Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas

صوفے پر اپنے مخصوص لاپرواہ انداز ميں بيٹھا ليپ ٹاپ گھٹنوں پر رکھے وہ تيزی سے ميلز چيک کررہا تھا۔
گاہے بگاہے سامنے لگے ٹی وی پر بھی ايک نظر ڈال ليتا تھا۔
دروازے پر پڑنے والی دستک پر ہولے سے کم ان کہا۔
"سر ہميں بس تھوڑی دير تک کينيڈا کی فلائٹ کے لئيے نکلناہے" اسے ہنوز ٹراؤذر ٹی شرٹ ميں بيٹھے ديکھ کر مينجر نے ياد دلايا۔
"کريم تم ہر آدھے گھنٹے بعد بس يہی کہنے کے لئيے آتے ہو۔" ہولے سے مسکرا کر اس نے نظريں ليپ ٹاپ کی اسکرين سے ہٹاۓ بغير کہا۔
"سر وہ۔۔" کريم خفت زدہ ہوا۔
"لالے تو جانتا ہے مجھے کبھی اپنے گيٹ اپ کا ہوش نہيں رہا۔ شو شروع ہونے سے پہلے جو بھی کہے گا پہن لوں گا۔ ابھی تنگ نہ کر۔ ميرا بيگ ريڈی ہے بس وہ گاڑی ميں پہنچا ميں بس پانچ منٹ ميں اس کام سے فارغ ہوتا ہوں" اپنے مينجر کو ايک جانب اشارہ کرکے بيگ اٹھانے کا کہتے وہ پھر سے مصروف ہوچکا تھا۔
کريم نے حکم کی تعميل کی۔ يکدم کان ميں ٹی وی سے آنے والی آواز نے اسے چونکايا۔
سامنے کمپئير بچوں کے ايشيائ سپيلنگ کامپيٹيشن ميں جيتنے والی بچی کا نام اناؤنس کررہی تھی۔ جس کا تعلق پاکستان سے تھا۔
پاکستان کا نام سن کر وہ نہ صرف چونکا بلکہ ليپ ٹاپ پر چلتا ہوا ہاتھ روک کر ايک ٹرانس کی سی کيفيت ميں ہاتھ بڑھا کر ريمورٹ سے آواز بھی اونچی کی۔
"وشہ نور، پاکستان سے جيتنے والی يہ پانچ سالہ بچی آج کا يہ کامپيٹيشن جيت چکی ہے" کمپئير انگلش ميں نہايت پرجوش انداز ميں اس بچی کا نام پکار رہی تھی۔
"ان کی والدہ اور دادا بھی يہاں موجود ہيں۔ ہم انہيں بے حد مبارک ديتے ہيں۔ اور انہيں بھی وشہ کے ساتھ اسٹيج پر آنے کی دعوت ديتے ہيں" اب کی بار کيمرے نے جس چہرے کو فوکس کيا وہ فاتک کی دنيا ہلانے کے لئيے بہت تھا۔
وہ بے يقينی سے اس چہرے کو ديکھ رہا تھا۔ ايک ايک نقش ويسا ہی تھا۔ ماہ و سال اس چہرے کی شادابی کو جیسے اور بھی نکھار گۓ تھے۔
اس لمحے وہ ہر چيز فراموش کرچکا تھا ياد تھا تو بس وہ، اور اسکی بيٹی۔ اسکی۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
دماغ سائيں سائيں کرنے لگا۔ اس کا مسکراتا فخريہ چہرہ بيٹی کو محبت سے تکتی اس لڑکی کی نظريں۔ فاتک مبہوت ان دونوں کو ديکھ رہا تھا۔
پھر سے ناک ہوا۔
فاتک جيسے ہوش ميں آيا۔ کچھ لمحے غائب دماغی سے دروازے کی جانب ديکھتا رہا۔
پھر شکستہ لہجے ميں کم ان کہا۔
"سر بس دس منٹ تک ہميں يہاں سے چيک آؤٹ کرنا ہے" کريم اس کا مينجر ايک بار پھر اسے ياددہانی کروانے آيا۔
"کريم ادھر آؤ" وہ اس لمحے کريم کو کہاں سن رہا تھا۔
"جی سر۔۔" وہ مودب ہوٹل کے اس کمرے ميں داخل ہوا جو پچھلے کچھ دن سے فاتک کے زير استعمال تھا۔
"يہ مقابلہ کہاں پہ منعقد ہوا ہے۔" اسکے سوال پر کريم نے اچنبھے سے اسکی جانب ديکھا۔
"کون سا سر" اب کی بار اسکی نظريں ٹی وی کی جانب اٹھيں۔
"اس کا پتہ کرواؤ کہ يہ مقابلہ کہاں پر منعقد ہوا ہے" کريم کو اسکی طبیعت ٹھيک نہيں لگی۔
"بلکہ ايک۔۔۔۔ايک کام کرو" اپنے چپل ڈھونڈتے ہوۓ وہ کچھ سوچ کر بولا۔
"جی سر"
"پتہ کرواؤ پاکستان جانے والی قريب کی کون سی فلائٹ ہے"اب کی بار کريم کو اسکی دماغی حالت پر شبہ ہوا۔
"مگر سر وہ ۔۔۔وہ کينيڈا" وہ ہکلا کر بولا۔
"بھاڑ ميں گيا کينيڈا کا ٹور مجھے آج اور جلد از جلد پاکستان پہنچنا ہے۔ تم پتہ کروا سکتے ہو کہ نہيں" فاتک درشت لہجے ميں بولا۔
"سر ميں پتہ کروا ديتا ہوں۔ ليکن ہمارا کانٹريکٹ اور غزنی صاحب" وہ پھر سے اسے کچھ ياد دلانا چاہتا تھا۔
فاتک نے ہاتھ اٹھا کر اسے خاموش رہنے کا کہا۔
کريم نے بے چارگی سے اس چارمنگ پرسناليٹی والے فاتک کو ديکھا جو نجانے کتنے دلوں کی دھڑکن تھا۔
"ميں پہلے ہی بہت وقت ضائع کرچکا ہوں۔۔ اب کوئ اور ديوار حائل نہ کرو۔ بس ميں اب سيدھا پاکستان ہی جاؤں گا۔" وہ دوٹوک انداز ميں بولا۔
کريم الٹے قدموں اسکا حکم پورا کرنے چل پڑا۔
ميں پوچھتی ہوں آج کے دن يہ قافلہ گھر سے نکلے گا يا کل باراتيوں کا استبال ہی کرےگا۔" عارفہ مناب کے کمرے ميں آتے ہوۓ غصے سے سب لڑکيوں کو ديکھ کر بوليں۔ جن کی تيارياں ختم ہونے کا نام ہی نہيں لے رہی تھيں۔
"دوپہر تين بجے سے تم سب اس کمرے ميں گھسی پڑی ہو۔ اور اب سات بج گۓ ہيں۔ ميرے خدا چار گھنٹوں ميں منہ ہی نہيں سنور رہے۔" صبغہ کو آئ لائنر لگاتے ديکھ کر ان کا غصہ اور بھی سوا نيزے پر آچکا تھا۔
"امی کيا ہے اب يوں منہ اٹھا کر تو اپنی آپا کی شادی اٹينڈ نہيں کرسکتی تھی نا۔ آخر کو دلہن کی بہن ہوں۔" لائنر والا ہاتھ مسلسل چل رہاتھا اور ساتھ زبان بھی۔
"تو تجھے کس نے اس بات پہ ميڈل دينا ہے۔ ميں بھی تو دلہن کی ماں ہوں۔ ميں کون سا کترينہ بننے کے جتن کررہی ہوں" صبغہ کی زبان کے جوہر پر انہيں گويا پتنگے لگ گۓ۔
"خالہ بس ريڈی ہوگۓ ہيں" فرح نے ان کا غصہ بڑھتا ديکھ کر جلدی سے کہا۔
"پانچ منٹ سے پہلے تم لوگ باہر نہيں آئيں تو اب تمہارے ابو اندر آئيں گے" انہوں نے غصيلی نظر ڈال کر واپسی کی راہ لی۔
"صبغہ کتنی بدتميز ہوگئ ہو تم" مناب نے اسے ٹوکا۔
"جلدی کرو اب ابو آگۓ نا تو ساری تيزی اور طراری نکل جاۓ گی" مناب مايوں کے جوڑے ميں دوڑتی بھاگتی سب کی تياری ميں مددکروانے مين مصروف تھی۔
اس وقت بھی سينڈل پہنتی صبغہ کو دوپٹہ لاکر ديا۔
"کر تو رہی ہوں جلدی۔۔" وہ جھنجھلائ ہوئ بولی۔
"چلو جو جو تيار ہوگيا ہے باہر نکلے" اب کی بار خاور بھائ ناک کرکے باہر سے آواز لگانے لگے۔
حنا بھابھی باقيوں کو باہر نکالنے لگيں۔
"دھيان سے کچھ کھا لينا۔ دوپہر کو بھی تم نے کچھ نہيں ليا تھا۔ يہ نہ ہو کل فاتک تمہيں لئيے ہاسپٹلز کے چکر لگا رہا ہو۔ ہم سب کا قيمہ بنا دينا ہے اس نے اگر تمہيں کچھ ہوا" فزا بھابھی پيار سے مناب کے چہرے پر آنے والی لٹ کو سنوارتے ہوۓ محبت پاش لہجے ميں بوليں۔ جس کے چہرے پر فاتک کا نام سنتے ہی حيا کی لالی بکھر گئ۔
"اتنے بھی اب جلاد نہيں" نظريں چرا کر بولی۔
"بيٹا ايک مہينے ميں جو ہم سب کو آگے لگا کر شادی کی تياری کروا سکتا ہے وہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔ اچھا چلو۔۔بس اپنا خيال رکھنا" اسکے چہرے پر پيار سے ہاتھ رکھ کر وہ بھی باہر کی جانب لپکيں۔ سب گاڑيوں ميں بھر کر فاتک کو مہندی لگانے واجد لاج کی جانب بڑھے۔
مناب کے پاس ددا اور کام کرنے والياں موجود تھيں۔
وہ اداس سی سب کو جاتا ديکھ رہی تھی۔
"صرف ايک دن اس گھر ميں رہ گيا ہے۔ اور پھر سب کچھ اجنبی ہو جاۓ گا" کمرے کی کھڑکی سے لان ميں لگی فينسی لائٹس کو ديکھتے ہوۓ دل بوجھل ہورہا تھا۔
فاتک کو پرايا نہيں تھا۔ مناب کے ماموں کا بيٹا تھا۔ شروع سے اسے پسند کرتا تھا۔ نا صرف پسند بلکہ طوفانی محبت تھی۔ مناب، فاتک سے چار سال چھوٹی تھی۔
منگنی چند سال پہلے ہی ہوئ تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *