Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Yaad Ki Anch (Episode 19)

Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas

مناب کو ساتھ لگاۓ وہ غصے سے عارفہ کو ديکھ رہے تھے۔

“بيٹا۔۔کسی کے دباؤ ميں آکر کوئ فيصلہ مت کرنا۔ جو تمہارے دل کو اب صحيح لگے وہ کرنا۔۔کسی کی نظر سے فاتک کو مت ديکھو” اس کے آنسو صاف کرتے وہ اسے ناصحانہ انداز ميں سمجھانے لگے۔

“اور اب عارفہ فاتک کے ساتھ تمہارا رويہ ٹھيک نہ ہوا تو مجھ سے برا کوئ نہيں ہوگا۔ وہ اپنے کئيے کی معافی آتے ہی مجھ سے مانگ چکا ہے۔۔مگر ۔۔”

انہوں نے بات ادھوری چھوڑی۔

“جب اللہ انسان کے قصور۔۔۔اسکے بڑے سے بڑے گناہ معاف کرسکتا ہے ۔۔۔ايسے گناہ جنہيں وہ اکيلے ميں سوچ کر خود سے شرمسار ہوجاتا ہے تو پھر تم ميں يا کوئ اور کون ہوتے ہيں فاتک کو گناہگار ٹھہرانے والے۔”مناب نے ايک خاموش نگاہ باپ کے شفيق چہرے پر ڈالی۔

“خدائ اپنے ہاتھ ميں لے کر اللہ کے قہر کو آواز مت دو۔۔بہتر يہی ہے کہ وہ شرمسار ہے اسے کھلے دل سے معاف کردو۔۔۔ہم نے اگر يہ سال تکليف ميں گزارے ہيں تو وہ بھی تنہا ہی رہا ہے” وہ سچائ سے تجزيہ کررہے تھے۔

“اگر وہ کسی میم کو ساتھ نہيں لايا ۔۔اس سے يہ بات کہاں واضح ہوتی ہے کہ اس نے باہر کی رنگينيوں سے فائدہ نہيں اٹھايا ہوگا” مناب جو باپ کی باتوں کو غور سے سن رہی تھی۔ فيصلے ميں ترميم کررہی تھی۔

ماں کی بات سن کر پھر سے کنفيوز ہوئ۔

“بس کرو عارفہ ۔۔۔۔مجھے سختی پر مجبور مت کرو۔۔تم جانتی ہو تم بہتان کی مرتکب ہورہی ہو۔ کسی بھی ثبوت کے بنا ۔۔کسی نيک اور شريف شخص کے بارے ميں اتنی بڑی بات کرنا اللہ کے نزديک کبيرہ گناہ ہے۔ اپنی ضد کو ڈيفنڈ کرنے کے چکر ميں گناہ پر گناہ مت سميٹو۔” صمد نے فورا انہيں ٹوکا۔

“اور اب مزيد مناب کے سامنے اول فول بول کر اس کا ذہن پراگندہ مت کرو” انہيں تنبيہہ کی

“بيٹا آپ جلد فيصلہ کرو۔۔باہر مہمان بيٹھے ہيں يوں يہ سب ٹھيک نہيں ہے۔۔۔”صمد اسے واضح ہدايات ديتے عارفہ کو لئے باہر نکل گئے۔

وہ تھک کر صوفے پر بيٹھ گئ۔

اتنی جلدی يہ فيصلہ مشکل تھا۔۔وہ کيسے اس شخص کو معاف کردے۔

کيا اتنا ہی آسان ہے ايک اور موقع دينا۔

وہ سرتھام کر رہ گئ۔

“افف ميرے اللہ ميری مدد کر۔۔صبغہ نے کس مشکل ميں ڈال ديا ہے۔

اتنے مہمان باہر بيٹھے ہيں۔۔ميں اتنی جلدی کچھ سوچنے کی صلاحيت نہيں رکھتی۔ ميری بہن جس نے ہميشہ ہر حال ميں ميرا ساتھ ديا ميں اپنی وجہ سے اس کی خوشياں برباد نہيں کرنا چاہتی۔

مجھے اچھا فيصلہ کرنے کی توفيق دے۔۔” وہ چہرہ ہاتھوں ميں ڈھانپے اللہ سے مخاطب تھی۔

اور وہی تو ہے۔۔ہماری شہ رگ سے بھی قريب۔۔۔جو ہر مشکل ميں ہماری ايسے رہنمائ کرتا ہے کہ ہم دنگ رہ جاتے ہيں۔

جو خود کہتا ہے۔۔۔۔ميں تمہاری شہ رگ سے بھی زيادہ قريب ہوں مجھے پکارو ميں تمہاری طرف آؤں گا۔

تو پھر وہ کيسے مناب کو اس لمحے تنہا چھوڑ ديتا۔۔وہ تو کبھی اپنے بندوں کو تنہا نہيں چھوڑتا۔

آنکھيں بند کئيے اللہ سے دعا مانگتے۔۔۔يکدم اسے صمد کے کچھ دير پہلے کے کہے الفاظ ياد آۓ۔

“خدائ اپنے ہاتھ ميں لے کر اللہ کے قہر کو آواز مت دو” آنکھوں سے ہاتھ ہٹاۓ۔

وہ کيا کررہی تھی۔۔خدائ ہی کو تو ہاتھ ميں لے رہی تھی۔ سچ جاننے کے باوجود فاتک کو معاف کرنے کو تيار نہيں تھی۔

اسے ايک موقع دينے کو تيار نہيں تھی کہ وہ اس سے کچھ کہہ سکے۔ حتی کہ معافی ہی مانگ سکے۔۔

“جب اللہ موقع ديتا ہے تو پھر ہم بندے۔۔۔” آنکھيں بند کرکے اس نے ايک گہری سانس لی۔

يہ سب آسان نہيں تھا۔ مگر اسے کرنا تھا اپنے اردگرھ موجود لوگوں کی خوشی کے لئے۔ اور سب سے بڑھ کر اللہ کے لئے۔

اور جو اللہ کے لئے لوگوں کو معاف کرتا ہے اللہ اسکی قدر و منزلت بڑھا ديتا ہے۔

معاف کرنا اسی لئے دنيا کا سب سے مشکل کام ہے۔ اور اللہ بندوں کو بندے سے ہی دکھ دلوا کر دکھاتا ہے کہ جو مشکل کام تمہيں مشکل لگتا ہے ديکھو ميں کتنی آسانی سے کر جاتا ہوں۔

يہی تو خدائ ہے۔۔

اپنے آنسو صاف کرتی وہ اپنی جگہ سے اٹھی۔

صبغہ کے کمرے سے باہر آئ۔

ادھر ادھر اسے ڈھونڈا۔۔

زيادہ تردد نہيں کرنا پڑا۔

وہ عارفہ کے کمرے ميں موجود تھی۔

بيڈ پر بيٹھی۔ وہ اسی کے انتظار ميں تھی۔

آہٹ پر سر اٹھا کر سامنے کھڑی مناب کو ديکھا۔

جو آہستہ آہستہ چلتی اسی کی جانب آرہی تھی۔

“ميں ايک موقع فاتک کو دينے کو تيار ہوں۔ مگر اس شرط پر” وہ يکدم رکی۔

صبغہ اسکے مقابل کھڑی ہوئ

“اس شرط پر کہ تم ابھی رخصت ہوگی۔۔يقين کرو ميں جو کہہ رہی ہوں وہ کروں گی” اسے لب کھولتے ديکھ کر مناب نے فورا يقين دلايا۔

“وعدہ کرو” صبغہ نے ہتھيلی پھيلائ

“وعدہ” مناب نے چہرہ جھکا کر آنسو روکنے چاہے۔

“ميں تمہاری خوشی چاہتی ہوں۔۔ہم سب تمہاری خوشی چاہتے ہيں” صبغہ نے محبت سے اسے ساتھ لگايا۔

مناب کا دل چاہا چيخ چيخ کر روۓ۔

“اللہ معاف کرنا واقعی بہت مشکل ہے” وہ اللہ سے مخاطب ہوئ۔

_________________________

کچھ ہی دیر بعد مناب صبغہ کو لئے باہر آئ۔

غازی نے اطمينان بھری سانس فضا کے سپرد کی۔

کہنے کو تو اسے کہہ آيا تھا کہ وہ ہر طرح کے فيصلے ميں اس کا ساتھ دے گا مگر اپنے دل کو کيسے سمجھاتا جو صبغہ کے لئے ہی ہمک رہا تھا۔

ايک مطمئن مسکراہٹ اسکے چہرے پر بکھری۔

اب کيا فيصلہ ہوا تھا يہ تو اس نے گھر جاکر ہی صبغہ سے پوچھنا تھا۔

کچھ دير بعد ہی سب کی محبتوں کے سائے ميں صبغہ رخصت ہو کر مناب کی طرح ہی واجد ولا کی زينت بن گئ۔

فاتک وہيں سے واپس چلا گيا تھا۔

مگر اس کے نکلنے سے پہلے واجد کا رويہ اس سے ٹھيک ہوچکا تھا۔

فاتک نے غازی سے معذرت کی جو اسے بار بار گھر چلنے کا کہہ رہا تھا۔

“آؤں گا۔۔جلدی ہی مگر ابھی دو اہم لوگوں کی معافی سے پہلے نہيں” اور وہ دو لوگ کون تھے غازی اچھے سے جانتا تھا۔

ايک واجد اور دوسری مناب۔

صبغہ کو مناب سجے سجاۓ کمرے ميں بيڈ کے بيچوں بيچھ بٹھا کر۔۔پيار کرکے اور بيسٹ وشز کہہ کر چلی گئ۔

صبغہ کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔

اس نے تو ابھی غازی کو سوچنا شروع ہی کيا تھا کہ وہ يوں اچانک اس کا کل مختار بن بيٹھا تھا۔

اسکی اپنے لئے محبت اور ديوانگی سے وہ واقف تھی مگر وہ ابھی محبت کی پہلی سيڑھی پر ہی کھڑی تھی۔ ابھی تو اس کے جنون تک پہنچنے کے لئے بہت سارا چلنا تھا کہ ۔۔۔۔۔

اسکی سوچوں کو بريک دروازہ کھلنے کی آواز پر لگے۔

سر مزيد جھک گيا۔

دروازہ بند کرتے اس نے صبغہ کو ديکھ کر شکر کا کلمہ پڑھا۔ کچھ دير پہلے تک اسے لگ رہا تھا وہ آج بھی خالی ہاتھ لوٹے گا۔

مگر ايسا نہيں ہوا تھا۔

آہستہ آہستہ چلتا وہ صبغہ کے قريب بيڈ پر اس کے مقابل بيٹھا۔

“بالآخر آپ يہاں آ ہی گئيں” مسکرا کر اسکے جھکے سر کو ديکھا۔

“ہاں۔۔۔ميں نے کوشش تو پوری کی تھی کے نہ آؤں” صبغہ نے سر ہولے سے اٹھاتے اسے ايک نظر ديکھ کر مسکراہٹ دباتے اسے چڑانے والے انداز ميں کہا۔

“جی مجھے آپ سے يہی اميد تھی” غازی بغير چڑے آرام سے بولا۔

“بھابھی نے کيا کہا؟” پھر اس نے سنجيدگی سے پوچھا

“وہ فاتک بھائ کو مارجن دينے پر راضی ہوگئ ہے” صبغہ نے اسے خوشخبری سنائ۔

“شکر ہے۔۔۔”اس نے گويا سکھ کا سانس ليا۔

“اپنے پيارے لوگوں کو يوں الگ الگ ديکھنا بہت تکليف دہ ہوتا ہے” غازی نے بيڈ پر کسی غير مرئ نقطے کو ديکھتے ہوۓ کہا۔

“بالکل۔۔۔” صبغہ نے اسکی تائيد کی۔

“ويسے يہ لڑکيوں والے حليے ميں آپ کافی اچھی لگ رہی ہيں” يکدم رخ اسکی جانب کرتے غازی نے چھيڑنےوالے انداز ميں کہا۔

صبغہ اسکی توجہ خود پر مبذول ہوتے ديکھ کر سمٹی۔ مگر اسکی بات سن کر تيکھے چتونوں سے اسے ديکھا۔

“لڑکيوں والے حليے سے کيا مطلب ہے۔۔۔مجھے آپ نے کب آدميوں کے گيٹ اپ ميں ديکھا ہے” وہ برا منا گئ۔

“آخری باربھائ اور بھابھی کی شادی پر آپ کو ميک اپ ميں ديکھا تھا۔۔ اسکے بعد سے تو کوئ شادی ہو يا کوئ اور فنکشن آپ ہميشہ اپنی دھلی دھلائ شکل ميں ہی نظر آئيں” صبغہ اس کے تجزيے پر حيران نہ ہوتی تو کيا کرتی۔

“آپ کی نظر تب بھی مجھ پر ہی تھی” حيرت کی زيادتی سے اسکی آنکھيں پھٹنے کو تھيں۔

“تب کيا۔۔۔۔ميری تو ہميشہ سے ںظر آپ پر ہی تھی” وہ اسے مزيد حيران کرنے کے لئے مزے سے بولا۔

“افف آپ کتنے نظر باز ہيں” مسکراہٹ چھپاتے وہ سر ہلا کر اسے شرم دلانے لگی۔

“مگر آپ کو نکاح سے پہلے کبھی محسوس تو نہيں ہونے ديا نا” غازی نے صاف گوئ سے کہا۔

“ہاں يہ بات تو ہے” اسکی شرافت کی تو وہ قائل تھی۔

“مگر نکاح کے بعد زبردستی رنگ تو پہنائ تھی” صبغہ کی بات پر وہ ہلکا سا قہقہہ لگا کر رہ گيا۔

“اس زبردستی کا طعنہ مجھے کب تک ملتا رہے گا” اسکے حسين چہرے پر نظروں کی گرفت کرتے اسے چھيڑا۔

“ہميشہ” گردن ذرا سی اوپر کرکے وہ ناز سے بولی۔

“منظور ہے” اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں کی گرفت ميں لئے۔

صبغہ کا دل بری طرح دھڑکا۔

“مجھے ابھی بھی آپ سے سوری کرنا ہے” صبغہ نے اسکی توجہ ہٹانی چاہی۔

“کس بات کے لئے” غازی نے اسے چونک کر ديکھا۔

“رخصتی روکنے کے لئے” صبغہ نے آنکھيں جھکا کر نظر اسکے مضبوط مردانہ ہاتھوں پر ڈالی۔

دل جيسے اس ميں پھڑ پھڑانے لگا تھا۔

“ميں نے پہلے بھی آپ کو کہا تھا سوری مت کريں۔ اب بھی کہہ رہا ہوں کہ مت کريں۔۔کيونکہ اس ايک سال ميں پہلی بار آج آپکی آنکھوں ميں اپنے لئے محبت ديکھی ہے۔ آپکی وہ شرمندگی۔۔۔شرمندگی نہيں وہ محبت تھی۔

اگر دوری کا خيال مجھے تکليف دے رہا تھا۔ تو دوری کا خيال آپ کو بھی تکليف دے رہا تھا” غازی کی بات کسی قدر سچ تھی۔

اب وہ اسکے رشتے کو محسوس کرنے لگی تھی دل کے بہت آس پاس۔

“خير کچھ تکليف دہ لمحے ہميں عمر بھر کی خوشياں دينے کے لئے ہوتے ہيں۔ جيسے آج کا لمحہ تھا۔۔مگر اب ہم پھر سے يہاں اکٹھے ہيں۔۔کوئ دوری نہيں” غازی نے کہتے ساتھ ہی اسے خود سے لگايا۔

صبغہ نے آنکھيں بند کرکے اسکے محبت بھرے لمس کو محسوس کيا۔

“آج کيا اگلی پچھلی سب باتيں کر لينی ہيں” غازی کو اس کے ارادوں کی سمجھ آرہی تھی۔

صبغہ ايسے مسکرائ جيسے چوری پکڑی گئ ہو۔

“ہاں نا” اس سے الگ ہوتے صبغہ سے اسکی محبت پاش نظروں ميں ديکھنا محال ہوگيا۔

“ميں نے ايک آئيڈيا سوچا ہے” کچھ ياد آنے پر وہ پھر سے بولی۔

“يقينا يہ آئيڈيا بھی ہم سے متعلق نہيں ہوگا” غازی نے تھوڑا جھکتے اپنی گہری نظروں سے اسے ايسے ديکھا جيسے تائيد چاہ رہا ہو۔

“نہيں تھوڑا تھوڑا ہمارے متعلق بھی ہے” وہ اسکی بات کی ترديد کرنے لگی۔

“زہے نصيب کہيں تو ہم بھی آۓ” غازی نے لطيف سا طنز کيا۔

“ليکن ويٹ۔۔۔” غازی نے يکدم اسے روکا۔

اس کی الجھن بھری ںظروں نے غازی کو بيڈ سے اٹھتے ديکھا۔

اس کا رخ سٹڈی ٹيبل کی جانب تھا۔

صبغہ آنکھوں ميں اشتياق اور الجھن لئے اسکی پشت کو ديکھنے لگی۔

سٹڈی ٹيبل پر رکھا ايک گفٹ اٹھا کر وہ صبغہ کے پاس واپس اسی جگہ پر بيٹھا۔

“آپ کے زبردستی والے غم کو ختم کرنے کے لئے آج آپکی اجازت سے يہ آپکو دينا چاہتا ہوں۔” کہتے ساتھ ہی وہ بيڈ سے اتر کر دوزانو بيٹھا۔

“ميری آفيشل مسز۔۔۔” اسکی بات پر صبغہ کی کھلکھلاتی مسکراہٹ رک نہ سکی۔

غازی کی بھی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوئ۔

“کيا ميں يہ گفٹ آپ کو دينے کی جسارت کر سکتا ہوں” غازی نے ہتھيلی پر وہ گفٹ رکھتے صبغہ سے اجازت مانگی۔

وہ منہ پر ہاتھ رکھے اپنی ہنسی کو روکنے کے جتن کر رہی تھی۔

“جی بالکل۔۔۔۔” مسکراہٹ روکتے ہنستے ہوۓ بولی۔

غازی پھر سے اسکے سامنے بيٹھا۔

“ميرا بھائ چونکہ سنگر ہے۔۔۔تو تھوڑا سا سنگر ميں بھی ہوں۔۔۔بس دل کر رہا ہے آپکو اپنی آواز ميں کچھ سناؤں” گفٹ کا ريپر کھولتی صبغہ نے رک کر ايک نظر اسکی جانب ديکھا۔

“سوچ ليں۔۔۔ کہيں واپس جانے کا فيصلہ نہ کرلوں” شرارت سے اسے دھمکی دی۔

“لڑکی بالکل بھی دل رکھنے کے گر نہيں پتہ۔۔” وہ بدمزہ ہوا

“اچھا چليں ارشاد” مسکراہٹ دباۓ وہ ہاتھ روکے اسے سننے کو تيار ہوئ۔

“جب سے ہمارا نکاح ہوا۔ تب سے يہ بول مجھے بہت تنگ کرنے لگے تھے۔۔۔

اور آج انہيں سچ ہوتے ديکھا ہے آپکی محبت کی صورت۔۔

وہ بول يہ تھے۔۔۔” غازی نے اپنا گلا کھنکھارا۔

“اگر ميرے بخت کی ريکھا

تيرے ہاتھوں سے مل جائيں

تو دل ميں پھول کھل جائيں۔

مجھے خود سے قريب کر۔

خود کو ميرا نصيب کر

ميں کتنا بدنصيب ہوں

تو چھو کر خوش نصيب کر

اگر ميرے ادھ کھلے سارے غم

تيرے ہاتھوں سے سل جائيں

تو پل ميں پھول کھل جائيں

غازی نے گنگنانا ختم کرکے اسکی جانب ديکھا۔

جو مسحور کن ںظروں سی اسے ديکھ رہی تھی۔

اسکے يوں ديکھنے پر غازی ہولے سے مسکرايا۔

اسکے ہاتھ سے گفٹ لے کر اسکا ريپر کھولا۔ اس ميں موجود ڈبے ميں سے خوبصورت سی چین نکال کر اسکے گلے کی زينت بنا کر اسکی آنکھوں پر اپنی محبت کے پھول کھلاۓ

“آج جب آپ نے ميرے کاندھے پر سر رکھ کر اپنے آنسو بہاۓ۔۔صبغہ مجھے ايسا لگا ميں واقعی خوش نصيب ہوگيا ہوں۔آپکا وہ لمس ۔۔۔وہ اعتماد۔۔۔وہ سب ايک جادو تھا۔ جسے ميں لفظوں ميں بيان نہيں کرسکتا۔

ميں ہميشہ سوچتا تھا۔۔۔حتی کہ آج بھی اس لمحے سے پہلے تک يہی سوچ رہا تھا کہ نجانے کتنے سال لگيں گے آپکی محبت جيتنے ميں۔۔

اپنا عکس آپکی نظروں ميں ديکھنے ميں۔

مگر مجھے اندازہ ہی نہيں تھا وہ لمحہ ميں آج ہی ديکھ لوں گا۔۔وہ جھوٹ نہيں تھا نا صبغہ” وہ کس قدر يقين اور بے يقينی کی کيفيت ميں تھا۔

صبغہ نے بالکل اسی انداز ميں اسکے چوڑے سينے پر سر رکھا۔

“ميں خود نہيں جانتی کب آپا کی مشکلوں کو حل کرتے کرتے ۔۔۔ميں آپکی محبت کے جال ميں پھنس گئ۔

ميں نے کبھی نہيں سوچا تھا ميں کسی سے محبت کروں گی۔مجھے لگتا تھا يہ دھوکہ ہوتا ہے جھوٹ ہوتا ہے۔ يہ رشتہ غرض کا ہوتا ہے۔

مگر پچھلے کچھ عرصے ميں آپکی بے لوث محبت نے ميرا ہر خيال غلط ثابت کرديا ہے” اسکے دل پر ہاتھ رکھے وہ جيسے اسے عمر بھر کا سکون بخش رہی تھی۔

“اب ميں يقين سے کہہ سکتی ہوں کہ محبت ہوتی ہے اور يہ بے غرض ہوتی ہے۔ آپ نے کبھی عام لڑکوں کی طرح ميرے وجود کی خواہش نہيں کی۔ نکاح ميں ہوتے ہوۓ۔ آپ نے کبھی مجھے چھونے کی يا غلط نظر سے ديکھنے کی چاہ نہيں کی۔

ان سب چيزوں نے ميرا محبت پر يقين پختہ کرديا۔ميں نے اب جانا ہے کہ محبت تو تڑپ کا نام ہے۔۔۔يہ تو ايسی پياس ہے جسے پانی کی چاہ نہيں۔اس کے لئے پياس ہونا کافی ہے۔ يہ بس ہے تو ہے۔۔۔اسکے لئے محبوب کے چہرے کی ايک مسکراہٹ ہی کافی ہے۔ اس کا ساتھ کافی ہے۔ اس کا ہونا کافی ہے۔وہ دور ہے يا پاس يہ اطمينان کافی ہے کہ وہ آپ سے ہے اور آپ اس سے ہيں۔” وہ نہيں جانتی تھی کہ يہ سب وہ کيسے کہہ رہی ہے۔ مگر اب اس لمحے اس کا دل اس پيارے دل والے شخص سے اظہار کرنے کو کہہ رہا تھا۔ اور وہ کررہی تھی۔

“تھينکس غازی اس بے لوث محبت کے لئے۔ ۔۔مجھے محبت کا احساس دينے کے لئۓ۔۔۔ميں نے اب جانا ہے۔۔۔کہ محبت بہت خوبصورت جذبہ ہے۔۔۔” اس کے کندھے سے سر اٹھا کر اسکی آنکھوں ميں ديکھتے وہ تشکر آميز لہجے ميں بولی۔

غازی کے پاس کچھ کہنے کو نہ تھا۔ اب اسے اس محبت کو نبھانا تھا۔۔ابھی اور تاعمر۔۔۔۔

اس نے محبت سے اسے خود ميں سميٹ ليا۔آج اسکی محبت کی تکيمل ہوگئ تھی۔آج وہ واقعی خوش نصيب تھا۔ محبت کے موتی وہ آہستہ آہستہ اسکے وجود ميں بکھرا رہا تھا۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *