہيں کرسکتے۔” وشہ کا ہاتھ تھامے ايک آخری کڑی نگاہ فاتک پر ڈال کر وہ مڑ کر جانے لگی۔ مگر بازو فاتک کے ہاتھ ميں آچکا تھا۔

صدمے کے مارے وہ بے ہوش ہونے کو تھی۔ اب بھی وہ اتنی ہمت رکھتا تھا۔

ايک جھٹکے سے بازو چھڑوايا۔

“مجھ سے ہر تعلق آپ کا ختم ہو چکا ہے۔ سمجھے آپ” نفرت ہی نفرت تھی اس کے لہجے ميں۔۔

“مناب پليز معاف کردو۔۔ جو کچھ ہوا ميں جانتا ہوں” مناب نے آگے بڑھتے ہوۓ اسکے الفاظ کو سننا بھی گوارا نہ کيا۔

وہ کيسے اسے مارجن ديتی۔ وہ کيسے اسکی کوئ فرياد سنتی اس نے کچھ چھوڑا ہی نہيں تھا پيچھے۔

وہ کس برتے پر اسے معاف کرتی۔ فاتک نے تو اسکی پوری زيست ہلا کر رکھ دی تھی۔

وہ اسے اب ديکھنے کی بھی روادار نہيں تھی کجا کہ اسکی سنتی۔

فاتک بے بسی سے اسے جاتا دیکھتا رہا

يہ سب اتنا آسان تھا نہيں۔

اور اتنا آسان اس سب کو ہونا بھی نہيں چاہئيے تھا۔

_________________

غازی کام ميں بری طرح منہمک تھا۔ آج تو کام بے حد تھا کہ اسے کچھ فائلز گھر بھی لے کر آنی پڑيں۔ ليپ ٹاپ پر فرنيچرز کے نيو ڈيزائن بنا رہا تھا۔

ارتکاز موبائل پر بجنے والی بپ سے ٹوٹا۔

موبائل پر نظر ڈالی۔ صبغہ کا نام بلنک کرتا ديکھ کر وہ مسکراۓ بغير نہ رہ سکا۔ آج صبح ميں ہی واجد نے عارفہ کو پيغام بھجوايا تھا کہ وہ جلد رخصتی کرنا چاہ رہے ہيں۔ گھر والوں سے مشورہ کرکے جواب ديں۔ تاکہ اسی مہينے کی کوئ تاريخ رکھی جاسکے۔

غازی کو اميد تھی جوں ہی يہ خبر صبغہ تک پہنچی اس کا فون لازمی آۓ گا۔ اور وہی ہوا۔

“السلام عليکم” مسکراتے لہجے ميں سلام کيا۔

“وعليکم سلام” دوسری جانب سے روٹھے لہجے ميں جواب آيا۔ غازی کی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوئ۔

“کيسی ہو؟” غازی نے جان بوجھ کر گويا چھيڑا۔

“بالکل بھی ٹھيک نہيں۔۔اور ہو بھی نہيں سکتی۔ يہ ماموں کو کيا ہوگيا ہے۔ کيسی باتيں کررہے ہيں” وہ روہانسی لہجے ميں بولی۔

غازی نے مسکراتے ہونٹ لحظہ بھر کو دبائے۔

“کيوں کيا ہوا۔ ميرے ابا جی نے اب کيا کرديا” انجان بننے کی بھرپور ايکٹنگ کی۔

“مجھے شک نہيں بلکہ يقين ہے کہ يہ سب آپ کر رہے ہيں۔ آپ کے علاوہ کسی کو اب تک ہماری شادی ياد نہيں تھی۔ اور پچھلے کچھ عرصے سے آپ کے دماغ ميں يہی کيڑا پل رہا ہے” وہ وثوق سے بولی۔

“بہت ذہين ہيں آپ۔۔۔بہت آگے تک جائيں گی” وہ بات بنانے لگا۔

“وقت ديں گے تو آگے تک جاؤں گی۔ اب اس نۓ کھڑاگ ميں پڑھوں گی کيسے” صبغہ نے دہائ دی۔

“تو پڑھنے سے کون روک رہا۔ جتنا دل چاہے پڑھ لينا” غازی نے اب کی بار سنجيدگی سے مشورہ ديا۔

“واہ واہ۔۔۔اتنا ہی تو آسان ہے نا۔۔۔خود تو ايم بی اے کرليا۔۔اور مجھے بی اے آنرز تک کرنے نہيں دے رہے۔ ميری تو سمجھ سے باہر ہے آخر يہ اچانک سوجھی کيا ہے۔ يہ خيال آيا بھی کيوں ہے۔۔ايسی کون سی آفت آگئ ہے” اس کا صدمہ کم ہونے ميں نہيں آرہا تھا۔

“کوئ آفت آۓ گی تو کيا تب ہی ہماری شادی ہوگی؟” غازی برا منا کر بولا۔

“نہيں ميرا يہ مطلب نہيں۔ ابھی تو ہم فاتک بھائ اور آپا والے مسئلے کو سلجھا رہے تھے۔ اور پھر اچانک يہ۔۔۔۔” وہ بات ادھوری چھوڑ گئ۔

“يہ اسی کی ايک کڑی ہے” آخر غازی کو اسے اعتماد ميں لينا پڑا۔

“کيا مطلب۔۔۔؟” وہ چونکی۔

“ہماری شادی کا موقع بہترين موقع ہوگا جب ہم فاتک کو واپس اس گھر ميں لاسکتے ہيں۔ اگر بابا پر رہے تو وہ کبھی بھی بھائ کو آنے نہيں ديں گے۔ شادی کے موقع پر اتنے مہمانوں کے سامنے وہ بھائ کو اس گھر ميں آںے سے روک نہيں سکتے اور نہ ہی بھابھی” غازی کا آئيڈيا کسی طور برا نہيں تھا۔

“اور اسی لئے ميں نے داؤد چاچو کو اپنے ساتھ ملايا۔اب بابا سے ميں خود تو نہيں کہہ سکتا تھا کہ ہماری شادی کريں۔ چچا کے ذريعے يہ بات ان تک پہنچائ اور اب وہ پرجوش ہو چکے ہيں۔ ہمارا کام آسان ہوگيا ہے”

غازی نے اسے سب تفصيل بتائ۔

“کيا ہماری شادی کے بغير يہ کام نہيں ہو سکتا تھا” وہ بيزاری سے بولی۔

“آپ کو ايشو کيا ہے۔ شادی سے مسئلہ ہے يا مجھ سے۔۔۔آج يہ بات بھی کلئير کر ليں” غازی اب خطرناک حد تک سنجيدہ ہوا۔ وہ اس کا مسئلہ سمجھنے سے قاصر تھا۔ وہ ان کے رشتے سے کيوں اتنی اکتائ رہتی تھی۔

“نہيں ۔۔۔يہ بات نہيں۔ مگر مجھے سمجھ نہيں آتی لوگ شادی کيوں کرتے ہيں۔ اور جب کرليتے ہيں تو بعد ميں کيا کرتے ہيں۔ آخر شادی ہی ہر مسئلے کا حل کيوں ہے۔۔مجھے تو لگتا ہے يہ مسئلوں کی شروعات ہے” صبغہ نے اپنے دل کی باتيں بالآخر بتانا شروع کيں۔

غازی کا دل کيا اپنا سر پيٹ لے۔ بے تکی وجوہات۔۔۔

“اسی لئے کہہ رہاہوں ايک بار شادی کرليں سب سمجھ آجاۓ گا کہ لوگ شادی کيوں کرتے ہيں اور شادی کے بعد کيا کرتے ہيں۔”غازی کی آواز کی گھمبيرتا اسے احساس دلا گئ کہ وہ کافی غلط بول گئ ہے۔

“ويسے کيا آپ اس دنيا ميں واحد عجيب پيس ہيں۔يا دو چار اور بھی ہيں” غازی اچھی طرح باخبر تھا کہ اس کی بات کی گہرائ يقينا دوسری جانب اثر دکھا چکی ہے۔

اس کی حالت پر رحم کھاتے وہ بات ہی پلٹ گيا۔

“الحمداللہ ايسا انوکھا پيس ميں ايک ہی ہوں” وہ اسکی بات ميں چھپا طنز جان کر ناراض لہجے ميں بولی۔

“آپ اور آپ کی منطقيں ميں کبھی نہيں سمجھ سکتا۔۔۔آخر ميرے ساتھ ہی آپکی ساری بيزاری کيوں عود کر آتی ہے۔ باقی سب سے تو آپ نارمل انداز ميں بات کرتی ہو ميرے ساتھ ہی اوٹ پٹانگ کيوں ہانکتی ہو؟” غازی بھی آج ہر سوال پوچھنے پر تلا ہوا تھا۔ اسکی ذات کا ہر پہلو جاننے پر مصر تھا۔

“آپ کہنا چاہ رہے ہيں کہ ميں آپکے ساتھ ايبنارمل ہوجاتی ہوں” وہ مزيد برا منا گئ۔

“ایسی باتيں اگر نارمل انسان کرتے ہيں تو مجھے دکھا ديں۔ لڑکياں خوش ہوتی ہيں نکاح ہونے پر۔۔آپ تب بھی بيزار تھيں۔۔۔پھر جب کوئ گفٹ ديا تب آپکا غصہ ناک پر تھا۔۔ اور اب جب شادی کی بات ہو رہی ہے تو فرما رہی ہيں شادی کا کيا فائدہ ہے۔۔مطلب آپ نے سوچا ہوا ہے کہ مجھے ہر بيزاری دکھانی ہے۔۔ميرے ساتھ کبھی اس رشتے کی خوبصورتی کو انجواۓ نہيں کرنا” غازی يوں بول رہا تھا جيسے اس کی رگ رگ سے واقف ہو۔

صبغہ اپنی ہنسی بمشکل روک پائ۔

“آپ تو تشريح ہی کرنے لگ گۓ ہيں”مسکراہٹ دباۓ بھی اسکے لہجے سے غازی جان گيا تھا کہ وہ مسکرا رہی ہے۔

“ہاں تو کيا کروں۔۔۔ميں تو اب تشريح کيا ديوان لکھنے کا سوچ رہا ہوں اور اس کا نام رکھوں گا۔محبت ميں بيزاری” اب کی بار غازی کی بات پر وہ اپنی کھلکھلاتی ہنسی روک نہيں پائ۔

“ايک اور تجزيہ کيا ہے ميں نے” غازی ايک اور انکشاف کرنے لگا۔

“اچھا وہ کيا” صبغہ مزے سے بولی

نجانے کيوں يہ شخص اسے اپنی جانب مائل کرنے ميں کامياب ہوگيا تھا۔

“وہ يہ کہ۔۔آپ يہ سب باتيں جان بوجھ کر اسی لئے کرتی ہيں کہ کہيں غلطی سے بھی ميں کوئ رومانٹک بات نہ کردوں” غازی کی بات غور سے سنتے وہ پھر سے کھلکھلائ

“آپ تو واقعی ذہين ہيں” وہ اسے چڑانے کے سے انداز ميں بولی

“جان چکا ہوں ميں۔۔فکر نہ کريں اب اسی لئے پکا کام کررہا ہوں۔ ويسے تو آپ پروں پر پانی پڑنے نہيں ديتی۔ اب گن گن کے بدلے لوں گا” غازی نے اسے ڈرانا چاہا پر وہ بھی صبغہ تھی کہاں کسی سے ڈرتی۔

“جی جی۔۔۔۔شيخ چلی کو ايسے ہی خواب آسکتے ہيں”

“يہ تو وقت بتاۓ گا” غازی نے گويا چيلنج کيا۔

“اب انکار تو نہيں ہوگا نا؟” غازی نے يقين دہانی چاہی۔

“اور اگر يہ طريقہ کامياب نہ ہوا” اس نے اپنا خدشہ ظاہر کيا۔

“نہيں مجھے اور چاچو کو پوری اميد ہے کہ يہ پلين کامياب ہوگا۔ اور اگر بھابھی کی جانب سے کوئ ايشو ہوا کيا آپ وہاں اسٹينڈ لوگی؟” غازی نے اسے شش و پنج ميں ڈالنا چاہا۔ مگر وہ پرسکون تھی۔

“ميں اپنی بہن کی خوشيوں کے لئے اب کسی بھی حد تک جا سکتی ہوں “صبغہ سچے دل سے بولی

“تھينکس” غازی نے تشکر آميز لہجے ميں کہا۔

“چليں آپ ريسٹ کريں ميں پينڈنگ کام کرلوں۔۔ميرا کافی وقت برباد کرديا آپ نے” غازی اسے تنگ کئے بنا نہيں رہ سکا۔

“اچھا ويسے شادی کے چاؤ اور ويسے ميں وقت برباد کرتی ہوں۔ اونہہ۔۔۔۔ اللہ حافظ” اس نے کھڑاگ سے فون بند کيا۔

غازی جان گيا خوامخواہ کا نخرہ دکھايا ہے۔

مسکرا کر اسے واٹس ايپ پر زبان چڑانے والا اموجی بھيجا۔

ابھی فون رکھا ہی تھا کہ دروازے پر دستک کی آواز آئ۔

حيران ہو کر وقت ديکھا تو رات کے گيارہ بج چکے تھے۔

بيڈ سے اٹھ کر دروازے کی جانب بڑھا۔

دروازہ کھولا تو سامنے مناب روئ روئ شکل لئے کھڑی تھی۔

“بھابھی آپ۔۔خيريت اس وقت وشہ ٹھيک ہے؟” مناب کو يوں اجڑی حالت ميں ديکھ کر وہ پريشان ہو اٹھا۔

“ہاں مجھے کيا ہوناہے۔ مجھ جيسی ڈھيٹ کو کچھ نہيں ہوسکتا۔ باہر آؤ مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے لان ميں آؤ” ايک کاٹ دار نظر اس پر ڈال کر اسے باہر آنے کا کہتی خود باہر کی جانب چل پڑی۔

_________________________

غازی چپل پہن کر فورا باہر آيا۔ الجھا الجھا پريشان سا۔

دماغ نے سگنل ديا کہ وہ فاتک کے بارے ميں جان گئ ہے۔

باہر لان ميں آيا ہلکی سی خنکی تھی۔ لان ميں موجود بينچ پر مناب بيٹھی نظر آئ۔ دونوں ہتھيلياں بينچ پر دائيں بائيں رکھے کسی غير مرئ نقظے کو زمين ميں کھوج رہی تھی۔

غازی خاموشی سے چلتا ہوا بينچ کے دوسرے کونے پر بيٹھ گيا۔

اسکے بيٹھتے ہی مناب کے وجود ميں ہلکی سی جنبش ہوئ۔ گردن موڑ کر چپ چاپ اسکے چہرے کو ديکھتی رہی۔

غازی کو اسکی نظريں بہت عجيب لگيں۔

“کيا ہوا ہے بھابھی” آخر اسے پوچھنا پڑا۔

“تمہيں کب سے پتہ تھا کہ فاتک يہاں پاکستان ميں ہيں” اس نے کوئ لگی لپٹی رکھے بنا سيدھا سوال کيا۔

غازی گڑبڑايا

“کوئ جھوٹ نہيں” اسکے نظريں چرانے کو ديکھ کر مناب نے فورا ہاتھ کی انگلی اٹھا کر اسے وارن کيا۔

غازی سب بتاتا چلا گيا۔

“اور اور۔۔۔ تم نے اسے وشہ کا بتا ديا” وہ بے يقينی سے غازی کو ديکھ رہی تھی جو کچھ عرصہ پہلے تک فاتک سے نفرت کرتا تھا۔

“بھابھی وہ اسکی بھی بيٹی ہے” غازی کو آخر کہنا پڑا۔

“نہيں وہ صرف ميری بيٹی ہے۔۔صرف ميری۔ فاتک کا اس پر کوئ حق نہيں۔ ارے جس نے پلٹ کر ديکھا ہی نہيں کہ ميں زندہ ہوں کہ مر گئ۔ جسے يہ پتہ ہی نہيں کہ ميری اولاد بھی ہے۔ جسے يہ پتہ ہی نہيں کہ اولاد کی تکليف کيا ہوتی ہے اسے ميں کيسے اپنی اولاد سونپ دوں۔” وہ دکھ سے بولی۔

“اور غازی تم۔۔ تم تو ميرے حال سے واقف ہو۔ ميں سوچ بھی نہيں سکتی تھی مجھے ہر لمحہ بہن کہنے والا يوں رشتوں ميں تضاد کرے گا۔ مجھے بھابھی کے مقام پر ہی لا کھڑا کيا نا۔۔بہن کہا مگر سمجھا نہيں” اس کا ٹوٹا ہوا لہجہ غازی کو تکليف سے دوچار کررہا تھا۔

“بھابھی بہن سمجھا تو آپکی خوشيوں کے لئے بہت کچھ معاف کيا اور سب ايسا نہيں جيسا آپ سمجھ رہی ہيں” اس نے مناب کو سمجھانا چاہا۔

“بس کرو غازی اسکی وکالت مت کرو۔۔جس طرح تم نے ميرا مان توڑا ہے۔ آج فاتک کو وشہ کے سکول تک کا راستہ بتا ديا۔ مجھے تو اميد ہے کل کو تم وشہ کو ہی اسے دے دو گے۔ ميں اگر آج چھٹی نہ کرتی تو وہ تو لے گيا تھا وشہ کو۔۔وہ تو سکول جانے پر پتہ چلا کہ تم نے فاتک کو وشہ کے سکول کا بتايا ہے اور اسے لے جانے ميں تمہارا بھی ہاتھ تھا۔ غازی تم نے بہت بری طرح ميرا بھرو سہ توڑا ہے۔ اب اس کی وکالت کرکے رہا سہا مان بھی ختم مت کرو” آنسو گالوں پر رواں دواں ہوۓ۔

