Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Yaad Ki Anch (Episode 20,21)

Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas

جب سے وہ غازی کی بارات سے آيا تھا وہ سو نہيں پا رہا تھا۔

بيڈ پر چت ليٹا وہ بس چھت کو گھورے جارہا تھا۔

اپنا گھر ہونے کے باوجود اس ميں ابھی اپنے گھر جانے کی ہمت نہيں تھی۔

ہوٹل کے کمرے ميں ہی اس کا قيام تھا۔

آج کا ايک ايک منظر کب سے اسکی آنکھوں کے آگے گھوم رہا تھا۔

ہر منظر ميں سب سے واضح چہرہ مناب کا تھا۔

اس نے ايک پل کے لئے بھی فاتک کی جانب نہيں ديکھا تھا۔

جس کی نظريں تمام وقت صرف اس کا طواف کررہی تھيں۔

تھوڑی دير کے لئے ہی وہ سب کے درميان رہی تھی۔ پھر اٹھ کر اندر چلی گئ تھی۔

فاتک کا کتنی ہی بار دل کيا اس کے پيچھے جاۓ۔

اس سے پھر معافی مانگنے کا ايک موقع دينے کی درخواست کرے۔

ليکن وہ اس قدر بے گانگی کا مظاہرہ کررہی تھی کہ فاتک ميں ہمت ہی نہ ہوئ۔

صبغہ اندر کيوں گئ تھی وہ نہيں جانتا تھا۔

مگر آخر ميں جب وہ صبغہ کو لے کر باہر آئ تب اس کی آنکھيں بہت سارا رو چکنے کی داستان سنا رہی تھيں۔

تو کيا وہ صرف اجنبيت کا خول چڑھاۓ ہوۓ ہے۔

فاتک نے تھک کر آنکھيں موندی۔

کچھ سوچ کر بيڈ کے بائيں جانب سائيڈ ٹيبل پر دھرے موبائل کو ديکھا۔

کچھ سوچ کر اٹھا۔

تکيوں کے سہارے ٹيک لگا کر موبائل کھولا۔

مناب کا نمبر نکال کر کچھ ٹائپ کيا۔

________________________

وشہ کب کی سوچکی تھی۔اس کے باوجود مناب اسکے ہاتھوں ميں مسلسل انگلياں پھيرتے سامنے ديوار کو يک ٹک ديکھے جارہی تھی۔

زہن منتشر تھا۔اور اس کی وجہ فاتک کے علاوہ اور کون ہوسکتا تھا۔

کيا کيا نہ ياد آرہا تھا اسکی ديوانگی۔۔۔اسکی محبتيں۔۔اس کا ايک ايک رنگ مناب کو اب بھی ازبر تھا۔

ايک آنسو چپکے سے آنکھوں کے گوشوں پر ٹھہرا

ايک گہری سانس کھينچتے مناب نے بيڈ کی بيک سے سر ٹکايا۔

سر درد سے پھٹنے والا ہورہا تھا۔

کہنے کو تو کہہ ديا تھا کہ فاتک کو معاف کردے گی۔

مگر کيسے۔

اسی سوچ کے ساتھ ہجر کا ہر وہ لمحہ ياد آيا جب اس سمتگر کے لئے آنسو بہائے تھے۔

جب لگتا تھا فاتک کی جدائ ميں کسی دن سانس بند ہوجاۓ گی۔

جب جب اسکے کپڑوں کی الماری کھول کر اسکی شرٹس سے لپٹ لپٹ کر روئ تھی۔

جب جب اسکے پسنديدہ پرفيوم کو خود پر اسپرے کرکے اسکی خوشبو کو اس پاس محسوس کرنا چاہا تھا۔

اگر وشہ نہ ہوتی تو وہ شايد فاتک کی جدائ ميں پاگل ہو جاتی۔

اس نے شادی سے پہلے نہ سہی مگر شايد کے بعد اس ايک مہينے ميں فاتک سے بے پناہ محبت کی تھی۔

آنسو تواتر سے اسکے گالوں پر پھسل رہے تھے۔

دکھتے سر پر ہاتھ رکھے وہ اپنی سسکياں روکنے کی کوشش کررہی تھی کہ موبائل بج اٹھا۔

بے دلی سے فون اٹھايا تو اسی دشمن جاں کا نمبر دکھائ ديا۔

بے دلی سے موبائل واپس رکھ ديا۔

پھر کچھ سوچ کر دوبارہ موبائل اٹھا کر کھولا۔

انباکس ميں موجود الفاظ پر وہ اپنی سسکياں روک نہ پائ۔

Sweet heart, would you wake up today?

I promise, you would recognize my faith

I wanna show you, how I’ve grown in this place

In this place, I’m not alone and I know I’ll be okay

But it’s always harder, when the winter comes to stay

When I can’t help but remember, all the words I’d never say

And it’s killing me, that you’re not here with me

I’m living happily, but I’m feeling guilty

Oh you won’t believe, the wonders I can see

This world is changing me, but I’ll love you faithfully

آخر ميں لکھا ‘سوری’ مناب کو تڑپا گيا۔

کيا بس ايک سوری کا لفظ اسکی سب تکليف کو ختم کردے گا۔

بيڈ سے اتر کر نيچے کارپٹ بيٹھتے وہ منہ پر ہاتھ رکھے پھوٹ پھوٹ کر رودی۔

يکدم فاتک کالنگ بلنک ہوا۔

وہ ساکت ہوئ۔

کچھ دير موبائل بجتا رہا۔۔

مناب ميں فون اٹھانے کی ہمت نہ تھی۔

ساکت نظروں سے ديکھتی رہی۔

سب بيليں ہوچکنے کے بعد فون بند ہوگيا۔

مناب نے آنسو صاف کئے۔

سيدھی ہوئ کہ موبائل پر سے بجنے لگا۔

“ايک موقع” تو اس نے دينا ہی تھا۔مگر وہ ايک موقع اتنی جلدی دينا پڑے گا۔اس کے وہم و گمان ميں بھی نہيں تھا۔

ابھی بھی اس ميں فون اٹھانے کی ہمت نہ تھی۔

مناب کے ميسج چيک کرنے پر دوسری جانب اس کے ميسج پڑھنے کا نوٹيفکيشن مل چکا تھا۔وہ نہ ملا ہوتا تو وہ يہی سمجھتا کہ مناب شايد سوچکی ہے۔

مگر اب وہ جانتا تھا کہ وہ بھی اسی کی طرح جاگ رہی ہے۔

تيسری بار فون بجنے پر بالآخر مناب نے فون اٹھا ليا۔

فون کان سے لگانے کے بعد بھی وہ کچھ نہ بولی

“ہيے۔۔۔ہيلو۔۔۔ہيلو مناب” فاتک کی آواز کی بے تابی ڈھکی چھپی نہيں تھی۔

آنسو مناب کے گالوں پر پھسلے۔

اس کی سانسوں کی آواز بھی فاتک کے لئے بہت تھی

کم از کم وہ اسے سن تو رہا تھا۔۔

وہ سب سن رہا تھا جسے مناب ميں کہنے کی ہمت نہيں ہورہی تھی۔

“ميں جانتا ہوں کہ ميں معافی مانگنے کے قابل نہيں۔ پھر بھی ميں ہر دن آپ سے معافی مانگوں گا۔

شايد کوئ ايسا دن آۓ کہ آپ کا دل ميرے لئے پگھل جاۓ۔

کوئ تو ايسی گھڑی آۓ جب ميری محبت پھر سے آپکے دل ميں تروتازہ ہو۔” فاتک کے لہجے کی تکليف مناب کو سکون دينے کی بجاۓ بے چين کررہی تھی۔

تو کيا دل اب بھی اس کا تمنائ ہے۔

تو کيا ذہن بھی اسکا ديا ہر زخم بھول گيا ہے۔

“کياميں اتنی ہی ارزاں تھی۔ کہ آپ يوں مجھ سے منہ موڑ ليتے” چھ سال بعد وہ جو اس سے کبھی شکوہ نہيں کرنا چاہتی تھی۔

آج اس کی آواز سنتے ہی ايک شکوہ ہونٹوں سے ادا کربيٹھی۔

“نہيں مناب۔۔۔آپ تو ميرا سب کچھ ہو۔۔” مناب کی سسکياں بڑھنے لگيں۔

فاتک کا بس نہيں چل رہا تھا کسی طرح اس کے پاس پہنچ جاۓ اسکے آنسو اپنے ہاتھوں سے چنے۔

بے بسی سے سر تھک ہار کر بيڈ کراؤن سے لگايا۔

“صرف ايک موقع آخری موقع دے دو” خواہش زباں پر آ ہی گئ۔

“مجھ ميں ہمت نہيں” مناب نے صاف گوئ کا مظاہرہ کيا۔

“اس ايک موقع کے بدلے جو کہو گی وہ مانوں گا۔ بس ايک آخری موقع آپکے روبرو آنے کا” فاتک نے پھر سے خواہش ظاہر کی۔

ايک موقع دينے کا وہ فيصلہ تو کرچکی تھی۔

مگر اسے ماننے ميں متامل تھی۔ اسے کہنے ميں گريز برت رہی تھی۔

دل تھا کہ ہمت نہيں کرپارہا تھا۔ اور دماغ۔۔۔ وہ الگ ذہن کے پردے پر تکليف دہ لمحات کی فلم چلارہا تھا۔

کس کی سنتی۔۔

کچھ بھی کہے بنا اس نے خاموشی سے فون کاٹ ديا۔

پير سميٹ کر سينے سے لگاۓ۔ٹانگوں کے گرد بازو لپيٹ کر چہرہ ان ميں چھپا ليا۔

وہ اس وقت کسی سہارے کی شدت سے خواہش مند تھی۔

مگر اس سہارے تک پہنچنے ميں ہچکچا رہی تھی۔

____________________________

اگلے دن وليمے پر وہ وعدہ کے مطابق موجود تو تھا مگر بجھا ہوا۔

رات مناب نے جيسے اس کی کچھ بھی سنے بنا فون بند کرديا۔ فاتک کی اميديں ختم ہورہی تھيں۔

وہ کيسے اسے کچھ کہہ پاۓ گا اس کی سمجھ سے باہر تھا۔۔

مناب کچھ سننے کو تيار ہی نہيں تھی وہ معافی کيسے مانگتا۔

غازی بليک ڈنر سوٹ ميں موو کلر کی ٹائ لگاۓ۔ بے حد مطمئن اور خوش نظر آرہا تھا۔

موو اور پستئ رنگ کے لہنگے اور شارٹ شرٹ ميں دلہن بنی صبغہ کی پلکيں رخساروں سے اٹھنے سے انکاری تھيں۔

محبت کے جگنو کسی کے چہرے پر کيسے نظر آتے ہيں۔ ان پلوں ميں صبغہ کے چہرے سے چھلکتے بآسانی نظر آرہے تھے۔

خوشی سے دمکتا دونوں کا چہرہ اسٹيج کے پاس کھڑی مناب کومطمئن کر گيا تھا۔

اسٹيل گرے ساڑھی اور خوبصورتی سے کئے گۓ ميک اپ ميں وہ ہر آنکھ کو چوکنے پر مجبور کررہی تھی۔

رات بھر کی رونے سے سوجی ہوئ آنکھوں کو اس نے بڑی مہارت سے چھپا ليا تھا مگر ان آنکھوں کی بے چينی۔۔خالی پن اور ياسيت کم از کم فاتک کی نظروں سے اوجھل نہيں تھی۔

سب خوش گپيوں مصروف تھے اور فاتک مناب کا جائزہ لينے ميں۔

“پاپا۔۔آپ ميں اور ممی کی کوئ پک نہيں لے رہا” وشہ اسکی گود ميں چڑھی شکوہ کناں لہجے ميں بولی۔

“ابھی لو” فاتک نے موبائل نکال کر اپنی اور وشہ کی سيلفی بناڈالی۔

“مگر ممی تو اس پک ميں نہيں ہيں” وہ منہ پھلا کر بولی۔

“ممی ابھی مجھ سے خفا ہيں نا” فاتک نے گہری سانس بھرتے ہوۓ کہا۔

“آپ نے کل مجھ سے پرامس کيا تھا کہ آپ ممی سے سوری کريں گے” وہ انگلی اٹھا کر اسے غصے سے گھورتے ہوۓ بولی۔

فاتک اسکی ادا پر ہنس پڑا۔

“سوری بھی کيا تھا ليکن ممی ابھی بھی نہيں مانيں” فاتک نے بے سارے جہاں کی بے چارگی اپنے لہجے ميں سمو کر کہا۔

“آئ وش کبھی ميری ۔آپکی اور ممی کی پرفيکٹ فيملی پک ہو جيسے ميرے فرينڈز کی ہوتی ہے” وہ منہ لٹکا کر بولی۔

فاتک نے بے اختيار آمين کہا۔

اسے محبت سے اپنے ساتھ لگاتے ادھر ادھر پھرتی اس کٹھور کو ديکھا۔

جسے سب کی پرواہ تھی سواۓ فاتک کے۔

واجد غصے بھری نگاہوں سے ہی صحيح مگر اسکی جانب ديکھ تو ليتے تھے

مناب تو وہ بھی نہيں کررہی تھی۔

دل تھا کہ اسکے لئے بے چين تھا اور وہ تھی کہ لاپرواہ۔

“بھابھی”غازی نے اسٹيج پر بيٹھے دائيں جانب اسٹيج سے کچھ دور کھڑی مناب کو آواز دی۔

مناب نے مڑ کر دیکھا۔

نظريں غازی کے پاس کھڑے فاتک سے ٹکرائيں۔

دل بری طرح دھڑکا۔

ان نگاہوں کا شور بڑھتا جارہا تھا اور مناب اتنی جلدی ان کی حکايتيں سننا نہيں چاہتی تھی۔

غازی نے اشارے سے اوپر آنے کا کہا۔

مناب نے ايک بے زار نگاہ اس پر ڈالی۔

فاتک مسلسل اسے نظروں کے فوکس ميں رکھے ہوۓ تھا۔

مناب مرتے کيا نہ کرتے کے مصداق ساڑھی کا پلو سنبھالتے آگے بڑھی۔

وشہ کاؤچ پر بيٹھی تھا جبکہ اسکے آگے غازی اور فاتک کھڑے کچھ بات کررہے تھے۔ وشہ باپ کا ہاتھ تھامے اسکے بائيں جانب کھڑی تھی۔

“کيا بات ہے” مناب نے فاتک کو بھرپور طريقے سے نظر انداز کرتے غازی سے پوچھا۔

“بھابھی وہ ديکھيں” غازی نے يکدم اسکا رخ سامنے کيا۔

نامحسوس انداز ميں بيچ ميں سے ہٹا۔

فاتک بھی حيران نظروں سے غازی کو ديکھ رہا تھا۔

“کيا ہے” مناب نے حيران ہو کر سامنے ديکھا کہ وہ کيا دکھا رہا ہے۔

اتنی دير ميں کيمرے کے فليش نے مناب، فاتک اور وشہ کی کھٹا کھٹ تصويريں لے ڈاليں۔

کچھ بے يقينی سے اس نے پاس کھڑے فاتک کو ديکھا۔

جو خود حيران تھا کہ غازی نے يہ کيا کيا ہے۔

جتنی دير ميں وہ سنبھلتی اسٹيج کے سامنے موجود سب کيمرے انہيں ہميشہ کے لئے قيد کرچکے تھے۔

مناب غصے سے سرخ چہرہ لئيے سيکنڈ سے پہلے اسٹيج سے اتر گئ۔

مگر وشہ کی خواہش پوری ہوچکی تھی۔

“يہ کيا تھا” فاتک نے غصے سے صبغہ کے ساتھ بيٹھے غازی کو گھورا۔

“وشہ کی خواہش۔۔۔آپ دونوں تو نجانے کب پوری کرتے مگر ميں اپنی بيٹی کی يہ خواہش آج اور ابھی پوری کرنا چاہتا تھا” غازی نے محبت سے وشہ کو ديکھتے ہوۓ کہا۔

جو ناسمجھی سے کبھی غازی اور کبھی فاتک کو ديکھ رہی تھی۔

فاتک وشہ کو لئے اسٹيج سے اتر گيا مگر مناب کے دل ميں يہ غلط فہمی گھر کر گئ کہ يہ سب فاتک نے جان بوجھ کر کروايا تھا۔

“فاتک بھائ آپ اس محفل ميں ہيں اور کوئ گانا نہيں يہ کيسے ہوسکتا ہے” وہ جو اسٹيج سے اتر کر کزنز کے نرغے ميں پھنسا تھا ان کی بات پر مزيد پريشان ہوا۔

“نہيں يار۔۔آل ريڈی اتنا اچھا ميوزک لگا ہوا ہے” فاتک نے اسٹيج کے بائيں جانب بنے ايک اور اسٹيج کی طرف اشارہ کيا جہاں پہلے سے ہی موسيقی کا انتظام تھا۔

“نہيں نہيں ہميں آپ سے کچھ سننا ہے۔۔۔” سب يک زبان ہوکر بولے۔

مہندی پر بھی سب نے فرمائش کی تھی مگر وہ ٹال گيا تھا۔

ليکن آج اسے سب کو پھر سے ٹالنا مشکل لگ رہا تھا۔

“اب آپ بڑے بڑے سنگرز کی طرح نخرے دکھا رہے ہيں”نتاشہ پھوپھو کی بيٹی منہ پھلا کر بولی۔

“لوگ اتنی دور دور سے آکر آپکے گانے سنتے ہيں۔ ہميں تو کزنز ہونے کے ناطے کچھ تو فائدہ ہونا چاہئيے نا” ايک اور کزن بولا۔

سب کے زور دينے پر اس نے آنکھوں ميں بے چارگی لئے داؤد کی جانب ديکھا۔

ان کے اثبات ميں سر ہلانے پر وہ اسٹيج کی جانب بڑھا۔

سب کزنز اشتياق سے اسی اسٹيج کے آس پاس کھڑے ہوگۓ۔

واجد غصے سے پيچ و تاب کھارہے تھے۔

داؤد کو بھی گھور کر ديکھا۔

جنہيں پرواہ نہيں تھی۔

وشہ بھی خوشی سے دمکتے چہرے سے باپ کے پاس کھڑی تھی۔

مائيک ہاتھ ميں لئے اس نے گلا کھنکھارا۔ سب نے تالياں بجا کر اسکی حوصلہ افزائ کی۔

گٹار والے سے گٹار لے کر گلے ميں ڈال۔

نظريں مناب کی جانب اٹھيں جس کی نظريں اس پر نہيں تھيں مگر سماعتيں اسی کی جانب متوجہ تھيں۔

فاتک کے چہرے پر محظوظ کن مسکراہٹ جاگی۔

فاتک نے چند بول سوچ کر آنکھيں بند کيں۔

This is a day

filled with saddness and pain

sorrow and shame

like I’ve never known

Why can’t I get it right

on the first or the second time

will the third be a wasted life

Should we try again?

and smile again?

Hold our breath and pray…

should we leap in faith

or stand in vain?

Hold our breath and pray…

and try again.

The is a day

of failure that brings

memories that sting.

A heart that is stained.

I know I’m not the only one

to face this loaded gun

and pen what had begun

Oooo it is for love,

it is for love,

that we try…

and that we pray.

ان الفاظ ميں کون سی خواہشيں پنہاں تھيں مناب اچھے سے جان گئ تھی۔

فاتک کی گمبھير آواز پورے ماحول پر سحر طاری کررہی تھی۔

درد ہی درد تھا اسکی آواز ميں۔۔۔

آنکھيں کھول کر مناب کی جانب ديکھا۔

جو شايد اسکی آنکھيں بند ہونے کا فائدہ اٹھاتے اس وقت فاتک کی جانب ہی متوجہ تھی۔

اسکے ديکھنے پر یکدم نظروں کا زاويہ بدل گئ۔

فاتک ہولے سے مسکرايا۔

گانا ختم ہوتے ہی سب نے بھرپور تاليوں سے اسے داد دی۔

فنکشن ختم ہوتے ہی غازی نے وشہ کو واجد اور ناز کی گاڑی ميں بٹھايا جبکہ وہ خود مناب اور صبغہ کے ہمراہ اپنی گاڑی ميں تھا۔

“غازی اب کہاں جانا ہے؟” مناب تھکی ہوئ تھی۔

جسمانی طور پر بھی اور ذہنی طور پر بھی۔

غازی واجد اور ناز کو کہہ آيا تھا کہ وہ ان دونوں کو آئس کريم کھلا کر لا رہا ہے۔

“گھر چلو اب کل آکر کھا لینا” واجد جو ويسے ہی فاتک کی وجہ سے سارا وقت غصے اور اکتاہٹ کا شکار رہے تھے۔

Episode 21

غازی کو ٹوکنے لگے۔

“بابا بس تھوڑی دير ميں آرہے ہيں”

“بھائ صاحب بچے ہيں انجواۓ کرنے ديں۔ يہی تو دن ہيں” داؤد نے اسکی حمايت کی۔

“تم انہيں زيادہ شے مت دو۔ ويسے بھی تم سے ذرا فارغ ہوکر کچھ ضروری بات کرنی ہے” سب کی موجودگی کے سبب وہ غازی کو کچھ کہہ نہيں پاۓ۔ داؤد کی حمايت بھی انہيں ايک آنکھ نہ بھائ تھی۔

فاتک کی بے جا طرفداری کے سبب وہ ويسے ہی داؤد پر غصہ تھے۔

مگر انہيں تنبيہہ کرنا نہيں بھولے۔

“جی ضرور۔۔جب آپ بلائيں گے حاضر ہوجاؤں گا” انہوں نے غازی کو نکلنے کا اشارہ کرتے واجد کو باتوں ميں لگايا۔

غازی ان دونوں کو لے کر فورا اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔

اور اب وہاں سے نکلنے کے بات مناب مسلسل دہائياں دے رہی تھی۔

“مجھے آئسکريم کا کوئ اتنا شوق نہيں تم دونوں ہی بس آجاتے” وہ پھر سے کوفت زدہ لہجے ميں بولی۔

“اب آگئ ہو تو منہ پھلا کر ضرور بيٹھنا ہے” صبغہ نے غصے سے کہا۔

“اچھا بھئ” اسے فورا اپنے بيزار انداز کا اندازہ ہوگيا۔

فورا سنبھل گئ۔

جو بھی توا اب غازی اسکی بہن کا شوہر بھی تھا اور اس رشتے کے ناطے اسے غازی کو اہميت دينی ہوگی۔

غازی نے مسکراہٹ دبا کر صبغہ کو ديکھا۔

کچھ دور پہی پہنچے تھے کہ غازی نے يکدم گاڑی روک دی۔

مناب جو اپنی ہی سوچوں ميں گم تھی حيران ہو کر اردگرد ديکھنے لگی جہاں آئسکريم کی کوئ دکان نہيں تھی۔

“يہاں کيوں رکے ہو” اس نے کچھ حيران ہو کر غازی سے کہا۔

مگر اسکے جواب دينے سے پہلے ہی ايک اور گاڑی انکے پيچھے رکی۔جو ہال سے يہاں تک ان کا پيچھا کررہی تھی۔

يکدم مناب کی جانب کا دروازہ کھلا۔

مناب يکدم ڈر سی گئ۔

بائيں جانب ديکھنے پر جو چہرہ نظر آيا اسے وہ کتنے لمحے بے يقين نظروں سے ديکھتی رہی۔

غازی اور وشہ مطمئن بيٹھے تھے۔

“آؤ” فاتک نے ہاتھ آگے بڑھا کر اسکو نکلنےکو کہا۔

مناب آنکھوں ميں حيرانی لئے انہيں ديکھ رہی تھی۔

“ميں کيوں آؤں۔۔مجھے گھر جانا ہے” وہ بدک کر بولی۔

“گھر ہی لے جارہا ہوں” اب کی بار اس نے زبردستی مناب کا ہاتھ تھام کر باہر نکالا۔

چھ سال بعد اسکے وجود سے پھر سے آشنائ ہوئ تھی دل تو دھڑکنا ہی تھا۔

“غازی انہيں منع کرو” مناب نے آخری اميد کے طور پر غازی کو ديکھا۔

“آپا تم اپنا وعدہ بھول رہی ہو۔ تم نے فاتک بھائ کو ايک چانس دينا تھا۔”

صبغہ نے اسے بہت کچھ ياد دلاويا۔

مناب خاموش ہوگئ۔مزاحمت دم توڑ گئ۔

“ہاں چانس دينا تھا مگر وہ چانس اتنی جلدی” يہ مناب کو انداز نہيں تھا۔

فاتک کے ساتھ اسکی گاڑی کی جانب بڑھ گئ۔

ہاں اسے سننا تھا اور بہت سا سنانا تھا۔

___________

“تم سب جانتے ہو کہ وہ لوگ کہاں گۓ ہيں۔ مجھ سے چھپا کر تم کيا سمجھتے ہو کہ ميں انجان ہوں۔ تم سب ملے ہوۓ ہو اس کے ساتھ۔”ان تينوں کے جاتے ہی واجد نے داؤد کو کڑے تيوروں سے ديکھتے گھر آنے کا حکم ديا۔

داؤد خود چاہتے تھے کہ وہ فاتک کے موضوع پر واجد سے بات کريں۔ مگر ابھی شادی کے جھميلوں ميں ايسا کرنے کے حامی نہيں تھے۔

ليکن کب انہيں محسوس ہوا کہ يہ سب ڈسکس کرنا ضروری ہوگيا ہے۔ حفصہ کے قريب جاکر انہيں مختصر لفظوں ميں صورت حال سمجھائ۔

“کوئ مسئلہ نہيں آج ہی بات کر ليتے ہيں ميں اور بھابھی بھی اس ڈسکشن ميں شامل ہوں گے” حفصہ نے بغير ڈرے اپنے ارادے بھی داؤد کو بتاۓ۔

“ٹھيک ہے” انہوں نے فورا حامی بھری۔

اس وقت وہ چاروں واجد کے ہی کمرے ميں آمنے سامنے صوفوں پر بيٹھے تھے۔

واجد صاحب کی گھن گھرج پر وہ تينوں خاموش تھے۔

“جی ميں جانتا ہوں۔ اور ميرے خيال ميں يہ غلط نہيں کہ اگر ہم فاتک کو مناب سے معافی مانگنے کا ايک بھی موقع نہ ديں۔” داؤد نے کھنکھار کر متوازن لہجے ميں کہا۔

“کيا تم بھول گۓ ہو کہ وہ ايک ماہ کی دلہن کو چھوڑ کر اپنی خواہشات پوری کرنے نکل کھڑا ہواتھا۔ تم جانتے ہو ميں عارفہ اور صمد کے سامنے آج تک اپنا جھکا سر اٹھا نہيں پاتا۔ يہ ان کی اعلی ظرفی ہے کہ انہوں نے دوسری بيٹی بھی ہميں دے دی۔ورنہ جو کچھ فاتک نے کيا اس کے بعد ہماری اتنی اوقات نہيں تھی کہ وہ يہ سب کرتے” بے لچک لہجے پر ناز کی آنکھوں ميں آنسو لہراۓ۔

“ميں آپکی سب باتيں مانتی ہوں۔ مگر اس نے ہر بندے سے معافی مانگی ہے۔” حفصہ نے بھی داؤد کا ساتھ ديا۔

“ہا۔۔۔۔معافی۔۔۔ اب اتنے سال بعد خيال آيا اسے” واجد نے نخوت سے کہا۔

“اس کو پہلے بھی خيال آتا رہا ہے بھائ صاحب مگر آپ نے اسکی ايک نہيں سنی” داؤد کی بات پر انہوں نے چونک کر ديکھا۔

“کيا مطلب” لال انگارہ آنکھوں نے داؤد کو گھورا۔

“مطلب يہ کہ وہ مسلسل آپکے ساتھ رابطے ميں رہا اور اس نے آپ سے اور عارفہ سے معافی مانگی۔ مگر آپ دونوں نے اسکی ايک نہ سنی” حفصہ کے لہجے نے انہيں باور کروا ديا کہ وہ سب بہت کچھ جان چکے ہيں۔

“تو۔۔۔اگر ميری اپنی بيٹی بھی ہوتی اور اس کا شوہر يہ سب کرتا ميں اسے بھی کوئ مارجن نہ ديتا” ٹانگ پر ٹانگ جماتے وہ ذرا بھی شرمندہ نہ ہوۓ۔

“اور اسے طلاق بھی دلواتے” داؤد نے افسوس سے اپنے بڑے بھائ کو ديکھا جو ہميشہ سے ان کے آئيڈيل تھے۔

“کيا بکواس کررہے ہو” ناز اس بات سے انجان تھيں۔ منہ پر ہاتھ رکھے حيران نظروں سے داؤد اور پھر اپنے مجازی خدا کو ديکھا۔

“يہ بکواس نہيں حقيقت ہے۔ اور وہ حقيقت خلع کے نوٹس کی صورت ميں فاتک کے پاس ابھی بھی موجود ہے۔ جس پر آپ لوگوں نے انجانے ميں مناب سے سائن کرواۓ۔” داؤد نے ايک ايک لفظ پر زور ديا۔

اب کی بار واجد کے چہرے پر شرمندگی کے آثار نظر آئے

ناز کی حيرت سے کھلی آنکھوں سے نظر چرائ۔

“تو کيا ميں اس کی آس ميں مناب کو بٹھاۓ رکھتا۔ يہ اس کی انسلٹ کے ساتھ ساتھ ميری بھی انسلٹ تھی۔ ميں چاہتا تھا کہ جو غلطی ميرا بيٹا کر چکا ہے اس کا خميازہ وہ معصوم کيوں بھگتے۔ اس سے کہيں بہتر آپشن اسکے پاس ہوسکتے تھے۔ اسی لئے ميں اسکی شادی کروانا چاہتا تھا۔ کسی ايسے انسان سے جو اسکی قدر کرتا”انہوں نے لہجہ ہموار کرتے ايک بار پھر شرمندہ ہوۓ بغير کہا۔

“يہ جاننے کے باوجود کہ وہ لڑکی اسکی اولاد کو دنيا ميں لا چکی ہے۔ آپکے خيال ميں ايسی لڑکی کو کوئ اتنی آسانی سے قبول کرليتا جو ايک ماہ کی بياہی ہو۔ اس کا شوہر اسے چھوڑ کر چلاگيا ہو۔ اور سب سے بڑی بات کہ وہ لڑکی کبھی اپنے نام کے ساتھ اس کا نام جدا نہ کرنا چاہتی تھی۔ آپ نے اسکی بے خبری ميں گناہ کيا۔” داؤد نے انہيں بہت کچھ باور کروايا۔

“اور آپ يہ جانتے ہيں کہ طلاق کو ہمارا مذہب کس قدر برا فعل گردانتا ہے۔ آپ پھر بھی مسئلے سلجھانے کی بجاۓ اسے مزيد بگاڑنے چلے تھے۔ فاتک نے اسے اپنے پاس بلانے کا کہا تو آپ نے يہ چال چلی۔” حفصہ کی آواز اونچی نہيں تھی مگر لہجہ سخت تھا۔

“آپ کو ذرا بھی ان دو معصوم جانوں کا خيال نہ آيا۔ اگر فاتک اس نوٹس کے بعد طلاق دے ديتا تو مجھے بتائيں اسکی اولاد کو کون قبول کرتا۔ بھائ صاحب يہاں مسئلہ مناب اور وشہ کی تکليف کا نہيں تھا۔ يہاں مسئلہ آپکی خود ساختہ انا کا تھا۔۔ آپ نے ضد باندھی تھی اپنی اولاد کے ساتھ۔ اتنی کوئ ناجائز خواہش نہيں تھی اس کی جس پر آپ نے ضد کی۔

اگر ماں باپ اپنی اولاد کی خواہشوں کے ساتھ ضد کرنے کی بجاۓ ان کا ساتھ ديں تو اولاد کبھی چور دروازے نہيں ڈھونڈتی۔”حفصہ نے روتی ہوئ ناز کو خود سے لگاتے واجد کو آئينہ دکھايا۔

اب کی بار کڑک دار آواز خاموش تھی۔

“اگر آپ اسے ايک دو بار کنسرٹس ميں جا لينے ديتے۔ تو يقين مانيں وہ کبھی آپکو يا کسی بھی اور کو دھوکہ دينے کا نا سوچتا۔ آپ کی اس بے جا پابندی نے اسے اتنے بہت سارے رشتے داؤ پر لگانے پر مجبور کرديا۔

ميں اسکی غلطی کی بے جاحمايت نہيں کررہی مگر بچوں کی غلطيوں کا تعلق کہيں نا کہيں ماں باپ کے غلط رويوں سے ہوتا ہے۔

ہر بار ہمارا سخت رويہ کارگر ثابت نہيں ہوتا۔ جتنا روک ٹوک کريں بچے اتنے ہی غلط راستوں کا انتخاب کرتے ہيں۔

کبھی کبھی بچوں کی سطح پر آکر بھی سوچنا پڑتا ہے۔ ان کی خواہشات ماں باپ نہ سمجھيں تو پھر وہ غيروں کو ڈھونڈتے ہيں اور يہيں سے ان کی خرابی شروع ہوتی ہے۔”حفصہ نے لوہا گرم ديکھ کر مزيد چوٹ لگائ۔

داؤد نے فخر سے اپنی شريک حيات کو ديکھا۔ جب سے شادی ہوئ تھی وہ ان کے گھر کے مسئلوں کو ان سے زيادہ بہتر انداز ميں حل کرتی تھيں۔

“ميں آپ کو بھی غلط نہيں کہہ رہی کہ بحرحال يہ فيلڈ ٹھيک نہيں ہے۔ مگر مجھے يقين ہے کہ فاتک جيسے فرماں بردار بچے کے ساتھ اگر آپ تھوڑا سا تعاون کرليتے تو وہ اس فيلڈ کے لئے اتنا جنونی نہ ہوتا۔” حفصہ کی بات پر وہ خاموش تھے۔ پہلی بار کسی نے انہيں غلط کہا تھا۔

پہلی بار ان کو خود کا تجزيہ کرنے پر اکسايا تھا۔

“ہم اب چلتے ہيں۔ مجھے اميد ہے کہ آپ ان دونوں کو اب اپنی زندگی کا فيصلہ خود کرنے ديں گے۔ ميں يہ نہيں کہتی کہ آپ ان دونوں سے محبت نہيں کرتے مگر محبت ميں کبھی شدت پسند نہيں ہونا چاہئيے۔ کيونکہ شدت پسندی رشتوں۔۔مان اور اعتبار کو ہميشہ توڑتی ہے۔ اعتدال ہی کاميابی ہے چاہے کسی صورت ميں بھی ہميں کرنے پڑے۔بھابھی اپنا خيال رکھئيے گا” محبت سے ناز کو پيار کرتے داؤد کو اٹھنے کا اشارہ کيا۔

واجد کو احساس دلانے کے لئے اتنا ہی بہت تھا۔

ناز نے ڈبڈبائ نظروں سے انہيں جاتے ديکھا۔

پھر ايک نظر خود سے تھوڑا فاصلے پر بيٹھے شوہر کو ديکھا۔

“معاف تو اللہ بھی کرديتا ہے۔ بار بار کرتا ہے۔ ہر بار کرتا ہے۔ تو پھر ہم انسانوں کی کيا اوقات” آج پہلی بار ان کا لہجہ تلخ ہوا تھا۔

واجد نے نظر اٹھا کر انہيں ديکھا۔ جو کبھی ان کے سياہ سفيد پر نہيں بوليں تھيں۔

مگر اولاد کے لئے ماں نڈر ہو ہی جاتی ہے۔

خاموشی سے وہ اٹھے۔ شکستہ قدم اٹھاتے کمرے سے باہر نکل گۓ۔

_______________________________

جس لمحے وہ گھر آئ ہر سو خاموشی تھی۔

چپ چاپ وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئ۔ آہستہ سے دروازہ کھولا۔ سامنے ہی بيڈ پر وشہ مزے سے سو رہی تھی۔

آہستہ روی سے چلتی وہ بيڈ کے قريب آئ جھک کر اسکے ماتھے پر پيار کيا۔

ابھی پيچھے ہوئ ہی تھی کہ موبائل پر ميسج کی بپ ہوئ۔

سيدھا کھڑے ہوتے جيسے ہی موبائل کھولا فاتک کا ميسج تھا۔

“گھر ميں کوئ ايشو تو نہيں ہوا” وہ جانتا تھا کہ واجد ابھی اسے بخشنے والے نہيں۔ اسی لئے مناب کے لئ پريشان تھا۔

“نہيں ميں گھر آئ تو سب اپنے اپنے کمروں ميں جاچکے تھے” مناب نے سينڈلز اتارتے ٹائپ کيا۔

پھر موبائل بيڈ پر رکھ کر وارڈروب کی جانب بڑھی۔

آرام دہ شرٹ اور ٹراؤذر نکال کر واش روم ميں جاگھسی۔

باہر آئ۔ نا چاہتے بھی دھیان موبائل کی جانب گيا۔

موبائل اٹھا کر چيک کيا تو فاتک کا ايک اور ميسج آيا ہوا تھا۔

“تھينکس گاڈ۔۔ ميں پريشان تھا” تشکر کا اظہار کيا گيا تھا۔

مناب بيڈ پر وشہ کے دوسری جانب آکر ليٹ گئ۔

موبائل بيڈ سائيڈ ٹيبل پر رکھا ہی تھا کہ پھر سے گنگنايا۔

“مجھے آج کی رات نيند نہيں آنے والی”اب کی بار ميسج پڑھ کر مناب کا دل بری طرح دھڑکا۔

“سوجائيں اور مجھے بھی سونے ديں” سنجيدگی کا لبادہ اوڑھ کر ميسج کيا۔

“آپ نے مجھے معاف کرديا ہے” اسکی درخواست کو نظر اندازکيا۔مناب نے چند لمحے کچھ سوچا۔

“ابھی کچھ بھی نہيں سوچا۔۔” ہاں کچھ تو امتحان اس کا بھی ليا جاتا۔

اتنی آسانی سے وہ سب بھول جاتی کيوں؟

مناب کی جانب سے آنے والا ميسج پڑھ کر فاتک کتنے لمحے گنگ رہ گيا۔

يعنی اسے ابھی بھی سولی پر لٹکايا جانا تھا۔فاتک نے ايک گہرا سانس بھر کر موبائل کی اسکرين کو پھر سے ديکھا۔

آج کے فنکشن ميں لی جانے مناب کی چند تصويروں ميں سے ايک اسکے موبائل کے وال پيپر کی زينت بن چکی تھی۔

وہ اسے کيسے سمجھاتا کہ دوری کے يہ لمحے بہت جان ليوا ہوتے جارہے ہيں۔

آنکھيں موند کر موبائل تکيے سے تھوڑا دور رکھا۔

اب کی بار مناب نے ہی دوسرا ميسج کيا۔

ہاتھ بڑھا کر موبائل اٹھايا۔

“ميں ۔۔ميں جانتی ہوں کہ کبھی کبھی انسانوں کا قصور نہيں ہوتا شايد وقت اور حالات ہی ايسے ہوجاتے ہيں جو رشتوں ميں دورياں اور غلط فہمياں پيدا کرديتے ہيں۔ مگر پھر بھی اتنے سالوں کی تکيف کو مندمل ہونے ميں چند دن تو لگيں گے۔

اور تب تک آپ کو جيسے تيسے برداشت کرنا ہوگا۔

ابھی کچھ دن لگيں گے۔

دل ايسے شہر کے پامال ہوجانے کا منظر

بھولنے ميں

ابھی کچھ دن لگيں گے”مناب کی بات پر اتنا سکون تو ہوا کہ اس نے اميد کی کوئ راہ تو دکھائ ہے۔

صفا چٹ جواب نہيں ديا۔ اور فی الحال فاتک کے لئ يہی بہت تھا۔

___________________________

“سو کيوں نہيں رہيں” صبغہ کو مسلسل بے چين اور کروٹوں پر کروٹيں بدلتے ديکھ کر آخر غازی کو اسے ٹوکنا پڑا۔

“آپا آگئ ہوگی کيا؟” دائيں جانب چہرہ موڑ کر خود سے چند گز کے فاصلے پر ليٹے غازی کو ديکھ کر تشويش سے سوال کيا۔

“نہ بھی آئيں تو کوئ ٹينشن نہيں۔ اپنے شوہر کے ساتھ ہيں” ہاتھ بڑھا کر اسکا ہاتھ تھاما۔

“مگر مجھے ٹينشن ہے۔ غصے ميں کچھ الٹا سيدھا نہ بول دے اور اگر فاتک بھائ کو بھی غصہ آگيا۔ پھر۔۔۔ميں فون کرلوں؟” اصل مسئلہ زبان پر آيا۔

“ميں نے منع کيا ہے نا۔ ان دونوں کی اب تک کی زندگی ميں ہم سب لوگ ہی دخل اندازی کرتے رہے ہيں۔ تبھی حالات اس نہج پر پہنچے ہيں۔ اب ان دونوں کو بغير کسی مداخلت کے اپنے مسئلے سلجھانے دو” غازی نے تيکھی نظروں سے اسے ديکھا۔

“تو ميں۔۔۔” صبغہ نے اپنی بات سمجھانی چاہی

“نہيں۔۔اور ويسے بھی ميرا بھائ اتنا بے وقوف نہيں ہے۔ وہ حالات بہتر کرنے آيا ہے بگاڑنے نہيں۔ جيسے بھی ہوگا۔ مجھے پورا يقين ہے وہ بھابھی کو کسی حد تک منا لے گا۔ اور اب ادھر ادھر کی ٹينشنز چھوڑو اور مجھ پر بھی کچھ توجہ دو” غازی کی ذومعنی بات پر وہ فورا کروٹ لينے لگی جسے غازی نے ناکام بنا کر صبغہ کو بازو کے گھيرے ميں ليا۔

“غازی پليز۔ اس وقت ميں بہت پريشان ہوں” صبغہ کی پريشان آواز پر اب کی بار غازی نے سر اٹھا کر اسکے چہرے کی جانب دیکھا۔

“يار سب اچھا ہوگا۔ اوکے ميں بھائ کو کال کرتا ہوں” وہ صبغہ کو مزيد پريشان نہيں ديکھ سکتا تھا۔ سائيڈ ٹيبل کی جانب مڑکر موبائل اٹھايا۔ فاتک کا نمبر ملايا۔

صبغہ بھی اٹھ کر اسکے قريب بيٹھ گئ۔

ہاتھ کے اشارے سے اسے اسپيکر آن کرنے کا کہنے لگی۔

“ہيلو” فاتک کی آواز ابھری۔

“ہيلو بھائ۔ بھابھی آپکے ساتھ ہی ہيں ابھی؟”

“نہيں ميں تو کچھ دير پہلے اسے گھر چھوڑ گيا تھا۔۔کيوں کيا ہوا۔۔ کہاں ہے مناب؟” فاتک يکدم پريشان ہوا۔

“نہيں وہ صبغہ پريشان تھی اور ميں نے اسے منع کيا تھا کہ آپ دونوں کوڈسٹرب نہ کريں۔ نہ ہی ميں نے اسے باہر جانے ديا تو سوچا آپ سے پوچھ لوں۔ اور کيا بات ہوئ آپکی اور بھابھی کی۔معاملات بہتر ہوۓ” غازی خود بھی دونوں کے لئے پريشان تھا۔

فاتک نے سب من و عن بتايا۔

“اللہ کرے بھابھی بہتر فيصلہ کريں۔ آپ پريشان نہ ہوں سب ٹھيک ہو جاۓ گا” غازی نے اسے تسلی دلائ۔

“ان شاءاللہ” فاتک سانس بھر کر رہ گيا۔

“چلو ريسٹ کرو تم دونوں” فون بند کرتے ہی غازی نے صبغہ کی پريشان صورت ديکھی۔

“پتہ نہيں اس لڑکی کو عقل کب آنی ہے۔ اب جب ايک بندہ اتنی معافی مانگ رہا ہے۔ تو۔۔۔” وہ غصے سے بھری بيٹھی تھی۔

“صبح سمجھائيں گے” غازی نے اسکے کندھے کو تھپتھاتے ليٹنے کا اشارہ کيا۔

____________________

اگلے دن ناشتے کی ٹيبل پر سب خاموش تھے لگ ہی نہيں رہا تھا کہ ايک رات پہلے يہاں شادی تھی۔

“مناب بيٹا مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے” واجد نے ناشتہ کرتی مناب کو مخاطب کيا۔

“جی ماموں” سوچوں کے گرداب سے باہر آتے اس نے سنجيدگی سے انکی جانب ايک نظر ديکھا۔

“ناشتہ کرکے ميرے کمرے ميں آجانا” نيپکن سے منہ صاف کرتے وہ اٹھ کھڑے ہوۓ۔

“آپا اب بھی اگر تم نے فاتک بھائ کا ساتھ نہ ديا تو ميں تم سے کبھی نہيں بولوں گی۔۔وہ شخص کيا کرے آخر” واجد کے باہر نکلتے ہی صبغہ زچ ہو کر بولی۔

“اپنے دماغ سے سوچنا شروع کردو” وہ پھر سے اسے سمجھانے لگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *