Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas NovelR50675 Teri Yaad Ki Anch (Episode 18)
Rate this Novel
Teri Yaad Ki Anch (Episode 18)
Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas
مناب نے صبغہ کا ہاتھ چھوڑکر اسکی جانب مسکرا کر ديکھا۔ جو پيلے اور اورنج شرارے پر گوٹا بھری شرٹ پہنے کوئ پری لگ رہی تھی۔
ماتھے پر چھوٹی سےی بنديا لگاۓ وہ بے حد پياری لگ رہی تھی۔
“کون آيا ہے” اسکی بلائيں ليتے مناب نے محبت سے پوچھا
“پاپا آۓ ہيں”اس نے اپنی طرف سے ماں کو بہت بڑی اطلاع دی۔
يہ اطلاع واقعی بہت بڑی تھی۔۔۔
مناب کے مسکراتے لب سکڑے۔ گردن موڑ کر صبغہ کو ديکھا۔
اسکے سر جھکانے پر وہ سمجھ گئ کہ صبغہ باخبر تھی۔
“اچھا آپ جاؤ” مناب نے لہجہ ہموار رکھتے وشہ کو باہر بھيجا۔
“تم جانتی تھيں” مناب صبغہ کو ديکھتے شکوہ کيا۔
“چلو بھئ۔۔۔اسے باہر لے جانے کا عنديہ آيا ہے” جنا بھابھی يکدم کمرے ميں آئيں۔ مناب خاموش ہوگئ۔
تاروں بھرے دوپٹے کے ساۓ ميں صبغہ کو لئے وہ باہر آئ۔
دوپٹے کے اگلے دو کونوں کو عائشہ اور حنا نے تھام رکھا تھا اور پچھلے دو کونوں کو صبغہ کی فرينڈز نے ۔
جبکہ صبغہ کے ساتھ مناب بھی دوپٹے کے ساۓ ميں تھی۔ صبغہ کے ايک جانب مناب اور دوسری جانب وشہ اسکا ہاتھ تھامے ہوۓ تھی۔
لان ميں داخل ہوتے ہی کتنی ہی نظريں ان سب پر اٹھيں۔ دلہن بنی صبغہ سب کو مبہوت کئے دے رہی تھی۔ اورنج گرين اور شاکنگ پنک غرارے اور شرٹ ميں ملبوس خوبصورت سے ميک اپ ميں سر پر ماتھا پٹی لگاۓ وہ بے حد حسين لگ رہی تھی۔
گرين شلوار قميض پر سنہار دوپٹہ گلے ميں ڈالے غازی کی نگاہيں اس پر جم سی گئ تھيں۔
سب کی نگاہيں صبغہ کو ديکھ رہی تھيں۔
مگر دو نگاہيں اسکے ساتھ سجی ہوئ مناب پر جمی تھيں۔ اور وہ فاتک کے علاوہ بھلا کس کی ہوسکتی تھيں۔
ڈارک بلو شرٹ پر يلو دوپٹہ لئے ست رنگی غرارہ پہنے ماتھے پر جھومر لگاۓ بالوں کو خوبصورتی سے سيٹ کئے سنجيدہ سے چہرے والی مناب فاتک کی دھڑکنيں منتشر کررہی تھی۔
وہ خود بھی سفيد شلوار قميض پر بلو واسکٹ پہنے آنکھوں پر نظر کا چشمہ لگاۓ بے حد وجيہہ لگ رہا تھا۔
جھرمٹ ميں صبغہ کو اسٹيج تک لايا گيا۔
فاتک سب رشتے داروں سے مل چکا تھا۔ وہ سب جو مناب اور فاتک کے بارے ميں يہ سمجھتے تھے کہ انکی عليحدگی ہو چکی ہے اب خاموش تھے۔
مناب فاتک کی نظريں مسلسل خود پر محسوس کرنے کے باوجود اسے نظر انداز کررہی تھی۔ اب وہ کسی خوش فہمی ميں نہيں رہنا چاہتی تھی۔ وہ اتنی آسانی سے وہ سب نہيں بھول سکتی تھی۔
عارفہ، صمد، واجد، خاور اور اسسيس فاتک سے کھچے کچھے تھے مگر باقی سب بہت نارمل انداز ميں اس سے مل رہے تھے۔
مناب صبغہ کو مہندی لگاتے ہی رہائشی حصے کی جانب چلی گئ۔
اور تو کوئ نہيں مگر صبغہ اور فاتک کی نظروں سے اسکا اندر جانا چھپ نہيں سکا۔
کھانا کھل چکا تھا سب کھانے ميں مصروف تھے۔
غازی چہک رہا تھا۔
“مجھے اندر جانا ہے” صبغہ کے قريب اس لمحے ساتھ بيٹھے غازی کے سوا کوئ نہيں تھا۔
غازی نے کسی قدر چونک کراسے ديکھا۔
“کيا ہوا ہے طبيعت ٹھيک ہے” تشويش سے اسکے سجے ہوۓ چہرے کو ديکھا۔جو اس لمحے بے حد سنجيدہ تھی۔
“ہاں ميں ٹھيک ہوں۔ مگر مجھے ابھی اندر جانا ہے۔ آپ کسی کو بلا کر کہيں کہ مجھے اندر جانا ہے” جھکی پلکوں کو ہولے سے اٹھا کر ايک لمحہ غازی کو ديکھا۔
“ميں کہتا ہوں” غازی نے ادھر ادھر ديکھا۔
ضوفشاں کی نظر جيسے ہی اس پر پڑی غازی نے اسے پاس آنے کا اشارہ کيا۔
“ميں اگر کوئ فيصلہ کروں آپ۔۔آپ ميرا ساتھ ديں گے” ضوفشاں کو اسٹيج کی جانب بڑھتا ديکھ کر صبغہ نے تيزی سے کہا۔
“کيا مطلب” غازی کو کچھ کھٹکا۔صبغہ کا انداز عام نہيں تھا۔
“ميں جو کچھ کروں گی سب کے بھلے کے لئے۔ “ضوفشاں کے آتے ہی اسکی بات ادھوری رہ گئ۔
“مجھے کمرے ميں جانا ہے۔۔تھوڑی دير کے لئے” ضوفشاں کے استفسار پر صبغہ نے کہا۔
“ہاں ہاں چلو”وہ سمجھی اسے کچھ چاہئيے۔ فورا اس کا ہاتھ تھام کر نيچے اتارا۔
صبغہ کا ادھورا جملہ غازی کو شش و پنج ميں مبتلا کر گيا۔
ضوفشاں اسے لئے اسکے کمرے ميں آئ جہاں مناب صوفے پر خاموش بيٹھی تھی۔
“کيا ہوا بھابھی۔آپ باہر بھی نظر نہيں آئيں” ضوفشاں نے اسے يوں خاموش بيٹھے ديکھ کر پوچھا
“ہاں بس طبيعت ٹھيک نہيں ميں آتی ہوں۔ تم کيوں آئ ہو اندر” ضوفشاں کو تسلی ديتے وہ اچنبھے سے صبغہ کو ديکھتے بولی۔
“آپ پھر صبغہ کو لے آئيۓ گا” ضوفشاں عجلت ميں باہر نکل گئ۔
“تم کيوں اندر آئ ہو” صبغہ اسکے سامنے آکر کھڑی ہوئ۔
مناب اس کا انداز ديکھ کر حيران ہوئ۔ پھر اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی گہری سانس بھر گئ۔
“تم اچھی طرح جانتی ہو کہ ميں کيوں آئ ہوں۔ميں اس شخص کی موجودگی ايک لمحے کے لئے برداشت نہيں کرسکتی۔۔۔۔” مناب کے لہجے ميں فاتک کے لئے نفرت ہی نفرت تھی۔
“ہاں ميں جانتی ہوں۔ اور ميں وہ سب بھی جانتی ہوں جو تم نہيں جانتيں آپا” صبغہ کے لئے اب مزيد کچھ چھپانا محال تھا۔کيوں وہ شخص کسی کے کئے کی بھی سزا کاٹے۔
“کيا جانتی ہو تم۔۔ پہلے بھی تم مجھے کہہ چکی ہو۔ آخر ايک قصوروار شخص کو تم سب بے قصور کيسے مان سکتے ہو۔ تمہيں ميری کوئ تکليف ياد نہيں۔ميں نے کيسے اس شخص کی بے وفائ کو سہا” وہ حيرت سے اپنی بہن کو ديکھ رہی تھی۔
“بے وفا مت کہو۔۔اس نے تم سے کوئ بے وفائ نہيں کی” صبغہ اس لفظ پر تڑپ گئ۔ وہ آج بھی فاتک کی آنکھوں ميں بسی مناب کی محبت سے واقف تھی وہ کيسے يہ لفظ اس کے لئے برداشت کرتی۔
“تو کيا کہوں خواہشوں کا مارا انسان” مناب ايک ايک لفظ چبا کر بولی۔
“نہيں۔۔۔خواہشوں کا مارا نہيں ايک بے وقوف انسان جسے اسکے باپ اور اسکی پھوپھو نے بے وقوف بنايا” صبغہ کی بات پر مناب نے اسے الجھ کر ديکھا۔
“اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ اپنے بچپن کے جنون اور شوق کی تکميل کے لئے تمہارا، ماموں کا اور ہم سب کا دل دکھانے کا مجرم بنا۔مگر وہ وہاں جا کر بھی کسی کو نہيں بھولا۔تم نے تو اس سے اپنے رابطے ختم کرہی دئيے ہم ميں سے بھی کسی نے اسکی کوئ بات نہ سنی۔
ہم اسے قصوروار گردانتے گۓ۔ جس نے ہر کچھ مہينوں بعد ماموں کو فون کرکے معافی مانگی اور تم تک آنے کی التجا کی۔
مگر ماموں اور امی نے اس کی خواہش کے ساتھ ايسی ضد لگائ کہ اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا ليا۔
وہ جب کال کرکے ان دو لوگوں سے معافی مانگتا يہ دونوں بے دردی سے اسے ذليل کرتے۔ حتی کہ وشہ کی پيدائش کے بعد جب اس نے مناب کو اپنے پاس بلانے کا فيصلہ ماموں اور امی کو سنايا تو ان دونوں نے تم سے خلع کے پيپرز سائن کروا کر اسے بھجواۓ۔ اور اسے کہا کہ وہ تمہارے ساتھ رہنا نہيں چاہتی” صبغہ کے انکشاف مناب کی ہستی کو ہلا گۓ۔
“خ۔۔خخ۔۔۔خلع کے پيپرز۔۔۔مگر ميں نے ايسے کوئ پيپرز سائن نہيں کئے” مناب نے صبغہ کو جھٹلايا۔
“تم ياد کرنے کی کوشش کرو کہ کبھی تم سے ماموں يا امی نے وشہ کی پيدائش کے فورا بعد کوئ پيپرز سائن کرواۓ تھے” صبغہ نے اسے ذہن پر زور دينے کاکہا
مناب ششدر سوچنے کی سعی کرنے لگی۔
يکدم جھماکا ہوا۔
“ماموں نے ايک بار کچھ پيپرز پر سائن کرواۓ تھے مگر انہوں نے تو کہا تھا کہ ميرے اکاؤنٹ کے پيپرز ہيں۔۔۔ميں اتنی نڈھال تھی ان دنوں کے ميں نے وہ پڑھے بغير سائن کردئيے” وہ حيرت ذدہ سی سوچ سوچ کر صبغہ کو بتانے لگی۔
“وہ خلع کے پيپرز تھے آپا۔۔۔۔” صبغہ کی آنکھوں سے اشکے بہے۔
“ماموں اور امی نے کسی کو نہيں بتايا اور جب وہ پيپرز فاتک بھائ کو ملے تم سوچ سکتی ہو ان پر کيا گزری ہوگی۔ اور پھر باقی کے سال انہوں نے صرف اس ڈر سے تم سے يا کسی اور سے رابطہ نہيں کيا کہ تم پھر سے خلع نہ مانگ لو۔۔۔وہ شخص اتنا قصوروار نہيں ہے آپا۔۔جتنا ميں اور تم اور سب اسے سمجھتے ہيں۔ وہ آج بھی صرف تم سے محبت کرتا ہے۔” صبغہ نے رک کر آنسو صاف کئے۔
مناب پتھرائ آنکھوں سے اسے ديکھ رہی تھی۔
“تم تو يہاں اپنوں کے درميان تھيں۔ وہ وہاں اکيلا تھا۔ ہر دکھ ہر تکليف ہر ٹھوکر کھانے کے لئے۔ اس سے زيادہ اکيلا پن تم نے نہيں سہا۔ تمہاری ہر تکليف پر پھاۓ رکھنے کے لئے ہم سب سيکنڈ سے پہلے موجود ہوتے تھے۔” صبغہ نے گہری سانس بھری۔مناب کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔
“ہميشہ عورت ہی مظلوم نہيں ہوتی۔ کبھی کبھی مرد بھی مظلوم ہوتا ہے۔ اس نے يہ سب اسی لئے نہيں بتايا کہ وہ اپنے باپ کی عزت رکھنا چاہتا تھا وہ ہماری ماں کی عزت رکھنا چاہتا تھا۔ اور اب جب وہ واپس آيا اور اس نے ماموں سے رابطہ کيا تم جانتی ہو ماموں نے اسے کيا دھمکی دی” صبغہ نے رک کر اس کے تاثرات جانچے۔
“انہوں نے مامی کو طلاق دينے کا کہا۔۔”مناب نے کرب سے آنکھيں بند کيں۔
“ماموں کی انا نہ صرف انہيں لے ڈوب رہی ہے بلکہ وہ يہ نہيں جانتے کہ اس ضد کے پيچھے وہ کتنے رشتوں کو داؤ پر لگا رہے ہيں۔ ميں آج تب يہاں سے رخصت ہوں گی۔ جب تم فاتک بھائ کو معاف کرنے کا مارجن دوگی۔
ورنہ ميں اس گھر سے نہيں جاؤں گی۔
بہت ہوگيا آپا۔ اپنی آنکھيں کھولو۔۔ اس بندے کو خود پرکھو۔۔۔اگر اسے تم سے محبت نہ ہوتی تو وہ اپنی دنيا سجا چکا ہوتا۔ وہ اب تک اکيلا ہے تو يہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ تمہارے علاوہ کسی کو اپنی زندگی ميں لانے کا خواہاں نہيں ہے۔
يہ ثبوت ہے کہ وہ تم سے اب بھی سچی محبت کرتا ہے۔ کيا اسے لڑکيوں کی کمی ہے ۔۔۔۔نہيں آپا لڑکياں مرتی ہيں اس پر۔
مگر ايک مرد کی محبت کی سچائ کا پيمانہ يہی ہے کہ وہ اتنی رنگينيوں کے باوجود اپنے اصل رنگ کو نہ بھولے۔ تمہاری محبت کے رنگ ہی اسکے وجود سے اب بھی پھوٹتے ہيں۔ وہ جب جب تمہيں ديکھتا ہے۔ اسکی انکھوں ميں صرف تمہارا عکس ہوتا ہے۔
وہ رشتہ کو جوڑنے کا خواہشمندہ ہے تبھی تو ہر کسی سے معافی مانگ رہا ہے۔” صبغہ اسے ہر طرح قائل کرنے کو تيار تھی۔
مناب کے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا۔ وہ کس کس رشتے کے لئے روتی۔ ماموں جنہيں اپنا سب سے بڑا خيرخواہ سمجھتی تھی وہ اس سے يوں دھوکا ديں گے۔
وہ فاتک کے نام سے جڑے اپنے نام کو کبھی الگ نہيں کرنا چاہتی تھی۔
مگر وہ۔۔۔ اپنی ضد ميں اولاد سے تو ہاتھ دھو رہے تھے۔ اسے بھی عمر بھر کی تکليف سے دوچار کرنا چاہتے تھے۔ اور نہ صرف ماموں بلکہ اسکی اپنی ماں۔
يکدم دروازہ کھلا عارفہ اندر آئيں۔
“تم باہر سے اندر کيوں آئيں” وہ حيرت سے صبغہ کو ديکھ رہی تھيں۔
“تمہيں کيا ہوا ہے۔ دفع کرواس منحوس کو۔۔۔” مناب سے پوچھتے انہيں يہی سمجھ آئ کہ فاتک کے آنے کی وجہ سے وہ پريشان ہے۔
فاتک کے لئے ان کے لہجے ميں نفرت تھی۔
“اس منحوس نے تو جو کچھ کيا۔۔مگر آپ نے اپنی بيٹی کے ساتھ کيا کيا” صبغہ نے تلخی سے کہا۔
“کيا مطلب ہے۔۔کيا بکواس کررہی ہو” انہوں نے صبغہ کو ڈپٹا۔
“ميں اپنی بکواس بند کرليتی ہوں اگر آپ يہ مان ليں کہ آپ نے ماموں کے ساتھ مل کر مناب سے خلع کے پيپرز سائن کرواۓ ہيں” صبغہ کی بات پر وہ سن رہ گئيں۔
“صبغہ” وہ دبے دبے لہجے ميں غصے سے بوليں۔باہر بيٹھے مہمانوں کا بھی خيال نہیں کیا۔
__________
“چليں ٹھيک ہے اگر ميں جھوٹ کہہ رہی ہوں تو آپ ابھی ميرے سر کی قسم کھا کر کہيں کہ ايسا کچھ نہيں ہوا۔ فاتک جھوٹا ہے۔ آپ نے کبھی بھی ايسا کچھ نہيں سوچا۔۔” صبغہ نڈر انداز ميں انکے قريب جاتے ہوۓ بولی۔
“اے۔۔۔۔اے۔۔ايسا کچھ نہيں ہے مناب يہ۔۔يہ غلط کہہ رہی ہے” عارفہ مناب کے قريب گئيں۔۔ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ اسے يقين دلانا چاہا مگر ان کے لہجے کی لڑکھڑاہٹ ہی يہ بات بتانے کے لئے کافی تھی کہ ايسا ہوا ہے۔
مناب نے روتے ہوۓ دھندلائ آنکھوں سے ماں کو ديکھا۔
دکھ ۔۔افسوس کيا کيا نہيں تھا ان نظروں ميں۔
“آپ کا تو لہجہ آپکے سچ کی چغلی کھا رہا ہے۔”صبغہ تلخی سے بولی۔
صمد بھی دروازے کے بيچوں بيچ کھڑے حيران نظروں سے اندر کا منظر ديکھ رہے تھے۔
“کيا ہورہا ہے يہ۔۔تم دونوں کيوں رو رہی ہو” وہ حيران ہوتے مناب اور صبغہ کو روتا ديکھ رہے تھے۔
“اپنی ماں کے کئے پر روئيں نا تو اور کيا کريں” صبغہ نے تلخی سے کہتے آنسو پونچھے۔
“پوچھيں ان سے انہوں نے کيوں مناب کو فاتک بھائ سے الگ کرنا چاہا۔۔۔پوچھيں ان سے کيا گانا ايک جرم ہے۔۔۔اگر جرم ہے تو آئندہ ہم ميں سے کسی کے گھر ميں سے گانے کی آواز نہيں آنی چاہئيے۔ اگر يہ جرم ہے تو شاديوں پر گانا بجانا گناہ نہيں۔ اگر يہ جرم ہے تو ايک ہفتے سے گھر ميں ڈھولک کيوں بج رہی ہے۔۔اگر يہ جرم ہے تو۔۔۔”گلے ميں آنے والے آنسوؤں کی گولے نے اسے مزيد بولنے نہ ديا۔
آنسو پيتے صبغہ پھر سے بولنے کی ہمت مجتمع کرنے لگی۔
“ايک خواہش ہی تھی نا اس شخص کی مگر ماموں اور امی نے تو نجانے کون کون سے بدلے نکالے۔۔آپ جانتے ہيں انہوں نے اور ماموں نے مل کر خلع کے پيپرز مناب سے سائن کروا کر فاتک بھائ کو بھيجے۔۔۔آپ جانتے ہيں ان دونوں کا ان سے رابطہ تھا۔۔۔نہ صرف رابطہ تھا بلکہ يہ يہ بھی جانتے تھے کہ وہ دنيا کے کون سے کونے ميں رہتے ہيں۔ ۔۔مگر اتنے سال ان دونوں نےفاتک بھائ کے لئے نفرت انڈيلی ہمارے اندر ۔۔۔اس کے اندر” صبغہ نے مناب کی جانب اشارہ کيا۔
صمد ششدر يہ سب سن رہے تھے۔
“عارفہ” وہ صدمے سے بولے
عارفہ پريشان ۔۔۔۔ہاتھوں کی انگلياں مروڑتے بے بسی سے سب کو ديکھ رہی تھيں۔
“تو کيا کرتی۔۔ميری پھول سی بچی کو وہ بے درد ايسے چھوڑ گيا۔ جب جب اس سے پوچھا کہ گانا بجانا ختم کرديا ہے اس نے ہم سے جھوٹ بولا۔۔ماں ہوں۔۔۔تکليف ہوتی تھی اسے يوں تنہا ديکھ کر۔ اسی لئے شادی نہيں کی تھی اس کی کہ يہ شوہر کے فراق ميں اپنی زندگی گزارے۔” وہ بھی پھٹ پڑيں۔
“تو جب وہ اسے بلانے کی بات کررہا تھا تب آپ دونوں نے يہ حرکت کيوں کی؟” صبغہ نے ان کی بات کاٹی۔
“بس کريں امی ۔۔آپ اور ماموں دونوں نے ان سے ضد باندھی تھی۔۔مان ليں۔۔” وہ تھک کر بولی۔
“اور تم ۔۔۔ميری رخصتی کا دارومدار تمہارے فيصلے پر ہے۔۔آپ دونوں بھی سن ليں جب تک يہ فاتک بھائ کو معاف کرنے کا فيصلہ نہيں کرتی ميں يہاں سے رخصت نہيں ہوں گی۔”اس کے اٹل فيصلے پر مناب نے بے بسی سے اسے ديکھا۔
“صبغہ يوں مت کرو” وہ کرلائ۔
“نہيں آپا۔۔اب بہت ہوگيا ہے۔۔۔ميں اب اور تمہيں کسی اور کے فيصلے کی بھينٹ نہيں چڑھنے دوں گی۔اپنی زندگی کا فيصلہ اب خود کرو” صبغہ اپنا فيصلہ سنا کر کمرے سے باہر نکلی۔
مگر کمرے کی دہليز سے باہر نہيں نکل سکی۔
ساکت نظروں سے کچھ فاصلے پر کھڑے غازی کو ديکھا۔
وہ اتنے پيارے شخص کو کس جرم کی سزا دے رہی تھی۔
يہ سوچتے ہی آنسو پھر سے آنکھوں ميں جمع ہوۓ۔
چند قدم بڑھا کر اسکے قريب آئ۔
“يہ سب اس وقت بہت ضروری تھا۔ ان دونوں کا رشتہ بچانے کے لئے۔ ہميں اگر تھوڑی سی قربانی دينی پڑ جاۓ تو کيا برا ہے” صبغہ کو سمجھ نہيں آرہی تھی کہ وہ کيسے اسے بتاۓ کہ وہ شخص اسکے لئے بہت اہم ہوچکا ہے۔ وہ آج کا فيصلہ اس سے دور ہونے کے لئے نہيں کررہی۔
“پليز کسی غلط فہمی کو دل ميں مت آنے ديجئے گا۔۔ميں ۔۔۔ميرے لئے آپ اور يہ رشتہ بہت اہم ہيں۔۔۔مجھے معاف۔۔” غازی نے اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش کروايا۔
“معذرت مت کرو۔۔۔۔پہلی بار ۔۔۔۔پہلی بار تو ان نظروں ميں اپنے لئے محبت ديکھی ہے۔۔مجھے کوئ اعتراض نہيں۔ ميں آپکے ہر فيصلے ميں آپکے ساتھ ہوں۔” غازی نے محبت سے اسکے حسين سراپے کو ديکھا۔
“مجھے کوئ گلہ نہيں۔۔۔اپنے جان سے پيارے رشتوں کے لئے اگر کچھ دن اور يہ دوری سہنی پڑ بھی گئ تو ہم سہہ ليں گے۔۔” صبغہ نے آنسو چھلکاتی آنکھوں سے اپنے سے چند انچ کے فاصلے پر کھڑے غازی کے کندھے پر ہولے سے سر رکھ کر آنسو بہاۓ۔
پہلی بار اسے ايسا لگا کہ دنيا ميں وہ واحد شخص اب غازی ہے کہ جس کے کندھے پر سر رکھ کر وہ اپنے سارے دکھ بھول سکتی ہے۔
اور غازی ۔۔۔۔۔
وہ تو سانس روکے اسکی پيش قدمی پر حيران تھا۔
آنکھيں بند کرکے صبغہ کے وجود سے اٹھتی خوشبوؤں کو خود ميں بسايا۔
“يہ خود سپردگی۔۔۔کچھ دن کی دوری کے لئے زاد راہ ہے۔۔۔تھينکس” اسکے پيچھے ہٹتے ہی غازی نے محبت سے اسکی صبيح پيشانی کو چومتے ۔۔۔۔محبت سے چور لہجے ميں کہا۔
“تھينکس ٹو يو ٹو” صبغہ کے لئے نظريں اٹھانی دوبھر ہوگئيں۔
“اپنا خيال رکھنا”اسے تاکيد کرتاغازی مڑ کر باہر کی جانب چلا گيا۔
__________________________
صمد عارفہ کو برا بھلا کہنے لگے۔
“ماں ہوں ميں اس کی ۔۔۔اس کا برا کيسے چاہوں گی” وہ تڑخ کر بوليں
“ماں ہونے کا مطلب يہ ہر گز نہيں کہ تم اپنی غلطيوں کی سزا مامتا ميں لپيٹ کر اس کی زندگی پر ڈالو۔ مائيں تو اولاد کو صبر سکھاتی ہيں۔ حالات سے لڑنے کے گر بتاتی ہيں۔ تم کيسی ماں ہو کہ اسی کے راستے کھوٹے کر رہی تھيں۔مجھے ذرا بھی بھنک پڑتی تو ميں کبھی يہ ہونے نہ ديتا۔ ہم تو اسے برا بھلا ہی جانتے رہے۔ يہ پتہ ہی نہ تھا کہ اپنے ہی اس سب ميں ملوث ہيں” انہوں نے ملامتی نگاہ عارفہ پر ڈالی۔