“بھابھی۔۔۔” وہ کچھ کہنا ہی چاہتا تھا کہ مناب نے ہاتھ اٹھا کر اسے روکا۔ آنسو صاف کرکے بمشکل اسکی جانب دیکھا۔

“اپنے بھائ سے کہو ميری زندگی کو ايک بار پھر جہنم مت بناۓ ميں بہت مشکل سے سنبھلی ہوں۔ وہ کيوں آيا۔۔۔۔اپنی دنيا ميں مگن تھا تو کيوں ميری دنيا پھر س برباد کرنے آيا۔۔۔اس سے کہو ميری ايک ہی خوشی ہے اب ۔۔۔اور وہ ہے وشہ۔۔اسے مجھ سے مت چھينے ميں اس سے کچھ نہيں مانگوں گی۔ کبھی نہيں مانگوں گی۔۔۔بس وہ جہاں سے آيا ہے وہيں چلا جاۓ۔۔پليز” اپنی بات پوری کرکے بنا اسکی کچھ سنے۔ مناب تيزی سے بينچ سے اٹھ کر اندر کی جانب بڑھی۔

وہ کچھ سننے کو تيار تھی ہی نہيں۔

غازی بے بسی سے بالوں ميں ہاتھ پھير کر رہ گيا۔

________________

ان دونوں کی شادی کی خبر خاندان بھر ميں پھيل چکی تھی۔ عارفہ کے پوچھنے پر صبغہ نے انکار نہيں کيا۔

غازی سے بات ہونے کے بعد وہ کافی ريليکس ہوگئ تھی۔

مناب اپنے غم ميں مبتلا تھی پھر بھی بہن کی خوشيوں ميں شريک ہونے کو پہنچ چکی تھی۔

آج ان سب نے باقاعدہ تاريخ لينے جانا تھا۔رات کے بعد سے مناب نے غازی کو کسی بات کا حوالہ نہيں ديا تھا۔ وہ نارمل تھی۔

وہ ناراض بھی ہوتی تو غازی شرمندہ نہيں ہوتا کيونکہ اسے مناب اور فاتک کے لئے ہر حد تک جانا تھا۔ ابھی تو آغاز تھا۔

شام ميں وہ سب عارفہ کے گھر باقاعدہ مٹھائياں لے کر پہنچ چکے تھے۔ سب قريب قريب ہی رہتے تھے لہذا سب ہی جمع ہوگۓ۔ صبغہ ابھی کمرے سے باہر نہيں آئ تھی۔

“جاؤ مناب صبغہ کو بھی لے آؤ” ناز نے ہولے سے مناب کو اشارہ کيا۔

وہ سر ہلا کر صبغہ کے کمرے کی جانب بڑھی۔ اس سے اکيلے ميں کچھ ضروری باتيں کرنی تھيں۔ اور يہ وقت اس کے لئے موضوع تھا۔

دروازے پر ہولے سے ناک کرکے دروازہ کھولا۔

صبغہ سامنے ہی بيڈ پر تيار بيٹھی کسی سوچ ميں گم تھی۔

بے دھيانی سے دروازے کی جانب ديکھ رہی تھی۔

مناب کو اندر آتا ديکھ کر ہولے سے مسکرائ۔

مگر مناب مسکرا نہيں سکی۔ خاموشی سے دروازہ بند کرکے اسکے پاس بيڈ کے قريب آئ۔

صبغہ اسکی سنجيدہ صورت ديکھ کر تھوڑا سا الجھی۔

غازی نے صبغہ کو ابھی تک يہ نہيں بتايا تھا کہ مناب فاتک سے مل چکی ہے۔

“کيسی ہو” سنجيدگی سے ہی اسے ديکھا۔

“بالکل ٹھيک۔ تمہيں کيا ہوا ہے آپا۔۔سب خير ہے” اس کا الجھنا بنتا تھا۔

“صبغہ۔ تم چھوٹی ہو اسی لئے تمہاری ناسمجھی اور نادانی سمجھ کر تمہيں معاف کررہی ہوں۔ مگر يہ کوئ فلم نہيں کہ کوئ شخص کسی بے قصور انسان پر ظلم ڈھاۓ اور وہ بآسانی اسے معاف کردے۔” صبغہ کی الجھن ميں اضافہ ہوا۔

“کيا مطلب؟”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *