Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas NovelR50675 Teri Yaad Ki Anch (Episode 03)
Rate this Novel
Teri Yaad Ki Anch (Episode 03)
Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas
محبت سے اسکی پيشانی کو چھوا۔۔۔
“تھينکس” پتہ نہيں کيوں اسے شکريہ کہنے کو دل کيا۔
“يہ آپکا انعام” گاڑی کی چابی اسکے ہاتھ پر رکھتے پھر سے اسکے گالوں کو چھوا۔
“مجھے تو گاڑی چلانی نہيں آتی” مناب اتنے شاندارگفٹ پر خوش بھی ہوئ اور پريشان بھی۔
“ميں سکھادوں گا نا۔۔۔ محبت بھی اور گاڑی چلانا بھی۔” فاتک نے محبت سے اسے خود ميں سمو ليا۔
“ميں چينج کرلوں” اسکے شانے پر سر رکھے وہ اجازت لينے لگی۔
“اوہ ہاں نا يار ۔۔سوری اتنے بھاری کپڑے پہن کر تو آپ تھک گئ ہوگی۔ جاؤ چينج کرلو” فاتک نے جلدی سے اسے خود سے الگ کرتے ہاتھ پکڑ کر اسکی اٹھنے ميں مدد کی۔
لہنگا دونوں ہاتھوں سے اٹھاۓ وہ جوں ہی آگے بڑھنے لگی۔ فاتک نے بازو تھام کر پيچھے اسے پھر سے اپنے مقابل کيا۔
مناب نے سواليہ نظريں اٹھا کر ديکھا۔
“بہت اچھی لگ رہی ہو” گہری نظروں نے پھر سے اسکے حسين چہرے کو ديکھا۔
“تھينک يو” نظريں جھکاتے وہ آہستہ سے بولی۔
فاتک نے بازو پر گرفت ڈھيلی کی۔
مناب تيزی سے ڈريسنگ روم کی جانب بڑھی۔
جس لمحے وہ کپڑے بدل کر باہر آئ اس لمحے فاتک فون پر کسی سے بات کرتا نظر آيا۔
“ہاں يار سب تياری ہے۔۔ نہيں سوچ سمجھ کر ہی فيصلہ کيا ہے۔ ٹھيک ہے ميں ايک دو دن تک کونٹيکٹ کرتا ہوں”
مناب کو باہر آتا ديکھ کر اس نے جلدی سے فون بند کيا۔
پھر بھی مناب کے کانوں ميں اسکی باتيں پڑ چکی تھيں۔
“کہاں کی تياری” وہ پوچھے بغير نہ رہ سکی۔
“کچھ نہيں يار بس کچھ فرنيچر کا آرڈر تھا اسکی بات کررہا تھا۔ ميں چينج کرکے آتا ہوں” فاتک بات گول مول کرتا ڈريسنگ روم کی جانب بڑھا۔
مناب سوچ ميں پڑگئ۔
پھر سر جھٹک کر بيڈ پر بيٹھ کر اسکے باہر آنے کا انتظار کرنے لگی۔
تھوڑی دير بعد اسکا انتظار ختم ہوا۔
فاتک نے آکر پہلے سب دئيے بجھاۓ۔ پھر نائٹ بلب آن کرتا مناب کے مقابل بيٹھا۔
“آپ نے سنگنگ چھوڑ دی ہے” مناب کے سوال پر وہ جو اسکے ہاتھوں سے کھيل رہا تھا۔ يکدم اسکے ہاتھ رکے۔ پھر ايک مسکراتی نظر اس پر ڈالی۔
“سمجھو ختم ہوگيا ہے” اسکی بات پر مناب کو يک گونا سکون ملا۔
“اچھی بات ہے نا اتنا سب کچھ اللہ نے آپکو دے رکھا ہے تو پھر اس کام ميں پڑنے کا کيا فائدہ” وہ ناصحانہ انداز ميں بولی۔
“واقعی اللہ نے ديا تو بہت کچھ ہے آج میری محبت بھی مجھے دے دی” فاتک نے بھرپور نظروں سے اسکے ميک اپ سے پاک چہرے کو ديکھا۔
اسکی نظروں ميں ديکھا مناب کو ممکن نہ لگا تو ہولے سے سر جھکا گئ۔
اور پھر محبت نے چاروں جانب سے اسے اپنے حصار ميں لے ليا۔
___________________
“فار گارڈ سيک کريم۔ يہ سب ميڈيا کے لوگ يہاں سے ہٹواؤ۔ ميرا باہر آنا جانا محال ہوگيا ہے ۔۔ميں يہاں يہ سب کرنے نہيں آيا۔
مجھے بہت اہم کام کرنے ہيں۔ کچھ ادھورے معاملات ہيں۔ انہيں پورا کرنا ہے۔ کچھ گرہيں ہيں۔ جنہيں سلجھانا ہے۔
يہ سب لوگ ميرے کاموں ميں رکاوٹ کا باعث بن رہے ہيں” ابھی کچھ دير پہلے ہی فاتک اپنے روم سے باہر ہوٹل کے لاؤنج ميں پہنچا ہی تھا کہ ميڈيا کے لوگوں نے اسے پھر سے گھير ليا تھا۔
وہ کوفت زدہ کريم کے ہمراہ واپس کمرے ميں آيا۔
گہرا حزن تھا اسکے لہجے ميں۔ کريم يہ تو جانتا تھا کہ وہ کسی بہت گہرے دکھ سے گزرا ہے مگر وہ دکھ کيا ہے وہ کبھی جان نہيں سکا تھا۔
يا يہ کہنا بہتر ہوگا کہ کبھی اس نے کسی کو اپنے اتنے قريب آنے نہيں ديا کہ کوئ اسکے اندر کے معاملات سے واقف ہوپاتا۔
“ميں فی الحال اس کمرے سے نہيں نکل رہا کل صبح کسی بھی طرح يہ مشہور کروادو کہ ميں واپس دبئ جاچکا ہوں۔ اس ہوٹل کی انتظاميہ کو بھی پيسے دے کر منہ بند رکھنے کی تلقين کرو۔ ميں جس مقصد کے لئيۓ آيا ہوں ابھی اسی پر فوکس کرنا چاہتا ہوں۔” گلاس وال کے قريب رکھے کاؤچ پر بيٹھا مٹھی ٹھوڑی کے نيچے جمائے باہر شام کے منظر ميں نجانے وہ کس کوڈھونڈ رہا تھا يا کچھ سوچ رہا تھا۔
کريم اندازہ نہيں کرسکا۔
“جی سر” وہ حکم پر عمل کرنے چل ديا۔
“اگر ميری محبت اس ڈوبتے سورج کی طرح کبھی ڈوب گئ۔۔ تو” ڈوبتے سورج کی کرنوں چمک اسکے چہرے کو اور بھی روشن کررہی تھی۔
بڑے اعتماد سے اس نے فاتک کی آنکھوں ميں جھانکا
“تو ميں سياہ رات کی چادراوڑھ کر چپ چاپ آنکھيں موند لوں گی، آپکی محبت تو ميری ہر سانس کے ساتھ چلتی ہے يہ نہ رہی تو مجھے جی کر کيا کرنا ہے۔ وجود سے تو دل بھر ہی جاتے ہيں محبت تو روحوں کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ روح ہی نہ رہے تو وجود کس کام کا” فون کی مسلسل بجتی بيل اسے ماضی کے حسين لمحوں سے يکدم حال کی تلخيوں ميں گھسيٹ لائ۔
ايک گہری سانس خارج کرتے ہوۓ اس نے موبائل پر غزنوی کا نمبر غائب دماغی سے ديکھا۔
فون اٹھا کر کان سے لگايا۔
“ہيلو” اسے اپنی ہی آواز اجنبی لگی۔
“کيا کرتے پھر رہے ہو تم فاتک۔۔تمہيں پتہ ہے کتنا اہم کنسرٹ چھوڑ کر تم پاکستان بيٹھے ہوۓ ہو۔۔تمہيں ذرا سا احساس ہے کہ ميرا کتنا پيسا ضائع ہو جاۓ گا۔۔ اور کتنا پيسہ ہم اس سے کمانے والے تھے۔ تمہيں اچانک يہ سوجھی کيا” وہ غصے ميں جو منہ ميں آيا بولتا چلا گيا۔
“ميں کل ہی تمہيں وہ سب نقصان بھر دوں گا جو اس کنسرٹ کے نہ ہونے کی وجہ سے تمہيں ملا ہے۔ مگر جو نقصان ميرا ہونے جارہا تھا اس کو دنيا کی کوئ چيز پورا نہيں کرسکتی۔۔۔”وہ کھوۓ کھوۓ انداز ميں بولا۔
“اوہ تو اب تم اپنی دولت کا رعب جھاڑو گے۔ مت بھولو کہ آج تم جو کچھ ہو وہ ميری ہی وجہ سے ہو” غزنوی اسکی بات ميں چھپی گہرائ تک نہ پہنچ سکا اسی لئيے اسکی بات کو غلط رنگ دے گيا۔
“نہيں ميں جو کچھ ہوں وہ ميری قسمت ميں يوں ہی بننا لکھا تھا۔ ہاں تم ذريعہ ضرور بنے۔ اور کل سے آج تک ميں اپنے اس مقام پہ جتنا پچھتايا ہوں وہ کبھی نہيں پچھتايا۔۔۔نجانے ميں کس دوڑ ميں شامل ہوگيا تھا” وہ عجب بے ربط باتيں کررہا تھا۔
جو غزنوی کو تو کسی طور سمجھ نہيں آرہی تھيں۔ کچھ دير غزنوی خاموش رہا۔ پھر اسے محسوس ہوا کہ فاتک نارمل نہيں۔
“کيا ہوا ہے يار” اپنا ہر نقصان بھول کر اب اسے حقيقت ميں کچھ گڑ بڑ ہونے کا احساس ہوا۔
“کچھ نہيں يار۔۔۔” وہ ايک سرد آہ بھر کر رہ گيا۔ “مجھے معاف کردو ميری وجہ سے تمہارا اتنا نقصان ہواميں جلد ہی پورا کردوں گا۔ اور جہاں تک بات ہے يہ سب اچانک کرنے کی۔ تو بس سمجھو ميں کچھ دير کے لئيے روپوش ہونا چاہتا ہوں۔ ہر خبر اور ہر ہيڈ لائن سے۔۔کچھ پرسنل مسئلے حل کرنے ہيں۔ اميد ہے تم برا نہيں مناؤ گے” فاتک جيسے اب پوری طرح ہوش ميں آيا۔
فورا سے پہلے غزنوی سے معذرت کی۔
غزنوی اتنا تو جانتا تھا کہ وہ زندگی ميں کہيں بہت زيادہ چوٹ کھاۓ ہوۓ ہے۔ اور يہی چوٹ اسکے گانوں ميں سنائ ديتی تھی۔
اسکی آواز ميں سوز تھا اور يہ سوز کسی بہت بڑی تکليف سے گزرے بنا نہيں آتا۔
ہاں مگر وہ خود کے گرد ايسی مضبوط ديواريں کھڑی کرچکا تھا کہ وہ اپنے اندر کا حال کسی پر کبھی آشکار نہيں کرتا تھا۔
غزنوی صرف اتنا جانتا تھا کہ وہ کسی اچھے گھرانے سے ہے۔ مگر اسکے خاندان کے بارے ميں اسے زيادہ معلومات نہيں تھيں۔
لہذا وہ اسکی تکليف سے انجان تھا۔ مگر اتنا ضرور سمجھ گيا کہ معاملہ بہت سيريس ہے۔
“ٹھيک ہے کوئ مسئلہ نہيں۔ تمہيں جتنا ٹائم چاہئيے لے لو۔ اور جب بھی واپس آنا چاہو۔ ميرے دروازے ہميشہ تمہارے لئيے کھلے ہيں۔” اس نے ايک اچھا دوست ہونے کا ثبوت ديا۔
“تھينک يو يار” فاتک نے تشکر آميز لہجے ميں کہا۔
فون بند کرکے وہ ايک بار پھر ماضی کی بھول بھليوں ميں کھو جانا چاہتا تھا۔
______________________
آنکھ کھلتے ہی کچھ لمحے تو مناب کو سمجھ ہی نہيں آئ کہ وہ ہے کہاں۔
حيرت سے گردن موڑی۔ نظر دائيں جانب سکون سے ليٹے فاتک پر گئ۔ يکدم احساس ہوا کہ کل رات اسکی زندگی ميں کتنے خوشگوار لمحات گزرے تھے۔ جنہوں نے اسکی حيثيت ہی بدل کر رکھ دی ہے۔
اب وہ ماں باپ کے گھر ميں بے فکری کی زندگی گزارنے والی مناب نہيں۔
بلکہ فاتک کی بيوی کی حيثيت سے اب اس گھر ميں موجود ہے۔ جہاں بہت سی ذمہ دارياں اب اسکے کندھوں پر ہيں۔
سب سے بڑی ذمہ داری فاتک کی محبت کو سنبھالنا ہے۔
فاتک ک محبتوں اور شدتوں کا خيال آتے ہی اسکا چہرہ دہکنے لگا۔
خود کو سميٹ کر اٹھی۔ بيڈ سے اتری۔
اس کا رخ واش روم کی جانب تھا۔ کچھ دير بعد فريش ہوکر آئ تو فاتک کو ہنوز اسی طرح ليٹے ديکھا۔
آگے بڑھ کر ہولے سے اس کا کندھا ہلايا۔
“سنيں۔۔۔۔” وہ بہت کم اس کا نام ليتی تھی اور اب جو مقام اس کا تھا۔ جھجھک خودبخود لہجے کا حصہ بن گئ۔
“اٹھ جائيں” پھر سے کندھا ہلا کر فاتک کو اٹھانا چاہا۔
جو مزے سے کروٹ پھر سے بدل کر سوچکا تھا۔
وہ تھک کر پيچھے ہوئ۔
کچھ دير سوچتی رہی کون سا طريقہ اپناۓ۔ ايک بار ايک فلم ميں ديکھا تھا کہ ہيروئن اپنے شوہر کو اٹھانے کے لئيےگرم چاۓ کے کپ ميں اسکا ہاتھ ڈال ديتی ہے۔
آج اسے احساس ہوا کہ فلموں اور ڈراموں ميں ہی ايسی حرکتيں ہوسکتی ہيں۔
“اب چاۓ کا کپ کہاں سے لاؤں جس ميں فاتک کی انگلياں ڈالوں” اپنی سوچ پر پہلے تو ہنسی آئ پھر اتنے فلمی خيال پر لاحول پڑھی۔
ادھر ادھر ديکھا تو نظر سامنے کھڑکی پر پڑے دبيز پردوں پر پڑی۔
تيز روشنی آنکھوں پر پڑنے سے بھی انسان کی آنکھ کھل جاتی ہے۔
يہی سوچ کر پردے ہٹانے چاہے مگر يہ ديکھ کر افسوس ہوا کہ سورج کی روشنی بہت مدھم سی اسکے کمرے ميں کھڑکيوں سے چھن کر آرہی ہے۔
مايوس ہو کر پردے پھر سے برابر کئيے۔
مگر دماغ مسلسل چل رہا تھا۔ روشنی سے ہی ايک اور خيال دماغ ميں آيا۔
تيزی سے بيڈ کی جانب بڑھی۔
فاتک کی جانب کی سائيڈ ٹيبل پر پڑا ہوا اس کا موبائل اٹھايا۔ پھر دوسری جانب جا کر بيڈ کے کنارے پر ٹک گئ۔ٹارچ آن کرکے سيدھی اسکی آنکھوں ميں ڈالی۔
روشنی آنکھوں پر پڑتے ہی فاتک نے يکدم آنکھيں کھوليں۔ مگر تيز روشن اسکی آنکھوں ميں کھب سی گئ۔ آنکھوں پر يکدم ہاتھ رکھا۔
اسے اٹھتا ديکھ کر مناب اپنے آئيڈيے کے کامياب ہونے پر فخر سے مسکرائ۔
“يہ کيا بدتميزی ہے” فاتک نيند سے جگانے کے اس عجيب و غريب انداز پر نيند اور غصے سے لال آنکھوں سے مناب کو ديکھ کر چلايا۔
مناب ايسے ری ايکشن کی اميد نہيں کررہی تھی۔ فاتک کا غصہ ديکھ کر يکدم پيچھے ہٹنے لگی مگر بيڈ سے اٹھنے کی بجاۓ پھسل گئ۔
اگر فاتک کی نظر اس پر نہ ہوتی تو وہ يقينا زمين بوس ہوچکی ہوتی۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر مناب کا بازو تھام کر اپنی جانب کھينچا۔
وہ چيخ مار کر حواس باختہ سی فاتک کے ساتھ لگی۔
“کياکر رہی ہو يار” وہ اسکی حالت پر گھبرايا۔
“اتنی زور سے کوئ بولتا ہے بھلا۔۔۔۔” وہ رہانسی لہجے ميں اسے قصوروار ٹھہرانے لگی۔
“تو ايسے کوئ اٹھاتا ہے بھلا۔ شوہر کو اٹھا رہی تھيں کہ مجرم کو۔۔” فاتک اسکی حالت کے پيش نظر اپنا غصہ بھلا بيٹھا۔ مدہم سی سرگوشی نما آواز اور گھمبير لہجے ميں بولا۔
“ہاں تو کب سے تو اٹھا رہی تھی۔ آپکا کندھا اتنا ہلايا مگر آپ نہيں اٹھے۔ بس پھر يہ طريفہ اختیار کرنا پڑا” سارا قصور اس نے فاتک کے کھاتے ميں ڈال ديا
“ہاں جی سب خطائيں ميری ہيں” فاتک کی گہری نگاہوں نے مناب کو وہاں سے اٹھنے پر مجبور کرديا۔
اسی لمحے دروازہ بجا۔
“آگۓ ہيں آپکے سسرال والے” فاتک کو اس وقت يہ دستک بے حد بری لگی۔ منہ بنا کر بولا۔
“آپکے بھی کچھ لگتے ہيں” مناب نے اسے چڑايا۔
پھر بڑھ کر دروازہ کھولا۔
“کيسی ہو بہو۔۔ اندر آسکتے ہيں” سب سے آگے داؤد تھے۔ محبت سے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر اندر آنے کی اجازت لی۔
“جی ماموں کيوں نہيں” وہ فورا دروازے کے ايک جانب ہوئ۔
لگ رہا تھا سب کے سب ہی آ موجود ہوۓ ہيں۔
“سنا تھا شادی کی پہلی صبح بيوی کا منہ دھلا ديکھ کر لڑکے کی چيخيں نکل جاتی ہيں يہ ديکھ کر کہ رات کو تو پری تھی صبح جل پری کيسے بنی۔ مگر يہاں تو ہماری بہو کی چيخيں نکلی ہيں۔
ابے رات کو کس پارلر ميں گيا تھا ہميں بتاۓ بغير۔”داؤد نے اندر آتے ہی فاتک کو آڑھے ہاتھوں ليا۔
“يہ سن کر آپکو خوشی ہوگی کہ ميں نے ابھی تک منہ نہيں دھويا” وہ بھی ان سے کيسے ہار مانتا۔
سب کزنز انکی باتوں سے محظوظ ہورہے تھے۔
“گندے انسان چل جا کر منہ دھو۔۔ پھر” داؤد اسے کہاں بخشنے والے تھے۔ سب کھی کھی کرنے لگے۔
فاتک نے کڑی نگاہ سب پر ڈالی
“شادی ہوگئ ہے ميری” اس نے جيسے انہيں احساس دلايا۔
“بيٹا تيرے بچوں کے بھی بچے ہو جائيں نا۔۔ تيری درگت ميں تب بھی بناؤں گا”
فاتک منہ بناتا واش روم کی جانب چل ديا۔
“چلو بھئ سب ہمارا جوان اٹھا چکا ہے۔۔۔ اب چل کر ناشتا کرتے ہيں” داؤد لڑکوں کو لے کر کمرے سے نکل گۓ۔
“ہاں بھئ۔۔۔کيسی ہو” لڑکوں کے جاتے ہی حفصہ چچی نے اپنا رخ مناب کی جانب کيا۔
“ٹھيک” شرم سے نظر جھکا کر جواب ديا۔
“اللہ خوش رکھے۔ اتنے سادے حليے ميں تمہيں لے کر نہيں جاسکتے۔ کوئ جيولری تو پہنو۔ تھوڑا سا ميک اپ کرو اس کا” حفصہ نے باقی سب لڑکيوں کو اسکی جانب متوجہ کروايا۔
کچھ ہی دير ميں وہ تيار اس سب کے ہمراہ نيچے کی جانب چل پڑی۔
___________________
کب سے وہ موبائل ہاتھ ميں لئيے اسی کاؤچ پر ابھی تک اسی انداز ميں بيٹھا تھا۔ باہر رات کی سياہی پھيل چکی تھی۔ مگر اسے اردگرد کا کوئ ہوش نہيں تھا۔
ياد تھا تو بس وہی۔۔۔وہی جو آج بھی اسکے وجود ميں لہو بن کر دوڑتی تھی۔
وہی جسکی خوشبو اسے آج بھی اپنے حصار ميں لئيے ہوۓ تھی۔
وہی جس کے بنا اسکا ہر پل ادھورا تھا۔ چھ سالوں سے وہ ادھورا ہی جی رہا تھا۔
اسکا مکمل وجود تو يہاں تھا۔۔اسی ملک ميں اسی شہر ميں۔ تو پھر وہ کيسے مکمل ہوتا۔
ہمت کرکے اس نے آج پھر وہ نمبر ڈائل کيا جو اس گھر کو چھوڑنے کے بعد وہ تين چار بار ڈائل کرچکا تھا۔
مگر ہر بار اسکے لئيے ان لوگوں کے پاس صرف طعنے اور طنز کے بھيگے نشتر تھے۔
جو اسکے وجود ميں اس بری طرح پيوست ہوچکے تھے کہ ان تيروں سے پڑنے والوں زخموں کی تکليف اسے آج بھی لہو لہان کرتی تھی۔
مگر آج اسکی مجبوری تھی اور اس مجبوری کا نام وہ بچی تھا۔ وشہ نور۔ وہ کون تھی۔ مناب کو اسکی ماں کہہ کر کيوں پکارا گيا تھا۔ وہ اس معمہ کو سلجھانا چاہتا تھا۔
وہ جانتا تھا کہ ابھی واجد اور مناب واپس نہيں آئے ہوں گے۔ يہی وقت ہے جب وہ گھر کے اور کسی فرد سے گزارش کرکے انہيں اپنا حامی بنا سکتا ہے۔ گھر جانے کے راستے ہموار کرسکتا ہے۔
اگر ان لمحوں سے بھی اس نے فائدہ نہيں اٹھايا تو اس کا آنا بے کار ہے۔
چوتھی بيل پر فون اٹھا ليا گيا۔
“ہيلو”
ماں کی آواز سن کر ايسا لگا اندر تک سکون سرائيت کرگيا ہو۔
آنسو آنکھوں ميں جمع ہونے لگے۔ کس کس چيز کو نہيں ترسا تھا وہ ان سالوں ميں۔
“ہيلو” اب کی بار انہوں نے جھنجھلا کر کہا۔
“اماں” بمشکل وہ ماں کو پکار سکا۔
آنسوؤں کا گولہ بری طرح حلق ميں اٹکا تھا۔
“ف۔۔ف۔۔فاتک” انکی حيرت زدہ آواز پر وہ اپنی آنکھوں سے گرنے والے آنسوؤں کو روک نہيں پايا۔
“جی اماں۔۔ آپکا فاتک” آنسو صاف کرکے بمشکل لہجہ بشاش رکھا۔
“کہاں کہاں ہے تو۔۔۔۔ کيسے ياد آگئ تجھے۔۔۔ اب ياد آۓ ہيں۔ اتنے سالوں بعد۔ جس چکا چوند نے تيری آنکھوں کو اندھا کرديا ہے وہاں سے اب ہم تجھے کيسے دکھائ دے گۓ” وہ روتے ہوۓ اس سے مسلسل شکوہ کررہی تھيں۔
اور وہ کسی حد تک حق بجانب تھيں۔
مگر بہت سی باتوں سے بے خبر تھيں جنہوں نے فاتک کو واپس آنے سے روک رکھا تھا۔
“ميں جانتا ہوں ميں بہت گناہگار ہوں۔ مجھے معاف کرديں۔ ميں يہ بھی جانتا ہوں کہ اب اس معافی کا بھی کوئ فائدہ نہيں۔ ميں شايد يہ حق نہيں رکھتا۔ مگر اماں يقين کريں ميں نے سب حاصل کر ليا۔ روپيہ پيسہ شہرت۔۔۔ مگر ميرا سکون آپ سب کے پاس ہی ہے۔ وہ کہيں اور نہيں ملا۔۔کسی بازار۔۔کسی شہر ۔۔کسی ملک ميں نہيں۔” وہ دل کی باتيں کررہا تھا۔ وہ سب جو اتنے سالوں سے اس کو اندر ہی اندر کھاۓ جارہی تھيں۔
“ہمارا سکون برباد کرکے گيا تھا تجھے سکون کيسے ملتا فاتک” انکے لہجے کی تلخی اسے اندر تک توڑ گئ۔ مگر اسے سننا تھا۔ جو کچھ وہ اپنے پياروں کے ساتھ کرکے گيا تھا اس سب کے آگے يہ کچھ بھی نہيں تھا۔
“تو کہاں ہے؟” جب غصہ تھما تو مامتا جاگی۔
“يہيں اسی شہر ميں۔ ليکن ابھی آپ نے کسی کو ميرے بارے ميں کچھ نہيں بتانا۔۔گھر ميں سب کيسے ہيں؟” انہيں محتاط کرتا اصل ٹاپک پہ آيا۔
“بس زندگی گزار رہے ہيں” وہ سرد آہ بھر کر رہ گئيں۔
“من۔۔مناب کيسی ہے؟” جب سے وہ اس گھر سے گيا تھا مناب نے نمبر بدل ديا تھا۔فاتک کے پاس اس سے بات کرنے کا کوئ ذريعہ نہيں تھا۔
“اماں۔۔فون پرکون ہے۔۔ ميری يہ شرٹ ذرا پريس کرديں صبح پہن کر جانی ہے” اس سے پہلے کے ناز نے فاتک کو کوئ جواب ديتيں۔ غازی نے انہيں پکار ليا۔
“يہ۔۔يہ غازی کی آواز ہے” فاتک کے لہجے ميں حسرت در آئ۔
“ہاں۔۔اچھا چلو ميں ابھی فون رکھتی ہوں۔ تم کل صبح دس بجے مجھے فون کرنا تب گھر ميں کوئ نہيں ہوگا” انہوں نے جلدی جلدی اسے اگلے دن کا کہہ کر فون رکھ ديا۔
فاتک بے چين ہوگيا۔ وہ معمہ ۔۔معمہ ہی رہا جس کے لئيۓ اس نے فون کيا تھا۔
آنکھوں پر لگی عينک اتار کر اس نے سائيڈ پر رکھی۔ آنکھوں کے پپوٹوں کو انگليوں سے سہلايا۔ تھکن بڑھ گئ تھی..
