Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Yaad Ki Anch (Episode 02)

Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas

نکاح چونکہ پہلے ہی ہوچکا تھا لہذا مناب کو ہال ميں آنے کے کچھ ہی دير بعد اسٹيج تک لے جانے کا عنديہ دے ديا گيا۔

بھائيوں کے ہمراہ سہج سہج قدم اٹھاتے وہ اسٹيج تک آئ۔

سيڑھيوں پر قدم رکھنے سے پہلے ہی فاتک نے اسکی جھکی نظروں کے سامنے ہاتھ کيا۔

نظر اٹھا کر پل بھر کر اس نے فاتک کے مسکراتے چہرے کو ديکھا۔

نظر پھير کر بائيں جانب اسيس کو ديکھا مشرقی لڑکی کی يہی تو خاصيت ہوتی ہے۔ شوہر کے قريب جانے سے پہلے وہ باپ اور بھائ کی پوری رضامندی کی خواہشمند ہوتی ہے۔

فاتک کو اسکی ادا پر بے حد پيار آيا۔

اسيس نے مسکرا کر اسے آگے بڑھنے کا اشارہ ديا۔

آہستہ سے فاتک کا ہاتھ تھام کر وہ اسکے برابر کھڑی ہوئ۔

ہر جانب سے کيمرے انکے ملن کو قيد کررہے تھے۔

اسٹيريو پر بليک شيلٹن کی خوبصورت آواز فاتک کے دل کے تاروں کے ساتھ گنگنا رہی تھی۔

Mine would be you

Sun keeps shining, back road flying

Singing like crazy fools

Making up our own words

Laughing ’til it hurts

Baby, if I had to choose

My best day ever

My finest hour, my wildest dream come true

Mine would be you

آج حقيقت ميں قاتک کا خواب سچ ہوگيا تھا۔

مناب کا ساتھ اس کی زندگی کے خوابوں ميں سے ايک خواب تھا۔

جو حقيقت کا روپ دھارے آج اسکے مقابل تھی۔

جگرجگر کرتی نظريں دائيں جانب کھڑی مناب کی جانب اٹھيں۔ جس کی نظريں زمين پر جمی تھيں۔

اسے لئيے وہ صوفے پر بيٹھا۔

“کيسی ہو؟” آہستہ سے کہتے فاتک نے ايک نظر اسکو ديکھا۔

جب کچھ ديرتک کوئ جواب نہ آيا۔ تو ہلکا سا ٹہوکا ديا۔

جواب ابھی بھی ندارد

اب کی بار فاتک نے پاس کھڑی حنا بھابھی کو آواز دے ڈالی۔

“کيا ہوا؟” وہ يکدم اوپر اسٹيج پر آئيں۔

“آپکی نند زبان کہيں رکھ کر بھول تو نہيں گئ” حنا بھابھی کو پاس آنے کا اشارہ کرکے آہستہ سے سنجيدہ آواز ميں سوال کيا۔

بھابھی کو تو پہلے سمجھ نہيں آئ۔

اور جس کو سمجھ آئ اس نے گھور کر فاتک کو ديکھا۔

“اوہ شکر يعنی کان بھی ٹھيک کام کررہے ہيں۔ نہيں تو ميں سمجھا تھا زبان کے ساتھ ساتھ کانوں نے بھی کام کرنا چھوڑ ديا ہے” فاتک نے شرارت سے مناب کے گھورنے کا نوٹس ليتے کہا۔

“بدتميز نہ ہو۔۔ مجھے اب سمجھ آئ۔۔۔” بھابھی نے ايک دھموکا اسکے کندھے پر جڑ کر مصنوعی خفگی سے ديکھا۔

“آپکی سمجھ تو خاور بھائ نے ماشاءاللہ سے پوری کردی ہے ۔۔آپکا قصور نہيں” فاتک نے ان سے اظہار ہمدردی کی۔

“بيٹا تم فکر نہ کرو۔۔ہمارا جوان بھی جلد ہی تمہاری سوچنے سمجھنے کی صلاحتيں بھی ٹھيک کردے گا” بھابھی نے مناب کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ اسے گويا خبردار کيا۔

“اوہ۔۔ يعنی يہ محترمہ صرف حسن کے کيل کانٹوں سے ليس ہو کر نہيں آرہيں۔۔بلکہ مجھے شکست دينے کی پوری پليننگ کی گئ ہے” اس نے آنکھيں گھمائيں۔

“وہ تو ہم کل صبح پوچھيں گے” انہوں نے ايک بار پھر مسکراتے ہوۓ شرارت سے اسے خبردار کيا۔اور اسٹيج سے اتر گئيں۔

“ميرے مخالفوں ميں آپ کب سے شامل ہوئيں”اسکی حيرت پر مناب بمشکل اپنی ہنسی چھپا سکی۔

“بيٹا گھر جاکر راز و نياز کرلينا۔ اب تجھے کوئ روکنے والا نہيں ہوگا” غازی نے تصويريں کھينچتے ہوۓ اسے ٹوکا۔

“جب تک تم لوگوں کے ارمان پورے نہيں ہونے گھر بھی کہاں لے کر جاؤ گے” اس نے منہ بنا کر کہا۔

“پہلی بار اتنا اتاولا دلہا ديکھا ہے ۔۔۔باقاعدہ ہميں کہہ رہا ہے کہ اب گھر لے چلو” داؤد نے اسکے لتے لئيے۔ سب اسٹيج کے پاس کھڑے کھٹا کھٹ تصويريں لے رہے تھے۔ اور ساتھ ساتھ فاتک پر جملے بھی کس رہے تھے۔

“پہلی پہلی شادی ہے کيا کروں۔۔مجھے پتہ نہيں کہ اپنی خوشی کو کيسے چھپاتے ہيں” وہ بھی کہاں کسی سے ہارنے والوں ميں سے تھا۔

“بيٹا ہماری بھی پہلی اور اکلوتی شادی ہوئ تھی مگر ہم تيری طرح اتاولے نہيں ہو رہے تھے” انہوں نے پھر سے اسے شرمندہ کرنا چاہا۔

“ميں تو اس پر عمل کررہا ہوں وہ کيا خوب کہا ہے کسی نے ۔۔۔۔

بول کے لب آزاد ہيں تيرے۔۔

جب لب آزاد ہيں تو پھر آواز بھی اٹھانی چاہئيے” مسلسل جملوں کا تبادلہ ہورہا تھا۔

“بيٹا! آزادی کے چکر ميں کہيں بھائ جان سے يہيں جوتياں نہ کھا لينا۔وہ تيری حالت کی پرواہ بھی نہيں کريں گے” سب خاندان والے جانتے تھے کے واجد غصے کے بہت تيز ہيں اور بچوں کی سخت تربيت کی ہے۔

“آپ کو کبھی ميری معصومانہ سی خوشياں برداشت نہيں ہوئيں۔۔۔چاچی ميرا ساتھ ديں گی آپ تو ہيں ہی تيلی لگانے والوں ميں سے” داؤد کی سب بچوں کے ساتھ دوستی تھی اور اسی دوستی کے سبب سب ان سے کھل کر ہنسی مذاق کرتے تھے۔ اور داؤد کی بيگم وہ تو سب بچوں کو بڑی بہن کی طرح ٹريٹ کرتی تھيں۔ سب حفصہ چاچی سے اپنی باتيں شئير کرتے تھے اور وہ بھی ہر دم انکی مدد کو تيار رہتی تھيں۔

اب بھی پاس سے گزرتے داؤد کی باتيں اور فاتک کی درگت انہيں دکھائ دے گئ۔ فورا اسکی مدد کو لپکيں۔

“کيوں ميرے بچے کو تنگ کررہے ہيں سب۔۔ ميرا شہزادہ تو آج چاند کو بھی مات دے رہا ہے۔” جلدی سے اسکی بلائيں ليتں انہوں نے مڑ کر داؤد کو گھورا۔

“يہ شہزادہ چاند نہيں بلکہ کھلن کو چاند مانگ رہا ہے” انہوں نے اسکی حالت کے پيش نظر حفصہ کا جملہ ٹھيک کروايا۔

“ہاں تو چاند ہم لے کر تو جارہے ہيں” حفصہ نے محبت سے مناب کی تھوڑی چھو کر کہا۔

“آپکے لاڈلے کو اس چاند کو گھر لے جانے کی بہت جلدی ہے”داؤد نے اصل مسئلہ بتايا۔

“لے جاتے ہيں بھئ تصويريں تو اتروا لينے دو۔ کچھ رسميں تو کرلينے دو” اب کی بار حفصہ نے اسے سجھايا۔

“يہ تصويريں گھر جاکر نہيں اتر سکتيں۔ ميں اکڑ گيا ہوں يہاں بيٹھ کر۔۔” وہ جھنجھلا کر بولا۔

“تو بيٹا کس نے کہا تھا اتنی جلدی شادی کا کھڑاگ پالو۔۔ اب بھگتو” داؤد نے پھر لقمہ ديا۔

“يار شادی ہی کی ہے کوئ انوکھا کام تو نہيں کيا” وہ پھر بے زار شکل بنا کر بولا۔

“اچھا اچھا ميں پتہ کرتی ہوں” حفصہ نے سيز فائر کروايا۔

اور اسٹيج سے اتر گئيں۔

___________________________

وہ ائير پورٹ پر جس لمحے اترا اس سے پہلے کئ فوٹوگرافرز۔۔نيوز چينلز کے صحافی اور بے شمار فينز ائير پورٹ پر موجود تھے۔

“ہيلو سر” ايک صحافی نے فاتک کا راستہ روکا

“سر سنا ہے آپ نے کينيڈا والا کنسرٹ کينسل کرديا ہے”

“سرآپ بتانا پسند کريں گے کہ اتنے سالوں بعد يکدم پاکستان آنے کی کيا وجہ ہے”

“سر پاکستان آکر کيسا محسوس ہوا”

“سر کيا آپ يہاں کنسرٹ کريں گے” لاتعداد لوگ اور لاتعداد سوالات منہ کھول کر اسکا راستہ بار بار روک رہے تھے۔

سیکيورٹی کے علاوہ اسکے اپنے چھ سات بندے اس کا گھيراؤ کئيے اسے باہر لے جارہے تھے۔

وہ خاموشی سے بليک جينز پر گرے کلر کا ہڈی پہنے اپنے رف سے حليے ميں بھی فينز کے دلوں کی دھڑکن بنا ہوا تھا۔

لوگ دھڑادھڑ تصويريں کھينچ رہے تھے۔

“پليز آپ لوگ سر کو پريشان مت کريں” اسکا ايک بندہ صحافی کے ساتھ الجھ پڑا۔

فاتک نے نرمی سے اسے خاموش کروايا۔

ائير پورٹ کے احاطے سے باہر آتے ہی گاڑی ميں بيٹھنے سے پہلے وہ مڑا۔

“ميرا پاکستان آنا کچھ پرسنل ريزنز کی وجہ سے ہے۔ اور وہ کيا ہيں۔ ظاہر ہے ميں اسے پبلک نہيں کروں گا۔ آپ سب کی محبت کا شکريہ” کہتے ساتھ ہی وہ گاڑی کے کھلے دروازے ميں غائب ہوچکا تھا۔ کالے شيشوں کی گاڑی زن اسکے بيٹھتے ساتھ ہی زن سے آگۓ بڑھ گئ۔

پورا ميڈيا۔ ہر دل عزيز سنگر فاتک واجد کے اچانک پاکستان آنے کی خبر چلا رہا تھا۔ ہر چينل پر يہ نيوز آگے کی طرح پھيل چکی تھی کہ پاکستانی سنگر جو دنيا بھر ميں پانچ سالوں ميں اپنا لوہا منوا چکا تھا اتنے عرصے بعد بغير کسی شيڈيول کے پاکستان کيسے اور کيونکر آگيا۔

فاتک کی آمد سب کے لئيے ايک معمہ بن چکی تھی۔

اور وہ جو ہر خبر کی ہيڈ لائن بن چکا تھا۔

گاڑی ميں بيٹھا صرف اسے سوچے جارہا تھا جو اسکے دل کی دھڑکن تھی۔

___________________

دلہن بنی مناب کو لئے وہ سب گھر آچکے تھے۔

رو رو کر وہ بے دم سی ہوگئ تھی۔ فاتک کو ذرا سا بھی اندازہ نہيں تھا کہ وہ رخصتی پر يوں بکھر جاۓ گی۔

فاتک کی سب شوخياں رخصتی کے بعد سے معدوم ہوچکی تھيں۔

“لو بھئ اب سکون ہے لے آۓ تمہاری دلہن کو ہم گھر” مناب کو کمرے ميں لے جاتے ہوۓ حفصہ نے فاتک کو چھيڑا

اس نے فقط پھيکی سی مسکراہٹ کا تبادلہ کيا۔

مناب کو کمرے ميں پہنچانے کے بعد حنا بھابھی جو مناب کے ساتھ ہی آئيں تھيں۔ سيدھا فاتک کے پاس آئيں

“چليں بھئ آپ سارے بھی محفل برخاست کريں اور فاتک چلو تم اپنے کمرے ميں” انہوں نے اعلان کرتے فاتک کو اٹھانا چاہا۔

“ارے ايسے کيسے۔ گھر آکر اس نے مجھے بھابھی کی گود بٹھائ نہيں کرنے دی۔ اسکی سزا کے طور پر اب ميں اسکی گود ميں بيٹھوں گا” غازی جو کہ سيکنڈ ائير ميں تھا۔ فاتک کی گود ميں جا بيٹھا۔

“دماغ خراب ہے تيرا” فاتک پہلے ہی چڑا ہوا تھا۔ غازی کو پرے دھکيلنے لگا۔ باقی سب اس حرکت پر مسکراۓ بغير نہيں رہ سکے۔

“دماغ تو تيرا شادی کے بعد خراب ہوا ہے۔ ہمارا ابھی ٹھيک ہی ہے” وہ فاتک کے گلے ميں بازو ڈال کر گويا اٹھنے سے پوری طرح انکار کرچکا تھا۔

“آۓ ہاۓ۔۔۔ اس کا سانس رک جاۓ گا” نتاشہ نے فاتک کی حالت ديکھتے ہوۓ ہانک لگائ۔

“اسکی سانس ميری بھابھی کا حسن ديکھ کر رک گئ تھی۔ ميں تو صحيح کرنے کے ليا بيٹھا ہوں” غازی بھی اپنے نام کا ايک تھا۔

“اسکی سانس ٹھيک کرنے کے لئيے تو تمہارا موزا بھی سنگھايا جاسکتا ہے” حنا نے لقمہ ديا۔

“سانس ٹھيک کرنی ہے بند نہيں کرنی” داؤد نے بھی شرارتاّّ کہا۔

“اٹھ جا ہاتھی۔۔” فاتک نے اسکے بازو گردن سے اٹھانے چاہے۔

“اب مين تب ہی اٹھوں گا جب تو پیسے دے گا” غازی نے بھی اٹھنے سے انکار کرديا۔

“تجھے کس بات کے پيسے” فاتک نے پھر غصے سے کہا۔

“ميں بھابھی گھر لاياہوں اسی خوشی ميں”

“واہ واہ۔۔۔۔ تو کيا اسے ڈولی ميں اٹھا کر لايا ہے” فاتک نے اسے پھر سے اٹھانے کی ناکام کوشش کی۔

“نہيں تمہاری مدد کی ہے بھائ۔۔ بھول گۓ۔۔۔ ميرا احسان مہندی والا قصہ کھولوں” مہندی کی رات مناب کے گھر فاتک کو لے جانے والا غازی ہی تھا۔

“غازی کی سرگوشی فاتک کو بہت کچھ باور کروا گئ۔

“اچھا اب اٹھوگے تو جيب سے نکال کر دوں گا نا” اب کی بار فاتک نے شرافت سے اسکا مطالبہ پوراکرنے کی ہامی بھری۔

غازی کے اٹھتے ہی اس نے جيب ميں ہاتھ ڈال کر ہزار ہزار کے دس نوٹ اسکے حوالے کئيۓ۔

“شاباش اب تم جاسکتے ہو” غازی نے اسکے شانے کھ تھپتپاتے کہا۔

“وہ تو ميں پہلے ہی چلا جاتا اگر تم جيسے چور ميری جيب پر ڈاکہ ڈالنے نہ آجاتے” اس نے بيزار نظروں سے غازی کو ديکھا۔ جو مزے سے پيسے گننے ميں مصروف تھا۔

“چلو بھئ اب چلے بھی جاؤ اس سے پہلے کہ کوئ اور تمہاری جيب ڈھيلی کرنے فورا اپنے کمرے ميں پہنچوں” نتاشا نے فورا اسے اوپر کے زينے کی جانب جاتی ہوئ سيڑھوں کی جانب دھکيلا۔

___________________________

کمرے ميں داخل ہوتے ديوں کی روشنی ميں بيڈ پر دلہن کے روايتی انداز ميں بيٹھی مناب اسے اس خوابناک ماحول ميں ايک خواب ہی لگ رہی تھی۔

آہستہ سے اپنے پيچھے دروازہ بند کرکے لاک لگايا۔

نظريں مناب کے دل موہ لينے والے روپ سے ہٹنے کو تيار ہی نہيں تھيں۔

مناب سر جھکاۓ دبيز قالين پر بھی اسکے قدموں کی دھمک محسوس کررہی تھی۔

ہتھيلياں بھيگتی جارہی تھيں۔

پورے کمرے ميں گلاب کی پتيوں کی خوشبو تھی۔ جو ہر جگہ بکھرائ ہوئيں تھيں۔

فرش پر جگہ جگہ پھولوں کی پتيوں سےخوبصورت سے ہارٹ بناۓ گۓ تھے۔

بيڈ پر بھی اسی طرح بڑا سا ہارٹ بنايا ہوا تھا۔ کمرے کی ہر ديوار پر وشنگ کارڈز اور کلياں لگائ گئيں تھيں۔ ڈريسنگ پر سائيڈ ٹيبلز پر اور بيڈ کے سامنے پڑے کاؤچ پر پتيوں کے ہمراہ دئيے جلاۓ گۓ تھے۔

فاتک نے شيروانی اتار کر بيڈ کی پائنتی پر رکھی۔

آہستہ سے مناب کی جھکی نظروں کے سامنے بيٹھا۔

“السلام عليکم” دھيرے سے اسکا حنائ ہاتھ تھاما۔

“وعليکم سلام” ہولے سے مناب نے جواب ديا۔ جبکہ اندر کہيں فاتک کی ہاتھ پکڑنے والی حرکت سے پکڑ دھکڑ شروع ہوگئ تھی۔

“شکر ہے۔ ميری بيوی کی قوت گويائ ٹھيک ہے نہيں تو ميں سمجھا تھا ميری وجاہت کا سحر ايسا چڑھا ہے کہ بولنا بھول گئ ہيں” فاتک نے شرارت سے اسے چھيڑا۔

“اتنے بھی کوئ حور پرے نہيں” مناب نے منہ بنا کر کہا۔

“ہاہاہا! شکر ميری مناب مجھے واپس مل گئ۔ وہی مناب جو ميری باتوں پر چڑ کر مجھے لاجواب کرتی تھی” فاتک کے محبت پاش لہجے نے اسے اپنی پوزيشن اور انکے مابين بننے والے اس نۓ رشتے کا احساس دلايا۔

” اتنا روئ کيوں تھيں۔ پتہ ہے نا ميں کتنا اپ سيٹ ہوجاتا ہوں آپکے رونے سے۔ پھر بھی” فاتک کو اپنی خفگی ياد آئ۔

“اپنوں کو چھوڑنے کا احساس ہی اتنا جان ليوا ہوتا ہے کہ نہ چاہتے ہوۓ بھی آنسو آنکھوں ميں آہی جاتے ہيں” لہجے کے ارتعاش پر قابو پاتے اس نے جھکی نظروں سے ہی جواب ديا۔

ابھی تک فاتک کی محبت پاش نظروں ميں ديکھنے کی اسکی ہمت نہيں ہوئ تھی۔

“اور ميں۔۔۔ميں آپ کا اپنا نہيں” فاتک نے اسے مشکل ميں ڈالا۔

“فاتک ہر انسان اور ہر رشتے کی اپنی ايک الگ اہميت ہوتی ہے۔ کوئ کسی کی جگہ نہيں ليتا بلکہ ہر رشتہ اپنی جگہ اہميت کا حامل ہوتا ہے۔ پليز آئںدہ ايسے مت کہئيے گا۔ جو آپ ہيں وہ کوئ اور نہيں ہوسکتا” فاتک کی ناراضگی کو ختم کرنے کے چکر ميں وہ وہ سب کہہ گئ جو ہميشہ سے فاتک اس سے سننے کا خواہاں تھا۔ مگر اپنی ريزروو نيچر کی وجہ سے وہ کبھی اس طرح کھل کر فاتک کے حوالے سے اپنی فيلنگز کا اظہار نہيں کرتی تھی۔

مگر آج نئ زندگی شروع کرتے ہوۓ وہ کوئ ميل اپنے اور فاتک کے رشتے ميں نہيں رکھنا چاہتی تھی۔

“سيريسلی” فاتک کی شرارت سے بھرپور آواز پر اسکی جانب حيرت سے ديکھ کر اسے اندازہ ہوگيا کہ فاتک نے جان بوجھ کر اسے جذباتی کيا ہے۔

“سيريسلی۔۔۔بہت برے ہيں آپ” ناراض نظروں سے اسے ديکھتے اسکے شانے پر ہلکا سا مکا مارا۔

“اف بيويوں والے تشدد شروع” فاتک کی شرارت بھری نظروں سے بچنا اسے انتہائ مشکل لگ رہا تھا۔

“ہاں تو۔۔۔۔ غلط بات کريں گے تو ايسے ہی تشدد کروں گی” نروٹھے پن سے مناب نے جواب ديا۔

“ويسے ميں نے سنا تھا کہ شادی کی رات بيويوں کو رونمائ کا گفٹ لينے کی بہت بے چينی ہوتی ہے ليکن يہاں تو لگ رہا ہے کہ کوئ ٹينشن نہيں” مناب کے ہاتھوں ميں پہنی ہوئ انگوٹھيوں سے کھيلتے ہوۓ اس نے مصنوعی حيرت کا مظاہرہ کيا۔

“جب مجھے پتہ ہے کہ آپ نے ميری سوچ سے بھی اچھا گفٹ ليا ہوگا تو مجھے بے چینی دکھانے کی کيا ضرورت ہے” اپنی محبت پر مناب کا اتنا اعتماد ديکھ کر وہ مسکراۓ بغير نہ رہ سکا۔

“اور اگر ميں نے کچھ بھی نہ ليا ہو تو۔۔۔۔” فاتک نے پھر سے اسے مشکل ميں ڈالنا چاہا۔

“تو بھی کوئ ٹينشن نہيں۔ آپکی مجبت ہی بہت ہے۔اسی کو سميٹ لوں تو بہت ہے” مناب کے اظہار اسے حيران کئيے جارہے تھے۔

“مناب مجھے لگتا ہے آج رات آپ مجھے بے ہوش کرکے ہی چھوڑو گی۔۔يار يہ سب اظہار ۔۔۔”

“پہلے ہم ميں اتنا مضبوط رشتہ نہيں تھا کہ ميں يہ سب آپ سے کہتی۔ ميری محبت کا حقدار ميرا شوہر ہی تھا۔

مگر کبھی کبھی بچوں کے رشتے طے کرتے ہميں يہ پتہ نہيں ہوتا کہ بچے اسے بڑے ہو کر اسی طرح نبھائيں گے۔ بے شک ميری اور آپکی بات طے تھی۔ مگر جب تک ہم ميں کوئ شرعی رشتہ نہ بنتا۔ آپ ميرے لئيۓ نامحرم ہی تھے۔ اور کسی بھی نامحرم کے لئيے ميں اپنی اتنی خاص فيلنگز ظاہر نہيں کرسکتی تھی۔

يہ تو اس اللہ کا انعام ہے کہ جسے سوچا اسے ہی اللہ نے ميرا ہمسفر بنا ديا۔

اب جب ہم ميں ايک مضبوط رشتہ تو ہی ميں يہ سب آپ سے شئير کررہی ہوں۔کيونکہ آپکا ہی ان پر حق ہے” اتنی پاکيزہ سوچ والی بيوی واقعی اسکے لئيۓ بھی اللہ کا انعام ہی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *