Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas NovelR50675 Teri Yaad Ki Anch (Episode 13)
Rate this Novel
Teri Yaad Ki Anch (Episode 13)
Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas
اسی لئے کہ اب وشہ بڑی ہورہی ہے وہ اپنے باپ کی کمی کو محسوس کرتی ہے۔ اور يہ کمی کوئ اور رشتہ کبھی پوری نہيں کرسکتا۔ اس سے پہلے کہ تمہارا يہ واحد اور اکلوتا رشتہ بھی کسی بدگمانی کی نظر ہو کر تمہيں چھوڑ دے۔ ميں چاہتی ہوں تم اسے اب حقيقت بتاؤ۔ اسکے باپ کی شکل اور اسکی تصوير سے روشناس کرواؤ۔ اور اگر تم نے اب بھی يہ سب اس سے چھپايا تو مجھے ڈر ہے وہ اتنی سی ہی عمر ميں تم سے بدگمان ہوجاۓ گی۔اس نے لمحے بھر کا توقف کيا “
“آپا يہ ميرے اور تمہارے دور کے بچے نہيں ہيں۔ جو اپنی خيالی دنيا ميں جئيے۔ جنہيں بڑوں سے بات کرنے سے پہلے سو بار سوچنا پڑے۔ اور مجھے يہ يقين ہے اب نہيں تو مزيد ايک دو سال ميں يہ فاتک کے حوالے سے تمہيں اتنا زچ کرے گی۔
کہ تمہارے لئے اسکے سوالوں کا جواب دينا مشکل ہو جاۓ گا۔ تمہارے خيال ميں اگر اسے اپنی اولاد کا پتہ چل جاۓ تو کيا وہ کبھی آۓ گا نہيں؟” مناب کے چہرے سے ٹپکتی وحشت صبغہ کو تکليف دے رہی تھی مگر فاتک کے سامنے آنے سے پہلے اسے چند حقيتوں کا سامنا کروانا تھا۔
“نہيں ميں کبھی اس شخص کو وشہ کے بارے ميں پتہ چلنے نہيں چلنے دوں گی” کپکپاتی آواز کو مضبوط بنانے کی ناکام کوشش کرتی وہ بيڈ پر ٹوٹی ہوئ شاخ کی طرح بيٹھی۔ ايسے جيسے يہ سب سوچنے کے بعد اسکی ٹانگوں ميں جان نہ رہی ہو۔
“تم بچوں سی باتيں کررہی ہو۔ اتنی پريکٹکل مائنڈڈ ہو کر کس دنيا ميں رہ رہی ہو۔ تمہارے خيال ميں آجکل کے دور ميں کسی کے بارے ميں پتہ کروانا کوئ بہت مشکل کام ہے” صبغہ اسکی بچگانہ بات پر پرتاسف انداز ميں مسکرائ۔
“اسے تو ہم ميں سے کسی سے کوئ سروکار ہے ہی نہيں۔ ہوتا تو اتنے سالوں ميں کبھی تو آتا۔۔۔کبھی تو کوئ تعلق رکھتا” وہ فاتک کے بارے ميں نہ چاہتے ہوۓ بھی بات کررہی تھی۔
“کيا اس آخری کال کے بعد تم نے تعلقات کو جڑ سے اکھاڑ دينے کی پہل نہيں کی تھی” صبغہ نے اسے ايک بار پھر آئيںہ دکھايا۔ اسکا سم باہر پھينک دينے کا حوالہ ديا۔
“تو ۔۔تو تمہارے خيال ميں ميں انتظار کرتی کہ کب وہ مجھے يہاں سے بھی نکال ديتا۔ زندگی سے تو نکال ہی چکا تھا۔ نہ نکالتا تو مجھے اتنا غير اہم کبھی نہ جانتا” مناب کو صبغہ کے رويے کی سمجھ نہيں آرہی تھی۔
“کبھی کبھی بات وہ ہوتی نہيں جو ہم سمجھ بيٹھتے ہيں۔ خير ميں پھر يہی کہوں گی۔ کہ وشہ کو اب اسکے اصل کے بارے ميں بتاؤ۔ وہ تمہاری اولاد ہے۔ اللہ تمہاری محبتوں کو رائيگاں نہيں جانے دے گا جو تم نے اکيلے ماں اور باپ بن کر اسے دی۔ تم خوفزدہ ہو۔ آپا ماں کو اولاد کبھی چھوڑ ہی نہيں سکتی۔ اسکی عظمتوں کو اولاد کبھی بھلا نہيں سکتی۔ اگر ان محبتوں ميں کوئ کھوٹ۔ لالچ يا خودغرضی نہ آجاۓ اور تم اس وقت خود غرض بن کر وشہ کو حقيقت نہيں بتانا چاہتی” صبغہ سانس لينے کو رکی۔
“وہ تمہاری ہے اور تمہاری ہی رہے گی۔ باپ کی کمی ماں پوری کرديتی ہے مگر ماں کی کمی باپ پوری نہيں کرتا۔ وہ کبھی تمہيں چھوڑے گی نہيں۔ اگر تم وقت پر اسے سب بتادوگی۔ ہاں اگر تاخير کروگی تو وہ نہ تمہاری رہے گی نا ہی فاتک بھائ کی۔
اسکی شخصيت کو برباد مت کرو” صبغہ جو کچھ کہنے آئ تھی کہہ کر چلی گئ۔
اور يہ سب اس وقت مناب کے لئے بہت ضروری تھا۔
وہ سناٹے ميں چلی گئ
_______________________
“کتنی ليٹ آئ ہو تم” اسکی کوليگ فضا اسے ديکھ کر شکوہ کناں انداز ميں بولی۔
بڑی مشکل سے خود کو کمپوز کرکے وہ ڈنر کے لئے آئ تھی۔
“بس يار کچھ پرابلم تھا اسی لئے ابھی پہنچی ہوں” پھيکی سی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجاۓ وہ اس رنگ برنگے ماحول کا حصہ بننے کی کوشش کرنے لگی۔
ايسا لگتا تھا پورا شہر امڈ آيا ہے۔
رنگ و نور کا سيلاب تھا۔
“سب خيريت تھی؟” وہ مناب کا اترا چہرہ دیکھ کر يکدم پريشان ہوئ۔
“ہاں ہاں۔۔کوئ سيريس بات نہيں تھی۔” اس نے اپنے لہجے کو نارمل کيا۔
“گريٹ۔۔يار تمہيں پتہ ہے آج کا چيف گيسٹ کون ہے” وہ پرجوش انداز ميں بولی۔
“ہاں يار ۔۔ياد آيا سر نے بتايا ہی نہيں کہ چيف گيسٹ کے طور پر کس کو بلانا ہے” اس بھی ياد آيا کہ باس نے يہ بات تو صيغہ راز ميں رکھی تھی۔
“اچھا ہی کيا نہيں بتايا” وہ پھر جوشيلا انداز اپنا کر بولی۔
“کيوں اتنے برے ہيں کيا” وہ شرارتی انداز ميں ہلکا سا مسکراتے ہوۓ بولی۔
“ارے نہيں پاگل۔۔۔وہ تو۔۔۔”
“فضا” اسک کچھ بولنے سے پہلے ہی کسی نے فضا کو آواز دی۔
“آرہی ہوں” اسے بتاۓ بنا وہ تيزی سے آواز دينے والے کے تعاقب ميں گئ۔
مناب سر جھٹک کر اسکے جوشيلے انداز کو سوچ کر مسکرائ۔
ادھر ادھر ديکھا باس نظر نہيں آرہے تھے۔
ان کو سلام کرنا ضروری تھی۔
اپنی ہی دھن ميں وہ ايک جانب ديکھتی بڑھ رہی تھی کہ اپنے نام کی پکار پر بائيں جانب قدرے کونے ميں ديکھا۔
باس کسی کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔
“ادھر آئيے مناب” انہوں نے دور سے اسے پھر بلايا۔
وہ خوش کن مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ انکے پاس گئ۔
“اتنی دير سے آئيں” اسکے قريب پہنچتے ہی انہوں نے بھی فضا کی طرح شکوہ کيا۔
“بس سر۔۔نکلتے ہوۓ تھوڑا ٹائم لگ گيا” وہ بات بنا گئ۔ تيکھی نظر سے اس شخص کو ديکھا جو اسکے پاس آنے پر رخ قدرے موڑ کر کھڑا تھا۔
دل ہی دل ميں اسے ال مينرڈ ہونے کا خطاب ديا۔
“مناب يہ ہمارے آج کے چيف گيسٹ ہيں۔۔۔ فاتک يہ ہماری بہت محنتی امپلائ مناب ہيں” انکے تعارف کروانے پر وہ جو رخ موڑے کھڑا تھا سيدھا ہوتا اب کی بار مناب کی جانب مڑا تھا۔
مناب تو تعارف اور پھر اس شخص کو ديکھ کر زلزلوں کی زد ميں آگئ۔
بے يقين نظريں اپنے سے چند قدموں کے فاصلے پر کھڑے فاتک کو ديکھ رہی تھيں۔
مناب کے مقابلے ميں اسکے چہرے پر پرسکون کيفيت تھی۔
“کيسی ہيں آپ۔ آپکے باس کافی تعريف کررہے تھے آپکی”آنکھوں ميں شوق کا جہاں لئے وہ اسکے چہرے کو اتنے سالوں بعد اتنے قريب سے ديکھ رہا تھا۔
ايک کی نظروں ميں وحشت، بے يقينی، اور خوف تھا تو دوسرے کی نظروں ميں چاہت، محبت اور شوق کا ٹھاٹھيں مارتا سمندر تھا۔
مناب نے خود پر ضبط کرتے نظريں اسکے وجيہہ چہرے سے ہٹائيں۔
“ايکسکيوزمی سر” اردگرد کے ماحول کا احساس ہوا تو خود پر ضبط کے کڑے پہرے بٹھانے پڑے۔
ورنہ دل تو کر رہا تھا اسکا پرسکون چہرہ بگاڑ دے۔ اپنی خود ترسيوں کی داستان اسکے چہرے پر رقم کردے۔
مگر۔۔۔وہ ايسا نہيں کرسکتی تھی۔
اسی لئے چپ چاپ وہاں سے ہٹنے ميں عافيت جانی۔
محسن درانی نے اچھنبے سے مناب کے ہوائياں اڑتے چہرے کو ديکھا۔
“معذرت سر۔ شايد انکی طبيعت ٹھيک نہيں ہے” وہ فاتک کے سامنے شرمندہ ہوئے۔
“طبيعت تو اب ٹھيک رہنی بھی نہيں” اس نے دور جاتی مناب کو ديکھتے ہوۓ سوچا۔
“کوئ بات نہيں سر” ہولے سے سر ہلا کر اس نے محسن کو شرمندگی سے نکالا
__________
کونے ميں پڑی ايک ٹيبل کے ساتھ رکھی کرسی پر وہ گرنے کے سے انداز ميں بيٹھی۔
‘يہ کيا تھا۔۔۔ايسا کيسے ہوگيا۔۔ايسا کيسے ہو سکتا ہے۔۔۔وہ يوں ۔۔وہ يوں کيسے واپس آگيا’ وحشت در وحشت تھی۔ اسے لگا اسکے دماغ کی رگيں پھٹ جائيں گی۔
اس اچانک تصادم پر دل کرلا رہا تھا۔
کتنا پرسکون تھا وہ۔۔ اسے دلدل ميں دھکيل کر۔۔مناب کی زندگی کو اپنے رشتے کو سواليہ نشان بنا کر بھی وہ مطمئن تھا۔
کوئ شرمندگی نہيں تھی۔
يوں ملنے پر اسکے چہرے پر کوئ حيرت کچھ نہيں تھا۔
کيا وہ اس سب کے لئے تيار تھا۔۔کيا وہ اس سب کو تيار کرکے آيا تھا۔
مناب سوچ سوچ کر تکليف سے دوچار ہورہی تھی۔
دل پھٹنے لگا تو آنکھيں جھرنا بن گئيں۔
منہ دوسری جانب کرکے وہ اپنے چہرے پر بہنے والے سيل رواں کو روکنے کی کوشش کرنے لگی۔
جو لگتا تھا آج ہی بہہ جاۓ گا۔
“کيا اسے وشہ کے بارے ميں پتہ چل گيا ہے؟” منہ پر ہاتھ رکھ کر سسکياں روکتے ايک اور سوچ آئ۔
وہ ساکت ہوگئ۔
“يہ نہيں ہوسکتا۔۔۔يہ ميں نہيں ہونے دوں گی” يہ سوچ آتے ہی خود کو مضبوط کيا۔
آنسو بے دردی سے صاف کرکے جوں ہی مڑی کچھ فاصلے سے وہ ميڈيا کے گھيرے ميں کھڑا بات صحافيوں سے کر رہا تھا مگر ديکھ مناب کو رہا تھا۔
ان آنکھوں ميں کيا کچھ تھا۔۔کون سے جذبے تھے مناب ان کے بارے ميں سوچنا بھی نہيں چاہتی تھی۔
نخوت سے چہرہ موڑ کر کھڑی ہوئ۔ کچھ فاصلے پر کھڑے اپنے کوليگز سے باتوں ميں مگن ہوگئ۔
ايسے خود کو کمپوز کيا تھا جيسے کچھ لمحے پہلے وہ کسی طوفان سے گزری ہی نہ ہو۔
“سر آپ اچانکے يہاں کيسے آۓ۔ جبکہ آپ تو يہاں سے جاچکے تھے”ايک صحافی نے سوال کيا۔
“اور آپکے آنے کی خبر بھی نہيں ہوسکی۔۔کہيں آپ يہيں تو موجود نہيں تھے” ايک اور صحافی نے سوال کيا۔
“ميرا تب آنا بھی اچانک تھا اور ميرا اب آنا بھی اچانک ہے۔ کچھ ادھورے کام يہاں رہ گۓ تھے انہيں مکمل کرنے آيا ہوں۔” ندا سے باتيں کرتے ہوۓ بھی مناب کے کان فاتک اور صحافيوں کے سوالات پر لگے تھے۔
“سر کيا ان کاموں کی نوعيت ہم جان سکتے ہيں؟” ايک اور سوال۔
“نہيں ميں کبھی بھی اپنے پرسنلز کو ميڈيا پر ڈسکس نہيں کرتا۔ ميں کچھ دنوں ميں اپنے يہاں پر کۓ جانے والے کنسرٹس کے حوالے سے پريس کانفرنس کروں گا۔ لہذا گزارش ہے کہ اس فنکشن کو مجھے اب انجواۓ کرنے ديں” خوشدلی سے کہتے اس نے ميڈيا کے بندوں کے جمگھٹے کو ہٹنے کی استدعا کی۔
لوگوں کے ہٹتے ہی وہ اسی گروپ کی جانب بڑھا جہاں مناب کھڑی تھی۔
“سر ہميں تو يقين ہی نہيں آرہا کہ آج آپ ہمارے درميان ہيں” ندا نے بے يقين لہجے ميں کہا۔
“ہم آرٹسٹ بھی آپ لوگوں کی طرح ہی عام سے انسان ہوتے ہيں۔ اور ہمارے مسائل بھی آپ لوگوں کی ہی طرح کے ہوتے ہيں” آخری بات اس نے مناب کو نظروں کی گرفت ميں لے کر کی۔ جو ادھر ادھر ديکھتی اسے اگنور کرنے ميں مصروف تھی۔
“سر آپکے اس محفل ميں آنے کا کچھ فائدہ ہم اٹھانا چاہتے ہيں” فراز (مناب کے کوليگ) نے خوشگوار لہجے ميں کہا۔
“جی جی ضرور” فاتک نے کسی قدر انکساری سے کہا۔
“ہميں اپنا فيورٹ سونگ سائيں۔ گوکہ باس نے ہميں سختی سے منع کيا تھا کہ يہ گيدرنگ آپ اپنے کنسرٹ والی گيدرنگ سے ہٹ کر کرنا چاہتے ہيں۔ اور آپکی درخواست تھی کہ گانے وانے کی کوئ بات نہ ہو۔
مگر سر ہم اس موقع کو ہر گز ضائع نہيں کرنا چاہتے۔” اس نے مسکراتے ہوۓ اپنا مدعا بيان کيا۔
فاتک نے مسکراتے ہوۓ سر کھجايا۔ پھر دائيں ہاتھ سے بالوں کو سيٹ کرتے اپنی خوبصورت اور جان ليوا مسکراہٹ کی چھب دکھائ۔
“بالکل سر پليز” سب نے شور مچايا۔
آخر فاتک کو مانتے ہی بنی۔
“اوکے اوکے ميں اپنا گانا نہيں سناؤں گا مگر اپنا فيورٹ سانگ سناؤں گا” اس نے ہتھيار ڈالتے کہا۔
مناب اس گروپ کے پاس سے ہٹ کر اکيلی کھڑی ہوگئ۔
ادھر ادھر ديکھتی مسلسل اسے اگنور کررہی تھی۔
جس کی سياہ گہری آنکھيں ہر تھوڑی دير بعد بليک لانگ شرٹ اور ٹراؤذر پر بليک دوپٹہ خوبصورتی سے کندھوں پر ڈالے ہلکے سے ميک اپ اور سلکی بالوں کو ادھ کھولے مناب کو گاہے بگاہے ديکھ رہی تھيں۔
دل تھا کہ بھر ہی نہيں رہا تھا۔
سب گول دائرے کی صورت ميں فاتک کے گرد جمع ہوچکے تھے۔ سواۓ اس کٹھور کے جو فاتک کے لئے اس پورے ماحول ميں سب سے زيادہ اہم تھی۔
وہاں فنکشن ميں موجود جو سنگر اور ميوزک والے موجود تھے۔ فاتک انکے پاس اسٹيج پر جاچکا تھا۔
ان کے لئے تو خوش قسمت دن تھا کہ فاتک انکے پاس کھڑا تھا۔ فاتک نے محبت سے سب سے ہاتھ ملايا۔
مائيک پکڑ کر گلا کھنکھارا۔ گٹار والے کو کچھ سمجھايا۔
اسکے ناٹ سيٹ کرتے ہی فاتک کی خوبصورت اور گھمبير آواز نے ايک سحر طاری کرديا۔
“اکھياں نوں رہن دے
اکھياں دے کول کول
چن پرديسيا بول پاويں
نہ بول
ويکھ دا چاہا سانوں
مکھ پر تاويں نا
نيڑے نيڑے وس ڈھولا
دور دور جاويں نا
نيڑ نيڑے وس جيويں
دور دور جاويں نا
دور دا خيال چھڈ
وس اکھياں دے کول کول
چن پرديسيا بول پاويں
نہ بول”
آنکھيں بند کئيے بھی فاتک کو ہر جانب وہی دکھائ دے رہی تھی۔
اتنا سوز شايد ہی کسی نے کسی کی آواز ميں سنا تھا۔
جو اس وقت فاتک کی آواز ميں تھا۔
سب خاموش اس ساحر کو ديکھ رہے تھے۔
اور وہ جو خاموش کھڑی صرف اسے سن رہی تھی۔ اس کے ايک ايک لفظ پر اس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔
اس سے زيادہ اس ميں وہاں کھڑے ہونے کی ہمت نہيں تھی۔ سب مگن تھے۔
وہ آنسو پيتی تيزی سے وہاں سے نکل کھڑی ہوئ۔
گاڑی تک پہنچتے پہنچتے سيل رواں پھر سے بہنے لگا تھا۔
گاڑی کھول کر وہ بے دم سی سيٹ پر بيٹھی۔
سر اسٹيرنگ پر رکھے وہ کتنی دير روتی رہی۔
خوبصورت آنکھيں بے تحاشا رونے کے باعث سوج رہی تھيں۔
بمشکل ہمت مجتمع کرکے گاڑی سٹارٹ کی۔
رات تھی اسی لئے سڑکيں سنسان ہونے کی وجہ سے وہ منتشر سوچيں لئے بھی گاڑی دوڑا لے گئ۔ ورنہ اس وقت اسکی جو کيفيت تھی۔ اگر ٹريفک ہوتی تو يقينا وہ کہيں نہ کہيں ايکسيڈنٹ کروا چکی ہوتی۔
سب سے زيادہ خوف اسے يہ تھا کہ اب وہ وشہ تک پہنچے گا۔اور يہ وہ کسی صورت نہيں ہونے دينا چاہتی تھی۔
وہ اپنی بيٹی کو کھونا نہيں چاہتی تھی۔
صبغہ کی کوئ تنبيہہ اسے ياد نہ تھی۔
_____________________
اگلے دن اس ميں جاب پر جانے کی ہمت نہيں تھی۔
وہ ساری رات وہ کس کرب سے گزری تھی يہ صرف وہی جانتی تھی۔
صبح کے گيارہ بجے بھی وہ بستر پر ہی تھی۔
جس وقت وشہ کو سکول بھيجنے کے لئے ناز اسکے کمرے ميں آئيں۔ اس نے تبھی انہيں بتا ديا کہ وہ آج کام پر نہيں جاۓ گی۔
وہ بھی يہی سمجھيں کے رات کے فنکشن کی وجہ سے تھکی ہوئ ہے۔
لہذا کچھ بھی کہے بنا وشہ کو لے کر وہ تيار کروانے چل ديں۔
اسے کسی نے آکر بھی نہيں اٹھايا کہ وہ آرام کر لے۔ شايد وہ کچھ دير اور سوتی رہتی اگر کريم کا فون نہ آتا۔
“ہيلو” نيند سے بوجھل آواز ميں بولی۔
فون بجنے پر بنا ديکھے سائيڈ ٹيبل پر ہاتھ مار کر ٹٹول کر موبائل اٹھايا۔
بمشکل آنکھيں کھوليں۔
“ميم ميں کريم بات کررہا ہوں۔ آپ ابھی تک گھر آئيں نہيں۔ سامان آچکا ہے آج بيڈ رومز کی آپ نے سيٹنگ کرنی تھی” کريم نے کسی خادم کی طرح مناب کو اسکے کاموں کی فہرست گنوائ۔
“سوری کريم ميں آج نہيں آسکوں گی طبيعت بہت خراب ہے۔ آج کے لئے معذرت” وہ بمشکل گلا کھنکھار کر بولی۔
“اوہ اللہ خير کرے۔ ٹھيک ہے ميم ويسے تو کوئ ايشو نہيں تھا مگر آج باس خود آکر گھر کی اپ ڈيٹ لينا چاہ رہے تھے۔ ميں نے سوچا آپکی بھی ملاقات ہو جاۓ گی” کريم نے رٹے رٹاۓ طوطے کی طرح سبق پڑھا۔
وہ اس وقت فاتک کے ساتھ اسکی کے ہوٹل کے کمرے ميں تھا۔ اور اسی کی ايما پر فون کيا تھا۔
مناب نے برا سا منہ بنايا۔
دل تو کيا کہے ‘بھاڑ ميں جاۓ تمہارا باس’ مگر لحاظ آڑے آتا تھا۔
“اچھی بات ہے ان کو کہو۔ چيک کرليں کوئ کمی بيشی ہو بتا ديں۔ ميں پھر کبھی ان سے مل لوں گی” رسان سے کہا
‘اتنا کوئ مسٹر ورلڈ ہے جس سے ملنے کے لئے ميں مری جارہی ہوں۔’ چڑ کر سوچا مگر يہ سب وہ کہہ نہيں سکی۔
“اوکے ميم آپ ريسٹ کريں۔ اللہ آپ کو جلد صحتیاب کرے” کريم نے سچے دل سے دعا دی۔
“تھينک يو ۔اللہ حافظ” اس کا شکريہ ادا کرتے سکھ کا سانس ليا اور فون بند کرکے دوبارہ ليٹ گئ۔
جبکہ دوسری جانب اسکی حالت کا سن کر فاتک بے چین ہوگيا۔
جاری ہے
