Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Yaad Ki Anch (Episode 04)

Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas

شادی کے ہنگامے ختم ہوتے ہی فاتک اسے لئيے شمالی علاقات جات پہنچ گيا۔ ہنی مون ٹرپ پہ۔

اس وقت بھی وہ دونوں ہنزہ کے مختلف مقامات اچھی طرح گھوم پھرنے کے بعد اپنے ہٹ کے پاس بنی چھوٹی چھوٹی پہاڑيوں پر بيٹھے تھے۔

دور افق پر پرندوں کا غول ديکھتے ہوۓ يکدم مناب نے گردن موڑ کر اپنے سے چند انچ کے فاصلے پر بيٹھے اپنے خوبرو شريک سفر کو ديکھا۔

نجانے کيا سوچ کر اسکے چوڑے شانے پر سر ٹکاتے اسکے گرد اپنے بازوؤں کا حصار باندھا۔

فاتک نے چونک کر اسکی يہ حرکت محسوس کی۔

پھر مسکرا کر اسکے گرد بھی ويسا ہی حصار کھينچا۔

“کيا ہوا ميری جان کو”محبت سے اسے خود ميں بھينچا۔

“مجھے ڈر لگ رہا ہے” اسکی آواز ميں واقعی خوف تھا۔۔

“کس بات سے اس جگہ سے۔۔ ميں ہوں نا۔۔کوئ جانور اور درندہ يہاں نہيں آتا۔ يہ ہٹس بہت سيف ہيں۔ ايسے ہی تھوڑی ميں آپکو يہاں لے آيا ہوں” فاتک يہی سمجھا کہ اردگرد پھيلے جنگل سے وہ خوفزدہ ہے۔

مناب نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اسے شکوہ کناں نظروں سے ديکھا۔

فاتک کو اسکی آنکھوں ميں کوئ اور ہی رنگ نظر آيا۔

“يہا‎ں سے نہيں” آخر اسے وضاحت دينی پڑی۔

“پتہ ہے ميں نے ايک جگہ کہيں پڑھا تھا کہ جن لوگوں کو خوشياں بہت جلد جلد مل جائيں نا تو انہيں زندگی ميں پھر بہت لمبے عرصے تک دکھ اور تکليف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ہماری اتنی جلدی شادی ہوگئ۔ کوئ ظالم سماج بھی نہيں۔ سب بالکل پرفيکٹ چل رہا ہے۔

مگر اب مجھے ڈر ہے کہ کہيں کچھ برا تو نہيں ہونے والا۔۔

کہيں ہماری يہ خوشياں۔۔”

“شش۔۔کہاں سے اتنی فضول باتيں آپکے دماغ ميں آجاتی ہيں۔ ہر کسی کا زندگی کے بارے ميں اپنا الگ تجزيہ اور تجربہ ہوتا ہے۔ ضروری نہيں کہ کسی کا تجربہ ہماری زندگی ميں بھی اسی طرح ہو۔” فاتک نے اسے رسان سے سمجھايا۔

حالانکہ اسکی بات سن کر وہ شايد اس وقت خود اپنے آپ سے بھی نظر چرا گيا تھا۔

“آپ۔۔آپ کبھی بدليں گے تو نہيں نا۔ ميری محبت ميرا مقام ويسے ہی رہے گانا” نجانے وہ کون سے عہد اس لمحے چاہتی تھی۔

“آپکی محبت کبھی ختم نہيں ہوسکتی۔ آپکی جگہ کوئ نہيں لے سکتا۔۔۔آپ ہميشہ يہاں اتنے ہی رعب سے رہو گی ۔۔۔ڈونٹ وری” اسے ساتھ لگاتے اسکا ہاتھ اپنے دل پر رکھ کر وہ شوخی سے نہيں بے حد سنجيدگی سے گويا ہوا۔

جيسے مناب سے نہيں خود اپنے آپ سے عہد کرنا چاہ رہا ہواور اس عہد کے ساتھ جو سرد آہ اسکے لبوں سے نکلی تھی وہ اسکی سماعتوں کے سوا مناب نہيں سن سکی تھی۔

“تھينکس” مناب جيسے بہل گئ تھی۔

اور عورت تو بہل ہی جاتی ہے۔ تبھی تو ٹھوکر کھاتی ہے۔

اعتماد کھو ديتی ہے۔ تن تنہا رہ جاتی ہے۔

اور مناب نہيں جانتی تھی کہ اسکے خدشے کچھ دنوں ميں واقعی سچ ہونے والے تھے۔

دکھ بس اسکی زندگی ميں آنے کو بے تاب خوشيوں کی راہ ميں بيٹھے تھے۔ کہ وہ کب زندگی کے دروازے سے گزريں اور دکھ اندر آکر اسے اپنی لپيٹ ميں لے ليں۔

____________________

اگلے دن صبح اس نے ماں کو دوبارہ فون کيا۔

“کيسی ہيں اماں” اسکے ايک ايک لفظ سے محبت چھلک رہی تھی۔ ناز کی آنکھيں بھر آئيں۔

“تو واپس کيوں نہيں آجاتا۔ فاتک۔۔تو نہيں جانتا بيٹا تيرا کتنا انتظار کيا ہے ہم سب نے۔ اب تو لگتا ہے تيرے انتظار ميں آنکھيں ہی پتھرا گئ ہيں۔” دوپٹے کے پلو سے آنکھوں کے کنارے صاف کرتے ہو انکی مامتا تڑپ رہی تھی۔

کيوں نہ تڑپتی بڑی اولاد تھا۔ اسکے ہر ناز نخرے اٹھاۓ تھے۔

ہميشہ سے فرمانبردار رہا تھا مگر نجانے پھر کيا ہوا۔

ہر تعلق، ہر لحاظ ختم کرگيا۔

“واپس آنے کے لئيے ہی آپکو فون کيا ہے۔ ميں تھگ گيا ہوں اماں۔ مجھے لگتا ہے اب آپ سب سے جدا رہنے کی ہمت جواب دے گئ ہے۔ اماں ميں کيسے واپس آؤں” وہ اپنے ساتھ ساتھ انہيں بھی امتحان ميں ڈال رہا تھا۔

واجد تو اسکا ذکر بھی سننے کے روادار نہيں تھے کجا کہ اسے گھر آنے ديتے۔

“اماں۔۔۔بابا گھر ميں۔۔ ميرے بارے ميں کوئ بات کرتے ہيں۔۔” وہ ہچکچاتے ہوۓ بولا۔

“سچ بتاؤں يا تمہيں جھوٹی تسلی دوں” وہ ياسيت سے بولی۔

“سچ بتائيں۔ اور سچ تو ميں جانتا ہی ہوں۔ وہ تو يقينا مجھ سے نفرت کرتے ہوں گے” کاٹ دار لہجے پر ناز کا دل بھی گويا کٹ کر رہ گئ۔

“نہيں بيٹا۔۔ وہ تم سے نہيں اس وجہ سے نفرت کرتے ہو۔ کہ جس کے آگے تم نے نہ تو کسی کی سنی اور نہ ہی کسی رشتے کا پاس رکھا” وہ سادہ لہجے ميں مگر بالکل درست کہہ رہی تھيں۔

“اماں۔۔بابا اگر مجھے اجازت دے ديتے تو ميں غلط راستہ اختيار نہ کرتا۔ ميں يہ نہيں کہتا کہ ميں نے صحيح کيا۔ چھ سال پہلے گھر چھوڑ دينے پر يہ ملال تب بھی تھا اور اب بھی ہے۔ ميں تب بھی جانتا تھا کہ ميں غلط کررہا ہوں۔ اور ميں اب بھی جانتا ہوں کہ ميں غلطی پر ہوں۔ مگر پھر جب جب ميں نے۔۔۔”اس سے آگے وہ ايسے چپ ہوا جيسے بہت بڑا راز افشا کرتے کرتے انسان يکدم لب سختی سے ايک دوسرے مين پيوست کرکے زبان کو سچ اگلنے پر روک ديں۔

وہ بھی لب بھينچ گيا۔

“مگر اس ماننے کا کيا فائدہ بيٹا کہ جس نے دو گھروں کو تباہ کرديا۔” وہ گہرے دکھ سے بوليں۔ مناب کا روتا بلکتا چہرہ انکی آنکھوں کے سامنے آگيا۔

“مناب ٹھيک ہے” وہ جيسے انکی سوچ کے پيجھے چھپی شخصيت کو جان گيا۔

دونوں ايک ہی شخص کو بيک وقت سوچ رہے تھے۔

“تمہيں کيا لگے۔ وہ جئيے يا مرے” عورت ہونے کے ناطے مناب کا دکھ انہيں ہر رات تڑپاتا تھا۔ بظاہر مطمئن سی مناب کے اندر کون کون سے طوفان چھپے رہتے تھے۔

انہيں بہت حد تک اسکا اندازہ تھا۔

مگر کچھ کہہ نہيں پاتی تھيں کيونکہ جانتی تھيں کہ ان سب طوفانوں کی وجہ اس کا اپنا بيٹا تھا۔

فاتک انکی بات سن کر تڑپ اٹھا۔

“ايسے تو مت کہيں ماں” کيسی محبت چھپی تھی اس تڑپ ميں۔ وہ سسکی بھر کر رہ گئيں۔

“پھر کيوں چھوڑ گۓ تھے اسے يوں تنہا۔ زمانے کے سرد و گرم کے حوالے کرکے۔”

“اماں کيا ہوا اسے۔۔ کيا کيا آپ سب نے۔۔مم۔۔ميں نے کچھ دن پہلے ايک بچی کے ہمراہ اسے دیکھا ہے۔ وہ کون ہے۔۔ کيا تعلق ہے اس کا مناب سے۔” آخر وہ اصل بات کی جانب آہی گيا جسے جاننے کے لئيے وہ کب سے بے تاب تھا۔

“ميں نہيں بتا سکتی۔۔” انکی بات پر وہ ہقا بقہ رہ گيا۔

“ماں۔۔۔۔۔آپ تو ايسا مت کريں” وہ دکھ بھرے لہجے ميں بولا۔

“ميں۔۔۔مجھے تمہارے بابا نے سختی سے منع کيا ہے۔ تم۔۔ تم ايسا کيوں نہيں کرتے کہ داؤد سے يا حفصہ سے کہو۔ وہ تمہارے لئيے اسٹينڈ ليں گے۔ ميں محبت مجبوری ميں گھری ہوں۔ تمہارے بابا نے سخت قسم دے رکھی ہے۔ کہ کبھی بھولے سے بھی تم سے کبھی رابطہ ہو تو مناب اور اس بچی کے بارے ميں تمہيں کچھ نہ بايا جاۓ” وہ بے چارگی سے بوليں۔

“ماں۔۔۔پليز۔۔ ايسے مت کريں۔ آپ لوگوں نے اگر مناب کو کسی اور کے نکاح ميں دے ديا ہے۔ تو آپ يہ جانتے ہوں گے کہ نکاح پر نکاح سخت ترين گناہ ہے۔ اور پھر ميں اپنے حق کے لئيے کورٹ ميں جاؤں گا۔ ميری بیوی ہے وہ اب بھی” فاتک کو يقين نہيں آرہا تھا کہ اسکے ماں باپ يہ ظلم اس پر کيسے کرسکتے ہيں۔ چھ سال پہلے جب وہ وہاں سے گيا تھا تب اسکی شادی کو فقط ايک مہينہ بھی نہيں ہوا تھا۔ اور وہ اسے چھوڑ کر نہيں گيا تھا۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتا۔ ناز نے نہ صرف فون بند کرديا بلکہ اسے انگيج بھی کرديا۔

وہ سر پکڑ کر رہ گيا۔ غصے ميں موبائل اٹھا کر بيڈ کی جانب اچھالا۔

دل کر رہا تھا ابھی سای وقت گھر جاۓ اور ماں کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر پوچھے کہ کيا کيا ہے اسکی مناب کے ساتھ۔مگر ابھی وہ يہ سب صرف سوچ ہی سکتا تھا۔

بے بسی کا احساس شدت اختيار کرتا جارہا تھا۔

پھر کچھ سوچ کر کاؤچ سے اٹھ کر بيڈ کی جانب بڑھا فون اٹھا کر کريم کا نمبر ملايا۔ جو ہمہ وقت ہوٹل کے لاؤنج ميں بيٹھا اسکی ہدايات کا انتظار کرتا تھا۔

“جی سر” اسکا فون اٹھاتے ہی وہ سيدھا ہوا۔

“مجھے گاڑی کی چابی چاہئيے۔ مگر تم ميرے ساتھ نہيں جاؤ گے مجھےاکيلے ہی جانا ہے۔ تم يہيں پر ميرا انتظار کروگے”

“ليکن سر” فاتک کا حکم سن کر وہ ہچکچايا۔

“ليکن ويکن نہيں۔ ميں يہاں کے چپے چپے سے واقف ہوں۔ تم پريشان مت ہو۔ اور فون پر تمہيں مطیع کرتا رہوں گا۔ فکر مت کرو۔” کريم جانتا تھا کہ وہ اسے قائل کرہی لے گا۔

“اوکے سر۔ مگر نکليں گے کيسے۔ کوئ بھی بہت آرام سے آپکو پہچان لے گا” اس نے اپنا خدشہ بتايا۔

“اسکا بھی انتظام کرليا ہے۔ تم بس گاڑی کی چابی مجھے لا کر دو” اس نے کچھ سوچ کر کہا۔

اور ہاں مجھے يہ بتاؤ کہ اس کمپٹيشن ميں جو بچی جيتی تھی وہ لوگ پاکستان کے لئيے فلائ کرگۓ ہيں يا ابھی وہيں پر ہيں” فاتک نے کريم کو اس بچی کی پاکستان واپسی کی معلومات لينے کا کہا تھا۔

“سر وہ لوگ کل شام سات بجے کی فلائٹ سے واپس آئيں گے” کريم نے ہميشہ کی طرح اس بار بھی وفادار خادم ہونے کا ثبوت ديا۔

“ٹھيک ہے”اب اسے جو کچھ کرنا تھا آج ہی کرنا تھا۔

“جلدی آؤ”

“اوکے سر۔۔کمنگ” کريم فون بند کرتے ہی اسکے کمرے کی جانب بڑھا۔

کچھ دير بعد ہڈی کو آنکھوں تک کئيے۔ گاگلز لگاۓ وہ سلور گرے ہائبرڈ کا دروازہ کھول کر ڈرائيونگ سيٹ سنبھال چکا تھا۔

______________________

ہنی مون ٹرپ سے واپس آئے انہيں ہفتہ ہوچکا تھا۔

ايک دو دن سے مناب کو فاتک بہت مضطرب سا لگ رہا تھا۔

اپنے شوروم ميں جانا شروع ہوچکا تھا۔

مگر وہاں سے بھی آدھا دن غائب رہتا گھر آتا تو کمرے ميں بند ليپ ٹاپ پر لگا رہتا۔ وہاں سے ہٹتا تو فون پر۔

اور پوچھنے پر کہتا کچھ نئے کلائنٹس کے ساتھ ڈسکشن چل رہی ہے۔

باقی سب تو مطمئن ہوجاتے مگر مناب کو نجانے کيوں دھڑکا سا لگا رہتا۔

اس رات بھی وہ کمرے ميں آئ تو فاتک کچھ پريشان سا ليپ ٹاپ سامنے رکھے کسی سوچ ميں گم تھا۔

وہ ايک نظر اس پر ڈال کر۔ ڈريسنگ روم ميں چلی گئ۔ تھوڑی دير بعد ٹراؤزر شرٹ پہن کر باہر آئ تب بھی وہ ويسے ہی بيٹھا تھا۔

“فاتک” آخر مناب کو اسکا نام لے کر اسے متوجہ کرنا پڑا۔

فاتک نے چونک کر اسکی جانب ديکھا۔ مناب کے بيڈ پر بيٹھنے سے پہلے ہی وہ ليپ ٹاپ بند کرکے پوری طرح اسکی جانب متوجہ ہوچکا تھا۔

“کيا مسئلہ ہے آپکے ساتھ؟” وہ جيسے تھک کر بولی۔

“بہت سارے مسئلے ہيں” اسے ديکھتے ہی جيسے ہر پريشانی منٹوں ميں ختم ہوگئ تھی۔

شرارت سے اسکی جانب ديکھا۔ جو بيڈ کی بيک سے ٹيک لگاۓ ناراض نظروں سے اسے ديکھ رہی تھی۔

“مثلا؟” اس نے تيکھی نظروں سے اس ديکھا۔

“مثلا” فاتک نے وقفہ ليا۔

پھر اسکے قريب ہو کر اسکے ہاتھ تھامے۔

آہستہ سے انہيں سہلاتے اسکی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوئ۔

“سب سے بڑامسئلہ اس وقت ميرے سامنے بيٹھا ہے” آنکھوں ميں ناچتی شرارت کو محسوس کرنے کے باوجود مناب کا منہ حيرت کی زيادتی کے باعث کھل گيا۔

“ميں” کسی قدر بے يقينی سے اس سے پوچھا۔

“ہا نا۔۔۔ہر وقت تنگ کرکے رکھا ہوا ہے۔ نہ کوئ کام ڈھنگ سے کرپاتا ہوں نا کسی اور کے پاس دل لگتا ہے۔ بس ہر وقت آپکو سوچتا ہوں” فاتک کے گھمبير ہوتے لہجے پر مناب کے ہاتھ فاتک کے ہاتھوں ميں کپکپا کر رہ گۓ۔ نظريں يکدم جھکيں۔

“مجھے بہلاوے مت ديں۔ کچھ سيريس بات ہے ۔۔۔آپ مجھ سے تو شئير کرسکتے ہيں۔ کوئ نقصان ہوگيا ہے کيا؟” اسکے کسرتی بازو پر سر ٹکاتے وہ فاتک کی دھڑکنوں کو منتشر کرگئ۔

وہ يہی سمجھی کہ شايد اسکی پريشانی کا سبب بزنس ميں کسی نقصان سے متعلق ہے۔

“نفصان تو بہت بڑا ہونے والا ہے”فاتک ٹرانس کی سی کيفيت ميں بولا۔ مناب کی سب حسيں اسکی جانب متوجہ تھيں۔ يکدم چونک کر اسکے بازو سے سر اٹھاتے وہ اسکے سامنے آئ۔

“ميں نے کہا تھا نا کچھ مسئلہ ہے۔۔۔آپ۔۔ آپ مجھ سے چھپا رہے ہيں کيوں؟۔۔۔۔ہمارا تعلق کيا صرف محبت بھرے دو بول بولنے کا ہے۔ اس تعلق کا پہلا تقاضا ہی ايک دوسرے کے دکھ سکھ بانٹنا ہے ۔۔۔آپ سمجھتے ہيں کہ ميں آپکے صرف سکھ بانٹنے کی اہليت رکھتی ہوں۔ بس اتنا ہی جانا ہے مجھے” وہ تو تڑپ گئ۔

“ايسا نہيں ہے مان۔۔” فاتک نے شادی کے بعد اسکا پيار بھرا نام مان رکھا تھا۔

“جب مان کہتے ہيں تو يہ مان بھی ہونا چاہئيے کہ ميں آپکی ہر تکليف کو خود پر سہہ جاؤں گی۔ مجھے بزنس کے امور کا زيادہ علم تو نہيں۔ ميں اگر آپکی مدد نہيں کرسکتی تو کم از کم آپکی تکليف پر پھاۓ تو رکھ سکتی ہوں۔ کيا اتنا بھی حق نہيں ديں گے” وہ کس امتحان ميں اسے ڈال رہی تھی۔

فاتک نے اسے خود سے قريب کرکے اسکے گھنے بالوں سے ڈھکے سر پر اپنی ٹھوڑی ٹکائ۔

“آپ ميرے لئيے کيا ہو کبھی نہيں بتا سکتا۔۔مجھے اس وقت آپکی ضرورت ہر چيز سے بڑھ کر ہے۔ بس ميرے قريب رہو۔ ميرے دکھوں کا اپنے آپ مداوا ہوجاۓ گا” اور پھر فاتک کی بڑھتی سرگوشيوں نے مناب کو کچھ اور سوچنے کی مہلت ہی نہيں دی۔ وہ اس انداز ميں اسے اپنی جانب متوجہ کرتا تھا کہ دماغ ميں اٹھتے سب سوال دم توڑ جاتے تھے۔ بس وہ ہوتا تھا اور اسکی وارفتگياں۔

____________

اسکی گاڑی کا رخ اپنے شوروم کی جانب تھا۔ اسے اميد تھی کہ غازی وہيں ہوگا۔ کچھ دير بعد گاڑی شوروم کے آگے رکی۔ ايک گہری سانس کھينچتے اس نے دائيں جانب چمکتے دمکتے اپنے شو روم کی بلڈنگ کو چھ سال بعد ديکھا۔ گاڑی سے اتر کر گاگلز اتارتے کيا کچھ يادداشت کے پردے پر اپنی چھب دکھلا گيا تھا۔

نم آنکھوں سے اردگرد ديکھا۔

گاڑی لاک کرکے دھڑکتے دل سے شوروم کے اندر داخل ہوا۔

دروازے پر کھڑا گارڈ چاچا رحيم نہيں تھا اسی لئے وہ پہچانا نہيں گيا۔

“يہاں کے مينجر کس طرف ہوں گے” اپنے ہی شوروم کی ايک ايک چيز سے واقف ہونے کے باوجود وہ اجنبی بن کر کھڑا پوچھ رہا تھا۔

“سر جی اس جانب” اس نے ہاتھ سے بائيں جانب بنے کاريڈور کی جانب اشارہ کيا۔

فاتک سر ہلا کر اسی سمت بڑھ گيا۔

آفس کے دروازے پر کپکپاتے ہاتھ رکھے۔

آہستہ سے ناک کيا۔

“کم ان؟” غازی کی آواز اسکے کانوں تک پہنچی۔ آنکھيں بھينچ کر آنسو اندر اتارے۔

آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔

غازی ترچھا بيٹھااپنے سامنے پڑے سسٹم پر تيزی سے کام کررہا تھا۔ جب کچھ لمحے آنے والے کی کوئ آواز نہيں آئ۔ تو اسے گردن موڑ کر ديکھنا پڑا۔

اور جو چہرہ نظروں کے سامنے تھا اس نے پل بھر کو ہر منظر ہر چيز ساکت کردی۔

غازی حيرت آنکھوں ميں سموئے بے اختيار اپنی سيٹ سے کھڑا ہوا۔

فاتک نم آنکھوں سے اسی کی جانب ديکھ رہا تھا۔

بدقت اس سے نظر ہٹاتے غازی نے نظريں سامنے ديوار پر جمائيں۔

اسکے چہرے پر در آنے والی سختی فاتک کی آنکھوں سے پوشيدہ نہيں تھی۔

“کيوں آۓ ہيں آپ۔۔۔؟” سرد لہجے ميں کئيے جانے والا سوال فاتک کو سن کرگيا۔

اپنے ماں جاۓ کے لہجے کی سختی اسکی برداشت سے باہر تھی۔

“معافی مانگنے” فقط دولفظوں ميں اس نے اپنے آنے کا مقصد بيان کيا۔

مگر اسکے يہ دو لفظ غازی کے اندر آگ لگا گۓ۔

“معافی۔۔” وہ استہزائيہ انداز ميں مسکرايا۔

“ہاں” فاتک ڈٹا ہوا تھا۔

“کس سے ۔۔۔۔کس کس سے مانگيں گے۔۔۔اور کون دے گا آپکو معافی۔ يہ سوچا بھی کيسے آپ نے۔ کہ چھ سال اپنی خوشيوں اور خواہشوں کی تکميل کے لئيے ہم سے بچھڑنے کے بعد ۔۔۔آپ آئيں گے ۔۔۔ہم سے معافی مانگيں گے اور ہم سب بھول بھال آپکو معاف کرديں گے۔ واہ کيا پليننگ کی آپ نے ۔۔۔۔سپر سٹار فاتک واجد۔۔۔” طنز کے نشتر اسکے سينے ميں پيوست کرتے غازی کا لہجہ جتنا کڑوا ہوسکتا تھا وہ ہوا تھا۔

فاتک تکليف سے گزرنے کے بعد بھی جانتا تھا کہ وہ حق بجانب تھا۔

“نہيں ميں جانتا ہوں کہ يہ سب اتنا آسان نہيں۔ اسی لئيے سب سے باری باری معافی مانگنے آيا ہوں۔ اماں سے تو معافی مانگ چکا ہوں۔ وہ ماں ہيں نا معاف کرديا۔ مگر باقی سب سے معافی ملنا آسان نہيں۔ ميں يہ بھی جانتا ہوں۔ مجھے يہ بھی اندازہ ہے کہ غلطی پر سراسر ميں ہی تھا۔ اور اسی لئيے اسکا بھگتان بھی تنہا ہی بھگتا۔” غازی کا دل پگھل رہا تھا۔ فاتک نہ صرف اسکا بہترين بھائ تھا بلکہ بہترين دوست بھی تھا۔ کس طرح اس کے بغير يہ سال گزارے يہ وہی جانتا تھا۔

“نہيں آپکو احساس نہيں ہوسکتا۔۔ آپکے گرد تو ہرلمحہ بھيڑ تھی، ہجوم تھا، چکا چوند تھی۔ اور اسی سب کی تو آپ نے خواہش کی تھی نا پھر اب لہجے ميں يہ درد کيسا۔۔يہ سب آپکی ترجيح تھی کيونکہ ان خواہشات کوآپ نے ہر رشتے پر ترجيح دی۔۔۔يہاں تک کہ اپنی محبت پر بھی” مناب کا کرلاتا چہرہ اسکی نظروں کے سامنے آيا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *