Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Yaad Ki Anch (Episode 12)

Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas

انہيں بيٹھے پندرہ منٹ گزر چکے تھے۔

“کب آئيں گے؟” صبغہ اردگرد کا جائزہ لے کر بولی۔

“بس نکل پڑے ہيں دس منٹ ميں يہيں ہوں گے” غازی ہاتھ پر بندھی گھڑی ديکھ کر بولا۔

وشہ کو چپس منگوا کر دئيے تھے وہ بيٹھی مزے سے کھا رہی تھی۔

“واؤ ۔۔۔۔ڈيٹ پر آۓ ہو دونوں” صبغہ وشہ کی کسی بات کا جواب دے رہے تھی۔ غازی کی توجہ بھی انہيں پر تھی۔ مگر قريب سے آنے والی آواز نے دونوں کو بری طرح چونکا ديا۔

گردن موڑ کر ديکھا تو مناب مسکراتے ہوۓ شرارتی نظرزں سے انہيں ہی ديکھ رہی تھی۔

“اوئے ميری بيٹی بھی آئ ہے” مناب بے اختيار وشہ کی جانب بڑھی۔

وہ دونوں ساکت سے ايک دوسرے کو ديکھ رہے تھے۔

“کيا ہوگيا ہے گھر ميں بتا کر نہيں آۓ کيا” ان دونوں کی خاموشی سے وہ يہی سمجھی۔

“نہيں ايسا نہيں ہے۔ آپکو پتہ ہے ميں کبھی گھر ميں بتاۓ بغير انکے ساتھ کہيں آتی جاتی نہيں۔” صبغہ کو اپنے تاثرات پر کنٹرول کرکے بولنا پڑا۔

“آپ يہاں کيسے؟” فاتک اور مناب کے آمنے سامنے کا شديد ڈر تھا۔

“ميرا آفس پاس ہی تو ہے۔ بس لنچ کرنے کے لئے آگۓ تھے۔ واپس جاہی رہی تھی کہ نظر تم دونوں پر پڑ گ‏ئ۔ ميں تو خوشی سے بے حال ہو رہی تھی تم دونوں کو ساتھ ديکھ کر ليکن لگتا ہے لڑائ ہوئ ہے تم دونوں کی۔ اتنے سنجيدہ کيوں ہو” مناب يہی سمجھی کہ صبغہ زبردستی آئ ہے۔ وہ جانتی تھی کہ صبغہ کو يہ سب باتيں پسند نہيں اور نہ ہی غازی سے بہت ملنے ملانے کا شوق ہے۔

“نہيں ايسی کوئ بات نہيں۔ مجھے کچھ شاپنگ کرنی تھی تو وشہ اور انہيں لے آيا” غازی کو بھی اپنے تاثرات نارمل کرنے پڑے۔

اسکی نظريں بار بار داخلی دروازے پر اٹھ رہی تھيں۔

“اچھا چلو گڈ ہے۔ تم دونوں انجواۓ کرو۔ ميں چلتی ہوں۔ باس سے تھوڑی دير کا کہہ کر آئ تھی اب ٹائم زيادہ ہوگيا ہے” مناب وشہ کو پيار کرتے تيزی سے داخلی دروازے کی جانب بڑھی۔ اسکے ساتھ اسکی دو اور کوليگز بھی تھيں۔

اسکے جانے پر صبغہ اور غازی نے سکھ کا سانس ليا۔

بيگ ميں سے گلاسز نکالتے دروازہ کھول کر باہر نکلی ہی تھی کہ بے اختيار سامنے سے آتے لڑکے سے ٹکرائ۔

دھيان بيگ کی جانب تھا اسی لئے ٹکر ہوئ۔

“اوہ سوری” بے اختيار اسکے منہ سے نکلا نگاہ اٹھا کر پاس سے گزرتے شخص کو ديکھنا چاہا ليکن وہ رکا نہيں جاچکا تھا۔

مگر مناب کتنے ہی لمحے وہاں سے ہل بھی نہ سکی۔

وہ خوشبو ہی الگ تھی۔ چھ سال بعد بھی مناب کو فاتک کے پسنديدہ پرفيوم کی خوشبو ياد تھی۔

اس لمحے بھی اسی خوشبو نے اسے اپنے حصار ميں لے ليا تھا۔

دل کيا اس شخص کے پيچھے جاکر اسکا چہرہ ديکھے۔ اپنا شک دور کرے۔

‘اور اگر شک درست ثابت ہوا’ اندر سے کہيں آواز آئ۔

اس ميں ہمت نہيں ہوئ۔

“چلو نا مناب” اسکی کوليگ اسے وہيں جما ديکھ کر پيچھے اسکے پاس آئ۔

“ہاں۔۔ہاں چلو” وہ ہڑبڑا کر اسکے ساتھ بڑھی۔

____________________

گاڑی پارکنگ ايريا ميں پارک کرکے وہ باہر نکلا جلدی سے گاڑی لاک کی۔ ٹائم زيادہ ہورہا تھا۔

يقينا وہ دونوں۔ بلکہ تينوں اسکے انتظار ميں بيٹھے ہوں گے۔

غزنوی سے بات کرتے اسے تھوڑا ٹائم زيادہ ہوگيا تھا۔

اسی احساس کے تحت وہ تيزی سے ريسٹورينٹ کے داخلی دروازے کی جانب بڑھا۔ مگر باہر آنے والوں ميں وہ چہرہ اسے منجمد کرگيا۔

چھ سال بعد اسے يوں روبرو ديکھا تھا دل کی حالت کيسے نہ بدلتی۔

گرين کرتے اور جينز پر براؤن ليدر کا لانگ کاٹ پہنے سکارف کو گلے ميں خوبصورتی سے ڈالے سلکی براؤن ادھ کھلے بالوں ميں وہ وہی تھی اس کی مناب۔ اس کی زندگی۔

بيگ سے الجھتی نجانے کيا ڈھونڈ رہی تھی۔ دل کيا آگے بڑھ کر اپنی موجودگی کا احساس دلائے۔ اسے خود ميں چھپا کر کہيں دور لے جاۓ۔

مگر ابھی يوں اچانک وہ يہ سب نہيں کرسکتا تھا۔ مگر کچھ تو۔۔۔ کچھ تو۔۔ اپنا احساس اسکے گرد چھوڑ ہی سکتا تھا۔

يکدم آگے بڑھتے جان بوجھ کر اسے زوردار ٹکر ماری۔

دل اس نادان حرکت پر مسکرايا۔

“اوہ سوری” اسکی شيريں آواز پر دل کيا مڑ کر اسکے ماتھے پر ويسے ہی بوسہ دے جيسے چھ سال پہلے اسکی معصوم حرکتوں پر پيار آنے پر ديتا تھا۔

مگر يہ چھ سال۔۔۔ سب کچھ انہوں نے ہی بگاڑا تھا۔ ان کا خوبصورت رشتہ اور محبت کا احساس بھی۔۔۔

خاموشی سے مڑے بنا اندر کی جانب بڑھتا چلا گيا۔

“شکر ہے آپ دير سے آۓ” ان کو ڈھونڈتا جوں ہی فاتک انکی ٹيبل کے قريب پہنچا۔

غازی نے کھڑے ہوتے شکر کا سانس ليتے کہا۔

دونوں بھائ بغلگير ہوۓ۔

“السلام عليکم” صبغہ نے بھی کھڑے ہوتے اس پر سلامتی بھيجی۔

“وعليکم سلام۔۔کيسی ہوں” فاتک نے محبت سے اسکے سر پر ہاتھ پھيرا۔ کتنی بڑی ہوگئ تھی۔ محبت سے اسے ديکھا۔

وشہ چہکتی ہوئ اسکی گود ميں چڑھی۔

“کيسی ہے ميری اينجل” صبغہ نے محبت سے ان دونوں کو ديکھا۔

اتنے سالوں ميں وہ فاتک بے حد گريس فل ہوگيا تھا۔

آنکھوں پر نظر کا چشمہ لگاۓ وہ اور بھی خوبصورت لگ رہا تھا۔ بليک جينز پر ليدر کی جيکٹ اور بليک ہی ٹی شرٹ ميں وہ بے حد ہينڈسم لگ رہا تھا۔

بہن کی قسمت پر رشک بھی کيا اور افسوس بھی۔

“کيسی ہو چھوٹی” وہ شروع سے اسے چھوٹی ہی کہتا تھا۔

صبغہ کو لگا جيسے کان ترس گۓ ہوں اس سے چھوٹی سنے ہوۓ ۔

“بالکل ٹھيک” وہ کچھ جھجھک کر بولی۔ ماہ وسال کبھی کبھی يوں ہی رشتوں ميں اجنبيت لے آتے ہيں۔ وہ جو اسکے کندھے سے لٹک کر فرمائشيں کرتی تھی۔ اب بس مسکرا کر اسے ديکھ رہی تھی۔

“کتنی سوبر ہوگئ ہو بھئ۔ ميری نٹ کھٹ چھوٹی کہاں گئ؟” وہ حيرت سے اسے ديکھ رہا تھا۔

“حالات کی بے رحمی کی نظر ہوگئ” وہ جھوٹ کہہ نہيں سکتی ۔ جانتی تھی سچ کڑوا ہے مگر کہے بغير رہ نہ سکی۔

وہ لب بھينچ کر رہ گيا

“معذرت مگر آپ کے جانے کے بعد جيسے ہم نے آپا کو سنبھالا۔ وہ تکليف ہم سب سے ہماری اصل پہچان چھين گئ۔ ميں ۔۔۔اپنا بچپنا بھول گئ۔

“ميں جانتا ہوں۔ اور جتنی بھی معذرت تم سے سب سے کروں وہ کم ہے۔ آج غازی سے کہلوا کر تمہيں اسی لئے يہاں بلايا کيونکہ ميں روبرو تم سے معافی مانگنا چاہتا تھا۔ مجھے ہر بندے سے معافی مانگنی ہے۔” آنکھوں ميں حد درجہ سنجيدگی لئے وہ معذرت خواہانہ انداز ميں بولا۔

“ميرا مقصد آپکو شرمندہ کرنا نہيں ہے۔ مگر ميں خود کو يہ سب کہنے سے روک نہيں پارہی” صبغہ صاف گوئ سے بولی۔

“کوئ بات نہيں مجھے برا نہيں لگا۔ جو کچھ ميں نے کيا ہے تم سب کچھ بھی کہہ سکتے ہو۔ چاہو تو گالياں بھی دے دو ميں برا نہيں مناؤں گا” نظريں جھکاۓ سر ہلا کر بولا۔ غازی نے ٹيبل پر رکھے اسکے دونوں ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر جيسے اسے اپنے ساتھ ہونے کا احساس دلايا

“تھينکس بڈی” نظر اٹھا کر اسکی جانب ديکھ کر وہ ہولے سے مسکرايا۔ اسکے ہاتھ پر دوسرا ہاتھ رکھ کر تھپتھپايا۔

“نہيں اس سب ميں آپ اکيلے قصوروار نہيں۔ ماموں اور امی کی بھی اتنی ہی غلطی ہے۔ مجھے غازی نے سب بتا ديا ہے” صبغہ کی بات پر فاتک نے اسے چونک کر ديکھا۔

“مگر مناب کو تم نے يہ سب بتاۓ بنا ميرے لئے قائل کرنا ہے” فاتک کی بات پر وشہ نے چونک کر اسے ديکھا۔

“آپ کو ميری ممی کا نام پتہ ہے۔” اسے يہ تو نہيں پتہ تھا کہ وہ تينوں کيا باتيں کررہے ہيں۔ مگر فاتک کے منہ سے ماں کا نام سنتے ہی وہ حيرت زدہ ہوئ

وہ تينوں بری طرح چونکے ۔ وشہ کو تو وہ فراموش کرچکے تھے۔

فاتک ساتھ کرسی پر بيٹھی وشہ کو بے اختيار پيار کرتے ہولے سے ہنسا۔

“ايک ميں ہی تو اسے جانتا ہوں”

“وشہ اگر آپکے پاپا آپکے پاس آجائيں تو؟” فاتک نے يکدم اس سے سوال پوچھا۔

“ايسا ہو سکتا ہے؟” وشہ کے لہجے ميں بسی حسرت فاتک کو دکھ سے دوچار کرگئ۔

“ہاں نا” غازی نے بات کو بڑھاوا ديا۔

سب کے ساتھ ساتھ وشہ کو بھی فاتک کے لئے قائل کرنا اتنا ہی ضروری تھا۔

“پھر تو بہت مزہ آجاۓ گا” وہ جوش سے بولی۔

“اگر آپکے پاپا فاتک جيسے ہوں تو؟” غازی نے وشہ کا ری ايکشن ديکھنے کے لئے سوال کيا۔

وشہ نے کچھ لمحے فاتک کے مسکراتے چہرے کو ديکھا۔

“مجھے تو بہت اچھا لگے گا ليکن ممی کو وہ اچھے نہيں لگيں گے۔ ممی کو فاتک بھی اچھے نہيں لگتے نا” اس نے بغير جھجھکے کہا۔

فاتک کے چہرے پر سايہ سا لہرايا۔

“ممی کو بھی اچھے لگنے لگيں گے” فاتک نے پرعزم لہجے ميں کہا۔

“کچھ کھايا ہے تم لوگوں نے؟” فاتک نے بات بدل دی۔

ان کے کچھ کہنے سے پہلے ويٹر کو آواز دی۔

_________

“بھائ صاحب آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے” داؤد کا بہت دنوں بعد فون آيا تھا۔

واجد ساری مصروفيات ترک کرکے انکی جانب متوجہ ہوۓ۔

“ہاں ہاں کہو” کسی کلائنٹ کی فائل گھر لا کر معالعہ کررہے تھے۔ رات نو بجے کا وقت تھا۔

اسٹڈی روم ميں اکيلے تھے۔

“ميں سوچ رہا ہوں کہ ماشاءاللہ غازی اپنے پاؤں پر کھڑا ہوچکا ہے۔ اورصبغہ کی پڑھائ کا بھی کوئ مسئلہ نہيں۔ مناب کو بھی تو آپ نے پڑھايا ہے تو کيوں نہ صبغہ بھی آپکی سرپرستی ميں آکر اپنی تعليم گھر کی ذمہ داريوں کے ساتھ پوری کرے۔” داؤد نے سوچے سمجھے منبصوبے کے تحت بہت شروع کی اور اس منصوبے ميں غازی پيش پيش تھا۔

“کہنا کيا چاہ رہے ہو” انہوں نے ہميشہ بھائیوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھے تھے۔ اور داؤد تو ويسے بھی ان سے بے حد بے تکلف تھے۔

“مقصد يہ کہ اس گھر نے بہت عرصے سے خوشياں نہيں ديکھيں تو کيا ہی اچھا ہو کہ غازی اور صبغہ کی شادی کی صورت يہ خوشياں وصول کريں”اب وہ اصل موضوع کی جانب آۓ۔

“خيال تو اچھا ہے بھئ۔” انہوں نے داؤد کی تجويز کو سراہا۔

“تو بس پھر آپا سے بات کرکے بسم اللہ کيجئيے” داؤد نے عارفہ سے بات کرنے کا مشورہ دیا۔

“پہلے تمہاری بھابھی سے بات کروں پھر عارفہ سے بات کرتا ہوں” واجد نے ہامی بھرتے ہوۓ کہا۔

“جی جی ضرور” ايک دو اور باتيں کرکے داؤد نے فون رکھ ديا۔

_______________________

ڈرئينگ روم کو وہ بے حد خوبصورتی سے سجا چکی تھی۔ اب ٹی وی لاؤنج کی باری تھی۔

“يہ والی پينٹنگ اس سائيڈ پر لگائيں” ايک خوبصورت سی شام کے منظر کی پينٹنگ وہ سامنے بنی ديوار پر لگوانے کی ہدايت دے رہی تھی۔

کريم ہر لمحہ اسکے ساتھ ساتھ ہوتا تھا۔

“السلام عليکم! جی باس” مناب نے کريم کو فون پر بات کرتے ديکھ کر ايک لمحے کو مڑ کر ديکھا۔

کچھ دير اپنے باس سے بات کرنے کے بعد وہ واپس مناب کے پاس آکر کھڑا ہوا۔ جو بيچ لاؤنج ميں کھڑی صوفوں کی سييٹنگ کو ناقدانہ نظروں سے ديکھ رہی تھی۔

“کوئ کمی سی محسوس ہورہی ہے؟” کريم نے اسکی نظروں کے تعاقب ميں ديکھ کر ايسے ہی پوچھ ليا۔

مناب نے چونک کر اسکی جانب ديکھا۔

خوش شکل سا کريم مناب کو بے حد شريف لگتا تھا۔ کئ مرتبہ تو اسکی شرافت پر مناب کو حيرت ہوتی تھی۔ آنکھيں نيچے کئے مدہم انداز ميں ايسے بولتا تھا جيسے وہ اسکی مالکن ہو۔

“آپکے باس کرتے کيا ہيں؟” نجانے کيا سوچ کر پوچھا۔

حالالنکہ وہ کام کرتے وقت بہت پروفيشنل رہتی تھی۔

کسی کلائنٹ کی ذاتيات ميں نہيں بلا اجازت گھستی نہيں تھی۔

مگر يہ عجيب کلائنٹ تھا جس نے خود ايک بار بھی اپنے گھر کی سجاوٹ کو آکر ديکھنے کی زحمت گوارا نہيں کی تھی۔

اپنے ماتحت پر اتنا اندھا اعتماد تھا کہ اسے کبھی خود اپنے گھر کو آکر ديکھنے کی خواہش ہی نہيں جاگی تھی۔

“بہت سے کام کرتے ہيں۔” کريم نے گول مول سا جواب ديا۔

“ان کاموں کا کوئ نام بھی تو ہوگا نا۔ کام تو سبزی فروش بھی کرتا ہے اور بزنس مين بھی۔ مگر کوئ کيٹگری تو ہوتی ہے” خوبصورت سے ايک واس کو سيٹ کرتے ہوۓ مناب نے برا منا کر جواب ديا۔

“ويسے آپکے باس کبھی آۓ نہيں۔ کيا وہ خود کو پردے ميں رکھنا چاہتے ہيں۔ معذرت مگر ايک بار بھی انہوں نے نا تو آکر گھر کا جائزہ ليا ہے اور نا ہی کسی چيز ميں دلچسپی دکھائ ہے۔ کيا وہ کسی اور کے لئے يہ گھر ڈيکوريٹ کروا رہے ہيں؟” مناب نے کب سے سوچے جانے والے سوال آج کر ہی ڈالے۔

“ہم ملازم ہيں باس کی ذاتيات ميں دخل نہيں ديتے۔ انہيں مجھ پر اور سب سے بڑھ کر آپکے کام پر اعتماد ہے۔ اس ميں ميرا سوال اٹھانے کا تو کوئ مقصد ہی نہيں۔”کريم نے ٹھہر ٹھہر کر کہا۔

“ويل” مناب اس سے آگے کچھ کہہ نہيں پائ۔ کندھے اچکا کر رہ گئ۔ مگر جو بھی تھا اسے پہلی بار کسی کلائنٹ کو ديکھنے کی خواہش ہوئ تھی۔

“آج ميں تھوڑا جلدی چلی جاؤں گی۔ پينڈنگ کام کل پر رکھ ليتے ہيں۔” مناب نے موبائل بيگ سے نکالتے کريم کو مطلع کيا۔

“خيريت ميم” دروازے دو بندوں کو کاؤچ اندر لاتے ديکھ کر وہ پوچھے بنا نہ رہ سکا۔

“جی آج ہماری کمپنی کی اينول ڈنر پارٹی ہے بس اسی لئے” وہ خوشدلی سے بولی۔

“اوکے” کريم نے مزيد کچھ نہيں کہا۔

پانچ بجے وہ واپسی کے لئے نکل گئ۔

گھر پہنچ کر کچھ دير وشہ کے ساتھ گزاری۔ اور پھر ڈنر پر جانے کی تياری کرنے لگی۔

وشہ بيڈ پر بيٹھی۔ چہرے کے گرد دونوں ہاتھ رکھے اور کہنياں ٹانگوں پر ٹکاۓ دلچسپی سے اسے ديکھنے ميں مصروف تھی۔

لائنر لگاتے مناب کی نظر يکدم وشہ پر پڑی۔

اسکے معصوم سے انداز پر وہ ہولے سے مسکرائ۔

“ايسے کيا ديکھ رہی ہو؟” بھنويں اچکاتے سوال کيا۔

“آپ کو تيار ہوتے ديکھ رہی ہوں۔ ممی آپ کتنی پياری لگ رہی ہيں۔ کيا اپنے ويڈنگ ڈے پر بھی اتنی ہی پياری لگی تھيں؟” وشہ کے سوال پر اسکا لائنر لگاتا ہاتھ کانپا۔مسکراہٹ مدھم ہوئ اور آنکھوں ميں وحشت بھر گئ۔

“آپ نے کھانا کھا کر دادو کے پاس آرام سے سو جانا ہے۔ تنگ نہيں کرنا” چيزيں سميٹتے وشہ سے نظريں چراتے وہ بات بدل گئ۔

“ممی ميرے پاپا کا نام نور تھا کيا؟” ايک اور سوال۔

“وشہ آپکو کيا ہوگيا ہے۔ پھر آپ نے فضول باتيں شروع کردی ہيں” اب کی بار مناب کی جھنجھلاہٹ عروج پر تھی۔

اسی لمحے کمرے کا دروازہ کھول کر صبغہ اندر آئ۔

“کب تک اس سے حقيقت چھپاؤ گی” صبغہ کے کاٹ دار لہجے کو وہ سمجھنے سے قاصر تھی۔

وہ تو سب جانتی تھی۔ اسکے ايک ايک پل کی تکليف سے با خبر تھی تو پھر وہ مناب سے يہ سب سوال کيسے کر سکتی تھی۔

“کيا مقصد ہے تمہارا اور تم اس وقت خيريت”

“ہاں آج وشہ کی کچھ چيزيں ليں تھيں۔ وہ ميرے ہی گھر رہ گئيں تھيں۔ وہ دينے آئ تھی” ہاتھ ميں تھامے شاپر کی جانب اشارہ کرتے آنے کا مقصد بتايا۔

شاپر وشہ کو تھما کر وہ ايک بار پھر اسکی جانب مڑی۔

“اس کو اسکی پہچان کيوں نہيں ہونے ديتی ہو۔ آخر کبھی تو اسے معلوم ہوگا نا کہ اس کا باپ کون ہے” صبغہ نے اسکی برين واشنگ کا آغاز کيا۔

“تم اتنی ہی ناآشنا ہو ميری تکليفوں سے۔۔” وہ دکھ بھرے انداز ميں صبغہ کو ديکھ رہی تھی۔

اسے يقين ہی نہيں ہورہا تھا اسکی بہن يوں اس سے سوال کرنے کھڑی ہو جاۓ گی۔

“وشہ آپ باہر چاچو کے پاس جاؤ۔ وہ آپکو بلا رہے ہيں” صبغہ نے وشہ کو منظر سے ہٹايا۔

اسکے جاتے ہی صبغہ نے پھر سے اسکے خوبصورت چہرے کی جانب ديکھا۔

“ميں جانتی ہوں ۔ميں ہر حقيقت سے واقف ہوں۔ مگر يہ سوچو۔ وشہ کے لئے وہ باپ ہے اسے تمہاری تکليف کا اندازہ نہيں ہوسکتا۔ اپنی تکليف کو کم کرنے کے چکر ميں تم فاتک اور وشہ کے رشتے کے ساتھ ناانصافی کررہی ہو۔” صبغہ نے اسے حقيقت کا آئينہ دکھايا۔

“تمہارا اور فاتک کا رشتہ مياں بيوی کا ہے اس رشتے کا احساس کوئ اور رشتہ کر ہی نہيں سکتا۔ وشہ اور فاتک کا رشتہ باپ اور اولاد کا ہے۔ اور اس رشتے کے سبب اس نے ابھی اس سے چوٹ کھائ ہی نہيں۔ فاتک تو جانتا تک نہيں کہ اسکی کوئ اولاد ہے۔ اسی طرح وشہ بھی بے خبر ہے کہ اس کا باپ وہی شخص ہے جسے وہ سب سے زيادہ پسند کرتی ہے۔ تو پھر تم ان کے اس ان ديکھے رشتے کے ساتھ نا انصافی کر رہی ہو۔ تم فاتک کو تو چھوڑ دو مگر تم اپنی بيٹی کے ساتھ زيادتی کر رہی ہو۔ اور اس کے لئے وہ تمہيں قصوروار ٹھہراۓ گی” صبغہ کے سمجھانے کا تو نجانے اس پر اثر ہوا کہ نہيں مگر وہ اسکی باتوں کا غلط مطلب نکال گئ۔

“اتنے سال تو تم نے مجھے يہ سب نہيں کہا تو اب کيا ہوا ہے کہ تم مجھے قصوروار ٹھہرانے آگئ ہو” اس نے مشکوک نظروں سے صبغہ کو ديکھا۔

صبغہ کا انداز پر سکون ہی رہا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *