Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas NovelR50675 Teri Yaad Ki Anch (Episode 17)
Rate this Novel
Teri Yaad Ki Anch (Episode 17)
Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas
چار گھنٹوں کے طويل انتظار کے بعد آخر وشہ کو ہوش آگيا۔
“ميں مل سکتی ہوں اپنی بيٹی سے” جس لمحے ڈاکٹر نے آکر انہيں يہ خوشخبری سنائ۔مناب بے قراری سے سے پوچھنے لگی۔
“آپ مدر ہيں؟” ڈاکٹر نے استفہاميہ انداز ميں پوچھا۔
“جی” غازی نے جواب ديا۔
“فاتک کون ہے؟” ڈاکٹر کے سوال پر وہاں يکدم سانپ سونگھ گيا۔
“جی ميں ہوں” فاتک کو بتانا پڑا۔
“آپ بچی کے کيا لگتے ہيں؟” اس کے سوال پر پھر سے باقی سب خاموش رہے۔واجد صاحب بمشکل اپنا غصہ دبا رہے تھے۔
“ميں فادر ہوں” ڈاکٹر کو ان کے رويے سے ان کے درميان کچھ کشيدگی کا اندازہ ہوا۔
“بچی ہوش ميں آتے ہی آپ کو ياد کررہی تھی۔ بہتر ہے کہ پہلے آپ اس کے پاس چلے جائيں۔ پھر مدر چلی جائيں۔ کوشش کريں کہ باری باری جائيں۔ اور پليز رونا دھونا مت کيجئيے گا۔ اسکی چود اثر انداز ہوگی” ڈاکٹر احتياط بتا کر پلٹ گيا۔
مناب تو سکتے ميں چلی گئ۔ چند دن باپ سے ملے ہوۓ نہيں اور اس کی پانچ سال کی رياضت پر پانی پھر گيا۔
صبغہ جو کچھ دیر پہلے ہی حفصہ کے ساتھ وہاں پہنچی تھی۔ مناب کو سہارا دے کر پاس پڑے بينچ پر بيٹھ گئ۔
فاتک نے ايک نظر غازی اور داؤد کو ديکھا۔
دونوں نے سر ہلا کر اسے اندر جانے کا عنديہ ديا۔
خاور اور واجد نے قہر بھری نگاہ فاتک پر ڈال کر بمشکل مٹھياں بھينچيں۔
داؤد نے فون کرکے گھر ميں اطلاع دی۔ تاکہ ناز، عارفہ اور باقی سب لوگ جو پريشان ہيں انہيں وشہ کے ہوش ميں آنے کی خوشخبری سنائ جاۓ۔
فاتک اندر گيا۔
وشہ کا سر پٹيوں ميں جکڑا ہوا تھا۔ اسکی پھول سی بچی کملا کر رہ گئ تھی۔
آنسو کو بڑی مشکل سے اندر دھکيلا۔ ابھی چند دن ہی تو ہوۓ تھے اسے اپنی اولاد کو محسوس کرتے ہوۓ۔ جس لمحے اسکے سکول سے کال آئ۔ فاتک کو لگا اس کا دل کسی نے مٹھی ميں جکڑ ليا ہو۔
ہاسپٹل آنے تک اسکی ہمت جواب دے گئ تھی۔ اپنی بيٹی کی زندگی کے بچپن کے اہم سالوں سے تو وہ محروم رہا تھا مگر اب جب سے اس کے بارے ميں جانا تھا۔ وہ اب کبھی اس سے دور نہيں رہنا چاہتا تھا۔ رات ميں اس کا کراچی ميں کنسرٹ تھا۔ اس نے فون کرکے وہ کينسل کروا ديا تھا۔
اب اسکے لئے کوئ اور چيز اپنی اولاد سے زيادہ اہميت نہيں رکھتی تھی۔
اللہ نے اولاد کی محبت ميں واقعی بہت طاقت رکھی ہے۔ يہ ماں ہو يا باپ دونوں کو بدل کر رکھ ديتی ہے۔ فاتک جس نے اپنے شوق کے سامنے کسی کی محبت نہيں ديکھی تھی آج اولاد کے لئے وہی شوق اور جنون اس کے لئے کسی اہميت کے حامل نہيں تھے۔
اسکے بيڈ کے قريب آيا۔وشہ نے آنکھيں موند رکھی تھيں۔ اسکے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو تھاما تو اس نے پٹ سے آنکھيں کھوليں۔
“پاپا” اس نے پہلی بار فاتک کا نام لينے کی بجاۓ اسے اسکے اہم رشتے سے پکارا تھا۔
کوشش کے باوجود اسکی آنکھيں نم ہوگئيں۔
بھيگی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجاۓ وہ آنکھيں صاف کرنے لگا۔
“جی ميری جان” ہونٹ اور زبان خشک تھے۔
“آپ ۔۔۔۔آپ اب مجھ سے دور تو نہيں جائيں گے” اپنی حالت کی پرواہ کئے بنا وہ کس خوف ميں مبتلا تھی۔ فاتک کا دل کيا کسی طرح وہ پانچ سال واپس لے آۓ۔
سر کو نفی ميں ہلاتے وہ بولنے کے قابل نہيں تھا۔
آنسو پھر سے باہر آنے کو بے تاب تھے۔
“نہيں کبھی بھی نہيں” فاتک کی بات پر وہ ہولے سے مسکرائ۔
_________________________
رات کے تاريک سائے پھيل رہے تھے۔
وشہ کو روم ميں شفٹ کيا جا چکا تھا۔ مناب ايک لمحے کو بھی اسکے پاس سے اٹھنے کو تيار نہيں تھی۔
اسکے بيڈ کے قريب کرسی رکھے۔ وہ مسلسل کچھ نہ کچھ پڑھنے ميں مصروف تھی۔
اب رات ميں رکنے کا مسئلہ تھا کہ کون روکے۔
“ميں تو ہر گز گھر نہيں جاؤں گی” مناب نے پہلے ہی انکار کرديا۔
“بيٹا تھوڑی دير جا کر ريسٹ کر آؤ” حفصہ جو کہ اسکے قريب ہی کھڑی تھيں، اسکے انکار پر اسکے کندھوں پر ہاتھ رکھے اسے محبت سے سمجھايا۔
“مامی نہيں۔ پليز۔۔۔ ميں گھر جاکر زيادہ بے سکون رہوں گی۔”وہ لجاجت بھرے انداز ميں بولی۔
“ٹھيک ہے پھر ميں اور بھابھی يہيں رکتے ہيں آپ سب جائيں” غازی نے کسی کے بھی بولنے سے پہلے حتمی انداز ميں کہا۔
“جب تک يہ گھٹيا شخص يہاں سے نہيں جاۓ گا۔ ميں اپنی بہن کے پاس رہوں گا” خاور نے تنفر بھری نظر فاتک پر ڈالتے ہوۓ کہا۔ يہ تو اسے سمجھ آ گئ تھی کہ داؤد حفصہ، غازی اور حتی کہ صبغہ تک فاتک کے ساتھ ہيں۔ کيونکہ واجد اور خاور کے علاوہ باقی سب اس سے بات کررہے تھے۔
“آپکی بہن ابھی اس گھٹيا شخص کے نکاح ميں ہی ہے۔” فاتک نے ايک چبھتی ہوئ نظر اس پر ڈال کر اسے بہت کچھ باور کروايا۔
“ميں تمہارے منہ نہيں لگنا چاہتا” اب کی بار خاور براہ راست اس سے مخاطب ہوا۔
“خاور کيا ہوگيا ہے۔۔” حفصہ نے اسے آنکھيں دکھائيں۔
“آپ اس سے کہيں يہ يہاں سے جاۓ نہيں تو مناب کو گھر بھيجيں” خاور نے اب کی بار لہجہ درست رکھتے مگر ہٹ دھرمی سے کہا۔
“خاور صحيح کہہ رہا ہے” واجد نے اسکی تائيد کی
“بس کرديں آپ سب۔۔۔”مناب يکدم چلائ
“يہاں ميری بيٹی تکليف ميں پڑی ہے آپ سب کو اپنی دشمنيوں کی فکر ہے” منہ پر ہاتھ رکھے وہ رونے لگی۔
صبغہ نے بڑھ کر اسے خود سے لگاتے ايک افسوس بھری نگاہ واجد اور خاور پر ڈالی۔
“چليں بھائ صاحب” داؤد نے بمشکل واجد اور خاور کو لے کر کمرے سے نکلے۔ وہ تو شکر تھا کہ وشہ دوائيوں کے زير اثر نيند ميں تھی ورنہ يہ ہنگامہ ديکھ کر خوفزدہ ہو جاتی۔
“آپ اور چچی بھی جاؤ” غازی نے صبغہ کو اشارہ کيا۔
“اپنا خيال رکھنا” صبغہ نے غازی کو ديکھتے سر ہلايا۔
پھر مناب کے سر کو کندھے سے لگا کر پيار کيا۔
آنسو صاف کرتے مناب نے محبت سے اسے ديکھا۔ اس کی ہر تکليف ميں وہ بن کہے ہميشہ اسکے پاس ہوتی تھی۔
مناب اس کی بے لوث محبتوں کا قرض کبھی نہيں اتار سکتی تھی۔
“تھينک يو صبغہ” مناب نے بھيگی آواز ميں کہا۔
“تھپڑ کھاؤ گی ميرے سے” وہ چھوٹی تھی مگر ہميشہ بڑی بہنوں والا رعب اس پر ڈالتی تھی۔
“يہ جتنی تمہارے ہے نا۔۔اس سے کہيں زيادہ ميری بيٹی ہے” صبغہ نے محبت سے وشہ کو ديکھا۔
اسکی محبتوں پر مناب کو کوئ شک نہيں تھا۔
کس ہمت سے وہ وشہ کو اس حال ميں ديکھ کر ايک بھی آنسو بہاۓ بغير مناب کو سنبھال رہی تھی يہ صرف وہی جانتی تھی۔ بہن کی اولاد کا ہر درد اپنی اولاد کی طرح محسوس ہوتا ہے۔اسی لئے تو خالہ کا درجہ ماں کے بعد آتا ہے۔
“صبح ميں ناشتہ لے کر آؤں گی۔ اور تب تک تمہاری يہ سوجی آنکھيں نظر نہ آئيں مجھے۔ سو جانا”اسے ہدايات کرتی وہ اٹھ کھڑی ہوئ۔
“اوکے فاتک بھائ۔ آپ بھی ريسٹ کرلينا۔۔” فاتک کے قريب رک کر اسے ہدايات دیں۔
“اور ميرے لائق کوئ خدمت” غازی نے اسے اماں بی ٹائپ بنتے ديکھا تو شرارت سے بولا۔
“جی بالکل۔۔۔آپ نے ميری بہن کا خيال رکھنا ہے” ايک ادا سے کہتی وہ آگے بڑھ گئ۔
غازی نے مسکراہٹ دباتے سر تسليم خم کيا۔
فاتک اور مناب اس کے انداز پر ہولے سے مسکراۓ۔
“پريشان نہ ہونا۔۔۔ابھی کچھ وقت لگے گی ان سب کا غصہ اترنے ميں” حفصہ نے محبت سے فاتک کے کندھے پر ہاتھ رکھتے اسے دلاسا ديا۔
مناب نے ايک خاموش نظر ان دونوں پر ڈال کر منہ پھير ليا۔
“جی ميں جانتا ہوں۔۔آپ پريشان نہ ہوں۔ يہ سب ميں ڈيزرو کرتا ہوں” فاتک کی گمبھير آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائ۔ مناب نے کرب سے آنکھيں ميچ ليں۔
“ذيزرو” اسکا لفظ نفرت سے دہرايا۔
“اپنا خيال رکھنا” اسکے چہرے پر محبت سے ہاتھ پھيرتے انہوں نے صبغہ کے ساتھ قدم بڑھائے۔
غازی انہيں باہر تک چھوڑنے گيا۔
جبکہ فاتک گہری سانس بھر کر واپس کمرے ميں آيا
جہاں اس کی پوری دنيا اسکے سامنے تھی۔
بيڈ کے دوسری جانب رکھے صوفے پر بيٹھتے اس نے بيڈ کے اس جانب کرسی پر بيٹھی مناب کو ديکھا۔
ان نگاہوں ميں کيا کچھ نہ تھا حسرت، چاہت، محبت۔۔۔
مناب کو اس کے نظروں کے ارتکاز کا اندازہ ہو چکا تھا۔
چہرہ نيچے کرکے توجہ اپنے سامنے کھلے پنج سورہ پر مبذول کی۔
فاتک کو يہ سب خواب لگ رہا تھا۔
مناب اور وشہ اسکے پاس اسکے سامنے تھيں۔
محبت بھری نگاہيں دونوں کے چہرے سے ہٹنے کو انکاری تھيں۔
سياہ دوپٹے کے ہالے ميں شکن آلود لباس ميں ستے ہوۓ چہرے سميت بھی وہ مناب کے دل ميں اتر رہی تھی۔
کھٹکے کی آواز پر فاتک نے بمشکل اپنی نظريں ہٹائيں۔
غازی اندر آکر صوفے پے اسکے قريب گرنے کے سے انداز ميں بيٹھا۔
“غازی ان سے کہو يہ بھی يہاں سے جائيں۔ ہميں کسی کی ضرورت نہيں” مناب نے سر اٹھا کر غازی کو ديکھتے ہوۓ۔ چٹانوں کے سے سخت لہجے ميں کہا۔
“بھابھی۔۔پليز” غازی نے دکھتے سر کو تھامتے اسے ٹوکا۔
“ميں چاۓ لے کر آتا ہوں” غازی يکدم اٹھا۔
“تم۔۔تم نے اسی لئے يہاں کسی اور کو نہيں رکنے ديا نا۔۔تم بہت برا کر رہے ہو ميرے ساتھ” اسے کمرے سے نکلتے ديکھ کر مناب صدمے سے بے حال ہوئ۔
“غازی تم جاؤ” فاتک نے اسکے غصے سے بھرپور چہرے کو ديکھتے غازی کو حکم صادر کيا۔
“بھابھی۔۔ايسا۔۔۔”غازی نے مڑ کر فاتک کو اور ايک نظر بے بسی سے مناب کو ديکھ کر بات کلئير کرنا چاہی۔
“غازی تم جاؤ۔۔۔چاۓ لے کر آؤ” فاتک نے ايک ايک لفظ پر زور ديتے غازی کو منظر سے ہٹانا چاہا۔
“بھائ”
“جاؤ” مناب ہکا بکا دونوں کو ديکھ رہی تھی۔
غازی خاموشی سے باہر نکل گيا۔
“اب کہيں کيا مسئلہ ہے” غازی کے باہر نکلتے ہی وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر کمرے موجود ايک اور کرسی اٹھا کر مناب کے قريب رکھ کر اس پر بيٹھا۔
“مجھے آپ سے کوئ بات نہيں کرنی۔۔آپ جائيں يہاں سے” مناب نے رخ تھوڑا اور موڑتے درشت لہجے ميں کہا۔
“ميں آپکی محبت ميں پاگل ہو کر يہاں نہيں رکا۔ ميں اپنی بيٹی کے لئے رکا ہوں” فاتک نے اسکی غلط فہمی دور کی۔
“بيٹی ۔۔۔کو ن سی بيٹی۔۔کس کی بيٹی۔۔۔جس کو پانچ سال تک نہيں پوچھا اب اسکے دعوے دار بن کر آگۓ ہيں”
وہ نخوت سے بولی
“کيونکہ پچھلے پانچ سال سے ميں جانتا نہيں تھا کہ ميری کوئ بيٹی بھی ہے” فاتک گھٹنوں پر کہنياں ٹکاۓ آگے کی جانب جھکا۔
“ہاں اور اب اسے مجھ سے دور کرنے کے لئے آگۓ ہيں۔ آپ کتنے خود غرض ہيں” مناب نے چہرہ موڑ کر نفرت سے اسے ديکھا۔
جائيں يہاں سے کچھ نہيں لگتی يہ آپکی” لہجہ مضبوط رکھنے کے جتن کرتی وہ نڈھال ہو رہی تھی۔
“مناب ميں۔۔۔۔” فاتک نے اسے کچھ کہنا چاہا
“چلے جائيں يہاں سے جيسے چھ سال پہلے ہماری زندگيوں سے گۓ تھے ۔۔۔اب کيوں آگۓ ہيں چلے جائيں بس۔۔۔۔يہ ايک رشتہ تو ميرے پاس رہنے ديں۔ جائيں چلے جائيں” اس کی بات کاٹتی۔آنسو پھر سے اس بے درد کے آگے بہانے لگی۔اپنے آنسو پر غصہ کرتی يکدم اٹھی
فاتک بھی اتنی ہی تيزی سے اٹھتا اسکے سامنے آتا اسکا راستہ روک گيا۔
اسکے بازوؤں پر گرفت کی۔
“ڈيم اٹ مناب” اس کے پھر سے کچھ نہ سننے پر اب کی بار وہ غصے ميں آيا
“مجھے اگر وشہ کو آپ سے چھين کر لے جانا ہوتا تو يوں ہر کسی سے معافياں نہ مانگتا پھرتا۔۔نہ اپنے باپ سے ذليل ہوتا نہ آپکے بھائ سے اور نہ ہی آپ سے۔۔۔۔” اسکی آنکھوں ميں آنکھيں ڈالے وہ اسے بہت کچھ باور کروانا چاہتا تھا۔ وہ سب جسے وہ سننے کو تيار نہيں تھی۔
“تو پھر کيا چاہتے ہيں آپ” مناب جو اسکی جرات پر حيرت زدہ تھی۔
بے بسی سے پوچھنے لگی۔
“آپ کو اب بھی پتہ نہيں چلا” فاتک کے لہجے ميں بے يقينی تھی۔۔۔حسرت تھی۔
“نہيں۔۔۔مجھے کسی خوش فہمی ميں اب نہيں رہنا” مناب نے آنکھيں جھکاتے گويا خود سے بھی وہ سب ماننے سے انکار کيا جو فاتک کے رويے پر دل خوش فہم نے بتايا تھا۔
“مجھے اپنی بيٹی چاہئيے۔۔” فاتک نے اسکے بازو کو ہلکا سا جھٹکا دے کر بات ادھوری چھوڑی۔
مناب نے سر اٹھا کر وحشت بھری نظروں سے اسے ديکھا ايسے جيسے شک يقين ميں بدل رہا ہو۔ وہی شک کہ فاتک وشہ کو چھننا چاہتا ہے۔
“مگر اسکی ماں سميت” فاتک کا بس نہيں چل رہا تھا اسے خود ميں سمو لے۔ اسکی ڈری سہمی ہرنی آنکھوں ميں يقين بھر دے اپنی محبت کا يقين۔ اپنے ساتھ کا يقين۔
مناب کی بے يقين خاموش نظروں نے چند پل اسے ديکھا۔
اگلے ہی لمحے اسکے ہاتھ اپنے بازو سے جھٹکے۔
فاتک نے الجھ کر اسے ديکھا۔
“اتنا ہی آسان ہدف ہوں نا ميں۔۔ہر بار بے وقوف بنائيں گے اور بن جاؤں گی۔ آپ مجھ سے اور وشہ سے دور رہيں۔ مجھے اور کچھ نہيں چاہئيے” بے لچک اور دو ٹوک انداز ميں کہتی فاتک کے سائيڈ سے گزر کر واش روم کی جانب بڑھ گئ۔
فاتک نے بے بسی سے سر پر ہاتھ پھيرا
_________________
صبغہ اور غازی کی مہندی تک وشہ کافی بہتر ہوچکی تھی۔ داؤد اور حفصہ نے سب گھر والوں سے بات چيت کرکے کسی نہ کسی طرح سب کو منا ليا تھا کہ وہ فاتک کو شادی ميں آنے ديں۔
“ديکھيں بھائ صاحب وہ سب لوگ جو مناب اور فاتک کے رشتے کو لے کر ہر بار ہم پر کيچڑ اچھالتے ہيں کم از کم انہيں بات کرنے کا موقع نہيں ملے گا۔ ابھی ضوفشاں کی شادی پر ہم نے کس مشکل سے سب کے سوالوں کے جواب دئيے۔ اب يہاں ہوتے ہوۓ کيا لوگ باتيں نہيں بنائيں گے کہ فاتک شامل کيوں نہيں ہے۔ وہ جس پروفيشن ميں ہے سب جانتے ہيں کہ وہ آجکل پاکستان ميں اور اسی شہر ميں موجود ہے” داؤد نے انہيں جذباتی طريقے سے گھيرا۔
“ميں اس کی شکل بھی نہيں ديکھنا چاہتا اور تم کہہ رہے ہو۔۔” وہ ہٹيلے انداز ميں بولے۔
“ميں جانتا ہوں۔۔۔مگر بہتر يہی ہے کہ ابھی آجانے ديں۔ بعد ميں اپ نے جو کچھ کہنا ہوگا اسے کہہ لی جئيے گا۔ مگر اس موقع پر يہ سب کرنا عقل مندی نہيں۔ اور آپ تو اتنے فہم و فراست والے ہيں خود سوچيں۔ باتيں تو ہميں ہی سننی پڑيں گی” داؤد کی بات پر وہ خاموش رہے۔
“ٹھيک ہے مگر وہ يہاں رہے گا نہيں۔۔جہاں بھی رہتا ہے وقت کے وقت آۓ گا اور پھر چلا جاۓ گا۔ ميں اسے اپنے گھر ميں برداشت نہيں کرسکتا” انہوں نے تنبيہہ کی۔
“جی جی ايسا ہی ہوگا” انہوں نے شکر کا کلمہ پڑھا۔
صمد اور عارفہ کو بھی منانا بے حد مشکل تھا۔ مگر سب نے مل ملا کر منا ہی ليا۔
________________________
مناب ابھی لاعلم تھی کہ فاتک صبغہ اور غازی کی شادی ميں شريک ہورہا ہے۔
نکاح چونکہ پہلے ہی ہوچکا تھا لہذا مہندی والے دن ہی رخصتی کا انتظام کيا گيا تھا اور اگلے دن وليمہ رکھ گيا تھا۔
عارفہ کے گھر کے لان ميں سب انتظام تھا۔
مناب آج کے دن صبغہ کی جانب سے شريک ہورہی تھی اور وليمے والے دن واجد لوگوں کی طرف سے شامل ہورہی تھی۔
صبغہ تيار ہوکر آچکی تھی۔
مناب بھی تيار تھی مگر ابھی تک باہر نہيں گئ تھی۔
کچھ دير بعد ہی دلہاوالوں کی آمد کا شور مچا۔
“لوجی آگۓ” مناب صبغہ کو چوڑياں پہنانے ميں مصروف تھی۔ شرارت سے اسے ديکھ کر کہا۔
صبغہ نے ہولے سے مسکرا کر اسے ديکھا۔ خدشات بھی تھے کہ نجانے فاتک کے آنے پر اس کا کيا ری ايکشن ہو۔
“ممیآپ کو پتہ ہے کون آيا ہے؟” وشہ بھاگتے ہوۓ کمرے ميں داخل ہوئ۔اس کے سر پر اب بھی ايک پٹی بندھی ہوئ تھی۔
خوشی سے پھولے ہوۓ سانسوں ميں اس نے ماں کو کوئ اطلاع دینی چاہی۔
جاری ہے
