Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas NovelR50675 Teri Yaad Ki Anch (Episode 01)
Rate this Novel
Teri Yaad Ki Anch (Episode 01)
Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas
صوفے پر اپنے مخصوص لاپرواہ انداز ميں بيٹھا ليپ ٹاپ گھٹنوں پر رکھے وہ تيزی سے ميلز چيک کررہا تھا۔
گاہے بگاہے سامنے لگے ٹی وی پر بھی ايک نظر ڈال ليتا تھا۔
دروازے پر پڑنے والی دستک پر ہولے سے کم ان کہا۔
“سر ہميں بس تھوڑی دير تک کينيڈا کی فلائٹ کے لئيے نکلناہے” اسے ہنوز ٹراؤذر ٹی شرٹ ميں بيٹھے ديکھ کر مينجر نے ياد دلايا۔
“کريم تم ہر آدھے گھنٹے بعد بس يہی کہنے کے لئيے آتے ہو۔” ہولے سے مسکرا کر اس نے نظريں ليپ ٹاپ کی اسکرين سے ہٹاۓ بغير کہا۔
“سر وہ۔۔” کريم خفت زدہ ہوا۔
“لالے تو جانتا ہے مجھے کبھی اپنے گيٹ اپ کا ہوش نہيں رہا۔ شو شروع ہونے سے پہلے جو بھی کہے گا پہن لوں گا۔ ابھی تنگ نہ کر۔ ميرا بيگ ريڈی ہے بس وہ گاڑی ميں پہنچا ميں بس پانچ منٹ ميں اس کام سے فارغ ہوتا ہوں” اپنے مينجر کو ايک جانب اشارہ کرکے بيگ اٹھانے کا کہتے وہ پھر سے مصروف ہوچکا تھا۔
کريم نے حکم کی تعميل کی۔ يکدم کان ميں ٹی وی سے آنے والی آواز نے اسے چونکايا۔
سامنے کمپئير بچوں کے ايشيائ سپيلنگ کامپيٹيشن ميں جيتنے والی بچی کا نام اناؤنس کررہی تھی۔ جس کا تعلق پاکستان سے تھا۔
پاکستان کا نام سن کر وہ نہ صرف چونکا بلکہ ليپ ٹاپ پر چلتا ہوا ہاتھ روک کر ايک ٹرانس کی سی کيفيت ميں ہاتھ بڑھا کر ريمورٹ سے آواز بھی اونچی کی۔
“وشہ نور، پاکستان سے جيتنے والی يہ پانچ سالہ بچی آج کا يہ کامپيٹيشن جيت چکی ہے” کمپئير انگلش ميں نہايت پرجوش انداز ميں اس بچی کا نام پکار رہی تھی۔
“ان کی والدہ اور دادا بھی يہاں موجود ہيں۔ ہم انہيں بے حد مبارک ديتے ہيں۔ اور انہيں بھی وشہ کے ساتھ اسٹيج پر آنے کی دعوت ديتے ہيں” اب کی بار کيمرے نے جس چہرے کو فوکس کيا وہ فاتک کی دنيا ہلانے کے لئيے بہت تھا۔
وہ بے يقينی سے اس چہرے کو ديکھ رہا تھا۔ ايک ايک نقش ويسا ہی تھا۔ ماہ و سال اس چہرے کی شادابی کو جیسے اور بھی نکھار گۓ تھے۔
اس لمحے وہ ہر چيز فراموش کرچکا تھا ياد تھا تو بس وہ، اور اسکی بيٹی۔ اسکی۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
دماغ سائيں سائيں کرنے لگا۔ اس کا مسکراتا فخريہ چہرہ بيٹی کو محبت سے تکتی اس لڑکی کی نظريں۔ فاتک مبہوت ان دونوں کو ديکھ رہا تھا۔
پھر سے ناک ہوا۔
فاتک جيسے ہوش ميں آيا۔ کچھ لمحے غائب دماغی سے دروازے کی جانب ديکھتا رہا۔
پھر شکستہ لہجے ميں کم ان کہا۔
“سر بس دس منٹ تک ہميں يہاں سے چيک آؤٹ کرنا ہے” کريم اس کا مينجر ايک بار پھر اسے ياددہانی کروانے آيا۔
“کريم ادھر آؤ” وہ اس لمحے کريم کو کہاں سن رہا تھا۔
“جی سر۔۔” وہ مودب ہوٹل کے اس کمرے ميں داخل ہوا جو پچھلے کچھ دن سے فاتک کے زير استعمال تھا۔
“يہ مقابلہ کہاں پہ منعقد ہوا ہے۔” اسکے سوال پر کريم نے اچنبھے سے اسکی جانب ديکھا۔
“کون سا سر” اب کی بار اسکی نظريں ٹی وی کی جانب اٹھيں۔
“اس کا پتہ کرواؤ کہ يہ مقابلہ کہاں پر منعقد ہوا ہے” کريم کو اسکی طبیعت ٹھيک نہيں لگی۔
“بلکہ ايک۔۔۔۔ايک کام کرو” اپنے چپل ڈھونڈتے ہوۓ وہ کچھ سوچ کر بولا۔
“جی سر”
“پتہ کرواؤ پاکستان جانے والی قريب کی کون سی فلائٹ ہے”اب کی بار کريم کو اسکی دماغی حالت پر شبہ ہوا۔
“مگر سر وہ ۔۔۔وہ کينيڈا” وہ ہکلا کر بولا۔
“بھاڑ ميں گيا کينيڈا کا ٹور مجھے آج اور جلد از جلد پاکستان پہنچنا ہے۔ تم پتہ کروا سکتے ہو کہ نہيں” فاتک درشت لہجے ميں بولا۔
“سر ميں پتہ کروا ديتا ہوں۔ ليکن ہمارا کانٹريکٹ اور غزنی صاحب” وہ پھر سے اسے کچھ ياد دلانا چاہتا تھا۔
فاتک نے ہاتھ اٹھا کر اسے خاموش رہنے کا کہا۔
کريم نے بے چارگی سے اس چارمنگ پرسناليٹی والے فاتک کو ديکھا جو نجانے کتنے دلوں کی دھڑکن تھا۔
“ميں پہلے ہی بہت وقت ضائع کرچکا ہوں۔۔ اب کوئ اور ديوار حائل نہ کرو۔ بس ميں اب سيدھا پاکستان ہی جاؤں گا۔” وہ دوٹوک انداز ميں بولا۔
کريم الٹے قدموں اسکا حکم پورا کرنے چل پڑا۔
____________________________”
ميں پوچھتی ہوں آج کے دن يہ قافلہ گھر سے نکلے گا يا کل باراتيوں کا استبال ہی کرےگا۔” عارفہ مناب کے کمرے ميں آتے ہوۓ غصے سے سب لڑکيوں کو ديکھ کر بوليں۔ جن کی تيارياں ختم ہونے کا نام ہی نہيں لے رہی تھيں۔
“دوپہر تين بجے سے تم سب اس کمرے ميں گھسی پڑی ہو۔ اور اب سات بج گۓ ہيں۔ ميرے خدا چار گھنٹوں ميں منہ ہی نہيں سنور رہے۔” صبغہ کو آئ لائنر لگاتے ديکھ کر ان کا غصہ اور بھی سوا نيزے پر آچکا تھا۔
“امی کيا ہے اب يوں منہ اٹھا کر تو اپنی آپا کی شادی اٹينڈ نہيں کرسکتی تھی نا۔ آخر کو دلہن کی بہن ہوں۔” لائنر والا ہاتھ مسلسل چل رہاتھا اور ساتھ زبان بھی۔
“تو تجھے کس نے اس بات پہ ميڈل دينا ہے۔ ميں بھی تو دلہن کی ماں ہوں۔ ميں کون سا کترينہ بننے کے جتن کررہی ہوں” صبغہ کی زبان کے جوہر پر انہيں گويا پتنگے لگ گۓ۔
“خالہ بس ريڈی ہوگۓ ہيں” فرح نے ان کا غصہ بڑھتا ديکھ کر جلدی سے کہا۔
“پانچ منٹ سے پہلے تم لوگ باہر نہيں آئيں تو اب تمہارے ابو اندر آئيں گے” انہوں نے غصيلی نظر ڈال کر واپسی کی راہ لی۔
“صبغہ کتنی بدتميز ہوگئ ہو تم” مناب نے اسے ٹوکا۔
“جلدی کرو اب ابو آگۓ نا تو ساری تيزی اور طراری نکل جاۓ گی” مناب مايوں کے جوڑے ميں دوڑتی بھاگتی سب کی تياری ميں مددکروانے مين مصروف تھی۔
اس وقت بھی سينڈل پہنتی صبغہ کو دوپٹہ لاکر ديا۔
“کر تو رہی ہوں جلدی۔۔” وہ جھنجھلائ ہوئ بولی۔
“چلو جو جو تيار ہوگيا ہے باہر نکلے” اب کی بار خاور بھائ ناک کرکے باہر سے آواز لگانے لگے۔
حنا بھابھی باقيوں کو باہر نکالنے لگيں۔
“دھيان سے کچھ کھا لينا۔ دوپہر کو بھی تم نے کچھ نہيں ليا تھا۔ يہ نہ ہو کل فاتک تمہيں لئيے ہاسپٹلز کے چکر لگا رہا ہو۔ ہم سب کا قيمہ بنا دينا ہے اس نے اگر تمہيں کچھ ہوا” فزا بھابھی پيار سے مناب کے چہرے پر آنے والی لٹ کو سنوارتے ہوۓ محبت پاش لہجے ميں بوليں۔ جس کے چہرے پر فاتک کا نام سنتے ہی حيا کی لالی بکھر گئ۔
“اتنے بھی اب جلاد نہيں” نظريں چرا کر بولی۔
“بيٹا ايک مہينے ميں جو ہم سب کو آگے لگا کر شادی کی تياری کروا سکتا ہے وہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔ اچھا چلو۔۔بس اپنا خيال رکھنا” اسکے چہرے پر پيار سے ہاتھ رکھ کر وہ بھی باہر کی جانب لپکيں۔ سب گاڑيوں ميں بھر کر فاتک کو مہندی لگانے واجد لاج کی جانب بڑھے۔
مناب کے پاس ددا اور کام کرنے والياں موجود تھيں۔
وہ اداس سی سب کو جاتا ديکھ رہی تھی۔
“صرف ايک دن اس گھر ميں رہ گيا ہے۔ اور پھر سب کچھ اجنبی ہو جاۓ گا” کمرے کی کھڑکی سے لان ميں لگی فينسی لائٹس کو ديکھتے ہوۓ دل بوجھل ہورہا تھا۔
فاتک کو پرايا نہيں تھا۔ مناب کے ماموں کا بيٹا تھا۔ شروع سے اسے پسند کرتا تھا۔ نا صرف پسند بلکہ طوفانی محبت تھی۔ مناب، فاتک سے چار سال چھوٹی تھی۔
منگنی چند سال پہلے ہی ہوئ تھی۔
اور اب ماسٹرز مکمل ہوتے ہی فاتک نے جو شادی شادی کی رٹ لگائ سب کو اسکی مانتے ہی بنی۔
مناب ابھی سيکنڈ ائير کے پيپرز دے کر بی ايس سی ميں داخلہ بھی نہيں لے پائ تھی کہ فاتک نے جلدی شادی کا ہنگامہ کھڑا کرديا۔
مناب کو يہ کہہ کر منا ليا کہ ‘شادی کے بعد بھی جتنا مرضی پڑھنا چاہتی ہو پڑھ لينا۔۔بس ابھی شادی کر لو’ واجد ماموں کے فرنيچرز کے شوروم تھے جنہيں بڑا بيٹا ہونے کے سبب فاتک کو ہی سنبھالنا تھا۔ اسی لئے کسی کو کوئ اعتراض نہ تھا۔ نوکری وکری کا کوئ مسئلہ بھی نہيں تھا۔ ويل سيٹلڈ تھے۔ اور دوسرے بھائ کا گھر تھا لہذا عارفہ(مناب کی والدہ) اور صمد (مناب کے والد)کو بھی کوئ اعتراض نہ تھا۔ مناب اور صبغہ دو ہی بيٹياں تھيں۔ لہذا ايک مہينے کے اندر اندر شادی کی تياری ہوگئيں کل مناب کی مہندی آئ تھی آج وہ لوگ فاتک کی مہندی لے کر جارہے تھے۔ ۔
____________________
عارفہ چار بہن بھائ تھے۔ عارفہ سب سے بڑی تھيں۔ ان کے بعد واجد، ان سے چھوٹی نتاشہ اور سب سے چھوٹے داؤد تھے۔
عارفہ کے چار بچے تھے۔ سب سے بڑے دو بيٹے خاور اور اسيس تھے دونوں شادی شدہ تھے۔ حنا خاور کی بيوی تھيں اور عائشہ اسيس کی بيوی تھيں۔ دو بيٹوں کے بعد دو بيٹياں تھيں۔ بڑی مناب اور اس سے چھوٹی صبغہ۔
واجد کے تين بچے تھے۔ بڑا فاتک، پھر غازی اور بيٹی ضوفشاں تھی۔ نتاشہ کے بھی تين ہی بچے تھے۔ دو بيٹياں مريم، فروا اور بيٹا وہاج۔ جبکہ داؤد کے دو جڑواں بيٹے فاران اور حسان تھے۔
سب بہن بھائيوں کے گھر آس پاس ہی تھے۔
صمد دو ہی بہن بھائ تھے۔ بہن زرقہ کی ايک ہی بيٹی تھی کنزہ۔ صمد کی بہن بھی قريب ہی رہتی تھيں۔
صمد کے والد احمد حيات تھے والدہ کی بہت عرصہ پہلے وفات ہوچکی تھی۔
احمد صاحب کو سب ددا کہتے تھے۔
عارفہ کے والدين بھی حيات نہيں تھے۔ انہوں نے ہميشہ بہن بھائيوں کو ماں کی طرح محبت اور شفت دی تھی اور اس ميں بہت بڑا ہاتھ صمد کا تھا۔ جنہوں نے ہميشہ عارفہ کے بہن بھائيوں کے لئيے ان کے ساتھ تعاون کيا تھا۔ زرقہ بھی عارفہ سے بے حد محبت کرتی تھيں۔ اور انکے بہن بھائيوں کے ساتھ ايسے ہی ميل جول رکھتی تھيں جيسے انکے اپنے بہن بھائ ہوں۔
سب لوگ ايک مثالی خاندان کی طرح ايک دوسرے کے دکھ سکھ ميں ہميشہ پيش پيش رہتے تھے۔
ان محبتوں کو واجد نے فاتک اور مناب کا رشتہ فاتک کی ايماء پر کرکے مزيد مضبوط کرديا۔
______________________
باہر بڑھنے والی خنکی کے سبب وہ کمرے کی کھڑکی بند کرکے اندر کی جانب بڑھی۔
کھڑکی پر ہونے والی ٹھک ٹھک نے مناب کو بری طرح چونکايا۔
خوفزدہ نظروں سے جيسے ہی نگاہ کھڑکی کی جانب کی شيشے کے اس پار فاتک کو ديکھ کر وہ ہقا بقا رہ گئ۔
گرين شلوار قميض پر ست رنگی دوپٹہ لئيے ہلکی سی بڑھی ہوئ شيو ميں وہ بے حد ہينڈسم لگ رہا تھا۔
دھڑکتے دل کو قابو کرتے وہ تيزی سے کھڑکی کی جانب بڑھی۔ کھڑکی ميں جالی نہ ہونے کے سبب فاتک آسانی سے اندر آگيا۔
“آپ يہاں کيا کررہے ہيں۔” مناب کی حيرت عروج پر تھی۔
فاتک نےخاموش مگر معنی خيز نظروں سے اسکے سراپے کو ديکھا۔
“ميں يہاں کيا کررہاہوں۔۔۔” اسکی بات دہرا کر دو قدم اور آگے آتے وہ خاموش ہوا سر جھکا کر جيسے کچھ سوچا پھر سر اٹھا کر مسکراہٹ ہونٹوں ميں دباۓ گہری نگاہوں سے مناب کو ديکھا۔
اسکے يہ جان ليوا انداز مناب کو گھبراہٹ سے دوچار کر گۓ۔
“سب نے آپکو اس روپ ميں ديکھ ليا اور جس کا حق ہے وہی نہ ديکھ سکا” بازو چوڑے سينے پر باندھے اسکی ہر نظر مناب کے دل کی دھڑکن تيز تر کررہی تھی۔
“پکچرز ليں تو تھيں سب نے” اسکی نظروں سے بمشکل پيچھا چھڑاتے ہلکا سا رخ موڑ کر بے چارگی سے بولی۔
“پکچرز پر ہی گزارا کرنا ہوتا تو آپ کو اپنے گھر لے جانے پر اتنی ضد نہ کرتا” اسکی معنی خيز بات مناب کے گال دہکا گئ۔
“پليز فاتک جائيں۔ وہاں سب آپکا انتظار کررہے ہوں گے۔ کسی کو بھی پتہ چل گيا تو۔۔” اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی فاتک کی گرم سانسيں اسکے ماتھے کو ہولے سے چھو گئيں۔
“مہندی اور ابٹن کی اس خوشبو کے لئيے ہر ڈانٹ کھانے کو تيار ہوں” فاتک کی يہ جرات مناب کو حواس باختہ کرگئ۔
“جائيں نا” بمشکل چند الفاظ اسکے منہ سے ادا ہوۓ۔
“چلا جاتا ہوں۔ بس کچھ دير خود کو محسوس تو کرلينے ديں۔ يہ يقين کرلينے ديں۔ کہ ميرے اور آپکے بيچ بس ايک دن کی دوری ہے۔” اسکا چہرہ ہاتھوں کے پيالے ميں بھرے فاتک بمشکل خود کو سنبھال رہا تھا۔
“پتہ نہيں آپکو کس بات کی جلدی ہے” نہ چاہتے ہوۓ بھی آنسو مناب کی آنکھوں ميں جھلملاۓ۔
“ميرے ساتھ کی کوئ خوشی نہيں آپ کو” فاتک کے ہاتھ اسکے چہرے پر ڈھيلے پڑے۔
“ايسا نہيں ہے۔ مگر ۔۔۔”
” خوشی ہے تو پھر اگر مگر کيسی” فاتک نے اسکی بات کاٹی۔
“ميرا فائن آرٹس کا شوق” وہ روہانسی ہوئ۔
“ميرے محبت کے رنگ کافی نہيں۔۔ان ميں کھيلنا” فاتک پھر سے اسے تنگ کرنے لگا۔
“آپ کبھی نہيں سمجھيں گے” وہ ناراضگی سے منہ پھلا گئ۔
“آپ سمجھا دينا نا۔ مگر محبت سے ۔۔پیار سے۔۔۔۔ان آنسوؤں سے نہيں” فاتک نے اسکے گال پر پھسلنے والے آنسوؤں کو اپنے ہاتھ سے صاف کيا۔
مناب کے ہاتھ تھام کر ايک پيار بھرا بوسہ ديا۔
“سب خواب پورے کرواؤں گا۔ بس ايک بار ميرے خوابوں سے نکل کر حقيقت ميں ميرے پاس آجائيں” فاتک کی بے پناہ چاہت کے آگے وہ ہميشہ کی طرح ہار گئ۔ بے بس ہوگئ۔
“اب جائيں” نظريں جھکاۓ جھکاۓ اسے کہا۔
“کل فريش موڈ کے ساتھ مليں گی نا؟” فاتک نے وعدہ لينے والے انداز ميں کہا۔
“ہمم” مناب نے سر ہلايا۔
“ايسے نہيں ميری طرف ديکھ کر کہيں” فاتک نے اپنے ہاتھوں ميں تھامے اسکے ہاتھوں کو ہولے سے جھٹکا ديا۔
“اچھا نا۔۔بہت تنگ کرتے ہيں” بے چارگی سے بمشکل اسکی جانب نگاہ کرکے بولی۔
فاتک نے ہلکا سا قہقہہ لگايا۔
“ددا آگۓ نا ساری بتيسی اندر کرديں گے” اب کی بار اسکے قہقہے پر مناب نے غصے سے کہا۔
“چلا جاتا ہوں۔۔پہلے ميرے ہاتھ پر مہندی لگاؤ اور مٹھائ بھی کھلاؤ۔ کتنا کہا تھا سب کو کہ مہندی اکھٹے کر دو۔ مگر نہيں۔ سب کو فنکشنز زيادہ رکھنے کا چاؤ چڑھا ہوا تھا۔ اب انتظار کريں ميرا” فاتک اپنی خواہش بتا کر گھر والوں پر غصہ کرنے لگا۔
اور مناب کا دل چاہااسکی عجيب و غريب فرمائش پر اپنا ماتھا پيٹ لے۔
“اچھا ہوا ہے آپکے ساتھ۔ ايسا ہی ہونا چاہئيے تھا” گيلی مہندی ادھر ادھر ڈھونڈتے ہوۓ وہ بھی دل کی بھڑاس نکالنے لگی۔
“اوہو۔۔۔۔ميرے دشمنوں کی لسٹ ميں اضافہ ہوچکا ہے” فاتک اسکے جھنجھلانے پر مسکرايا
“چلو جو کہا ہے وہ کرو۔۔۔جو عورتيں مجازی خدا کی بات نہ مانيں انکو سخت سزا ملتی ہے” فاتک جان بوجھ کر بارعب آواز ميں بولا۔
دوپہر ميں ہی تو ان کا نکاح ہوا تھا۔
“اف فاتک! اتنی عجيب خواہشيں آپکی کیوں ہوتی ہيں۔ اور اتنے بے تکے وقت ميں” وہ جلدی جلدی ہاتھ چلا کر مہندی کے وہ تھال ڈھونڈ رہی تھی جو شام ميں ہی اسکی ايک کزن رکھ کے گئ تھی۔
“کبھی کبھی کسی کی بے ضرر خواہش يہ سوچ کر بھی پوری کر دينی چاہی کہ قسمت اور حالات کہيں اسے دور لے گۓ تو پھر ہم ہاتھ ملتے نہ رہ جائيں۔”اپنی بات کے جواب ميں فاتک کا اتنا سنجيدہ انداز گيلی مہندی کا تھال اٹھاتی مناب کے ہاتھ کپکپا کر رکھ گيا۔
“جلدی کرو اس سے پہلے کے آپکی جاسوس رانی ميڈم آجائيں” اپنی سنجيدگی کا اثر زائل کرنے کے لئيے فاتک نے ساکت کھڑی مناب کا دھيان ہٹايا۔
وہ جلدی سے اسکے قريب آئ۔
“اب کيا ايسے ہی گيلی مہندی لگادوں۔ ہاتھ پہ نشان پڑ جاۓ گا” ہاتھ ميں مہندی کا تھال تھامے پيلے شرارے، چھوٹی کرتی اور گوٹے سے مزين دوپٹے ميں الجھی اور ميک اپ سے پاک صورت لئيے وہ سيدھا فاتک کے دل ميں اتر رہی تھی۔
“اب تو ميں پورے کا پورا آپکا ہوں۔ جيسے چاہو سلوک کرو اف تک نہيں کہوں گا” محبتوں سے چور لہجے ميں وہ مناب کی دل کی دنيا تہہ و بالا کرگيا۔
“منہ پہ لگا دوں” شرارتی نظروں اور مسکراہٹ سے اس نے اجازت طلب نظروں سے فاتک کو ديکھا۔
فاتک نے دھيرے سے چہرہ اسکے قريب کر ديا۔
“ہٹيں مذاق کررہی تھی۔” نرمی سے ہاتھ سے اس کا چہرہ ہٹايا۔
“مٹھائ تو کھلا دو” فاتک نے اسے مہندی کا تھال واپس رکھتے ہوۓ ديکھ کر پھر سے فرمائش کی۔
“ددا کی جوتياں نہ کھلوا دوں” ہاتھ کمر پر ٹکا کر تيکھے لہجے ميں بولی۔
فاتک نے وہی بازو کھينچ کر قريب کيا۔
“جتنے بہانے کرنے ہيں کرلو۔ کل جب کسی ظالم سماج کا ڈر نہيں ہوگا تب پوچھوں گا۔۔مس نخريلی” محبت سے اسکی ناک کو شہادت کی انگلی سے چھو کر بازو چھوڑا
مسکراتے ہوۓ۔ خداحافظ کہتا کھڑکی کی جانب بڑھا۔
____________
“ميرے خدا! ماشاءاللہ۔۔۔۔ بھئ سنا تھا پرياں کبھی کبھی زمين کا رخ بھی کر ليتی ہيں مگر آج يقين ہوگيا کہ پرياں واقعی زمين پر بھی آجاتی ہيں” صبغہ جس لمحے مناب کو پارلر لينے آئ۔ اندر آتے ہی ڈيپ ريڈ، اورنج، گرين اور شاکنگ پنک خوبصورت سے جديد تراش خراش کے لہنگے، لانگ شرٹ اور خوبصورتی سے سيٹ کئے گۓ دوپٹے ميں تيار مناب کو ديکھ کر وہ حقيقت ميں اسے پہچان نہيں پائ تھی۔ اتنا روپ بھی کسی کسی پر ہی آتا ہے جتنا اس وقت مناب پہ آيا ہوا تھا۔
“گھر ميں سب ٹھيک تھے۔ امی ٹھيک تھيں اب” پارلر آنے سے پہلے نہ صرف وہ خود بے تحاشا روئ تھی بلکہ سب کو رلا کر آئ تھی۔
ابھی بھی اپنے دلہناپے کی فکر چھوڑ کر باقی سب کے لئيے ہلکان ہورہی تھی۔
“سب بالکل ٹھيک ہيں اور ميری پياری سی بہن کا انتظار کررہے ہيں۔” صبغہ محبت سے اسکی ٹھوڑی چھو کر بولی۔ ايک ہاتھ ميں وہ بيگ پکڑا جس ميں مناب کے وہ کپڑے اور جوتے تھے جو وہ يہاں آتے وقت پہن کر آئ تھی۔
اور دوسرے ہاتھ سے بہن کو اٹھايا۔ مناب کے سر پر چادر دی۔
موسم خاصا خوشگوار تھا۔ مگر آنے والے لمحوں کا سوچ کر ہی مناب کی ہتھيلياں عرق آلود تھيں۔
ہولے ہولے کپکپا بھی رہی تھی۔
“تمہيں ٹھنڈ لگ رہی ہے کيا؟” صبغہ نے اس کی کپکپاہٹ نوٹ کرتے ہوۓ حيرت سے پوچھا۔
“عجيب گھبراہٹ ہو رہی ہے۔ دل بيٹھا جا رہا ہے” گبھرائ ہوئ آواز آئ۔ صبغہ اس کا منہ بڑی سی چادر ميں ہونے کے سبب ديکھ نہيں پائ۔ مگر آواز سے يہی لگا کہ وہ ابھی کے ابھی رو دے گی۔
“پاگل ہو تم ۔۔۔فاتک بھائ تمہيں کھا تھوڑی جائيں گے” صبغہ نے اپنی طرف سے اسے تسلی دلانے کی کوشش کی۔
مگر ماں باپ کے گھر کو ہميشہ کے لئيے چھوڑ جانے کی تکليف ابھی صبغہ سمجھنے سے قاصر تھی۔
مناب اسے اپنی کيفيت سمجھا نہيں سکتی تھی۔ چاہے سسرال کتنا ہی اپنا کيوں نہ ہو، شوہر کو آپ کتنا ہی جانتے کيوں نا ہوں مگر نئ زندگی شروع کرتے وقت وسوسے لڑکی کا گھيراؤ کرتے ہی کرتے ہيں۔
کون کب بدل جاۓ؟ وقت اور حالات کيسے پلٹا کھائيں يہ کوئ نہيں جانتا۔
فاتک اس سے بے تحاشا محبت کرتا تھا اور يہ محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہيں تھی مگر محب اور شوہر ميں بہت فرق ہوتا ہے۔ محب محبوب کی ہر غلطی کو خندہ پيشانی سے معاف کرديتا ہے مگر شوہر ايک پرفيکٹ بيوی ديکھنے کا خواہشمند ہوتا ہے۔
نجانے کون کون سے قصے کہانياں مناب کے دماغ ميں چل رہی تھيں۔
گاڑی ميں بيٹھ کر ہال تک آتے آتے بھی وہ شديد گھبراہٹ کا شکار تھی۔
بارات پہنچ چکی تھی۔ بليک شيروانی اور گولڈن پاجامے اور کلہ ميں ملبوس فاتک کسی رياست کے شہزادے سے کم نہيں لگ رہا تھا۔
اپنی محبت کو پالينے کی خوشی اسکی ہر مسکراہٹ ميں شامل تھی۔
